<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>ایل_این_جی &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%a7%db%8c%d9%84_%d8%a7%db%8c%d9%86_%d8%ac%db%8c/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:34:26 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>ایل_این_جی &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>اوگرا نے ایل این جی کی نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/3237/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/3237/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 30 Oct 2026 14:57:41 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹاک_ایکسچینج]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹیٹ_بینک]]></category>
		<category><![CDATA[اوگرا]]></category>
		<category><![CDATA[ایس_ایس_جی_سی]]></category>
		<category><![CDATA[ایس_این_جی_پی_ایل]]></category>
		<category><![CDATA[ایل_این_جی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پی_ایس_او]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d8%a7%d9%88%da%af%d8%b1%d8%a7-%d9%86%db%92-%d8%a7%db%8c%d9%84-%d8%a7%db%8c%d9%86-%d8%ac%db%8c-%da%a9%db%8c-%d9%86%d8%a6%db%8c-%d9%82%db%8c%d9%85%d8%aa%d9%88%da%ba-%da%a9%d8%a7-%d9%86%d9%88%d9%b9/</guid>

					<description><![CDATA[اکتوبر کے لیے ایل این جی کی قیمتوں میں 15.27 فیصد تک اضافہ کیا گیا ہے جس کا اطلاق یکم اکتوبر سے ہوگا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے ایل این جی کی نئی قیمتوں کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ جاری کردہ اعلامیے کے مطابق ستمبر کے مقابلے میں اکتوبر کے مہینے کے لیے ایل این جی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اوگرا کے مطابق قیمتوں میں یہ اضافہ پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے دو کارگوز کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق یکم اکتوبر 2026 سے لاگو تصور کیا جائے گا جس سے صارفین پر اضافی بوجھ پڑے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نوٹیفکیشن کے مطابق سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی ایل) کے لیے ایل این جی کی قیمت میں 15.27 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ اس اضافے کے بعد نئی قیمت 16.39 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اعداد و شمار کے مطابق سوئی سدرن سسٹم پر ایل این جی کی قیمت میں 2.17 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ اضافہ توانائی کی عالمی منڈی میں ہونے والی تبدیلیوں کے پیش نظر کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سوئی ناردرن سسٹم پر بھی ایل این جی کی قیمت میں 2.13 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کا اضافہ ہوا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ قیمتوں کا تعین شفاف طریقے سے اور درآمدی لاگت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ ستمبر میں سوئی ناردرن سسٹم کے لیے ایل این جی کی قیمت 15.19 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر تھی۔ جبکہ سوئی سدرن سسٹم کے لیے یہ قیمت 14.22 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اوگرا کی جانب سے جاری کردہ یہ نوٹیفکیشن گیس کی سپلائی چین اور تقسیم کار کمپنیوں کے لیے ہدایات پر مشتمل ہے۔ تمام متعلقہ اداروں کو نئی قیمتوں کے مطابق بلنگ کا عمل یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کا ایک بڑا حصہ ایل این جی کی درآمد سے پورا کرتا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کا بڑھنا مقامی سطح پر گیس کے نرخوں میں اضافے کا بنیادی سبب بنتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے توانائی کے شعبے میں اصلاحات کا عمل جاری ہے تاکہ صارفین کو بلا تعطل گیس کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔ اس ضمن میں اوگرا وقتاً فوقتاً قیمتوں کا جائزہ لیتی رہتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایل این جی کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد صنعتی اور گھریلو صارفین کے لیے گیس کے نرخوں میں تبدیلی متوقع ہے۔ متعلقہ حکام صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس نوٹیفکیشن کے بعد اب گیس کمپنیاں اکتوبر کے مہینے کے لیے جاری ہونے والے بلوں میں نئی قیمتوں کا اطلاق کریں گی۔ صارفین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ گیس کے استعمال میں احتیاط سے کام لیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/3237/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>دسمبر سے فروری تک بجلی صارفین کیلئے مشکل ترین ہونے کا خدشہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/3213/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/3213/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 30 Oct 2026 11:14:30 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[ایل_این_جی]]></category>
		<category><![CDATA[بجلی_کا_بحران]]></category>
		<category><![CDATA[بجلی_کی_قیمتیں]]></category>
		<category><![CDATA[پاور_ڈویژن]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سردیاں]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%af%d8%b3%d9%85%d8%a8%d8%b1-%d8%b3%db%92-%d9%81%d8%b1%d9%88%d8%b1%db%8c-%d8%aa%da%a9-%d8%a8%d8%ac%d9%84%db%8c-%d8%b5%d8%a7%d8%b1%d9%81%db%8c%d9%86-%da%a9%db%8c%d9%84%d8%a6%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[پاور ڈویژن کے ذرائع کے مطابق سردیوں کے تین ماہ میں فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ میں دو سے تین گنا اضافے کا امکان ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ملک بھر کے بجلی صارفین کے لیے رواں سال کی سردیوں کے تین ماہ یعنی دسمبر، جنوری اور فروری انتہائی مشکل ثابت ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ پاور ڈویژن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ان مہینوں کے دوران صارفین کو مالی بوجھ اور بجلی کی سپلائی کے حوالے سے بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ذرائع کے مطابق فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ (ایف پی اے) کی مد میں قیمتوں میں دو سے تین گنا تک بڑا اضافہ متوقع ہے۔ عالمی منڈی میں درآمدی ایل این جی اور کوئلے سمیت دیگر ایندھن کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے نے بجلی کی پیداواری لاگت کو انتہائی بلند سطح پر پہنچا دیا ہے، جس کا براہ راست اثر صارفین پر پڑے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سردیوں کے موسم میں دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں نمایاں کمی واقع ہو جاتی ہے، جس کے باعث پن بجلی (ہائیڈل پاور) کی پیداوار میں شدید کمی آ جاتی ہے۔ اس صورتحال میں بجلی کی طلب پوری کرنے کے لیے مہنگے ایندھن پر چلنے والے پاور پلانٹس پر انحصار بڑھانا پڑتا ہے، جو پیداواری لاگت میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاور ڈویژن کے ذرائع نے مزید بتایا کہ سردیوں کے دوران بجلی کے کارخانوں کو مقامی گیس کی فراہمی برقرار رکھنا بھی ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ گھریلو صارفین کی جانب سے گیس کی طلب میں اضافے کے باعث پاور پلانٹس کے لیے گیس کی دستیابی محدود ہو جاتی ہے، جس سے بجلی کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران لوڈ مینجمنٹ کو کنٹرول میں رکھنے اور فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کا بوجھ صارفین پر کم سے کم منتقل کرنے کی بھرپور کوششیں کی گئی تھیں۔ تاہم اب عالمی منڈی میں ایندھن کی بلند قیمتوں کے پیش نظر صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ذرائع نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ بجلی کی پیداواری لاگت میں اضافے اور ایندھن کی قلت کے پیش نظر ملک بھر میں لوڈ مینجمنٹ یعنی لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ بھی بڑھایا جا سکتا ہے۔ اس طرح صارفین کو نہ صرف مہنگی بجلی کا سامنا کرنا پڑے گا بلکہ بجلی کی عدم دستیابی بھی پریشانی کا باعث بن سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کے مطابق سردیوں کے ان تین مہینوں میں توانائی کا بحران معاشی مشکلات میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔ حکومت اور پاور ڈویژن کی جانب سے ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے تاکہ صارفین کو درپیش مشکلات کو کسی حد تک کم کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاور ڈویژن کے ذرائع نے خبردار کیا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں ایندھن کی قیمتیں اسی طرح برقرار رہیں تو آنے والے مہینے صارفین کے لیے مالی لحاظ سے کٹھن ثابت ہوں گے۔ عوام کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ سردیوں کے دوران بجلی کے استعمال میں احتیاط برتیں تاکہ ممکنہ بوجھ کو کم کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور متبادل ذرائع پر انحصار بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے بحرانوں سے بچا جا سکے۔ فی الحال صارفین کو سردیوں کے ان تین مہینوں میں بجلی کے بھاری بلوں اور لوڈ شیڈنگ کے لیے تیار رہنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو بھی ہدایت کی جا سکتی ہے کہ وہ لوڈ مینجمنٹ کے نظام کو بہتر بنائیں تاکہ صارفین کو کم سے کم تکلیف ہو۔ تاہم ایندھن کی قلت اور مہنگائی کے عالمی رجحانات کے سامنے حکومتی اقدامات کے نتائج محدود رہنے کا خدشہ موجود ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مجموعی طور پر دسمبر سے فروری تک کا دورانیہ توانائی کے شعبے کے لیے ایک کڑا امتحان ہوگا، جس میں عوام کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔ پاور ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ یہ اعداد و شمار آنے والے مہینوں کی معاشی صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/3213/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>سردیوں میں گیس کی قلت کا خدشہ، 2 ارب ڈالر کی ایل این جی درآمد کا فیصلہ تاخیر کا شکار</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1785/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1785/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 22 Oct 2026 03:16:44 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[ایل_این_جی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹرولیم_ڈویژن]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی]]></category>
		<category><![CDATA[حکومت_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[درآمدات]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سردیاں]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%b3%d8%b1%d8%af%db%8c%d9%88%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%af%db%8c%d8%b3-%da%a9%db%8c-%d9%82%d9%84%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%d8%ae%d8%af%d8%b4%db%81-2-%d8%a7%d8%b1%d8%a8-%da%88%d8%a7%d9%84%d8%b1/</guid>

					<description><![CDATA[حکومت کی جانب سے 22 ایل این جی کارگوز کی درآمد کے لیے کابینہ کمیٹی برائے توانائی کی منظوری کا انتظار کیا جا رہا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان میں سردیوں کے دوران گیس کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے تقریباً 2 ارب ڈالر مالیت کی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) درآمد کرنے کا فیصلہ تاحال التواء کا شکار ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن نے گیس کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے اکتوبر کے اوائل میں ہی درآمدی عمل شروع کرنے کی تجویز دی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کابینہ کمیٹی برائے توانائی کی جانب سے پیٹرولیم ڈویژن کی پیش کردہ گیس لوڈ مینجمنٹ سمری پر تاحال غور نہیں کیا گیا ہے۔ اس سمری میں مجموعی طور پر 22 ایل این جی کارگوز درآمد کرنے کی اجازت مانگی گئی تھی، جن میں سے کچھ کارگوز امریکا اور آذربائیجان سے بھی منگوائے جانے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">منصوبے کے تحت 12 کارگوز کی درآمد کے انتظامات 7 سے 10 اکتوبر کے درمیان شروع کیے جانے تھے، تاہم مقررہ مدت گزر جانے کے باوجود اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا۔ وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کا کہنا ہے کہ معاملہ کابینہ کمیٹی کے فیصلے کا منتظر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کو طویل مدتی معاہدے کے تحت قطر سے 11 ایل این جی کارگوز ملنے کی توقع تھی، تاہم مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کے باعث قطر نے نومبر تک فورس میجر کی مدت میں توسیع کر دی ہے۔ اس پیش رفت سے طے شدہ گیس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کے مطابق اگرچہ 22 کارگوز درآمد کرنے کی ضرورت پر اتفاق پایا جاتا ہے، تاہم ایک رائے یہ بھی ہے کہ صرف 15 کارگوز درآمد کیے جائیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر درآمدی مقدار کم رکھی گئی تو سردیوں کے عروج پر گیس کی قلت مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فیصلے میں تاخیر کی ایک بڑی وجہ درآمدی گیس کی بھاری لاگت ہے۔ فی کارگو اوسطاً 8 کروڑ 70 لاکھ ڈالر لاگت آنے کے باعث نومبر سے فروری تک گیس کی ضروریات پوری کرنے کے لیے تقریباً 2 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔ حکومت نے ابتدائی طور پر اس کا تخمینہ ڈیڑھ ارب ڈالر لگایا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قطر سے فراہمی غیر یقینی ہونے کے باعث اب اسپاٹ مارکیٹ سے مہنگی گیس خریدنے کا امکان بڑھ گیا ہے، جس سے ملکی زرمبادلہ پر بوجھ پڑے گا۔ پاکستان کے سرکاری زرمبادلہ کے ذخائر 21 ارب ڈالر کے قریب ہیں، تاہم بڑی قرض ادائیگیوں کے پیش نظر وسائل کا انتظام ایک بڑا چیلنج ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اقتصادی امور ڈویژن کی رپورٹ کے مطابق جولائی سے ستمبر کے دوران پاکستان کو بیرونی قرضوں کی مد میں 4.5 ارب ڈالر موصول ہوئے، جن میں یورو بانڈز بھی شامل ہیں۔ دیگر ذرائع سے مالی معاونت محدود ہونے کے باعث ایل این جی کی درآمدی ادائیگیوں کے لیے حکمت عملی مرتب کی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پیٹرولیم ڈویژن نے سفارش کی ہے کہ گھریلو صارفین کو صبح 5 بجے سے رات 10 بجے تک گیس کی مسلسل فراہمی ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنائی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ کھانا پکانے کے اوقات میں گیس کا مناسب پریشر برقرار رکھنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعظم کی زیر صدارت بھی گیس کی ضروریات اور درآمدی مقدار کا تعین کرنے کے لیے متعدد اجلاس منعقد ہو چکے ہیں۔ حکومت کا عزم ہے کہ سردیوں میں عوام کو گیس کی قلت سے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے تاکہ عوامی بے چینی کو روکا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک میں گیس کے ذخائر میں کمی کے باعث درآمدی ایل این جی پر انحصار بڑھ گیا ہے۔ پاور سیکٹر اصلاحات ٹاسک فورس اور نیشنل کوآرڈینیشن اینڈ مینجمنٹ کونسل سے مشاورت کے بعد پیٹرولیم ڈویژن نے یہ سمری تیار کی تھی تاکہ توانائی کے شعبے کو مستحکم رکھا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئندہ چند روز میں کابینہ کمیٹی برائے توانائی کا اجلاس متوقع ہے جس میں ایل این جی درآمد کے حوالے سے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ اس فیصلے پر ہی سردیوں میں گیس کی لوڈ شیڈنگ کی صورتحال کا انحصار ہوگا، جس پر عوام کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1785/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پاکستان کو قطر سے ایل این جی کا دوسرا کارگو موصول، قومی خزانے پر بوجھ میں کمی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1780/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1780/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 22 Oct 2026 02:36:53 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[ایل_این_جی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی_بحران]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی_شعبہ]]></category>
		<category><![CDATA[درآمدات]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قطر]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_اسمبلی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%d9%88-%d9%82%d8%b7%d8%b1-%d8%b3%db%92-%d8%a7%db%8c%d9%84-%d8%a7%db%8c%d9%86-%d8%ac%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d8%af%d9%88%d8%b3%d8%b1%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[قطر کے ساتھ طویل مدتی معاہدے کے تحت حاصل ہونے والی ایل این جی اسپاٹ مارکیٹ کے مقابلے میں نصف قیمت پر دستیاب ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان نے توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے اور درآمدی اخراجات کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے قطر سے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کا دوسرا کارگو کامیابی کے ساتھ حاصل کر لیا ہے۔ وزارت توانائی کے ذرائع کے مطابق یہ کارگو اکتوبر کے مہینے کے دوران موصول ہوا ہے جس سے ملک کے گیس سسٹم کو فراہمی کا سلسلہ بھی شروع کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک میں توانائی کے شعبے سے وابستہ حکام کا کہنا ہے کہ حکومت کی اولین ترجیح یہ ہے کہ مہنگی اسپاٹ مارکیٹ سے گیس کی خریداری سے حتی الامکان گریز کیا جائے۔ اس حکمت عملی کا مقصد قومی خزانے پر پڑنے والے مالی بوجھ کو کم کرنا اور عوام کو سستی توانائی کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزارت توانائی کے اعداد و شمار کے مطابق قطر کے ساتھ طے پانے والے طویل مدتی معاہدے کے تحت حاصل ہونے والی ایل این جی کی قیمت تقریباً 14 سے 15 ڈالر فی ملین برٹش تھرمل یونٹ (ایم ایم بی ٹی یو) کے درمیان ہے۔ اس کے برعکس عالمی اسپاٹ مارکیٹ میں گیس کی قیمت 30 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو تک پہنچ چکی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معاہدے کے تحت ملنے والی گیس اسپاٹ مارکیٹ کے مقابلے میں تقریباً نصف قیمت پر دستیاب ہے، جو پاکستان کے لیے ایک بڑی ریلیف ہے۔ حکام کا ماننا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف درآمدی بلوں کو قابو میں رکھنے میں مدد ملے گی بلکہ گیس کی سپلائی چین کو بھی مستحکم بنایا جا سکے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اکتوبر کے دوران اب تک قطر سے ایل این جی کے دو کارگوز پاکستان پہنچ چکے ہیں، جنہیں ملکی نیٹ ورک میں شامل کیا جا چکا ہے۔ حکومت کی جانب سے توانائی کے شعبے میں اس طرح کے اقدامات کو معاشی استحکام کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">توانائی کے ماہرین کے مطابق عالمی منڈی میں گیس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے پیش نظر طویل مدتی معاہدے پاکستان کے لیے ایک محفوظ راستہ فراہم کرتے ہیں۔ ان معاہدوں کی بدولت ملک کو غیر متوقع قیمتوں کے جھٹکوں سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت پاکستان کی جانب سے گیس کی درآمد کے لیے قطر کے ساتھ کیے گئے معاہدے کو توانائی کی سیکیورٹی کے حوالے سے ایک کلیدی پیش رفت سمجھا جاتا ہے۔ اس سے قبل بھی پاکستان قطر سے گیس کی باقاعدہ سپلائی حاصل کرتا رہا ہے جو ملکی صنعتوں اور گھریلو صارفین کے لیے اہم ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزارت توانائی کے حکام کا مزید کہنا ہے کہ مستقبل میں بھی اسی طرح کی پالیسیوں پر عمل درآمد جاری رہے گا تاکہ توانائی کے شعبے میں خود انحصاری کو فروغ دیا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے عالمی منڈی کے حالات پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک کے گیس سسٹم میں ان کارگوز کی شمولیت سے گیس کے پریشر اور فراہمی میں بہتری متوقع ہے۔ حکومت کی جانب سے توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور بہتر منصوبہ بندی کے ذریعے صارفین کو سہولت پہنچانے کا عمل مسلسل جاری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان اور قطر کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون کی ایک طویل تاریخ ہے، جو دونوں ممالک کے دوستانہ تعلقات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس تعاون سے پاکستان کو اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں بڑی مدد ملی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آنے والے دنوں میں بھی حکومت کی جانب سے توانائی کے متبادل ذرائع اور درآمدی گیس کی بہتر مینجمنٹ پر توجہ مرکوز رہے گی۔ اس سلسلے میں وزارت توانائی تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے تاکہ توانائی کا شعبہ فعال رہ سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مجموعی طور پر قطر سے ایل این جی کی یہ تازہ سپلائی ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے، جس سے درآمدی اخراجات میں نمایاں کمی کے ساتھ ساتھ توانائی کی فراہمی کو بھی مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1780/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>لاہور میں سردیوں کی آمد سے قبل گیس پریشر میں کمی اور بحران کا آغاز</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/weather/1723/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/weather/1723/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 21 Oct 2026 12:17:30 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[موسم]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[ایل_این_جی]]></category>
