<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>ایف_بی_آر &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%a7%db%8c%d9%81_%d8%a8%db%8c_%d8%a2%d8%b1/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Tue, 03 Nov 2026 03:31:06 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>ایف_بی_آر &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں معیشت مستحکم، زرِمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں اضافہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/4790/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/4790/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 03 Nov 2026 03:31:06 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آصف_علی_زرداری]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹاک_مارکیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹیٹ_بینک]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[ایف_بی_آر]]></category>
		<category><![CDATA[برآمدات]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[جی_ٹوئنٹی_فور]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[زرمبادلہ]]></category>
		<category><![CDATA[شہباز_شریف]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[محمد_اورنگزیب]]></category>
		<category><![CDATA[معیشت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/4790/</guid>

					<description><![CDATA[اسٹیٹ بینک کے مطابق ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 21.5 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">موجودہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران معاشی اشاریوں میں بہتری ریکارڈ کی گئی ہے اور ملک نے چیلنجز کے باوجود معاشی محاذ پر پیشرفت کی ہے۔ عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باوجود ملکی معیشت نے استحکام کا مظاہرہ کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد سے ملنے والی رپورٹس کے مطابق حکومت کی اقتصادی پالیسیوں، معاشی ٹیم کی کوششوں اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کے نتیجے میں اہم معاشی اہداف حاصل کیے گئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک کے زرِمبادلہ کے ذخائر اکیس اعشاریہ پانچ ارب ڈالر کی سطح پر پہنچ گئے ہیں جو سالانہ بنیادوں پر باون فیصد زیادہ ہیں۔ اس اضافے سے ملکی کرنسی کو استحکام ملا اور درآمدی کور تین اعشاریہ تین ماہ تک پہنچ گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزارتِ خزانہ کے مطابق اس عرصے کے دوران ملکی برآمدات گیارہ فیصد اضافے کے ساتھ گیارہ اعشاریہ دو ارب ڈالر رہیں۔ آئی ٹی برآمدات میں اٹھارہ فیصد اضافہ ہوا جو ایک ارب پچیس کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر میں بھی چودہ فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور یہ دس اعشاریہ نو ارب ڈالر رہیں۔ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے ذریعے بھی چودہ اعشاریہ تین ارب ڈالر کی رقم موصول ہو چکی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری بیس فیصد اضافے کے ساتھ سات سو بیس ملین ڈالر تک پہنچ گئی جبکہ بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیوں نے بھی معاشی کارکردگی کو سراہا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کا پروگرام طے شدہ اصولوں کے مطابق جاری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی تعداد میں پچپن فیصد اضافہ ہوا اور نئے سرمایہ کاروں کی بڑی تعداد نے مارکیٹ کا رخ کیا۔ اس سہ ماہی میں چار کمپنیوں نے شمولیت اختیار کی اور چار اعشاریہ چھ ارب روپے جمع کیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پہلی نومبر سے پاکستان نے ترقی پذیر ممالک کے مالیاتی امور کے گروپ جی ٹوئنٹی فور کی چیئرمین شپ سنبھال لی ہے۔ وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب اس کی قیادت کر رہے ہیں جنہوں نے عالمی مالیاتی نظام میں ترقی پذیر معیشتوں کے مرکزی کردار پر زور دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اسے ایک اہم سفارتی کامیابی قرار دیا ہے۔ صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے بھی ترقی پذیر دنیا کی نمائندگی کو ایک اہم موقع قرار دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک میں شرحِ سود میں کمی کے بعد چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے قرضوں کے حجم میں اضافہ ہوا۔ ہاؤسنگ فنانس، زرعی شعبے اور گاڑیوں کی خریداری کے لیے قرضوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی بورڈ آف رونیو نے سہ ماہی کے دوران مقررہ ہدف سے زیادہ ٹیکس اکٹھا کیا۔ ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جو کہ ٹیکس اصلاحات اور ڈیجیٹائزیشن کا نتیجہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کا مجموعی قرضہ مجموعی قومی پیداوار کے تناسب کے لحاظ سے کم ہوا ہے۔ کاروں کی فروخت اور سیمنٹ سمیت دیگر شعبوں میں کاروباری سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات سے نچلے طبقے کو بچانے کے لیے پچھتر ارب روپے کے ریلیف پیکج کا اجراء کیا گیا جس سے بارہ ملین سے زائد شہریوں کو براہ راست فائدہ پہنچا۔ معاشی ماہرین کے مطابق اصلاحات کے تسلسل سے عام آدمی کو مزید ریلیف ملنے کی توقع ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/4790/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ایف بی آر اکتوبر 2026 کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے میں ناکام، 116 ارب روپے کمی کا امکان</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/3253/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/3253/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 31 Oct 2026 08:28:26 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹاک_ایکسچینج]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹیٹ_بینک]]></category>
		<category><![CDATA[اکتوبر_2026]]></category>
		<category><![CDATA[ایف_بی_آر]]></category>
		<category><![CDATA[ایف_بی_آر_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ایف_بی_آر_رپورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_ٹیکس]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d8%a7%db%8c%d9%81-%d8%a8%db%8c-%d8%a2%d8%b1-%d8%a7%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8%d8%b1-2026-%da%a9%d8%a7-%d9%b9%db%8c%da%a9%d8%b3-%db%81%d8%af%d9%81-%d8%ad%d8%a7%d8%b5%d9%84-%da%a9%d8%b1%d9%86%db%92-%d9%85/</guid>

