<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.30.2"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>انٹرنیٹ &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%a7%d9%86%d9%b9%d8%b1%d9%86%db%8c%d9%b9/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sun, 01 Nov 2026 13:26:44 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>انٹرنیٹ &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>بائننس ہیکنگ کیس: شمالی کوریا کے ہیکرز ملوث ہونے کا انکشاف</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/technology/%d8%a8%d8%a7%d8%a6%d9%86%d9%86%d8%b3-%db%81%db%8c%da%a9%d9%86%da%af-%da%a9%db%8c%d8%b3-%d8%b4%d9%85%d8%a7%d9%84%db%8c-%da%a9%d9%88%d8%b1%db%8c%d8%a7-%da%a9%db%92/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/technology/%d8%a8%d8%a7%d8%a6%d9%86%d9%86%d8%b3-%db%81%db%8c%da%a9%d9%86%da%af-%da%a9%db%8c%d8%b3-%d8%b4%d9%85%d8%a7%d9%84%db%8c-%da%a9%d9%88%d8%b1%db%8c%d8%a7-%da%a9%db%92/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 31 Oct 2026 08:28:52 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سائنس و ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[انٹرنیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[ایپ]]></category>
		<category><![CDATA[ایف_بی_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[بائننس]]></category>
		<category><![CDATA[بلاک_چین]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیجیٹل_اثاثے]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیجیٹل_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سائبر_حملہ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/technology/%d8%a8%d8%a7%d8%a6%d9%86%d9%86%d8%b3-%db%81%db%8c%da%a9%d9%86%da%af-%da%a9%db%8c%d8%b3-%d8%b4%d9%85%d8%a7%d9%84%db%8c-%da%a9%d9%88%d8%b1%db%8c%d8%a7-%da%a9%db%92-%db%81%db%8c%da%a9%d8%b1%d8%b2-%d9%85/</guid>

					<description><![CDATA[دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائننس سے 6.3 ارب ڈالر کی چوری میں شمالی کوریا کے ہیکر گروپ 'لازروس' کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آ گئے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">دنیا کی معروف ترین کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائننس کو تاریخ کے سب سے بڑے سائبر حملوں میں سے ایک کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس میں 6.3 ارب ڈالر مالیت کے ڈیجیٹل اثاثے چوری کر لیے گئے۔ اس سنگین واردات کی تحقیقات کرنے والی دو بڑی بلاک چین اینالیٹکس فرمز، ٹی آر ایم لیبز اور چینالیسز نے اپنی رپورٹس میں شمالی کوریا کے ریاستی حمایت یافتہ ہیکر گروپ &#039;لازروس&#039; کو اس واقعے کا مرکزی ملزم قرار دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کے مطابق، اس ہیکنگ میں &#039;لازروس&#039; گروپ، جسے &#039;ٹریڈر ٹریٹر&#039; کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کا ملوث ہونا انتہائی قوی امکان ہے۔ یہ گروپ ماضی میں بھی عالمی سطح پر کرپٹو کرنسی کی بڑی چوریوں میں ملوث رہا ہے، جس کا مقصد شمالی کوریا کی معیشت کو سہارا دینا اور غیر قانونی ذرائع سے فنڈز اکٹھا کرنا بتایا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیقاتی اداروں کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، یہ ہیکرز انتہائی منظم انداز میں کام کرتے ہیں۔ گزشتہ برس ایف بی آئی نے بھی شمالی کوریا پر &#039;بائی بٹ&#039; ایکسچینج سے 1.5 ارب ڈالر کی چوری کا الزام عائد کیا تھا، جس کے بعد چوری شدہ اثاثوں کو تیزی سے بٹ کوائن اور دیگر ڈیجیٹل اثاثوں میں تبدیل کر کے منتقل کر دیا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بائننس کے شریک سی ای او رچرڈ ٹینگ نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ کمپنی کی جانب سے کی گئی تحقیقات میں سیکیورٹی کے کئی اہم مقامات پر نقائص سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ابتدا میں ایک ملازم کے لیپ ٹاپ کے متاثر ہونے کا شبہ تھا، تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ یہ حملہ کہیں زیادہ وسیع اور پیچیدہ تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کمپنی ترجمان کے مطابق، بائننس نے اب تک چوری شدہ اثاثوں کا 80 فیصد حصہ بحال کر لیا ہے، تاہم باقی ماندہ رقم کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ اس واقعے نے کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں سیکیورٹی کے حوالے سے نئے خدشات کو جنم دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس ہیکنگ میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ چینالیسز کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے منی لانڈرنگ کے ایسے نئے طریقے اپنائے ہیں جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے تھے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہیکرز کے پاس جدید ترین ٹیکنالوجی موجود ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ شمالی کوریا کے ہیکرز کا نام پہلی بار 2014 میں سونی پکچرز پر ہونے والے بڑے حملے کے بعد عالمی سطح پر سامنے آیا تھا۔ تب سے اب تک یہ گروپ مسلسل اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کر رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیکیورٹی ماہرین کے مطابق، 2022 میں بھی 620 ملین ڈالر کی کرپٹو کرنسی چوری کے پیچھے اسی گروپ کا ہاتھ ہونے کے شواہد ملے تھے۔ یہ تمام واقعات ثابت کرتے ہیں کہ ہیکرز اب مالیاتی اداروں کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بائننس کی جانب سے اس معاملے پر مزید تفصیلات فراہم کرنے کے لیے کام جاری ہے اور کمپنی عالمی ریگولیٹرز کے ساتھ مل کر تحقیقات کر رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بین الاقوامی برادری اور سائبر سیکیورٹی ایجنسیاں اس بات پر متفق ہیں کہ شمالی کوریا کے ہیکرز کا نیٹ ورک اب انتہائی طاقتور ہو چکا ہے۔ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں، تو یہ تاریخ کی سب سے بڑی سائبر ڈکیتیوں میں سے ایک تصور کی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فی الحال بائننس کے صارفین کو اپنے اکاؤنٹس کی سیکیورٹی کے لیے اضافی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ کمپنی نے یقین دلایا ہے کہ وہ اپنے صارفین کے اثاثوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھا رہی ہے اور تحقیقات کے نتائج جلد منظر عام پر لائے جائیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/technology/%d8%a8%d8%a7%d8%a6%d9%86%d9%86%d8%b3-%db%81%db%8c%da%a9%d9%86%da%af-%da%a9%db%8c%d8%b3-%d8%b4%d9%85%d8%a7%d9%84%db%8c-%da%a9%d9%88%d8%b1%db%8c%d8%a7-%da%a9%db%92/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>بھارت: مائیکروسافٹ ملازم کو نوکری چھوڑنے پر 11 لاکھ کی پیشکش، انٹرنیٹ پر بحث</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/interesting/%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%b1%d8%aa-%d9%85%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%a9%d8%b1%d9%88%d8%b3%d8%a7%d9%81%d9%b9-%d9%85%d9%84%d8%a7%d8%b2%d9%85-%da%a9%d9%88-%d9%86%d9%88%da%a9%d8%b1%db%8c/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/interesting/%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%b1%d8%aa-%d9%85%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%a9%d8%b1%d9%88%d8%b3%d8%a7%d9%81%d9%b9-%d9%85%d9%84%d8%a7%d8%b2%d9%85-%da%a9%d9%88-%d9%86%d9%88%da%a9%d8%b1%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 28 Oct 2026 12:37:40 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دلچسپ و عجیب]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[انٹرنیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[بھارت]]></category>
		<category><![CDATA[بھارتی_روپے]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[دلچسپ_و_عجیب]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ریڈٹ]]></category>
		<category><![CDATA[سافٹ_ویئر_انجینئر]]></category>
		<category><![CDATA[سوشل_میڈیا]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[کیریئر]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/interesting/%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%b1%d8%aa-%d9%85%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%a9%d8%b1%d9%88%d8%b3%d8%a7%d9%81%d9%b9-%d9%85%d9%84%d8%a7%d8%b2%d9%85-%da%a9%d9%88-%d9%86%d9%88%da%a9%d8%b1%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے سافٹ ویئر انجینئر نے رضاکارانہ علیحدگی کی اسکیم پر سوشل میڈیا صارفین سے مشورہ مانگ لیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">بھارت میں ٹیکنالوجی کی معروف کمپنی مائیکروسافٹ کے ایک نوجوان ملازم کو کمپنی کی جانب سے نوکری چھوڑنے کے بدلے بھاری رقم کی پیشکش کی گئی ہے، جس کے بعد نوجوان نے فیصلہ کرنے کے لیے سوشل میڈیا کا سہارا لیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹس کے مطابق حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے 