<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.29.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>اوورسیز_پاکستانی &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%a7%d9%88%d9%88%d8%b1%d8%b3%db%8c%d8%b2_%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%db%8c/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sun, 01 Nov 2026 11:13:44 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>اوورسیز_پاکستانی &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>بیرون ملک ملازمت کے خواہشمند افراد کے لیے اہم ہدایات جاری</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a8%db%8c%d8%b1%d9%88%d9%86-%d9%85%d9%84%da%a9-%d9%85%d9%84%d8%a7%d8%b2%d9%85%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%88%d8%a7%db%81%d8%b4%d9%85%d9%86%d8%af-%d8%a7%d9%81%d8%b1%d8%a7%d8%af/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a8%db%8c%d8%b1%d9%88%d9%86-%d9%85%d9%84%da%a9-%d9%85%d9%84%d8%a7%d8%b2%d9%85%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%88%d8%a7%db%81%d8%b4%d9%85%d9%86%d8%af-%d8%a7%d9%81%d8%b1%d8%a7%d8%af/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 01 Nov 2026 11:13:44 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[امیگریشن]]></category>
		<category><![CDATA[اوورسیز_ایمپلائمنٹ]]></category>
		<category><![CDATA[اوورسیز_پاکستانی]]></category>
		<category><![CDATA[بیورو_آف_امیگریشن]]></category>
		<category><![CDATA[پاسپورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_شہری]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزگار]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سفری_دستاویزات]]></category>
		<category><![CDATA[شناختی_کارڈ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[ملازمت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a8%db%8c%d8%b1%d9%88%d9%86-%d9%85%d9%84%da%a9-%d9%85%d9%84%d8%a7%d8%b2%d9%85%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%88%d8%a7%db%81%d8%b4%d9%85%d9%86%d8%af-%d8%a7%d9%81%d8%b1%d8%a7%d8%af/</guid>

					<description><![CDATA[بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ نے بیرون ملک سفر سے قبل سفری و سرکاری دستاویزات میں کوائف کی درستگی یقینی بنانے کی ہدایت کر دی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ نے بیرون ملک ملازمت کے لیے جانے والے پاکستانی شہریوں کے لیے اہم ہدایات جاری کی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ سفر سے قبل اپنے تمام سرکاری اور سفری کاغذات میں نام، والد کے نام اور دیگر کوائف کے درست اندراج کی تصدیق کرنا انتہائی ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بیورو کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاسپورٹ، ویزا یا ملازمت کی درخواست جمع کروانے سے پہلے یہ یقینی بنائیں کہ تمام دستاویزات میں کوائف یکساں ہیں۔ انگریزی ہجے میں معمولی فرق یا تاریخ پیدائش میں غلطی بیرون ملک پہنچ کر سنگین مشکلات کا باعث بن سکتی ہے، جس سے امیگریشن اور بینکنگ کے امور متاثر ہو سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اعلامیے کے مطابق، پاسپورٹ کو بنیادی دستاویز قرار دیتے ہوئے ہدایت کی گئی ہے کہ تمام کوائف کا موازنہ قومی شناختی کارڈ (CNIC) اور تعلیمی اسناد سے کیا جائے۔ کسی بھی قسم کی تصحیح کے لیے صرف مجاز سرکاری دفاتر سے رابطہ کریں اور ایجنٹس کے زبانی دلاسوں پر انحصار نہ کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بیورو نے تاکید کی ہے کہ فارم پر دستخط کرنے سے پہلے تمام تفصیلات کو خود چیک کریں اور کسی بھی دستاویز میں خود سے ردوبدل یا وائٹنر کا استعمال نہ کریں۔ مزید رہنمائی اور اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز کے لائسنس کی تصدیق کے لیے بیورو کی آفیشل ویب سائٹ وزٹ کی جا سکتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a8%db%8c%d8%b1%d9%88%d9%86-%d9%85%d9%84%da%a9-%d9%85%d9%84%d8%a7%d8%b2%d9%85%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%88%d8%a7%db%81%d8%b4%d9%85%d9%86%d8%af-%d8%a7%d9%81%d8%b1%d8%a7%d8%af/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پاسبان ریمیٹنس ریوارڈز اسکیم: 16 ارب روپے کے انعامات جیتنے کا طریقہ کار واضح</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/%d9%be%d8%a7%d8%b3%d8%a8%d8%a7%d9%86-%d8%b1%db%8c%d9%85%db%8c%d9%b9%d9%86%d8%b3-%d8%b1%db%8c%d9%88%d8%a7%d8%b1%da%88%d8%b2-%d8%a7%d8%b3%da%a9%db%8c%d9%85-16-%d8%a7%d8%b1%d8%a8/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/%d9%be%d8%a7%d8%b3%d8%a8%d8%a7%d9%86-%d8%b1%db%8c%d9%85%db%8c%d9%b9%d9%86%d8%b3-%d8%b1%db%8c%d9%88%d8%a7%d8%b1%da%88%d8%b2-%d8%a7%d8%b3%da%a9%db%8c%d9%85-16-%d8%a7%d8%b1%d8%a8/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 29 Oct 2026 13:14:55 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹاک_ایکسچینج]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹیٹ_بینک]]></category>
		<category><![CDATA[انعامی_اسکیم]]></category>
		<category><![CDATA[اوورسیز_پاکستانی]]></category>
		<category><![CDATA[بیرون_ملک_پاکستانی]]></category>
		<category><![CDATA[بینکنگ]]></category>
		<category><![CDATA[پاسبان_اسکیم]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹرول]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d9%be%d8%a7%d8%b3%d8%a8%d8%a7%d9%86-%d8%b1%db%8c%d9%85%db%8c%d9%b9%d9%86%d8%b3-%d8%b1%db%8c%d9%88%d8%a7%d8%b1%da%88%d8%b2-%d8%a7%d8%b3%da%a9%db%8c%d9%85-16-%d8%a7%d8%b1%d8%a8/</guid>

