<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>اہم_خبر &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%a7%db%81%d9%85_%d8%ae%d8%a8%d8%b1/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Mon, 19 Oct 2026 08:16:50 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>اہم_خبر &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>میر رضا کیس: ورثا کا جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ منظرِعام پر لانے کا مطالبہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1407/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1407/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 19 Oct 2026 08:16:50 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[انصاف]]></category>
		<category><![CDATA[اہم_خبر]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس_تفتیش]]></category>
		<category><![CDATA[جبران_ناصر]]></category>
		<category><![CDATA[جوڈیشل_کمیشن]]></category>
		<category><![CDATA[جے_آئی_ٹی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سندھ_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%85%db%8c%d8%b1-%d8%b1%d8%b6%d8%a7-%da%a9%db%8c%d8%b3-%d9%88%d8%b1%d8%ab%d8%a7-%da%a9%d8%a7-%d8%ac%d9%88%da%88%db%8c%d8%b4%d9%84-%da%a9%d9%85%db%8c%d8%b4%d9%86-%da%a9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[متاثرہ خاندان اور وکیل جبران ناصر نے پولیس کی تفتیش پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے جے آئی ٹی بنانے کا مطالبہ کر دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">کراچی میں میر رضا قتل کیس کے حوالے سے متوفی کے اہل خانہ نے ایک اہم پریس کانفرنس کے دوران جوڈیشل کمیشن کی انکوائری رپورٹ فوری طور پر منظر عام پر لانے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ رپورٹ کو صیغہ راز میں رکھنا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس موقع پر وکیل جبران ناصر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی کمیشن نے 15 اکتوبر کو اپنی رپورٹ جمع کروا دی تھی، تاہم اب یہ اطلاعات سامنے آ رہی ہیں کہ رپورٹ کو پبلک کرنے یا نہ کرنے کا حتمی فیصلہ صوبائی کابینہ کرے گی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اس رپورٹ کو چھپانے کے پیچھے آخر کس کی پشت پناہی کارفرما ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جبران ناصر نے مزید کہا کہ اگر حکومت نے رپورٹ جاری نہ کی تو وہ عدالت سے رجوع کرنے پر مجبور ہوں گے۔ انہوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ اگر انکوائری رپورٹ کو عوام کے سامنے نہ لایا گیا تو جوڈیشل کمیشن کی تمام تر کارروائی محض ایک ڈرامہ ثابت ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متاثرہ خاندان کے وکیل نے پولیس کی تفتیشی کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اس کیس کو خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی شفاف تحقیقات کے لیے ایک جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">میر رضا کے والد میر حسین علی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ پولیس کی جانب سے ثبوتوں کو تباہ کیا گیا ہے اور وہ اس معاملے میں کسی بھی قسم کی شفافیت کی توقع نہیں رکھتے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ خاندان کو جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ فراہم کی جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">میر حسین علی نے سپریم میڈیکل بورڈ کی تشکیل کو بھی غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب کیس قتل کا ہے تو اسے خودکشی ثابت کرنے کے لیے میڈیکل بورڈ کیوں بنایا جا رہا ہے، یہ اقدام تفتیش کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وکیل جبران ناصر نے کیس سے وابستہ کچھ افراد کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ میر رضا کے پارٹنرز احمد بھر دے اور علی شاز کا کردار مشکوک ہے، اور یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ انہیں پہلے سے کیسے معلوم تھا کہ میر رضا واپس نہیں آئیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متاثرہ خاندان کا موقف ہے کہ پولیس نے عدالتی کمیشن کے احکامات کے باوجود تفتیش میں تعاون نہیں کیا اور نہ ہی فوکل پرسن مقرر کیا ہے۔ خاندان کا کہنا ہے کہ پولیس مسلسل کیس کو خراب کرنے میں مصروف ہے جس سے عام عوام میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہو رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جبران ناصر نے حکومت کو متنبہ کیا کہ وہ اپنے آپ کو پولیس کی صف میں کھڑا نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے انصاف فراہم نہ کیا تو وہ قانونی راستے اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ عوامی سطح پر بھی آواز اٹھاتے رہیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کیس میں آئی کلاؤڈ تک رسائی اور دیگر ڈیجیٹل شواہد کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ان تمام پہلوؤں کی تحقیقات کے بغیر کیس کا منطقی انجام تک پہنچنا ناممکن ہے، اور رپورٹ کو راز میں رکھنے سے گزشتہ دو ماہ کی محنت ضائع ہو جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ میر رضا کیس کراچی میں ایک انتہائی حساس معاملہ بن چکا ہے جس پر سول سوسائٹی اور قانونی حلقے بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ عدالت کی جانب سے قائم کردہ کمیشن نے اس معاملے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا تھا جس کی رپورٹ اب ایک متنازعہ شکل اختیار کر گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متاثرہ خاندان نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پولیس کے دباؤ میں آئے بغیر میر رضا کے لواحقین کو انصاف کی فراہمی یقینی بنائے۔ ان کا کہنا ہے کہ جے آئی ٹی ہی واحد راستہ ہے جس سے اصل حقائق سامنے آ سکتے ہیں اور ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پریس کانفرنس کے دوران یہ بھی واضح کیا گیا کہ پولیس کی جانب سے تفتیش میں تاخیری حربے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ لواحقین کا مطالبہ ہے کہ شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے عدالتی کمیشن کی سفارشات پر فوری عمل درآمد کیا جائے تاکہ میر رضا کے اہل خانہ کو انصاف مل سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1407/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ہری پور: پانچ سالہ آیت نور قتل کیس میں تین ملزمان کی ضمانت منظور</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/61/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/61/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 00:57:33 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آیت_نور_کیس]]></category>