					<description><![CDATA[فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو اکتوبر کے ماہانہ ہدف میں 156 ارب روپے کی کمی کا سامنا ہے، مزید وصولیوں کے بعد خسارہ 116 ارب تک رہنے کی توقع ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اکتوبر 2026 کے لیے مقرر کردہ ٹیکس وصولیوں کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اکتوبر کے مہینے کے لیے 1 ہزار 131 ارب روپے کا ٹیکس ہدف مقرر کیا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین تفصیلات کے مطابق، اب تک مجموعی طور پر 975 ارب روپے کی ٹیکس وصولیاں ممکن ہو سکی ہیں۔ اس طرح مقررہ ہدف کے مقابلے میں 156 ارب روپے کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کو توقع ہے کہ ہفتے کے روز مخصوص ٹیکس دفاتر اور بینک برانچیں کھلی رہنے کے باعث مزید 40 ارب روپے کی وصولی متوقع ہے۔ ان اضافی وصولیوں کے باوجود اکتوبر کے ماہانہ ہدف میں تقریباً 116 ارب روپے کی کمی رہنے کا امکان ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایف بی آر کی جانب سے ٹیکس گوشوارے جمع کروانے کی آخری تاریخ میں 31 اکتوبر تک توسیع کی گئی تھی۔ ذرائع کے مطابق، تنخواہ دار طبقے کے علاوہ ملک بھر سے 45 لاکھ سے زائد افراد نے اپنے ٹیکس گوشوارے جمع کروانے کا عمل مکمل کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے ٹیکس ہدف کے حصول کے لیے مسلسل کوششیں جاری ہیں تاکہ ملکی معیشت کو درپیش چیلنجز سے نمٹا جا سکے۔ ایف بی آر حکام صورتحال کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں تاکہ آئندہ ماہ کے اہداف کو بہتر طریقے سے پورا کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹیکس وصولی میں کمی کے اس رجحان کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطحی اجلاسوں کا سلسلہ بھی متوقع ہے۔ ایف بی آر کا بنیادی مقصد محصولات میں اضافہ کرنا ہے تاکہ ملکی ترقیاتی منصوبوں اور اخراجات کے لیے درکار فنڈز بروقت دستیاب ہو سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرینِ معاشیات کے مطابق ٹیکس ہدف کا حصول ملکی معیشت کے لیے ایک اہم اشاریہ سمجھا جاتا ہے۔ ایف بی آر کی جانب سے ٹیکس دہندگان کی سہولت کے لیے آن لائن نظام کو بھی بہتر بنایا گیا ہے تاکہ گوشواروں کی وصولی میں شفافیت آ سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک بھر میں ٹیکس دفاتر کو ہفتے کے روز بھی فعال رکھنے کا فیصلہ اس لیے کیا گیا تاکہ ٹیکس دہندگان کو آخری لمحات میں سہولت فراہم کی جا سکے۔ اس اقدام سے محصولات کی وصولی میں بہتری لانے کی امید ظاہر کی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹیکس گوشوارے جمع کروانے کی تاریخ میں توسیع کے بعد سے اب تک گوشوارے جمع کروانے والوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ یہ پیش رفت ٹیکس کلچر کے فروغ کے لیے ایک مثبت قدم کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے ٹیکس کے نظام میں اصلاحات کا عمل بھی جاری ہے۔ ان اصلاحات کا مقصد ٹیکس وصولی کے عمل کو آسان بنانا اور محصولات میں اضافہ کرنا ہے تاکہ قومی خزانے کو مضبوط بنایا جا سکے اور معاشی اہداف حاصل کیے جا سکیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/3253/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ایف بی آر کا ٹیکسٹائل اسپننگ یونٹس میں ویڈیو کیمرے لگانے کا حکم</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/2462/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/2462/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 26 Oct 2026 11:38:15 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹاک_ایکسچینج]]></category>
		<category><![CDATA[ایف_بی_آر]]></category>
		<category><![CDATA[ایف_بی_آر_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیکس_اصلاحات]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیکسٹائل_اسپننگ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈالر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیلز_ٹیکس]]></category>
		<category><![CDATA[صنعت_و_تجارت]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d8%a7%db%8c%d9%81-%d8%a8%db%8c-%d8%a2%d8%b1-%da%a9%d8%a7-%d9%b9%db%8c%da%a9%d8%b3%d9%b9%d8%a7%d8%a6%d9%84-%d8%a7%d8%b3%d9%be%d9%86%d9%86%da%af-%db%8c%d9%88%d9%86%d9%b9%d8%b3/</guid>

					<description><![CDATA[فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے تمام رجسٹرڈ ٹیکسٹائل اسپننگ یونٹس کو پندرہ نومبر تک ویڈیو سرویلنس کیمرے نصب کرنے کی ہدایت کردی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ملک بھر کے تمام رجسٹرڈ ٹیکسٹائل اسپننگ یونٹس میں قدرتی، مصنوعی اور مخلوط ریشوں کی پروسیسنگ کی الیکٹرانک نگرانی کے لیے ویڈیو سرویلنس کیمروں کی تنصیب لازمی قرار دے دی ہے۔ اس حوالے سے ایف بی آر نے سیلز ٹیکس جنرل آرڈر نمبر 30 جاری کر دیا ہے جس کے تحت تمام متعلقہ صنعتی اداروں کو سخت ہدایات جاری کی گئی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نئے احکامات کے مطابق تمام ٹیکسٹائل اسپننگ یونٹس کو پندرہ نومبر دو ہزار چھبیس تک مقررہ مقامات پر جدید ویڈیو سرویلنس کیمرے نصب کرنے کا پابند بنایا گیا ہے۔ اس اہم اقدام کا بنیادی مقصد کپاس، پالیسٹر، ویسکوز، اون اور ایکریلک سمیت مختلف ریشوں کی کھلی، غیر گانٹھ شدہ یا دیگر شکلوں میں ہونے والی پروسیسنگ کی موثر نگرانی کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ نیا انتظام پہلے سے نافذ سیلز ٹیکس جنرل آرڈر نمبر 08 آف 2025 کے تحت کپاس کی گانٹھوں کی نگرانی کے علاوہ اضافی طور پر لاگو ہوگا۔ نئے حکم کے تحت کیمرے کارخانوں کے اندر مخصوص اور اہم ترین مقامات پر نصب کیے جائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکم کے مطابق کیمروں کی تنصیب کے لیے ہاپر بیل اوپنرز، ہاپر فیڈرز اور قدرتی یا مصنوعی ریشوں کو ملانے والے ویئنگ ہاپر کے مقامات کا انتخاب کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بلینڈنگ فیڈرز، مصنوعی ریشوں کی مخصوص بلو روم لائنز، ویسٹ اوپنرز اور ری سائیکلنگ لائنز پر بھی کیمرے لازمی لگائے جائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایف بی آر نے ان تمام مقامات کو بھی احاطہ کار میں شامل کیا ہے جہاں ریشوں کو بلو روم میں منتقل کرنے سے پہلے ذخیرہ کیا جاتا ہے یا آپس میں ملایا جاتا ہے۔ یہ اقدام پیداواری عمل میں شفافیت لانے اور محصولات کی وصولی کو بہتر بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایف بی آر نے بورڈ سے منظور شدہ ویڈیو اینالیٹکس سسٹم فراہم کرنے والے وینڈرز کو بھی خصوصی ہدایات جاری کی ہیں۔ وینڈرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان تمام کیمروں کو اپنے مرکزی نظام کے ساتھ منسلک کریں تاکہ مانیٹرنگ کا عمل بروقت اور درست طریقے سے مکمل ہو سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نظام کو اس طرح ڈیزائن کرنے کی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کھلی یا غیر گانٹھ شدہ شکل میں فراہم کیے جانے والے ریشوں کی شناخت، گنتی اور ان کی درست مقدار کا تعین کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہو۔ اس جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے پیداواری عمل کی شفاف نگرانی ہر وقت ممکن ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکم نامے کی رو سے اس ٹیکنالوجی نظام میں پیداواری عمل کی حقیقی وقت پر مشتمل ویڈیو ریکارڈنگ کی سہولت ہونی چاہیے۔ اس کے علاوہ پیداوار سے متعلق ڈیٹا کی فوری وصولی، اشیا کی شناخت اور ان کی گنتی کا عمل بھی خودکار طریقے سے انجام پائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترتیب دیے گئے اس نظام کے تحت حاصل ہونے والا تمام ڈیٹا فوری طور پر ایف بی آر کے مرکزی کنٹرول یونٹ کو ارسال کیا جائے گا۔ اس نظام میں تمام تر ریکارڈ محفوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ غیر متوقع طور پر کام رکنے کی نشاندہی کرنے کی صلاحیت بھی لازمی طور پر موجود ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹیکنالوجی کے اس وسیع استعمال سے پیداوار کے مقداری تجزیے اور کسی بھی قانونی کارروائی کے لیے ڈیٹا اینالیٹکس کی سہولت بھی لازمی قرار دی گئی ہے۔ ایف بی آر حکام کا ماننا ہے کہ اس سے ٹیکس وصولی کے نظام میں مزید بہتری آئے گی اور کسی قسم کی غفلت کی گنجائش نہیں رہے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ جاتی ہدایات میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ سیلز ٹیکس جنرل آرڈر نمبر 08 آف 2025 بدستور اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ نافذ العمل رہے گا۔ نیا جاری ہونے والا حکم نامہ اسی سابقہ حکم کے تسلسل اور اس میں اضافے کے طور پر پڑھا اور نافذ کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایف بی آر کے مطابق ان تمام نئے احکامات کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے اور تمام متعلقہ صنعتی یونٹس کو قانون پر من و عن عملدرآمد کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ صنعت کاروں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ مقررہ مدت میں اس نظام کو مکمل فعال کر دیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کی جانب سے جاری کردہ ان ہدایات کا مقصد ملک بھر میں ٹیکسٹائل کے شعبے میں شفافیت کو فروغ دینا ہے۔ اس اقدام سے معیشت کو مستحکم کرنے اور ٹیکس کے دائرہ کار کو مزید وسعت دینے میں بھی مدد ملے گی جس کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو متحرک کر دیا گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/2462/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>بیرونِ ملک سے آنے والے موبائل فونز کا ٹیکس اب اقساط میں ادا ہو سکے گا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/2144/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/2144/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 13:37:46 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹاک_ایکسچینج]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[ایف_بی_آر]]></category>
		<category><![CDATA[بزنس_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_کسٹمز]]></category>
		<category><![CDATA[تازه_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[ڈالر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈی_آئی_آر_بی_ایس]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d8%a8%db%8c%d8%b1%d9%88%d9%86-%d9%85%d9%84%da%a9-%d8%b3%db%92-%d8%a2%d9%86%db%92-%d9%88%d8%a7%d9%84%db%92-%d9%85%d9%88%d8%a8%d8%a7%d8%a6%d9%84-%d9%81%d9%88%d9%86%d8%b2-%da%a9%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے شہریوں کی آسانی کے لیے درآمدی موبائل فونز کی رجسٹریشن کا نیا طریقہ کار نافذ کر دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے بیرونِ ملک سے منگوائے گئے یا لائے جانے والے موبائل فونز کی رجسٹریشن کے حوالے سے ایک اہم اور آسان قدم اٹھاتے ہوئے سیلز ٹیکس کی ماہانہ اقساط میں ادائیگی کی سہولت متعارف کرا دی ہے۔ اس نئے اقدام کا مقصد بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں اور مسافروں کو مالیاتی دباؤ سے بچانا اور انہیں قانون کے مطابق اپنے موبائل فونز کی باقاعدہ رجسٹریشن کے لیے بہترین موقع فراہم کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایف بی آر کے جاری کردہ کسٹمز جنرل آرڈر کے تحت درآمدی موبائل فونز کی ڈیوائس آئیڈنٹیفکیشن رجسٹریشن اینڈ بلاکنگ سسٹم کے نظام کو مزید لچکدار بنایا گیا ہے تاکہ عام شہری اور مسافر یکمشت بھاری ٹیکس ادا کرنے کے بجائے سہولت کے ساتھ اقساط میں ادایگیاں مکمل کر سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نئے ضابطے کے نفاذ کے بعد اب اہل افراد کے پاس یہ اختیار ہوگا کہ وہ ڈیوائس آئیڈنٹیفکیشن رجسٹریشن اینڈ بلاکنگ سسٹم کے ذریعے درخواست جمع کرواتے وقت سیلز ٹیکس کی رقم کو ماہانہ اقساط میں تقسیم کرنے کا انتخاب باقاعدہ طور پر کر سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس طریقہ کار کے تحت مجموعی سیلز ٹیکس کو متعلقہ مالی سال کے اختتام تک باقی بچنے والے مہینوں کی تعداد کے حساب سے بالکل برابر ماہانہ اقساط میں تقسیم کیا جائے گا تاکہ شہری آسانی سے ادائیگی کے عمل کو جاری رکھ سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کے مطابق جس ماہ کے دوران درخواست جمع کرائی جائے گی، اس مہینے کو بھی کل اقساط کی گنتی میں شمار کیا جائے گا، تاہم اس اصول میں ایک خاص استثنا بھی شامل کیا گیا ہے جو کہ سال کے آخری ماہ سے متعلق ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اگر کوئی صارف ماہِ جون کے دوران موبائل فون درآمد کرتا ہے اور اس کی رجسٹریشن کی درخواست دیتا ہے تو اسے اس خاص مہینے کے لیے پورا سیلز ٹیکس اسی مہینے کے اختتام تک لازمی طور پر جمع کرانا ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹیکس دہندگان کے لیے پہلی قسط کی ادائیگی کا طریقہ کار بھی واضح کر دیا گیا ہے جس کے تحت پہلی قسط درخواست جمع کراتے وقت حاصل ہونے والی پیمنٹ سلپ آئی ڈی کے ذریعے ادا کرنا ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئندہ آنے والی ماہانہ اقساط کے لیے ہر مہینے مقررہ تاریخ پر ایک نئی الگ پی ایس آئی ڈی جاری کی جائے گی جس کے ذریعے شہری اپنی قسط بینک یا آن لائن ذرائع سے جمع کرانے کے پابند ہوں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اگر کسی مخصوص مہینے میں مقررہ تاریخ کیلنڈر کے لحاظ سے موجود نہ ہو تو ایسی صورت میں متعلقہ پی ایس آئی ڈی اس مہینے کے بالکل آخری دن باقاعدہ طور پر جاری کی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایف بی آر کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ تمام تر اقساط کی ادایگیوں کا عمل ہر صورت میں تیس جون تک مکمل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی قسم کی قانونی یا تکنیکی پیچیدگی سے بچا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کے ساتھ ہی صارفین کو یہ سہولت بھی دی گئی ہے کہ اگر وہ چاہیں تو مقررہ تاریخوں کا انتظار کیے بغیر اپنے بقایا ٹیکس کی کچھ رقم یا پھر تمام واجب الادا رقم وقت سے پہلے بھی یکمشت ادا کر سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ادارے نے تمام متعلقہ صارفین کو سخت خبردار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی بھی قسط کی مقررہ تاریخ تک ادائیگی نہ کرنے کی صورت میں متعلقہ صارف کو باقاعدہ طور پر نادہندہ قرار دے دیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قسط بروقت ادا نہ کرنے کی صورت میں نہ صرف موبائل فون کو غیر رجسٹرڈ قرار دے دیا جائے گا بلکہ اسے ڈیوائس آئیڈنٹیفکیشن رجسٹریشن اینڈ بلاکنگ سسٹم کے ذریعے بلاک بھی کر دیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نادہندہ قرار پانے والے صارفین کے لیے یہ تنبیہ بھی جاری کی گئی ہے کہ اس کے بعد انہیں باقی ماندہ ٹیکس اقساط میں ادا کرنے کی سہولت دوبارہ حاصل نہیں رہے گی اور تمام ٹیکس فوری دینا ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس نئے حکم نامے کے نفاذ سے بیرونِ ملک سے نئے یا استعمال شدہ موبائل فونز پاکستان لانے والے افراد کو بڑی مالی آسانی ملے گی اور وہ اپنے فونز کو بلاک ہونے سے محفوظ رکھ سکیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/2144/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ہیوی کمرشل گاڑیوں کے ٹائروں اور موٹر سائیکل پارٹس کیلئے نئے کسٹمز ٹیرف کوڈز نافذ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/2099/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/2099/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 08:37:41 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امپورٹ_کوڈ]]></category>
		<category><![CDATA[ایف_بی_آر]]></category>
		<category><![CDATA[ایف_بی_آر_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[بزنس_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[پی_سی_ٹی_کوڈ]]></category>
		<category><![CDATA[تازه_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[تجارت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%db%81%db%8c%d9%88%db%8c-%da%a9%d9%85%d8%b1%d8%b4%d9%84-%da%af%d8%a7%da%91%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d9%b9%d8%a7%d8%a6%d8%b1%d9%88%da%ba-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%85%d9%88%d9%b9%d8%b1/</guid>

					<description><![CDATA[حکومت نے وزارتِ خزانہ کی منظوری کے بعد ہیوی کمرشل گاڑیوں کے ٹائروں اور موٹر سائیکلوں کے پرزہ جات کیلئے نئی درجہ بندیاں متعارف کرا دیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) حکومت نے ملک میں تجارتی سرگرمیوں کو بہتر بنانے اور درآمدی امور میں شفافیت لانے کے لیے اہم اقدامات کرتے ہوئے ہیوی کمرشل گاڑیوں کے ٹائروں کے لیے کسٹمز ٹیرف میں نئی درجہ بندیاں متعارف کرا دی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ موٹر سائیکلوں کے مختلف پرزہ جات کے لیے بھی نیا کسٹمز ٹیرف کوڈ نافذ کر دیا گیا ہے جس سے متعلقہ صنعت اور کاروباری طبقے کو بڑی سہولت ملے گی۔ وزارتِ خزانہ و محصولات نے اس سلسلے میں باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے جس کے بعد یہ نئے ضوابط فوری طور پر نافذ العمل ہو گئے ہیں۔ فیڈرل بورڈ آف رونیو یعنی ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق تجارتی اور صنعتی شعبے کی طویل عرصے سے یہ ضرورت تھی کہ درآمدی سامان کے لیے کسٹمز کوڈز کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ذرائع کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ہیوی کمرشل گاڑیوں کے ریڈیل ٹائروں کے لیے خصوصی طور پر نیا پی سی ٹی کوڈ چالیس گیارہ اعشاریہ بیس اکیانوے متعارف کرا دیا ہے۔ اس نئے کوڈ کے نفاذ سے ہیوی کمرشل گاڑیوں کے ٹائروں کی درآمد اور ان کی درجہ بندی کا عمل انتہائی منظم ہو جائے گا جس سے کسٹمز کلیئرنس کے دوران تاخیر کا خاتمہ ہوگا۔ اس کے علاوہ موٹر سائیکلوں کے پرزہ جات کے لیے بھی جامع ٹیرف کوڈز تشکیل دیے گئے ہیں جن میں مختلف اہم اشیاء کو شامل کیا گیا ہے۔ موٹر سائیکلوں کی نمبر پلیٹ، سائیڈ ریفلیکٹر، سائیڈ پلیٹ اور فٹ پلیٹ سمیت متعدد پرزہ جات کو اب نئی ٹیرف درجہ بندی میں باضابطہ طور پر شامل کر لیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے متعارف کرائی گئی اس نئی درجہ بندی میں موٹر سائیکلوں کے کئی دیگر ضروری اسپیئر پارٹس اور آلات کو بھی جگہ دی گئی ہے۔ ان میں موٹر سائیکلوں کی ونڈ اسکرین، سیٹ باکس، وہیل اسمبلی، سینٹر کور اور دیگر متعلقہ پرزہ جات شامل ہیں جو اب نئی درجہ بندی کا لازمی حصہ ہوں گے۔ ان تمام پرزہ جات کے لیے الگ سے کسٹمز کوڈز ہونے کی وجہ سے تجارتی درآمدات کی مانیٹرنگ اور ٹیکس وصولی کا نظام مزید بہتر اور شفاف ہو جائے گا۔ متعلقہ صنعت سے وابستہ افراد نے اس اقدام کا خیرمقدم کیا ہے کیونکہ اس سے پرزہ جات کی درآمدی لاگت اور طریقہ کار واضح ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزارتِ خزانہ کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق حکومت نے کسٹمز ٹیرف سے متعلق سنہ دو ہزار چھ کے اہم نوٹیفکیشن میں باضابطہ ترمیم کر دی ہے۔ اسی ترمیم کے ذریعے ان تمام نئی ٹیرف درجہ بندیوں اور کوڈز کو کسٹمز کے مرکزی نظام کا حصہ بنایا گیا ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے اقدامات سے نہ صرف کاروباری آسانیوں میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ درآمدی ڈیوٹی کی وصولی کا نظام بھی جدید خطوط پر استوار ہوتا ہے۔ حکومت کی جانب سے اس قسم کے انتظامی فیصلے ملکی معیشت اور صنعتی ترقی کے فروغ کے لیے مسلسل کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور وزارتِ خزانہ کی جانب سے اٹھائے گئے ان حالیہ اقدامات کا بنیادی مقصد ملک میں درآمدی اور برآمدی امور کو بہتر بنانا ہے۔ کمرشل گاڑیوں کے ٹائروں کی درآمد کے حوالے سے طویل عرصے سے تاجروں کو مختلف نوعیت کے تکنیکی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ ان نئے پی سی ٹی کوڈز کے آنے سے تمام تر ابہام کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو گیا ہے اور اب درآمد کنندگان کو کلیئرنس کے دوران کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موٹر سائیکل ساز اور پرزہ جات بنانے والی صنعت ملکی معیشت میں ایک اہم مقام رکھتی ہے اور اس شعبے کے لیے نئے ٹیرف کوڈز کا نفاذ خوش آئند ہے۔ نمبر پلیٹس اور دیگر حفاظتی آلات کے لیے مخصوص کوڈز ہونے سے مقامی سطح پر اسپیئر پارٹس کی فراہمی کا نظام بھی بہتر ہوگا۔ حکومتی سطح پر اس نوعیت کے اقدامات سے صنعتکاروں کو اپنے کاروباری فیصلے کرنے میں آسانی ہوگی اور وہ بہتر انداز میں اپنے امور چلا سکیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ کسٹمز کے حکام نے بتایا ہے کہ اس نوٹیفکیشن کے بعد تمام متعلقہ فیلڈ فارمیشنز کو نئی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ بندرگاہوں اور ڈرائی پورٹس پر تعینات عملے کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ہیوی کمرشل گاڑیوں کے ریڈیل ٹائروں اور موٹر سائیکل کے پرزہ جات کی جانچ پڑتال نئے کوڈز کے مطابق کریں۔ اس سے سرکاری واجبات کی وصولی میں بھی شفافیت آئے گی اور کسی بھی قسم کی گنجائش باقی نہیں رہے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تجارت سے وابستہ کاروباری حلقوں نے حکومت کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ریگولیٹری فریم ورک میں بہتری آئے گی۔ درآمدی تجارت میں طویل المدتی استحکام کے لیے ایسے اصلاحاتی اقدامات ناگزیر ہوتے ہیں جو زمینی حقائق کو مدنظر رکھ کر کیے جائیں۔ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس سے نہ صرف کسٹمز کے امور میں تیزی آئے گی بلکہ تجارتی خسارے کو قابو میں رکھنے میں بھی مدد ملے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملکی معیشت کے استحکام اور ترقی کے لیے حکومت کی جانب سے مختلف سیکٹرز میں اصلاحات کا سلسلہ جاری ہے۔ کسٹمز ٹیرف میں کی جانے والی یہ ترامیم اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہیں جن پر عمل درآمد شروع ہو چکا ہے۔ ماہرین اقتصادیات کا ماننا ہے کہ قانون سازی اور ضوابط کی بہتری سے ملک میں براہ راست سرمایہ کاری کے رجحان میں بھی اضافہ ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس نئے نوٹیفکیشن میں ٹائروں اور اسپیئر پارٹس کی تفصیلی درجہ بندی نے کلیئرنس کے روایتی طریقوں کو جدید بنا دیا ہے۔ پہلے مرحلے میں آنے والی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہیوی کمرشل گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کے پارٹس کو الگ الگ کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اس تقسیم سے محنت اور وقت دونوں کی بچت ہوگی جو کاروباری برادرم کے لیے انتہائی سودمند ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت نے واضح کیا ہے کہ معاشی ترقی اور صنعتی سہولت کاری کے لیے اس طرح کی اصلاحات مستقبل میں بھی جاری رہیں گی۔ کاروباری برادری اور متعلقہ اداروں کے درمیان قریبی رابطہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ پالیسیاں زمینی حقائق کے مطابق ہوں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تمام متعلقہ محکموں کو اس نوٹیفکیشن کے نفاذ کے بعد اپنی رپورٹس مرتب کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے تاکہ اس کے مثبت اثرات کا جائزہ لیا جا سکے۔ موٹر سائیکل پارٹس اور ہیوی ٹائروں کے کاروبار سے وابستہ افراد اس فیصلے پر مطمئن دکھائی دیتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/2099/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>وفاقی حکومت کی جانب سے اہم افسران کے تقرر و تبادلوں کے احکامات جاری</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2083/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2083/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 02:17:48 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹیبلشمنٹ_ڈویژن]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[انتظامی_امور]]></category>
		<category><![CDATA[ایف_بی_آر]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس_سروس]]></category>
		<category><![CDATA[تقرر_و_تبادلے]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سرکاری_افسران]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%88%d9%81%d8%a7%d9%82%db%8c-%d8%ad%da%a9%d9%88%d9%85%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d8%ac%d8%a7%d9%86%d8%a8-%d8%b3%db%92-%d8%a7%db%81%d9%85-%d8%a7%d9%81%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے پولیس، کسٹمز اور دیگر محکموں کے افسران کی نئی تعیناتیوں اور تبادلوں کے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیے ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وفاقی حکومت نے ملکی انتظامی امور کو بہتر بنانے اور مختلف محکموں میں خالی اسامیوں کو پُر کرنے کے لیے پولیس سروس آف پاکستان سمیت دیگر اہم شعبوں میں بڑے پیمانے پر افسران کے تقرر و تبادلوں کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ نوٹیفکیشنز کے مطابق، مختلف گریڈز کے افسران کو نئی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں جبکہ کچھ افسران کی خدمات صوبائی حکومتوں اور متعلقہ اداروں کے سپرد کی گئی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیکریٹریٹ گروپ کے گریڈ 21 کے سینیئر جوائنٹ سیکریٹری کامرس ڈویژن، اعجاز احمد مہیسر کی خدمات کو ڈیپوٹیشن کی بنیاد پر حکومت سندھ کے سپرد کر دیا گیا ہے، جہاں وہ اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس سروس کے گریڈ 20 کے افسر فلائٹ لیفٹیننٹ (ر) عمران یعقوب، جو اب تک تقرری کے منتظر تھے، انہیں حکومت گلگت بلتستان میں تعینات کر دیا گیا ہے تاکہ انتظامی امور میں معاونت فراہم کی جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب، گلگت بلتستان میں تعینات پولیس سروس کے گریڈ 20 کے افسر فرخ رشید کو فوری طور پر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، جہاں انہیں مستقبل میں نئی ذمہ داریاں تفویض کی جائیں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کسٹمز سروس کے گریڈ 17 کے افسر سید عمار اختر، جو پاکستان لینڈ پورٹ اتھارٹی میں خدمات انجام دے رہے تھے، ان کی خدمات فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو واپس کر دی گئی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزارت داخلہ میں تعینات سیکشن افسر نعیم نواز کا تبادلہ کر کے انہیں بحری امور ڈویژن میں تعینات کر دیا گیا ہے، جبکہ تمارا خان کو پاکستان لینڈ پورٹ اتھارٹی میں ڈپٹی ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تعلیمی شعبے میں بھی اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں، جس کے تحت گورنمنٹ گریجویٹ کالج راولپنڈی کی ایسوسی ایٹ پروفیسر مدثرہ ملک کی خدمات تین سال کے لیے ڈیپوٹیشن پر فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن اسلام آباد کے سپرد کی گئی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ صحت خیبرپختونخوا سے وابستہ میڈیکل افسر ڈاکٹر فائزہ مآب کو بھی تبدیل کر دیا گیا ہے، انہیں اب فیڈرل میڈیکل کالج اسلام آباد میں ڈیمونسٹریٹر کے طور پر کام کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ یہ احکامات فوری طور پر نافذ العمل ہوں گے اور متعلقہ افسران کو اپنی نئی تعیناتیوں پر جلد از جلد چارج سنبھالنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تقرر و تبادلے معمول کا انتظامی عمل ہیں جس کا مقصد سرکاری محکموں کی کارکردگی کو بہتر بنانا اور افسران کو مختلف علاقوں اور شعبوں میں تجربہ فراہم کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان تبادلوں سے امید کی جا رہی ہے کہ متعلقہ محکموں میں دفتری امور کی انجام دہی میں تیزی آئے گی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے انتظامی ڈھانچہ مزید مستحکم ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متعلقہ افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے نئے عہدوں پر تعیناتی کے بعد اپنی ذمہ داریاں پوری دیانتداری اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ سرانجام دیں تاکہ حکومتی اہداف کو بروقت حاصل کیا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2083/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پاکستان میں کاروباری طبقہ شدید مشکلات کا شکار، میاں شاہد حسین کا اظہار تشویش</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/1436/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/1436/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 19 Oct 2026 11:17:33 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹاک_ایکسچینج]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹیٹ_بینک]]></category>
