<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.33.3"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>انٹیلی_جنس &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%a7%d9%86%d9%b9%db%8c%d9%84%db%8c_%d8%ac%d9%86%d8%b3/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:32:54 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>انٹیلی_جنس &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>امریکا کی جانب سے یوکرین کو انٹیلی جنس معلومات کی فراہمی دوبارہ شروع</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/1376/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/1376/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 19 Oct 2026 00:16:52 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا]]></category>
		<category><![CDATA[انٹیلی_جنس]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پابندیاں]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[جنگ]]></category>
		<category><![CDATA[دفاعی_معاونت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈونلڈ_ٹرمپ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a7%d9%85%d8%b1%db%8c%da%a9%d8%a7-%da%a9%db%8c-%d8%ac%d8%a7%d9%86%d8%a8-%d8%b3%db%92-%db%8c%d9%88%da%a9%d8%b1%db%8c%d9%86-%da%a9%d9%88-%d8%a7%d9%86%d9%b9%db%8c%d9%84%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے امریکی تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے روس پر پابندیوں میں نرمی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے تصدیق کی ہے کہ امریکا کی جانب سے انٹیلی جنس معلومات کی فراہمی کا سلسلہ ایک بار پھر بحال کر دیا گیا ہے۔ یہ اہم پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں جاری کشیدگی کے باعث یوکرین کو دفاعی اور انٹیلی جنس معاونت کی اشد ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدر زیلنسکی نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا کہ انٹیلی جنس شیئرنگ کا عمل کچھ عرصے کے لیے عارضی طور پر معطل ہوا تھا، تاہم اب اسے دوبارہ فعال کر دیا گیا ہے۔ یوکرینی صدر نے اس تعاون پر امریکی انتظامیہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے اپنے ملک کے لیے اہم قرار دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیال رہے کہ یوکرین اور روس کے مابین جاری تنازع کے دوران امریکا اور مغربی ممالک کی جانب سے یوکرین کو مسلسل عسکری اور انٹیلی جنس مدد فراہم کی جاتی رہی ہے۔ اس تعاون کا مقصد یوکرینی افواج کی صلاحیتوں کو بہتر بنانا اور زمینی حقائق سے آگاہ رکھنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب یوکرینی صدر نے روس کے خلاف عائد پابندیوں کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار بھی کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ روسی ڈیزل کی درآمد سے متعلق امریکی اقدامات اور روس پر مجوزہ پابندیوں میں کسی بھی قسم کی نرمی یوکرین کے مفادات کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ پابندیوں میں نرمی سے روس کی معاشی طاقت میں اضافہ ہو سکتا ہے جو کہ براہ راست یوکرین کی سکیورٹی پر اثر انداز ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی برادری کو روس پر دباؤ برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یوکرینی صدر نے امید ظاہر کی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے حالیہ فیصلوں پر نظرثانی کریں گے اور یوکرین کے ساتھ اپنی اتحادی حیثیت کو برقرار رکھیں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ یوکرین اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یوکرین کی حکومت نے بارہا عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ روس کے خلاف سخت موقف اپنائے اور یوکرین کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ صدر زیلنسکی کی جانب سے تازہ بیان اسی سلسلے کی ایک کڑی سمجھا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روس کی جانب سے ان اقدامات پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم ماسکو ماضی میں بھی مغربی ممالک کی جانب سے یوکرین کو دی جانے والی مدد پر شدید تحفظات کا اظہار کرتا رہا ہے۔ روس کا موقف ہے کہ یہ اقدامات خطے میں کشیدگی بڑھانے کا باعث بنتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل میں یوکرین اور امریکا کے تعلقات کس سمت جائیں گے، اس کا انحصار واشنگٹن کی پالیسیوں پر ہوگا۔ صدر زیلنسکی کی جانب سے امریکی قیادت پر اعتماد کا اظہار اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ یوکرین اب بھی مغرب کو اپنا سب سے بڑا حلیف سمجھتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی سطح پر اس پیش رفت کو یوکرین کے لیے ایک حوصلہ افزا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ انٹیلی جنس معلومات کی بحالی سے یوکرینی افواج کی کارکردگی میں بہتری آئے گی اور وہ اپنی دفاعی حکمت عملی کو مزید بہتر بنا سکیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یوکرین میں جاری جنگ کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کی معیشت پر مرتب ہو رہے ہیں۔ توانائی کے بحران اور سپلائی چین کی رکاوٹوں کے باعث عالمی منڈیوں میں بھی غیر یقینی صورتحال پائی جاتی ہے جس پر قابو پانے کے لیے عالمی کوششیں جاری ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/1376/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>آزاد کشمیر میں بدامنی کیلئے بھارتی سازش اور کالعدم تنظیم کا گٹھ جوڑ بے نقاب</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1360/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1360/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 18 Oct 2026 21:37:40 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آزاد_کشمیر]]></category>
		<category><![CDATA[انٹیلی_جنس]]></category>
		<category><![CDATA[بھارت]]></category>
		<category><![CDATA[بھارتی_مداخلت]]></category>
		<category><![CDATA[پروپیگنڈا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[راولاکوٹ]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سازش]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a2%d8%b2%d8%a7%d8%af-%da%a9%d8%b4%d9%85%db%8c%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a8%d8%af%d8%a7%d9%85%d9%86%db%8c-%da%a9%db%8c%d9%84%d8%a6%db%92-%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%b1%d8%aa%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[انٹیلی جنس ذرائع نے آزاد کشمیر میں انتشار پھیلانے کے بھارتی منصوبے اور کالعدم ایکشن کمیٹی کے ساتھ گٹھ جوڑ کے ثبوت فراہم کر دیے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">حال ہی میں سامنے آنے والی انٹیلی جنس رپورٹس نے آزاد جموں و کشمیر میں بدامنی پھیلانے کے لیے بھارت کی ایک بڑی سازش کا پردہ چاک کر دیا ہے۔ اس منصوبے میں بھارتی ہائی کمیشن لندن اور ایک کالعدم ایکشن کمیٹی کے درمیان گٹھ جوڑ کے شواہد ملے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ذرائع کے مطابق اپریل 2026 میں لندن میں موجود بھارتی ہائی کمیشن نے ایک منظم سازشی منصوبے کے تحت کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ رابطے قائم کیے۔ اس سلسلے میں جون 2026 میں اہم ملاقاتیں بھی منعقد کی گئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان ملاقاتوں میں بھارتی ہائی کمیشن کے عہدیدار پرمود کھیم چندانی اور بھارتی میڈیا چینل ٹائمز ناؤ کے زکا جیکب شامل تھے۔ ان کا مقصد آزاد کشمیر میں حالات کو خراب کرنا اور کالعدم تنظیم کے بیانیے کو عالمی سطح پر فروغ دینا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مذکورہ سازش کو عملی جامہ پہنانے کے لیے 24 جون 2026 کو اظہر احمد، یاسر شفاعت اور ڈاکٹر اشتیاق خالق سمیت دیگر شرپسند عناصر کو تیار کیا گیا۔ ان افراد کو آزاد کشمیر میں انتشار پھیلانے کا ٹاسک سونپا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بھارتی میڈیا کے نمائندے زکا جیکب کو ذمہ داری دی گئی کہ وہ وسیع میڈیا کوریج کے ذریعے پاکستان مخالف بیانیے کو ہوا دیں۔ اس مقصد کے لیے سوشل میڈیا اور روایتی میڈیا کا بھرپور استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انٹیلی جنس ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ جون 2026 کے دوران بھارتی ہائی کمیشن کی جانب سے ان شرپسندوں کو 17 واٹس ایپ کالز کی گئیں۔ ان کالز کے ذریعے انہیں ہدایات دی جاتی رہیں تاکہ منصوبے کو کامیابی سے آگے بڑھایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس سازش کے ایک حصے کے طور پر 30 جولائی 2026 کو برطانیہ میں &#039;جموں و کشمیر ہیومن رائٹس آبزرویٹری&#039; (جے کے ایچ آر او) نامی ایک تنظیم کی رجسٹریشن کروائی گئی۔ یہ تنظیم بظاہر انسانی حقوق کے نام پر کام کرنے کا دعویٰ کرتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حقیقت میں یہ تنظیم بھارتی ہائی کمیشن کی ایما پر بنائی گئی تھی تاکہ آزاد کشمیر کے بارے میں من گھڑت اور جھوٹی رپورٹس جاری کی جا سکیں۔ اس تنظیم کا مقصد عالمی برادری کو گمراہ کرنا اور پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرنا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جون 2026 کے دوران کالعدم ایکشن کمیٹی نے راولاکوٹ اور آزاد کشمیر کے حالات کے بارے میں جھوٹ پر مبنی پوسٹس سوشل میڈیا پر وائرل کیں۔ ان پوسٹس کے ذریعے عالمی برادری سے مداخلت کا مطالبہ کیا گیا تاکہ خطے میں عدم استحکام پیدا ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حیران کن بات یہ ہے کہ محض چار ماہ پرانی اور غیر معروف تنظیم جے کے ایچ آر او کی من گھڑت رپورٹس کو دی انڈیپنڈنٹ، ٹائمز ناؤ اور کشمیر ٹائمز جیسے اداروں نے بغیر تصدیق کے نشر کیا، جس سے ان کے گٹھ جوڑ کا اندازہ ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیقات کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ بھارتی ہائی کمیشن کے عہدیدار پرمود کھیم چندانی خود اس تنظیم کی رجسٹریشن میں نامزد پائے گئے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ پورا عمل بھارتی ریاستی مشینری کی نگرانی میں انجام دیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان مخالف اس پروپیگنڈا مہم کا مقصد آزاد کشمیر کے پرامن عوام کو اکسانا اور خطے میں امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنا تھا۔ تاہم، انٹیلی جنس اداروں کی بروقت کارروائی نے اس مذموم سازش کو بے نقاب کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیکیورٹی ماہرین کے مطابق بھارت مسلسل پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور پروپیگنڈا کے ذریعے اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ یہ واقعہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جسے ناکام بنا دیا گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1360/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>یوکرین کا روسی آئل ریفائنریز پر حملے دوبارہ شروع کرنے کا اعلان</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/1185/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/1185/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 18 Oct 2026 00:36:46 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکہ]]></category>
		<category><![CDATA[انٹیلی_جنس]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی]]></category>
		<category><![CDATA[جنگ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[روس]]></category>
		<category><![CDATA[روسی_آئل_ریفائنری]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%db%8c%d9%88%da%a9%d8%b1%db%8c%d9%86-%da%a9%d8%a7-%d8%b1%d9%88%d8%b3%db%8c-%d8%a2%d8%a6%d9%84-%d8%b1%db%8c%d9%81%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%b1%db%8c%d8%b2-%d9%be%d8%b1-%d8%ad%d9%85%d9%84%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[صدر زیلنسکی نے کہا کہ اگر روس کی جانب سے حملے جاری رہے تو یوکرین مزید انتظار نہیں کرے گا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ایک اہم بیان میں اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک روسی آئل ریفائنریز اور توانائی کی تنصیبات پر حملے دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان جاری تنازع شدت اختیار کر چکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدر زیلنسکی نے واضح کیا کہ یوکرین نے امریکی حکام کی جانب سے دی گئی تجویز کے بعد تین روز تک روسی توانائی کے مراکز کو نشانہ نہیں بنایا تھا۔ تاہم اب یوکرینی قیادت کا ماننا ہے کہ اگر روس کی جانب سے حملوں کا سلسلہ نہ رکا تو یوکرین مزید خاموش نہیں رہے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یوکرینی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ ان کا ملک اپنی دفاعی حکمت عملی کے تحت جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روسی حملوں کے جواب میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا ایک مجبوری بن چکا ہے تاکہ جارحیت کو روکا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس صورتحال کے تناظر میں صدر زیلنسکی نے امریکی انٹیلی جنس تعاون محدود کیے جانے کے امکان پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر انٹیلی جنس شیئرنگ میں کمی کی گئی تو اس سے یوکرین کی دفاعی صلاحیتوں پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مزید برآں، یوکرینی صدر نے سٹار لنک سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس میں ممکنہ رکاوٹوں پر بھی خدشات کا اظہار کیا ہے۔ یہ سروس یوکرین کے لیے مواصلاتی رابطوں اور فوجی آپریشنز میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے، جس کے بغیر زمینی صورتحال کو کنٹرول کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے یوکرین نے ڈرون حملوں کے ذریعے روس کی متعدد آئل ریفائنریز کو نشانہ بنایا تھا، جس سے روسی توانائی کی پیداوار اور برآمدات پر اثرات مرتب ہوئے تھے۔ ان حملوں کو یوکرین کی جانب سے ایک اہم تزویراتی کامیابی قرار دیا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب، عالمی برادری اور خاص طور پر امریکہ نے ان حملوں کے عالمی توانائی منڈیوں پر اثرات کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ امریکہ کا موقف رہا ہے کہ توانائی کے مراکز پر حملوں سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہو سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یوکرینی صدر کا یہ تازہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کیئف اپنی فوجی حکمت عملی میں کسی بھی قسم کے بیرونی دباؤ کے باوجود اپنے قومی مفادات کو ترجیح دینے کا عزم رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین کو اپنی بقا کے لیے سخت فیصلے کرنے ہوں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روسی حکام نے یوکرین کے ان اعلانات پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا ہے، تاہم روس کی جانب سے یوکرینی تنصیبات پر حملوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان جاری یہ کشیدگی خطے میں مزید عدم استحکام کا باعث بن رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل کے حوالے سے سفارتی حلقے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ تنازع کو کم کرنے کے لیے بات چیت کا عمل ضروری ہے۔ تاہم موجودہ حالات میں دونوں فریقین اپنے اپنے فوجی اہداف کے حصول کے لیے پرعزم دکھائی دیتے ہیں، جس سے امن کی امیدیں ماند پڑ رہی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یوکرین کے لیے امریکی امداد اور تکنیکی تعاون کی اہمیت مسلمہ ہے، اس لیے زیلنسکی کا انٹیلی جنس اور سیٹلائٹ سروسز پر تشویش کا اظہار ان کی پریشانی کو ظاہر کرتا ہے۔ آنے والے دن اس حوالے سے انتہائی اہم ثابت ہوں گے کہ مغربی ممالک یوکرین کے اس فیصلے پر کیا ردعمل دیتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی منڈیوں پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یوکرین نے روسی توانائی تنصیبات پر حملے تیز کیے تو عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا امکان ہے۔ یہ صورتحال عالمی معیشت کے لیے ایک نیا چیلنج بن سکتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/1185/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ایران حوثیوں کو سعودی عرب پر حملوں کیلئے انٹیلی جنس فراہم کر رہا ہے، امریکی میڈیا کا دعویٰ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/1160/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/1160/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 17 Oct 2026 20:37:54 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا]]></category>
		<category><![CDATA[انٹیلی_جنس]]></category>
		<category><![CDATA[ایران]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[چین]]></category>
		<category><![CDATA[حوثی]]></category>
		<category><![CDATA[خارجہ_پالیسی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a7%db%8c%d8%b1%d8%a7%d9%86-%d8%ad%d9%88%d8%ab%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%d9%88-%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af%db%8c-%d8%b9%d8%b1%d8%a8-%d9%be%d8%b1-%d8%ad%d9%85%d9%84%d9%88%da%ba/</guid>

					<description><![CDATA[وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران حوثی تنظیم کو ڈرون، میزائل اور تکنیکی معاونت فراہم کر رہا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ایک معروف امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی حالیہ رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران یمن کی حوثی تنظیم انصار اللہ کو سعودی عرب پر حملوں کے لیے اہداف کی نشاندہی اور اہم انٹیلی جنس معلومات فراہم کر رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹ کے مطابق ایران کی جانب سے حوثیوں کو جدید ڈرون، میزائل، ریڈار سسٹم اور دیگر عسکری سازوسامان کی فراہمی جاری ہے۔ اس معاونت کے نتیجے میں حوثی تنظیم سعودی عرب کے اندر مؤثر اور جدید حملے کرنے کی صلاحیت حاصل کر چکی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی اخبار نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب کے افسران حوثی تنظیم کے ساتھ فرنٹ لائن پر موجود ہیں اور انہیں جنگی حکمت عملی کے ساتھ ساتھ تربیت بھی فراہم کر رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حوثیوں کی عسکری حکمت عملی میں آنے والی تبدیلی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ انہیں ایران سے براہ راست رہنمائی مل رہی ہے۔ یہ تعلق محض سرپرستی تک محدود نہیں بلکہ تزویراتی تعاون پر مبنی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران کی جانب سے فراہم کردہ میزائلوں کی ممکنہ رینج 1200 میل تک ہو سکتی ہے، جس سے سعودی عرب اور اسرائیل کا پورا علاقہ ان کی زد میں آ سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ صورتحال امریکی انتظامیہ اور خلیجی ممالک کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کر ابھری ہے، کیونکہ خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے کی جانے والی کوششیں ایران اور حوثیوں کے بڑھتے ہوئے گٹھ جوڑ سے متاثر ہو سکتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ حوثی تنظیم اپنی آزادانہ حیثیت برقرار رکھنے پر زور دیتی ہے اور بہت سے فیصلے خود کرتی ہے۔ وہ اپنے کچھ ہتھیار مقامی طور پر تیار کرنے کے ساتھ ساتھ چین سے بھی پرزے حاصل کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حوثیوں کی ترجیحات بنیادی طور پر یمن کے اندرونی معاملات سے جڑی ہوئی ہیں، یہی وجہ ہے کہ رواں موسم گرما تک یہ تنظیم امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی سے کسی حد تک لاتعلق رہی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب ایران کی وزارت خارجہ نے سعودی عرب پر حملوں میں کسی بھی قسم کے ملوث ہونے کے الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ ایرانی ترجمان اسماعیل بقائی نے ان دعووں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسماعیل بقائی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران یمن کے تنازع میں کسی بھی فوجی کارروائی کا حصہ نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تہران یمن میں پُرامن حل کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعودی عرب اور یمن میں حوثیوں کے مخالف اتحاد کی جانب سے بھی وقتاً فوقتاً ایران پر حوثیوں کی پشت پناہی کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔ تاہم ایران ہمیشہ ان الزامات کی تردید کرتا آیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل میں یمن کی صورتحال اور خطے میں امن کے قیام کے لیے سفارتی کوششیں کس حد تک کامیاب ہوتی ہیں، اس کا انحصار فریقین کے درمیان اعتماد سازی اور مذاکرات کے عمل پر ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/1160/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>افغان سرزمین پر دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں پاکستان کی سلامتی کے لیے چیلنج</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/188/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/188/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 15:57:07 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[افغانستان]]></category>
		<category><![CDATA[امن_و_امان]]></category>
		<category><![CDATA[انٹیلی_جنس]]></category>
		<category><![CDATA[بلوچستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_فوج]]></category>
		<category><![CDATA[ترجمان_دفتر_خارجہ]]></category>
		<category><![CDATA[ٹی_ٹی_پی]]></category>
		<category><![CDATA[خیبرپختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d8%a7%d9%81%d8%ba%d8%a7%d9%86-%d8%b3%d8%b1%d8%b2%d9%85%db%8c%d9%86-%d9%be%d8%b1-%d8%af%db%81%d8%b4%d8%aa-%da%af%d8%b1%d8%af%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d9%85%d8%ad%d9%81%d9%88%d8%b8-%d9%be%d9%86%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[افغانستان میں کالعدم تنظیموں کی موجودگی اور سرحدی دراندازی کے باعث پاکستان کو شدید سیکیورٹی خدشات کا سامنا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کو ایک بار پھر دہشت گردی کے چیلنجز کا سامنا ہے جہاں خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں پرتشدد کارروائیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ان علاقوں میں سرگرم عناصر نظریاتی اور مقاصد کے لحاظ سے مختلف ہو سکتے ہیں لیکن ان کی کارروائیوں کے اثرات ملک کی مجموعی داخلی سلامتی پر پڑ رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیکیورٹی حکام کے مطابق ان عناصر نے سرحد پار افغانستان میں اپنے ٹھکانے اور پناہ گاہیں قائم کر رکھی ہیں جہاں سے وہ پاکستانی حدود میں حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام کے بعد سے اسلام آباد کو توقعات تھیں کہ کابل انتظامیہ دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف مؤثر اقدامات کرے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان نے اس مقصد کے لیے افغان حکومت کے ساتھ سیاسی، سفارتی اور انٹیلی جنس سطح پر بھرپور رابطے استوار رکھے اور ثبوت بھی فراہم کیے لیکن عملی اقدامات کے فقدان سے صورت حال میں خاطر خواہ بہتری نہیں آ سکی۔ مبصرین کے مطابق افغان سرزمین پر موجود عسکریت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی سے گریز کی وجوہات میں نظریاتی قربت اور داخلی دباؤ کے خدشات شامل ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گلوبل ٹیررازم انڈیکس کے اعدادوشمار کے مطابق افغانستان میں طالبان کی واپسی کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں بتدریج اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس سے انسانی جانوں کا ضیاع بھی ہوا۔ اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ مختلف برسوں کے دوران دہشت گردی سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں پاکستان کی پوزیشن میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سال 2026 کے دوران اب تک دہشت گردانہ کارروائیوں کے نتیجے میں 1,327 افراد جاں بحق اور 2,484 زخمی ہو چکے ہیں۔ سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورت حال کے سدباب کے لیے سرحد پار سے ہونے والی نقل و حرکت پر قابو پانا انتہائی ضروری ہو چکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیکیورٹی تجزیہ کار میجر جنرل (ر) رضا محمد کا کہنا ہے کہ پاکستان کے پاس ناقابل تردید شواہد موجود ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ افغانستان دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیرونی عناصر پاکستان کے اندر عدم استحکام پھیلانے والے گروہوں کی مالی معاونت میں بھی ملوث ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تشویش ناک امر یہ ہے کہ پاکستان میں کارروائیوں میں ملوث افراد میں افغان شہریوں کی شمولیت کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔ انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق دراندازی کرنے والے جنگجوؤں کی ایک بڑی تعداد کا تعلق افغانستان سے ہے جن میں سے کئی کی شناخت بھی کی جا چکی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹس کے مطابق سال 2026 کے دوران پاکستان میں کارروائیوں کے دوران مارے جانے والے 260 سے زائد افغان شہریوں کی شناخت نام اور خاندانی تفصیلات سے ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ حساس نوعیت کے واقعات میں بھی افغان شہریوں اور سابق اراکین کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بین الاقوامی سلامتی کے امور کے ماہر خرم عباس کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ صرف چشم پوشی تک محدود نہیں بلکہ عسکریت پسندوں کو مالی معاونت اور دیگر سہولتیں بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ افغان صوبوں میں بھرتی کی مہمات کے ذریعے افراد کو سرحد پار کارروائیوں کے لیے بھیجا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سابق سفیر منصور علی خان کے مطابق افغان طالبان اور بعض عسکریت پسند گروہوں کے درمیان گہرے نظریاتی روابط اور پرانے تعلقات موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کابل انتظامیہ کے لیے اپنے سابق ساتھیوں کے خلاف سخت کارروائی کرنا مشکل امر بن جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ عسکریت پسند گروہ طالبان کی نچلی اور درمیانی سطح کی صفوں میں سرایت کر چکے ہیں۔ نظریاتی ہم آہنگی اور مشترکہ جنگی تجربات کی وجہ سے دونوں کے درمیان سماجی اور مذہبی نیٹ ورک ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ طالبان کو اپنے اندرونی خلفشار اور بغاوت کا بھی خدشہ ہے کیونکہ سخت قدم اٹھانے سے ان کے اپنے جنگجوؤں میں ناراضی پیدا ہو سکتی ہے۔ اس تزویراتی مخمصے کی وجہ سے افغان حکومت دوغلے پن کا شکار نظر آتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہر منظر زیدی کا کہنا ہے کہ طالبان کو اس بات کا بھی اندیشہ ہے کہ دباؤ بڑھنے کی صورت میں یہ گروہ کسی دوسری حریف تنظیم کے ساتھ اتحاد نہ کر لیں۔ اس صورت حال میں کابل انتظامیہ کے لیے اپنے اقتدار کو برقرار رکھنا اور بھی زیادہ پیچیدہ ہو سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">افغانستان میں صرف ایک ہی نہیں بلکہ متعدد علاقائی اور بین الاقوامی عسکریت پسند تنظیمیں موجود ہیں۔ ان میں فتنہ الخوارج کے ساتھ ساتھ دیگر علیحدگی پسند اور کالعدم گروہ بھی شامل ہیں جو افغان سرزمین کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جنرل (ر) رضا محمد کا مزید کہنا تھا کہ یہ تمام گروہ طالبان کے لیے طاقت کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں اور وہ اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے ان پر انحصار کرتے ہیں۔ پاکستان نے متعدد بار ان امور پر دوٹوک موقف اپنایا ہے کہ افغان سرزمین کا استعمال روکا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستانی حکام کا مؤقف ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔ اسلام آباد اس حوالے سے عالمی برادری پر بھی زور دیتا رہا ہے کہ وہ اس سنگین مسئلے کا نوٹس لے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/188/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
