<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.33.2"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>اڈیالہ_جیل &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%a7%da%88%db%8c%d8%a7%d9%84%db%81_%d8%ac%db%8c%d9%84/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sun, 01 Nov 2026 20:26:56 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>اڈیالہ_جیل &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>کار سرکار میں مداخلت کیس: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو 10، 10 سال قید کی سزا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/3171/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/3171/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 29 Oct 2026 10:14:17 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اڈیالہ_جیل]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[انسداد_دہشت_گردی_عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[ایمان_مزاری]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_کرکٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[سیکیورٹی_روٹ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%da%a9%d8%a7%d8%b1-%d8%b3%d8%b1%da%a9%d8%a7%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%d8%af%d8%a7%d8%ae%d9%84%d8%aa-%da%a9%db%8c%d8%b3-%d8%a7%db%8c%d9%85%d8%a7%d9%86-%d9%85%d8%b2%d8%a7%d8%b1%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[انسداد دہشت گردی عدالت نے سری لنکن کرکٹ ٹیم کے روٹ پر بیریئر ہٹانے اور پولیس سے ہاتھا پائی کے کیس میں فیصلہ سنا دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے بیریئر ہٹانے اور کار سرکار میں مداخلت کے ایک ہائی پروفائل مقدمے میں معروف وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو 10، 10 سال قید کی سزا سنا دی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے اڈیالہ جیل میں اس مقدمے کا فیصلہ محفوظ کیا تھا، جسے آج سنایا گیا۔ فیصلے کے مطابق دونوں ملزمان کو مختلف قانونی دفعات کے تحت سزائیں دی گئی ہیں جن میں قید اور جرمانے شامل ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پراسیکیوشن کے مطابق یہ واقعہ اکتوبر 2024 میں پیش آیا تھا جب سری لنکن کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان کے دوران اسلام آباد میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔ ملزمان پر الزام تھا کہ انہوں نے زیرو پوائنٹ پر وی آئی پی روٹ کے بیریئرز ہٹائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی ریکارڈ کے مطابق بیریئرز ہٹانے کے دوران ملزمان کی ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکاروں کے ساتھ تلخ کلامی اور ہاتھا پائی بھی ہوئی تھی۔ اس واقعے کے بعد تھانہ آبپارہ میں دہشت گردی اور ہنگامہ آرائی سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقدمے کی سماعت کے دوران پراسیکیوشن نے کل 7 گواہان کو عدالت میں پیش کیا، جن کے بیانات اور شواہد کی روشنی میں کیس کو آگے بڑھایا گیا۔ ملزمان کے خلاف 7 اکتوبر کو فرد جرم عائد کی گئی تھی جس کے بعد ٹرائل کا باقاعدہ آغاز ہوا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے اس کیس میں اسٹیٹ کونسل عاطف محمود کو مقرر کیا تھا جنہوں نے گواہان پر جرح مکمل کی۔ ملزمان کی جانب سے صحت جرم سے انکار کیا گیا تھا، تاہم شواہد کی بنیاد پر عدالت نے انہیں مجرم قرار دیتے ہوئے سزا کا حکم دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی فیصلے میں وضاحت کی گئی ہے کہ ملزمان کو تین مختلف دفعات کے تحت سزا دی گئی ہے۔ دہشت گردی کی دفعہ کے تحت 10 سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ، جبکہ دیگر دفعات کے تحت مزید قید اور جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے دفعہ 382 کا فائدہ دیتے ہوئے ملزمان کی مجموعی سزا کو 10 سال تک محدود رکھا ہے، جبکہ مجموعی طور پر انفرادی دفعات کے تحت یہ سزا 13 سال بنتی تھی۔ جرمانے کی مد میں بھی ملزمان کو بھاری رقم ادا کرنی ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فیصلہ سنائے جانے کے بعد عدالتی احکامات پر جیل پولیس نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ ایمان مزاری کو خواتین جیل پولیس اہلکاروں کی نگرانی میں خواتین بیرکس منتقل کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ہادی علی چٹھہ کو مرد جیل پولیس اہلکاروں نے اپنی تحویل میں لے کر جیل منتقل کیا۔ دونوں ملزمان اس مقدمے میں ضمانت پر رہا تھے، تاہم سزا کے اعلان کے بعد انہیں فوری طور پر گرفتار کر لیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واضح رہے کہ یہ مقدمہ اکتوبر 2024 میں درج کیا گیا تھا اور تب سے یہ معاملہ قانونی کارروائی کے مراحل سے گزر رہا تھا۔ آج کا فیصلہ اس طویل قانونی عمل کا حتمی نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت کی جانب سے کیس میں شفاف ٹرائل کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے اسٹیٹ کونسل کی خدمات حاصل کی گئی تھیں تاکہ قانونی کارروائی کو میرٹ پر مکمل کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فیصلے کے بعد قانونی حلقوں میں اس کیس پر بحث جاری ہے، جبکہ ملزمان کے وکلاء کی جانب سے آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں فی الحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/3171/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>بیریئر ہٹانے اور کار سرکار مداخلت کیس، ایمان مزاری کا بیان سامنے آ گیا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/courts/3116/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/courts/3116/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 28 Oct 2026 08:16:53 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اڈیالہ_جیل]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد_ہائی_کورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[انسانی_حقوق]]></category>
		<category><![CDATA[انسداد_دشتگردی_عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[ایمان_مزاری]]></category>
		<category><![CDATA[بیریئر_ہٹانے_کا_کیس]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پمز_ہسپتال]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a8%db%8c%d8%b1%db%8c%d8%a6%d8%b1-%db%81%d9%b9%d8%a7%d9%86%db%92-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%a9%d8%a7%d8%b1-%d8%b3%d8%b1%da%a9%d8%a7%d8%b1-%d9%85%d8%af%d8%a7%d8%ae%d9%84%d8%aa/</guid>

					<description><![CDATA[بیریئر ہٹانے اور کار سرکار میں مداخلت کے کیس میں ایمان مزاری کا عدالت میں ریکارڈ کرایا گیا بیان سامنے آ گیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) بیریئر ہٹانے اور کار سرکار میں مداخلت کے مقدمے میں ایمان مزاری کا عدالت میں روبرو ریکارڈ کرایا گیا دفعہ تین سو بیالیس کا بیان منظر عام پر آ گیا ہے۔ اس حوالے سے موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق انہوں نے یہ بیان عدالت میں باقاعدہ جمع کروایا ہے جس میں اس واقعے کے حوالے سے اپنا تفصیلی مؤقف پیش کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایمان مزاری نے اپنے اس بیان میں واضح کیا ہے کہ وہ اپنا یہ بیان کسی رسمی کارروائی کے تحت نہیں بلکہ مکمل طور پر احتجاجاً درج کروا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مخصوص روٹ سے اس وقت کوئی کرکٹ ٹیم نہیں گزر رہی تھی کیونکہ پولیس نے خود اس بات کی تصدیق کی تھی کہ مہمان ٹیم دوسرے راستے سے روانہ ہو چکی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پولیس کے پاس سڑک کی اس عارضی بندش کے حوالے سے کسی بھی مجسٹریٹ کا باقاعدہ تحریری آرڈر موجود نہیں تھا۔ انہوں نے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ انہیں بطور وکیل انسداد دہشت گردی عدالت میں وقت پر پہنچنا تھا اور اسی پیشہ ورانہ ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیے وہ اس راستے پر موجود تھیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایمان مزاری کے مطابق انہوں نے موقع پر موجود پولیس اہلکاروں سے باقاعدہ پندرہ منٹ تک صبر کے ساتھ انتظار کرنے کے بعد سڑک کھولنے کی درخواست کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح غیر قانونی طور پر سڑکیں بند کرنے سے عام شہریوں کے آئینی حقوق بری طرح متاثر ہوتے ہیں اور نقل و حرکت میں رکاوٹ ڈالی جاتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت میں جمع کرائے گئے اس تحریری بیان کے مطابق انہوں نے موقع پر موجود پولیس اہلکاروں کو یاد دہانی کرائی تھی کہ یہ پبلک روڈ کسی کی ذاتی ملکیت نہیں ہے۔ انہوں نے اس موقع پر ایک سوال اٹھایا کہ اگر اس سڑک کی بندش سے سکیورٹی کا کوئی حقیقی خطرہ موجود تھا تو پولیس نے عام موٹر سائیکل سواروں کو اس راستے سے گزرنے سے کیوں نہیں روکا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایمان مزاری نے اس موقع پر سنگین الزام عائد کیا کہ پراسیکیوشن نے جان بوجھ کر اس واقعے کی ویڈیو کا اصل اور مکمل ٹرانسکرپٹ چھپانے کی کوشش کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ویڈیو کا اصل ٹرانسکرپٹ عدالت کے سامنے آ جائے تو اس سے استغاثہ کے تمام دعوے اور بیانات غلط ثابت ہو سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بیان میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ بغیر پولیس یونیفارم کے موجود ایک اہلکار ابراہیم نے ان پر لوہے کا بھاری بیریئر اٹھا کر پھینکا جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے شوہر نے اس صورتحال میں انہیں زدوکوب اور