<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.29.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>اٹلی &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%a7%d9%b9%d9%84%db%8c/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sun, 01 Nov 2026 14:26:29 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>اٹلی &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>بوسنیا: اطالوی فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، 4 افراد ہلاک، 11 زخمی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a8%d9%88%d8%b3%d9%86%db%8c%d8%a7-%d8%a7%d8%b7%d8%a7%d9%84%d9%88%db%8c-%d9%81%d9%88%d8%ac%db%8c-%db%81%db%8c%d9%84%db%8c-%da%a9%d8%a7%d9%be%d9%b9%d8%b1-%da%af%d8%b1-%da%a9%d8%b1/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a8%d9%88%d8%b3%d9%86%db%8c%d8%a7-%d8%a7%d8%b7%d8%a7%d9%84%d9%88%db%8c-%d9%81%d9%88%d8%ac%db%8c-%db%81%db%8c%d9%84%db%8c-%da%a9%d8%a7%d9%be%d9%b9%d8%b1-%da%af%d8%b1-%da%a9%d8%b1/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 30 Oct 2026 07:14:41 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اٹلی]]></category>
		<category><![CDATA[اطالوی_فوج]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[برچکو]]></category>
		<category><![CDATA[بوسنیا]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[چینوک]]></category>
		<category><![CDATA[حادثہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a8%d9%88%d8%b3%d9%86%db%8c%d8%a7-%d8%a7%d8%b7%d8%a7%d9%84%d9%88%db%8c-%d9%81%d9%88%d8%ac%db%8c-%db%81%db%8c%d9%84%db%8c-%da%a9%d8%a7%d9%be%d9%b9%d8%b1-%da%af%d8%b1-%da%a9%d8%b1/</guid>

					<description><![CDATA[یورپی یونین فورس کا CH-47 چینوک ہیلی کاپٹر معمول کی تربیتی پرواز کے دوران حادثے کا شکار ہوا، اطالوی وزیر دفاع نے ہلاکتوں کی تصدیق کر دی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">بوسنیا میں یورپی یونین فورس (EUFOR) کا ایک فوجی ہیلی کاپٹر معمول کی تربیتی پرواز کے دوران گر کر تباہ ہو گیا، جس کے نتیجے میں 4 افراد ہلاک اور 11 زخمی ہو گئے ہیں۔ حادثہ دارالحکومت سرائیوو سے تقریباً 180 کلومیٹر شمال میں واقع علاقے برچکو میں پیش آیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یورپی یونین فورس کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، حادثے کا شکار ہونے والا ہیلی کاپٹر CH-47 چینوک ماڈل کا تھا جو معمول کی مشقوں میں مصروف تھا۔ حکام نے تصدیق کی ہے کہ حادثے کے بعد فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئی تھیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اطالوی وزارت دفاع نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ہیلی کاپٹر میں سوار تمام افراد کا تعلق اٹلی سے تھا۔ ہلاک ہونے والوں میں دو اطالوی فوجی اور ریڈ کراس کے دو رضاکار شامل ہیں، جبکہ زخمی ہونے والے 11 افراد کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یو فور حکام کا کہنا ہے کہ تمام زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے اور ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔ حادثے کے مقام سے سامنے آنے والی تصاویر میں ہیلی کاپٹر کو ایک کھلے میدان میں الٹا پڑا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اٹلی کے وزیر دفاع گیویڈو کروسیٹو نے اس المناک واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ان کی اولین ترجیح جاں بحق ہونے والوں کے اہل خانہ کے ساتھ اظہار ہمدردی اور ان کی مدد کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر دفاع نے مزید کہا کہ وہ ذاتی طور پر اور پورے اطالوی محکمہ دفاع کی جانب سے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ تعزیت کرتے ہیں۔ انہوں نے حادثے میں زخمی ہونے والوں کی جلد صحت یابی کے لیے بھی نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ابتدائی اطلاعات کے مطابق ہیلی کاپٹر نے پرواز کے دوران توازن کھو دیا تھا جس کے بعد وہ بے قابو ہو کر زمین پر آ گرا۔ واقعے کی مزید تحقیقات کے لیے ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی جا رہی ہے تاکہ حادثے کی اصل وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بوسنیا میں تعینات یورپی یونین فورس کا مقصد خطے میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنا اور مقامی انتظامیہ کی معاونت کرنا ہے۔ اس طرح کے تربیتی مشنز کا مقصد فوجیوں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بہتر بنانا ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقامی حکام نے حادثے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے تاکہ تفتیشی ٹیمیں شواہد اکٹھے کر سکیں۔ جائے وقوعہ پر موجود عینی شاہدین کے مطابق ہیلی کاپٹر گرنے کے بعد وہاں دھواں اٹھتا دیکھا گیا تھا جس کے بعد امدادی ٹیمیں فوری طور پر پہنچی تھیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس حادثے نے اٹلی سمیت یورپی یونین کے حلقوں میں سوگ کی فضا پیدا کر دی ہے۔ بین الاقوامی برادری کی جانب سے بھی اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ یکجہتی کا پیغام دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ CH-47 چینوک ہیلی کاپٹر اپنی کارکردگی اور بھاری وزن اٹھانے کی صلاحیت کے لیے دنیا بھر کی افواج میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اس قسم کے ہیلی کاپٹروں کے حادثات انتہائی غیر معمولی سمجھے جاتے ہیں جن کی تکنیکی جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام نے اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ حادثے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی تاکہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات سے بچا جا سکے۔ فی الحال ہیلی کاپٹر کے ملبے کو ہٹانے کا کام جاری ہے تاکہ علاقے کو محفوظ بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بوسنیا میں تعینات دیگر بین الاقوامی فورسز نے بھی اس واقعے پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔ یورپی یونین کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ اپنے جوانوں کی قربانی کو ہمیشہ یاد رکھیں گے اور ان کے اہل خانہ کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a8%d9%88%d8%b3%d9%86%db%8c%d8%a7-%d8%a7%d8%b7%d8%a7%d9%84%d9%88%db%8c-%d9%81%d9%88%d8%ac%db%8c-%db%81%db%8c%d9%84%db%8c-%da%a9%d8%a7%d9%be%d9%b9%d8%b1-%da%af%d8%b1-%da%a9%d8%b1/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>کراچی: عمرہ ویزے کی آڑ میں غیر قانونی سفر کی کوشش ناکام، دو بھائی گرفتار</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/karachi/%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%d8%b9%d9%85%d8%b1%db%81-%d9%88%db%8c%d8%b2%db%92-%da%a9%db%8c-%d8%a2%da%91-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%ba%db%8c%d8%b1-%d9%82%d8%a7%d9%86%d9%88%d9%86%db%8c/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/karachi/%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%d8%b9%d9%85%d8%b1%db%81-%d9%88%db%8c%d8%b2%db%92-%da%a9%db%8c-%d8%a2%da%91-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%ba%db%8c%d8%b1-%d9%82%d8%a7%d9%86%d9%88%d9%86%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 28 Oct 2026 11:36:45 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[کراچی]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اٹلی]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[امیگریشن]]></category>