		<category><![CDATA[ایف_بی_آر]]></category>
		<category><![CDATA[بجلی_کے_بل]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹرول]]></category>
		<category><![CDATA[تاجر_برادری]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیکس]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%a9%d8%a7%d8%b1%d9%88%d8%a8%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%b7%d8%a8%d9%82%db%81-%d8%b4%d8%af%db%8c%d8%af/</guid>

					<description><![CDATA[کینیڈا بزنس کمیونٹی کے صدر نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بجلی کے بلوں میں سبسڈی اور تاجر دوست پالیسیاں متعارف کرائی جائیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان میں موجودہ معاشی صورتحال کے پیش نظر کاروباری برادری کو درپیش چیلنجز پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ کینیڈا بزنس کمیونٹی کے صدر الحاج میاں شاہد حسین نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ملکی تاجر طبقہ اس وقت انتہائی کٹھن حالات سے گزر رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">میاں شاہد حسین کے مطابق مہنگائی کی بلند شرح، شرح سود میں اضافہ اور بجلی کے بھاری بھرکم بلوں نے ملکی صنعت و تجارت کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان عوامل کے باعث کاروبار کو جاری رکھنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے مزید کہا کہ پیداواری لاگت میں دو سو فیصد تک کا غیر معمولی اضافہ ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے چھوٹے تاجروں کے لیے اپنے اخراجات پورے کرنا ناممکن ہو گیا ہے۔ تاجروں کے لیے بجلی کے بلوں کی ادائیگی اور دکانوں کے کرائے ادا کرنا ایک بڑا مسئلہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کاروباری شخصیت نے ایف بی آر کے پیچیدہ ٹیکس نظام پر بھی تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آئے روز نئے ٹیکسز کے نفاذ سے تاجر برادری میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے کے بجائے مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">میاں شاہد حسین نے اس بات پر زور دیا کہ مہنگائی کی وجہ سے عوام کی قوت خرید میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اس کے نتیجے میں مارکیٹوں میں گاہکوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے، جس سے کاروباری منڈیاں مندی کا شکار ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کاروباری برادری کے لیے آسان اور سازگار پالیسیاں تشکیل دی جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بجلی کے بلوں پر خصوصی سبسڈی فراہم کی جائے تاکہ پیداواری لاگت کو کم کیا جا سکے اور معیشت کا پہیہ دوبارہ رواں ہو سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">میاں شاہد حسین نے مزید کہا کہ اگر حکومت نے بروقت اقدامات نہ کیے تو معاشی بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایسے اقدامات کیے جائیں جن سے کاروبار دوست ماحول پیدا ہو اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین معاشیات کا بھی ماننا ہے کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان شعبوں کی ترقی کے بغیر پائیدار معاشی نمو کا حصول ممکن نہیں ہے، جس کے لیے حکومتی تعاون ناگزیر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے اکثر یہ موقف اختیار کیا جاتا ہے کہ معاشی استحکام کے لیے سخت فیصلے ناگزیر ہیں تاہم تاجر برادری کا مطالبہ ہے کہ ان فیصلوں کے اثرات کو کم کرنے کے لیے ریلیف پیکجز کا اعلان کیا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک بھر کی تجارتی تنظیمیں وقتاً فوقتاً اپنے مطالبات کے حق میں آواز اٹھاتی رہتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کے ساتھ ساتھ موجودہ ٹیکس دہندگان کو سہولیات فراہم کرنا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل کے حوالے سے تاجروں کا کہنا ہے کہ اگر حالات اسی طرح رہے تو نیا کاروبار شروع کرنا کسی بھی سرمایہ کار کے لیے ناممکن ہو جائے گا۔ اس صورتحال سے بچنے کے لیے طویل مدتی معاشی پالیسیوں کی ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ حکومت کاروباری طبقے کے ان خدشات کا نوٹس لے گی اور معاشی بہتری کے لیے تاجر برادری کے ساتھ مل کر مشاورت کے ذریعے لائحہ عمل تیار کرے گی تاکہ ملکی معیشت کو مستحکم کیا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/1436/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ایف بی آر کی تنظیم نو کے خلاف ہڑتال کی کال واپس، افسران معمول کے مطابق کام کریں گے</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1182/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1182/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 18 Oct 2026 00:16:43 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[ان_لینڈ_ریونیو]]></category>
		<category><![CDATA[ایف_بی_آر]]></category>
		<category><![CDATA[ایف_بی_آر_ہڑتال]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[تنظیم_نو]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیکس_نظام]]></category>
		<category><![CDATA[حکومت_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a7%db%8c%d9%81-%d8%a8%db%8c-%d8%a2%d8%b1-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d9%86%d8%b8%db%8c%d9%85-%d9%86%d9%88-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81-%db%81%da%91%d8%aa%d8%a7%d9%84-%da%a9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[ان لینڈ ریونیو سروس آفیسرز ایسوسی ایشن نے اعلیٰ قیادت کی یقین دہانی کے بعد پیر کو ہونے والی قلم چھوڑ ہڑتال کا فیصلہ مؤخر کر دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی ان لینڈ ریونیو سروس آفیسرز ایسوسی ایشن نے ادارے کی مجوزہ تنظیم نو کے خلاف دی گئی قلم چھوڑ ہڑتال کی کال واپس لے لی ہے۔ اس فیصلے کے بعد پیر کے روز ایف بی آر ہیڈکوارٹرز اور ملک بھر میں موجود فیلڈ فارمیشنز میں تمام افسران اپنے معمول کے دفتری فرائض انجام دیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایسوسی ایشن کی جانب سے گزشتہ شب جاری کیے گئے ایک باضابطہ اعلامیے میں ہڑتال کی کال منسوخ کرنے کی تصدیق کی گئی ہے۔ اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ تنظیم نو کے حوالے سے جو بیانات گردش کر رہے تھے، وہ محض ابتدائی مشاورت کا حصہ تھے اور انہیں حتمی شکل نہیں دی گئی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایف بی آر کی اعلیٰ قیادت نے ایسوسی ایشن کے نمائندوں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ اصلاحاتی عمل کے دوران ان لینڈ ریونیو سروس کے افسران کے مفادات کو اولین ترجیح دی جائے گی۔ قیادت نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ تنظیم نو کے دوران افسران کے حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ذرائع کے مطابق اس معاملے پر حکومت اور ایف بی آر انتظامیہ کی جانب سے بھی صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے کوششیں کی گئی تھیں۔ تاہم ایسوسی ایشن نے اپنے اعلامیے میں ہڑتال واپسی کی وجہ قیادت کی جانب سے ملنے والی یقین دہانیوں اور مجوزہ اصلاحات پر وضاحت کو قرار دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایف بی آر حکام کا ماننا ہے کہ ملکی معیشت کی بہتری کے لیے ٹیکس نظام میں بہتری ناگزیر ہے، جس کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کا اعتماد میں ہونا ضروری ہے۔ ایسوسی ایشن کی جانب سے ہڑتال کی کال واپس لینے سے دفتری امور میں تعطل کا خدشہ بھی ٹل گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت پاکستان کی جانب سے بھی ایف بی آر کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے مختلف تجاویز پر غور کیا جا رہا ہے۔ ان اصلاحات کا بنیادی مقصد ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا اور محصولات کی وصولی میں شفافیت لانا ہے تاکہ ملکی معاشی اہداف کو حاصل کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئندہ دنوں میں بھی ایف بی آر انتظامیہ اور افسران کی ایسوسی ایشن کے درمیان بات چیت کا عمل جاری رہے گا تاکہ تنظیم نو کے حوالے سے کسی بھی قسم کے تحفظات کو دور کیا جا سکے۔ اس پیش رفت کو ادارے کے اندرونی نظم و ضبط کے لیے مثبت قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کے معاشی استحکام کے لیے ایف بی آر کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ ایسے میں ادارے کے اندر ہم آہنگی اور کام کا تسلسل برقرار رہنا ملکی مفاد میں ہے تاکہ ٹیکس دہندگان کو سہولیات کی فراہمی میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایف بی آر کے ترجمان کے مطابق ادارے کی جانب سے اصلاحاتی عمل کو شفاف بنانے کے لیے تمام تر قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے۔ افسران کی جانب سے کام پر واپسی کا فیصلہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ مسائل کا حل باہمی مشاورت سے ممکن ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ آنے والے وقت میں ایف بی آر کی تنظیم نو کا عمل کسی بڑے تنازع کے بغیر مکمل ہو جائے گا۔ اس سے نہ صرف ادارے کی کارکردگی میں اضافہ ہوگا بلکہ ملکی محصولات میں بھی خاطر خواہ بہتری متوقع ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مجموعی طور پر اس پیش رفت نے ایف بی آر کے اندر پائی جانے والی بے یقینی کی کیفیت کو ختم کر دیا ہے۔ اب تمام تر توجہ ادارے کے اہداف کے حصول اور ٹیکس وصولی کے عمل کو مزید تیز کرنے پر مرکوز رہے گی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1182/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>حکومت کا ایف بی آر کی تنظیم نو یا نئے ٹیکس ادارے کے قیام پر غور</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/937/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/937/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 16 Oct 2026 02:56:52 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[ایف_بی_آر]]></category>
		<category><![CDATA[ایف_بی_آر_تنظیم_نو]]></category>
		<category><![CDATA[ایف_بی_آر_چیئرمین]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیکس_اصلاحات]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیکس_گوشوارے]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیکس_نیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[حکومت_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%ad%da%a9%d9%88%d9%85%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%db%8c%d9%81-%d8%a8%db%8c-%d8%a2%d8%b1-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d9%86%d8%b8%db%8c%d9%85-%d9%86%d9%88-%db%8c%d8%a7-%d9%86%d8%a6%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[وزیراعظم شہباز شریف نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں اصلاحات اور ٹیکس وصولی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے جامع منصوبہ طلب کر لیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وفاقی حکومت نے قومی محاصل میں اضافے اور ٹیکس وصولی کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے اہم اقدامات پر غور شروع کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی مکمل تنظیم نو یا پھر ایک بالکل نیا ٹیکس وصولی ادارہ قائم کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ذرائع کے مطابق گزشتہ ہفتے منعقدہ ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں ٹیکس نظام کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے مختلف تجاویز پیش کی گئیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ایف بی آر کی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ انسانی وسائل میں اصلاحات اور ادارے کی تنظیم نو کے حوالے سے ایک جامع منصوبہ تیار کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایف بی آر کے چیئرمین راشد لنگڑیال کو اس اہم ذمہ داری کا ٹاسک سونپا گیا ہے تاکہ وہ وزیراعظم کے سامنے اصلاحاتی تجاویز پیش کر سکیں۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس عمل کا مقصد ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب میں بہتری لانا اور ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایف بی آر کے ترجمان نے اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ادارے میں اصلاحات ایک مسلسل عمل ہے اور اس حوالے سے مختلف خیالات پر مشاورت جاری ہے۔ تاہم انہوں نے ٹیکس وصولی کا کام کسی نجی کمپنی کے سپرد کرنے کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">زیر غور تجاویز میں ایک &#039;نیشنل ٹیکس ایجنسی&#039; کا قیام بھی شامل ہے، جس کے ذریعے ٹیکس وصولی کے عمل کو زیادہ شفاف اور موثر بنایا جا سکے۔ اگر حکومت کسی نئے ادارے کے قیام کا فیصلہ کرتی ہے تو اس کے لیے ایف بی آر ایکٹ 2007 سمیت متعدد قوانین میں ترامیم کرنا ہوں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتی سوچ کے مطابق اگر نیا ادارہ قائم کیا جاتا ہے تو موجودہ ایف بی آر کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جائے گا۔ جو افسران نئے ادارے میں جانے کے خواہشمند نہیں ہوں گے، انہیں موجودہ ادارے میں اپنی ریٹائرمنٹ تک خدمات انجام دینے کا اختیار حاصل ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے میں درپیش مشکلات بھی اس غور و فکر کی ایک بڑی وجہ ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق قومی ٹیکس نمبر رکھنے والے 19 ملین افراد میں سے اب تک صرف 6.9 ملین افراد نے ہی اپنے ٹیکس گوشوارے جمع کرائے ہیں، جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں کم ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت نے تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے بھی خصوصی اسکیمیں متعارف کرائی ہیں، جس کا مقصد لاکھوں خوردہ فروشوں کو مقررہ ٹیکس نظام کا حصہ بنانا ہے۔ اس کے علاوہ ڈیجیٹل انوائسنگ اور پوائنٹ آف سیل سسٹم کے ذریعے کاروباری لین دین کی نگرانی کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹیکس معاملات میں شفافیت لانے کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی رسک مینجمنٹ سسٹم کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے۔ اس نظام کے ذریعے آڈٹ اور کلیئرنس کے لیے کیسز کا انتخاب کیا جاتا ہے تاکہ انسانی مداخلت کو کم سے کم کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایف بی آر کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران ٹیکس وصولیاں 9 ہزار 200 ارب روپے سے بڑھ کر 13 ہزار ارب روپے تک پہنچ چکی ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اضافے میں اضافی ٹیکسوں اور معاشی عوامل کا بھی بڑا عمل دخل رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اقتصادی رابطہ کمیٹی نے بھی حال ہی میں ایف بی آر کے لیے اخراجاتی پیکیج کی منظوری دی ہے، جس میں نئی گاڑیوں کی خریداری اور ادارے کی استعداد کار بڑھانے کے لیے فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ یہ اقدامات ٹیکس وصولی کے اہداف کے حصول میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کا یہ اقدام آئی ایم ایف پروگرام کے تحت کیے گئے وعدوں اور ملکی معیشت کو دستاویزی شکل دینے کے عزم کا حصہ ہے۔ اصلاحات کا حتمی خاکہ وزیراعظم کی منظوری کے بعد ہی سامنے آئے گا، جس کے بعد قانون سازی کا عمل شروع کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل میں ٹیکس وصولی کا نظام کیسا ہوگا، اس کا انحصار ان اصلاحاتی تجاویز پر ہے جو ایف بی آر کی جانب سے وزیراعظم کو پیش کی جائیں گی۔ حکومت کا بنیادی مقصد ٹیکس چوری کی روک تھام اور ملکی آمدنی میں پائیدار اضافہ یقینی بنانا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/937/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ایف بی آر نے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کروانے کی تاریخ میں 31 اکتوبر تک توسیع کر دی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/875/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/875/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 15 Oct 2026 19:17:49 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[انکم_ٹیکس]]></category>
		<category><![CDATA[ایف_بی_آر]]></category>
		<category><![CDATA[ایف_بی_آر_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ایف_بی_آر_توسیع]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیکس_پالیسی]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیکس_فائلرز]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیکس_گوشوارے]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a7%db%8c%d9%81-%d8%a8%db%8c-%d8%a2%d8%b1-%d9%86%db%92-%d8%a7%d9%86%da%a9%d9%85-%d9%b9%db%8c%da%a9%d8%b3-%da%af%d9%88%d8%b4%d9%88%d8%a7%d8%b1%db%92-%d8%ac%d9%85%d8%b9/</guid>

					<description><![CDATA[فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے تاجر تنظیموں اور ٹیکس بار ایسوسی ایشنز کی درخواستوں پر گوشوارے جمع کرانے کی مہلت میں 16 روز کا اضافہ کر دیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سال 2026 کے لیے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کروانے کی آخری تاریخ میں مزید 16 روز کی توسیع کا اعلان کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد اب ٹیکس دہندگان بغیر کسی جرمانے کے 31 اکتوبر تک اپنے گوشوارے جمع کروا سکیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، یہ توسیع مختلف تجارتی تنظیموں، صنعت کاروں، چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز اور ٹیکس بار ایسوسی ایشنز کی جانب سے موصول ہونے والی درخواستوں کے پیشِ نظر کی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ اس سے قبل انکم ٹیکس گوشوارے جمع کروانے کی آخری تاریخ 30 ستمبر مقرر تھی، جسے بعد ازاں 15 اکتوبر تک بڑھایا گیا تھا۔ اب عوامی اور کاروباری حلقوں کے مطالبے پر اس میں مزید توسیع کر دی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک بھر میں ٹیکس گوشوارے جمع کروانے والوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق اب تک 68 لاکھ 15 ہزار سے زائد افراد اپنے ٹیکس گوشوارے جمع کروا چکے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ذرائع کے مطابق، فائلرز کی اس تعداد میں تنخواہ دار طبقے کے علاوہ دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے 45 لاکھ سے زائد افراد شامل ہیں، جبکہ 22 لاکھ سے زائد تنخواہ دار افراد نے اپنے ریٹرنز فائل کیے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گزشتہ برس اسی مدت کے دوران انکم ٹیکس گوشوارے جمع کروانے والوں کی مجموعی تعداد 52 لاکھ سے کچھ زائد تھی۔ رواں سال ٹیکس دہندگان کی تعداد میں ہونے والا یہ اضافہ ملکی معاشی نظام میں بہتری کی جانب ایک مثبت پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چھوٹے دکانداروں کے لیے متعارف کرائی گئی خصوصی اسکیم کے تحت بھی پیش رفت جاری ہے۔ اب تک 1473 تاجروں نے اس اسکیم کے تحت اپنے گوشوارے جمع کروائے ہیں، جن میں 137 نئے اور 1336 موجودہ تاجر شامل ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایف بی آر کے مطابق، اب تک کل 2875 دکانداروں نے ٹیکس کی اس نئی اسکیم میں اپنی رجسٹریشن مکمل کر لی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کے لیے یہ اقدامات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایف بی آر نے ٹیکس دہندگان پر زور دیا ہے کہ وہ 31 اکتوبر کی نئی ڈیڈ لائن سے فائدہ اٹھائیں اور اپنے گوشوارے بروقت جمع کروائیں۔ مقررہ تاریخ کے بعد گوشوارے جمع کروانے پر قانون کے مطابق جرمانے عائد کیے جا سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے ٹیکس کلچر کو فروغ دینے کے لیے مختلف مراعات اور آسانیاں فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ ملکی معیشت کو مستحکم کیا جا سکے۔ ٹیکس گوشواروں کی بروقت فائلنگ ملکی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایف بی آر کا کہنا ہے کہ وہ ٹیکس دہندگان کی سہولت کے لیے اپنے آن لائن سسٹم کو مزید بہتر بنا رہا ہے تاکہ گوشوارے جمع کروانے کے عمل میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/875/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
