<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.33.3"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>این_ایف_سی_ایوارڈ &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%a7%db%8c%d9%86_%d8%a7%db%8c%d9%81_%d8%b3%db%8c_%d8%a7%db%8c%d9%88%d8%a7%d8%b1%da%88/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:33:43 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>این_ایف_سی_ایوارڈ &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>نئے صوبوں اور انتظامی اصلاحات پر قومی مباحثہ، اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے پر زور</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/1820/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/1820/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 22 Oct 2026 09:17:31 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آئینی_ترمیم]]></category>
		<category><![CDATA[احسن_اقبال]]></category>
		<category><![CDATA[انتظامی_اصلاحات]]></category>
		<category><![CDATA[این_ایف_سی_ایوارڈ]]></category>
		<category><![CDATA[بلدیاتی_نظام_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیم_اور_صحت]]></category>
		<category><![CDATA[حکومتی_ڈھانچہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%86%d8%a6%db%92-%d8%b5%d9%88%d8%a8%d9%88%da%ba-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a7%d9%86%d8%aa%d8%b8%d8%a7%d9%85%db%8c-%d8%a7%d8%b5%d9%84%d8%a7%d8%ad%d8%a7%d8%aa-%d9%be%d8%b1/</guid>

					<description><![CDATA[وفاقی وزیر احسن اقبال، مصطفیٰ کمال اور دیگر رہنماؤں نے انتظامی امور اور بلدیاتی نظام پر جامع گفتگو کی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد میں نئے صوبوں کے قیام اور انتظامی اصلاحات کے موضوع پر ایک اہم قومی مباحثہ منعقد کیا گیا جس میں ملک کے انتظامی مسائل، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی پر تفصیلی غور کیا گیا۔ تقریب میں ملک بھر سے آئے ہوئے اہم سیاسی رہنماؤں، ماہرین اور معززین نے شرکت کی اور موجودہ حکومتی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے تجاویز پیش کیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مباحثے کے دوران مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو درپیش چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لیے نظام میں بنیادی تبدیلیاں ناگزیر ہو چکی ہیں۔ تقریب کا مقصد ایسے عملی حل تلاش کرنا تھا جن کی مدد سے عوام کو بنیادی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کی جا سکیں اور ملکی ترقی کی رفتار کو تیز کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پائیدار اور حقیقی ترقی کے لیے سماجی شعبے کو مضبوط بنانا سب سے پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔ انہوں نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ دنیا کا کوئی بھی ملک اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک اس کے تمام بچے سکولوں میں تعلیم حاصل نہ کر رہے ہوں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">احسن اقبال نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں ڈھائی کروڑ سے زائد بچے اس وقت سکولوں کی دہلیز سے باہر ہیں جنہیں زیورِ تعلیم سے آراستہ کرنا اجتماعی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شرح خواندگی میں خاطر خواہ اضافے کے بغیر روشن مستقبل کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر نے ملک میں بچوں کی نشوونما کے مسائل پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہمارے ہاں چالیس فیصد بچے سٹنٹنگ یعنی نشوونما میں کمی کا شکار ہیں۔ ایسے حالات میں ملکی معیشت اور معاشرے کا آگے بڑھنا انتہائی دشوار ہو جاتا ہے اور اس طرف فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آبادی کے بڑھتے ہوئے رجحان کا ذکر کرتے ہوئے احسن اقبال نے بتایا کہ پاکستان میں آبادی میں اضافے کی سالانہ شرح دو اعشاریہ چار فیصد سے بڑھ کر دو اعشاریہ پانچ پانچ فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ وسائل پر بڑھتے ہوئے اس دباؤ کو قابو میں نہ لایا گیا تو یہ مستقبل کے لیے شدید مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اگر ملک میں بااختیار تیسری سطح کی حکومت یعنی مضبوط بلدیاتی نظام قائم کر دیا جائے تو اس سے نہ صرف نچلی سطح پر نئی قیادت ابھر کر سامنے آئے گی۔ بلکہ عوام کے مسائل ان کے اپنے حلقے میں ہی حل ہو سکیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وسائل کی تقسیم کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبے قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کے تحت وفاقی حکومت سے فنڈز حاصل کرتے ہیں۔ تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبوں کو رقوم کی منتقلی کے بعد ان کے درست استعمال پر مؤثر نگرانی اور چیک اینڈ بیلنس کا نظام مضبوط بنایا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما مصطفیٰ کمال نے مباحثے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی موجودہ حالات کا سب سے اہم تقاضا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مضبوط بلدیاتی نظام کے بغیر عوام کی مشکلات کا ازالہ ممکن نہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام حکومت کی ازسرنو تشکیل وقت کی ضرورت بن چکی ہے اور اس حوالے سے تمام فیصلے زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر کرنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک شہروں اور علاقوں کے بااختیار نمائندے خود فیصلے نہیں کریں گے، بہتری نہیں آئے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مباحثے کے ایک اور شریک بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ انتظامی بنیادوں پر اختیارات کی حقیقی منتقلی ناگزیر ہو چکی ہے اور ملک میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے لیے پہلے سے ہی مناسب ڈھانچہ موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ این ایف سی کے تحت رقوم کی منتقلی کے بعد ان کے استعمال کے فیصلے صوبائی حکومتوں کی صوابدید پر ہوتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بیرسٹر عقیل ملک کا مزید کہنا تھا کہ سیاسی سطح پر عوام سے مختلف ترقیاتی کام کرانے کے وسیع وعدے کیے جاتے ہیں، لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ گلیاں اور سڑکیں بنانے جیسے بنیادی مسائل بھی حل نہیں ہو پاتے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ ملک کے دیرینہ مسائل کے مستقل حل کے لیے مستقبل میں آئینی ترمیم کی ضرورت بھی پڑ سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے انتظامی مسائل پر سنجیدگی سے توجہ دینا ہوگی اور بنیادی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات اٹھانا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرز پر پاکستان کو چلانے کا ابتدائی تصور پیش کیا گیا تھا، بدقسمتی سے نظام اس کے مطابق نہیں چل سکا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قمر زمان کائرہ نے قانون کی حکمرانی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جس معاشرے میں قانون پر مکمل عمل درآمد نہ کیا جا رہا ہو، وہاں دیگر پیچیدہ مسائل کا حل نکالنا بھی محال ہو جاتا ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ انتظامی اصلاحات کی جانی چاہئیں، مگر اس کے ساتھ ان اسباب کو بھی سمجھنا ہوگا جو ان مسائل کو جنم دیتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مباحثے کے دوران محمد علی درانی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام اور اصلاحات کے معاملے کو سیاسی اتفاقِ رائے کے بغیر آگے نہیں بڑھایا جا سکتا۔ تمام سیاسی قوتوں کو مل بیٹھ کر قومی مفاد میں فیصلے کرنا ہوں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/1820/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>گورنر راج کا فیصلہ مشکل تھا، دہشت گردی کا خاتمہ اولین ترجیح ہے، فیصل کریم کنڈی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1130/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1130/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 17 Oct 2026 17:38:05 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امن_کا_قیام]]></category>
		<category><![CDATA[ایمل_ولی_خان]]></category>
		<category><![CDATA[این_ایف_سی_ایوارڈ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_پیپلز_پارٹی]]></category>