23 سالہ سافٹ ویئر انجینئر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ریڈٹ پر اپنی صورتحال بیان کرتے ہوئے صارفین سے رائے طلب کی ہے کہ آیا اسے یہ پیشکش قبول کر لینی چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نوجوان کا کہنا ہے کہ کمپنی کی جانب سے رضاکارانہ طور پر ملازمت چھوڑنے کی ایک اسکیم متعارف کرائی گئی ہے، جس کے تحت استعفیٰ دینے والے ملازمین کو تین ماہ کی تنخواہ کے مساوی تقریباً 11 لاکھ بھارتی روپے دینے کی پیشکش کی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس نوجوان نے اپنی پوسٹ میں سوال اٹھایا کہ کیا موجودہ حالات میں اتنی رقم لے کر ملازمت چھوڑ دینا ایک دانشمندانہ فیصلہ ہوگا یا پھر اسے اپنی موجودہ ملازمت کو ہی جاری رکھنا زیادہ بہتر رہے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس سوال کے منظر عام پر آتے ہی سوشل میڈیا صارفین کے درمیان ایک دلچسپ اور طویل بحث چھڑ گئی ہے، جس میں مختلف آراء کا اظہار کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کچھ صارفین کا خیال ہے کہ موجودہ دور میں جاب مارکیٹ کی صورتحال کافی مشکل ہے، اس لیے ملازمت چھوڑنا خطرے سے خالی نہیں ہوگا اور اسے اپنی موجودہ پوزیشن پر ہی برقرار رہنا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب کچھ صارفین نے نوجوان کو مشورہ دیا ہے کہ وہ یہ رقم وصول کر لے اور اس کے بعد سکون سے کسی بہتر ملازمت کی تلاش شروع کر دے، کیونکہ یہ رقم ایک اچھا مالی سہارا ثابت ہو سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سوشل میڈیا پر اس طرح کے معاملات اکثر و بیشتر بحث کا موضوع بنتے رہتے ہیں جہاں لوگ اپنی پیشہ ورانہ زندگی کے اہم فیصلوں کے لیے انٹرنیٹ پر موجود نامعلوم افراد سے مشورے مانگتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس واقعے نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ ٹیکنالوجی کے دور میں لوگ اپنے ذاتی اور کیریئر سے متعلق فیصلوں میں بھی سوشل میڈیا کی رائے کو کافی اہمیت دینے لگے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اب تک یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ مذکورہ نوجوان نے اپنی ملازمت کے حوالے سے حتمی فیصلہ کیا ہے یا نہیں، تاہم اس کی پوسٹ پر تبصروں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس قسم کی رضاکارانہ علیحدگی کی اسکیمیں اکثر بڑی کمپنیاں اپنی تنظیم نو کے عمل کے دوران متعارف کراتی ہیں تاکہ ملازمین کو پرکشش پیکیج دے کر فارغ کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل میں اس نوجوان کا فیصلہ کیا ہوگا، یہ تو وقت ہی بتائے گا، لیکن اس وقت یہ معاملہ سوشل میڈیا پر خاصی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/interesting/%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%b1%d8%aa-%d9%85%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%a9%d8%b1%d9%88%d8%b3%d8%a7%d9%81%d9%b9-%d9%85%d9%84%d8%a7%d8%b2%d9%85-%da%a9%d9%88-%d9%86%d9%88%da%a9%d8%b1%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ 1680 ارب روپے رہ گیا: اویس لغاری</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/%d9%be%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b3%db%8c%da%a9%d9%b9%d8%b1-%da%a9%d8%a7-%da%af%d8%b1%d8%af%d8%b4%db%8c-%d9%82%d8%b1%d8%b6%db%81-1680-%d8%a7%d8%b1%d8%a8-%d8%b1%d9%88%d9%be%db%92-%d8%b1%db%81/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/%d9%be%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b3%db%8c%da%a9%d9%b9%d8%b1-%da%a9%d8%a7-%da%af%d8%b1%d8%af%d8%b4%db%8c-%d9%82%d8%b1%d8%b6%db%81-1680-%d8%a7%d8%b1%d8%a8-%d8%b1%d9%88%d9%be%db%92-%d8%b1%db%81/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 27 Oct 2026 12:17:00 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[انٹرنیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[انرجی_سمٹ]]></category>
		<category><![CDATA[اویس_لغاری]]></category>
		<category><![CDATA[بجلی_کے_نرخ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاور_سیکٹر]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_بجلی]]></category>
		<category><![CDATA[حکومتی_اصلاحات]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/technology/%d9%be%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b3%db%8c%da%a9%d9%b9%d8%b1-%da%a9%d8%a7-%da%af%d8%b1%d8%af%d8%b4%db%8c-%d9%82%d8%b1%d8%b6%db%81-1680-%d8%a7%d8%b1%d8%a8-%d8%b1%d9%88%d9%be%db%92-%d8%b1%db%81/</guid>

