<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.14.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>ایف_بی_آر_چیئرمین &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%a7%db%8c%d9%81_%d8%a8%db%8c_%d8%a2%d8%b1_%da%86%db%8c%d8%a6%d8%b1%d9%85%db%8c%d9%86/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Fri, 16 Oct 2026 02:56:52 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.3</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>ایف_بی_آر_چیئرمین &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>حکومت کا ایف بی آر کی تنظیم نو یا نئے ٹیکس ادارے کے قیام پر غور</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%ad%da%a9%d9%88%d9%85%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%db%8c%d9%81-%d8%a8%db%8c-%d8%a2%d8%b1-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d9%86%d8%b8%db%8c%d9%85-%d9%86%d9%88-%db%8c%d8%a7-%d9%86%d8%a6%db%92/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%ad%da%a9%d9%88%d9%85%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%db%8c%d9%81-%d8%a8%db%8c-%d8%a2%d8%b1-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d9%86%d8%b8%db%8c%d9%85-%d9%86%d9%88-%db%8c%d8%a7-%d9%86%d8%a6%db%92/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 16 Oct 2026 02:56:52 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[ایف_بی_آر]]></category>
		<category><![CDATA[ایف_بی_آر_تنظیم_نو]]></category>
		<category><![CDATA[ایف_بی_آر_چیئرمین]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_زندہ_باد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیکس_اصلاحات]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیکس_گوشوارے]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیکس_نیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[حکومت_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[شہباز_شریف]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_اسمبلی]]></category>
		<category><![CDATA[معاشی_اصلاحات]]></category>
		<category><![CDATA[معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_حکومت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%ad%da%a9%d9%88%d9%85%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%db%8c%d9%81-%d8%a8%db%8c-%d8%a2%d8%b1-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d9%86%d8%b8%db%8c%d9%85-%d9%86%d9%88-%db%8c%d8%a7-%d9%86%d8%a6%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[وزیراعظم شہباز شریف نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں اصلاحات اور ٹیکس وصولی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے جامع منصوبہ طلب کر لیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وفاقی حکومت نے قومی محاصل میں اضافے اور ٹیکس وصولی کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے اہم اقدامات پر غور شروع کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی مکمل تنظیم نو یا پھر ایک بالکل نیا ٹیکس وصولی ادارہ قائم کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ذرائع کے مطابق گزشتہ ہفتے منعقدہ ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں ٹیکس نظام کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے مختلف تجاویز پیش کی گئیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ایف بی آر کی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ انسانی وسائل میں اصلاحات اور ادارے کی تنظیم نو کے حوالے سے ایک جامع منصوبہ تیار کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایف بی آر کے چیئرمین راشد لنگڑیال کو اس اہم ذمہ داری کا ٹاسک سونپا گیا ہے تاکہ وہ وزیراعظم کے سامنے اصلاحاتی تجاویز پیش کر سکیں۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس عمل کا مقصد ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب میں بہتری لانا اور ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایف بی آر کے ترجمان نے اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ادارے میں اصلاحات ایک مسلسل عمل ہے اور اس حوالے سے مختلف خیالات پر مشاورت جاری ہے۔ تاہم انہوں نے ٹیکس وصولی کا کام کسی نجی کمپنی کے سپرد کرنے کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">زیر غور تجاویز میں ایک &#039;نیشنل ٹیکس ایجنسی&#039; کا قیام بھی شامل ہے، جس کے ذریعے ٹیکس وصولی کے عمل کو زیادہ شفاف اور موثر بنایا جا سکے۔ اگر حکومت کسی نئے ادارے کے قیام کا فیصلہ کرتی ہے تو اس کے لیے ایف بی آر ایکٹ 2007 سمیت متعدد قوانین میں ترامیم کرنا ہوں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتی سوچ کے مطابق اگر نیا ادارہ قائم کیا جاتا ہے تو موجودہ ایف بی آر کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جائے گا۔ جو افسران نئے ادارے میں جانے کے خواہشمند نہیں ہوں گے، انہیں موجودہ ادارے میں اپنی ریٹائرمنٹ تک خدمات انجام دینے کا اختیار حاصل ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے میں درپیش مشکلات بھی اس غور و فکر کی ایک بڑی وجہ ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق قومی ٹیکس نمبر رکھنے والے 19 ملین افراد میں سے اب تک صرف 6.9 ملین افراد نے ہی اپنے ٹیکس گوشوارے جمع کرائے ہیں، جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں کم ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت نے تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے بھی خصوصی اسکیمیں متعارف کرائی ہیں، جس کا مقصد لاکھوں خوردہ فروشوں کو مقررہ ٹیکس نظام کا حصہ بنانا ہے۔ اس کے علاوہ ڈیجیٹل انوائسنگ اور پوائنٹ آف سیل سسٹم کے ذریعے کاروباری لین دین کی نگرانی کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹیکس معاملات میں شفافیت لانے کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی رسک مینجمنٹ سسٹم کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے۔ اس نظام کے ذریعے آڈٹ اور کلیئرنس کے لیے کیسز کا انتخاب کیا جاتا ہے تاکہ انسانی مداخلت کو کم سے کم کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایف بی آر کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران ٹیکس وصولیاں 9 ہزار 200 ارب روپے سے بڑھ کر 13 ہزار ارب روپے تک پہنچ چکی ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اضافے میں اضافی ٹیکسوں اور معاشی عوامل کا بھی بڑا عمل دخل رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اقتصادی رابطہ کمیٹی نے بھی حال ہی میں ایف بی آر کے لیے اخراجاتی پیکیج کی منظوری دی ہے، جس میں نئی گاڑیوں کی خریداری اور ادارے کی استعداد کار بڑھانے کے لیے فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ یہ اقدامات ٹیکس وصولی کے اہداف کے حصول میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کا یہ اقدام آئی ایم ایف پروگرام کے تحت کیے گئے وعدوں اور ملکی معیشت کو دستاویزی شکل دینے کے عزم کا حصہ ہے۔ اصلاحات کا حتمی خاکہ وزیراعظم کی منظوری کے بعد ہی سامنے آئے گا، جس کے بعد قانون سازی کا عمل شروع کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل میں ٹیکس وصولی کا نظام کیسا ہوگا، اس کا انحصار ان اصلاحاتی تجاویز پر ہے جو ایف بی آر کی جانب سے وزیراعظم کو پیش کی جائیں گی۔ حکومت کا بنیادی مقصد ٹیکس چوری کی روک تھام اور ملکی آمدنی میں پائیدار اضافہ یقینی بنانا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%ad%da%a9%d9%88%d9%85%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%db%8c%d9%81-%d8%a8%db%8c-%d8%a2%d8%b1-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d9%86%d8%b8%db%8c%d9%85-%d9%86%d9%88-%db%8c%d8%a7-%d9%86%d8%a6%db%92/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