مزید جسمانی نقصان سے بچانے کے لیے محض دفاعی اقدام کیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایمان مزاری کا کہنا تھا کہ اس واقعے کے بعد انہوں نے فوری طور پر پمز ہسپتال سے رجوع کیا تھا اور وہاں کی میڈیکل رپورٹ بطور ایک مستند ثبوت عدالت میں باقاعدہ جمع کروا دی ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس مقدمے میں کسی بھی پولیس اہلکار کے زخمی ہونے کا کوئی بھی معتبر ثبوت عدالتی ریکارڈ کا حصہ نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بیان میں اس امر کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ واقعے کے فوراً بعد متعلقہ پولیس اہلکار نے پولیس محکمے کے غیر مناسب رویے پر ان سے باقاعدہ معافی بھی مانگی تھی۔ اس کے علاوہ عدالت میں پیش کی جانے والی یو ایس بی کو غیر مصدقہ قرار دیتے ہوئے مؤقف اپنایا گیا کہ وہ پولیس اسٹیشن میں کئی روز تک بغیر کسی باقاعدہ سیل کے رکھی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی کارروائی کے حوالے سے مؤقف میں کہا گیا ہے کہ ہائیکورٹ کی جانب سے ان کے جسمانی ریمانڈ کے احکامات معطل کیے جانے کے بعد کی جانے والی تمام تر تفتیشی کارروائی قانونی طور پر بالکل غیر قانونی ہے۔ بیان میں یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا کہ اس مقدمے میں جتنے بھی گواہان ہیں وہ سب کے سب پولیس اہلکار ہیں اور اس میں ایک بھی آزاد یا پرائیویٹ گواہ شامل نہیں کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایمان مزاری کا کہنا تھا کہ یہ تمام تر مقدمات دراصل ان کے انسانی حقوق کے لیے کھل کر کام کرنے اور ضرورت مندوں کو مفت قانونی خدمات فراہم کرنے کے بدلے میں انتقامی کارروائیاں ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اعلیٰ عدالتوں سے ضمانت ملنے کے باوجود انہیں جیل کے اندر دوبارہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور گرفتار کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی ماحول اور ٹرانسپرنسی کے بارے میں بیان میں شدید شکوہ کیا گیا کہ انہیں پنجرے میں بند کر کے عدالتی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا اور اپنے وکلا تک مناسب رسائی سے بھی محروم رکھا گیا۔ آخر میں انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ اور ان کے ساتھی بالکل بے گناہ ہیں اور حقوق العباد کی اس طویل جنگ میں ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے عدالت کے روبرو اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ وہ قانونی دائرے میں رہتے ہوئے اپنے اوپر عائد کردہ تمام بے بنیاد الزامات کا پوری قوت سے دفاع کریں گی۔ ان کے اس بیان کے سامنے آنے کے بعد اس مقدمے کی کارروائی میں مزید قانونی موڑ آنے کی توقع کی جا رہی ہے جس پر آئندہ سماعتوں میں وکلا اپنے دلائل پیش کریں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/courts/3116/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>راولپنڈی: حنا جاوید قتل کیس کی لرزہ خیز پوسٹ مارٹم رپورٹ اور تصاویر سامنے آئیں</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/crime/1965/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/crime/1965/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Oct 2026 09:37:02 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[جرم و سزا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اڈیالہ_جیل]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پوسٹ_مارٹم_رپورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس_تفتیش]]></category>
		<category><![CDATA[جرائم]]></category>
		<category><![CDATA[جرم_و_سزا]]></category>
		<category><![CDATA[جوڈیشل_کمیشن]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/crime/%d8%b1%d8%a7%d9%88%d9%84%d9%be%d9%86%da%88%db%8c-%d8%ad%d9%86%d8%a7-%d8%ac%d8%a7%d9%88%db%8c%d8%af-%d9%82%d8%aa%d9%84-%da%a9%db%8c%d8%b3-%da%a9%db%8c-%d9%84%d8%b1%d8%b2%db%81/</guid>

					<description><![CDATA[ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں مقتولہ پر بہیمانہ تشدد اور جسم پر گہرے زخموں کی تصدیق کر دی گئی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">راولپنڈی میں پیش آنے والے ایک دل دہلا دینے والے قتل کے واقعے میں مقتولہ حنا جاوید کے کیس کے حوالے سے انتہائی لرزہ خیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔ اس افسوسناک واقعے کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ اور جسمانی تشدد کو ظاہر کرتی ہوئی تصاویر نے ہر ذی روح کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تفصیلات کے مطابق راولپنڈی کے علاقے میں بیس اگست کو پیش آنے والے اس واقعہ میں مقتولہ کو مبینہ طور پر اس کے سسرال میں انتہائی بے دردی سے نشانہ بنایا گیا تھا۔ ابتدائی طبی و قانونی معائنے کی رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ موت سے قبل خاتون کو شدید ترین جسمانی اذیت دی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس ذرائع اور سامنے آنے والی رپورٹ کے مطابق مقتولہ حنا جاوید کے جسم کے مختلف حصوں پر تشدد کے گہرے نشانات واضح طور پر پائے گئے۔ ان میں چہرہ، گردن، بازو اور ہاتھ شامل ہیں جہاں سفاکانہ تشدد کی داستانیں صاف دکھائی دیتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مقتولہ کے ہونٹ بھی پھٹے ہوئے تھے جبکہ جسم کے متعدد مقامات پر نیل کے گہرے نشانات موجود تھے۔ اس کے علاوہ حنا جاوید کے سر کے پچھلے حصے پر ستائیس سینٹی میٹر طویل ایک گہرا زخم بھی رپورٹ کا حصہ بنایا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">طبی ماہرین کی مرتب کردہ اس ابتدائی رپورٹ میں یہ بھی درج کیا گیا ہے کہ بدقسمت خاتون کی گردن بھی ٹو ٹی ہوئی پائی گئی۔ چہرے پر موجود زخموں کی نوعیت اس بات کی گواہی دے رہی ہے کہ اسے قتل کرنے سے قبل شدید ترین جسمانی تکلیف سے گزارا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سب سے زیادہ ہولناک انکشاف یہ سامنے آیا کہ مقتولہ حنا جاوید کی کہنیوں میں مبینہ طور پر اسکرو ڈرائیور کے ذریعے سوراخ کیے گئے۔ اس کے دونوں بازوؤں پر بھی تشدد اور درندگی کے واضح اور گہرے نشانات دیکھے جا سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق اندرونی اعضا بھی اس وحشیانہ تشدد کی گواہی دے رہے ہیں کیونکہ مقتولہ کے پھیپھڑوں میں خون بھرا ہوا پایا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دل کے اردگرد موجود جھلی یعنی پیراکارڈیم میں بھی خون جمع ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ابتدائی تحقیقاتی تفصیلات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ حنا جاوید کو بیس اگست کو مبینہ طور پر اس کے سسرال کے اندر ہی تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کیا گیا۔ سفاکیت کا یہ عالم تھا کہ قتل کی واردات کے بعد مقتولہ کی لاش کو باتھ روم میں شاور کے ساتھ لٹکا دیا گیا تاکہ اسے خودکشی کا رنگ دیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس المناک واقعے کا مقدمہ تھانہ سول لائنز راولپنڈی میں درج کیا جا چکا ہے اور پولیس اس معاملے کی مختلف زاویوں سے تفتیش کر رہی ہے۔ قتل کے اس مقدمے میں نامزد مقتولہ کے شوہر فیصل اصغر اور گھر کا ملازم ذیشان ارشد اس وقت جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل میں بند ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب مقتولہ کے غم زدہ اہلخانہ نے شروع ہی سے پولیس کی جانب سے کی جانے والی تفتیش پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ لواحقین کا مطالبہ ہے کہ اس پورے سانحے کی شفاف اور منصفانہ تحقیقات کے لیے ایک جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس ریکارڈ اور ابتدائی تفتیشی کارروائیوں کے مطابق عدالت کی جانب سے ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجے جانے کے بعد مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔ اس سنگین جرم کے خلاف معاشرے کے مختلف حلقوں میں بھی شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عوام اور سوسائٹی کے مختلف طبقات کی جانب سے اس بہیمانہ تشدد اور اندوہناک قتل کے تمام ذمہ داران کو قرار واقع سزا دینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ قانون کے کٹہرے میں لا کر انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقتولہ کے لواحقین اور دیگر انصاف پسند شہریوں کی نظریں اب اس کیس کی عدالت میں ہونے والی باضابطہ سماعتوں پر لگی ہوئی ہیں۔ تمام متعلقہ ادارے اس ہولناک کیس کے ہر پہلو کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ اصل مجرمان قانون کی گرفت سے نہ بچ سکیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/crime/1965/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی اپیلوں پر نوٹس جاری</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/islamabad/1443/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/islamabad/1443/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 19 Oct 2026 11:56:34 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[اسلام آباد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اڈیالہ_جیل]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد_ہائیکورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[انسداد_دہشت_گردی_عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[ایمان_مزاری]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[عدالتی_کیس]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قانون]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85-%d8%a2%d8%a8%d8%a7%d8%af-%db%81%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%b9-%d8%a7%db%8c%d9%85%d8%a7%d9%86-%d9%85%d8%b2%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1/</guid>