		<category><![CDATA[بارش]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی_بحران]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سردی]]></category>
		<category><![CDATA[سوئی_ناردرن]]></category>
		<category><![CDATA[شہر_لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/weather/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b3%d8%b1%d8%af%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%a2%d9%85%d8%af-%d8%b3%db%92-%d9%82%d8%a8%d9%84-%da%af%db%8c%d8%b3/</guid>

					<description><![CDATA[سوئی ناردرن کے سسٹم میں گیس کی قلت کے باعث مختلف علاقوں میں پریشر کم ہو گیا ہے اور شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">موسم میں تبدیلی کے ساتھ ہی ملک کے بڑے شہروں بالخصوص لاہور میں گیس کا بحران سر اٹھانے لگا ہے جس کی وجہ سے گھریلو صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سردیوں کے موسم کی باقاعدہ آمد سے قبل ہی گیس کی فراہمی کا نظام شدید دباؤ کا شکار ہو چکا ہے اور سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کے سسٹم میں گیس کی قلت واضح طور پر محسوس کی جانے لگی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہر کے مختلف علاقوں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق گیس کا پریشر انتہائی نچلی سطح پر آ گیا ہے جس کی وجہ سے چوبیس گھنٹوں کے دوران گیس کی مسلسل فراہمی اب ناممکن ہوتی جا رہی ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں شہریوں کو روزمرہ کے امور بالخصوص کھانا تیار کرنے میں شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور معمولاتِ زندگی متاثر ہو رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ صورتحال کے پیش نظر وفاقی حکومت کی جانب سے گیس کی فراہمی کے لیے ایک مخصوص شیڈول نافذ کیا گیا ہے جس کے تحت دن کے مختلف اوقات میں گیس کی فراہمی کو یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس شیڈول کے مطابق صبح کے ناشتے کے اوقات میں تین گھنٹے جبکہ دوپہر کے وقت دو گھنٹے کے لیے گیس فراہم کیے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسی طرح رات کے اوقات میں بھی گیس کی فراہمی کے لیے تین گھنٹے کا وقت مقرر کیا گیا ہے تاکہ تمام صارفین کو بنیادی ضروریات کے لیے کسی حد تک گیس میسر آ سکے۔ تاہم اس مقررہ شیڈول پر بھی مکمل عملدرآمد میں مشکلات پیش آ رہی ہیں اور کئی علاقوں میں مقررہ اوقات میں بھی گیس غائب رہتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ناشتہ اور کھانا پکانے کے اوقات میں گیس کی عدم فراہمی یا انتہائی کم پریشر کی وجہ سے گھروں میں خواتین کو کھانا بنانے میں سخت پریشانی اٹھانی پڑ رہی ہے۔ گیس پریشر کم ہونے کے باعث چولہے جلانا اور پانی گرم کرنا محال ہو چکا ہے جس سے بالخصوص دفاتر جانے والے افراد اور بچوں کے لیے ناشتے کی تیاری متاثر ہو رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گیس بحران کی اس سنگین صورتحال سے نبردآزما ہونے کے لیے حکومتی سطح پر بھی اقدامات زیر غور ہیں اور اس بحران کو ختم کرنے کے لیے لائحہ عمل تیار کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے ملک میں گیس کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے اور قلت پر قابو پانے کے لیے درجنوں ایل این جی کارگو بھی بک کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ درآمدی ایل این جی کے نئے کارگو بروقت پہنچنے سے گیس کے ذخائر میں بہتری آئے گی اور سسٹم کا دباؤ کم ہوگا۔ حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ سردیوں کے دوران گیس کی طلب میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے اس لیے اس سے پہلے تمام ممکنہ اقدامات بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سوئی ناردرن کے حکام کا کہنا ہے کہ گیس کی مجموعی پیداوار میں کمی اور درآمدی گیس کی دستیابی کے چیلنجز کی وجہ سے یہ عارضی قلت پیدا ہوئی ہے۔ صارفین کی طرف سے مسلسل شکایات موصول ہونے کے بعد فیلڈ ٹیموں کو بھی الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ پریشر کے مسائل کو حتی الامکان حل کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گیس کی فراہمی کے شیڈول پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے اور اوقات کار میں بہتری لائی جائے تاکہ سردی کی شدت بڑھنے سے قبل عوام کو اس عذاب سے نجات مل سکے۔ عوام کا کہنا ہے کہ اگر ابھی سے یہ حال ہے تو سخت سردیوں کے ایام میں صورتحال مزید ابتر ہو سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت اور متعلقہ توانائی کے اداروں کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ گیس چوری اور ضیاع کے سدباب کے لیے سخت اقدامات کریں تاکہ سسٹم میں موجود گیس کا درست استعمال ہو سکے۔ گیس کے بحران پر قابو پانے کے لیے عوام کو بھی چاہیے کہ وہ اس قیمتی توانائی کا استعمال انتہائی کفایت شعاری کے ساتھ کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ بحران کے خاتمے کے لیے ایل این جی کی درآمد کے علاوہ مقامی سطح پر گیس کے نئے ذخائر کی تلاش اور ان کی جلد پیداوار شروع کرنے کے منصوبوں پر بھی تیزی سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ اقدامات ہی ملک کو اس طرح کے توانائی کے بحرانوں سے مستقل طور پر محفوظ رکھ سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہر میں بڑھتی ہوئی اس گیس قلت اور کم پریشر کے باعث عامتہ الناس کو جن مشکلات کا سامنا ہے، اس کا نوٹس لیا جانا ضروری ہے۔ متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ فوری بنیادوں پر ترسیلی نظام کی بہتری کے لیے اقدامات کریں تاکہ شہریوں کی شکایات کا ازالہ ممکن ہو سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/weather/1723/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>سردیوں میں گیس کی طلب پوری کرنے کے لیے ایل این جی کے 18 کارگو خریدنے کا ہدف</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/1691/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/1691/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 21 Oct 2026 08:37:51 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اوگرا]]></category>
