<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.46.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>ایلون_مسک &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%a7%db%8c%d9%84%d9%88%d9%86_%d9%85%d8%b3%da%a9/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Fri, 06 Nov 2026 18:11:57 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>ایلون_مسک &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>ٹیسلا کا سائبر ٹرک کی پیداوار بند کرنے کا اعلان، توجہ سائبر کیب پر مرکوز</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/5440/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/5440/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 06 Nov 2026 18:11:57 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امریکی_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ایلون_مسک]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیسلا]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیکساس]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روبوٹیکسی]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سائبر_ٹرک]]></category>
		<category><![CDATA[سائبر_کیب]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[گاڑیاں]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/5440/</guid>

					<description><![CDATA[ٹیسلا کے سی ای او ایلون مسک نے کہا ہے کہ اگلے سال کے وسط تک ٹیکساس فیکٹری میں سائبر ٹرک کی تیاری روک دی جائے گی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ٹیسلا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ایلون مسک نے اعلان کیا ہے کہ کمپنی اپنی مشہور گاڑی &#039;سائبر ٹرک&#039; کی پیداوار کو بتدریج ختم کرنے جا رہی ہے۔ یہ فیصلہ گاڑی کی فروخت میں توقع سے کم کارکردگی اور کمپنی کی نئی ترجیحات کے پیشِ نظر کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایلون مسک نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ &#039;ایکس&#039; پر ایک پوسٹ کے ذریعے بتایا کہ ٹیکساس میں واقع گی گا فیکٹری میں سائبر ٹرک کی تیاری اگلے سال کے وسط تک بند کر دی جائے گی۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد کمپنی کی نئی &#039;سائبر کیب&#039; ماڈل کی پیداوار میں اضافہ کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سائبر کیب ماڈل کو ٹیسلا کی جانب سے روبوٹیکسی انڈسٹری میں داخلے کے لیے ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ کمپنی کا ماننا ہے کہ مستقبل کی نقل و حمل کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اس نئی ٹیکنالوجی پر توجہ مرکوز کرنا ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سائبر ٹرک کو پہلی بار 2019 میں متعارف کرایا گیا تھا، جس کا ڈیزائن اپنے منفرد اور کونیی اسٹینلیس اسٹیل کے بیرونی حصے کی وجہ سے کافی بحث کا موضوع رہا۔ اس گاڑی کی نقاب کشائی کی تقریب کے دوران ایلون مسک نے اس کی کھڑکیوں کو ناقابلِ شکست ثابت کرنے کی کوشش کی تھی، تاہم مظاہرے کے دوران دھاتی گیندیں لگنے سے کھڑکیاں ٹوٹ گئی تھیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صارفین کے لیے سائبر ٹرک کی فراہمی 2023 کے آخر میں شروع ہوئی تھی۔ ایلون مسک نے ابتدائی طور پر پیش گوئی کی تھی کہ یہ گاڑی سالانہ تقریباً ڈھائی لاکھ کی تعداد میں فروخت ہوگی، تاہم یہ ماڈل اپنے مقرر کردہ ہدف سے کافی پیچھے رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کمپنی کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، 2024 میں سائبر ٹرک کی تقریباً 38,965 یونٹس فروخت ہوئیں، جبکہ 2025 میں یہ تعداد کم ہو کر 20,237 رہ گئی تھی۔ فروخت میں اس نمایاں کمی نے کمپنی کو اپنی حکمتِ عملی پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایلون مسک نے اپنے بیان میں سائبر ٹرک کو ٹیسلا کی اب تک کی بہترین گاڑی قرار دیا ہے۔ انہوں نے اس فیصلے کو &#039;ایک دور کا اختتام&#039; قرار دیتے ہوئے اپنے مداحوں اور صارفین کے ساتھ اس کا اظہار کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاہم، ایلون مسک نے اپنے بیان میں یہ واضح نہیں کیا کہ آیا سائبر ٹرک کی مینوفیکچرنگ کسی اور فیکٹری میں منتقل کی جائے گی یا اسے مکمل طور پر بند کر دیا جائے گا۔ فی الحال ٹیکساس کا پلانٹ ہی اس گاڑی کی تیاری کا واحد معلوم مرکز ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سائبر ٹرک کا منصوبہ ایلون مسک کے حالیہ سیاسی رجحانات اور امریکی سیاست میں ان کی شمولیت کے دوران کافی متنازع رہا ہے۔ یہ گاڑی اکثر ان لوگوں کے لیے ایک علامت بن گئی تھی جو مسک کی سیاسی سرگرمیوں سے اختلاف رکھتے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایلون مسک نے حال ہی میں امریکی مڈٹرم انتخابات کے دوران ریپبلکن امیدواروں کی حمایت میں تقریباً نصف ارب ڈالر خرچ کیے تھے۔ ان کی سیاسی سرگرمیوں میں ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ مل کر حکومتی کارکردگی کے پینل کی سربراہی کرنا بھی شامل تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاسی میدان میں ہونے والی تبدیلیوں کے بعد، جہاں ڈیموکریٹس نے امریکی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں کنٹرول حاصل کر لیا ہے، امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مسک کے وفاقی حکومت کے ساتھ کام کے حوالے سے تحقیقات ہو سکتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹیسلا اب اپنی مکمل توجہ روبوٹیکسی انڈسٹری اور مصنوعی ذہانت پر مبنی نئی ٹیکنالوجیز پر مرکوز کر رہی ہے۔ کمپنی کے اس نئے اقدام کو آٹوموبائل انڈسٹری میں ایک بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹیکساس میں واقع گی گا فیکٹری اب سائبر ٹرک کے بجائے سائبر کیب کی تیاری کے لیے اپنی صلاحیتوں کو بڑھائے گی۔ یہ تبدیلی ٹیسلا کے مستقبل کے کاروباری ماڈل میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/5440/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ٹیکنالوجی اسٹاکس میں بڑی گراوٹ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/technology/5179/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/technology/5179/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 06 Nov 2026 00:12:49 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سائنس و ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹاک_مارکیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکی_کانگریس]]></category>
		<category><![CDATA[انتخابات]]></category>
		<category><![CDATA[ایلون_مسک]]></category>
		<category><![CDATA[اینویڈیا]]></category>
		<category><![CDATA[برنی_سینڈرز]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیسلا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈونلڈ_ٹرمپ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیموکریٹس]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[مصنوعی_ذہانت]]></category>
		<category><![CDATA[نازڈیک]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/technology/5179/</guid>

					<description><![CDATA[مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سست روی کے خدشات اور سخت ضوابط کی توقعات کے باعث سرمایہ کاروں میں تشویش پھیل گئی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج کے بعد ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے وابستہ کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ اس گراوٹ کے نتیجے میں بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی مارکیٹ ویلیو میں اربوں ڈالرز کا نقصان ہوا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نازڈیک کمپوزٹ انڈیکس میں 5.5 فیصد سے زائد کی تنزلی ریکارڈ کی گئی، جس سے مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں تقریباً 2.5 ٹریلین ڈالرز کا خسارہ ہوا۔ یہ 2025 کے بعد سے امریکی اسٹاک مارکیٹ کے لیے بدترین دنوں میں سے ایک ثابت ہوا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس گراوٹ کی بنیادی وجہ ڈیموکریٹس کی کانگریس میں کامیابی ہے، جنہوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران ڈیٹا سینٹرز کے پھیلاؤ اور اے آئی ٹیکنالوجی پر سخت نگرانی اور پابندیوں کا وعدہ کیا تھا۔ ڈیموکریٹک سینیٹر برنی سینڈرز نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں ڈیٹا سینٹرز پر فوری پابندی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ عوام بگ ٹیک کمپنیوں کی جانب سے ماحولیاتی نقصانات اور ملازمتوں کے خاتمے کو قبول نہیں کریں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسٹاک مارکیٹ کی اس صورتحال کا ذمہ دار اپنے سیاسی مخالفین کو قرار دیا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ انتخابات کے نتائج کے باعث مارکیٹ تاریخ کے بدترین دنوں میں سے ایک سے گزری ہے، تاہم انہوں نے مستقبل میں بہتری کی امید ظاہر کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چپ بنانے والی معروف کمپنیوں کے حصص میں بھی بڑی کمی دیکھی گئی۔ اینویڈیا کے حصص 9 فیصد سے زائد گر گئے جس سے کمپنی کی مارکیٹ ویلیو میں 400 ارب ڈالرز سے زیادہ کی کمی ہوئی۔ اسی طرح اے ایم ڈی اور مائیکرون کے حصص میں 17 فیصد سے زائد کی گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایلون مسک کی کمپنیوں اسپیس ایکس اور ٹیسلا کے حصص میں بھی بالترتیب 8 اور 11 فیصد تک کی کمی ہوئی، جس سے ان کمپنیوں کی مارکیٹ ویلیو میں 300 ارب ڈالرز سے زائد کا نقصان ہوا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اوپن اے آئی کے صدر گریگ بروک مین نے تسلیم کیا کہ ڈیٹا سینٹرز کے حوالے سے عوامی ردعمل نے ٹیکنالوجی کمپنیوں کو حیران کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب کمپنیوں کو مقامی برادریوں کے ساتھ بہتر روابط قائم کرنے کی ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">میٹا کی صدر ڈینا پاول میک کارمک نے بھی اس بات پر زور دیا کہ انڈسٹری کو مصنوعی ذہانت کے فوائد کو بہتر انداز میں عوام تک پہنچانے کے لیے مزید کوششیں کرنی ہوں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس صورتحال نے ایس اینڈ پی 500 اور ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج سمیت دیگر اہم امریکی انڈیکسز کو بھی متاثر کیا ہے۔ مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق نازڈیک انڈیکس اب &#039;کریکشن&#039; کے زون میں داخل ہو چکا ہے، جہاں قیمتیں اپنے حالیہ بلند ترین سطح سے 10 فیصد نیچے آ گئی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/technology/5179/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>امریکی ریاست ٹیکساس میں ڈیموکریٹک پارٹی نے تاریخی کامیابی حاصل کر لی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/4962/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/4962/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 04 Nov 2026 11:27:45 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امریکی_انتخابات]]></category>
		<category><![CDATA[امریکی_سینیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[ایلون_مسک]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیکساس]]></category>
		<category><![CDATA[جارج_واشنگٹن_یونیورسٹی]]></category>
		<category><![CDATA[جیمز_ٹلاریکو]]></category>
		<category><![CDATA[ڈونلڈ_ٹرمپ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیموکریٹک_پارٹی]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ریپبلکن_پارٹی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[کین_پیکسٹن]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/4962/</guid>

