<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.33.3"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>ایمل_ولی_خان &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%a7%db%8c%d9%85%d9%84_%d9%88%d9%84%db%8c_%d8%ae%d8%a7%d9%86/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:34:54 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>ایمل_ولی_خان &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>گورنر راج کا فیصلہ مشکل تھا، دہشت گردی کا خاتمہ اولین ترجیح ہے، فیصل کریم کنڈی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1130/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1130/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 17 Oct 2026 17:38:05 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امن_کا_قیام]]></category>
		<category><![CDATA[ایمل_ولی_خان]]></category>
		<category><![CDATA[این_ایف_سی_ایوارڈ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_پیپلز_پارٹی]]></category>
		<category><![CDATA[خیبرپختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[دہشت_گردی_کے_خلاف_جنگ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[صوبائی_ترقی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%da%af%d9%88%d8%b1%d9%86%d8%b1-%d8%b1%d8%a7%d8%ac-%da%a9%d8%a7-%d9%81%db%8c%d8%b5%d9%84%db%81-%d9%85%d8%b4%da%a9%d9%84-%d8%aa%da%be%d8%a7-%d8%af%db%81%d8%b4%d8%aa-%da%af%d8%b1%d8%af%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ وفاق کے ساتھ مل کر صوبے کے مسائل حل کریں گے اور امن کا قیام یقینی بنائیں گے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے میں گورنر راج کا نفاذ ایک انتہائی مشکل اور حساس فیصلہ تھا، تاہم موجودہ حالات میں صوبے کی بہتری اور انتظامی امور کی بہتری کے لیے ایسے اقدامات ناگزیر ہو جاتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے کہا کہ ان کی اولین ترجیح دہشت گردی کے خلاف جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانا اور صوبے میں دیرپا امن کا قیام ہے، تاکہ عوام کو ایک پرسکون ماحول فراہم کیا جا سکے اور ترقی کی راہ ہموار ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ولی باغ میں عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ایمل ولی خان سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی نے واضح کیا کہ وہ وفاق کے ساتھ محاذ آرائی کے بجائے مسائل کو دلائل اور بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے کہا کہ ماضی میں اسلام آباد کے ساتھ تعلقات میں تلخی رہی ہے، جسے اب خوشگوار بنانے کی ضرورت ہے تاکہ صوبے کے اہم معاملات کو مؤثر انداز میں وفاق کے سامنے پیش کیا جا سکے اور ان پر پیش رفت ممکن ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گورنر نے کہا کہ 2008 سے 2013 کے دوران پیپلز پارٹی اور اے این پی کی مخلوط حکومت نے صوبے میں امن بحال کیا تھا، لیکن بعد کے برسوں میں حالات دوبارہ خراب ہوئے جس کے اثرات آج بھی صوبے کے عوام بھگت رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اب وقت آ گیا ہے کہ خیبرپختونخوا کی شناخت دہشت گردی اور انتہا پسندی کے بجائے امن، سیاحت اور ترقی سے جڑی ہو، تاکہ دنیا بھر میں صوبے کا ایک مثبت اور روشن تشخص اجاگر ہو سکے اور سرمایہ کاری کے مواقع پیدا ہوں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا قدرتی وسائل، معدنیات، گیس اور تمباکو جیسی دولت سے مالا مال ہے، جنہیں بروئے کار لا کر صوبے کو معاشی طور پر مستحکم کیا جا سکتا ہے، اس لیے وسائل کی منصفانہ تقسیم اور استعمال پر توجہ مرکوز ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے این ایف سی ایوارڈ سمیت صوبے کے دیگر اہم معاملات پر وفاق کے ساتھ مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ صوبے کے حقوق کے حصول کے لیے ہر سطح پر اپنی آواز بلند کریں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبے میں جاری ہڑتالوں کے حوالے سے گورنر فیصل کریم کنڈی نے بتایا کہ 8 سے 10 ہزار ینگ ڈاکٹرز گزشتہ کئی برسوں سے اپنے جائز مطالبات کے لیے سراپا احتجاج تھے، تاہم ان کے ساتھ بات چیت کے بعد ڈاکٹرز نے ہڑتال ختم کر دی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے یقین دلایا کہ ینگ ڈاکٹرز کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا، کیونکہ صحت کے شعبے میں بہتری لانا اور ڈاکٹرز کو سہولیات فراہم کرنا حکومت کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے جسے پورا کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گورنر نے مزید کہا کہ وہ نظام میں موجود خرابیوں کو درست کرنے کے لیے پرعزم ہیں اور جہاں بھی غلطیاں پائی گئیں، انہیں ٹھیک کیا جائے گا تاکہ سرکاری اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے اور عوام کو ریلیف ملے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا کہنا تھا کہ صوبائی اداروں میں اہل اور قابل لوگوں کو آگے لایا جائے گا تاکہ عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی ممکن ہو سکے اور میرٹ کی بالادستی کو یقینی بنا کر اداروں کا وقار بحال کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اب صوبے کے مقدمے کو مؤثر انداز میں پیش کیا جائے گا تاکہ وفاق سے صوبے کے حقوق کا حصول ممکن ہو سکے۔ فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ان کا مقصد صوبے میں خوشحالی لانا ہے تاکہ عوام کا معیار زندگی بلند ہو۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1130/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی اے این پی کے صدر ایمل ولی خان سے ملاقات</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/1122/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/1122/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 17 Oct 2026 16:36:44 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امن_و_امان]]></category>
		<category><![CDATA[ایمل_ولی_خان]]></category>
		<category><![CDATA[اے_این_پی]]></category>
		<category><![CDATA[پشاور_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا_گورنر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_ملاقات]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%da%af%d9%88%d8%b1%d9%86%d8%b1-%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1-%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7-%d9%81%db%8c%d8%b5%d9%84-%da%a9%d8%b1%db%8c%d9%85-%da%a9%d9%86%da%88%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[ملاقات کے دوران صوبے کی امن و امان کی صورتحال اور سیاسی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پشاور میں ہونے والی اس اہم ملاقات میں خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ایمل ولی خان سے تفصیلی مذاکرات کیے ہیں جن میں صوبے کے سیاسی مستقبل اور درپیش مسائل پر غور کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات کا بنیادی مقصد صوبے کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کرنا تھا تاکہ تمام سیاسی قوتیں مل کر عوام کے مسائل کا کوئی مستقل حل تلاش کرسکیں اور باہمی تعاون کو فروغ دیا جاسکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس ملاقات کے دوران عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر میاں افتخار حسین بھی موجود تھے جنہوں نے دیگر پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ صوبائی سیاسی امور پر اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری حسین شاہ یوسفزئی نے بھی اس موقع پر ہونے والی گفتگو میں حصہ لیا اور صوبے کے انتظامی اور سیاسی چیلنجز کے حوالے سے اہم نکات پیش کیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سابق صوبائی وزیر سردار حسین بابک کی موجودگی نے اس ملاقات کو مزید اہمیت دی کیونکہ انہوں نے پارلیمانی اور عوامی نوعیت کے مختلف امور پر اپنے تجربے کی روشنی میں تجاویز دیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات کے شرکا نے اس بات پر زور دیا کہ خیبر پختونخوا میں پائیدار ترقی کا حصول اس وقت تک ممکن نہیں جب تک تمام بڑی سیاسی جماعتیں باہمی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر اکٹھی نہ ہوں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبے میں امن و امان کے قیام کو یقینی بنانے کے لیے تمام سیاسی قیادت کے کردار پر سیرحصل گفتگو کی گئی اور اتفاق کیا گیا کہ امن کے بغیر کوئی بھی ترقیاتی منصوبہ کامیاب نہیں ہوسکتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عوامی حقوق کے حصول کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین کو مل کر مشترکہ حکمت عملی اپنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا تاکہ وفاق سے صوبے کے جائز حقوق بروقت حاصل کیے جاسکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے واضح کیا کہ صوبے میں امن و امان کا قیام موجودہ حکومت کی اولین اور سب سے اہم ترجیح ہے جس پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے مزید کہا کہ صوبے کے امن اور خوشحالی کے لیے حکومت اور تمام سیاسی جماعتوں کو مشترکہ طور پر اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ عوام سکھ کا سانس لیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گورنر نے تمام سیاسی قائدین پر زور دیا کہ وہ اس حساس معاملے میں حکومت کی رہنمائی کریں اور اپنی جماعتوں کے پلیٹ فارم سے مثبت اور تعمیری تجاویز پیش کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ حکومت سیاسی رہنماؤں کی طرف سے پیش کی جانے والی تمام تجاویز کا خیرمقدم کرے گی اور ان پر سنجیدگی سے عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات کے اختتام پر دونوں اطراف سے اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے اس قسم کے رابطے مستقبل میں بھی باقاعدگی سے جاری رکھے جائیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/1122/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خیبر پختونخوا میں گورنر راج: ایمل ولی خان نے حکومتی درخواست مسترد کر دی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/20/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/20/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 10 Oct 2026 21:47:17 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امیر_حیدر_ہوتی]]></category>