					<description><![CDATA[وفاقی وزیر توانائی نے کہا ہے کہ پنجاب کی بجلی تقسیم کار کمپنیوں میں بلوں کی وصولی سو فیصد ہو چکی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے واضح کیا ہے کہ ملک کے پاور سیکٹر کے گردشی قرضے میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جو اب چوبیس سو ارب روپے سے کم ہوکر سولہ سو اسی ارب روپے پر آچکا ہے۔ انہوں نے یہ اہم اعداد و شمار دارالحکومت میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران بیان کیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی یعنی نسٹ کے زیر اہتمام منعقدہ نیشنل انرجی سمٹ دو ہزار چھبیس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے توانائی کے شعبے میں کی جانے والی اصلاحات اور ان کے ثمرات پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے پاور سیکٹر کی بہتری کے لیے متعدد بنیادی نوعیت کے اقدامات اٹھائے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اویس لغاری نے سمٹ کے شرکاء کو بتایا کہ محکموں میں میرٹ کی بالادستی کو یقینی بنانے اور اقربا پروری کے خاتمے کے لیے پاور سیکٹر کے اداروں میں پیشہ ورانہ مہارت کے حامل بورڈز کی تشکیل عمل میں لائی گئی ہے تاکہ کارکردگی بہتر ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزارت توانائی کے ترجمان اور وفاقی وزیر کے مطابق شعبے میں شفافیت لانے اور بہتر طرز حکمرانی کے فروغ کے لیے ڈیجیٹلائزیشن کا عمل بھی تیزی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے جس کے مثبت نتائج اب تک سامنے آ رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تقریب سے خطاب میں وفاقی وزیر توانائی کا مزید کہنا تھا کہ وزارت کی سطح پر تکنیکی صلاحیتوں کو بڑھانے اور طویل المدتی پالیسی سازی کے موثر نظام کو ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے بھی بھرپور کام جاری ہے تاکہ فیصلے بہتر ہوں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صنعتی شعبے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اویس لغاری نے اعلان کیا کہ صنعتی صارفین کے لیے بجلی کے نرخوں میں نمایاں کمی کی گئی ہے تاکہ ملکی پیداوار اور برآمدات کو عالمی منڈی میں مسابقتی بنایا جا سکے اور معیشت ترقی کرے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر نے یہ بھی انکشاف کیا کہ صنعتوں کے اوپر سے کراس سبسڈی کا پرانا اور غیر منصفانہ بوجھ مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے جس سے صنعتی اداروں کو بڑی ریلیف ملی ہے اور ان کے پیداواری اخراجات میں کمی واقع ہوئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پنجاب کی تمام بجلی تقسیم کار کمپنیوں میں بجلی کے بلوں کی وصولی کی شرح سو فیصد تک پہنچ گئی ہے جو انتظامی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہے اور اس سے ادارے مضبوط ہو رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">توانائی کے شعبے میں گردشی قرضے کا حجم طویل عرصے سے ملکی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج بنا ہوا تھا جس پر قابو پانے کے لیے حکومتی سطح پر مختلف ادوار میں متعدد پالیسیاں تشکیل دی جاتی رہی ہیں تاکہ اس ناسور کو روکا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ حکومت کی طرف سے اٹھائے جانے والے انرجی سیکٹر کے یہ اقدامات ملکی اقتصادی ڈھانچے کو بہتر بنانے اور مالیاتی خسارے کو محدود کرنے کی سمت میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں جن کی تائید اقتصادی ماہرین بھی کر رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نیشنل انرجی سمٹ دو ہزار چھبیس میں ملک بھر سے آئے ہوئے ماہرینِ تعلیم، توانائی کے شعبے کے ماہرین، اور کارپوریٹ سیکٹر کے عمائدین نے شرکت کی اور ملک کو درپیش توانائی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تجاویز پیش کیں جنہیں سراہا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے نفاذ سے نہ صرف گردشی قرضوں میں کمی آئی ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ کاروباری حلقوں کی جانب سے بھی حکومتی پالیسیوں پر اطمینان کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ اس سے معاشی سرگرمیوں کو فروغ مل رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزارت توانائی نے عزم ظاہر کیا ہے کہ اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کا سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رکھا جائے گا تاکہ ملک کو طویل مدتی بنیادوں پر توانائی کے بحران سے مکمل طور پر نجات دلائی جا سکے اور عوام کو سستی بجلی فراہم ہو سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/%d9%be%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b3%db%8c%da%a9%d9%b9%d8%b1-%da%a9%d8%a7-%da%af%d8%b1%d8%af%d8%b4%db%8c-%d9%82%d8%b1%d8%b6%db%81-1680-%d8%a7%d8%b1%d8%a8-%d8%b1%d9%88%d9%be%db%92-%d8%b1%db%81/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>انسٹاگرام کا یوٹیوب کو ٹکر دینے کیلئے 90 منٹ طویل ویڈیوز کا فیچر متعارف</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/technology/%d8%a7%d9%86%d8%b3%d9%b9%d8%a7%da%af%d8%b1%d8%a7%d9%85-%da%a9%d8%a7-%db%8c%d9%88%d9%b9%db%8c%d9%88%d8%a8-%da%a9%d9%88-%d9%b9%da%a9%d8%b1-%d8%af%db%8c%d9%86%db%92/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/technology/%d8%a7%d9%86%d8%b3%d9%b9%d8%a7%da%af%d8%b1%d8%a7%d9%85-%da%a9%d8%a7-%db%8c%d9%88%d9%b9%db%8c%d9%88%d8%a8-%da%a9%d9%88-%d9%b9%da%a9%d8%b1-%d8%af%db%8c%d9%86%db%92/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 27 Oct 2026 11:57:52 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سائنس و ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[انٹرنیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[انسٹاگرام]]></category>
		<category><![CDATA[ایپ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[تخلیق_کار]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیجیٹل_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیجیٹل_میڈیا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سوشل_میڈیا]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[فیچرز]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/technology/%d8%a7%d9%86%d8%b3%d9%b9%d8%a7%da%af%d8%b1%d8%a7%d9%85-%da%a9%d8%a7-%db%8c%d9%88%d9%b9%db%8c%d9%88%d8%a8-%da%a9%d9%88-%d9%b9%da%a9%d8%b1-%d8%af%db%8c%d9%86%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[فوٹو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام نے صارفین کو طویل دورانیے کا مواد فراہم کرنے کے لیے نئے فیچر کی آزمائش کا آغاز کر دیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">معروف فوٹو اور ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم انسٹاگرام نے روایتی مختصر کلپس سے آگے بڑھتے ہوئے یوٹیوب کو براہ راست ٹکر دینے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ اسی سلسلے میں کمپنی کی جانب سے ایک نئے فیچر کی آزمائش کا باقاعدہ آغاز کیا گیا ہے جس کے تحت صارفین اور کریئیٹرز طویل ویڈیوز اپ لوڈ کر سکیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">میٹا کی زیر ملکیت اس مقبول ایپلیکیشن نے اپنے دائرہ کار کو وسیع کرتے ہوئے طویل دورانیے کے مواد پر توجہ مرکوز کی ہے۔ اس نئے اقدام کا مقصد صارفین کو تفصیلی اور طویل ویڈیوز دیکھنے کے لیے دیگر پلیٹ فارمز کا رخ کرنے سے روکنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نئے متعارف کرائے جانے والے اس فارمیٹ کا نام فیچرز رکھا گیا ہے جس کے ذریعے منتخب کریئیٹرز اب نوے منٹ تک طویل ویڈیوز انسٹاگرام پر شیئر کر سکیں گے۔ یہ ویڈیوز روایتی عمودی ریلز کے برعکس افقی انداز میں ہوں گی تاکہ بڑے اسکرین سائز پر بھی بہترین تجربہ فراہم کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انسٹاگرام کے سربراہ ایڈم موسیری اور نائب صدر برائے پروڈکٹ ٹیسا لیونز نے چھبیس اکتوبر دو ہزار چھبیس کو ایک ویڈیو کے ذریعے اس نئے فارمیٹ کا باضابطہ اعلان کیا۔ حکام کا کہنا تھا کہ اس فیچر سے تخلیق کاروں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے مزید وسیع میدان ملے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹیسا لیونز نے اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ متعدد مواد تیار کرنے والے افراد پہلے ہی طویل دورانیے کی ویڈیوز بناتے ہیں۔ اس طویل مواد کو وہ مختلف ٹکڑوں میں تقسیم کرکے انسٹاگرام پر شیئر کرنے پر مجبور ہوتے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انسٹاگرام کے نائب صدر کا مزید کہنا تھا کہ ریلز بدستور پلیٹ فارم کا انتہائی اہم اور بنیادی حصہ رہیں گی۔ تاہم اس نئے اضافے سے ناظرین کو اپنے پسندیدہ تخلیق کاروں کا تفصیلی اور مکمل مواد بھی ایک ہی جگہ پر دیکھنے کو مل جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس نئے فیچر کی مدد سے پلیٹ فارم پر پوڈکاسٹس، تفصیلی انٹرویوز، کامیڈی شوز اور دیگر معلوماتی پروگرام باآسانی اپ لوڈ کیے جا سکیں گے۔ ناظرین کے لیے یہ سہولت بھی ہوگی کہ وہ مختصر کلپس دیکھنے کے بعد مکمل ویڈیو تک رسائی حاصل کر سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کریئیٹرز اپنی مختصر ریلز کو مکمل طویل ویڈیو کے ساتھ منسلک بھی کر سکیں گے جس سے ناظرین کی دلچسپی برقرار رہے گی۔ اس طرح کی تکنیکی سہولیات کا مقصد ایپ کے اندر ہی صارفین کا طویل مدتی روٹین قائم کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انسٹاگرام کی انتظامیہ چاہتی ہے کہ صارفین تفریح اور معلومات کے حصول کے لیے زیادہ سے زیادہ وقت اسی پلیٹ فارم پر گزاریں۔ افقی ویڈیوز پر خصوصی توجہ دینے کا مقصد بھی روایتی ویڈیو اسٹریمنگ پلیٹ فارمز کا مقابلہ کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس نئے فارمیٹ کو موبائل فونز کے علاوہ انسٹاگرام کی ٹی وی ایپلیکیشن پر بھی چلانے کے منصوبے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس سے صارفین کو گھر بیٹھے بڑی اسکرین پر بھی طویل مواد سے لطف اندوز ہونے کا موقع ملے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">طویل ویڈیوز کے اس فیچر کی ابتدائی آزمائش سب سے پہلے برازیل میں چند منتخب کریئیٹرز کے ساتھ کی گئی تھی۔ اس تجربے کے بعد چھبیس اکتوبر سے اس کا دائرہ کار امریکہ تک بھی بڑھا دیا گیا ہے جہاں محدود پیمانے پر اس کی جانچ جاری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاہم یہ اہم نیا فیچر تاحال دنیا بھر کے تمام عام صارفین کے لیے دستیاب نہیں کیا گیا ہے۔ کمپنی کی طرف سے اسے عالمی سطح پر تمام صارفین کے لیے پیش کرنے سے متعلق تاحال کسی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹیکنالوجی کے ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ تجربہ کامیاب ثابت ہوتا ہے تو اس سے ڈیجیٹل مارکیٹ میں ویڈیو شیئرنگ کا رجحان یکسر تبدیل ہو جائے گا۔ انسٹاگرام کا شمار دنیا کی بڑی سوشل میڈیا ایپس میں ہوتا ہے اور اس تبدیلی سے اس کی پوزیشن مزید مستحکم ہوگی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/technology/%d8%a7%d9%86%d8%b3%d9%b9%d8%a7%da%af%d8%b1%d8%a7%d9%85-%da%a9%d8%a7-%db%8c%d9%88%d9%b9%db%8c%d9%88%d8%a8-%da%a9%d9%88-%d9%b9%da%a9%d8%b1-%d8%af%db%8c%d9%86%db%92/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>برطانوی بینک بارکلیز کی ہزاروں ملازمین کی چھانٹی کی تیاری</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/%d8%a8%d8%b1%d8%b7%d8%a7%d9%86%d9%88%db%8c-%d8%a8%db%8c%d9%86%da%a9-%d8%a8%d8%a7%d8%b1%da%a9%d9%84%db%8c%d8%b2-%da%a9%db%8c-%db%81%d8%b2%d8%a7%d8%b1%d9%88%da%ba/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/%d8%a8%d8%b1%d8%b7%d8%a7%d9%86%d9%88%db%8c-%d8%a8%db%8c%d9%86%da%a9-%d8%a8%d8%a7%d8%b1%da%a9%d9%84%db%8c%d8%b2-%da%a9%db%8c-%db%81%d8%b2%d8%a7%d8%b1%d9%88%da%ba/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 26 Oct 2026 15:17:42 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آج_کی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹاک_ایکسچینج]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹیٹ_بینک]]></category>
		<category><![CDATA[انٹرنیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[اہم_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[ایپ]]></category>
		<category><![CDATA[بارکلیز]]></category>
		<category><![CDATA[برطانیہ]]></category>
		<category><![CDATA[بریکنگ_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[بینک]]></category>
		<category><![CDATA[بینکاری]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹرول]]></category>
		<category><![CDATA[ڈالر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیجیٹل_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سونا]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[مصنوعی_ذہانت]]></category>
		<category><![CDATA[معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[مہنگائی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/technology/%d8%a8%d8%b1%d8%b7%d8%a7%d9%86%d9%88%db%8c-%d8%a8%db%8c%d9%86%da%a9-%d8%a8%d8%a7%d8%b1%da%a9%d9%84%db%8c%d8%b2-%da%a9%db%8c-%db%81%d8%b2%d8%a7%d8%b1%d9%88%da%ba/</guid>