					<description><![CDATA[اسٹیٹ بینک کی سرپرستی میں شروع ہونے والی اسکیم کے تحت بیرون ملک سے قانونی ذرائع سے رقم بھجوانے والے پاکستانی انعامات کے حقدار ہوں گے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے شروع کی گئی &#039;پاسبان ریمیٹنس ریوارڈز اسکیم&#039; کے حوالے سے اہم تفصیلات جاری کر دی گئی ہیں۔ اس اسکیم کا بنیادی مقصد قانونی ذرائع سے ترسیلاتِ زر کو فروغ دینا ہے، جس کے تحت سالانہ 16 ارب روپے کے نقد انعامات تقسیم کیے جائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسکیم کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس میں شمولیت کے لیے کسی قسم کی رجسٹریشن، ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے یا فیس ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بیرون ملک سے قانونی ذرائع کے ذریعے رقم وصول کرنے والے تمام اہل افراد خود بخود اس قرعہ اندازی کا حصہ بن جائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسکیم میں اہلیت برقرار رکھنے کے لیے &#039;تین ماہ کی شرط&#039; کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس کے مطابق، ایک ہی اکاؤنٹ میں سہ ماہی کے دوران ہر ماہ کم از کم 100 امریکی ڈالر کے مساوی رقم وصول ہونا ضروری ہے۔ اگر کوئی صارف صرف ایک ماہ رقم وصول کرتا ہے اور باقی دو ماہ ترسیلات نہیں آتی تو وہ قرعہ اندازی کے لیے نااہل تصور ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسکیم کا آغاز یکم اکتوبر 2026 سے ہو چکا ہے، جس کی پہلی سہ ماہی 31 دسمبر 2026 کو مکمل ہوگی۔ اس کے بعد پہلی قرعہ اندازی 15 جنوری 2027 کو منعقد کی جائے گی۔ کامیاب ہونے والے خوش نصیبوں کو انعامی رقم ان کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کر دی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انعامات کی تقسیم کے لیے مختلف خطوں کا کوٹہ مقرر کیا گیا ہے۔ خلیجی ممالک (GCC) کے لیے 50 فیصد، برطانیہ کے لیے 15 فیصد، یورپ کے لیے 15 فیصد، جبکہ شمالی امریکا اور دیگر ممالک کے لیے 10، 10 فیصد کا کوٹہ مختص کیا گیا ہے۔ تاہم، پہلا انعام تمام خطوں کے لیے یکساں طور پر کھلا رکھا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسکیم کے تحت بننے والی انٹریاں خودکار طریقے سے ون لنک کے ذریعے تیار کی جائیں گی۔ ہر 100 ڈالر کی ترسیل پر ایک انٹری شمار ہوگی اور انٹریوں کی تعداد پر کوئی حد مقرر نہیں کی گئی ہے۔ تاہم، یہ انٹریاں عارضی ہوں گی اور سہ ماہی ختم ہونے پر اگلی سہ ماہی میں منتقل نہیں ہوں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بینکنگ حکام نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ انعام کے نام پر کسی بھی قسم کی فیس یا رقم کا مطالبہ کرنے والے افراد سے ہوشیار رہیں۔ کسی بھی شخص کے ساتھ اپنا او ٹی پی (OTP)، پن (PIN) یا بینک پاس ورڈ ہرگز شیئر نہ کریں اور اپنی بینکنگ معلومات کو اپ ڈیٹ رکھیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسکیم کے تمام تر اخراجات شریک بینک اپنے وسائل سے ادا کریں گے، جس کا مطلب ہے کہ قومی خزانے پر اس کا کوئی بوجھ نہیں پڑے گا۔ یہ اقدام پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے اشتراک سے عمل میں لایا گیا ہے تاکہ ترسیلاتِ زر میں اضافہ کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قرعہ اندازی کے کامیاب افراد کو انعام والے ماہ کی 21 تاریخ تک رقم ان کے بینک اکاؤنٹ میں پاکستانی روپے میں منتقل کر دی جائے گی۔ اس رقم پر قابلِ اطلاق ودہولڈنگ ٹیکس کی کٹوتی قانون کے مطابق کی جائے گی، جس سے متعلق صارفین کو آگاہ رکھا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسکیم میں شامل ہونے کے لیے کسی بھی قسم کی درخواست دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہر اہل ترسیلِ زر کی ڈالر کے مساوی رقم کو قریب ترین 100 ڈالر تک راؤنڈ کر کے ون لنک کے ذریعے خودکار طور پر انٹریاں تیار کی جاتی ہیں، جو شفافیت کو یقینی بناتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اگر کسی صارف کو سیکیورٹی یا کسی مشکوک سرگرمی کا سامنا ہو تو اسے فوری طور پر اپنے متعلقہ بینک سے رابطہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ بینکنگ حکام نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی قسم کی فراڈ یا منسوخ شدہ ٹرانزیکشنز کو اس اسکیم میں شامل نہیں کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ اسکیم بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے ایک بہترین موقع ہے کہ وہ قانونی ذرائع سے رقم بھجوا کر نہ صرف ملکی معیشت کو مستحکم کریں بلکہ انعامات جیتنے کا موقع بھی حاصل کریں۔ تمام متعلقہ معلومات بینکوں کی ویب سائٹس پر بھی دستیاب ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/%d9%be%d8%a7%d8%b3%d8%a8%d8%a7%d9%86-%d8%b1%db%8c%d9%85%db%8c%d9%b9%d9%86%d8%b3-%d8%b1%db%8c%d9%88%d8%a7%d8%b1%da%88%d8%b2-%d8%a7%d8%b3%da%a9%db%8c%d9%85-16-%d8%a7%d8%b1%d8%a8/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>بیرون ملک ملازمت کے خواہشمند پاکستانیوں کے لیے سرکاری پورٹل فعال</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a8%db%8c%d8%b1%d9%88%d9%86-%d9%85%d9%84%da%a9-%d9%85%d9%84%d8%a7%d8%b2%d9%85%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%88%d8%a7%db%81%d8%b4%d9%85%d9%86%d8%af/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a8%db%8c%d8%b1%d9%88%d9%86-%d9%85%d9%84%da%a9-%d9%85%d9%84%d8%a7%d8%b2%d9%85%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%88%d8%a7%db%81%d8%b4%d9%85%d9%86%d8%af/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 22:36:38 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آن_لائن_سہولت]]></category>
		<category><![CDATA[امیگریشن]]></category>
		<category><![CDATA[اوورسیز_پاکستانی]]></category>
		<category><![CDATA[بیرون_ملک_ملازمت]]></category>
		<category><![CDATA[بیورو_آف_ایمیگریشن]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_شہری]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزگار]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ریکروٹنگ_ایجنسی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a8%db%8c%d8%b1%d9%88%d9%86-%d9%85%d9%84%da%a9-%d9%85%d9%84%d8%a7%d8%b2%d9%85%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%88%d8%a7%db%81%d8%b4%d9%85%d9%86%d8%af/</guid>

					<description><![CDATA[بیورو آف ایمیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ نے بیرون ملک ملازمتوں کی تصدیق اور تلاش کے لیے آن لائن پورٹل متعارف کروا دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد میں بیورو آف ایمیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ نے بیرون ملک ملازمت کے متلاشی پاکستانی شہریوں کی سہولت کے لیے ایک جامع سرکاری پورٹل فعال کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد شہریوں کو غیر ملکی ملازمتوں کے حصول میں شفافیت فراہم کرنا اور انہیں ممکنہ دھوکہ دہی سے محفوظ رکھنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس آن لائن پورٹل کے ذریعے شہری بیرون ملک دستیاب ہزاروں ملازمتوں کی تفصیلات تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ پورٹل کی سب سے اہم خصوصیت ریکروٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے پیش کردہ ملازمتوں کی تصدیق کا نظام ہے، جس سے امیدواروں کو ملازمت کی اصلیت جانچنے میں مدد ملتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سرکاری ضابطہ اخلاق کے مطابق، ہر ملازمت کے لیے ایک باقاعدہ اجازت نامہ جاری کیا جاتا ہے۔ پروٹیکٹر آف ایمیگرنٹس لائسنس یافتہ ریکروٹنگ ایجنسیوں کو غیر ملکی آجروں کی جانب سے فراہم کردہ دستاویزات کی مکمل جانچ پڑتال کے بعد ہی بھرتی کی اجازت دیتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دستاویزات کی تصدیق کا عمل بین الاقوامی قوانین اور امیگریشن رولز 1979 کے تحت کیا جاتا ہے۔ اس عمل میں متعلقہ ملک کے سفارت خانے، پاکستانی سفارت خانے یا متعلقہ ملک کی وزارت خارجہ کا کردار کلیدی ہوتا ہے تاکہ ملازمت کی پیشکش کو قانونی حیثیت حاصل ہو سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ہر بھرتی کی اجازت کے لیے ایک منفرد پرمیشن نمبر جاری کیا جاتا ہے، جس کا ملازمت کے اشتہار میں درج ہونا لازمی ہے۔ امیدوار اس منفرد نمبر کے ذریعے سرکاری پورٹل پر جا کر ملازمت کی حیثیت اور اس کی صداقت کی تصدیق کر سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پورٹل کا نظام مکمل طور پر خودکار ہے، جہاں پرمیشن جاری ہونے کے بعد آسامیاں ٹریکنگ نمبر کے ساتھ ویب سائٹ پر ظاہر ہو جاتی ہیں۔ بھرتی کا عمل مکمل ہونے یا اجازت نامے کی مدت ختم ہونے پر یہ آسامیاں خود بخود پورٹل سے ہٹا دی جاتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام نے بیرون ملک جانے کے خواہشمند افراد کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ کسی بھی ریکروٹنگ ایجنسی سے رابطہ کرنے سے پہلے متعلقہ ملازمت اور پرمیشن نمبر کی سرکاری پورٹل پر تصدیق ضرور کریں۔ یہ احتیاطی تدبیر جعلی ملازمتوں اور فراڈ سے بچنے کے لیے ناگزیر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سرکاری طریقہ کار کے تحت، ان آسامیاں پر بھرتی ہونے والے افراد کی ملازمت سے متعلق تمام تر قانونی ذمہ داری متعلقہ ریکروٹنگ ایجنسی پر عائد ہوتی ہے۔ ایجنسی پابند ہے کہ وہ امیدواروں کو فراہم کردہ شرائط کے مطابق ملازمت فراہم کرے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اگر کسی امیدوار کو بھرتی کے عمل کے دوران کسی قسم کی شکایت یا مسئلے کا سامنا ہو، تو وہ بیورو آف ایمیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ یا اپنے متعلقہ پروٹیکٹر آف ایمیگرنٹس کے دفتر سے فوری رجوع کر سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت پاکستان کا یہ اقدام بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے حقوق کے تحفظ اور لیبر مارکیٹ میں شفافیت لانے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ اس پورٹل کے ذریعے افرادی قوت کی بیرون ملک منتقلی کا عمل مزید منظم اور محفوظ ہو سکے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بیرون ملک ملازمتوں کی تلاش اور ان کی تصدیق کے لیے شہری بیورو آف ایمیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کی آفیشل ویب سائٹ پر وزٹ کر سکتے ہیں۔ حکام کی جانب سے عوام کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ غیر تصدیق شدہ ذرائع سے پرہیز کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک سے باہر روزگار کے مواقع تلاش کرنے والے نوجوانوں کے لیے یہ پورٹل ایک مستند ذریعہ ثابت ہوگا۔ اس سے نہ صرف ملازمتوں کے مواقع بڑھیں گے بلکہ غیر قانونی ایجنٹوں کے ذریعے ہونے والی استحصال کی روک تھام میں بھی مدد ملے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کی معیشت میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا کردار انتہائی اہم ہے، اور ایسی سہولیات ان کی قانونی حیثیت کو مستحکم کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔ حکومت کی جانب سے اس ڈیجیٹل نظام کا قیام عوامی سہولت کی جانب ایک مثبت پیش رفت ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a8%db%8c%d8%b1%d9%88%d9%86-%d9%85%d9%84%da%a9-%d9%85%d9%84%d8%a7%d8%b2%d9%85%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%88%d8%a7%db%81%d8%b4%d9%85%d9%86%d8%af/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پہلی بار نائکوپ بنوانے والے اوورسیز پاکستانیوں کیلئے اہم ہدایات جاری</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%db%81%d9%84%db%8c-%d8%a8%d8%a7%d8%b1-%d9%86%d8%a7%d8%a6%da%a9%d9%88%d9%be-%d8%a8%d9%86%d9%88%d8%a7%d9%86%db%92-%d9%88%d8%a7%d9%84%db%92-%d8%a7%d9%88%d9%88%d8%b1%d8%b3%db%8c%d8%b2/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%db%81%d9%84%db%8c-%d8%a8%d8%a7%d8%b1-%d9%86%d8%a7%d8%a6%da%a9%d9%88%d9%be-%d8%a8%d9%86%d9%88%d8%a7%d9%86%db%92-%d9%88%d8%a7%d9%84%db%92-%d8%a7%d9%88%d9%88%d8%b1%d8%b3%db%8c%d8%b2/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 15 Oct 2026 12:57:04 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[اوورسیز_پاکستانی]]></category>
		<category><![CDATA[بائیومیٹرک]]></category>
		<category><![CDATA[پاک_آئی_ڈی]]></category>
		<category><![CDATA[تجاویز]]></category>
		<category><![CDATA[حکومت_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[دستاویزات]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سفر]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%db%81%d9%84%db%8c-%d8%a8%d8%a7%d8%b1-%d9%86%d8%a7%d8%a6%da%a9%d9%88%d9%be-%d8%a8%d9%86%d9%88%d8%a7%d9%86%db%92-%d9%88%d8%a7%d9%84%db%92-%d8%a7%d9%88%d9%88%d8%b1%d8%b3%db%8c%d8%b2/</guid>

					<description><![CDATA[نیشنل ڈیٹابیس رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے بیرون ملک مقیم پاکستانی شہریوں کیلئے پہلی بار نائکوپ کے حصول کا طریقہ کار اور ضروری دستاویزات کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">قومی سطح پر شہریوں کے کوائف درج کرنے والے ادارے نادرا نے بیرون ملک مقیم پاکستانی شہریوں کیلئے اہم نوعیت کی ہدایات جاری کی ہیں۔ یہ ہدایات خاص طور پر ان افراد کیلئے ہیں جو اٹھارہ برس یا اس سے زائد عمر کے ہیں اور پہلی بار نائکوپ بنوانا چاہتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ادارے کی جانب سے جاری کردہ تفصیلی بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ اس شناختی دستاویز کے حصول کیلئے درخواست جمع کرانے سے قبل تمام ضروری دستاویزات اور تصدیقی مراحل کو مکمل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اوورسیز پاکستانیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی درخواست کے ساتھ اپنے والدین یا خون کے کسی قریبی رشتہ دار کا شناختی کارڈ یا نائکوپ نمبر لازمی فراہم کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کے علاوہ غیر ملکی تفصیلی برتھ سرٹیفکیٹ، ایس ون فارم، یا شہریت اور نیچرلائزیشن کا سرٹیفکیٹ بھی دستاویزات کا حصہ ہونا ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">درخواست گزاروں کو اپنے پاکستانی یا غیر ملکی پاسپورٹ کے ساتھ رہائشی اجازت نامہ، سفری دستاویز یا پھر متعلقہ پاکستانی سفارتخانے سے تصدیق شدہ اقرار نامہ جمع کرانا ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نادرا کے جاری