					<description><![CDATA[عدالت عالیہ نے ٹرائل کورٹ کی کارروائی کے خلاف دائر اپیلوں پر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے معاملہ سماعت کے لیے مقرر کر دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کی جانب سے دائر کردہ اپیلوں پر سماعت کی ہے۔ یہ اپیلیں انسداد دہشت گردی عدالت کی جانب سے فرد جرم عائد کرنے اور دہشت گردی کی دفعات ختم کرنے کی درخواستیں مسترد ہونے کے خلاف دائر کی گئی تھیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت عالیہ کے جسٹس انعام امین منہاس اور جسٹس شارخ ارجمند پر مشتمل ڈویژن بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ درخواست گزاروں کی جانب سے وکلاء ریاست علی آزاد اور زینب جنجوعہ عدالت میں پیش ہوئے اور اپنے دلائل کا آغاز کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سماعت کے دوران وکیل ریاست علی آزاد نے مؤقف اختیار کیا کہ انسداد دہشت گردی عدالت نے اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کرتے ہوئے حکم جاری کیا۔ انہوں نے استدعا کی کہ ٹرائل کی بنیاد ہی غیر قانونی ہے، لہذا ٹرائل کی کارروائی کو فوری طور پر روک دیا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کو چالان کی نقول فراہم نہیں کی گئیں اور فرد جرم عائد کرتے وقت ان کی ذاتی موجودگی کو یقینی نہیں بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ فرد جرم ٹرائل کی بنیاد ہوتی ہے اور اس میں قانونی تقاضوں کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ کیا ملزمان کا ٹرائل ویڈیو لنک کے ذریعے ہو رہا ہے؟ وکیل نے جواب دیا کہ پہلے کارروائی ویڈیو لنک پر ہوتی تھی تاہم اب جیل ٹرائل شروع ہو چکا ہے اور ملزمان کو درکار دستاویزات نہیں ملیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">درخواست گزاروں کے وکیل نے یہ بھی کہا کہ فرد جرم پر ملزمان کے دستخط موجود نہیں ہیں، جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ ویڈیو لنک کے ذریعے موجودگی اور وکیل کی حاضری ریکارڈ پر موجود ہے۔ عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے قرار دیا کہ فریقین کے آنے کے بعد معاملے کو مزید تفصیل سے دیکھا جائے گا۔ اس سے قبل، انسداد دہشت گردی عدالت میں بھی کیس کی سماعت ہوئی جہاں ملزمان کی وکیل زینب جنجوعہ نے اپنا وکالت نامہ واپس لے لیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اڈیالہ جیل میں انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے کیس کی سماعت کی۔ اس موقع پر استغاثہ کے کسی بھی گواہ کا بیان ریکارڈ نہیں کیا جا سکا، جس کے بعد عدالت نے سماعت 20 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ پر بیریئر ہٹانے اور کارسرکار میں مداخلت کے الزامات کے تحت مقدمہ درج ہے۔ ملزمان کی جانب سے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے قانونی چارہ جوئی کا عمل جاری رکھا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت عالیہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹس کے بعد اب آئندہ سماعت پر فریقین اپنے دلائل پیش کریں گے۔ قانونی ماہرین کے مطابق ٹرائل کورٹ کی کارروائی اور قانونی نکات پر ہائیکورٹ کا فیصلہ کیس کے مستقبل کا تعین کرے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملزمان کے وکلاء کا یہ بھی کہنا ہے کہ نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کے فیصلوں کی روشنی میں ٹرائل کا طریقہ کار شفاف ہونا چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کیس کی ویڈیو ریکارڈنگ منگوائی جائے تاکہ حقائق واضح ہو سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی کارروائی کے دوران سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف درج اس مقدمے میں انسداد دہشت گردی کی دفعات شامل ہونے پر دفاعی وکلاء نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کی سماعت کے حوالے سے مزید احکامات جاری کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ عدالتی عمل کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ملزمان کو شفاف ٹرائل کا حق حاصل ہو اور قانونی تقاضے پورے کیے جائیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/islamabad/1443/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>حنا جاوید قتل کیس: گھریلو ملازم ذیشان مرکزی ملزم قرار، اعتراف جرم</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/crime/928/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/crime/928/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 16 Oct 2026 01:17:19 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[جرم و سزا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اڈیالہ_جیل]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[جرائم]]></category>
