<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.33.3"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>ایچ_ای_سی &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%a7%db%8c%da%86_%d8%a7%db%8c_%d8%b3%db%8c/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sun, 01 Nov 2026 10:26:51 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>ایچ_ای_سی &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>کے ایم سی کے 10 ہزار ملازمین کی ڈگریاں تصدیق کروانے کا حکم</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/3185/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/3185/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 29 Oct 2026 15:14:29 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسپتال]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[ایچ_ای_سی]]></category>
		<category><![CDATA[بائیومیٹرک]]></category>
		<category><![CDATA[پبلک_اکاؤنٹس_کمیٹی]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سندھ_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%da%a9%db%92-%d8%a7%db%8c%d9%85-%d8%b3%db%8c-%da%a9%db%92-10-%db%81%d8%b2%d8%a7%d8%b1-%d9%85%d9%84%d8%a7%d8%b2%d9%85%db%8c%d9%86-%da%a9%db%8c-%da%88%da%af%d8%b1%db%8c%d8%a7%da%ba/</guid>

					<description><![CDATA[پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے کے ایم سی ملازمین کی بائیو میٹرک حاضری اور فزیکل تصدیق یقینی بنانے کی ہدایت کر دی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کے انتظامی امور میں شفافیت لانے کے لیے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے کے ایم سی کے 10 ہزار سے زائد ملازمین کی تعلیمی اسناد کی ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) سے تصدیق کروانے کا حکم جاری کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ فیصلہ چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نثار کھوڑو کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں کے ایم سی کے سال 2024 اور 2025 کے آڈٹ پیر از کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر کمیٹی کے رکن طحہ احمد اور میونسپل کمشنر کے ایم سی ابرار جعفر بھی موجود تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس کے دوران پی اے سی نے کے ایم سی ملازمین کی فزیکل تصدیق اور بائیومیٹرک حاضری کا نظام فوری طور پر لاگو کرنے کی سخت ہدایت کی۔ چیئرمین نثار کھوڑو نے چیف سیکریٹری سندھ کو اس عمل کو یقینی بنانے کا پابند کیا تاکہ گھر بیٹھے تنخواہ لینے والے ملازمین کی نشاندہی ہو سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نثار کھوڑو نے استفسار کیا کہ اب تک ملازمین کی فزیکل تصدیق کیوں نہیں کی گئی؟ میونسپل کمشنر نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ تمام محکموں کے سربراہان کو اس حوالے سے ہدایات جاری کر دی گئی ہیں تاکہ بائیومیٹرک نظام کے ذریعے حاضری کو شفاف بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کمیٹی نے کے ایم سی اور سندھ بھر کے سرکاری اسپتالوں میں طبی آلات کی خرابی پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ آڈٹ اعتراضات میں نشاندہی کی گئی کہ سوبھراج سمیت کئی اسپتالوں میں ایکسرے، سی ٹی اسکین اور الٹراساؤنڈ مشینیں طویل عرصے سے خراب پڑی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رکن کمیٹی طحہ احمد نے اس صورتحال کو مریضوں کے ساتھ زیادتی اور انتظامی نااہلی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مشینیں خراب رکھ کر مریضوں کو نجی لیبارٹریوں سے ٹیسٹ کروانے پر مجبور کیا جاتا ہے، جو کہ انتہائی افسوسناک عمل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">میونسپل کمشنر نے صفائی پیش کرتے ہوئے بتایا کہ سوبھراج اسپتال میں 2022 سے خراب ایکسرے مشین کو اب درست کر دیا گیا ہے۔ تاہم چیئرمین پی اے سی نے اس تاخیر پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے سخت کارروائی کا عندیہ دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے وزیر اعلیٰ انسپکشن ٹیم (سی ایم آئی ٹی) کو سندھ بھر کے اسپتالوں میں طبی آلات کی خرابی کی تحقیقات کرنے کا حکم دیا ہے۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ ایک ماہ کے اندر تحقیقاتی رپورٹ پیش کی جائے تاکہ غفلت کے مرتکب افسران کا تعین ہو سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">میونسپل کمشنر نے اجلاس کو بتایا کہ کے ایم سی کے زیر انتظام 13 اسپتال کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ میئر کراچی کے ساتھ مل کر اسپتالوں کے دورے کیے جا رہے ہیں اور سہولیات کی بہتری کے لیے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کے ایم سی میں کرپشن اور بدانتظامی کے حوالے سے ماضی میں بھی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔ حالیہ احکامات کا مقصد ادارے کے مالی اور انتظامی معاملات کو درست کرنا ہے تاکہ سرکاری خزانے پر بوجھ بننے والے غیر فعال ملازمین کا خاتمہ کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پی اے سی نے ہدایت کی ہے کہ کے ایم سی ملازمین کی بائیومیٹرک حاضری کے ثبوت اور فزیکل تصدیق کی رپورٹ جلد از جلد کمیٹی کو فراہم کی جائے۔ اس اقدام سے ادارے میں نظم و ضبط کی بحالی کی توقع کی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس کے شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سرکاری اداروں میں میرٹ اور شفافیت کا قیام ناگزیر ہے۔ کے ایم سی انتظامیہ کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ مستقبل میں آڈٹ اعتراضات سے بچنے کے لیے تمام مالیاتی امور کو قواعد و ضوابط کے مطابق چلائے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/3185/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری میں جنوری سے ڈی پی ٹی کلاسز کا آغاز</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/education/858/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/education/858/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 15 Oct 2026 16:57:02 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[تعلیم]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسکول]]></category>
		<category><![CDATA[امتحانات]]></category>
		<category><![CDATA[ایچ_ای_سی]]></category>
		<category><![CDATA[بینظیر_بھٹو_شہید_یونیورسٹی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیمی_بورڈ]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیمی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر_حسین_مہدی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/education/%d8%a8%db%8c%d9%86%d8%b8%db%8c%d8%b1-%d8%a8%da%be%d9%b9%d9%88-%d8%b4%db%81%db%8c%d8%af-%db%8c%d9%88%d9%86%db%8c%d9%88%d8%b1%d8%b3%d9%b9%db%8c-%d9%84%db%8c%d8%a7%d8%b1%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[وائس چانسلر ڈاکٹر حسین مہدی نے نرسنگ پروگرام شروع کرنے اور لاء کالج کے الحاق کے معاملات پر اہم بریفنگ دی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">کراچی میں واقع بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری کے وائس چانسلر ڈاکٹر حسین مہدی نے اعلان کیا ہے کہ یونیورسٹی میں ڈاکٹریٹ آف فزیوتھراپی (ڈی پی ٹی) کے پہلے بیچ کی باقاعدہ کلاسز کا آغاز آئندہ ماہ جنوری سے کر دیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایک پریس بریفنگ کے دوران وائس چانسلر نے بتایا کہ ڈی پی ٹی پروگرام کے لیے اب تک 30 طلبہ کو داخلے دیے جا چکے ہیں جبکہ مزید داخلوں کا عمل تاحال جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈاکٹر حسین مہدی نے مزید انکشاف کیا کہ یونیورسٹی انتظامیہ نرسنگ کا شعبہ شروع کرنے کے لیے بھی تیاری کر رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے جلد ہی ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کو این او سی کے حصول کے لیے باقاعدہ درخواست جمع کرائی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پریس بریفنگ میں یونیورسٹی سے الحاق شدہ ذوالفقار علی بھٹو لاء کالج کی حیثیت پر بھی بات کی گئی۔ وائس چانسلر نے واضح کیا کہ اس کالج کی موجودہ حیثیت کے حوالے سے کچھ قانونی اور انتظامی معاملات پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے بتایا کہ چارٹر انسپیکشن اینڈ ایویلیوایشن کمیٹی نے اس بات پر اعتراض اٹھایا ہے کہ لیاری یونیورسٹی کے پاس اپنی لاء فیکلٹی موجود نہیں ہے، جس کے بغیر کسی لاء کالج کو الحاق دینا ضابطوں کے مطابق نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وائس چانسلر کے مطابق ماضی میں اس کالج کو یونیورسٹی کا کونسٹیٹیونٹ کالج قرار دیا گیا تھا، تاہم اس کا انتظام یونیورسٹی کے بجائے سندھ حکومت کے پاس رہا۔ بعد ازاں اسے الحاق شدہ کالج کا درجہ دے دیا گیا جو کہ اب متنازعہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈاکٹر حسین مہدی نے کہا کہ یونیورسٹی کو اب چارٹر انسپیکشن اینڈ ایویلیوایشن کمیٹی کی حتمی رپورٹ کا انتظار ہے۔ اگر کمیٹی نے الحاق جاری رکھنے کی سفارش کی تو یونیورسٹی کو اپنا اسکول آف لاء قائم کرنا پڑے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وائس چانسلر نے لاء کالج کی انتظامیہ پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ کالج نے 50 نشستوں کے مقابلے میں 200 داخلے دیے جو کہ سراسر غیر قانونی عمل تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے یہ بھی بتایا کہ لاء کالج کی جانب سے ایک نجی یونیورسٹی سے نکالے گئے طلبہ کو داخلے دینے اور انہیں ڈگریاں جاری کرنے کا معاملہ بھی سامنے آیا ہے، جس کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے تعلیمی معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ تمام نئے پروگرامز کا آغاز ایچ ای سی کے قواعد و ضوابط کے مطابق کیا جائے گا تاکہ طلبہ کا مستقبل محفوظ رہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لیاری یونیورسٹی کی جانب سے ان اقدامات کا مقصد علاقے کے طلبہ کو جدید طبی اور تعلیمی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ فزیوتھراپی اور نرسنگ کے شعبوں کا قیام اس سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں وائس چانسلر نے یقین دلایا کہ یونیورسٹی لیاری کے عوام کے لیے معیاری تعلیم کے فروغ کے لیے کوشاں رہے گی اور تمام انتظامی امور کو شفاف بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/education/858/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ایچ ای سی کی انسانی حیاتیاتی مواد اور ڈیٹا بیرون ملک منتقلی پر نئی ہدایات جاری</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/education/436/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/education/436/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 13 Oct 2026 14:17:40 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[تعلیم]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسکول]]></category>