		<category><![CDATA[ایمل_ولی_خان]]></category>
		<category><![CDATA[اے_این_پی]]></category>
		<category><![CDATA[پی_ٹی_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[شہباز_شریف]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[گورنر_راج]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/20/</guid>

					<description><![CDATA[وزیراعظم اور وزیر داخلہ نے اے این پی سربراہ سے صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ پر حمایت مانگی تھی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ملکی سیاسی صورتحال کے تناظر میں خیبر پختونخوا میں ممکنہ ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے حوالے سے وفاقی حکومت کی جانب سے اہم رابطوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سلسلے میں وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ سینیٹر ایمل ولی خان سے رابطہ کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت کے اعلیٰ حکام نے سینیٹر ایمل ولی خان سے ملاقات اور رابطوں کے دوران خیبر پختونخوا کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ اس گفتگو کا مرکزی نقطہ صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے لیے اے این پی کی سیاسی حمایت حاصل کرنا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاہم، ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ سینیٹر ایمل ولی خان نے وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی حمایت کرنے کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے اس اقدام کی حمایت کرنے سے واضح طور پر معذرت کر لی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات کے دوران وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے ایک اہم پیشکش بھی سامنے آئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر داخلہ نے سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا امیر حیدر ہوتی کو صوبے کا گورنر بنانے کی تجویز پیش کی تاکہ سیاسی معاملات کو بہتر انداز میں چلایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس پیشکش کے جواب میں اے این پی کے سربراہ نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے مشورہ دیا کہ صوبے میں پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت کو اپنی آئینی مدت پوری کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے جمہوری عمل کے تسلسل پر زور دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے حوالے سے سیاسی حلقوں میں گزشتہ کچھ روز سے مختلف قیاس آرائیاں گردش کر رہی ہیں۔ وفاقی حکومت صوبے کی داخلی صورتحال اور امن و امان کے معاملات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور مختلف سیاسی جماعتوں سے مشاورت کر رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس سے قبل جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان بھی خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی مخالفت کر چکے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اہم اتحادی جماعتوں کی جانب سے حمایت نہ ملنے کے بعد حکومت کے لیے یہ فیصلہ کرنا مزید مشکل ہو گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے حالیہ دنوں میں صوبائی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کیا جائے، تاہم امن و امان کی صورتحال پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب صوبائی حکومت کے ترجمان اور پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے بھی وفاقی حکومت کے کسی بھی ممکنہ اقدام کی سخت مخالفت کا اعلان کیا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ صوبائی حکومت کو ہٹانے کا کوئی بھی غیر آئینی اقدام عوامی مینڈیٹ کی توہین ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ موجودہ حالات میں گورنر راج کا نفاذ ایک انتہائی قدم ہوگا جس کے دور رس سیاسی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وفاقی حکومت اتحادیوں کو اعتماد میں لینے کے لیے کوشاں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اے این پی کی جانب سے اس معاملے پر اپنائے گئے دو ٹوک موقف کے بعد اب وفاقی حکومت کی حکمت عملی میں تبدیلی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ سیاسی حلقے اس پیش رفت کو حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دے رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئینی ماہرین کے مطابق گورنر راج کا نفاذ صرف اس صورت میں ممکن ہوتا ہے جب صوبائی حکومت آئینی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام ہو جائے یا صوبے میں امن و امان کی صورتحال مکمل طور پر قابو سے باہر ہو جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئندہ چند روز میں وفاقی حکومت کی جانب سے مزید سیاسی مشاورت متوقع ہے۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ حکومت صوبائی حکومت کے ساتھ معاملات کو کس طرح آگے بڑھاتی ہے یا پھر گورنر راج کے معاملے پر کوئی نیا لائحہ عمل اختیار کرتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/20/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا نفاذ: ایمل ولی خان نے حمایت سے معذرت کر لی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/19/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/19/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 10 Oct 2026 21:47:12 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امیر_حیدر_ہوتی]]></category>