		<category><![CDATA[ایل_این_جی]]></category>
		<category><![CDATA[ایل_پی_جی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹرولیم_ڈویژن]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی_بحران]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سوئی_سدرن]]></category>
		<category><![CDATA[سوئی_ناردرن]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d8%b3%d8%b1%d8%af%db%8c%d9%88%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%af%db%8c%d8%b3-%da%a9%db%8c-%d8%b7%d9%84%d8%a8-%d9%be%d9%88%d8%b1%db%8c-%da%a9%d8%b1%d9%86%db%92-%da%a9%db%92-%d9%84%db%8c%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[پنجاب میں موسم سرما کے دوران گیس کی ضرورت ایک ارب مکعب فٹ تک پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">آنے والے موسم سرما کے دوران ملک میں گیس کی بڑھتی ہوئی طلب اور رسد کے درمیان فرق کو کم کرنے کے لیے اہم انتظامی فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ پیٹرولیم ڈویژن کے ذرائع کے مطابق اس سال سردیوں کے سیزن میں ایل این جی کے اٹھارہ کارگو خریدنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک بھر میں سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ اور سوئی سدرن گیس کمپنی کو مجموعی طور پر ایک ارب چالیس کروڑ مکعب فٹ مقامی گیس دستیاب ہے۔ اس کے مقابلے میں صرف صوبہ پنجاب کی اکیلے گیس کی ضروریات موسم سرما کے دوران ایک ارب مکعب فٹ تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے درآمدی حکمت عملی کے تحت قطر سے نسبتاً سستی مائع قدرتی گیس کی درآمد کو اولین ترجیح دی جائے گی۔ اسپاٹ مارکیٹ سے ایل این جی کی خریداری کے لیے تیس ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کو آخری حد مقرر کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عرفان کھوکھر نے اس صورتحال پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موسم سرما کے دوران ملک کی مجموعی گیس کی ضروریات کو احسن طریقے سے پورا کرنے کے لیے چوبیس کارگو درکار ہوں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک کے بیشتر حصوں میں موسم سرما کے دوران گھریلو اور صنعتی صارفین کی جانب سے گیس کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس موسمی اضافے سے نمٹنے کے لیے متعلقہ ادارے پیشگی تیاریوں اور درآمدی منصوبوں پر عمل پیرا ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقومی گیس کے ذخائر میں بتدریج کمی اور طلب میں اضافے کے باعث حکومت کو درآمدی ایل این جی پر انحصار بڑھانا پڑتا ہے۔ توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا ماننا ہے کہ بروقت فیصلے اور درست منصوبہ بندی ہی بحران سے بچنے کا واحد حل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">توانائی کی وزارت اور متعلقہ حکام ملک بھر کے تمام صارفین کو بلا تعطل گیس کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔ سردیوں کے ان مہینوں میں بالخصوص گھریلو صارفین کو ریلیف فراہم کرنے کو ترجیح دی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مجموعی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے پیٹرولیم ڈویژن کے حکام بین الاقوامی منڈی کے اتار چڑھاؤ پر بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ درآمدی اخراجات کو قابو میں رکھتے ہوئے توانائی کی ضروریات پوری کرنا موجودہ معاشی چیلنجز میں اہم ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موسمی تبدیلیوں کے ساتھ ہی ملک میں گیس کی کھپت کا گراف تیزی سے اوپر کی طرف جانا شروع ہو جاتا ہے۔ سردیوں کے ایام میں ہیٹروں اور گیس گیزرز کے مسلسل استعمال سے گھریلو سیکٹر پر دباؤ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متعلقہ محکموں کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مقامی گیس کے کنوؤں سے پیداوار میں بتدریج کمی آ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ درآمدی ایل این جی پر انحصار ناگزیر ہو چکا ہے تاکہ طلب اور رسد کا توازن برقرار رکھا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتی حلقوں کی جانب سے بین الاقوامی معاہدوں بالخصوص طویل مدتی ایل این جی سپلائی کے معاہدوں کو بہتر بنانے پر بھی کام جاری ہے۔ اس کا مقصد ملکی مبادلہ کے ذخائر کو بچانا اور عوام کو سستی توانائی کی فراہمی کو ممکن بنانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صنعتی شعبے کو بھی موسم سرما میں گیس کی مسلسل فراہمی چیلنج بنی رہتی ہے تاکہ برآمدی صنعتیں متاثر نہ ہوں۔ توانائی کی ترسیل کے اس پورے نظام کو چلانے کے لیے تمام متعلقہ کمپنیاں باہم مل کر حکمت عملی طے کرتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اوگرا اور دیگر ریگولیٹری اداروں کے کردار پر بھی مختلف حلقوں کی طرف سے آراء سامنے آتی رہتی ہیں جن کا مقصد شعبے میں بہتری لانا ہے۔ عوام اور تاجر برادری کی جانب سے بھی سردیوں کے سیزن میں گیس کی بلا تعطل دستیابی کے مطالبات کیے جاتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے توانائی کے متبادل ذرائع اور درآمدی راہداریوں پر بھی غور کیا جاتا ہے تاکہ ملکی معیشت کو استحکام مل سکے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لاتے ہوئے عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جائیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/1691/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>موسم سرما میں گیس کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے 18 ایل این جی کارگوز خریدنے کا فیصلہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1662/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1662/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 21 Oct 2026 04:57:58 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[ایل_این_جی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[پٹرولیم_ڈویژن]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی]]></category>