کردہ بیان کے مطابق درخواست فارم کی تصدیق کے عمل کو بھی آسان بنایا گیا ہے جسے والدین یا اٹھارہ سال سے زائد عمر کے بہن بھائی کی بائیومیٹرک تصدیق سے مکمل کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اگر بائیومیٹرک تصدیق کا حصول کسی وجہ سے ممکن نہ ہو تو اندرون ملک گزیٹڈ افسر یا کسی عوامی نمائندے سے تصدیق کرائی جا سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بیرون ملک مقیم افراد کیلئے یہ سہولت بھی رکھی گئی ہے کہ وہ دنیا کے کسی بھی حصے میں موجود نائکوپ ہولڈر سے اپنے درخواست فارم کی تصدیق کروا سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اگر ادارے کے ریکارڈ میں درخواست گزار کا کوئی خاندانی ریکارڈ پہلے سے موجود نہ ہو تو ایسی صورت میں دو نائکوپ یا شناختی کارڈ ہولڈرز کو بطور گواہ پیش کرنا ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خاندانی ریکارڈ نہ ہونے کی صورت میں گواہوں کے علاوہ ایک مخصوص حلف نامہ بھی جمع کرانا لازمی قرار دیا گیا ہے تاکہ تمام قانونی تقاضے پورے ہو سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اوورسیز پاکستانیوں کیلئے یہ سہولت فراہم کی گئی ہے کہ وہ اپنی یہ درخواستیں پاک آئی ڈی موبائل ایپ کے ذریعے آن لائن جمع کرا سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آن لائن کے علاوہ دنیا بھر میں موجود متعلقہ نادرا رجسٹریشن سینٹرز کے توسط سے بھی اس اہم شناختی دستاویز کیلئے باقاعدہ رجوع کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ادارے کا یہ اقدام بیرون ملک مقیم پاکستانی شہریوں کو درپیش انتظامی مشکلات کو کم کرنے اور انہیں وطن عزیز کے ساتھ جوڑے رکھنے کیلئے اٹھایا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تمام متعلقہ شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی پریشانی سے بچنے کیلئے ہدایات پر سختی سے عمل کریں اور اپنی درخواستیں وقت پر جمع کروائیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%db%81%d9%84%db%8c-%d8%a8%d8%a7%d8%b1-%d9%86%d8%a7%d8%a6%da%a9%d9%88%d9%be-%d8%a8%d9%86%d9%88%d8%a7%d9%86%db%92-%d9%88%d8%a7%d9%84%db%92-%d8%a7%d9%88%d9%88%d8%b1%d8%b3%db%8c%d8%b2/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر میں 14 فیصد اضافہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/%d8%a8%db%8c%d8%b1%d9%88%d9%86-%d9%85%d9%84%da%a9-%d9%85%d9%82%db%8c%d9%85-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/%d8%a8%db%8c%d8%b1%d9%88%d9%86-%d9%85%d9%84%da%a9-%d9%85%d9%82%db%8c%d9%85-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 22:17:50 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹاک_ایکسچینج]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹیٹ_بینک]]></category>
		<category><![CDATA[اوورسیز_پاکستانی]]></category>
		<category><![CDATA[بیرون_ملک_پاکستانی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹرول]]></category>
		<category><![CDATA[ترسیلات_زر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈالر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d8%a8%db%8c%d8%b1%d9%88%d9%86-%d9%85%d9%84%da%a9-%d9%85%d9%82%db%8c%d9%85-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[جولائی تا ستمبر 2026 کے دوران بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں نے 10.88 ارب ڈالر کی ریکارڈ ترسیلاتِ زر پاکستان بھیجی ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کی معیشت کے لیے ایک مثبت پیش رفت کے طور پر، بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور دیگر مالیاتی اعداد و شمار کے مطابق، رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی یعنی جولائی سے ستمبر 2026 کے دوران ترسیلاتِ زر کا حجم 10.88 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے دوران بیرونِ ملک پاکستانیوں نے 9.54 ارب ڈالر وطن بھیجے تھے۔ اس طرح گزشتہ برس کے مقابلے میں رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں ترسیلاتِ زر میں تقریباً 14 فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جو ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کے لیے انتہائی حوصلہ افزا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ اعداد و شمار ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب عالمی سطح پر بالخصوص مشرقِ وسطیٰ میں کشیدہ صورتحال اور معاشی چیلنجز موجود ہیں۔ اس کے باوجود بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں نے اپنے خاندانوں کی کفالت اور ملکی معیشت کو سہارا دینے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ ترسیلاتِ زر میں یہ اضافہ پاکستان کے بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ یہ رقوم نہ صرف ان خاندانوں کے لیے ریلیف کا باعث بنتی ہیں جو اپنے پیاروں کو روزگار کے لیے بیرونِ ملک بھیجتے ہیں، بلکہ یہ ملکی معیشت میں بھی براہِ راست حصہ ڈالتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں میں ایک بڑی تعداد ان افراد کی ہے جو سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور دیگر خلیجی ممالک میں محنت مزدوری کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ برطانیہ، امریکہ اور یورپ میں مقیم پاکستانی ڈاکٹرز، انجینئرز اور آئی ٹی ماہرین بھی ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترسیلاتِ زر کے ان اعداد و شمار کے پیچھے لاکھوں پردیسیوں کی محنت اور قربانیاں پوشیدہ ہیں۔ بہت سے نوجوان بہتر مستقبل کی تلاش اور اپنے والدین کی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے دیارِ غیر کا رخ کرتے ہیں، تاکہ وہ اپنے گھر والوں کی مالی ضروریات کو پورا کر سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان میں مہنگائی اور معاشی دباؤ کے باعث بہت سے تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے مقامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کے مطابق ملازمتیں حاصل کرنا ایک چیلنج بن چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑی تعداد میں ہنر مند افراد بیرونِ ملک ملازمت کو ترجیح دیتے ہیں تاکہ اپنے خاندانوں کو ایک بہتر معیارِ زندگی فراہم کر سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">والدین کے لیے اپنے بچوں کو دور بھیجنا ایک جذباتی فیصلہ ہوتا ہے، لیکن گھر کے بڑھتے ہوئے اخراجات، بجلی کے بلوں کی ادائیگی اور بہنوں کی شادیوں جیسے معاملات کے لیے یہ ترسیلاتِ زر ایک اہم ذریعہ ثابت ہوتی ہیں۔ یہ رقوم ان خاندانوں کے لیے معاشی تحفظ کی ضمانت فراہم کرتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور عالمی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کے باوجود پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلاتِ زر کا تسلسل اس بات کا ثبوت ہے کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی اپنے وطن سے گہرا لگاؤ رکھتے ہیں۔ وہ ہر مشکل حالات میں اپنے ملک کی معاشی بہتری کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتِ پاکستان بھی بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی خدمات کو سراہتی ہے اور انہیں ترسیلاتِ زر کے لیے قانونی اور بینکنگ ذرائع استعمال کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ قانونی ذرائع سے رقوم کی منتقلی نہ صرف محفوظ ہے بلکہ یہ قومی معیشت کو مستحکم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئی ٹی کے شعبے میں کام کرنے والے پاکستانی نوجوانوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے جو دنیا بھر میں اپنی خدمات فراہم کر کے قیمتی زرمبادلہ پاکستان بھیج رہے ہیں۔ یہ شعبہ مستقبل میں ترسیلاتِ زر کو مزید بڑھانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک میں صنعتی اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے ساتھ ساتھ اگر بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو مزید سہولیات فراہم کی جائیں تو ترسیلاتِ زر کے حجم میں مزید اضافے کی توقع کی جا سکتی ہے۔ یہ رقوم پاکستان کے لیے غیر ملکی کرنسی کا ایک بڑا اور مستحکم ذریعہ ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں، یہ ترسیلاتِ زر صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ ان لاکھوں پاکستانیوں کی محنت کا ثمر ہیں جو اپنے وطن سے دور رہ کر بھی پاکستان کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ ان کی یہ کاوشیں ملکی معیشت کو درپیش مشکلات سے نکالنے میں اہم ثابت ہو رہی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/%d8%a8%db%8c%d8%b1%d9%88%d9%86-%d9%85%d9%84%da%a9-%d9%85%d9%82%db%8c%d9%85-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>بیرونِ ملک ملازمت کی تصدیق کے لیے سرکاری پورٹل متعارف</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a8%db%8c%d8%b1%d9%88%d9%86-%d9%85%d9%84%da%a9-%d9%85%d9%84%d8%a7%d8%b2%d9%85%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%b5%d8%af%db%8c%d9%82-%da%a9%db%92-%d9%84%db%8c%db%92/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a8%db%8c%d8%b1%d9%88%d9%86-%d9%85%d9%84%da%a9-%d9%85%d9%84%d8%a7%d8%b2%d9%85%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%b5%d8%af%db%8c%d9%82-%da%a9%db%92-%d9%84%db%8c%db%92/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 12:59:01 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اوورسیز_ایمپلائমেন্ট]]></category>
		<category><![CDATA[اوورسیز_پاکستانی]]></category>
		<category><![CDATA[بیرون_ملک_ملازمت]]></category>
		<category><![CDATA[بیورو_آف_ایمیگریشن]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_شہری]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[جعلی_جاب_آفر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزگار_اسامیاں]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d8%a8%db%8c%d8%b1%d9%88%d9%86%d9%90-%d9%85%d9%84%da%a9-%d9%85%d9%84%d8%a7%d8%b2%d9%85%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%b5%d8%af%db%8c%d9%82-%da%a9%db%92-%d9%84%db%8c%db%92-%d8%b3%d8%b1%da%a9%d8%a7%d8%b1/</guid>

					<description><![CDATA[بیورو آف ایمیگریشن نے شہریوں کو جعلی جاب آفرز اور فراڈ سے بچانے کے لیے آن لائن پورٹل جاری کر دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">بیرونِ ملک روزگار کے متلاشی پاکستانی شہریوں کے لیے فراڈ اور دھوکہ دہی کے بڑھتے ہوئے واقعات کی روک تھام کے مقصد سے ایک اہم اقدام اٹھایا گیا ہے۔ حکومتی سطح پر ایک نیا ڈیجیٹل پورٹل متعارف کرایا گیا ہے جس کے ذریعے بیرونِ ملک ملازمتوں کی باآسان تصدیق کی جا سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس نئے سسٹم کا اجرا بیورو آف ایمیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کی جانب سے کیا گیا ہے۔ پورٹل کا بنیادی مقصد شہریوں کو جعلی جاب آفرز اور نام نہاد ایجنٹوں کے ہتھکنڈوں سے محفوظ بنانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹس کے مطابق اس سرکاری پلیٹ فارم پر تمام لائسنس یافتہ اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز کے توسط سے پروسیس ہونے والی ملازمتوں کی مکمل فہرست فراہم کر دی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امیدوار اس آن لائن پورٹل پر جا کر مختلف معیار کے تحت اپنی مطلوبہ نوکری تلاش اور وریفائی کر سکتے ہیں۔ تلاش کے لیے جاب ٹائٹل، پرمیشن نمبر اور پروموٹر کا لائسنس نمبر استعمال کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">علاوہ ازیں، متعلقہ ملک اور ماہانہ تنخواہ کی بنیاد پر بھی اسامیوں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ اس نظام سے ملازمت کی اصل نوعیت اور دیگر کوائف تک رسائی آسان ہو گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پورٹل کی مدد سے امیدوار یہ بھی جان سکتے ہیں کہ بیرونِ ملک آجر کون ہے اور متعلقہ پروموٹر کی حثیت کیا ہے۔ اس کے علاوہ جاب کی جگہ اور دستیاب اسامیوں کی تعداد بھی واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متعلقہ اداروں نے بیرونِ ملک نوکری کے خواہشمند افراد کو ہدایت کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا اشتہارات پر اندھا اعتماد نہ کریں۔ واٹس ایپ پیغامات یا کسی بھی پرائیویٹ ایجنٹ کی پیشکش پر فوراً رقم دینے سے گریز کیا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی مالی لین دین سے پہلے جاب کا منفرد پرمیشن نمبر پورٹل پر لازمی چیک کریں۔ آجر اور تنخواہ کی تفصیلات کا سرکاری ریکارڈ سے موازنہ کرنا بھی انتہائی ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امیدواروں کے لیے یہ یقینی بنانا بھی لازم قرار دیا گیا ہے کہ متعلقہ اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹر کا لائسنس فعال اور قانونی ہو۔ اگر تفصیلات سرکاری ریکارڈ سے میچ نہ کریں تو فوری ادائیگی کے دباؤ میں نہ آئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اگر پورٹل پر پرمیشن نمبر دستیاب نہ ہو یا تصدیق سے پہلے رقم مانگی جائے تو معاملہ مشکوک سمجھا جائے۔ صورتحال واضح ہونے تک کسی بھی قسم کی رقم کی ادائیگی سے سختی کے ساتھ گریز کیا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کی جانب سے یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ پورٹل پر ملازمت کی فہرست موجود ہونے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ویزا یا نوکری کی حتمی ضمانت مل گئی ہے۔ تمام کوائف کی دوبارہ تصدیق انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ملازمت قبول کرنے سے پہلے تحریری معاہدے کا بغور مطالعہ کریں۔ معاہدے میں تنخواہ، کام کرنے کی جگہ اور اوقاتِ کار کے علاوہ تمام سہولتوں کو واضح طور پر دیکھنا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کسی بھی قسم کی نقد ادائیگی کی صورت میں باقاعدہ رسید ضرور حاصل کی جائے۔ اس کے علاوہ بیرونِ ملک روانگی سے پہلے پروٹیکٹر رجسٹریشن کا عمل بھی لازمی طور پر مکمل کیا جائے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a8%db%8c%d8%b1%d9%88%d9%86-%d9%85%d9%84%da%a9-%d9%85%d9%84%d8%a7%d8%b2%d9%85%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%b5%d8%af%db%8c%d9%82-%da%a9%db%92-%d9%84%db%8c%db%92/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>بیرونِ ملک ملازمت کی آفرز کی تصدیق کا آسان طریقہ متعارف</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a8%db%8c%d8%b1%d9%88%d9%86-%d9%85%d9%84%da%a9-%d9%85%d9%84%d8%a7%d8%b2%d9%85%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d8%a2%d9%81%d8%b1%d8%b2-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%b5%d8%af%db%8c%d9%82-%da%a9%d8%a7/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a8%db%8c%d8%b1%d9%88%d9%86-%d9%85%d9%84%da%a9-%d9%85%d9%84%d8%a7%d8%b2%d9%85%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d8%a2%d9%81%d8%b1%d8%b2-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%b5%d8%af%db%8c%d9%82-%da%a9%d8%a7/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 12:37:15 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اوورسیز_ایمپلائমেন্ট]]></category>
		<category><![CDATA[اوورسیز_پاکستانی]]></category>
		<category><![CDATA[بیرون_ملک_نوکری]]></category>
		<category><![CDATA[بیورو_آف_ایمیگریشن]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_ورکرز]]></category>
		<category><![CDATA[جاب_آفر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سرکاری_پورٹل]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d8%a8%db%8c%d8%b1%d9%88%d9%86%d9%90-%d9%85%d9%84%da%a9-%d9%85%d9%84%d8%a7%d8%b2%d9%85%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d8%a2%d9%81%d8%b1%d8%b2-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%b5%d8%af%db%8c%d9%82-%da%a9%d8%a7-%d8%a2%d8%b3/</guid>

					<description><![CDATA[بیورو آف ایمیگریشن کے پورٹل کے ذریعے شہری بیرونِ ملک نوکریوں کی صداقت گھر بیٹھے جانچ سکتے ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">بیرونِ ملک روزگار کے حصول کے خواہشمند پاکستانی شہریوں کے لیے ایک اہم اور آسان طریقہ کار متعارف کرایا گیا ہے جس کے ذریعے وہ موصول ہونے والی جاب آفرز کی صداقت کی تصدیق گھر بیٹھے کر سکتے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد معصوم شہریوں کو جعلی جاب آفرز اور دھوکہ دہی کے فراڈ سے بچانا ہے تاکہ وہ کسی بھی مالی نقصان سے محفوظ رہ سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بیورو آف ایمیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کی جانب سے ایک خصوصی فارن جابز پورٹل فعال کیا گیا ہے جہاں بیرونِ ملک ملازمتوں کی تمام تر تفصیلات باقاعدہ طور پر دیکھی جا سکتی ہیں۔ اس سرکاری پورٹل پر ملک بھر کے تمام لائسنس یافتہ اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز کے ذریعے پراسیس ہونے والی ملازمتوں کی جامع فہرست فراہم کی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امیدوار اس آن لائن پورٹل پر جا کر مختلف طریقوں سے اپنی مطلوبہ نوکری تلاش اور تصدیق کر سکتے ہیں جن میں ملازمت کا عنوان، مخصوص پرمیشن نمبر، پروموٹر کا نام یا اس کا لائسنس نمبر شامل ہے۔ اس کے علاوہ متعلقہ ملک اور تنخواہ کی بنیاد پر بھی ملازمتوں کا ریکارڈ باآسانی چیک کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پورٹل پر نہ صرف نوکری کی تفصیلات موجود ہوتی ہیں بلکہ ملازمت کی اصل جگہ، ماہانہ تنخواہ، دستیاب اسامیوں کی کل تعداد اور غیر ملکی آجر کے ساتھ ساتھ متعلقہ پروموٹر کی مکمل تفصیلات بھی درج ہوتی ہیں۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سوشل میڈیا اشتہارات، واٹس ایپ پیغامات یا کسی غیر مصدقہ ایجنٹ کی پیشکش پر آنکھیں بند کر کے بھروسہ نہ کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کسی بھی قسم کی رقم کی ادائیگی سے پہلے امیدواروں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ملازمت کا منفرد پرمیشن نمبر سرکاری پورٹل پر لازمی طور پر چیک کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ آجر کی حیثیت، تنخواہ کے پیکیج، ملک اور پروموٹر کی تمام تفصیلات کا آپس میں موازنہ کرنا بھی انتہائی ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ متعلقہ اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹر کا لائسنس قانونی طور پر درست اور فعال حالت میں ہے یا نہیں۔ اگر ملازمت کی فراہم کردہ تفصیلات سرکاری ریکارڈ کے ساتھ مطابقت نہ رکھتی ہوں یا پرمیشن نمبر دستیاب نہ ہو تو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اگر تصدیق کرنے سے پہلے ہی کسی نامعلوم شخص یا ایجنٹ کی طرف سے فوری طور پر نقدی کی ادائیگی کا دباؤ ڈالا جائے تو معاملہ واضح ہونے تک ہرگز رقم ادا نہ کریں۔ امیدواروں کو یاد رکھنا چاہیے کہ پورٹل پر ملازمت کی فہرست میں اسامیوں کی تعداد اور پرمیشن کی حیثیت وقت کے ساتھ تبدیل بھی ہو سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسی وجہ سے کسی بھی قسم کی باقاعدہ درخواست جمع کرانے سے پہلے پورٹل پر دوبارہ سے تصدیق کر لینا انتہائی عقلمندی کا فیصلہ ہوگا۔ یاد رہے کہ پورٹل پر کسی ملازمت کا درج ہو جانا قطعی طور پر ویزے یا حتمی نوکری کی ضمانت قرار نہیں دیا جا سکتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں کو پرزور مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ملازمت کی حتمی پیشکش قبول کرنے سے پہلے ایک تحریری معاہدہ ضرور تیار کریں۔ اس معاہدے میں ماہانہ تنخواہ، کام کرنے کی جگہ، ڈیوٹی کے اوقاتِ کار اور دیگر بنیادی سہولتوں کی تمام تفصیلات گہرائی سے پڑھ لیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معاہدے کے بعد کسی بھی قسم کی مالی لین دین کی رسید لازمی طور پر حاصل کریں تاکہ قانونی تحفظ حاصل رہے۔ اس کے علاوہ بیرونِ ملک روانگی سے تمام ضروری مراحل کو طے کرتے ہوئے متعلقہ اداروں سے پروٹیکٹر رجسٹریشن کی کارروائی بھی لازمی مکمل کی جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بیرون ملک نوکریوں کے حصول کے دوران اکثر ناتجربہ کار افراد جعلی عناصر کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں اور اپنی جمع پونجی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ ایسے تمام عناصر سے نبرد آزما ہونے کے لیے حکومت کی جانب سے اس جدید ڈیجیٹل نظام کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سرکاری سطح پر فراہم کردہ اس سہولت کو بروئے کار لاتے ہوئے کوئی بھی شہری دنیا کے کسی بھی کونے سے پاکستان میں بیٹھے ہوئے متعلقہ جاب آفر کے بارے میں تمام حقائق منٹوں میں جان سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف شفافیت کو فروغ ملے گا بلکہ غیر قانونی ایجنسیوں کا راستہ بھی مؤثر انداز میں روکا جا سکے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متعلقہ محکمے نے تمام پاکستانی شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی غیر ملکی آجر کے پاس جانے سے قبل تمام قانونی تقاضے پورے کریں۔ احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا ہو کر بیرون ملک ملازمت کے سفر کو محفوظ اور قانونی بنایا جا سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a8%db%8c%d8%b1%d9%88%d9%86-%d9%85%d9%84%da%a9-%d9%85%d9%84%d8%a7%d8%b2%d9%85%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d8%a2%d9%81%d8%b1%d8%b2-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%b5%d8%af%db%8c%d9%82-%da%a9%d8%a7/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خوشحالی کی خواہش اور ہجرت سے ہجر تک کا سفر</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/more-news/%d8%ae%d9%88%d8%b4%d8%ad%d8%a7%d9%84%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%ae%d9%88%d8%a7%db%81%d8%b4-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%81%d8%ac%d8%b1%d8%aa-%d8%b3%db%92-%db%81%d8%ac%d8%b1-%d8%aa%da%a9-%da%a9%d8%a7/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/more-news/%d8%ae%d9%88%d8%b4%d8%ad%d8%a7%d9%84%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%ae%d9%88%d8%a7%db%81%d8%b4-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%81%d8%ac%d8%b1%d8%aa-%d8%b3%db%92-%db%81%d8%ac%d8%b1-%d8%aa%da%a9-%da%a9%d8%a7/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 12 Oct 2026 21:57:22 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دیگر خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اوورسیز_پاکستانی]]></category>
		<category><![CDATA[بیرون_ملک_روزگار]]></category>
		<category><![CDATA[بیورو_آف_امیگریشن]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[خاندانی_نظام]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سماجی_مسائل]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[مستقبل]]></category>
		<category><![CDATA[معاشرہ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d8%ae%d9%88%d8%b4%d8%ad%d8%a7%d9%84%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%ae%d9%88%d8%a7%db%81%d8%b4-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%81%d8%ac%d8%b1%d8%aa-%d8%b3%db%92-%db%81%d8%ac%d8%b1-%d8%aa%da%a9-%da%a9%d8%a7-%d8%b3/</guid>

					<description><![CDATA[پاکستان سے بیرونِ ملک ہجرت کا رجحان معاشی بہتری کے ساتھ ساتھ خاندانوں میں دوری اور تنہائی جیسے پیچیدہ سماجی مسائل کو بھی جنم دے رہا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان میں بہتر مستقبل اور معاشی خوشحالی کے حصول کے لیے بیرونِ ملک جانے کا رجحان دہائیوں سے جاری ہے۔ 1970 کی دہائی میں ’دبئی چلو‘ کی لہر نے معاشرے کے ہر طبقے کو متاثر کیا، جس پر 1979ء میں ایک مقبول فلم بھی بنائی گئی۔ اس دور میں بڑی تعداد میں افراد نے سمندر پار جا کر اپنے خاندانوں کے معیارِ زندگی کو بلند کرنے کی کوشش کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس ہجرت کا ایک مثبت پہلو معاشی استحکام تھا، تاہم اس کے ساتھ ہی خاندانی نظام میں فاصلے اور جذباتی دوری جیسے مسائل بھی پیدا ہوئے۔ کئی ایسے واقعات سامنے آئے جہاں برسوں بیرونِ ملک محنت کرنے والے افراد جب واپس لوٹے تو انہیں اپنے ہی گھروں میں اجنبیت کا سامنا کرنا پڑا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے اعداد و شمار کے مطابق، 2025ء میں ستمبر تک 524,716 پاکستانی شہری روزگار کے حصول کے لیے بیرونِ ملک رجسٹر ہوئے۔ موجودہ دور میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد تعلیم اور ملازمت کے لیے بیرونِ ملک کا رخ کر رہی ہے، جسے تاریخ کی ایک بڑی ہجرت قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس جدید ہجرت کے بھی اپنے سماجی اثرات ہیں۔ والدین اپنے بچوں کو بہتر مستقبل کے لیے باہر بھیجتے ہیں، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ دوری والدین کے لیے تنہائی اور بیماری کی صورت میں ایک بڑا چیلنج بن جاتی ہے۔ بیرونِ ملک مقیم نوجوانوں کے لیے بھی وہاں کی زندگی اور اخراجات کا توازن برقرار رکھنا ایک مستقل جدوجہد ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کئی کیسز میں یہ دیکھا گیا ہے کہ بیرونِ ملک بس جانے والے نوجوانوں کے لیے واپس وطن لوٹنا مشکل ہو جاتا ہے، کیونکہ وہ وہاں کے ماحول اور طرزِ زندگی کے عادی ہو چکے ہوتے ہیں۔ اس صورتِ حال میں پیچھے رہ جانے والے والدین اکثر تنہائی کا شکار ہو جاتے ہیں، جو کہ ایک گہرا سماجی المیہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معاشی خوشحالی کی خواہش میں کی جانے والی یہ ہجرت بلاشبہ ملکی معیشت کے لیے ترسیلاتِ زر کا ذریعہ تو بنتی ہے، لیکن اس کی قیمت خاندانی رشتوں میں آنے والی دراڑیں اور بزرگوں کی تنہائی کی صورت میں ادا کرنی پڑ رہی ہے۔ یہ ایک ایسا معاشرتی پہلو ہے جس پر غور کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماضی کی ایک مثال لاہور کے رہائشی محمد جاوید کی ہے، جو کویت اور سعودی عرب میں برسوں محنت کرنے کے بعد جب وطن واپس لوٹے تو انہیں اپنے ہی گھر میں جگہ نہ ملی۔ ان کی بیوی اور بچوں نے ان کی واپسی کو قبول کرنے سے انکار کر دیا، جس کے بعد انہیں اولڈ ہوم میں پناہ لینی پڑی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب نوجوان نسل کی کہانی بھی کچھ مختلف نہیں۔ جنید جیسے طلبہ کو والدین خود بہتر مستقبل کے لیے جرمنی جیسے ممالک میں بھیجتے ہیں، جہاں انہیں تعلیم کے ساتھ ساتھ ریستورانوں اور پٹرول پمپس پر سخت محنت کرنی پڑتی ہے۔ یہ جدوجہد ان کی زندگی کا معمول بن جاتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جب یہ نوجوان بیرونِ ملک تعلیم مکمل کر کے وہیں ملازمت شروع کر دیتے ہیں، تو والدین کی تنہائی کا سفر شروع ہوتا ہے۔ اکثر والدین بیماری کی حالت میں اپنے بچوں کو واپس بلانے کی کوشش کرتے ہیں، مگر بچے وہاں کے ماحول اور معاشی ذمہ داریوں میں اس قدر جکڑے ہوتے ہیں کہ واپسی ممکن نہیں رہتی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جنید کی کہانی میں بھی یہی المیہ دیکھنے میں آیا کہ والد کے انتقال کے وقت وہ بروقت پاکستان نہ پہنچ سکا اور اپنی والدہ کو اکیلا چھوڑ کر واپس جانے پر مجبور ہوا۔ یہ صورتِ حال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ معاشی ترقی کی دوڑ میں خاندانی روابط کمزور پڑ رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بینکنگ کے شعبے سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ ہر ہفتے بیرونِ ملک جانے والے درجنوں نوجوانوں کے کیسز پروسس کیے جاتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ہجرت کا یہ رجحان رکنے کے بجائے مزید بڑھ رہا ہے، جس کے اثرات طویل مدتی بنیادوں پر معاشرے پر مرتب ہوں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں، یہ سوال اہم ہے کہ کیا معاشی خوشحالی کی قیمت خاندانی ٹوٹ پھوٹ اور بزرگوں کی تنہائی کی صورت میں ادا کی جانی چاہیے؟ ہجرت سے ہجر تک کا یہ سفر پاکستان کے سماجی ڈھانچے کے لیے ایک بڑا امتحان بن چکا ہے جس پر سنجیدہ غور و فکر کی ضرورت ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/more-news/%d8%ae%d9%88%d8%b4%d8%ad%d8%a7%d9%84%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%ae%d9%88%d8%a7%db%81%d8%b4-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%81%d8%ac%d8%b1%d8%aa-%d8%b3%db%92-%db%81%d8%ac%d8%b1-%d8%aa%da%a9-%da%a9%d8%a7/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>برطانیہ: راجہ ناصر محمود کی والدہ کے انتقال پر کمیونٹی کا اظہارِ تعزیت</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a8%d8%b1%d8%b7%d8%a7%d9%86%db%8c%db%81-%d8%b1%d8%a7%d8%ac%db%81-%d9%86%d8%a7%d8%b5%d8%b1-%d9%85%d8%ad%d9%85%d9%88%d8%af-%da%a9%db%8c-%d9%88%d8%a7%d9%84%d8%af%db%81-%da%a9%db%92/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a8%d8%b1%d8%b7%d8%a7%d9%86%db%8c%db%81-%d8%b1%d8%a7%d8%ac%db%81-%d9%86%d8%a7%d8%b5%d8%b1-%d9%85%d8%ad%d9%85%d9%88%d8%af-%da%a9%db%8c-%d9%88%d8%a7%d9%84%d8%af%db%81-%da%a9%db%92/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 10 Oct 2026 23:16:28 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[اوورسیز_پاکستانی]]></category>
		<category><![CDATA[برطانیہ]]></category>
		<category><![CDATA[برمنگھم]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_کمیونٹی]]></category>
		<category><![CDATA[تعزیت]]></category>
		<category><![CDATA[خاندان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[راجہ_ناصر_محمود]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/44/</guid>

					<description><![CDATA[برمنگھم سنٹرل مسجد میں مرحومہ کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی، کمیونٹی کی اہم شخصیات اور شہریوں کی بڑی تعداد میں شرکت۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">برطانیہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی نے پریس کلب مڈلینڈز کے صدر راجہ ناصر محمود اور جوائنٹ سیکرٹری سیما یعقوب کی والدہ کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اس موقع پر کمیونٹی نے یکجہتی اور ہمدردی کی ایک شاندار مثال قائم کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مرحومہ کے انتقال کی خبر سنتے ہی برطانیہ بھر میں مقیم پاکستانیوں میں غم کی لہر دوڑ گئی تھی۔ راجہ ناصر محمود اور سیما یعقوب اپنی والدہ کی آخری رسومات اور تدفین کے لیے پاکستان روانہ ہو گئے تھے، جس کے بعد ان کے دوستوں اور احباب نے تعزیت کا سلسلہ شروع کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان سے واپسی کے بعد برمنگھم کی سنٹرل مسجد میں مرحومہ کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کا اہتمام کیا گیا۔ اس تقریب میں برطانیہ کے مختلف شہروں سے بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی اور سوگوار خاندان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فاتحہ خوانی کے دوران قونصل جنرل فہد امجد، مختلف مساجد کے خطباء، علماء و مشائخ اور کمیونٹی کے اہم رہنماؤں نے شرکت کی۔ ہائی کمشنر پاکستان عثمان ٹیپو اور دیگر سفارتی حکام کی جانب سے بھی تعزیت اور افسوس کا اظہار کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پریس کلب کے اراکین نے آنے والے مہمانوں کا استقبال کیا اور ان کی شرکت پر شکریہ ادا کیا۔ شرکاء نے مرحومہ کی مغفرت کے لیے خصوصی دعائیں کیں اور سوگوار خاندان کو اس مشکل گھڑی میں صبر و تحمل کی تلقین کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس موقع پر شرکاء نے کہا کہ ماں کا سایہ ایک ایسی نعمت ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ راجہ ناصر محمود کی والدہ کی وفات پر کمیونٹی کا اکٹھا ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ دیارِ غیر میں بسنے والے پاکستانی ایک خاندان کی طرح رہتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دینا اور غم بانٹنا ہماری ثقافتی اور مذہبی اقدار کا حصہ ہے۔ راجہ ناصر محمود کی شخصیت اور ان کے سماجی روابط نے لوگوں کو ان کے دکھ میں شریک ہونے پر آمادہ کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تقریب کے دوران علماء نے والدین کی اہمیت اور ان کی خدمت کے فضائل پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اولاد کی کامیابی کے پیچھے والدین کی دعائیں اور ان کی بہترین تربیت کا عمل دخل ہوتا ہے جو زندگی بھر ساتھ رہتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">راجہ ناصر محمود نے اپنے ساتھیوں اور کمیونٹی کے افراد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دوستوں اور احباب نے جس محبت کا اظہار کیا ہے، اس نے ان کے غم کو کافی حد تک ہلکا کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں نے اس موقع پر ایک بار پھر ثابت کیا کہ وہ خوشی اور غم کے ہر موقع پر ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہیں۔ یہ اتحاد اور بھائی چارہ ہی بیرونِ ملک پاکستانیوں کی اصل پہچان ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مرحومہ کے لیے دعائیہ کلمات کا سلسلہ تقریب کے اختتام تک جاری رہا۔ شرکاء نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ مرحومہ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل کی توفیق دے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تقریب کے اختتام پر فاتحہ خوانی کی گئی اور مرحومہ کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ برمنگھم کی سنٹرل مسجد میں ہونے والی یہ تعزیتی نشست انسانی ہمدردی اور باہمی احترام کی ایک یادگار مثال ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a8%d8%b1%d8%b7%d8%a7%d9%86%db%8c%db%81-%d8%b1%d8%a7%d8%ac%db%81-%d9%86%d8%a7%d8%b5%d8%b1-%d9%85%d8%ad%d9%85%d9%88%d8%af-%da%a9%db%8c-%d9%88%d8%a7%d9%84%d8%af%db%81-%da%a9%db%92/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
