<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>انڈیا &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%a7%d9%86%da%88%db%8c%d8%a7/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Tue, 03 Nov 2026 06:01:03 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>انڈیا &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>سمندری طوفان مرسو انڈیا کے مشرقی ساحل سے ٹکرا گیا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/4801/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/4801/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 03 Nov 2026 06:01:03 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[انڈیا]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیزاسٹر_مینجمنٹ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ریسکیو_آپریشن]]></category>
		<category><![CDATA[ساحلی_علاقے]]></category>
		<category><![CDATA[سمندری_طوفان]]></category>
		<category><![CDATA[سمندری_طوفان_مرسو]]></category>
		<category><![CDATA[طوفانی_بارشیں]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قدرتی_آفت]]></category>
		<category><![CDATA[محکمہ_موسمیات]]></category>
		<category><![CDATA[مشرقی_ساحل]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/4801/</guid>

					<description><![CDATA[ایک ہفتے کے دوران اس خطے سے ٹکرانے والا یہ دوسرا سمندری طوفان ہے، جس کے پیش نظر ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">انڈیا کے محکمہ موسمیات کے مطابق سمندری طوفان مرسو منگل کے روز ملک کے مشرقی ساحل سے ٹکرا گیا ہے جس کے بعد ساحلی علاقوں میں الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ طوفان ایک ہفتے کے دوران اس خطے سے ٹکرانے والا دوسرا سمندری طوفان ہے جس کے باعث انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ موسمیات کی جانب سے طوفان کے ساحل سے ٹکرانے کی تصدیق کی گئی ہے اور متاثرہ علاقوں میں ہنگامی تدابیر اختیار کی جا رہی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">طوفان کے پیش نظر حکام نے حفاظتی اقدامات کے طور پر ہزاروں افراد کو متاثرہ علاقوں سے نکال کر محفوظ مقامات اور عارضی پناہ گاہوں میں منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کا کہنا ہے کہ طوفان کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں تاکہ جانی نقصان سے بچا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خطے میں طوفانی بارشوں اور تیز ہواؤں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے جس سے نظام زندگی شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ موسمیات نے ماہی گیروں کو سمندر میں نہ جانے کی سخت ہدایات جاری کی ہیں کیونکہ ساحلی پٹی پر سمندری لہریں انتہائی بلند ہو سکتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقامی انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور حکام کی ہدایت پر عمل کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انڈیا کے مشرقی ساحلی علاقوں میں اس سے قبل بھی طوفانوں کے باعث نقصان ہو چکا ہے جس کی وجہ سے اس بار انتظامیہ پہلے سے زیادہ چوکس ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قومی اور صوبائی سطح کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ ادارے صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">طوفان کے گزرنے کے بعد متاثرہ علاقوں میں نقصانات کا تخمینہ لگایا جائے گا اور بحالی کا کام شروع کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متعلقہ محکموں نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ طوفان کے اثرات مزید چند روز تک برقرار رہ سکتے ہیں اس لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا نہایت ضروری ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/4801/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>انڈین پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ بھگونت مان کی لاہور آنے کی خواہش</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2233/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2233/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 25 Oct 2026 00:17:32 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[امن]]></category>
		<category><![CDATA[انڈیا]]></category>
		<category><![CDATA[بھگونت_مان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_انڈیا_تعلقات]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[ثقافت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a7%d9%86%da%88%db%8c%d9%86-%d9%be%d9%86%d8%ac%d8%a7%d8%a8-%da%a9%db%92-%d9%88%d8%b2%db%8c%d8%b1-%d8%a7%d8%b9%d9%84%db%8c%d9%b0-%d8%a8%da%be%da%af%d9%88%d9%86%d8%aa-%d9%85%d8%a7%d9%86/</guid>

					<description><![CDATA[بھگونت مان نے لاہور میں ہونے والی ورلڈ پنجابی کانفرنس میں شرکت کے لیے دلچسپی کا اظہار کیا، اسمبلی میں ارکان نے بھی ساتھ چلنے کی فرمائش کر دی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">انڈین پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ بھگونت مان نے لاہور میں منعقد ہونے والی چوتھی ورلڈ پنجابی کانفرنس میں شرکت کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے انڈین پنجاب کی اسمبلی میں خطاب کے دوران اس بات کا تذکرہ کیا کہ انہیں لاہور سے کانفرنس میں شرکت کا دعوت نامہ موصول ہوا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بھگونت مان کا کہنا تھا کہ لاہور ان کے دل کے قریب ہے اور وہ وہاں ضرور جانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے ایوان میں اپنے خطاب کے دوران کہا کہ اگر انہیں پاکستان جانے کی اجازت ملی تو وہ اس دورے کے لیے تیار ہیں۔ ان کے اس بیان پر ایوان میں موجود دیگر ارکان نے بھی دلچسپی ظاہر کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسمبلی کے اسپیکر کلتار سنگھ سندھواں نے دلچسپ تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر وزیرِ اعلیٰ کو اجازت مل جائے تو وہ انہیں بھی اپنے ساتھ لاہور لے کر جائیں۔ اس پر ایوان کے دیگر ارکان نے بھی تائید کی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں جانب کے عوام اور نمائندے ثقافتی میل ملاپ کے خواہاں ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چوتھی ورلڈ پنجابی کانفرنس 27، 28 اور 29 نومبر کو لاہور میں منعقد کی جا رہی ہے۔ کانفرنس کے چیف آرگنائزر احمد رضا پنجابی کے مطابق انہوں نے بھگونت مان کو ٹیلی فون پر شرکت کی دعوت دی تھی اور اب باضابطہ دعوت نامہ بھی ارسال کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">احمد رضا پنجابی نے مزید بتایا کہ اس کانفرنس میں ہر سال دنیا بھر سے پنجابی زبان اور ثقافت سے محبت کرنے والے افراد شرکت کرتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگر پنجاب حکومت کی جانب سے مثبت ردِعمل سامنے آیا تو ویزا کے معاملات بھی طے پا سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بھگونت مان نے اپنی تقریر کے دوران دونوں خطوں کی مشترکہ ثقافت اور جڑوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے مسائل اور ثقافتی اقدار ایک جیسی ہیں۔ انہوں نے اس موقع پر کرتار پور راہداری کو مکمل طور پر فعال کرنے کا مطالبہ بھی دہرایا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انڈین پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ کے اس بیان کو سوشل میڈیا پر بھی سراہا جا رہا ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان فاصلے کم کرنے اور امن و محبت کا پیغام پھیلانے میں مدد مل سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">احمد رضا پنجابی نے وضاحت کی کہ اس بار ویزا پالیسی کی وجہ سے انڈیا سے بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت مشکل ہے، تاہم جو سکھ یاتری پہلے سے ہی یاترا ویزے پر پاکستان میں موجود ہوں گے، وہ اس کانفرنس میں شرکت کر سکیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لاہور میں ہونے والی یہ کانفرنس پنجابی زبان و ادب کے فروغ کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم سمجھی جاتی ہے۔ منتظمین کا ماننا ہے کہ اگر اعلیٰ سطح پر رابطے بحال ہوں تو ثقافتی تبادلے سے دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کے امکانات روشن ہو سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان اور انڈیا کے درمیان عوامی سطح پر رابطے ہمیشہ سے ہی دونوں ممالک کے عوام کے لیے خوشی کا باعث رہے ہیں۔ بھگونت مان کا یہ بیان ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس پر اب حکومتی سطح پر جواب کا انتظار ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2233/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>اروناچل پردیش: انڈین اور چینی افواج کے درمیان سرحدی ٹکراؤ کا اعتراف</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/2219/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/2219/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 22:18:20 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آئی_ٹی_بی_پی]]></category>
		<category><![CDATA[اروناچل_پردیش]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[انڈیا]]></category>
		<category><![CDATA[انڈیا_چین_سرحد]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[چین]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سرحدی_کشیدگی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a7%d8%b1%d9%88%d9%86%d8%a7%da%86%d9%84-%d9%be%d8%b1%d8%af%db%8c%d8%b4-%d8%a7%d9%86%da%88%db%8c%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%86%db%8c%d9%86%db%8c-%d8%a7%d9%81%d9%88%d8%a7%d8%ac/</guid>

					<description><![CDATA[انڈو تبتن بارڈر پولیس کے سربراہ نے اروناچل پردیش کے سرحدی علاقوں میں دونوں ممالک کی افواج کے مابین کشیدگی اور ٹکراؤ کی تصدیق کر دی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">انڈیا کی شمال مشرقی ریاست اروناچل پردیش کے سرحدی علاقوں میں انڈین اور چینی افواج کے درمیان کشیدگی کی اطلاعات کے بعد اب سرکاری سطح پر اس کی تصدیق سامنے آ گئی ہے۔ انڈو تبتن بارڈر پولیس (آئی ٹی بی پی) کے ڈائریکٹر جنرل شتروجیت کپور نے اعتراف کیا ہے کہ حالیہ دنوں میں متعدد مقامات پر دونوں ممالک کی افواج کا ٹکراؤ ہوا ہے اور بعض علاقوں میں صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">راجستھان میں اپنی فورس کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آئی ٹی بی پی کے سربراہ نے کہا کہ اروناچل پردیش میں کچھ ایسے حالات پیدا ہوئے جن کے نتیجے میں سرحدی علاقوں میں ٹکراؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے اس صورتحال سے نمٹنے میں اپنی فورس کی &#039;شوریہ کمانڈو&#039; ٹیموں کی مثالی کارکردگی کو سراہا اور مستقبل میں ان کی ایک مکمل بٹالین تشکیل دینے کا عندیہ دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سرحدی صورتحال پر قابو پانے کے لیے انڈین حکام نے اروناچل پردیش کے مختلف سرحدی مقامات پر بڑی تعداد میں فورسز تعینات کر دی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، جولائی کے مہینے سے ہی تاکسنگ گاؤں کے قریب اسافیلا کے علاقے میں دونوں ممالک کی افواج ایک دوسرے کے آمنے سامنے موجود تھیں، جس کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹس کے مطابق، جولائی میں ماجا کے مقام پر دونوں افواج کا آمنا سامنا ہوا، جس کے بعد چینی پیپلز لبریشن آرمی کے اہلکار بڑی تعداد میں دوبارہ پہنچے اور تقریباً چھ سے سات کلومیٹر اندر اس علاقے میں خیمے نصب کر لیے، جسے انڈیا اپنا علاقہ تصور کرتا ہے۔ یہ کشیدگی برکس سربراہی اجلاس کے دوران بھی برقرار رہی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقامی ذرائع اور آل اروناچل پردیش سٹوڈنٹس یونین کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول کے نزدیک چینی افواج کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں مقامی آبادی کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چینی فوج کی نقل و حرکت اور پابندیوں کے باعث مقامی افراد کو اپنی روایتی چراگاہوں اور شکارگاہوں تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یونین کے رابطہ سیکریٹری چوکی راجہ ہی کی نے بتایا کہ انتہائی دشوار گزار اور گھنے جنگلات سے گھرے ان دور دراز علاقوں سے اطلاعات موصول ہو رہی ہیں کہ چینی فوج وہاں سرگرم ہے اور انہوں نے وہاں سڑکیں اور فوجی تنصیبات بھی تعمیر کر لی ہیں جو کہ مقامی لوگوں کے لیے گہری تشویش کا باعث ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئی ٹی بی پی کے سربراہ شتروجیت کپور نے جدید جنگی تقاضوں کے پیش نظر ڈرون ٹیکنالوجی کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں روایتی جنگی انداز تبدیل ہو چکا ہے اور ڈرونز کی مدد سے چھوٹے ممالک بھی بڑے چیلنجز کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ اسی لیے فورس کے بجٹ کا 70 فیصد حصہ ڈرون اور اینٹی ڈرون نظام کے لیے مختص کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کپور نے مزید کہا کہ ہر بٹالین میں ایک ڈرون پلاٹ ون قائم کرنے کا منصوبہ ہے کیونکہ چین کا روایتی انداز میں مقابلہ کرنا اب مشکل ہو گیا ہے، کیونکہ پیپلز لبریشن آرمی نے اپنی صلاحیت میں اضافے اور جدت کے لیے بڑے پیمانے پر وسائل استعمال کیے ہیں۔ انہوں نے روس، یوکرین اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ڈرون ٹیکنالوجی نے جنگ کا انداز بدل دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب انڈیا کی اپوزیشن جماعتوں نے اس معاملے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس اور دیگر جماعتوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت قومی سلامتی کے اس اہم معاملے پر پارلیمنٹ میں حقائق واضح کرے اور عوام کو اعتماد میں لے۔ اپوزیشن کا موقف ہے کہ سرحد پر پیش آنے والے واقعات کو چھپانے کے بجائے مشترکہ حکمت عملی اپنانی چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کانگریس کے سینیئر رہنما سلمان خورشید نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ اس معاملے پر پارلیمنٹ میں بیان دے اور بحث کرائے تاکہ ایک مشترکہ حکمت عملی بنائی جا سکے۔ شیو سینا کی رہنما پریانکا چترویدی نے بھی اسے قومی سلامتی کا معاملہ قرار دیتے ہوئے وزیر داخلہ، وزیر دفاع اور وزیر خارجہ سے جواب طلب کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کانگریس کے رہنما جے رام رمیش نے چین سے بڑھتے ہوئے تجارتی تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ سرحدی کشیدگی کے باوجود چین کے ساتھ بڑھتے اقتصادی روابط کس قسم کی قوم پرستی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو نعروں کی نہیں بلکہ قومی سلامتی کے سوال پر واضح جواب کی ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انڈیا کی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جی سوال نے ایک پریس کانفرنس کے دوران اس معاملے پر براہ راست تبصرہ کرنے سے گریز کیا، تاہم انہوں نے کہا کہ سرحدی علاقوں میں پیچیدگیاں تب پیدا ہوتی ہیں جب گشت کے دوران طے شدہ حدود سے انحراف کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک سفارتی اور فوجی نظام کے تحت غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اروناچل پردیش کا شمار انڈیا کی حساس ریاستوں میں ہوتا ہے، جس پر چین اپنا دعویٰ کرتا ہے اور اسے جنوبی تبت کا حصہ قرار دیتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ماضی میں کئی بار کور کمانڈر سطح کے مذاکرات ہو چکے ہیں، تاہم سرحدی تنازعات کا مکمل حل تاحال ایک چیلنج بنا ہوا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/2219/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>امیتابھ بچن کی طبیعت ناساز، سوشل میڈیا سے عارضی دوری کا اعلان</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/showbiz/1823/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/showbiz/1823/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 22 Oct 2026 09:37:53 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[شوبز]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امیتابھ_بچن]]></category>
		<category><![CDATA[انڈیا]]></category>
		<category><![CDATA[ایکس_پوسٹ]]></category>
		<category><![CDATA[بالی_وڈ]]></category>
		<category><![CDATA[بگ_بی]]></category>
		<category><![CDATA[بھارتی_اداکار]]></category>
		<category><![CDATA[بھارتی_میڈیا]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_ڈرامہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/showbiz/%d8%a7%d9%85%db%8c%d8%aa%d8%a7%d8%a8%da%be-%d8%a8%da%86%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%b7%d8%a8%db%8c%d8%b9%d8%aa-%d9%86%d8%a7%d8%b3%d8%a7%d8%b2-%d8%b3%d9%88%d8%b4%d9%84/</guid>

					<description><![CDATA[بھارتی فلم انڈسٹری کے معروف اداکار امیتابھ بچن نے صحت کی خرابی کے باعث سوشل میڈیا سے عارضی دوری اختیار کرلی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">بالی وڈ کے معروف اور سینئر ترین اداکار امیتابھ بچن نے اپنی طبعی ناخوشی کے پیش نظر سوشل میڈیا سے کچھ دنوں کے لیے دوری اختیار کرلی ہے اور اس فیصلے سے اپنے چاہنے والوں کو بھی باقاعدہ آگاہ کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بگ بی کے نام سے مشہور اس لیجنڈری اداکار کے اس اچانک اعلان نے ان کے مداحوں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے جو سوشل میڈیا پر ان کی روزانہ کی سرگرمیوں اور خیالات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امیتابھ بچن نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک مختصر مگر معنی خیز پیغام کے ذریعے اپنے مداحوں سے معذرت کی اور بتایا کہ انہیں ڈاکٹروں نے کچھ روز آرام کرنے کا مشورہ دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے اپنے پیغام میں وضاحت کی کہ انہیں مکمل صحت یابی کے لیے آرام کی ضرورت ہے اور اس دوران طبی ہدایات کی روشنی میں وہ فی الحال مزید کچھ بھی لکھنے یا شیئر کرنے سے معذور ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سینئر اداکار کے اس بیان کے بعد دنیا بھر میں موجود ان کے کروڑوں پرستار ان کی جلد از جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہیں اور سوشل میڈیا پر ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">میڈیا ذرائع کے مطابق امیتابھ بچن نے اس سے قبل اپنے آفیشل بلاگ پر بھی کچھ ایسی ہی ہدایات کا ذکر کیا تھا جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ڈاکٹروں نے انہیں ڈیجیٹل دنیا سے مکمل کٹ آف ہو کر آرام پر توجہ دینے کی تلقین کی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امیتابھ بچن کا شمار ان فنکاروں میں ہوتا ہے جو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر انتہائی فعال رہتے ہیں اور روزمرہ کی بنیاد پر اپنے مداحوں کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے اپنی یادیں اور خیالات شیئر کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا یہ عارضی وقفہ مداحوں کے لیے یقیناً اداس کرنے والا ہے کیونکہ وہ روزانہ کی بنیاد پر اپنے پسندیدہ اداکار کی پوسٹس کا انتظار کرتے ہیں اور ان کے ساتھ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فلمی دنیا میں امیتابھ بچن کی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں اور عمر کے اس حصے میں بھی وہ انتہائی متحرک انداز میں مختلف فلمی اور ٹیلی ویژن پراجیکٹس میں بھرپور طریقے سے مصروف عمل رہتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کی صحت سے متعلق اس خبر کے سامنے آنے کے بعد بھارتی شوبز انڈسٹری میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور شوبز شخصیات کی جانب سے بھی ان کی جلد صحت یابی کے پیغامات سامنے آ رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اداکار کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ طبی نگرانی میں ہیں اور ڈاکٹروں کی ہدایت کے مطابق اپنی صحت پر پوری طرح توجہ دے رہے ہیں تاکہ وہ جلد دوبارہ تندہی کے ساتھ اپنے کام کی طرف لوٹ سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امیتابھ بچن کے چاہنے والے اس امید کا اظہار کر رہے ہیں کہ ان کی صحت جلد بحال ہو جائے گی اور وہ ایک بار پھر اسی انداز میں اپنے مداحوں کے ساتھ سوشل میڈیا پر رابطہ بحال کریں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مداحوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر مسلسل دعاؤں کا سلسلہ جاری ہے تاکہ ان کے ہر دل عزیز اداکار جلد صحت مند ہو کر واپس آئیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/showbiz/1823/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>امریکہ کے لیے پاکستان کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنا ناگزیر ہے: مارکو روبیو</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1782/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1782/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 22 Oct 2026 02:37:59 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[امریکہ]]></category>
		<category><![CDATA[انڈیا]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_امریکہ_تعلقات]]></category>
		<category><![CDATA[تزویراتی_اہمیت]]></category>
		<category><![CDATA[جنوبی_ایشیا]]></category>
		<category><![CDATA[خارجہ_پالیسی]]></category>
		<category><![CDATA[خطے_میں_استحکام]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a7%d9%85%d8%b1%db%8c%da%a9%db%81-%da%a9%db%92-%d9%84%db%8c%db%92-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%92-%d8%b3%d8%a7%d8%aa%da%be-%d8%aa%d8%b9%d9%84%d9%82%d8%a7%d8%aa/</guid>

					<description><![CDATA[امریکی وزیر خارجہ نے انڈیا کے دورے کے دوران پاکستان کی تزویراتی اہمیت کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن اسلام آباد کے ساتھ روابط کو خطے میں استحکام کے لیے ضروری سمجھتا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اپنے حالیہ دورہ انڈیا کے دوران پاکستان کے ساتھ تعلقات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کے لیے اسلام آباد کے ساتھ رابطے اور تعلقات برقرار رکھنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے پاکستان کو ایک اہم جوہری طاقت اور جنوبی ایشیا میں کلیدی جغرافیائی حیثیت کا حامل ملک قرار دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ممبئی میں مختلف انٹرویوز کے دوران مارکو روبیو نے واضح کیا کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو خطے میں کشیدگی کم کرنے، تنازعات کی روک تھام اور استحکام کے فروغ کے تناظر میں دیکھتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی وزیر خارجہ نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات انڈیا کے مفادات کی قیمت پر استوار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور انڈیا کے تعلقات اپنی جگہ مضبوط ہیں، جبکہ پاکستان کے ساتھ روابط ایک وسیع سفارتی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مارکو روبیو نے پاکستان کی اہمیت کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح انڈیا اپنے قومی مفادات کے تحت ایران کے ساتھ روابط رکھتا ہے، اسی طرح امریکہ کے لیے بھی پاکستان کے ساتھ تعلقات کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔ یہ بیان انڈیا کے سیاسی حلقوں میں موضوع بحث بنا ہوا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سابقہ سینیٹر کے طور پر پاکستان مخالف بیانات کے سوال پر روبیو نے کہا کہ اب ان کا کردار ایک وزیر خارجہ کا ہے اور انہیں امریکہ کی خارجہ پالیسی کو چلانا ہے، جس کے لیے ایسے ممالک کے ساتھ بھی تعلقات ضروری ہوتے ہیں جن سے بعض معاملات پر اختلافات موجود ہوں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی وزیر خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ واشنگٹن پاکستان کے ساتھ تعلقات کے ذریعے خطے میں تنازعات کی روک تھام کا خواہاں ہے۔ ان کے مطابق اگر امریکہ اپنے اثر و رسوخ کو تعمیری انداز میں استعمال کر سکے تو یہ خطے کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روبیو نے اپنے دورہ انڈیا کے دوران توانائی کے شعبے میں تعاون اور اقتصادی شراکت داری کو بھی خصوصی اہمیت دی۔ انہوں نے ممبئی اور جام نگر کے دورے کیے جہاں دنیا کی بڑی آئل ریفائنریوں میں سے ایک واقع ہے، جو امریکی خارجہ پالیسی میں توانائی کے تحفظ کی ترجیح ظاہر کرتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ امریکہ انڈیا کو اپنا اہم جیو پولیٹیکل شراکت دار سمجھتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعاون کو مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ انڈیا کو اس بات کا مکمل اعتماد ہونا چاہیے کہ امریکہ کی پالیسی متوازن ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انڈیا پر ممکنہ امریکی ٹیرف کے حوالے سے روبیو نے کہا کہ یہ اقدامات روس۔ یوکرین جنگ کے تناظر میں ہیں اور ان کا مقصد انڈیا کو نقصان پہنچانا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس معاملے میں احتیاط برت رہے ہیں تاکہ سٹریٹیجک تعلقات متاثر نہ ہوں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دورے کے دوران ممبئی میں امریکہ، انڈیا اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ کی سہ فریقی ملاقات بھی ہوئی۔ اس اجلاس میں اقتصادی تعاون، تجارت، ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں شراکت داری بڑھانے پر غور کیا گیا، جس سے خطے میں امریکی دلچسپی واضح ہوتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مارکو روبیو کا یہ دورہ 19 سے 22 اکتوبر تک جاری رہا جس کے دوران انہوں نے مختلف سطحوں پر مذاکرات کیے۔ ان کے بیانات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ امریکہ خطے میں کسی بھی قسم کے تناؤ کے بجائے استحکام اور اقتصادی ترقی کو ترجیح دینے کا خواہاں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1782/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>بالی ووڈ اداکار اجے دیوگن کے ممبئی والے بنگلے پر کارروائی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/showbiz/1287/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/showbiz/1287/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 18 Oct 2026 14:37:34 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[شوبز]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اجے_دیوگن]]></category>
		<category><![CDATA[انڈیا]]></category>
		<category><![CDATA[بالی_ووڈ]]></category>
		<category><![CDATA[بنگلہ]]></category>
		<category><![CDATA[بھارت]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_ڈرامہ]]></category>
		<category><![CDATA[تجارتی_سرگرمیاں]]></category>
		<category><![CDATA[جوہو]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/showbiz/%d8%a8%d8%a7%d9%84%db%8c-%d9%88%d9%88%da%88-%d8%a7%d8%af%d8%a7%da%a9%d8%a7%d8%b1-%d8%a7%d8%ac%db%92-%d8%af%db%8c%d9%88%da%af%d9%86-%da%a9%db%92-%d9%85%d9%85%d8%a8%d8%a6%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[ممبئی میونسپل کارپوریشن نے جوہو میں واقع اجے دیوگن کے بنگلے پر غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ممبئی میونسپل کارپوریشن نے بالی ووڈ کے معروف اداکار اجے دیوگن کے بنگلے میں کی جانے والی مبینہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے کارروائی کی ہے۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ عالیشان بنگلہ ممبئی کے پوش علاقے جوہو میں واقع ہے جہاں میونسپل حکام نے پہنچ کر کارروائی کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ کارروائی ممبئی میونسپل کارپوریشن کی جانب سے کی گئی ہے جس میں بنگلے کے اندر ہونے والی بعض غیر مجاز تبدیلیوں اور تعمیراتی حصوں کو نشانہ بنایا گیا۔ حکام کا مؤقف ہے کہ اس عمارت میں تجارتی سرگرمیوں کے لیے تبدیلیاں کی جا رہی تھیں جن کی کوئی باضابطہ اجازت نہیں لی گئی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجے دیوگن کا یہ پرتعیش بنگلہ جوہو کی معروف کپول کوآپریٹیو ہاؤسنگ سوسائٹی کے اندر واقع ہے جو تقریباً سات ہزار آٹھ سو دو مربع فٹ کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ اس پراپرٹی کی اہمیت کے پیش نظر میونسپل محکمے نے قوانین کے مطابق نوٹس جاری کرنے کے بعد یہ انہدامی کارروائی عمل میں لائی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹس کے مطابق دیوگن خاندان نے رواں برس اگست کے مہینے میں یہ بنگلہ ایک نجی سیلون کمپنی کو پانچ سال کے لیے طویل مدتی لیز پر دیا تھا۔ اس معاہدے کے تحت بنگلے کا ماہانہ کرایہ سولہ لاکھ روپے طے پایا تھا جبکہ مجموعی لیز کی مالیت دس کروڑ سے زائد بتائی گئی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معاہدے کے بعد اس بنگلے کے اندرونی حصوں میں تجارتی بنیادوں پر سیلون کے قیام کے لیے تبدیلیاں کی جا رہی تھیں جن میں دیواروں اور دیگر ڈھانچے میں ردوبدل شامل تھا۔ ان تمام اندرونی تبدیلیوں کے لیے بلڈنگ پروپوزل ڈپارٹمنٹ سے پیشگی منظوری حاصل نہیں کی گئی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">میونسپل حکام کے مطابق اس معاملے پر ممبئی میونسپل کارپوریشن ایکٹ کی متعلقہ دفعہ کے تحت نوٹس جاری کیا گیا تھا جس میں مالکان کو فوری طور پر تعمیراتی سرگرمیاں روکنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ نوٹس میں واضح کیا گیا تھا کہ تمام متعلقہ دستاویزات اور قانونی اجازت نامے جلد از جلد محکمے کے سامنے پیش کیے جائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کا کہنا ہے کہ ممبئی میونسپل کارپوریشن کی جانب سے باضابطہ نوٹس جاری کیے جانے کے باوجود عمارت کے اندر تعمیراتی کام کا سلسلہ جاری رکھا گیا۔ احکامات کی مسلسل خلاف ورزی اور نوٹس کو نظر انداز کیے جانے پر متعلقہ محکمے نے یہ سخت قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">میونسپل عملے نے موقع پر پہنچ کر بغیر اجازت تعمیر کیے گئے حصوں اور اندرونی ڈھانچے کے بعض حصوں کو منہدم کر دیا تاکہ غیر قانونی تعمیرات کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے اس کارروائی کے دوران سکیورٹی اور میونسپل عملے کے دیگر افسران بھی موقع پر موجود تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس کارروائی کے بعد تاحال اجے دیوگن یا ان کے خاندانی اراکین کی جانب سے کوئی باضابطہ تردید یا تفصیلی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ اداکار کے ترجمان یا خاندانی ذرائع کے مؤقف کے بعد ہی اس معاملے کی مزید تفصیلات اور حتمی صورتحال واضح ہو سکے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بالی ووڈ انڈسٹری میں اس نوعیت کی بلدیاتی کارروائیاں اور قانونی تنازعات اکثر سرخیوں میں رہتے ہیں بالخصوص جب تجارتی مقاصد کے لیے رہائشی عمارتوں کا استعمال کیا جائے۔ ممبئی میں میونسپل قوانین کی سختی کے باعث کئی نامور شخصیات کو اس قسم کے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجے دیوگن بالی ووڈ کے ایک انتہائی معروف اور سینئر اداکار ہیں جن کی فلمیں باکس آفس پر ہمیشہ شاندار کاروبار کرتی ہیں اور ان کے مداح دنیا بھر میں موجود ہیں۔ ان کی پیشہ ورانہ زندگی کے ساتھ ساتھ ان کی ذاتی جائیدادیں اور کاروباری معاملات بھی اکثر میڈیا کی توجہ کا مرکز بنے رہتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ممبئی میونسپل کارپوریشن کے اس اقدام کے بعد شہر کے دیگر علاقوں میں بھی غیر قانونی تعمیرات اور تجارتی سرگرمیوں کے خلاف نگرانی مزید سخت کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ بلدیاتی ادارے شہر بھر میں قوانین کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل متحرک دکھائی دے رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہر کے بااثر افراد اور نامور شخصیات کی جانب سے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں پر میونسپل اداروں کا یہ رویہ قانون کی بالادستی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس نوعیت کے اقدامات سے جائیدادوں کے تجارتی استعمال کے حوالے سے مزید قانونی بحثیں بھی شروع ہو جاتی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/showbiz/1287/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>آٹھ ڈالر سے سفر شروع کرنے والے پریم وتس بینک خریدنے کے قریب</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/1232/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/1232/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 18 Oct 2026 08:37:33 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آئی_ڈی_بی_آی_بینک]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹاک_ایکسچینج]]></category>
		<category><![CDATA[انڈیا]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[بینکاری]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پریم_تس]]></category>
		<category><![CDATA[ڈالر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سرمایہ_کاری]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d8%a2%d9%b9%da%be-%da%88%d8%a7%d9%84%d8%b1-%d8%b3%db%92-%d8%b3%d9%81%d8%b1-%d8%b4%d8%b1%d9%88%d8%b9-%da%a9%d8%b1%d9%86%db%92-%d9%88%d8%a7%d9%84%db%92-%d9%be%d8%b1%db%8c%d9%85/</guid>

					<description><![CDATA[کینیڈا کے وارن بفیٹ کہلانے والے انڈین نژاد ارب پتی پریم وتس کی کمپنی آئی ڈی بی آئی بینک کے اکثریتی حصص خریدنے جا رہی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">آٹھ ڈالر کی قلیل رقم کے ساتھ کینیڈا ہجرت کرنے والے انڈین نژاد ارب پتی صنعت کار پریم وتس نے اپنی کاروباری صلاحیت اور دور اندیشی کی بدولت عالمی سطح پر ایک نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ وہ اب انڈیا کے ایک بڑے صنعتی بینک کے اکثریتی حصص خریدنے کی تیاری کر رہے ہیں، جو ان کے طویل کاروباری سفر کا ایک اور بڑا سنگ میل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی مالیاتی حلقوں میں پریم وتس کو ان کی منفرد سرمایہ کاری کی حکمت عملی کی وجہ سے کینیڈا کا وارن بفیٹ بھی کہا جاتا ہے۔ وہ فیئرفیکس فنانشل ہولڈنگز کے بانی اور مالک ہیں، جس کے تحت دنیا بھر میں مختلف شعبوں میں مالیاتی خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔ ان کا ادارہ اب ایک بڑی سرحد پار ڈیل کے تحت متعلقہ بینک کے ساٹھ فیصد سے زائد حصص خریدنے جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ستر کی دہائی میں حیدرآباد سے کینیڈا منتقل ہونے والے پریم وتس نے اپنے کیریئر کا آغاز انتہائی کٹھن حالات میں کیا تھا۔ تعلیم کے دوران اخراجات پورے کرنے کے لیے وہ مختلف اشیاء فروخت کرنے کا کام بھی کیا کرتے تھے، جس سے انھیں زندگی اور تجارت کے اہم گر سیکھنے کا موقع ملا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سنہ 1985 میں ایک چھوٹی انشورنس کمپنی کے طور پر شروع ہونے والی فیئرفیکس اب ایک بہت بڑا مالیاتی ادارہ بن چکی ہے۔ پریم وتس کی کاروباری بصیرت اور نظم و ضبط کی بدولت یہ ادارہ آج دنیا بھر میں اپنی مضبوط پوزیشن رکھتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سنہ 1984 میں اپنی سرمایہ کاری کونسل قائم کرنے کے بعد انھوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور جلد ہی مشکلات میں گھری ہوئی ٹرک انشورنس کمپنی خرید کر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ پریم وتس کا شمار ایسے سرمایہ کاروں میں ہوتا ہے جو کسی بھی کمپنی کی بنیادی طاقت کو دیکھتے ہوئے اس میں طویل مدتی سرمایہ کاری کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کی کاروباری سوچ مشہور ماہر مالیات بینجمن گراہم کے اصولوں سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔ اس طرزِ عمل کے تحت وہ ایسی کمپنیوں کا انتخاب کرتے ہیں جو مضبوط بنیادوں پر استوار ہونے کے باوجود عارضی مشکلات کا شکار ہوتی ہیں اور مارکیٹ میں جن کی مکمل قدر تسلیم نہیں کی جاتی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صنعت کار پریم وتس میڈیا کی چکاچوند سے دور رہ کر خاموشی سے اپنے اہداف پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے شہرت رکھتے ہیں۔ انھوں نے ہمیشہ اپنے کاروبار کو ذاتی شہرت سے دور رکھا اور مارکیٹ کے بدلتے ہوئے رجحانات کو وقت سے پہلے بھانپنے کی غیر معمولی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کی اسی دور اندیشی کی بدولت ماضی میں دنیا بھر میں آنے والے بڑے مالیاتی بحرانوں اور بازارِ حصص کے کھٹکاؤ کی پیشگی نشان دہی ممکن ہو سکی تھی۔ انھوں نے معاشی گراوٹ کے ادوار میں بھی دانشمندانہ فیصلے کرتے ہوئے بہترین کارکردگی کی حامل کمپنیوں کے حصص کم قیمت پر خریدے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کینیڈا کی یہ بڑی فنانشل ہولڈنگ کمپنی ماضی میں مختلف قدرتی آفات اور عالمی وبا کے دوران آنے والے مالیاتی دباؤ کا بھی کامیابی سے مقابلہ کر چکی ہے۔ کمپنی نے نقصان کے ادوار سے نکل کر اپنی مجموعی مالیت میں نمایاں اضافہ کیا اور کاروباری دنیا میں ایک بہترین مثال قائم کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انڈیا کی منڈی میں پریم وتس کی یہ پہلی بڑی سرمایہ کاری نہیں ہے بلکہ وہ اس سے قبل بھی کئی اہم اداروں اور منصوبوں میں مالی معاونت فراہم کر چکے ہیں۔ ان کے صاحبزادے بھی اسی خطے میں ایک فنڈ مینجمنٹ کمپنی چلا رہے ہیں جو مخصوص حصص میں سرمایہ کاری کرتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تجارت اور صنعت کے شعبے میں ان کی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں انھیں انڈیا کے اعلیٰ ترین سول اعزازات میں سے ایک سے بھی نوازا جا چکا ہے۔ پریم وتس کی یہ کاروباری کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ محنت، استقامت اور صحیح حکمت عملی انسان کو بلندیوں تک پہنچا سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کے والد کے سکھائے ہوئے اصول ان کی زندگی کا حصہ رہے ہیں جن کے مطابق انسان کو محنت ہمیشہ اس طرح کرنی چاہیے کہ ہر چیز کا انحصار اسی پر ہو اور دعا اس انداز سے کرنی چاہیے کہ سب کچھ خدا کے سپرد ہو۔ یہ عقیدہ ان کی تمام پیشہ ورانہ زندگی میں نمایاں رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ معاہدے کے تحت ان کی کمپنی کی طرف سے کی جانے والی یہ سرمایہ کاری اب تک کی سب سے بڑی سرحد پار بینکاری ڈیل کہلائی جا رہی ہے۔ یہ قدم ان کے طویل تجارتی سفر اور مستحکم معاشی پالیسیوں کا ایک اور روشن باب ثابت ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/1232/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>بھارت: شوہر کو قتل کر کے لاش کنکریٹ کے ڈرم میں چھپانے والی بیوی کو سزائے موت</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/1025/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/1025/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 16 Oct 2026 23:57:28 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[انڈیا]]></category>
		<category><![CDATA[بھارت]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس_تفتیش]]></category>
		<category><![CDATA[جرائم_کی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سزائے_موت]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%b1%d8%aa-%d8%b4%d9%88%db%81%d8%b1-%da%a9%d9%88-%d9%82%d8%aa%d9%84-%da%a9%d8%b1-%da%a9%db%92-%d9%84%d8%a7%d8%b4-%da%a9%d9%86%da%a9%d8%b1%db%8c%d9%b9-%da%a9%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[میرٹھ کی عدالت نے اپنے شوہر کو بے دردی سے قتل کرنے والی خاتون اور ان کے ساتھی کو جرم ثابت ہونے پر سزائے موت سنا دی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">بھارت کے شہر میرٹھ کی ایک عدالت نے ایک انتہائی لرزہ خیز قتل کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے مقتول کی اہلیہ اور اس کے ساتھی کو سزائے موت کی سزا سنائی ہے۔ ملزمان نے شوہر کو قتل کرنے کے بعد لاش کو ٹکڑوں میں کاٹ کر ایک ڈرم میں ڈال دیا تھا اور اسے کنکریٹ سے بھر دیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی کارروائی کے دوران ضلع جج اروند کمار نے ڈیڑھ سال تک جاری رہنے والے مقدمے کا فیصلہ سنایا۔ دونوں مجرموں، مسکان اور ساحل شکلا، کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے عدالت میں پیش کیا گیا جہاں انہیں سزائے موت کے علاوہ 20 ہزار روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعہ مارچ 2025 میں پیش آیا تھا جب لندن میں ملازمت کرنے والے سوربھ راجپوت اپنی اہلیہ کے ساتھ میرٹھ میں موجود تھے۔ پولیس کے مطابق، ملزمہ مسکان نے اپنے بوائے فرینڈ ساحل کے ساتھ مل کر اپنے شوہر کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا تاکہ وہ اپنے تعلقات کو جاری رکھ سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیقات میں یہ انکشاف ہوا کہ ملزمان نے قتل کے لیے پہلے سے ہی چاقو اور بے ہوشی کی دوا کا انتظام کر رکھا تھا۔ تین مارچ کی رات مسکان نے سوربھ کے کھانے میں نشہ آور دوا ملا دی، جس کے بعد ساحل نے اسے قابو کیا اور مسکان نے چاقو کے وار کر کے اسے قتل کر دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قتل کے بعد ملزمان نے لاش کو باتھ روم میں ٹکڑوں میں تقسیم کیا اور ثبوت مٹانے کے لیے کمرے کو بلیچنگ پاؤڈر سے صاف کیا۔ اگلے دن مسکان نے بازار سے ایک بڑا ڈرم اور سیمنٹ خریدا، جس میں لاش کے ٹکڑے ڈال کر اسے کنکریٹ سے بھر دیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واردات کے بعد دونوں ملزمان سیر و تفریح کے لیے شملہ اور منالی روانہ ہو گئے تھے۔ سوربھ کے اہل خانہ نے ان کے لاپتا ہونے کی رپورٹ درج کرائی تھی، جس کے بعد پولیس نے تفتیش کا آغاز کیا تو یہ ہولناک جرم سامنے آیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس نے جب مسکان اور ساحل سے پوچھ گچھ کی تو انہوں نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا۔ پولیس نے ڈرم کو قبضے میں لے کر کٹر کی مدد سے کاٹا اور مقتول کی باقیات برآمد کیں۔ اس دوران ملزمان نے لاش چھپانے کے بعد فرار ہونے کی کوشش بھی کی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقتول سوربھ راجپوت نے 2016 میں مسکان سے پسند کی شادی کی تھی، جس کی ان کے خاندان والوں نے مخالفت کی تھی۔ بعد ازاں مالی مشکلات کے باعث سوربھ اپنے والدین سے الگ ہو کر رہائش پذیر ہو گئے تھے، جس کے دوران مسکان اور ساحل کے درمیان قربتیں بڑھ گئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت میں پیشی کے دوران ملزمان کے خلاف عوامی غصہ بھی دیکھنے میں آیا، جہاں کچھ وکلا نے ان پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔ پولیس نے سخت سکیورٹی کے حصار میں دونوں کو بحفاظت واپس جیل منتقل کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقتول کے بھائی راہول نے فیصلے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بھائی کو بے دردی سے قتل کیا گیا اور اس جرم میں ملوث افراد کو سخت ترین سزا ملنی چاہیے تھی۔ انہوں نے اس معاملے میں مزید سازش کا شبہ بھی ظاہر کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب مسکان کے اپنے والدین نے بھی اپنی بیٹی کے اس فعل کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بیٹی نے جو ظلم کیا ہے، وہ ناقابل معافی ہے اور اسے معاشرے کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے سزائے موت کا مطالبہ کیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کیس نے پورے علاقے میں سنسنی پھیلا دی تھی کیونکہ قتل کا طریقہ کار انتہائی سفاکانہ تھا۔ پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے نہ صرف ملزمان کو گرفتار کیا بلکہ لاش کو بھی برآمد کر لیا، جس سے مقدمے کے تمام پہلو واضح ہو گئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے سزائے موت کے ساتھ ساتھ دیگر دفعات کے تحت دونوں مجرموں کو سات سال قید کی سزا بھی سنائی ہے۔ یہ فیصلہ معاشرے میں بڑھتے ہوئے ایسے جرائم کے خلاف ایک سخت پیغام سمجھا جا رہا ہے جہاں ذاتی مفادات کے لیے انسانی جانوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/1025/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>بھارت: سوشل میڈیا انفلوئنسر میڈ سندھو کے قتل کا مرکزی ملزم گرفتار</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/96/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/96/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 08:17:40 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[امرتسر]]></category>
		<category><![CDATA[انڈیا]]></category>
		<category><![CDATA[بھارت]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سوشل_میڈیا_انفلوئنسر]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قتل_کیس]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/96/</guid>

					<description><![CDATA[امرتسر پولیس نے جدید تکنیکی مہارت اور کیو آر کوڈ کے ذریعے گجرات سے مرکزی ملزم پرمیندر سنگھ کو حراست میں لے لیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">بھارت کے شہر امرتسر میں معروف سوشل میڈیا انفلوئنسر اور میک اپ آرٹسٹ میڈ سندھو کے قتل کے کیس میں پولیس نے بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔ ملزم کی گرفتاری کے لیے پولیس نے جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">میڈ سندھو کو 3 اکتوبر 2026 کو امرتسر کے لوہارکا روڈ پر فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔ واقعے کے بعد مقتول کو ہسپتال منتقل کیا جا رہا تھا مگر وہ راستے میں ہی دم توڑ گئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امرتسر پولیس نے اس واقعے کا مقدمہ امرتسر کینٹ تھانے میں درج کیا تھا۔ پولیس حکام کے مطابق اس کیس میں اب تک مجموعی طور پر چھ ملزمان کو حراست میں لیا جا چکا ہے جن میں مرکزی ملزم، ان کا بھائی، اسلحہ فراہم کرنے والے اور ریکی کرنے والے افراد شامل ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس کمشنر ہرمن بیر سنگھ گل نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ مرکزی ملزم پرمیندر سنگھ عرف کاکا واردات کے بعد فرار ہو کر گجرات کے شہر احمد آباد پہنچ گیا تھا۔ ملزم نے وہاں سے پنجاب میں موجود اپنے بھائی امن دیپ سنگھ سے رابطہ کر کے رقم کا مطالبہ کیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیقاتی ٹیم نے تکنیکی شواہد کی مدد سے پہلے ہی امن دیپ سنگھ کو گرفتار کر لیا تھا۔ پولیس نے امن دیپ سنگھ کے موبائل فون کا استعمال کرتے ہوئے ایک کیو آر کوڈ کے ذریعے پرمیندر سنگھ کو ٹریس کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس کے مطابق جیسے ہی پرمیندر نے رقم وصول کرنے کے لیے بھیجا گیا کیو آر کوڈ سکین کیا تو اس کی لوکیشن احمد آباد میں ٹریس ہو گئی۔ اس معلومات کی بنیاد پر پنجاب اور گجرات پولیس نے مشترکہ کارروائی کر کے ملزم کو گرفتار کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کی شناخت ویڈیو کال کے ذریعے ان کے جوتوں سے بھی کی گئی، جو واردات کے وقت مبینہ شوٹر کے پاؤں میں نظر آئے تھے۔ پولیس دوسرے شوٹر کی بھی شناخت کر چکی ہے اور اسے جلد گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">میڈ سندھو، جن کا اصل نام مدھوسودن تھا، سوشل میڈیا پر اپنی منفرد ویڈیوز اور میک اپ کی مہارت کی وجہ سے مشہور تھے۔ وہ انسٹاگرام پر دو لاکھ سے زائد فالوورز رکھتے تھے اور انہوں نے پنجابی فلم ’اوئے بھولے اوئے‘ میں بھی اداکاری کی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقتول اپنی جنسی شناخت کے حوالے سے کھل کر بات کرنے کے لیے جانے جاتے تھے اور ایل جی بی ٹی کیو کمیونٹی سے وابستہ تھے۔ انہیں اپنی زندگی میں تعصب اور تنقید کا سامنا کرنا پڑا، جس کا اظہار وہ مختلف انٹرویوز میں کر چکے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سوشل میڈیا پر میڈ سندھو کی مقبولیت کے ساتھ ساتھ انہیں بعض حلقوں کی جانب سے دھمکیاں بھی موصول ہوتی رہی تھیں۔ قتل سے چند ماہ قبل ایک ویڈیو بھی وائرل ہوئی تھی جس میں ایک شخص انہیں مبینہ طور پر دھمکیاں دیتا ہوا دکھائی دیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امرتسر پولیس نے اس کیس کو حل کرنے کے لیے جدید سائنسی طریقوں کو استعمال کیا ہے۔ پولیس کا عزم ہے کہ وہ جلد ہی باقی مفرور ملزمان کو بھی قانون کی گرفت میں لے آئے گی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/96/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