		<category><![CDATA[انسانی_اسمگلنگ]]></category>
		<category><![CDATA[ایئرپورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[ایف_آئی_اے]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[جعلی_دستاویزات]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%d8%b9%d9%85%d8%b1%db%81-%d9%88%db%8c%d8%b2%db%92-%da%a9%db%8c-%d8%a2%da%91-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%ba%db%8c%d8%b1-%d9%82%d8%a7%d9%86%d9%88%d9%86%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[ایف آئی اے امیگریشن نے کراچی ایئرپورٹ پر جعلی اطالوی دستاویزات کے ذریعے بیرون ملک جانے کی کوشش کرنے والے دو بھائیوں کو حراست میں لے لیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) امیگریشن نے کراچی ایئرپورٹ پر ایک اہم کارروائی کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر بیرون ملک سفر کرنے کی کوشش ناکام بنا دی ہے۔ اس کارروائی کے نتیجے میں دو سگے بھائیوں کو حراست میں لیا گیا ہے جو عمرہ ویزے کی آڑ میں یورپ پہنچنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایف آئی اے ترجمان کے مطابق، گرفتار ہونے والے ملزمان کی شناخت میر عثمان اور عامر حمزہ کے نام سے ہوئی ہے، جن کا تعلق سیالکوٹ سے ہے۔ یہ دونوں افراد رواں ماہ کی 6 تاریخ کو عمرہ ویزے پر سعودی عرب روانہ ہوئے تھے، جہاں سے انہیں آگے کا سفر کرنا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان نے اٹلی میں مقیم ایک ایجنٹ اور اپنے والد کی مدد سے جعلی سفری دستاویزات حاصل کی تھیں۔ منصوبے کے مطابق انہیں کوسوو پہنچ کر وہاں پناہ کی درخواست دینی تھی اور پھر غیر قانونی طریقے سے اٹلی میں داخل ہونا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس مقصد کے لیے ملزمان نے ایجنٹ کو 12 لاکھ روپے کی خطیر رقم ادا کی تھی۔ تاہم کوسوو پہنچنے پر وہاں کے امیگریشن حکام نے ان کے پاس موجود اطالوی ریزیڈنس پرمٹس کو مشکوک قرار دے دیا اور انہیں داخلے سے روک کر واپس پاکستان بھیج دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کراچی ایئرپورٹ پر پہنچنے کے بعد ایف آئی اے امیگریشن کے عملے نے جدید ٹیکنالوجی اور یو وی لائٹ کا استعمال کرتے ہوئے ان دستاویزات کی جانچ پڑتال کی۔ جانچ کے دوران اطالوی ریزیڈنس پرمٹس اور میلان کے ایگزٹ اسٹیمپس جعلی ثابت ہوئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایف آئی اے حکام نے ملزمان کے قبضے سے مشکوک ریزیڈنس پرمٹ، کوسوو ہوٹل کی بکنگ دستاویزات، واٹس ایپ چیٹس کا ریکارڈ اور 550 یورو بھی برآمد کر لیے ہیں۔ یہ تمام اشیاء اب تفتیش کا اہم حصہ ہوں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ابتدائی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد دونوں بھائیوں کو مزید قانونی کارروائی اور ایجنٹ کے کردار کا تعین کرنے کے لیے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل (اے ایچ ٹی سی) کراچی کے حوالے کر دیا گیا ہے، جہاں ان سے مزید پوچھ گچھ کی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جا رہی ہے۔ ایئرپورٹس پر اسکریننگ کے عمل کو مزید سخت کر دیا گیا ہے تاکہ انسانی اسمگلنگ کی روک تھام ممکن ہو سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کیس میں ملوث ایجنٹ کی گرفتاری کے لیے بھی کوششیں شروع کر دی گئی ہیں۔ ایف آئی اے کی جانب سے اس بات کا اعادہ کیا گیا ہے کہ انسانی اسمگلنگ میں ملوث نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے کارروائیاں جاری رہیں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملزمان سے برآمد ہونے والی واٹس ایپ چیٹس سے ایجنٹ کے نیٹ ورک کے بارے میں اہم سراغ ملنے کی توقع ہے۔ تفتیش کار اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ دونوں بھائی کسی بڑے منظم گروہ کا حصہ تو نہیں تھے جو اس طرح کے فراڈ میں ملوث ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان میں انسانی اسمگلنگ کے خلاف قوانین کو مزید سخت کیا گیا ہے تاکہ ملک کا نام بدنام کرنے والے اور نوجوانوں کی زندگیوں سے کھیلنے والے عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر ایجنٹوں کے ہاتھوں لٹنے والے افراد کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایف آئی اے امیگریشن کی جانب سے کراچی ایئرپورٹ پر اس بروقت کارروائی کو سراہا جا رہا ہے۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ بیرون ملک سفر کے لیے ہمیشہ قانونی اور مستند ذرائع کا انتخاب کریں اور کسی بھی مشکوک ایجنٹ کے جھانسے میں نہ آئیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/karachi/%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%d8%b9%d9%85%d8%b1%db%81-%d9%88%db%8c%d8%b2%db%92-%da%a9%db%8c-%d8%a2%da%91-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%ba%db%8c%d8%b1-%d9%82%d8%a7%d9%86%d9%88%d9%86%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>یورپ کے مختلف ممالک میں مہنگائی اور حکومتی پالیسیوں کیخلاف احتجاجی مظاہرے</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/%db%8c%d9%88%d8%b1%d9%be-%da%a9%db%92-%d9%85%d8%ae%d8%aa%d9%84%d9%81-%d9%85%d9%85%d8%a7%d9%84%da%a9-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%db%81%d9%86%da%af%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/%db%8c%d9%88%d8%b1%d9%be-%da%a9%db%92-%d9%85%d8%ae%d8%aa%d9%84%d9%81-%d9%85%d9%85%d8%a7%d9%84%da%a9-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%db%81%d9%86%da%af%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 25 Oct 2026 09:18:01 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اٹلی]]></category>
		<category><![CDATA[احتجاج]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[بارسلونا]]></category>
		<category><![CDATA[برسلز]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس_جھڑپیں]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[فرانس]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%db%8c%d9%88%d8%b1%d9%be-%da%a9%db%92-%d9%85%d8%ae%d8%aa%d9%84%d9%81-%d9%85%d9%85%d8%a7%d9%84%da%a9-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%db%81%d9%86%da%af%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1/</guid>

