<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>ایف_بی_آئی &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%a7%db%8c%d9%81_%d8%a8%db%8c_%d8%a2%d8%a6%db%8c/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Mon, 02 Nov 2026 23:00:35 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>ایف_بی_آئی &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>امریکی عدالت نے ایف بی آئی کے سابق اعلیٰ حکام کے خلاف کیس خارج کر دیا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/4770/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/4770/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 02 Nov 2026 23:00:35 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امریکہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکی_عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[ایف_بی_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[بریڈلی_بیناویڈس]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[جو_بائڈن]]></category>
		<category><![CDATA[ڈونلڈ_ٹرمپ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ضیا_فاروقی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[کاش_پٹیل]]></category>
		<category><![CDATA[محکمہ_انصاف]]></category>
		<category><![CDATA[نکی_فلورس]]></category>
		<category><![CDATA[ہنٹر_بائڈن]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/4770/</guid>

					<description><![CDATA[جج ضیا فاروقی نے کیس میں ناکافی شواہد اور تفتیش کے سیاسی رنگ پر گہرے خدشات کا اظہار کیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">امریکی وفاقی عدالت نے تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کے دو سابق سینئر حکام کے خلاف فوجداری مقدمہ خارج کر دیا ہے۔ ان سابق اہلکاروں پر کانگریس کے سامنے سابق صدر جو بائڈن کے بیٹے ہنٹر بائڈن کے کیس کے حوالے سے غلط بیانی کا الزام عائد کیا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پیر کے روز امریکی مجسٹریٹ جج ضیا فاروقی نے یہ فیصلہ سناتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ محکمہ انصاف کی ہدایات کے تحت کام کرنے والے استغاثہ کے پاس کیس کو آگے بڑھانے کے لیے کافی شواہد موجود نہیں تھے۔ انہوں نے قرار دیا کہ یہ تفتیش جلد بازی میں کی گئی، اسے سیاسی رنگ دیا گیا اور یہ سنگین نوعیت کی غلطیوں کا شکار رہی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جج ضیا فاروقی نے عدالت میں ریمارکس دیے کہ اس صورتحال کو سیاسی انتقام یا اداروں کے غلط استعمال کے علاوہ کسی اور نام سے نہیں پکارا جا سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ آنکھیں بند کر کے حالات سے غافل نہیں رہ سکتے اور نہ ہی اس بات کو نظر انداز کر سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقدمے کے ریکارڈ کے مطابق سابق حکام نکی فلورس اور بریڈلی بیناویڈس پر الزام تھا کہ انہوں نے سنہ دو ہزار تئیس میں کانگریس کو ایک لیپ ٹاپ کے معاملے پر گمراہ کیا تھا۔ محکمہ انصاف کے مطابق یہ لیپ ٹاپ سنہ دو ہزار انیس میں ڈی لا ویئر کی ایک دکان پر جمع کروایا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایک تفتیشی ایف بی آئی ایجنٹ نے عدالت میں بیان دیا کہ نکی فلورس اور بریڈلی بیناویڈس کے خلاف تحقیقات کا آغاز گزشتہ سال جولائی میں ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل کی ہدایت پر کیا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس مقدمے نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے اتحادیوں کی ان پرانی شکایات کو تازہ کر دیا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ بائڈن خاندان سے جڑی اہم اور نقصان دہ معلومات کو سنہ دو ہزار بیس کے صدارتی انتخابات کے دوران چھپایا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ اگرچہ محکمہ انصاف کے پاس اب بھی گرینڈ جیوری کے ذریعے سابق اہلکاروں کے خلاف فردِ جرم عائد کرنے کا موقع موجود ہے، تاہم اس ابتدائی فیصلے سے استغاثہ کے مقدمے کو شدید دھچکا لگا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گزشتہ ہفتے ہونے والی ابتدائی سماعت کے دوران جج نے نشاندہی کی تھی کہ محکمہ انصاف نے قانونی طریقہ کار سے ہٹ کر کام کیا۔ انہوں نے بتایا کہ استغاثہ نے عدالت کی پیشگی منظوری کے بغیر مقدمے میں ایک اضافی دفعہ کے ساتھ ترمیم شدہ شکایت داخل کی، جو انہوں نے اپنے کیریئر میں پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/4770/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>بائنانس کا ہیکنگ کے بعد رقوم کی واپسی کا عمل شروع، 95 فیصد اثاثے بحال</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/4519/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/4519/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 01 Nov 2026 19:12:48 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آن_لائن_تجارت]]></category>