		<category><![CDATA[جرم_و_سزا]]></category>
		<category><![CDATA[حنا_جاوید_کیس]]></category>
		<category><![CDATA[ذیشان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[راولپنڈی]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سول_لائن_تھانہ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/crime/%d8%ad%d9%86%d8%a7-%d8%ac%d8%a7%d9%88%db%8c%d8%af-%d9%82%d8%aa%d9%84-%da%a9%db%8c%d8%b3-%da%af%da%be%d8%b1%db%8c%d9%84%d9%88-%d9%85%d9%84%d8%a7%d8%b2%d9%85-%d8%b0%db%8c%d8%b4%d8%a7%d9%86/</guid>

					<description><![CDATA[راولپنڈی میں پیش آنے والے حنا جاوید قتل کیس کی تحقیقاتی کمیٹی نے تفتیش مکمل کر لی، مرکزی ملزم نے زیادتی اور قتل کا اعتراف کر لیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">راولپنڈی میں پیش آنے والے حنا جاوید قتل کیس میں ایک اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی تفتیش مکمل کرتے ہوئے کیس کے مرکزی ملزم کا تعین کر دیا ہے۔ کمیٹی نے مقتولہ کے گھر میں کام کرنے والے ملازم ذیشان کو اس سنگین جرم کا مرکزی ملزم قرار دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیقاتی عمل کے دوران فرانزک شواہد نے کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے میں مدد فراہم کی۔ رپورٹ کے مطابق، مقتولہ کے ہاتھوں کی انگلیوں کے ناخنوں سے ملزم ذیشان کی جلد کے ذرات برآمد ہوئے ہیں، جو اس کی جائے وقوعہ پر موجودگی اور مقتولہ کے ساتھ مزاحمت کا ٹھوس ثبوت ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیقاتی کمیٹی نے کیس کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے کے لیے مقتولہ کے شوہر فیصل اصغر اور گھریلو ملازم ذیشان سے چار مرتبہ سے زائد تفتیش کی۔ اس دوران ملزم ذیشان کی سابقہ مجرمانہ تاریخ بھی سامنے آئی، جس سے پتا چلا کہ وہ دیگر سنگین مقدمات میں بھی ریکارڈ یافتہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کمیٹی کے ذرائع کے مطابق، دورانِ تفتیش ملزم ذیشان نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے۔ اس نے اعتراف کیا کہ اس نے مقتولہ کے ساتھ جنسی زیادتی کی اور بعد ازاں بیڈ کی چادر سے گلا دبا کر اسے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ملزم نے تفتیش کاروں کے سامنے تمام تفصیلات بیان کر دی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیقاتی کمیٹی نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ کسی بھی قسم کے دباؤ کو خاطر میں لائے بغیر شفاف تحقیقات کی گئی ہیں اور کسی بے گناہ کو مرکزی ملزم نہیں ٹھہرایا گیا۔ کمیٹی اپنی رپورٹ مکمل کرنے کے بعد لاہور روانہ ہو چکی ہے تاکہ قانونی کارروائی کو آگے بڑھایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب، مقتولہ حنا جاوید کے ورثا نے اس نئی تحقیقاتی کمیٹی کی کارکردگی اور نتائج پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ ورثا کا کہنا ہے کہ قتل کے شواہد کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے، جس کی وجہ سے وہ تحقیقاتی عمل پر مطمئن نہیں ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ کیس راولپنڈی کے سماجی حلقوں میں کافی زیر بحث رہا ہے اور انصاف کے متلاشی ورثا کی جانب سے مسلسل مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ عدالت میں چالان جلد پیش کر دیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قانونی ماہرین کے مطابق، فرانزک شواہد اور ملزم کا اعترافی بیان کیس کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ عدالت اب ان شواہد کی روشنی میں آئندہ سماعت پر مزید کارروائی کا فیصلہ کرے گی، جس پر سب کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کیس کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے پولیس نے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے ہیں۔ تفتیشی ٹیم نے اپنی رپورٹ میں تمام تر شواہد کو یکجا کر دیا ہے تاکہ ٹرائل کے دوران استغاثہ کا موقف مضبوط رہے اور انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقتولہ کے اہل خانہ انصاف کے حصول کے لیے پرعزم ہیں اور انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ کیس کی سماعت کو شفاف بنایا جائے۔ حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ قانون کے مطابق تمام تقاضے پورے کیے جائیں گے اور کسی کو رعایت نہیں دی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل قریب میں اس کیس کی سماعتوں کا سلسلہ شروع ہوگا، جس میں ملزمان پر فرد جرم عائد کی جائے گی۔ عدالتی کارروائی کے دوران مزید حقائق سامنے آنے کی توقع ہے، جس سے کیس کی تمام کڑیاں مکمل طور پر جڑ جائیں گی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/crime/928/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>اڈیالہ جیل اور گردونواح میں سکیورٹی ہائی الرٹ، دفعہ 144 نافذ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/125/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/125/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 10:17:40 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اڈیالہ_جیل]]></category>