					<description><![CDATA[ڈیموکریٹ امیدوار جیمز ٹلاریکو نے ریپبلکن حریف کو شکست دے کر تقریباً تین دہائیوں کا تسلسل توڑ دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">امریکی ریاست ٹیکساس میں ہونے والے وسطی دور کے انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار جیمز ٹلاریکو نے سینیٹ کی نشست پر کامیابی حاصل کر لی ہے۔ یہ تاریخی کامیابی ریپبلکن پارٹی کے لیے ایک بڑا سیاسی دھکا مانی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس انتخابی معرکے میں جیمز ٹلاریکو نے ریپبلکن حریف کین پی کس ٹن کو شکست سے دوچار کیا۔ سن 1988 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ کسی ڈیموکریٹ امیدوار نے ٹیکساس میں سینیٹ کی نشست جیتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جیمز ٹلاریکو کا تعلق ایک سابق اسکول ٹیچر کے پس منظر سے ہے جنہوں نے انتخابی مہم کے دوران بڑھتی ہوئی مہنگائی کو اپنا مرکزی موضوع بنایا تھا۔ ان کے مقابلے میں کین پی کس ٹن کی مہم کو دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت حاصل تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹیکساس کے دارالحکومت آسٹن میں نتائج سامنے آنے پر حامیوں میں جشن کا ماحول دیکھا گیا اور لوگوں نے اس کامیابی کو غیر معمولی قرار دیا۔ اس موقع پر جیمز ٹلاریکو نے اپنے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے اسے عوامی طاقت کی جیت قرار دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جارج واشنگٹن یونیورسٹی کے پولیٹیکل سائنس کے پروفیسر کوارڈریکوس ڈرِسکل نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ نتائج محض ایک اشارہ نہیں بلکہ ایک طوفان کی مانند ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریاست میں گورنر کے عہدے پر بھی ڈیموکریٹک امیدوار کی کامیابی نے اسے ایک تاریخی دن بنا دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتخابی مہم کے دوران اس نشست پر ریکارڈ اخراجات آئے اور یہ امریکی تاریخ کی سب سے مہنگی سینیٹ کی دوڑ بن گئی۔ کین پی کس ٹن کی حامی سپر پی اے سی کے لیے ارب پتی ایلون مسک نے کروڑوں ڈالر کی رقم فراہم کی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ریپبلکن امیدوار کین پی کس ٹن ماضی میں مختلف سیاسی اسکینڈلز اور کرپشن کے الزامات کی زد میں بھی رہے تھے جن کی وجہ سے ان کی مہم متاثر ہوئی۔ اس کے علاوہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ریپبلکن امیدواروں کی حمایت کے لیے ٹیکساس کے مختلف دورے کیے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کے مطابق ووٹرز میں مہنگائی اور معاشی پالیسیوں کے حوالے سے پائے جانے والے غم و غصے نے بھی انتخابی نتائج پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ اس کے علاوہ امیگریشن کے معاملات پر بھی رائے دہندگان کی ایک بڑی تعداد موجودہ پالیسیوں سے نالاں نظر آئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جیمز ٹلاریکو نے اپنی انتخابی مہم کے دوران مذہبی حوالے بھی دیے اور بائبل کی کہانیوں کی تمثیل پیش کرتے ہوئے اسے طاقتور کے خلاف کمزور کی جیت سے تشبیہ دی۔ انہوں نے اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ عوامی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات اٹھائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹیکساس طویل عرصے سے قدامت پسند سیاست کا گڑھ رہا ہے جہاں ریپبلکنز کا غلبہ تسلیم کیا جاتا رہا ہے۔ اس طویل تسلط کے خاتمے کو سیاسی تجزیہ کار ملک بھر میں طاقت کے توازن کی تبدیلی کا پیش خیمہ قرار دے رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/4962/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>2045 تک خلا میں انسانوں کی بستیوں کا امکان، جیف بیزوس کی پیشگوئی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/technology/1694/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/technology/1694/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 21 Oct 2026 08:58:13 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سائنس و ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[انٹرنیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[ایلون_مسک]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پینل_ڈسکشن]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیک_ویک]]></category>
		<category><![CDATA[جیف_بیزوس]]></category>
		<category><![CDATA[خلا]]></category>
		<category><![CDATA[خلائی_آبادی]]></category>