		<category><![CDATA[خیبرپختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[دہشت_گردی_کے_خلاف_جنگ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[صوبائی_ترقی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%da%af%d9%88%d8%b1%d9%86%d8%b1-%d8%b1%d8%a7%d8%ac-%da%a9%d8%a7-%d9%81%db%8c%d8%b5%d9%84%db%81-%d9%85%d8%b4%da%a9%d9%84-%d8%aa%da%be%d8%a7-%d8%af%db%81%d8%b4%d8%aa-%da%af%d8%b1%d8%af%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ وفاق کے ساتھ مل کر صوبے کے مسائل حل کریں گے اور امن کا قیام یقینی بنائیں گے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے میں گورنر راج کا نفاذ ایک انتہائی مشکل اور حساس فیصلہ تھا، تاہم موجودہ حالات میں صوبے کی بہتری اور انتظامی امور کی بہتری کے لیے ایسے اقدامات ناگزیر ہو جاتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے کہا کہ ان کی اولین ترجیح دہشت گردی کے خلاف جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانا اور صوبے میں دیرپا امن کا قیام ہے، تاکہ عوام کو ایک پرسکون ماحول فراہم کیا جا سکے اور ترقی کی راہ ہموار ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ولی باغ میں عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ایمل ولی خان سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی نے واضح کیا کہ وہ وفاق کے ساتھ محاذ آرائی کے بجائے مسائل کو دلائل اور بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے کہا کہ ماضی میں اسلام آباد کے ساتھ تعلقات میں تلخی رہی ہے، جسے اب خوشگوار بنانے کی ضرورت ہے تاکہ صوبے کے اہم معاملات کو مؤثر انداز میں وفاق کے سامنے پیش کیا جا سکے اور ان پر پیش رفت ممکن ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گورنر نے کہا کہ 2008 سے 2013 کے دوران پیپلز پارٹی اور اے این پی کی مخلوط حکومت نے صوبے میں امن بحال کیا تھا، لیکن بعد کے برسوں میں حالات دوبارہ خراب ہوئے جس کے اثرات آج بھی صوبے کے عوام بھگت رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اب وقت آ گیا ہے کہ خیبرپختونخوا کی شناخت دہشت گردی اور انتہا پسندی کے بجائے امن، سیاحت اور ترقی سے جڑی ہو، تاکہ دنیا بھر میں صوبے کا ایک مثبت اور روشن تشخص اجاگر ہو سکے اور سرمایہ کاری کے مواقع پیدا ہوں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا قدرتی وسائل، معدنیات، گیس اور تمباکو جیسی دولت سے مالا مال ہے، جنہیں بروئے کار لا کر صوبے کو معاشی طور پر مستحکم کیا جا سکتا ہے، اس لیے وسائل کی منصفانہ تقسیم اور استعمال پر توجہ مرکوز ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے این ایف سی ایوارڈ سمیت صوبے کے دیگر اہم معاملات پر وفاق کے ساتھ مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ صوبے کے حقوق کے حصول کے لیے ہر سطح پر اپنی آواز بلند کریں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبے میں جاری ہڑتالوں کے حوالے سے گورنر فیصل کریم کنڈی نے بتایا کہ 8 سے 10 ہزار ینگ ڈاکٹرز گزشتہ کئی برسوں سے اپنے جائز مطالبات کے لیے سراپا احتجاج تھے، تاہم ان کے ساتھ بات چیت کے بعد ڈاکٹرز نے ہڑتال ختم کر دی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے یقین دلایا کہ ینگ ڈاکٹرز کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا، کیونکہ صحت کے شعبے میں بہتری لانا اور ڈاکٹرز کو سہولیات فراہم کرنا حکومت کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے جسے پورا کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گورنر نے مزید کہا کہ وہ نظام میں موجود خرابیوں کو درست کرنے کے لیے پرعزم ہیں اور جہاں بھی غلطیاں پائی گئیں، انہیں ٹھیک کیا جائے گا تاکہ سرکاری اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے اور عوام کو ریلیف ملے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا کہنا تھا کہ صوبائی اداروں میں اہل اور قابل لوگوں کو آگے لایا جائے گا تاکہ عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی ممکن ہو سکے اور میرٹ کی بالادستی کو یقینی بنا کر اداروں کا وقار بحال کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اب صوبے کے مقدمے کو مؤثر انداز میں پیش کیا جائے گا تاکہ وفاق سے صوبے کے حقوق کا حصول ممکن ہو سکے۔ فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ان کا مقصد صوبے میں خوشحالی لانا ہے تاکہ عوام کا معیار زندگی بلند ہو۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1130/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>گلگت بلتستان کو عبوری آئینی صوبہ بنانے اور این ایف سی میں حصہ دینے کا مطالبہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/724/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/724/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 20:36:51 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آئینی_صوبہ]]></category>
		<category><![CDATA[احسن_اقبال]]></category>
		<category><![CDATA[امجد_حسین]]></category>