					<description><![CDATA[اٹلی، اسپین، فرانس اور بیلجیئم سمیت کئی یورپی ممالک میں عوام نے مہنگائی اور بیروزگاری کے خلاف سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">یورپ کے کئی ممالک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور حکومتی معاشی پالیسیوں کے خلاف شہریوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں۔ غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق ان مظاہروں کے دوران بعض مقامات پر مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان شدید جھڑپیں بھی ہوئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اٹلی کے دارالحکومت روم میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جن میں صورتحال کشیدہ ہو گئی۔ اطالوی حکام کے مطابق پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے گیارہ افراد کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا جبکہ مجموعی طور پر چھیانوے افراد کو تحویل میں لے لیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اٹلی کے دیگر کئی شہروں میں بھی شہریوں کی کثیر تعداد نے سڑکوں پر آ کر حکومتی معاشی اقدامات کے خلاف اپنے غم و غصے کا اظہار کیا اور مہنگائی پر قابو پانے کا مطالبہ کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسپین کے دارالحکومت بارسلونا میں بھی ایسے ہی مناظر دیکھنے میں آئے جہاں مظاہرین اور پولیس کے مابین ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ہسپیشی حکام نے امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں بھی حکومت مخالف مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے حکومتی پالیسیوں کے خلاف نعرے بازی کی۔ برسلز میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس کی جانب سے آنسو گیس اور مرچوں کے اسپرے کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">البانیہ میں بھی شہریوں نے موجودہ معاشی حالات اور گرانی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے جن میں عامتہ الناس کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ البانیہ کے مختلف شہروں میں مہنگائی کے خلاف آواز بلند کی گئی اور حکومت سے فوری ریلیف دینے کا مطالبہ کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فرانس میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف ملک گیر سطح پر احتجاجی تحریک جاری ہے جس کے تحت دارالحکومت پیرس میں ایک بڑا مارچ نکالا گیا۔ فرانسیسی وزارتِ داخلہ کی طرف سے جاری کردہ ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق پیرس میں ہونے والے اس مرکزی مارچ میں ایک لاکھ دس ہزار افراد نے شرکت کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فرانسیسی دارالحکومت میں نکالا جانے والا یہ مارچ بڑی حد تک پرامن رہا تاہم مارچ کے اختتامی مراحل میں بعض مقامات پر مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پیرس میں احتجاج کے دوران ہونے والی جھڑپوں میں شرکاء نے مبینہ طور پر جلاؤ گھیراؤ کا راستہ اپنایا، مختلف مقامات پر کچرے کے ڈبوں کو آگ لگائی گئی اور توڑ پھوڑ کی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فرانسیسی وزارتِ داخلہ کے مطابق امن و امان کی اس تشویشناک صورتحال پر قابو پانے کے لیے ملک بھر میں ستر ہزار پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ مظاہروں کے دوران توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کے واقعات میں ایک ہزار کے قریب پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فرانس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تخریب کاری کے شبے میں اب تک ایک ہزار سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ فرانسیسی وزیر داخلہ نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ ہفتے کے روز ہونے والے نئے احتجاجی مظاہروں کے دوران بھی پولیس نے مختلف اقسام کے ہتھیار ضبط کیے اور مزید ایک سو پینتیس افراد کو گرفتار کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یورپ کے ان مختلف ممالک میں جاری ان احتجاجی مظاہروں کی بنیادی وجہ حالیہ برسوں میں بڑھنے والی مہنگائی، اشیائے خوردونوش اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔ عوام کا موقف ہے کہ حکومتی پالیسیاں عام آدمی کو ریلیف دینے میں ناکام ہو چکی ہیں جس کی وجہ سے روزمرہ زندگی انتہائی مشکل ہو گئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/%db%8c%d9%88%d8%b1%d9%be-%da%a9%db%92-%d9%85%d8%ae%d8%aa%d9%84%d9%81-%d9%85%d9%85%d8%a7%d9%84%da%a9-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%db%81%d9%86%da%af%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>برازیلین فٹبال لیجنڈ رونالڈینہو کی تقریباً ایک دہائی بعد مسابقتی کھیل میں واپسی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/sports/%d8%a8%d8%b1%d8%a7%d8%b2%db%8c%d9%84%db%8c%d9%86-%d9%81%d9%b9%d8%a8%d8%a7%d9%84-%d9%84%db%8c%d8%ac%d9%86%da%88-%d8%b1%d9%88%d9%86%d8%a7%d9%84%da%88%db%8c%d9%86%db%81%d9%88-%da%a9%db%8c/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/sports/%d8%a8%d8%b1%d8%a7%d8%b2%db%8c%d9%84%db%8c%d9%86-%d9%81%d9%b9%d8%a8%d8%a7%d9%84-%d9%84%db%8c%d8%ac%d9%86%da%88-%d8%b1%d9%88%d9%86%d8%a7%d9%84%da%88%db%8c%d9%86%db%81%d9%88-%da%a9%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 08:58:27 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کھیل]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اٹلی]]></category>
		<category><![CDATA[اے_سی_میلان]]></category>
		<category><![CDATA[بارسلونا]]></category>
		<category><![CDATA[برازیل]]></category>
		<category><![CDATA[بیلن_ڈی_اور]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_کرکٹ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[رونالڈینہو]]></category>
		<category><![CDATA[ریوینا_کلب]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/sports/%d8%a8%d8%b1%d8%a7%d8%b2%db%8c%d9%84%db%8c%d9%86-%d9%81%d9%b9%d8%a8%d8%a7%d9%84-%d9%84%db%8c%d8%ac%d9%86%da%88-%d8%b1%d9%88%d9%86%d8%a7%d9%84%da%88%db%8c%d9%86%db%81%d9%88-%da%a9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[فٹبال لیجنڈ رونالڈینہو اٹلی کے کلب ریوینا کی نمائندگی کرتے ہوئے اگلے ماہ میدان میں اتریں گے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">برازیل کے سابق عالمی شہرت یافتہ فٹبالر رونالڈینہو نے ایک طویل وقفے کے بعد دوبارہ پروفیشنل فٹبال کے میدان میں اترنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ سابق اسٹار کھلاڑی کی اس اچانک واپسی نے دنیا بھر کے کھیلوں کے شائقین بالخصوص فٹبال کے متوالوں کو حیران اور پرجوش کر دیا ہے۔ انہوں نے اپنے پیشہ ورانہ کیریئر میں لاتعداد یادگار لمحات رقم کیے ہیں اور اب وہ ایک بار پھر میدان کی رونقیں بڑھانے کے لیے تیار دکھائی دیتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اطالوی فٹبال کلب ریوینا نے باضابطہ طور پر اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ ان کے نامور کھلاڑی آنے والے دنوں میں ایک بار پھر ایکشن میں نظر آئیں گے۔ کلب انتظامیہ کی جانب سے دی گئی تفصیلات کے مطابق اس تجربہ کار کھلاڑی کی شمولیت سے ٹیم کی کارکردگی میں مزید نکھار پیدا ہوگا۔ شائقین اپنے ہر دلعزیز کھلاڑی کو ایک بار پھر سے گرین پیچ پر دیکھنے کے لیے بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مصدقہ اطلاعات کے مطابق رونالڈینہو آنے والی پندرہ نومبر کو اپنے مقامی حریف کلب فورلی کے خلاف ایک اہم ڈربی میچ میں حصہ لیں گے۔ یہ مقابلہ دونوں ٹیموں کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اس میں سابق برازیلین اسٹار کی موجودگی اسے مزید یادگار بنا دے گی۔ کھیل کے ماہرین کا ماننا ہے کہ اس میچ میں شائقین کی بہت بڑی تعداد اسٹیڈیم کا رخ کرے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ اس عظیم کھلاڑی نے سنہ دو ہزار دو کے فیفا ورلڈ کپ میں اپنی قومی ٹیم کی فتح میں انتہائی کلیدی کردار ادا کیا تھا جس نے انہیں عالمی سطح پر امر کر دیا۔ اس شاندار کامیابی کے چند سال بعد انہیں سنہ دو ہزار پانچ میں دنیا کے بہترین فٹبالر کے باوقار اعزاز بیلن ڈی اور سے بھی نوازا گیا۔ انفرادی اور ٹیم کی سطح پر ان کی یہ کامیابیاں فٹبال کی تاریخ کا ایک روشن باب ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اپنے عروج کے دوران اس باصلاحیت کھلاڑی نے دنیا کے صف اول کے چند بڑے کلبوں کی نمائندگی کا اعزاز حاصل کیا۔ انہوں نے اسپین کے مشہور کلب بارسلونا اور اٹلی کے موقر کلب اے سی میلان کی جرسی پہن کر شاندار کھیل پیش کیا۔ ان کلبوں کے ساتھ ان کا سفر گولز اور ٹرافیز سے بھرا ہوا تھا جس نے انہیں دنیا بھر میں مقبولیت کی بلندیوں پر پہنچایا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے اپنا آخری مسابقتی میچ سنہ دو ہزار پندرہ میں برازیل کے مقامی کلب فلومینینسی کی طرف سے کھیلا تھا جس کے بعد انہوں نے آہستہ آہستہ مسابقتی سرگرمیوں سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی۔ اس طویل عرصے کے دوران وہ مختلف نمائشی میچوں اور دیگر تقریبات میں تو نظر آئے لیکن باضابطہ پروفیشنل فٹبال سے دور رہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخرکار انہوں نے سنہ دو ہزار اٹھارہ میں اپنے ریٹائرمنٹ کا باضابطہ اعلان کر کے اپنے شاندار کیریئر کے ایک باب کو حتمی شکل دی تھی۔ اس اعلان کے بعد تمام مداحوں نے ان کے طویل اور شاندار کیریئر کو زبردست خراج تحسین پیش کیا تھا۔ ان کے جانے سے فٹبال کے میدان میں ایک بڑا خلا پیدا ہو گیا تھا جو اب پر ہونے جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اطالوی کلب ریوینا نے رواں برس جون میں اس لیجنڈری کھلاڑی کو اپنے ساتھ منسلک کرنے کا عمل مکمل کیا تھا جس کے بعد ان کے تعلقات مزید گہرے ہو گئے۔ اس سلسلے میں رونالڈینہو نے نہ صرف کلب کے ساتھ معاہدہ کیا بلکہ اس میں اپنے حصص بھی حاصل کیے۔ اس مالی اور انتظامی اشتراک نے دونوں فریقین کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنیادیں فراہم کی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کلب کے موجودہ مالک اور رونالڈینہو کے قریبی دوست اگنازیو سیپرینی نے اس اقدام کے پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے اہم انکشافات کیے ہیں۔ ان کے مطابق اس فیصلے کا بنیادی مقصد شہر کے عام عوام اور مداحوں کو ٹیم کے مزید قریب لانا اور فٹبال کے کھیل کو فروغ دینا ہے۔ اس طرح کی بڑی شخصیات کی شمولیت سے مقامی سطح پر کھیل کی مقبولیت میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ سیزن میں ریوینا کی کارکردگی مجموعی طور پر تسلی بخش رہی ہے اور ٹیم پوائنٹس ٹیبل پر اچھی پوزیشن میں موجود ہے۔ یہ کلب فی الحال سیری سی گروپ بی میں بیس پوائنٹس کے ساتھ دوسرے نمبر پر براجمان ہے جو ایک قابل ذکر کارکردگی ہے۔ ٹیم مینجمنٹ کو امید ہے کہ رونالڈینہو کی موجودگی اس پوزیشن کو مزید مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کھیلوں کے تجزیہ کاروں اور مبصرین کا کہنا ہے کہ ایک طویل عرصے کے بعد اس درجے کے کھلاڑی کی واپسی عام بات نہیں ہے۔ اگرچہ ان کی عمر اب کھیل کے تقاضوں کے حساب سے زیادہ ہو چکی ہے تاہم ان کی قدرتی صلاحیتیں اور تجربہ اب بھی ٹیم کے لیے سودمند ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کی موجودگی نوجوان کھلاڑیوں کے لیے سیکھنے کا ایک بہترین موقع ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مداحوں میں اس خبر کے سامنے آنے کے بعد سے زبردست جوش و خروش پایا جا رہا ہے اور ٹکٹوں کی مانگ میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ شائقین فٹبال کا ماننا ہے کہ رونالڈینہو کا یہ میدان میں اترنا اطالوی فٹبال کی تاریخ کا ایک یادگار لمحہ ثابت ہوگا۔ تمام تر نگاہیں اب پندرہ نومبر کے اس بڑے مقابلے پر مرکوز ہیں جہاں یہ لیجنڈ کھلاڑی دوبارہ اپنے جوہر دکھائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/sports/%d8%a8%d8%b1%d8%a7%d8%b2%db%8c%d9%84%db%8c%d9%86-%d9%81%d9%b9%d8%a8%d8%a7%d9%84-%d9%84%db%8c%d8%ac%d9%86%da%88-%d8%b1%d9%88%d9%86%d8%a7%d9%84%da%88%db%8c%d9%86%db%81%d9%88-%da%a9%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>استنبول میں آٹھ ممالک کے وزرائے خارجہ کا اہم اجلاس، علاقائی امن پر زور</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a7%d8%b3%d8%aa%d9%86%d8%a8%d9%88%d9%84-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a2%d9%b9%da%be-%d9%85%d9%85%d8%a7%d9%84%da%a9-%da%a9%db%92-%d9%88%d8%b2%d8%b1%d8%a7%d8%a6%db%92/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a7%d8%b3%d8%aa%d9%86%d8%a8%d9%88%d9%84-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a2%d9%b9%da%be-%d9%85%d9%85%d8%a7%d9%84%da%a9-%da%a9%db%92-%d9%88%d8%b2%d8%b1%d8%a7%d8%a6%db%92/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Oct 2026 15:57:34 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اٹلی]]></category>
		<category><![CDATA[استنبول_اجلاس]]></category>
		<category><![CDATA[اسحاق_ڈار]]></category>
		<category><![CDATA[برطانیہ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_خارجہ_پالیسی]]></category>
		<category><![CDATA[ترکیہ]]></category>
		<category><![CDATA[جرمنی]]></category>
		<category><![CDATA[دفتر_خارجہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a7%d8%b3%d8%aa%d9%86%d8%a8%d9%88%d9%84-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a2%d9%b9%da%be-%d9%85%d9%85%d8%a7%d9%84%da%a9-%da%a9%db%92-%d9%88%d8%b2%d8%b1%d8%a7%d8%a6%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ترکیہ میں ہونے والے اجلاس میں شرکت کی اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">نائب وزیراعظم اور وفاقی وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے ترکیہ کے تاریخی اور ثقافتی مرکز استنبول کا اہم دورہ کیا ہے جہاں انہوں نے بین الاقوامی سطح پر ہونے والی ایک انتہائی اہم اور اعلیٰ سطحی سفارتی بیٹھک میں پاکستان کی بھرپور نمائندگی کی۔ وزارت خارجہ کے ترجمان کی جانب سے فراہم کردہ مصدقہ تفصیلات کے مطابق اس اجلاس میں پاکستان کے علاوہ ترکیہ، سعودی عرب اور مصر پر مشتمل اہم علاقائی ممالک کے وزرائے خارجہ نے بھی شرکت کی۔ اس کثیر الجہتی اجلاس کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں یورپی یونین اور خطے کے اہم ترین ممالک کے وزرائے خارجہ نے ایک پلیٹ فارم پر بیٹھ کر دنیا کے بدلتے ہوئے سیاسی اور معاشی منظر نامے پر تفصیلی غوروخوض کیا اور عالمی سفارت کاری میں ایک نئے باب کا آغاز کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">استنبول میں منعقد ہونے والے اس خصوصی اجلاس میں خلیجی خطے کی موجودہ پیچیدہ اور ابتر ہوتی ہوئی علاقائی صورتحال کا گہرائی سے جائزہ لیا گیا جس کے دوران شرکا نے خطے میں امن عامہ کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ سفارتی ذرائع کے مطابق اس اعلیٰ سطحی بیٹھک کا بنیادی مقصد خلیجی خطے میں رونما ہونے والے واقعات کے خطے کے تمام ممالک پر مرتب ہونے والے سماجی اور معاشی اثرات کا احاطہ کرنا تھا۔ اجلاس کے شرکا نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ موجودہ عالمی اور علاقائی حالات ایسے ہیں کہ جن میں کسی بھی قسم کی غفلت خطے کے معاشی اور سماجی ڈھانچے کو تباہ کر سکتی ہے لہذا اس کے تدارک کے لیے مشترکہ لائحہ عمل انتہائی ناگزیر ہو چکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس کے دوران تمام شرکا کا اس نکتے پر مکمل اتفاق پایا گیا کہ موجودہ غیر یقینی حالات میں خطے کے اندر امن، سلامتی اور پائیدار استحکام کو درپیش بڑے چیلنجز سے مؤثر انداز میں نبردآزما ہونے کے لیے سفارتی روابط کو فوری طور پر مزید فروغ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ وزرائے خارجہ نے اس امر پر زور دیا کہ موجودہ کشیدہ ماحول میں تنہائی کی پالیسی چھوڑ کر باہمی مشاورت کے عمل کو تیز کیا جائے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار حادثے یا بحران کو وقت سے پہلے روکا جا سکے۔ تمام ممالک کے نمائندوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ باہمی تعاون کو فروغ دے کر خطے کے عوام کو ایک پرامن اور خوشحال مستقبل فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہیں اور اس سلسلے میں کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترکیہ کی میزبانی میں منعقد ہونے والے اس اہم اجلاس میں پاکستان سمیت کل آٹھ ممالک کے وزرائے خارجہ نے شرکت کی اور دو طرفہ نیز کثیر جہتی علاقائی امور پر انتہائی کھل کر اور تعمیری انداز میں تبادلہ خیال کیا۔ اس اجلاس کی تمام کارروائی کا اصل محور اور مرکز خطے میں دیرپا امن کی بحالی تھا تاکہ جنگ اور کشیدگی کے سائے سے نکل کر ترقی کے راستے پر گامزن ہوا جا سکے۔ شرکا نے اس بات کو شدت سے محسوس کیا کہ موجودہ دور میں جنگیں کسی مسئلے کا حل نہیں ہیں بلکہ مذاکرات اور باہمی افہام و تفہیم ہی وہ واحد راستہ ہے جو تمام فریقین کو ایک قابل قبول منزل تک پہنچا سکتا ہے اور خطے کے غریب عوام کو مشکلات سے نجات دلوا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ کشیدہ ماحول میں سفارتی کوششوں کو انتہائی تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اجلاس کے شرکا نے اس بات کی ضرورت ظاہر کی کہ تنازعات کے پرامن حل کے لیے روایتی سفارت کاری کے ساتھ ساتھ غیر روایتی ثالثی کے ذرائع بھی بروئے کار لائے جائیں۔ وزرائے خارجہ کا اس بات پر اصرار تھا کہ تمام متنازعہ امور کو مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر حل کیا جانا چاہیے تاکہ معاشی سرگرمیوں کو کسی بھی قسم کے ناخوشگوار تعطل یا بحران سے بچایا جا سکے۔ شرکا نے اس بات کو تسلیم کیا کہ معیشت کی بحالی اور تجارت کا فروغ اسی صورت میں ممکن ہے جب خطے کے اندر امن اور سلامتی کی فضا بحال ہو گی اور سرمایہ کاروں کا اعتماد دوبارہ بحال کیا جا سکے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس اعلیٰ سطحی موقع پر پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اپنے روایتی قائدانہ انداز میں اجلاس کے تمام شرکا کو تفصیل کے ساتھ اس امر سے آگاہ کیا کہ پاکستان اس وقت خطے میں کشیدگی کو کم کرنے اور امن کی بحالی کے لیے کون کون سی سفارتی کوششیں انجام دے رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن اور سلامتی کے فروغ کو ترجیح دی ہے اور اس مقصد کے لیے پاکستان برادر اسلامی ممالک اور عالمی برادری کے ساتھ مل کر ثالثی کے حوالے سے کیا عملی اقدامات اٹھا رہا ہے۔ ان کے اس مؤقف کو اجلاس کے شرکا کی جانب سے انتہائی غور سے سنا گیا اور اسے سراہا گیا جس سے پاکستان کے سفارتی وزن اور اہمیت کا ایک بار پھر بین الاقوامی سطح پر اعتراف ہوا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کا اس پورے سفارتی عمل میں فعال اور مثبت کردار خطے میں اس کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان ایک ذمے دار ایٹمی ریاست کے طور پر خطے کے امن میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ وزارت خارجہ کی جانب سے باضابطہ طور پر جاری کردہ تفصیلی بیان میں اس بات کو نمایاں کیا گیا ہے کہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کا یہ کامیاب دورہ اور اس کثیر الجہتی اجلاس میں شرکت دراصل خطے میں امن کے قیام اور استحکام کی خاطر پاکستانی حکومت کی انتہائی سنجیدہ اور عملی کوششوں کا ایک واضح اور منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ دورہ اس بات کا غماز ہے کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کے تحت خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے کو تیار ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">استنبول کی اس اہم بین الاقوامی بیٹھک میں سعودی عرب، ترکیہ اور مصر جیسے اہم برادر ممالک کی موجودگی نے اس فورم کے وزن میں مزید اضافہ کر دیا ہے جبکہ فرانس، جرمنی، اٹلی اور برطانیہ جیسے یورپی ممالک کے وزرائے خارجہ کی شرکت نے اسے ایک عالمی نوعیت کا فورم بنا دیا ہے۔ اس اجلاس کے دوران ہونے والی طویل بات چیت اور مشاورت کے نتیجے میں اب یہ توقع کی جا رہی ہے کہ خلیجی خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے جو سفارتی کوششیں جاری ہیں انہیں ایک نئی رفتار اور توانائی ملے گی۔ سفارتی تجزیہ کاروں کے نزدیک اس قسم کے اجلاس دراصل پس پردہ رابطوں کو تیز کرنے اور فریقین کے درمیان پائے جانے والے خلیج کو کم کرنے میں انتہائی مددگار ثابت ہوتے ہیں اور اس سے طویل مدتی امن کی راہ ہموار ہوتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس کے اختتام پر جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے کی روح کے مطابق تمام ممالک نے اس عزم کو دہرایا کہ وہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کے تحت خطے میں امن اور سلامتی کی فضا کو بحال کرنے کے لیے پرعزم ہیں اور کسی بھی ایسی کارروائی کا حصہ نہیں بنیں گے جو کشیدگی میں اضافے کا سبب بنے۔ اس اجلاس کے انعقاد سے یہ بات بھی ثابت ہو گئی ہے کہ پاکستان کا وزارت خارجہ کا ادارہ اور موجودہ سیاسی قیادت ملک کے وقار اور علاقائی امن کے لیے انتہائی فعال انداز میں دن رات کام کر رہی ہے۔ اس نوعیت کے بین الاقوامی دورے اور ملاقاتیں پاکستان کی سفارتی تنہائی کو ختم کرنے اور اسے دنیا کے سامنے ایک امن پسند ملک کے طور پر پیش کرنے میں بہت بڑا کردار ادا کرتی ہیں جو ملک کے قومی مفاد کے عین مطابق ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a7%d8%b3%d8%aa%d9%86%d8%a8%d9%88%d9%84-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a2%d9%b9%da%be-%d9%85%d9%85%d8%a7%d9%84%da%a9-%da%a9%db%92-%d9%88%d8%b2%d8%b1%d8%a7%d8%a6%db%92/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>یورپ میں ویسٹ نائل وائرس کا پھیلاؤ، ہلاکتوں کی تعداد 150 کے قریب پہنچ گئی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/health/%db%8c%d9%88%d8%b1%d9%be-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%88%db%8c%d8%b3%d9%b9-%d9%86%d8%a7%d8%a6%d9%84-%d9%88%d8%a7%d8%a6%d8%b1%d8%b3-%da%a9%d8%a7-%d9%be%da%be%db%8c%d9%84%d8%a7%d8%a4/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/health/%db%8c%d9%88%d8%b1%d9%be-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%88%db%8c%d8%b3%d9%b9-%d9%86%d8%a7%d8%a6%d9%84-%d9%88%d8%a7%d8%a6%d8%b1%d8%b3-%da%a9%d8%a7-%d9%be%da%be%db%8c%d9%84%d8%a7%d8%a4/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 15 Oct 2026 19:36:57 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[صحت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اٹلی]]></category>