					<description><![CDATA[مصنوعی ذہانت اور خودکار نظام کو اپناتے ہوئے بینک نے سال کے آخر تک ملازمین کی فہرستیں بنانا شروع کر دیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">برطانیہ کے معروف نجی بینک بارکلیز نے اخراجات میں کمی اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کا حوالہ دیتے ہوئے بڑے پیمانے پر ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس اقدام کا مقصد عالمی سطح پر بینک کے انتظامی ڈھانچے کو بہتر بنانا اور مالیاتی کارکردگی کو بڑھانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بینک انتظامیہ کی جانب سے اس سال کے اختتام تک ہزاروں ملازمین کو نوکریوں سے فارغ کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے جس کے لیے باقاعدہ فہرستیں تیار کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلے سے بینک کی عالمی افرادی قوت کا ایک نمایاں حصہ براہ راست متاثر ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹس کے مطابق بارکلیز کی جانب سے اس کٹانگ کا بنیادی سبب مصنوعی ذہانت اور خودکار نظام کا بڑھتا ہوا نفاذ ہے۔ بینک کا ماننا ہے کہ روایتی طریقوں کے مقابلے میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے نہ صرف اخراجات کم ہوں گے بلکہ امور کی انجام دہی میں تیزی بھی آئے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس منصوبے کے تحت بینک کی عالمی افرادی قوت کے تقریباً پانچ فیصد حصے کو کم کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ ابتدائی طور پر ایک ہزار کے قریب ملازمتوں کو فوری خطرات لاحق ہیں جبکہ بقیہ چار ہزار ملازمین کی چھانٹی رواں سال کے آخر تک متوقع ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متاثر ہونے والے شعبوں میں سب سے زیادہ تناسب معاون خدمات اور ڈیولپرز سے وابستہ عملے کا بتایا جا رہا ہے۔ بینک کے مطابق اس چھانٹی کا ساٹھ فیصد حصہ انہی شعبوں پر اثر انداز ہوگا جہاں خودکار نظام روایتی کاموں کی جگہ لے رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بارکلیز اکیلا ایسا مالیاتی ادارہ نہیں ہے جس نے اس نوعیت کے اقدامات کا اعلان کیا ہو۔ اس سے قبل بھی دنیا کے کئی بڑے بینکوں اور مالیاتی اداروں نے اخراجات محدود کرنے کے لیے عملے کی تعداد کم کرنے کی پالیسیوں پر عمل درآمد شروع کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گزشتہ چند ماہ کے دوران بین الاقوامی سطح پر کئی نامور اداروں نے اپنی افرادی قوت کو محدود کرنے کے منصوبے سامنے رکھے ہیں۔ مئی کے مہینے میں ایک اور بڑے برطانوی ادارے نے آئندہ چند برسوں کے دوران ہزاروں ملازمتیں ختم کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسی طرح رواں سال کے اوائل میں ایک اور بڑے بین الاقوامی بینک نے بھی ہزاروں کی تعداد میں ملازمین کو ملازمت سے فارغ کرنے پر غور کرنے کی اطلاعات دی تھیں۔ مالیاتی خدمات فراہم کرنے والی معروف کمپنیوں کی جانب سے بھی ایسے ہی فیصلے سامنے آئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی سطح پر معاشی دباؤ اور کاروباری رجحانات میں تبدیلی کے پیش نظر مالیاتی ادارے اب روایتی افرادی قوت کی بجائے ڈیجیٹل حل کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ اس رجحان سے بینکاری کی صنعت میں روزگار کے مواقع کی نوعیت ہمیشہ کے لیے بدلتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب بعض دیگر خطوں کے بینکنگ سیکٹر میں بھی ملازمین کی تعداد میں کمی کے اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق کچھ بڑے نجی اداروں میں ملازمین کی مجموعی تعداد میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اداروں کا اصرار ہے کہ یہ تبدیلیاں کارکردگی کو بہتر بنانے اور گاہکوں کو جدید ترین ڈیجیٹل سہولیات فراہم کرنے کے لیے ناگزیر ہیں۔ اس تمام عمل کے دوران بینکنگ کے شعبے میں سکیورٹی اور ڈیٹا کے تجزیے جیسے شعبوں کی مانگ میں اضافہ جاری ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/%d8%a8%d8%b1%d8%b7%d8%a7%d9%86%d9%88%db%8c-%d8%a8%db%8c%d9%86%da%a9-%d8%a8%d8%a7%d8%b1%da%a9%d9%84%db%8c%d8%b2-%da%a9%db%8c-%db%81%d8%b2%d8%a7%d8%b1%d9%88%da%ba/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>سرکاری اور مالیاتی اداروں کے ڈیجیٹل نظاموں پر سائبر حملوں کا خدشہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/technology/%d8%b3%d8%b1%da%a9%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%85%d8%a7%d9%84%db%8c%d8%a7%d8%aa%db%8c-%d8%a7%d8%af%d8%a7%d8%b1%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%da%88%db%8c%d8%ac%db%8c%d9%b9%d9%84/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/technology/%d8%b3%d8%b1%da%a9%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%85%d8%a7%d9%84%db%8c%d8%a7%d8%aa%db%8c-%d8%a7%d8%af%d8%a7%d8%b1%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%da%88%db%8c%d8%ac%db%8c%d9%b9%d9%84/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 26 Oct 2026 12:58:10 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سائنس و ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آج_کی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[انٹرنیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[انٹرنیٹ_سیکیورٹی]]></category>