		<category><![CDATA[این_ایف_سی_ایوارڈ]]></category>
		<category><![CDATA[ترقیاتی_منصوبے]]></category>
		<category><![CDATA[حافظ_حفیظ_الرحمان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاحت]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%da%af%d9%84%da%af%d8%aa-%d8%a8%d9%84%d8%aa%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%d9%88-%d8%b9%d8%a8%d9%88%d8%b1%db%8c-%d8%a2%d8%a6%db%8c%d9%86%db%8c-%d8%b5%d9%88%d8%a8%db%81/</guid>

					<description><![CDATA[وزیراعلیٰ امجد حسین نے وفاقی کمیٹی کے اجلاس میں خطے کی ترقی اور معاشی استحکام کے لیے ٹھوس اقدامات پر زور دیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال کی زیر صدارت گلگت بلتستان کے مسائل کے حل کے لیے قائم خصوصی کمیٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں خطے کو درپیش آئینی، معاشی اور ترقیاتی امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس کے دوران گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ امجد حسین نے مطالبہ کیا کہ خطے کو عبوری آئینی صوبے کا درجہ دیا جائے اور اسے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں باقاعدہ حصہ فراہم کیا جائے تاکہ معاشی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام گزشتہ 78 برسوں سے مسئلہ کشمیر کے تناظر میں آئینی اور معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی جماعتیں اور عوام خطے کی قومی دھارے میں شمولیت کے ایجنڈے پر مکمل متفق ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امجد حسین نے اس بات پر زور دیا کہ گلگت بلتستان کی جغرافیائی اور دفاعی اہمیت کے پیش نظر وفاقی حکومت کو یہاں کی ترقی پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے عوام میں پائے جانے والے احساسِ محرومی کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات کو ناگزیر قرار دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاحت کے فروغ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے گلگت میں بین الاقوامی ایئرپورٹ کے قیام کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ خطے میں معاشی سرگرمیوں کو تیز کرنے اور سیاحوں کی آمدورفت کو آسان بنانے کے لیے انتہائی اہم ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس میں ڈیجیٹل رابطوں کو بہتر بنانے کے لیے فائبر آپٹک کے علاوہ جدید متبادل ذرائع متعارف کرانے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے تجویز دی کہ ان تمام نکات کو خصوصی کمیٹی کے ایجنڈے میں شامل کیا جائے تاکہ ترقیاتی عمل تیز ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گلگت بلتستان میں تعمیر و ترقی کے عمل کو تیز کرنے اور خطے کو درپیش معاشی مسائل کے حل کے لیے وزیراعظم پاکستان کو ایک خصوصی اسٹیبلائزیشن پیکیج فراہم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس پیکیج کو حتمی سفارشات میں شامل کیا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس میں گلگت بلتستان اسمبلی میں قائدِ حزب اختلاف حافظ حفیظ الرحمان نے بھی شرکت کی اور وزیراعلیٰ کے پیش کردہ مطالبات کی مکمل حمایت کی۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خطے کی ترقی کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر احسن اقبال نے مزید کہا کہ کمیٹی خطے کو درپیش تمام چیلنجز کا بغور جائزہ لے رہی ہے۔ ان تجاویز کو حتمی شکل دے کر جلد از جلد وزیراعظم کے سامنے پیش کیا جائے گا تاکہ ان پر عملدرآمد کا آغاز ہو سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گلگت بلتستان کا شمار پاکستان کے خوبصورت ترین خطوں میں ہوتا ہے جو اپنی بلند و بالا پہاڑیوں اور سیاحتی مقامات کی بدولت عالمی سطح پر پہچانا جاتا ہے۔ حکومتی سطح پر ان اقدامات سے خطے کی معاشی حالت میں بہتری کی امید کی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس اجلاس کو گلگت بلتستان کے مستقبل کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ مقامی قیادت اور وفاقی حکومت کے درمیان ہونے والی یہ بات چیت خطے کے دیرینہ مسائل کے حل کی جانب ایک مثبت اور سنجیدہ قدم ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ گلگت بلتستان کی ترقی کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتیں مل کر کام کریں گی۔ اس سے قبل صوبائی کابینہ اور اسمبلی نے بھی ان سفارشات کی منظوری دی تھی جو اب وفاقی سطح پر زیر بحث ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/724/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