		<category><![CDATA[امتحانات]]></category>
		<category><![CDATA[ایچ_ای_سی]]></category>
		<category><![CDATA[بائیو_ایتھکس]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[تحقیق]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیمی_بورڈ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d8%a7%db%8c%da%86-%d8%a7%db%8c-%d8%b3%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%ad%db%8c%d8%a7%d8%aa%db%8c%d8%a7%d8%aa%db%8c-%d9%85%d9%88%d8%a7%d8%af-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%88%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[ہائر ایجوکیشن کمیشن نے قومی سلامتی کے پیش نظر انسانی حیاتیاتی نمونوں اور صحت کے ڈیٹا کی منتقلی کے لیے قومی بایوایتھکس کمیٹی کی پیشگی منظوری لازمی قرار دے دی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے ملک بھر کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے لیے انسانی حیاتیاتی مواد اور صحت سے متعلق ڈیٹا بیرون ملک منتقل کرنے کے حوالے سے سخت اور نئی ہدایات جاری کر دی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جاری کردہ مراسلے کے مطابق اب کسی بھی قسم کے انسانی حیاتیاتی مواد کو بیرون ملک بھیجنے سے قبل قومی بایوایتھکس کمیٹی سے باقاعدہ تحریری اجازت حاصل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے جس کے بغیر منتقلی ممکن نہیں ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایچ ای سی کی جانب سے جاری کردہ ان ہدایات کا اطلاق خون کے نمونوں، انسانی ٹشوز، ڈی این اے اور انسانی خلیات سمیت صحت سے متعلق تمام اہم ڈیٹا پر ہوگا جو تحقیقی یا دیگر مقاصد کے لیے بیرون ملک بھیجا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کمیشن نے واضح کیا ہے کہ انسانی حیاتیاتی مواد کی غیر مجاز منتقلی نہ صرف قومی سلامتی کے لیے خطرات پیدا کر سکتی ہے بلکہ اس سے ملک کے قیمتی جینیاتی وسائل کے ضیاع کا خدشہ بھی موجود رہتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صحت سے متعلق ڈیٹا کی غیر منظم اور غیر محفوظ شیئرنگ کے حوالے سے بھی ایچ ای سی نے تشویش کا اظہار کیا ہے، جس سے شہریوں کی نجی معلومات کے افشا ہونے اور ان کی رازداری متاثر ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایچ ای سی نے تمام جامعات کے سربراہان کو ہدایت کی ہے کہ وہ ان ضوابط پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائیں تاکہ کسی بھی قسم کی قانونی پیچیدگی یا قومی مفادات کو نقصان پہنچنے سے بچا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مراسلے میں تنبیہ کی گئی ہے کہ اگر کسی بھی تعلیمی یا تحقیقی ادارے نے قومی بایوایتھکس کمیٹی کے طے کردہ ضوابط کی خلاف ورزی کی تو ان کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ملک کی سائنسی اور حیاتیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے اٹھائے گئے ہیں تاکہ بین الاقوامی سطح پر ڈیٹا کے تبادلے کو ایک منظم اور قانونی دائرہ کار میں لایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کے مطابق انسانی حیاتیاتی مواد کا تحفظ جدید دور میں کسی بھی ملک کی سیکیورٹی پالیسی کا اہم حصہ ہے، کیونکہ جینیاتی ڈیٹا کا غلط استعمال کسی بھی قوم کی آبادیاتی اور طبی سلامتی کے لیے چیلنج بن سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایچ ای سی کی جانب سے یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں بائیو ٹیکنالوجی اور جینیاتی تحقیق میں تیزی آ رہی ہے اور ڈیٹا کی حفاظت کے لیے بین الاقوامی سطح پر سخت قوانین وضع کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے داخلی نظام کو ایچ ای سی کی نئی پالیسی کے مطابق ہم آہنگ کریں تاکہ تحقیق کے عمل میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ آئے اور قانونی تقاضے بھی پورے ہوں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قومی بایوایتھکس کمیٹی اب ان تمام درخواستوں کا جائزہ لے گی جو انسانی حیاتیاتی مواد کی بیرون ملک منتقلی کے لیے موصول ہوں گی، تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ یہ عمل اخلاقی اور قانونی حدود کے اندر ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس فیصلے کا مقصد تعلیمی اور تحقیقی اداروں میں شفافیت کو فروغ دینا ہے تاکہ پاکستان کے جینیاتی وسائل اور شہریوں کی حساس معلومات کو بیرونی خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/education/436/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