		<category><![CDATA[ایف_بی_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[بائنانس]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیجیٹل_اثاثے]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سائبر_سیکیورٹی]]></category>
		<category><![CDATA[سرمایہ_کاری]]></category>
		<category><![CDATA[شمالی_کوریا]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[کرپٹو_کرنسی]]></category>
		<category><![CDATA[مالیاتی_تحفظ]]></category>
		<category><![CDATA[ہیکنگ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d8%a8%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%a7%d9%86%d8%b3-%da%a9%d8%a7-%db%81%db%8c%da%a9%d9%86%da%af-%da%a9%db%92-%d8%a8%d8%b9%d8%af-%d8%b1%d9%82%d9%88%d9%85-%da%a9%db%8c-%d9%88%d8%a7%d9%be%d8%b3%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[کرپٹو ایکسچینج بائنانس نے 6.3 ارب ڈالر کی ہیکنگ کے بعد متاثرہ صارفین کے لیے رقوم کی واپسی کا عمل مرحلہ وار شروع کر دیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">دنیا کی معروف کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائنانس نے ایک بڑی سیکیورٹی خلاف ورزی اور ہیکنگ کے واقعے کے بعد اپنے صارفین کے لیے رقوم کی واپسی کا عمل مرحلہ وار شروع کر دیا ہے۔ ایکسچینج کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، ہیکنگ کے دوران چوری ہونے والے اثاثوں کا 95 فیصد حصہ بحال کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹس کے مطابق، اس ہیکنگ واقعے میں مجموعی طور پر 6.3 ارب ڈالر کے کرپٹو اثاثے چوری ہوئے تھے، جسے کرپٹو تاریخ کی بڑی وارداتوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔ بائنانس انتظامیہ نے فوری اقدامات کرتے ہوئے متاثرہ صارفین کے نقصانات کا ازالہ کرنے کے لیے اپنے وسائل سے فنڈز کی فراہمی یقینی بنائی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایکسچینج کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اپ ڈیٹ میں بتایا گیا ہے کہ صارفین اب مخصوص ٹوکنز کے لیے اپنی رقوم نکلوانے کی سہولت حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ عمل سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر مرحلہ وار مکمل کیا جا رہا ہے تاکہ پلیٹ فارم کی فعالیت کو بحال رکھا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے اس بڑے سائبر حملے کے پیچھے ایک شمالی کوریائی گروہ کے ملوث ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ تحقیقاتی ٹیموں کا کہنا ہے کہ ہیکرز نے جدید تکنیکوں کا استعمال کرتے ہوئے ایکسچینج کے سیکیورٹی نظام میں نقب لگائی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کمپنی کے حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی مرحلے میں ان اثاثوں کو ترجیح دی جا رہی ہے جن کی سیکیورٹی تصدیق مکمل ہو چکی ہے۔ صارفین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے ڈیش بورڈ پر جا کر دستیاب ٹوکنز کی فہرست ملاحظہ کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس واقعے کے بعد کرپٹو مارکیٹ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی، تاہم بائنانس کی جانب سے بروقت اقدامات نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کرنے میں مدد دی ہے۔ ایکسچینج نے یقین دہانی کرائی ہے کہ باقی ماندہ 5 فیصد اثاثوں کی بازیابی کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق، اس طرح کے بڑے حملے ڈیجیٹل اثاثوں کے پلیٹ فارمز کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں۔ بائنانس نے اس واقعے کے بعد اپنے سیکیورٹی پروٹوکولز کا ازسرِ نو جائزہ لینے کا اعلان کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایف بی آئی کی جانب سے جاری کردہ ابتدائی رپورٹ میں ہیکنگ کے طریقہ کار پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ تحقیقاتی ادارے کے مطابق، حملہ آوروں نے انتہائی پیچیدہ کوڈنگ کا استعمال کیا تھا جس سے سیکیورٹی فائر والز کو عبور کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بائنانس کے ترجمان نے کہا ہے کہ کمپنی کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی رکھتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم عالمی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کر رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صارفین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک لنک پر کلک کرنے سے گریز کریں۔ ایکسچینج نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی آفیشل ویب سائٹ اور ایپ کے ذریعے ہی معلومات فراہم کر رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل کے حوالے سے بائنانس نے سیکیورٹی کے نئے معیارات متعارف کرانے کا عندیہ دیا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد مستقبل میں اس طرح کے واقعات کی روک تھام کو یقینی بنانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ واقعہ کرپٹو کرنسی کی دنیا میں سیکیورٹی کے حوالے سے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ مارکیٹ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس کے بعد ایکسچینجز کو اپنے سیکیورٹی بجٹ میں اضافہ کرنا پڑے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مزید برآں، ہیکنگ کے اس واقعے کے بعد سے عالمی سطح پر کرپٹو ریگولیشنز پر بحث میں بھی تیزی آئی ہے۔ مختلف ممالک کے مالیاتی ادارے اب ڈیجیٹل اثاثوں کے تحفظ کے لیے سخت قوانین پر غور کر رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/4519/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>بائنانس نے سائبر حملے کے دوران چرائے گئے اثاثوں کا نوے فیصد حصہ واپس کر دیا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/technology/4313/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/technology/4313/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 01 Nov 2026 08:12:38 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سائنس و ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[ایف_بی_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[بائنانس]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[تلافی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیجیٹل_اثاثے]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سائبر_حملہ]]></category>
		<category><![CDATA[شمالی_کوریا]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[کرپٹو_کرنسی]]></category>
		<category><![CDATA[ہیکرز]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/technology/%d8%a8%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%a7%d9%86%d8%b3-%d9%86%db%92-%d8%b3%d8%a7%d8%a6%d8%a8%d8%b1-%d8%ad%d9%85%d9%84%db%92-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%86%d9%88%d8%b1%db%8c-%db%81%d9%88%d9%86%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[عالمی کرپٹو ایکسچینج نے اپنے مختلف فنڈز اور کارپوریٹ خزانے کی مدد سے صارفین کے نقصانات کو پورا کر دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">عالمی کرپٹو کرنسی پلیٹ فارم بائنانس نے حالیہ ڈیجیٹل سرقت کے واقعے میں متاثر ہونے والی کل مالیت کا نوے فیصد حصہ صارفین کو لوٹا دیا۔ غیر ملکی ابلاغی اداروں کی رپورٹس کے مطابق اس کارروائی کے دوران چھ ارب ڈالر کے برابر ڈیجیٹل ٹوکنز کے خسارے کو پورا کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ادارے کے حکام کا بتانا ہے کہ اس کُل نقصان کا احاطہ کرنے کی خاطر سیف فنڈ، کارپوریٹ ریزرو اور فیوچرز انشورنس کا سہارا لیا گیا تاکہ پلیٹ فارم کے صارفین کسی بھی مالی نقصان سے محفوظ رہ سکیں۔ یہ سارا عمل اس بڑے ڈیجیٹل حملے کے فوراََ بعد عمل میں لایا گیا جس میں چھ اعشاریہ تین ارب ڈالر کے اثاثوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ادارہ جاتی ذرائع اور ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ بائنانس کے کسی انجینئر کے ذاتی کمپیوٹر کو ہیک کیے جانے کی وجہ سے یہ سارا سکیورٹی رسک پیدا ہوا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکہ کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کا اس معاملے میں مؤقف ہے کہ اس مجرمانہ کارروائی کے پیچھے شمالی کوریا کے ہیکرز کا ہاتھ کارفرما ہے۔ ایف بی آئی کے مطابق یہ عناصر ڈیجیٹل سرقت کے بعد حاصل شدہ رقوم کو ایتھیریم میں منتقل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ یہ سائبر واقعہ تیس اکتوبر کو پیش آیا تھا جس کے نتیجے میں کرپٹو مارکیٹ میں بڑے پیمانے پر ہلچل مچ گئی تھی اور کروڑوں ڈالر کے اثاثے متاثر ہوئے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/technology/4313/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>بائننس ہیکنگ کیس: شمالی کوریا کے ہیکرز ملوث ہونے کا انکشاف</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/technology/3254/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/technology/3254/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 31 Oct 2026 08:28:52 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سائنس و ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[انٹرنیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[ایپ]]></category>
		<category><![CDATA[ایف_بی_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[بائننس]]></category>
		<category><![CDATA[بلاک_چین]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیجیٹل_اثاثے]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیجیٹل_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سائبر_حملہ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/technology/%d8%a8%d8%a7%d8%a6%d9%86%d9%86%d8%b3-%db%81%db%8c%da%a9%d9%86%da%af-%da%a9%db%8c%d8%b3-%d8%b4%d9%85%d8%a7%d9%84%db%8c-%da%a9%d9%88%d8%b1%db%8c%d8%a7-%da%a9%db%92-%db%81%db%8c%da%a9%d8%b1%d8%b2-%d9%85/</guid>

					<description><![CDATA[دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائننس سے 6.3 ارب ڈالر کی چوری میں شمالی کوریا کے ہیکر گروپ 'لازروس' کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آ گئے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">دنیا کی معروف ترین کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائننس کو تاریخ کے سب سے بڑے سائبر حملوں میں سے ایک کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس میں 6.3 ارب ڈالر مالیت کے ڈیجیٹل اثاثے چوری کر لیے گئے۔ اس سنگین واردات کی تحقیقات کرنے والی دو بڑی بلاک چین اینالیٹکس فرمز، ٹی آر ایم لیبز اور چینالیسز نے اپنی رپورٹس میں شمالی کوریا کے ریاستی حمایت یافتہ ہیکر گروپ &#039;لازروس&#039; کو اس واقعے کا مرکزی ملزم قرار دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کے مطابق، اس ہیکنگ میں &#039;لازروس&#039; گروپ، جسے &#039;ٹریڈر ٹریٹر&#039; کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کا ملوث ہونا انتہائی قوی امکان ہے۔ یہ گروپ ماضی میں بھی عالمی سطح پر کرپٹو کرنسی کی بڑی چوریوں میں ملوث رہا ہے، جس کا مقصد شمالی کوریا کی معیشت کو سہارا دینا اور غیر قانونی ذرائع سے فنڈز اکٹھا کرنا بتایا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیقاتی اداروں کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، یہ ہیکرز انتہائی منظم انداز میں کام کرتے ہیں۔ گزشتہ برس ایف بی آئی نے بھی شمالی کوریا پر &#039;بائی بٹ&#039; ایکسچینج سے 1.5 ارب ڈالر کی چوری کا الزام عائد کیا تھا، جس کے بعد چوری شدہ اثاثوں کو تیزی سے بٹ کوائن اور دیگر ڈیجیٹل اثاثوں میں تبدیل کر کے منتقل کر دیا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بائننس کے شریک سی ای او رچرڈ ٹینگ نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ کمپنی کی جانب سے کی گئی تحقیقات میں سیکیورٹی کے کئی اہم مقامات پر نقائص سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ابتدا میں ایک ملازم کے لیپ ٹاپ کے متاثر ہونے کا شبہ تھا، تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ یہ حملہ کہیں زیادہ وسیع اور پیچیدہ تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کمپنی ترجمان کے مطابق، بائننس نے اب تک چوری شدہ اثاثوں کا 80 فیصد حصہ بحال کر لیا ہے، تاہم باقی ماندہ رقم کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ اس واقعے نے کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں سیکیورٹی کے حوالے سے نئے خدشات کو جنم دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس ہیکنگ میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ چینالیسز کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے منی لانڈرنگ کے ایسے نئے طریقے اپنائے ہیں جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے تھے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہیکرز کے پاس جدید ترین ٹیکنالوجی موجود ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ شمالی کوریا کے ہیکرز کا نام پہلی بار 2014 میں سونی پکچرز پر ہونے والے بڑے حملے کے بعد عالمی سطح پر سامنے آیا تھا۔ تب سے اب تک یہ گروپ مسلسل اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کر رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیکیورٹی ماہرین کے مطابق، 2022 میں بھی 620 ملین ڈالر کی کرپٹو کرنسی چوری کے پیچھے اسی گروپ کا ہاتھ ہونے کے شواہد ملے تھے۔ یہ تمام واقعات ثابت کرتے ہیں کہ ہیکرز اب مالیاتی اداروں کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بائننس کی جانب سے اس معاملے پر مزید تفصیلات فراہم کرنے کے لیے کام جاری ہے اور کمپنی عالمی ریگولیٹرز کے ساتھ مل کر تحقیقات کر رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بین الاقوامی برادری اور سائبر سیکیورٹی ایجنسیاں اس بات پر متفق ہیں کہ شمالی کوریا کے ہیکرز کا نیٹ ورک اب انتہائی طاقتور ہو چکا ہے۔ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں، تو یہ تاریخ کی سب سے بڑی سائبر ڈکیتیوں میں سے ایک تصور کی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فی الحال بائننس کے صارفین کو اپنے اکاؤنٹس کی سیکیورٹی کے لیے اضافی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ کمپنی نے یقین دلایا ہے کہ وہ اپنے صارفین کے اثاثوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھا رہی ہے اور تحقیقات کے نتائج جلد منظر عام پر لائے جائیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/technology/3254/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خالصتان تحریک کے رہنما گرپتونت سنگھ پنوں کو ایک بار پھر قاتلانہ حملے کی دھمکی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/981/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/981/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 16 Oct 2026 19:16:35 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکہ]]></category>
		<category><![CDATA[ایف_بی_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[بھارت]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[خالصتان_تحریک]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سفارتی_تعلقات]]></category>
		<category><![CDATA[سکھس_فار_جسٹس]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%ae%d8%a7%d9%84%d8%b5%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%aa%d8%ad%d8%b1%db%8c%da%a9-%da%a9%db%92-%d8%b1%db%81%d9%86%d9%85%d8%a7-%da%af%d8%b1%d9%be%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%aa-%d8%b3%d9%86%da%af%da%be/</guid>

					<description><![CDATA[امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے نیویارک میں مقیم سکھ رہنما کو ان کی زندگی کو لاحق فوری اور یقینی خطرات سے آگاہ کر دیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے سخت ناقد اور خالصتان تحریک کے سرگرم رہنما گرپتونت سنگھ پنوں کی زندگی کو ایک بار پھر شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے نیویارک میں ان کی رہائش گاہ کا دورہ کر کے انہیں باضابطہ طور پر خبردار کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایف بی آئی حکام نے گرپتونت سنگھ پنوں کو بتایا ہے کہ انہیں ان کی جان کو درپیش فوری اور یقینی خطرات کے حوالے سے ٹھوس شواہد ملے ہیں۔ امریکی تفتیشی ادارے ان سراغوں کی روشنی میں معاملے کی گہرائی سے تحقیقات کر رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مبصرین کے مطابق یہ تازہ ترین خطرہ 18 اکتوبر کو کینیڈا میں ہونے والے ریفرنڈم سے منسلک ہو سکتا ہے۔ گرپتونت سنگھ پنوں کی تنظیم &#039;سکھس فار جسٹس&#039; کینیڈا کے شہر ایڈمنٹن میں بھارتی پنجاب کی آزادی کے حق میں ایک غیر سرکاری ریفرنڈم کا انعقاد کر رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس ریفرنڈم میں سکھ برادری کو بڑی تعداد میں شرکت اور ووٹ ڈالنے کی دعوت دی گئی ہے، جس کے لیے گرپتونت سنگھ پنوں کے ممکنہ سفر کے پیش نظر سیکیورٹی خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکی حکام نے اسی تناظر میں انہیں الرٹ جاری کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے گرپتونت سنگھ پنوں نے کہا کہ اصل سوال یہ نہیں ہے کہ وہ کسی اور قاتلانہ حملے سے بچ پائیں گے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا سکھ قوم کے حق خود ارادیت کو دھمکیوں سے دبایا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب گرپتونت سنگھ پنوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہو۔ اس سے قبل 2023 میں بھی نیویارک میں انہیں قتل کرنے کی ایک سازش کو امریکی حکام نے ناکام بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی حکام نے اس سابقہ سازش کا الزام ایک بھارتی انٹیلی جنس اہلکار پر عائد کیا تھا، جس کے بعد سے بھارت اور امریکا کے سفارتی تعلقات میں کافی کشیدگی دیکھی گئی تھی۔ اس معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان کئی بار بات چیت بھی ہو چکی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسی طرح 2023 میں کینیڈا میں سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کا قتل بھی ایک بڑا واقعہ تھا جس نے عالمی سطح پر ہلچل مچا دی تھی۔ کینیڈین حکومت نے اس قتل کا الزام براہ راست بھارتی ایجنٹوں پر عائد کیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کے بعد سے کینیڈا اور بھارت کے سفارتی تعلقات میں شدید سرد مہری پائی جاتی ہے۔ کینیڈا کی جانب سے لگائے گئے الزامات کے بعد دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے سفارت کاروں کو ملک بدر بھی کیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بین الاقوامی سطح پر سکھ رہنماؤں کو درپیش یہ خطرات خالصتان تحریک اور بھارت کے درمیان جاری کشمکش کا ایک اہم حصہ سمجھے جاتے ہیں۔ مغربی ممالک میں مقیم سکھ رہنما مسلسل اپنی آواز بلند کر رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی اور کینیڈین حکام کی جانب سے سکھ رہنماؤں کو دی جانے والی سیکیورٹی وارننگز اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ ان ممالک میں مقیم افراد کی حفاظت ان کی ترجیح ہے۔ اس صورتحال پر عالمی برادری کی نظریں بھی جمی ہوئی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل میں اس معاملے کے سفارتی تعلقات پر مزید کیا اثرات مرتب ہوں گے، یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔ تاہم گرپتونت سنگھ پنوں کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی قیمت پر اپنی تحریک سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/981/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>امریکہ میں اوپن اے آئی کے دفتر میں خفیہ ریکارڈنگ ڈیوائس نصب کرنے پر سعودی انجینیئر زیرِ تفتیش</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/crime/628/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/crime/628/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 11:18:54 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[جرم و سزا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امریکہ]]></category>
		<category><![CDATA[انٹرنیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[اوپن_اے_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[ایف_بی_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[تفتیش]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیجیٹل_جرائم]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سان_فرانسسکو]]></category>
		<category><![CDATA[سعودی_انجینیئر]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d8%a7%d9%85%d8%b1%db%8c%da%a9%db%81-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d9%88%d9%be%d9%86-%d8%a7%db%92-%d8%a2%d8%a6%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%af%d9%81%d8%aa%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%ae%d9%81%db%8c%db%81/</guid>