		<category><![CDATA[انصاف]]></category>
		<category><![CDATA[اہم_خبر]]></category>
		<category><![CDATA[پشاور_ہائیکورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس_تفتیش]]></category>
		<category><![CDATA[جرم_و_سزا]]></category>
		<category><![CDATA[خیبرپختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/61/</guid>

					<description><![CDATA[پشاور ہائیکورٹ کے ایبٹ آباد بینچ نے پولیس کی تفتیشی رپورٹ کی روشنی میں تینوں ملزمان کو رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پشاور ہائیکورٹ کے ایبٹ آباد بینچ نے ہری پور میں پانچ سالہ بچی آیت نور کے مبینہ ریپ اور قتل کے مقدمے میں گرفتار تین ملزمان کی ضمانت بعد از گرفتاری منظور کر لی ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ پولیس کی جانب سے پیش کردہ حتمی تفتیشی رپورٹ میں ان ملزمان کو بے گناہ قرار دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیبرپختونخوا کے ضلع ہری پور سے تعلق رکھنے والی پانچ سالہ آیت نور 10 اگست کو گھر کے قریب کھیلتے ہوئے لاپتہ ہو گئی تھی۔ بچی کے والد محمد شفیق نے گمشدگی کے بعد شدید صدمے کی حالت میں ابتدائی طور پر ان تینوں لڑکوں کو نامزد کیا تھا، جنہیں بعد ازاں پولیس نے حراست میں لے لیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعے کے 15 روز بعد 24 اگست کو ایک اور کم عمر مرکزی ملزم کی نشاندہی پر بچی کی لاش شہر کے یونیورسٹی روڈ کے قریب ایک خشک کنویں سے برآمد ہوئی تھی۔ مرکزی ملزم نے مجسٹریٹ کے روبرو اپنے جرم کا اقبال کر لیا تھا اور وہ اس وقت جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور اس کا ٹرائل جاری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت میں پیش کی گئی اسپیشل انویسٹیگیشن ٹیم کی رپورٹ کے مطابق، جدید سائنسی تفتیش اور سی سی ٹی وی فوٹیج سے ثابت ہوا کہ ان تینوں ملزمان کا اس جرم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ پولیس نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا کہ ان کے خلاف کوئی تحریری یا سائنسی ثبوت موجود نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متاثرہ بچی کے والد محمد شفیق نے بھی عدالت میں بیان دیا کہ انہوں نے بیٹی کے لاپتہ ہونے کے شدید صدمے اور پریشانی کے باعث غلطی سے ان لڑکوں کو نامزد کیا تھا۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ اب انہیں پولیس کی تفتیش پر کوئی اعتراض نہیں ہے اور وہ ضمانت کی منظوری پر مطمئن ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ضمانت پر رہا ہونے والے ملزمان کے وکیل عاطف علی جدون ایڈووکیٹ نے دعویٰ کیا کہ ان کے مؤکلوں کو پولیس حراست کے دوران تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور انہیں زبردستی اعترافی بیانات دینے پر مجبور کیا گیا تھا۔ رہائی پانے والے لڑکوں نے ڈی پی او ہری پور کو اس حوالے سے درخواست بھی دی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تفتیشی حکام کے مطابق، مرکزی ملزم کی گرفتاری سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے عمل میں آئی تھی۔ اس فوٹیج میں ملزم کو بچی کو ورغلا کر لے جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ملزم نے تفتیش کے دوران اعتراف کیا کہ اس نے بچی کے والد کی جانب سے ڈانٹ ڈپٹ کا بدلہ لینے کے لیے یہ قدم اٹھایا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آیت نور کے والد نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہ یقین کرنے کو تیار نہیں ہیں کہ صرف ایک دس، بارہ سال کے کم عمر لڑکے نے تن تنہا یہ گھناؤنا جرم کیا ہوگا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پولیس واقعے کی مزید گہرائی سے تفتیش کرے تاکہ انصاف کے تمام تقاضے پورے ہوں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کیس میں مرکزی ملزم کا ٹرائل جاری ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کیس کے تمام پہلوؤں کا سائنسی بنیادوں پر جائزہ لیا گیا ہے اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی فرانزک رپورٹ نے مقدمے کو منطقی انجام تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ہری پور پولیس کے ترجمان اور متعلقہ افسران سے اس معاملے پر مؤقف لینے کے لیے رابطہ کیا گیا، تاہم ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ پولیس کا اصرار ہے کہ تفتیش میرٹ پر کی گئی ہے اور اصل ملزم کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ اس واقعے کے بعد ہری پور میں عوامی سطح پر شدید غم و غصہ پایا جاتا تھا اور شہریوں نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے احتجاج بھی کیا تھا۔ مقامی انتظامیہ نے اس دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کیے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت عالیہ کے اس فیصلے کے بعد اب کیس کا رخ مکمل طور پر مرکزی ملزم کے ٹرائل پر مرکوز ہو گیا ہے۔ قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ نابالغ ملزمان کے کیسز میں سائنسی شواہد اور فرانزک رپورٹس کی اہمیت بہت زیادہ ہوتی ہے جو اس کیس میں فیصلہ کن ثابت ہوئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آیت نور کے والدین اب بھی انصاف کے منتظر ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ ان کی بیٹی کے ساتھ ہونے والے ظلم کا مکمل انصاف کیا جائے۔ پولیس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ عدالت میں مضبوط چالان پیش کرنے کے لیے تمام تر قانونی تقاضے پورے کر رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/61/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