		<category><![CDATA[اموات]]></category>
		<category><![CDATA[بیماری]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[طب]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی_صحت]]></category>
		<category><![CDATA[علاج]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[فرانس]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/health/%db%8c%d9%88%d8%b1%d9%be-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%88%db%8c%d8%b3%d9%b9-%d9%86%d8%a7%d8%a6%d9%84-%d9%88%d8%a7%d8%a6%d8%b1%d8%b3-%da%a9%d8%a7-%d9%be%da%be%db%8c%d9%84%d8%a7%d8%a4/</guid>

					<description><![CDATA[یورپی ممالک میں مچھروں سے پھیلنے والے وائرس کے کیسز میں ریکارڈ اضافہ، صحت کے اداروں نے تشویش کا اظہار کر دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">یورپ بھر میں ویسٹ نائل وائرس کے کیسز میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کے نتیجے میں رواں برس اب تک ہلاکتوں کی تعداد 150 کے قریب پہنچ چکی ہے۔ یورپی ادارہ برائے انسداد امراض نے صورتحال کو سنگین قرار دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یورپی فوڈ سیفٹی اتھارٹی اور یورپی سینٹر فار ڈیزیز پریوینشن اینڈ کنٹرول کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، سال 2026 کے آغاز سے اب تک براعظم کے 18 ممالک میں وائرس کے پھیلاؤ کی تصدیق ہو چکی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹ کے مطابق اب تک متاثرہ افراد کی کل تعداد 1855 تک جا پہنچی ہے، جن میں سے 141 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ یہ تعداد گزشتہ ایک دہائی کے دوران ریکارڈ کیے گئے اوسط کیسز سے کہیں زیادہ ہے جو کہ تشویش کا باعث ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یورپی حکام کا کہنا ہے کہ ستمبر کے بعد سے اب تک 769 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وائرس کا پھیلاؤ تاحال رکنے کا نام نہیں لے رہا۔ اس صورتحال نے صحت عامہ کے اداروں کو الرٹ کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یورپی یونین اور یورپی اکنامک ایریا میں کیسز کی مجموعی تعداد 1715 تک پہنچ چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ تعداد گزشتہ برسوں کے مقابلے میں غیر معمولی ہے اور وائرس کے پھیلاؤ کی رفتار نے تمام سابقہ ریکارڈز کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متاثرہ ممالک میں اٹلی سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں اب تک 748 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ یونان میں 445 اور فرانس میں 144 افراد کے متاثر ہونے کی تصدیق کی گئی ہے، جہاں انتظامیہ حفاظتی اقدامات کر رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یورپی فوڈ سیفٹی اتھارٹی کی سائنسی افسر گیوسی امورے نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس سال یورپ میں ویسٹ نائل وائرس کی سطح ریکارڈ بلندی پر ہے۔ انسانوں اور جانوروں میں اس کا پھیلاؤ ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ویسٹ نائل وائرس بنیادی طور پر مچھروں کے کاٹنے سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ مچھروں کی افزائش کو روکنے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے ہی اس وائرس کے پھیلاؤ کو قابو میں لایا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صحت کے عالمی اداروں نے یورپی شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ مچھروں سے بچاؤ کے لیے خصوصی احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ خاص طور پر کھڑے پانی کو ختم کرنا اور مچھر دانی کا استعمال اس وائرس سے بچاؤ میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں مچھر مار اسپرے اور آگاہی مہمات کا سلسلہ بھی تیز کر دیا گیا ہے۔ طبی ماہرین نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ بخار یا علامات ظاہر ہونے پر فوری طور پر قریبی طبی مرکز سے رجوع کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یورپی یونین کے ممالک اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے باہمی تعاون بڑھا رہے ہیں۔ مختلف ممالک کے درمیان ڈیٹا کا تبادلہ کیا جا رہا ہے تاکہ وائرس کے پھیلاؤ کے نمونوں کو سمجھ کر بروقت تدارک کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں اور درجہ حرارت میں اضافے کے باعث مچھروں کی افزائش کے لیے سازگار ماحول پیدا ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے یورپ جیسے خطوں میں بھی ایسے وائرس تیزی سے پھیل رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/health/%db%8c%d9%88%d8%b1%d9%be-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%88%db%8c%d8%b3%d9%b9-%d9%86%d8%a7%d8%a6%d9%84-%d9%88%d8%a7%d8%a6%d8%b1%d8%b3-%da%a9%d8%a7-%d9%be%da%be%db%8c%d9%84%d8%a7%d8%a4/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>روم سے پرتھ جانے والی پرواز میں کھٹملوں کی موجودگی، طیارہ واپس اتر گیا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/%d8%b1%d9%88%d9%85-%d8%b3%db%92-%d9%be%d8%b1%d8%aa%da%be-%d8%ac%d8%a7%d9%86%db%92-%d9%88%d8%a7%d9%84%db%8c-%d9%be%d8%b1%d9%88%d8%a7%d8%b2-%d9%85%db%8c%da%ba/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/%d8%b1%d9%88%d9%85-%d8%b3%db%92-%d9%be%d8%b1%d8%aa%da%be-%d8%ac%d8%a7%d9%86%db%92-%d9%88%d8%a7%d9%84%db%8c-%d9%be%d8%b1%d9%88%d8%a7%d8%b2-%d9%85%db%8c%da%ba/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 13 Oct 2026 23:37:33 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آسٹریلیا]]></category>
		<category><![CDATA[اٹلی]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[ایوی_ایشن]]></category>
		<category><![CDATA[بوئنگ_787]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_پرواز]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پرتھ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d8%b1%d9%88%d9%85-%d8%b3%db%92-%d9%be%d8%b1%d8%aa%da%be-%d8%ac%d8%a7%d9%86%db%92-%d9%88%d8%a7%d9%84%db%8c-%d9%be%d8%b1%d9%88%d8%a7%d8%b2-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%a9%da%be%d9%b9%d9%85%d9%84%d9%88%da%ba/</guid>

					<description><![CDATA[آسٹریلوی فضائی کمپنی قنطاس کی پرواز کے دوران اکانومی کلاس میں کھٹمل پائے گئے جس کے بعد طیارے کو واپس روم بلایا گیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">فضائی سفر کے دوران مسافروں کو مختلف قسم کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، تاہم حال ہی میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے سب کو حیران کر دیا۔ آسٹریلیا کی معروف فضائی کمپنی قنطاس کی ایک پرواز کے دوران طیارے کے اندر کھٹملوں کی موجودگی کی اطلاع ملی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ واقعہ 9 اکتوبر کو پیش آیا جب قنطاس کی پرواز بوئنگ 787 ڈریم لائنر کے ذریعے اطالوی دارالحکومت روم سے آسٹریلیا کے شہر پرتھ کے لیے روانہ ہوئی۔ پرواز کے دوران مسافروں کو اکانومی سیکشن میں کھٹملوں کی موجودگی کا علم ہوا جس سے شدید تشویش پیدا ہوئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">طیارے کے اندر کیڑوں کی موجودگی کی تصدیق ہوتے ہی عملے نے فوری طور پر صورتحال کا جائزہ لیا۔ مسافروں کی صحت اور آرام کو مدنظر رکھتے ہوئے پائلٹ نے طیارے کو واپس روم کی جانب موڑنے کا فیصلہ کیا تاکہ اس مسئلے کا بروقت تدارک کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اطالوی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق طیارہ بحفاظت واپس روم پہنچ گیا جہاں اسے فوری طور پر صفائی کے عمل کے لیے گراؤنڈ کر دیا گیا۔ اس غیر معمولی واقعے کے باعث 10 اکتوبر کو شیڈول کی گئی پرواز کو بھی منسوخ کرنا پڑا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قنطاس کے ترجمان نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ طیارے کی مکمل صفائی اور جراثیم کشی کے لیے اسے عارضی طور پر سروس سے ہٹایا گیا ہے۔ ترجمان کے مطابق اس عمل کا مقصد کھٹملوں کے مسئلے پر مکمل طور پر قابو پانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فضائی کمپنی کی جانب سے متاثرہ مسافروں سے اس واقعے پر معذرت کا اظہار کیا گیا ہے۔ ترجمان نے مزید بتایا کہ تمام متاثرہ مسافروں کو متبادل پروازوں کی سہولت فراہم کی گئی ہے جبکہ انہیں قیام و طعام کے لیے بھی ہر ممکن مدد دی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اگرچہ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ کیڑے طیارے کے اندر کیسے پہنچے، تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ یہ کسی مسافر کے سامان یا لباس کے ذریعے طیارے میں منتقل ہوئے ہوں گے۔ کھٹملوں کا کسی بھی جگہ سے خاتمہ ایک مشکل عمل سمجھا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ کھٹمل بیڈ اور فرنیچر جیسی جگہوں پر چھپنے میں ماہر ہوتے ہیں اور انسانی خون پر گزارا کرتے ہیں۔ طیارے جیسے محدود اور بند ماحول میں ان کی موجودگی مسافروں کے لیے انتہائی تکلیف دہ اور غیر آرام دہ ثابت ہو سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">طیارے کی مکمل صفائی کے بعد اسے دوبارہ معمول کی پروازوں کے لیے بحال کر دیا جائے گا۔ مسافروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے سامان کی پیکنگ کے دوران احتیاط برتیں تاکہ اس طرح کے ناخوشگوار واقعات کا سدباب کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس واقعے نے عالمی سطح پر فضائی کمپنیوں کے لیے صفائی ستھرائی کے معیارات پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔ مسافروں کی جانب سے بھی اس معاملے پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور بہتر حفاظتی اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ فضائی سفر کے دوران حفظان صحت کے اصولوں پر عمل درآمد کتنا ضروری ہے۔ قنطاس کی جانب سے بروقت فیصلے نے مسافروں کو مزید پریشانی سے بچایا اور طیارے کو مکمل طور پر صاف کرنے کا موقع فراہم کیا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/%d8%b1%d9%88%d9%85-%d8%b3%db%92-%d9%be%d8%b1%d8%aa%da%be-%d8%ac%d8%a7%d9%86%db%92-%d9%88%d8%a7%d9%84%db%8c-%d9%be%d8%b1%d9%88%d8%a7%d8%b2-%d9%85%db%8c%da%ba/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>اٹلی میں شراب کی بڑی چوری، ایک ارب روپے سے زائد مالیت کی بوتلیں غائب</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a7%d9%b9%d9%84%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b4%d8%b1%d8%a7%d8%a8-%da%a9%db%8c-%d8%a8%da%91%db%8c-%da%86%d9%88%d8%b1%db%8c-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%a7%d8%b1%d8%a8-%d8%b1%d9%88%d9%be%db%92/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a7%d9%b9%d9%84%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b4%d8%b1%d8%a7%d8%a8-%da%a9%db%8c-%d8%a8%da%91%db%8c-%da%86%d9%88%d8%b1%db%8c-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%a7%d8%b1%d8%a8-%d8%b1%d9%88%d9%be%db%92/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 10:37:21 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اٹلی]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[ٹسکنی]]></category>
		<category><![CDATA[جرائم]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سکیورٹی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/129/</guid>

					<description><![CDATA[ٹسکنی میں واقع معروف وائنری سے نقاب پوش گروہ نے جدید سکیورٹی نظام کو ناکارہ بنا کر تیس ہزار قیمتی بوتلیں ٹرکوں میں لاد کر فرار ہونے میں کامیابی حاصل کر لی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اٹلی کے علاقے ٹسکنی میں واقع ایک تاریخی اور معروف وائنری &#039;مارکیزی انتینوری&#039; میں چوری کی ایک بڑی واردات پیش آئی ہے، جس میں تقریباً پچاس لاکھ یورو یعنی ایک ارب پچپن کروڑ پاکستانی روپے سے زائد مالیت کی شراب چوری کر لی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس واردات میں کم از کم سات نقاب پوش افراد ملوث تھے، جنہوں نے انتہائی مہارت اور منصوبہ بندی کے ساتھ کارروائی کو انجام دیا۔ چوروں نے سب سے پہلے گودام کے الارم سسٹم کو غیر فعال کیا اور نگرانی کے لیے نصب کیمروں کو بند کر دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سکیورٹی نظام کو ناکارہ بنانے کے بعد ملزمان نے کمپنی کی فورک لفٹ مشینوں کا استعمال کرتے ہوئے نہایت اطمینان سے دو بڑے ٹرکوں میں شراب کی تیس ہزار بوتلیں لوڈ کیں۔ یہ بوتلیں بیرونِ ملک برآمد کے لیے تیار کی گئی تھیں اور انہیں گودام سے نکال کر فرار ہو گئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کمپنی کے چیف ایگزیکٹو رینزو کوٹاریلا نے اطالوی اخبار کو دیے گئے بیان میں اس واقعے کو اٹلی میں اپنی نوعیت کی سب سے بڑی چوری قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتنی بڑی مالیت اور اتنے بڑے پیمانے پر چوری کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چوری ہونے والی شراب میں ٹگنانیلو، سولائیا اور گواڈو ال تاسّو جیسے مہنگے اور معروف برانڈز شامل ہیں۔ کمپنی کا اندازہ ہے کہ ان میں سے ہر بوتل کی قیمت 150 سے 500 یورو کے درمیان ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چوروں کو شراب کے معیار اور قیمت کی مکمل معلومات تھیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رینزو کوٹاریلا نے مزید کہا کہ اس بات کا امکان موجود ہے کہ ملزمان کو گودام کے اندرونی معاملات اور سکیورٹی انتظامات کے بارے میں پہلے سے معلومات حاصل تھیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکام ٹسکنی کی سڑکوں پر موجود کیمروں کی مدد سے چوروں کا سراغ لگا لیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کمپنی انتظامیہ کو اس واردات کا علم پیر کی صبح ہوا جب عملہ معمول کے مطابق کام پر پہنچا۔ تاحال کسی بھی ملزم کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے، تاہم اطالوی پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مارکیزی انتینوری ایک قدیم کمپنی ہے جس کی بنیاد 1385 میں رکھی گئی تھی۔ یہ کمپنی دنیا کے 170 ممالک کو اپنی مصنوعات برآمد کرتی ہے اور گزشتہ برس اس کی آمدنی 26 کروڑ 30 لاکھ یورو کے قریب رہی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اٹلی میں شراب کی چوری کے واقعات میں حالیہ عرصے میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس سے قبل شمالی علاقے پیڈمونٹ میں بھی شراب کی چوری کی دو بڑی وارداتیں رپورٹ ہو چکی ہیں جن میں لاکھوں یورو مالیت کی بوتلیں چوری کی گئی تھیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ چوری کسی منظم گروہ کی کارروائی ہے یا اس کے پیچھے کوئی بین الاقوامی نیٹ ورک ملوث ہے۔ سڑکوں پر موجود سی سی ٹی وی فوٹیج کا تجزیہ کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس واردات نے اٹلی کی شراب کی صنعت میں سکیورٹی کے انتظامات پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ معروف برانڈز کی حفاظت کے لیے اب کمپنیوں کی جانب سے مزید سخت اقدامات اٹھائے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فی الحال کمپنی کی جانب سے کسی بھی قسم کے نقصان کے ازالے کے لیے انشورنس اور قانونی کارروائی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ حکام نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ اگر انہیں مشکوک سرگرمیوں کے بارے میں معلومات ملیں تو فوری اطلاع دیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a7%d9%b9%d9%84%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b4%d8%b1%d8%a7%d8%a8-%da%a9%db%8c-%d8%a8%da%91%db%8c-%da%86%d9%88%d8%b1%db%8c-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%a7%d8%b1%d8%a8-%d8%b1%d9%88%d9%be%db%92/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ایف آئی اے کی بروقت کارروائی، عمرہ کے نام پر انسانی اسمگلنگ کا نیا روٹ بے نقاب</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a7%db%8c%d9%81-%d8%a2%d8%a6%db%8c-%d8%a7%db%92-%da%a9%db%8c-%d8%a8%d8%b1%d9%88%d9%82%d8%aa-%da%a9%d8%a7%d8%b1%d8%b1%d9%88%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d8%b9%d9%85%d8%b1%db%81-%da%a9%db%92/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a7%db%8c%d9%81-%d8%a2%d8%a6%db%8c-%d8%a7%db%92-%da%a9%db%8c-%d8%a8%d8%b1%d9%88%d9%82%d8%aa-%da%a9%d8%a7%d8%b1%d8%b1%d9%88%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d8%b9%d9%85%d8%b1%db%81-%da%a9%db%92/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 08:17:15 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اٹلی]]></category>
		<category><![CDATA[امیگریشن]]></category>
		<category><![CDATA[انسانی_اسمگلنگ]]></category>
		<category><![CDATA[ایف_آئی_اے]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[سیکیورٹی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[عمرہ_اسمگلنگ]]></category>
		<category><![CDATA[غیر_قانونی_ہجرت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/95/</guid>

					<description><![CDATA[کراچی ایئرپورٹ پر دو مسافروں کو آف لوڈ کر کے انسانی اسمگلنگ کے ایک بڑے نیٹ ورک کا سراغ لگا لیا گیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) امیگریشن نے کراچی ایئرپورٹ پر ایک اہم کارروائی کرتے ہوئے انسانی اسمگلنگ کے ایک نئے اور خطرناک روٹ کا انکشاف کیا ہے۔ حکام نے عمرہ کے سفر پر روانہ ہونے والے دو مسافروں کو مشکوک پائے جانے پر آف لوڈ کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایف آئی اے کے مطابق گرفتار ہونے والے مسافروں کی شناخت اعظم علی اور محمد سفیان کے نام سے ہوئی ہے۔ ابتدائی پوچھ گچھ کے دوران ان افراد نے انکشاف کیا کہ انہیں عمرہ کے نام پر یورپ اسمگل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مسافروں نے بتایا کہ مبینہ ایجنٹ نے انہیں سعودی عرب پہنچانے کے بعد وہاں سے مصر اور پھر لیبیا لے جانے کا منصوبہ تیار کیا تھا۔ لیبیا سے انہیں سمندری راستے کے ذریعے کشتیوں میں بٹھا کر غیر قانونی طور پر اٹلی پہنچایا جانا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تفتیشی ٹیموں کو معلوم ہوا ہے کہ اس غیر قانونی سفر کے لیے گجرات کے رہائشی ابوبکر نامی ایجنٹ کے ساتھ 40 لاکھ روپے کا سودا طے پایا تھا۔ مسافروں نے اب تک ایجنٹ کو 5 لاکھ روپے کی ادائیگی کرنے کا اعتراف بھی کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایف آئی اے نے مالی لین دین کے ثبوت کے طور پر ادائیگی کے اسکرین شاٹس بھی حاصل کر لیے ہیں۔ حکام نے ایجنٹ کا رابطہ نمبر حاصل کر کے اس کے نیٹ ورک اور دیگر ملوث افراد کی تلاش کے لیے تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دونوں مسافروں کو مزید تفتیش اور قانونی کارروائی مکمل کرنے کے لیے ایف آئی اے کے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل (AHTC) کراچی کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ حکام اس نیٹ ورک کے تمام کرداروں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے پرعزم ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ انسانی اسمگلنگ میں ملوث عناصر سادہ لوح شہریوں کو غیر محفوظ سمندری راستوں پر ڈال کر اپنی جیبیں بھر رہے ہیں۔ شہریوں کو ایسے غیر قانونی سفری منصوبوں سے بچانے کے لیے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ادارے کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ غیر قانونی ہجرت نہ صرف ملکی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ انسانی جانوں کے لیے بھی شدید خطرہ ہے۔ اس طرح کے نیٹ ورکس کے خلاف کریک ڈاؤن کا سلسلہ جاری رہے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماضی میں بھی ایف آئی اے نے انسانی اسمگلنگ کے خلاف کئی کامیاب کارروائیاں کی ہیں۔ ایجنٹس اکثر بیرون ملک ملازمت یا بہتر مستقبل کا جھانسہ دے کر شہریوں کو خطرناک راستوں پر دھکیل دیتے ہیں، جس سے اکثر قیمتی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت پاکستان نے انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے ایف آئی اے کو خصوصی ہدایات جاری کر رکھی ہیں۔ ایئرپورٹس اور دیگر سرحدی مقامات پر امیگریشن کے عمل کو مزید سخت اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایف آئی اے نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر قانونی ایجنٹس کے جھانسے میں نہ آئیں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ حکام کو دیں۔ قانونی سفری دستاویزات کے بغیر بیرون ملک جانے کی کوشش نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس واقعے کے بعد کراچی ایئرپورٹ پر سیکیورٹی اور امیگریشن کے عملے کو مزید الرٹ کر دیا گیا ہے۔ ایجنٹس کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کے لیے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر مزید چھاپے مارے جانے کا بھی امکان ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تفتیشی حکام اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ ایجنٹ کسی منظم گروہ کا حصہ ہے جو طویل عرصے سے اس روٹ کو استعمال کر رہا ہے۔ اس نیٹ ورک کے سہولت کاروں کی نشاندہی کے لیے جدید سائنسی طریقے استعمال کیے جا رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a7%db%8c%d9%81-%d8%a2%d8%a6%db%8c-%d8%a7%db%92-%da%a9%db%8c-%d8%a8%d8%b1%d9%88%d9%82%d8%aa-%da%a9%d8%a7%d8%b1%d8%b1%d9%88%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d8%b9%d9%85%d8%b1%db%81-%da%a9%db%92/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