		<category><![CDATA[اڈیالہ_روڈ]]></category>
		<category><![CDATA[امن_و_امان]]></category>
		<category><![CDATA[انتظامیہ]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[دفعہ_144]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[راولپنڈی]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سکیورٹی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/125/</guid>

					<description><![CDATA[راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے اطراف سکیورٹی کے سخت انتظامات کرتے ہوئے اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">راولپنڈی کی اڈیالہ جیل اور اس کے ملحقہ علاقوں میں سکیورٹی کو انتہائی سخت کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔ انتظامیہ کی جانب سے جیل کے اطراف کے علاقوں میں سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس ذرائع کے مطابق اڈیالہ جیل کے ارد گرد چھ کلومیٹر کے دائرہ کار میں سکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے اضافی پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے جو علاقے کی نگرانی پر مامور رہیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اینٹی رائٹ فورس کو بھی الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر فوری کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔ سکیورٹی کے ان اقدامات کا مقصد جیل کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتظامیہ کی جانب سے اڈیالہ روڈ پر آٹھ مقامات پر نئے سکیورٹی ناکے قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان ناکوں پر پولیس اہلکار ہر گزرنے والی گاڑی کی مکمل تلاشی لیں گے اور مشکوک افراد پر کڑی نظر رکھی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نئے قائم کیے جانے والے ناکوں پر شہریوں کے شناختی کارڈز کی جانچ پڑتال بھی کی جائے گی۔ پولیس نے مقامی رہائشیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ سفر کے دوران اپنے شناختی کارڈ لازمی ساتھ رکھیں تاکہ کسی بھی قسم کی پریشانی سے بچا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ضلعی انتظامیہ نے سکیورٹی کی صورتحال کے پیش نظر علاقے میں دفعہ 144 نافذ کر رکھی ہے۔ یہ پابندی آٹھ نومبر تک برقرار رہے گی جس کے دوران کسی بھی قسم کے غیر ضروری اجتماعات یا نقل و حرکت پر نظر رکھی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی کے یہ سخت اقدامات شہریوں کے تحفظ اور امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے اٹھائے گئے ہیں۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ سکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع دیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اڈیالہ روڈ پر ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ سکیورٹی چیکنگ کا عمل بھی جاری رہے گا۔ پولیس کی جانب سے علاقے میں گشت کے نظام کو مزید بہتر بنایا گیا ہے تاکہ کسی بھی قسم کی غفلت نہ برتی جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق دفعہ 144 کے نفاذ کے دوران کسی بھی شخص کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ہوگی۔ سکیورٹی اہلکار حساس مقامات پر تعینات رہیں گے تاکہ صورتحال کو کنٹرول میں رکھا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر جیل کے اطراف کے علاقوں میں جمع ہونے سے گریز کریں۔ سکیورٹی اداروں کی جانب سے جاری کردہ ایس او پیز پر عمل درآمد یقینی بنانا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">راولپنڈی پولیس کے اعلیٰ حکام سکیورٹی انتظامات کی خود نگرانی کر رہے ہیں۔ کسی بھی قسم کی سکیورٹی لیپس کو روکنے کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں تاکہ جیل کی سکیورٹی کو فول پروف بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کا مزید کہنا ہے کہ سکیورٹی کی صورتحال کا وقتاً فوقتاً جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اگر ضرورت پڑی تو سکیورٹی کے مزید اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں تاکہ علاقے میں امن و امان کی فضا کو برقرار رکھا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اڈیالہ جیل کے اطراف میں سکیورٹی کے یہ اقدامات حساس نوعیت کے پیش نظر کیے گئے ہیں۔ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے الرٹ ہیں تاکہ کسی بھی قسم کے خطرے کو بروقت ناکام بنایا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/125/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>اڈیالہ جیل اور گردونواح میں سیکیورٹی ریڈ الرٹ، اضافی نفری تعینات</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/120/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/120/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 09:57:02 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اڈیالہ_جیل]]></category>