		<category><![CDATA[ایمل_ولی_خان]]></category>
		<category><![CDATA[پی_ٹی_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[شہباز_شریف]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[عوامی_نیشنل_پارٹی]]></category>
		<category><![CDATA[گورنر_راج]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/19/</guid>

					<description><![CDATA[وزیراعظم اور وزیر داخلہ نے عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ سے رابطہ کر کے صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ پر مشاورت کی تھی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ملک کے سیاسی منظرنامے میں خیبر پختونخوا کی صورتحال پر وفاقی حکومت کی جانب سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ سینیٹر ایمل ولی خان سے رابطہ قائم کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس رابطے کا مقصد خیبر پختونخوا میں ممکنہ ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے حوالے سے اے این پی کی حمایت حاصل کرنا تھا۔ وفاقی حکومت کی جانب سے صوبائی حکومت کی کارکردگی اور موجودہ سیاسی حالات کے پیش نظر یہ مشاورت کی گئی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ذرائع نے بتایا ہے کہ وفاقی حکومت کے اعلیٰ حکام نے سینیٹر ایمل ولی خان سے درخواست کی کہ وہ صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کے فیصلے کی تائید کریں۔ تاہم عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ نے اس تجویز پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سینیٹر ایمل ولی خان نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی حمایت کرنے سے واضح طور پر معذرت کر لی ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت کے سامنے اپنا اصولی موقف پیش کرتے ہوئے اس اقدام کی مخالفت کی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات اور رابطے کے دوران وزیر داخلہ محسن نقوی نے اے این پی کے رہنما اور سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا امیر حیدر ہوتی کو صوبے کا گورنر بنانے کی پیشکش بھی کی۔ یہ پیشکش سیاسی جوڑ توڑ کے حوالے سے انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایمل ولی خان نے اس پیشکش کے جواب میں مشورہ دیا کہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کو اپنی آئینی مدت پوری کرنے دی جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ جمہوری عمل کو جاری رہنا چاہیے اور صوبے میں کسی بھی غیر معمولی اقدام سے گریز کیا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واضح رہے کہ اس سے قبل جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان بھی خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی مخالفت کر چکے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کے ان موقف نے وفاقی حکومت کے لیے مشکلات پیدا کر دی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس سے قبل اپنے حالیہ بیانات میں صوبائی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے حالات کو بہتر بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی ہے اور اب ایمرجنسی کے علاوہ کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا میں سیاسی کشیدگی اور امن و امان کی صورتحال پر وفاقی حکومت مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ حکومتی حلقوں کا ماننا ہے کہ صوبے میں انتظامی امور کو چلانے کے لیے سخت فیصلوں کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گورنر راج کے نفاذ کے لیے اتحادی جماعتوں اور دیگر سیاسی قوتوں کا اتفاق رائے انتہائی ضروری ہے۔ اے این پی اور جے یو آئی (ف) کی مخالفت کے بعد وفاقی حکومت کے لیے یہ فیصلہ کرنا آسان نہیں ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی حکومت اور وفاق کے درمیان جاری محاذ آرائی کے باعث صوبے میں سیاسی عدم استحکام کے خدشات پائے جاتے ہیں۔ عوام کی نظریں اب وفاقی حکومت کے اگلے لائحہ عمل پر مرکوز ہیں کہ وہ اس صورتحال سے کیسے نمٹتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئین پاکستان کے تحت گورنر راج کا نفاذ ایک سنگین قدم ہوتا ہے جس کے لیے صوبائی اسمبلی کی صورتحال اور وفاقی کابینہ کی منظوری درکار ہوتی ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ مشاورت کا عمل جاری رہے گا تاکہ کسی متفقہ نتیجے پر پہنچا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/19/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