					<description><![CDATA[اوپن اے آئی کے دفتر میں خفیہ ریکارڈنگ ڈیوائس نصب کرنے والے سعودی انجینیئر کے خلاف امریکی وفاقی استغاثہ نے مقدمہ دائر کر دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا میں قائم مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی اوپن اے آئی کے دفتر سے ایک خفیہ ریکارڈنگ ڈیوائس برآمد ہوئی ہے، جسے مبینہ طور پر کمپنی کے ایک سعودی انجینیئر نے نصب کیا تھا۔ اس واقعے کے بعد امریکی وفاقی استغاثہ نے ملزم کے خلاف باضابطہ طور پر مقدمہ درج کر لیا ہے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملزم کی شناخت عبدالرحمان الفوزان کے طور پر کی گئی ہے جو جولائی 2025 سے اوپن اے آئی میں بطور انجینیئر خدمات انجام دے رہے تھے۔ اوپن اے آئی کے مطابق سان فرانسسکو میں واقع اس کے مرکزی دفتر کے ایگزیکٹو کانفرنس روم سے یہ جدید ڈیوائس ملی جسے انتہائی مہارت کے ساتھ چھپایا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تفصیلات کے مطابق یہ خفیہ ریکارڈنگ ڈیوائس ٹوائلٹ پیپر میں لپیٹ کر کانفرنس روم میں موجود ٹیلی ویژن کے عقب میں بنی یو ایس بی پورٹ میں لگائی گئی تھی۔ کمپنی کے اندرونی ذرائع اور اے آئی ماڈلز کی مدد سے کی گئی ابتدائی تحقیقات کے دوران اس بات کا انکشاف ہوا کہ یہ ڈیوائس ایک ملازم نے نصب کی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اوپن اے آئی نے اس سکیورٹی واقعے کی فوری اطلاع وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کو دی جس کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تحقیقات کا آغاز کیا۔ وفاقی استغاثہ کے مطابق ملزم کا مقصد کمپنی کی مصنوعی ذہانت مصنوعات اور حساس نوعیت کی معلومات تک رسائی حاصل کرنا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت میں جمع کرائی گئی دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مشتبہ شخص نے دفتر میں حساس مقامات اور خفیہ آڈیو آلات کی تنصیب سے متعلق معلومات کے حصول کے لیے ایک پروڈکٹیویٹی ٹول اور چیٹ بوٹ کا استعمال کیا۔ ملزم نے چیٹ بوٹ سے ریکارڈنگ ڈیوائس کی تیاری، ترتیب، تنصیب اور دور سے رسائی کے طریقوں سے متعلق استفسار کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایف بی آئی کے ریکارڈ کے مطابق ملزم نے چیٹ بوٹ سے مسلسل آڈیو ریکارڈر بنانے اور وائی فائی کنیکٹیویٹی کو اپنی ضرورت کے مطابق ترتیب دینے کے متعلق سوالات کیے۔ اس کے علاوہ آڈیو ریکارڈنگ کی صلاحیت بہتر بنانے اور ایس ڈی کارڈ کو انکرپٹ کرنے کے طریقوں سے متعلق بھی معلومات حاصل کی گئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اوپن اے آئی کے حکام کا کہنا ہے کہ داخلی تحقیقات کے دوران ایسا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا جس سے یہ ثابت ہو سکے کہ ملزم نے کمپنی کے اے آئی ماڈلز کے ویٹس، سورس کوڈ یا صارفین کے کسی بھی ڈیٹا تک غیر مجاز رسائی حاصل کی ہو۔ کمپنی نے تصدیق کی ہے کہ متعلقہ ملازم کو فوری طور پر ملازمت سے برخاست کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل کے مطابق ملزم نے اپنے آجر کے دفتر میں حساس گفتگوؤں کو خفیہ طور پر ریکارڈ کرنے کی مذموم کوشش کی۔ تفتیش کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ پانچ اکتوبر کو ملزم دوبارہ مذکورہ کمرے میں ڈیوائس کا جائزہ لینے کی غرض سے داخل ہوا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">استغاثہ کا دعویٰ ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ملزم کو جائے وقوعہ سے کامیابی کے ساتھ جوڑا گیا۔ اسی روز ملزم نے عمارت کے ایک اور حصے میں بغیر نگرانی کے ایک بیگ چھوڑا جس کی تلاشی لینے پر اس کا بٹوہ، شناختی کارڈ اور ایک اور مشابہ ریکارڈنگ ڈیوائس برآمد ہوئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عبدالرحمان الفوزان منگل کے روز عدالت میں پیش ہوئے تاہم یہ بات تاحال واضح نہیں ہو سکی ہے کہ آیا ان کے پاس کوئی قانونی نمائندہ یا وکیل موجود ہے۔ امریکی قوانین کے تحت اگر ان پر عائد ہونے والے الزامات عدالت میں ثابت ہو جاتے ہیں تو انہیں پانچ سال تک کی قید اور بھاری جرمانے کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کمپنی نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ اس واقعے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جدید مصنوعی ذہانت کس طرح پیچیدہ اور پوشیدہ سکیورٹی خطرات کی بروقت نشاندہی کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ اوپن اے آئی نے اس پورے معاملے میں تفتیشی اداروں اور استغاثہ کے ساتھ بھرپور تعاون کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/crime/628/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