		<category><![CDATA[امن_و_امان]]></category>
		<category><![CDATA[انتظامیہ]]></category>
		<category><![CDATA[ایمرجنسی]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[دفعہ_144]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[راولپنڈی]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/120/</guid>

					<description><![CDATA[خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے پیش نظر راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے اطراف سیکیورٹی کے سخت انتظامات کر دیے گئے ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">راولپنڈی کی اڈیالہ جیل اور اس کے اطراف کے علاقوں میں سیکیورٹی کو ریڈ الرٹ کر دیا گیا ہے۔ یہ اقدامات خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے معاملے کے تناظر میں کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتظامیہ کی جانب سے اڈیالہ جیل کے چھ کلومیٹر کے دائرہ کار میں پولیس کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ جیل کے گیٹ نمبر پانچ کے قریب بڑی تعداد میں کنٹینرز پہنچا دیے گئے ہیں تاکہ سیکیورٹی کے حصار کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیکیورٹی انتظامات کے تحت جیل کے سامنے واٹر کینن بھی پہنچا دی گئی ہے، جبکہ اینٹی رائٹ فورس کے دستے بھی تعینات کیے گئے ہیں۔ یہ نفری کسی بھی ناخوشگوار واقعے یا ہنگامی صورتحال میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے تیار رہے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس ذرائع کے مطابق اڈیالہ روڈ پر آٹھ مقامات پر نئے ناکے قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان ناکوں پر گاڑیوں کی کڑی نگرانی کی جائے گی تاکہ علاقے میں مشکوک افراد کی نقل و حرکت پر قابو پایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اڈیالہ روڈ سے گزرنے والے شہریوں کی تلاشی اور ان کے شناختی کارڈز کی جانچ پڑتال بھی کی جائے گی۔ پولیس نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ سفر کے دوران اپنے شناختی کارڈز ہمراہ رکھیں تاکہ کسی بھی قسم کی پریشانی سے بچا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">راولپنڈی کی ضلعی انتظامیہ نے پہلے ہی شہر میں دفعہ 144 نافذ کر رکھی ہے جو آٹھ نومبر تک برقرار رہے گی۔ اس دفعہ کے تحت عوامی اجتماعات اور ریلیوں پر پابندی عائد ہے تاکہ سیکیورٹی کی صورتحال کو کنٹرول میں رکھا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیکیورٹی کے یہ سخت اقدامات حساس تنصیبات کے تحفظ اور شہر میں امن و امان کی فضا کو برقرار رکھنے کے لیے اٹھائے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو جیل کے اطراف میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقامی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اڈیالہ روڈ کے داخلی اور خارجی راستوں پر بھی سیکیورٹی اہلکار تعینات ہیں جو آنے جانے والی گاڑیوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ سیکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی صورت میں فوری طور پر قریبی پولیس چوکی کو آگاہ کریں۔ انتظامیہ کا مقصد علاقے میں مکمل امن کو یقینی بنانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا کی موجودہ سیاسی صورتحال کے پیش نظر ملک بھر میں سیکیورٹی کے انتظامات کو پہلے ہی ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔ راولپنڈی پولیس کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عمل درآمد کروانے کے لیے گشت میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اڈیالہ جیل کے اطراف میں سیکیورٹی کا یہ حصار کسی بھی قسم کے غیر قانونی اجتماع کو روکنے کے لیے بھی اہم ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیکیورٹی کے ان انتظامات کا مقصد جیل کی حفاظت کو یقینی بنانا اور کسی بھی ممکنہ خطرے کو پیشگی ناکام بنانا ہے۔ انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ سیکیورٹی کے حوالے سے کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">راولپنڈی کے شہری انتظامیہ کے ان اقدامات کو سیکیورٹی کے نقطہ نظر سے اہم قرار دے رہے ہیں۔ پولیس کی جانب سے جاری کردہ الرٹ کے بعد اڈیالہ روڈ پر ٹریفک کی روانی کو بھی مانیٹر کیا جا رہا ہے تاکہ کسی قسم کا خلل نہ پڑے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/120/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