		<category><![CDATA[حکومت_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سوئی_گیس]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[گیس_بحران]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%85%d9%88%d8%b3%d9%85-%d8%b3%d8%b1%d9%85%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%af%db%8c%d8%b3-%da%a9%db%8c-%d9%81%d8%b1%d8%a7%db%81%d9%85%db%8c-%db%8c%d9%82%db%8c%d9%86%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[حکومت نے سردیوں کے دوران گیس کی طلب اور رسد میں توازن برقرار رکھنے کیلئے حکمت عملی تیار کر لی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">حکومت پاکستان نے ملک میں موسم سرما کے دوران گیس کی طلب کو پورا کرنے اور صارفین کو بلاتعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے ایک جامع حکمت عملی تشکیل دے دی ہے۔ اس منصوبے کے تحت سردیوں کے چار ماہ کے دوران ایل این جی کے 18 کارگوز درآمد کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے وزیر اعظم کو گیس کی متوقع کھپت اور دستیابی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق ایل این جی کے ان کارگوز کی خریداری کا عمل نومبر 2026 سے شروع ہو کر فروری 2027 تک جاری رہے گا تاکہ سرد موسم میں گیس کے بحران سے بچا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکمت عملی میں اس بات کو ترجیح دی گئی ہے کہ قطر سے سستی ایل این جی کی درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ قطر کے ساتھ طویل مدتی معاہدوں کے تحت گیس کی فراہمی کو اولیت دی جائے گی، تاہم اگر قطر سے سپلائی میں کسی قسم کی رکاوٹ پیش آئی تو اسپاٹ مارکیٹ سے کارگوز خریدے جائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیال رہے کہ قطر کی جانب سے 6 نومبر سے ایل این جی سپلائی کے حوالے سے فورس میجور کا اعلان کیا گیا ہے، جس کے پیش نظر حکومت متبادل ذرائع پر بھی کام کر رہی ہے۔ اسپاٹ مارکیٹ سے خریداری کے لیے فی ایم ایم بی ٹی یو قیمت کا تخمینہ 30 ڈالر تک لگایا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک میں گیس کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو سوئی ناردرن اور سوئی سدرن گیس کمپنیوں کے پاس مقامی گیس کی مجموعی دستیابی ایک ارب 40 کروڑ مکعب فٹ یومیہ ہے۔ یہ مقدار سردیوں میں بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ثابت ہو سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کے مطابق صرف پنجاب میں سردیوں کے دوران گیس کی ضروریات ایک ارب مکعب فٹ یومیہ تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔ مقامی گیس کی پیداوار میں کمی کے باعث گھریلو صارفین کو بھی گیس کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس کے پیش نظر ایل این جی درآمد ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ گیس کی لوڈشیڈنگ کو کم سے کم کیا جائے اور ترجیحی بنیادوں پر گھریلو صارفین کو گیس فراہم کی جائے۔ اس مقصد کے لیے گیس کے شعبے میں اصلاحات اور بہتر انتظام پر توجہ دی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک میں گیس کے ذخائر میں کمی ایک طویل مدتی چیلنج ہے، جس سے نمٹنے کے لیے حکومت نئے گیس فیلڈز کی تلاش اور توانائی کے متبادل ذرائع پر بھی کام کر رہی ہے۔ تاہم فوری طور پر ایل این جی کی درآمد ہی گیس کی کمی کو پورا کرنے کا واحد ذریعہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتی ذرائع نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ گیس کی فراہمی کے نظام کو شفاف بنایا جائے گا تاکہ کسی بھی علاقے میں غیر منصفانہ لوڈشیڈنگ نہ ہو۔ اس حوالے سے تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سردیوں کے آغاز کے ساتھ ہی ملک کے مختلف حصوں میں گیس کے دباؤ میں کمی کی شکایات سامنے آنا شروع ہو گئی ہیں۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ ایل این جی کے نئے کارگوز کی آمد سے صورتحال میں بہتری آئے گی اور صارفین کو ریلیف ملے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ موسم سرما میں گیس کا استعمال احتیاط سے کریں تاکہ سسٹم پر غیر ضروری بوجھ نہ پڑے۔ گیس کی بچت ہی اس بحران سے نمٹنے کا ایک مؤثر طریقہ ہے جس پر عمل کرنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے ایل این جی کی خریداری کا یہ ہدف ملکی توانائی کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے مقرر کیا گیا ہے۔ حکام کا ماننا ہے کہ بروقت اقدامات سے سردیوں کے دوران گیس کی قلت پر قابو پانے میں مدد ملے گی اور صنعتوں سمیت گھریلو صارفین کو سہولت ہوگی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1662/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>بجلی صارفین کیلئے ریلیف، ستمبر کی فیول ایڈجسٹمنٹ کم کر دی گئی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/846/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/846/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 15 Oct 2026 15:36:48 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹاک_ایکسچینج]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[ایل_این_جی]]></category>
		<category><![CDATA[بجلی_صارفین]]></category>
		<category><![CDATA[بجلی_کے_بل]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاور_ڈویژن]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹرول]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی_کا_شعبہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d8%a8%d8%ac%d9%84%db%8c-%d8%b5%d8%a7%d8%b1%d9%81%db%8c%d9%86-%da%a9%db%8c%d9%84%d8%a6%db%92-%d8%b1%db%8c%d9%84%db%8c%d9%81-%d8%b3%d8%aa%d9%85%d8%a8%d8%b1-%da%a9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[پاور ڈویژن نے ستمبر کی متوقع فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کو نمایاں طور پر کم کر کے صارفین کو ریلیف فراہم کر دیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد میں پاور ڈویژن کی جانب سے بجلی کے صارفین کے لیے ایک اہم اور خوش آئند ریلیف کا اعلان کیا گیا ہے جس کے تحت ستمبر کے ماہ کی متوقع فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ میں خاطر خواہ کمی کر دی گئی ہے۔ اس فیصلے کا بنیادی مقصد ملک بھر کے صارفین کو مالی دباؤ سے بچانا اور انہیں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے دور میں ریلیف فراہم کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سرکاری اعلامیے کے مطابق ستمبر کے مہینے کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کو جو کہ ابتدائی تخمینے کے مطابق چھ روپے فی یونٹ تک جا سکتی تھی، اب کم کر کے دو روپے چھپن پیسے فی یونٹ تک محدود کر دیا گیا ہے۔ اس بروقت اقدام کے نتیجے میں صارفین کو تین روپے چوالیس پیسے فی یونٹ کے بھاری اضافی بوجھ سے مکمل طور پر بچا لیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاور ڈویژن کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ صارفین کو اس اضافی مالی بوجھ سے بچانے کی خاطر ستمبر کے دوران محدود پیمانے پر لوڈ مینجمنٹ کے اقدامات کیے گئے تھے تاکہ مہنگے ایندھن کے استعمال کو کم سے کم کیا جا سکے۔ ان ہدفی اقدامات کا بنیادی مقصد بجلی کی پیداوار پر آنے والے اضافی اخراجات کو قابو میں رکھنا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تفصیلات کے مطابق ستمبر کے مہینے میں دو سے اڑھائی گھنٹے تک کی محدود لوڈ مینجمنٹ کی گئی تھی جس کی وجہ سے مہنگے متبادل ایندھن سے بجلی پیدا کرنے کے منفی اثرات کو کامیابی کے ساتھ کم کیا گیا۔ حکام کا یہ بھی ماننا ہے کہ اس حکمت عملی سے قومی خزانے اور عام صارف دونوں کو طویل المدتی فائدہ پہنچا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاور سیکٹر کے اداروں کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق درآمدی مائع قدرتی گیس یعنی ایل این جی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور ان کے معاشی اثرات کو محدود رکھنا ایک بڑا چیلنج تھا، جسے حکومت نے بروقت اور دانشمندانہ فیصلوں کے ذریعے ممکن بنایا ہے۔ حکومت اس بات کی مسلسل کوشش کر رہی ہے کہ عوام کو کم سے کم مالی مشکلات کا سامنا کرناپڑے اور توانائی کے شعبے میں بہتری لائی جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کا کہنا ہے کہ مہنگے متبادل ایندھن پر انحصار کم کرنے سے نہ صرف بجلی کی پیداواری لاگت میں کمی آئی ہے بلکہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے صارفین پر پڑنے والے دباؤ کو بھی کافی حد تک ہلکا کیا گیا ہے۔ پاور ڈویژن نے اس بات پر زور دیا ہے کہ توانائی کے نظام کو مستحکم رکھنے کے لیے ایسے تمام اقدامات ناگزیر تھے جو طویل عرصے میں معاشی بہتری کا باعث بنتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب پاور ڈویژن نے ایک اہم انتباہ بھی جاری کیا ہے کہ آنے والے سردیوں کے موسم میں گھریلو صارفین کی جانب سے گیس کی طلب میں روایتی طور پر نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے مجموعی طور پر گیس کی دستیابی مزید محدود ہونے کا خدشہ موجود ہے۔ پاور سیکٹر کے نظام کا تسلسل اور استحکام برقرار رکھنے کے لیے آر ایل این جی کی مسلسل فراہمی انتہائی ضروری قرار دی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گیس کی طلب اور رسد کے اس توازن کو برقرار رکھنے کے لیے متعلقہ ادارے پہلے سے ہی مختلف حکمت عملیوں پر غور کر رہے ہیں تاکہ سردیوں کے موسم میں بجلی اور گیس کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ سردیوں میں توانائی کی بڑھتی ہوئی کھپت کے پیش نظر تمام متعلقہ اداروں کو انتہائی مربوط انداز میں کام کرنا ہو گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت اور متعلقہ وزارتیں توانائی کے شعبے میں ساختاتی اصلاحات لانے اور عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کیلیے ہر ممکنہ کوشش کر رہی ہیں۔ اس قسم کے متوازن اقدامات سے نہ صرف صارفین کے ماہانہ بلوں میں اعتدال رہتا ہے بلکہ ملکی معیشت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں، جو مستقبل کی طویل المدتی پالیسیوں کی تشکیل میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئندہ مہینوں میں بھی بجلی کی قیمتوں اور ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے حوالے سے مزید اعتدال کی توقع کی جا رہی ہے تاکہ عام آدمی کو مہنگائی کے اس دور میں زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے اور صنعتی شعبے کو بھی فروغ ملے۔ متعلقہ حکام موجودہ ملکی اور عالمی مارکیٹ کی صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ بحران سے بروقت نمٹا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس تمام صورتحال کے تناظر میں معاشی ماہرین کا یہ تجزیہ سامنے آیا ہے کہ حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے ان اقدامات سے عوام میں پائے جانے والے مالیاتی خدشات میں کمی واقع ہوئی ہے۔ پاور ڈویژن کی یہ پالیسی اس بات کی غماز ہے کہ حکومتی ادارے عوام کو ریلیف دینے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے کے لیے پرعزم ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک کے دیگر شعبوں کی طرح توانائی کے شعبے میں بھی شفافیت اور کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں تاکہ بجلی کی ترسیل کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا سکے۔ حکومت اس عزم پر قائم ہے کہ عوام کو سستی اور بلاتعطل بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکنہ قدم اٹھایا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/846/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پاکستان کو اکتوبر کا پہلا ایل این جی کارگو موصول، سردیوں میں گیس کی طلب میں اضافے کا خدشہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/524/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/524/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 04:36:42 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[ایل_این_جی]]></category>
		<category><![CDATA[اینگرو_ٹرمینل]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی_کا_بحران]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سوئی_سدرن]]></category>
		<category><![CDATA[سوئی_ناردرن]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[صنعت]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%d9%88-%d8%a7%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8%d8%b1-%da%a9%d8%a7-%d9%be%db%81%d9%84%d8%a7-%d8%a7%db%8c%d9%84-%d8%a7%db%8c%d9%86-%d8%ac%db%8c-%da%a9%d8%a7%d8%b1/</guid>

					<description><![CDATA[قطر سے آنے والا گیس بردار جہاز اینگرو ٹرمینل پر لنگر انداز ہو گیا، تاہم موسم سرما میں طلب اور رسد میں فرق برقرار رہنے کا امکان ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کو اکتوبر کے مہینے میں مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کا پہلا کارگو موصول ہو گیا ہے، جس سے ملک میں توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے حوالے سے ایک اہم پیشرفت ہوئی ہے۔ یہ کارگو قطر سے لایا گیا ہے جو ملکی توانائی کی ضروریات کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گیس بردار جہاز &#039;العرِیش&#039; منگل کے روز صبح 11 بج کر 5 منٹ پر اینگرو کے ایل این جی ٹرمینل پر پہنچا اور لنگر انداز ہوا۔ جہاز کے پہنچنے کے بعد دوپہر 12 بجے سے گیس کو دوبارہ قدرتی حالت میں تبدیل کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اگرچہ یہ کارگو موصول ہو چکا ہے، تاہم ماہرین اور متعلقہ حکام کی جانب سے موسم سرما 2026-27 کے دوران گیس کی فراہمی کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ملک میں سردیوں کے موسم میں گیس کی طلب میں غیر معمولی اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اعداد و شمار کے مطابق، موسم سرما کے دوران ملکی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایل این جی کے مجموعی طور پر 24 کارگوز کی ضرورت درکار ہوگی۔ گیس کی یہ مقدار صنعتوں اور گھریلو صارفین کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے ناگزیر سمجھی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ان کے نیٹ ورک پر گیس کی طلب موجودہ 550 ملین مکعب فٹ یومیہ سے بڑھ کر 1550 ملین مکعب فٹ یومیہ تک پہنچنے کا امکان ہے، جو ایک بڑا فرق ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسی طرح سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) کے نظام میں بھی طلب میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ کمپنی کی طلب موجودہ 300 ملین مکعب فٹ یومیہ سے بڑھ کر 500 ملین مکعب فٹ یومیہ تک جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جس سے دباؤ بڑھ سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گیس کی طلب اور رسد میں اس بڑے فرق کے باعث خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ موسم سرما کے دوران مختلف شعبوں کو گیس کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس صورتحال میں ترجیحات کا تعین کرنا حکام کے لیے ایک چیلنج ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خدشات کے مطابق، گیس کی محدود دستیابی کے پیش نظر برآمدی صنعتوں، غیر برآمدی صنعتوں، سی این جی سیکٹر اور سیمنٹ کے کارخانوں کو گیس کی فراہمی متاثر ہونے کا امکان ہے۔ ان شعبوں میں گیس کی قلت سے پیداواری عمل پر اثر پڑ سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان ماضی میں بھی موسم سرما کے دوران گیس کے شدید بحرانوں کا سامنا کر چکا ہے، جس کے پیش نظر اب حکام زیادہ محتاط دکھائی دیتے ہیں۔ گیس کی بچت اور متبادل ذرائع کا استعمال بھی اس بحران سے نمٹنے کے لیے تجویز کیا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک کی معاشی ترقی کے لیے صنعتوں کو بلا تعطل گیس کی فراہمی ناگزیر ہے، کیونکہ گیس کی قلت سے نہ صرف برآمدات متاثر ہوتی ہیں بلکہ روزگار کے مواقع بھی کم ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔ حکومت اس صورتحال کو مانیٹر کر رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مجموعی طور پر، اکتوبر میں موصول ہونے والا یہ پہلا کارگو ایک مثبت قدم ہے، تاہم آنے والے مہینوں میں گیس کی فراہمی کو یقینی بنانا ایک بڑا امتحان ہوگا۔ توانائی کی صورتحال پر نظر رکھنے والے ادارے مسلسل صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/524/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پاکستان اور لیبیا کے درمیان خام تیل کی درآمد اور توانائی تعاون بڑھانے پر اتفاق</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/332/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/332/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 12 Oct 2026 18:57:24 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[انڈس_بیسن]]></category>
		<category><![CDATA[ایل_این_جی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹرولیم]]></category>
		<category><![CDATA[ترکیہ]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی]]></category>
		<category><![CDATA[خام_تیل]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ریفائنری]]></category>
		<category><![CDATA[سیسمک_جہاز]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%84%db%8c%d8%a8%db%8c%d8%a7-%da%a9%db%92-%d8%af%d8%b1%d9%85%db%8c%d8%a7%d9%86-%d8%ae%d8%a7%d9%85-%d8%aa%db%8c%d9%84-%da%a9%db%8c-%d8%af/</guid>

					<description><![CDATA[علی پرویز ملک کی لیبیا، قطر اور ترکیہ کے وزرائے توانائی سے اہم ملاقاتیں، ترک بحری جہاز اگلے ماہ پاکستان پہنچے گا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے لیبیا کے وزیر تیل و گیس سے ایک اہم ملاقات کی ہے جس میں دوطرفہ توانائی تعلقات کے فروغ اور خام تیل کی باقاعدہ درآمد پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان پیٹرولیم کے شعبے میں باہمی تعاون کو نئی رفتار دینے پر اتفاق کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات کے دوران علی پرویز ملک نے واضح کیا کہ پاکستان نے اپنی مقامی آئل ریفائنریز کو ترغیب دی ہے کہ وہ لیبیا سے خام تیل کی درآمد کے لیے عملی اقدامات کریں۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد ملکی ریفائنریز کو سستے اور قابل بھروسا ذرائع سے خام تیل کی مسلسل فراہمی یقینی بنانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لیبیا کے وزیر تیل و گیس نے پاکستانی پیشکش کا خیرمقدم کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ان کی حکومت پاکستانی کمپنیوں کو خام تیل کی باآسانی فراہمی کے سلسلے میں ہر ممکن مدد اور سہولت فراہم کرے گی تاکہ تجارتی شراکت داری کو پائیدار بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس اعلیٰ سطحی گفتگو میں دونوں برادر اسلامی ممالک نے آئل ریفائنریز کی اپ گریڈیشن اور تکنیکی صلاحیتوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے شعبے میں باہمی تجربات اور مہارت کے تبادلے میں بھی گہری دلچسپی کا اظہار کیا، جس سے دونوں ممالک کے توانائی شعبے کو فائدہ پہنچے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی توانائی اجلاس کے موقع پر وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے دیگر اہم ممالک کے قائدین سے بھی نتیجہ خیز ملاقاتیں کیں جن میں ملکی توانائی کی ضروریات پورا کرنے اور بیرونی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے جامع مواقع پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">علی پرویز ملک نے قطر کے وزیر توانائی سعد شیریدہ الکعبی سے بھی خصوصی ملاقات کی، جس میں مائع قدرتی گیس یعنی ایل این جی کے شعبے میں جاری اور ممکنہ تعاون کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا تاکہ پاکستان کی گیس سپلائی چین کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قطری وزیر توانائی کے ساتھ گفتگو میں دونوں رہنماؤں نے توانائی کی عالمی مارکیٹ میں حالیہ پیش رفت اور پاکستان کی بڑھتی ہوئی توانائی ضروریات کے تناظر میں ایل این جی کے طویل مدتی معاہدات اور رسد کے نظام کو مزید فعال بنانے پر اتفاق کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس سفارتی سلسلے میں وفاقی وزیر پیٹرولیم اور ترک وزیر توانائی الپ ارسلان بائراکتار کے درمیان بھی ایک اہم ملاقات ہوئی، جس میں دونوں برادر ممالک کے درمیان تیل و گیس کی دریافت اور مشترکہ منصوبوں پر سنجیدہ پیش رفت پر بات چیت کی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترک وزیر توانائی الپ ارسلان بائراکتار نے اس موقع پر ایک بڑا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ سمندر میں تیل اور گیس کے نئے ذخائر کی تلاش کا آغاز کرنے کے لیے ترکش پیٹرولیم کا جدید سیسمک جہاز اگلے ماہ پاکستان کے سمندری حدود میں پہنچ جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترک وزیر کا کہنا تھا کہ یہ جدید سیسمک ریسرچ جہاز پاکستان کے انڈس بیسن میں ارضیاتی ڈیٹا جمع کرنے کا اہم کام انجام دے گا، تاکہ گہرے سمندر میں تیل و گیس کی تلاش کے امکانات کو عملی منصوبوں کی شکل دی جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کے مطابق انڈس بیسن میں ترک تحقیقی جہاز کے ذریعے سائنسی ڈیٹا کے حصول سے پاکستان کو اپنے سمندری وسائل سے بھرپور استفادہ حاصل کرنے کی ٹھوس بنیاد میسر آئے گی، جو ملکی معیشت کے لیے ایک خوش آئند پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتی سطح پر ہونے والی ان مسلسل کوششوں اور بین الاقوامی تعاون سے امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ پاکستان میں خام تیل کی دستیابی میں تنوع آئے گا اور ریفائنری سیکٹر جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہو کر قومی پیداوار میں اضافہ کر سکے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/332/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