		<category><![CDATA[خلائی_سفر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/technology/2045-%d8%aa%da%a9-%d8%ae%d9%84%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%a8%d8%b3%d8%aa%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[ایمازون کے بانی جیف بیزوس کا کہنا ہے کہ مستقبل قریب میں لاکھوں افراد خلا میں رہائش اختیار کر سکتے ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">دنیا کا نظام بڑی تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے اور ٹیکنالوجی کی ترقی انسانی زندگی کو زمین تک محدود رکھنے کے بجائے کائنات کے دیگر حصوں تک پھیلانے کے لیے راہ ہموار کر رہی ہے۔ دنیا بھر کے نامور کاروباری اور تکنیکی ماہرین کا ماننا ہے کہ آنے والے برسوں میں انسانوں کے لیے کرہ ارض سے باہر زندگی بسر کرنے کے نئے اور حیران کن مواقع پیدا ہوں گے۔ اس حوالے سے خلائی تحقیق اور جدید ایجادات پر کام کرنے والے ادارے مستقبل کے حوالے سے مختلف نوعیت کے منصوبے اور تخمینے پیش کر رہے ہیں تاکہ انسانیت کے دائرہ کار کو وسعت دی جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مشہور عالمی ادارے ایمازون اور خلائی کمپنی بلیو اوریجن کے بانی جیف بیزوس نے ایک اہم بیان میں یہ پیشگوئی کی ہے کہ آئندہ دو دہائیوں کے دوران لاکھوں انسان زمین کا طواف چھوڑ کر خلا میں رہائش اختیار کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق خلائی ٹیکنالوجی میں ہو رہی تیز رفتار پیشرفت مستقبل میں انسانوں کے لیے زمین سے باہر اپنے گھر بنانے اور کام کرنے کے وسیع ترین امکانات پیدا کرے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جیف بیزوس نے اپنے خیالات کا اظہار اٹلی میں منعقد ہونے والے ٹیک ویک کے دوران ایک تفصیلی گفتگو میں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں خلا میں انسانی آبادی کا قیام محض کسی مجبوری کے تحت نہیں ہوگا بلکہ لوگ اپنی ذاتی دلچسپی اور مرضی کی بنیاد پر بھی خلائی بستیوں کا رخ کریں گے۔ تاہم اس تمام تصور کی عملی تکمیل کا انحصار براہ راست تکنیکی ترقی اور خلا میں ضروری رہائشی انتظامات کی کامیابی پر ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خلائی امور پر بات کرتے ہوئے جیف بیزوس نے مزید کہا کہ چاند یا دیگر خلائی سیاروں پر پیچیدہ، مشکل اور خطرناک نوعیت کے کام انجام دینے کے لیے انسانوں کے بجائے جدید روبوٹس کا استعمال زیادہ مؤثر اور نسبتاً کم خرچ ثابت ہو سکتا ہے۔ روبوٹس کے ذریعے ایسے کٹھن امور باآسانی سر انجام دیے جا سکیں گے جن کے لیے انسانوں کو زمین سے لاکھوں میل دور خلا میں لے جانا انتہائی مہنگا اور پیچیدہ عمل بن جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے باعث دنیا بھر میں ملازمتوں کے مستقبل سے متعلق پائے جانے والے خدشات پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے جیف بیزوس کا کہنا تھا کہ نئی ایجادات مجموعی طور پر انسانی معاشرے کی فلاح و بہبود اور خوش حالی میں اضافے کا سبب بنتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا کہنا تھا کہ جس طرح ماضی میں زرعی آلات اور دیگر انقلابی ایجادات نے انسانی زندگی کو بہتر اور آسان بنایا، اسی طرح جدید ترین ٹیکنالوجی بھی دنیا بھر میں معاشی ترقی کے نئے اور وسیع مواقع پیدا کرے گی۔ ٹیکنالوجی کے ماہرین کا خیال ہے کہ اس تبدیلی سے گھبرانے کے بجائے اس سے ہم آہنگ ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معروف ترین ٹیکنالوجی کمپنی اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹمین بھی مستقبل میں خلائی شعبے کے اندر روزگار کے نئے اور شاندار امکانات کے حوالے سے انتہائی پُرامید دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ آنے والی دہائیوں میں یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہونے والے نوجوانوں کو خلا میں جا کر کام کرنے اور انتہائی پُرکشش معاوضے والی ملازمتیں حاصل کرنے کے نادر مواقع مل سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ادھر برقی گاڑیوں اور خلائی جہاز بنانے والی کمپنی ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے بانی ایلون مسک بھی انسانوں کو مریخ سمیت نظام شمسی کے دیگر سیاروں تک بحفاظت پہنچانے کے عزم پر بڑی تیزی سے کام کر رہے ہیں۔ ان کا بنیادی ہدف انسانوں کو مریخ کی سرخ زمین پر آباد کرنا ہے تاہم ان تمام بلند و بانگ منصوبوں کی کامیابی کا دارمدار تکنیکی پیشرفت پر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خلائی صنعت سے وابستہ دیگر سائنسدانوں اور ماہرین کا بھی یہی خیال ہے کہ دو ہزار تیس کی دہائی کے دوران خلا میں انسانوں کے مستقل طور پر رہنے اور کام کرنے کے امکانات مزید ٹھوس حقیقت کا روپ دھار سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق کائنات کے نادیدہ گوشوں کو کھنگالنے کے لیے یہ سفر انسانیت کی بقا اور ترقی کے لیے ایک نیا باب ثابت ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاہم اس بات سے بھی انکار ممکن نہیں کہ خلا میں مستقل انسانی آبادکاری کے راستے میں کئی سنگین نوعیت کی رکاوٹیں بھی حائل ہیں۔ خلا میں آکسیجن کی فراہمی، خوراک کا انتظام، پینے کا صاف پانی، توانائی کی مسلسل دستیابی، انسانی صحت کے تحفظ اور اس پورے عمل پر آنے والے بھاری بھرکم اخراجات جیسے بڑے چیلنجز پر قابو پانا اشد ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان تمام تر تکنیکی اور طبی مشکلات کے باوجود کیا واقعی آنے والے برسوں تک خلا میں لاکھوں انسان آباد ہو سکیں گے؟ جیف بیزوس اور دیگر بین الاقوامی ٹیکنالوجی رہنماؤں کی یہ پیشگوئی مستقبل کی ایک انتہائی دلچسپ اور سحر انگیز تصویر پیش کرتی ہے، جو آنے والے وقت میں انسانی عزم کی نئی معراج ثابت ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فی الحال بڑے پیمانے پر خلا میں انسانی آبادی کا قیام ایک متوقع مستقبل کا حسین تصور ہی ہے کوئی حتمی اور اٹل حقیقت نہیں، تاہم آنے والی دو دہائیاں یہ بات واضح کر دیں گی کہ انسان زمین سے باہر نئی دنیا بسانے کے اس خواب کو کس حد تک حقیقت کا جامہ پہنا پاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">علاوہ ازیں، سائنسی حلقوں میں یہ بحث بھی جاری ہے کہ آیا زمین کے وسائل محدود ہونے کے بعد خلائی ہجرت انسانی نسل کو بچانے کا واحد ذریعہ بنے گی یا نہیں۔ اس حوالے سے ہونے والی مسلسل سائنسی تحقیق اور تجربات اس بات کا تعین کریں گے کہ آنے والی صدیوں میں انسانوں کا اصل مسکن کون سا سیارہ ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/technology/1694/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ایلون مسک کی ٹیسلا روڈسٹر، ایسی گاڑی جو ہوا میں اڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/1042/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/1042/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 17 Oct 2026 01:57:28 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اڑنے_والی_گاڑی]]></category>
		<category><![CDATA[انٹرنیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[ایپ]]></category>
		<category><![CDATA[ایجادات]]></category>
		<category><![CDATA[ایلون_مسک]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیسلا]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیسلا_روڈسٹر]]></category>
		<category><![CDATA[جدید_ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/technology/%d8%a7%db%8c%d9%84%d9%88%d9%86-%d9%85%d8%b3%da%a9-%da%a9%db%8c-%d9%b9%db%8c%d8%b3%d9%84%d8%a7-%d8%b1%d9%88%da%88%d8%b3%d9%b9%d8%b1-%d8%a7%db%8c%d8%b3%db%8c-%da%af%d8%a7%da%91%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[ٹیسلا کے چیف ایگزیکٹو ایلون مسک نے ایک جدید اسپورٹس گاڑی متعارف کرائی ہے جو ائیر جیٹ ٹیکنالوجی کی مدد سے پرواز کرنے کے قابل ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک اور اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جس میں ٹیسلا کے سربراہ ایلون مسک نے ایک ایسی اسپورٹس گاڑی متعارف کرائی ہے جو روایتی سڑکوں کے علاوہ فضا میں بھی سفر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ اعلان ٹیکساس میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب کے دوران کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس نئی روڈسٹر گاڑی کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا اڑنے والا فیچر ہے، جس کے لیے کمپنی نے جدید ائیر جیٹ ٹیکنالوجی کا استعمال کیا ہے۔ ایلون مسک کے مطابق، یہ گاڑی 10 نوزلز اور الٹرا ہائی پریشر ائیر ٹینکس کی مدد سے ہوا میں تیرنے یا رفتار پکڑنے کے قابل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تقریب کے دوران اس گاڑی کا عملی مظاہرہ بھی کیا گیا جس میں اسے بغیر کسی ڈرائیور کے چلتے ہوئے دکھایا گیا۔ ایلون مسک نے وضاحت کی کہ حفاظتی اقدامات کے پیش نظر ابتدائی آزمائشوں میں ڈرائیور کو شامل نہیں کیا گیا تاکہ کسی بھی ممکنہ حادثے سے بچا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گاڑی کی کارکردگی کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ یہ اسپورٹس گاڑی ایک سیکنڈ سے بھی کم وقت میں صفر سے 60 میل فی گھنٹہ کی رفتار پکڑ سکتی ہے۔ اس کی ساخت کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ یہ انتہائی ڈھلوان راستوں پر بھی باآسانی حرکت کر سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مظاہرے کے دوران ایک مرحلے پر روڈسٹر کو ائیر جیٹ کی مدد سے ٹیسلا کی دیگر گاڑیوں کے اوپر سے پرواز کرتے ہوئے بھی دکھایا گیا۔ یہ ٹیکنالوجی ٹیسلا کی گاڑیوں کی تیاری اور اسپیس ایکس کی راکٹ ٹیکنالوجی کا ایک مشترکہ امتزاج قرار دی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایلون مسک نے اس موقع پر محتاط انداز اپناتے ہوئے کہا کہ کامیابی کی کوئی حتمی ضمانت نہیں دی جا سکتی، تاہم کمپنی اس منصوبے پر مسلسل کام کر رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آزمائشوں کے دوران ٹیم نے ہمیشہ محفوظ فاصلہ برقرار رکھا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گاڑی کی پروڈکشن کے حوالے سے کمپنی نے باضابطہ طور پر 2028 کا سال مقرر کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ ٹیکنالوجی متاثر کن ہے، لیکن حقیقی زندگی میں اس کے استعمال اور طویل پرواز کے نتائج ابھی دیکھنا باقی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس گاڑی میں دو نشستیں موجود ہیں جو اسے ایک اسپورٹس کار کے زمرے میں لاتی ہیں۔ ایلون مسک کا دعویٰ ہے کہ یہ گاڑی مستقبل کی نقل و حمل میں ایک انقلابی تبدیلی ثابت ہوگی، جس سے سڑکوں پر ٹریفک کے مسائل میں کمی آ سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹیسلا کی جانب سے اس جدید گاڑی کے اعلان کے بعد آٹوموبائل انڈسٹری میں بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔ ناقدین اور شائقین دونوں ہی اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ آیا یہ گاڑی عام صارفین کے لیے کب اور کس حد تک قابلِ استعمال ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ ٹیسلا اس سے قبل بھی برقی گاڑیوں کی تیاری میں دنیا بھر میں اپنی ایک الگ پہچان بنا چکی ہے۔ اب اڑنے والی گاڑی کے تصور نے کمپنی کی ساکھ کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش کی ہے، جس پر دنیا بھر کی نظریں مرکوز ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تقریب کے دوران ایلون مسک نے گاڑی کے ڈیزائن اور اس کے تکنیکی پہلوؤں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ اس گاڑی کو تیار کرنے کے لیے انجینئرز کی ایک بڑی ٹیم نے برسوں تک تحقیق اور تجربات کیے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آزمائش کے دوران گاڑی کی لینڈنگ کا عمل بھی کافی دلچسپ رہا، جس میں اسے الٹا لٹک کر ائیر جیٹ کے ذریعے زمین پر اترتے ہوئے دکھایا گیا۔ یہ تکنیک گاڑی کے کنٹرول سسٹم کی پیچیدگی اور مہارت کو ظاہر کرتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل قریب میں اس گاڑی کے مزید ٹیسٹ کیے جائیں گے تاکہ اس کی پائیداری اور حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ ایلون مسک کا عزم ہے کہ وہ ٹیکنالوجی کی حدود کو مزید وسعت دیں گے تاکہ جدید دور کے تقاضوں کو پورا کیا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/1042/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