		<category><![CDATA[اہم_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[ای_مدھرا]]></category>
		<category><![CDATA[ایپ]]></category>
		<category><![CDATA[بریکنگ_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیجیٹل_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیجیٹل_سیکیورٹی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سائبر_حملے]]></category>
		<category><![CDATA[سائنس]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[مصنوعی_ذہانت]]></category>
		<category><![CDATA[موبائل]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/technology/%d8%b3%d8%b1%da%a9%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%85%d8%a7%d9%84%db%8c%d8%a7%d8%aa%db%8c-%d8%a7%d8%af%d8%a7%d8%b1%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%da%88%db%8c%d8%ac%db%8c%d9%b9%d9%84/</guid>

					<description><![CDATA[نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم نے اہم ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کر دی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد میں نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم کی جانب سے ملک کے سرکاری اور مالیاتی اداروں سمیت اہم ڈیجیٹل نظاموں پر ممکنہ سائبر حملوں کے حوالے سے ایک سخت ایڈوائزری جاری کی گئی ہے جس میں متعلقہ اداروں کو فوری طور پر حفاظتی اقداماتن اپنانے کا کہا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حالیہ انکشافات کے مطابق ای مَدھرا کے ڈیجیٹل سیکیورٹی سرٹیفکیٹس میں پائے جانے والی تکنیکی خامیوں کی وجہ سے ملک کے اہم انفارمیشن انفرا اسٹرکچر کو شدید خطرات کا سامنا ہے اور سرکاری و مالیاتی نیٹ ورکس خطرے کی زد میں آسکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ذرائع سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ای مَدھرا کی سرٹیفکیٹ اتھارٹی کی کل آٹھ نجی سیکیورٹی کیز اس مسئلے سے متاثر ہوئی ہیں جن میں سے چھ کا تعلق ٹی ایل ایس سرٹیفکیٹس سے جبکہ دو کا تعلق کوڈ سائننگ کے عمل سے ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کمزور اور متاثرہ کیز کی موجودگی کی وجہ سے بدنیتی پر مبنی عناصر کے لیے جعلی ڈیجیٹل سرٹیفکیٹس کی تیاری کا راستہ کھل سکتا ہے جس سے سیکیورٹی کے معاملات مزید پیچیدہ ہو رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس سنگین صورتحال کے پیش نظر سرکاری اور نجی نوعیت کی اہم ویب سائٹس اور آن لائن سروسز کی ہو بہو نقل تیار کیے جانے کا خطرہ بھی شدت اختیار کر گیا ہے جو عام صارفین کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کے علاوہ انٹرنیٹ ٹریفک کے اندر غیر مجاز مداخلت کیے جانے، صارفین کی آن لائن سرگرمیوں کی نگرانی اور ڈیجیٹل ڈیٹا کے اندر ردوبدل کیے جانے کے امکانات بھی ظاہر کیے گئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نیشنل سرٹ کی جانب سے جاری کردہ ہدایات میں متعلقہ تمام اداروں کو اپنے آپریٹنگ سسٹمز، ویب براؤزرز اور دیگر تمام سافٹ ویئر کو فوری طور پر اپ ڈیٹ کرنے کی سختی سے تاکید کی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایڈوائزری میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ متاثرہ اور غیر محفوظ سرٹیفکیٹس کو فوری طور پر بلاک کیا جائے اور اداروں کے سیکیورٹی ٹرسٹ اسٹورز کو بھی نئے تقاضوں کے مطابق اپ ڈیٹ کیا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب وہ موبائل ایپلیکیشنز، کمپیوٹر سافٹ ویئر اور دیگر ڈیجیٹل سسٹمز جو اپنے الگ سرٹیفکیٹ اسٹورز استعمال کرتے ہیں، انہیں بھی خصوصی طور پر حفاظتی اقدامات مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متعلقہ اداروں کو یہ بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے نیٹ ورکس پر کسی بھی قسم کے مشکوک سرٹیفکیٹس، غیر معمولی سرگرمیوں اور کنکشن ری ڈائریکشن کے واقعات پر کڑی نظر رکھیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈیجیٹل سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے یہ بھی کہا گیا ہے کہ جعلی سرٹیفکیٹس کے استعمال یا ڈیٹا انٹرسیپشن کے کسی بھی مشتبہ واقعے کی فوری اطلاع نیشنل سرٹ پاکستان کو فراہم کی جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس نوعیت کے اقدامات کا مقصد ملکی ڈیجیٹل اثاثوں کا تحفظ کرنا اور کسی بھی ممکنہ بڑے سائبر حملے کو بروقت ناکام بنانا ہے تاکہ سرکاری و مالیاتی تنصیبات محفوظ رہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/technology/%d8%b3%d8%b1%da%a9%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%85%d8%a7%d9%84%db%8c%d8%a7%d8%aa%db%8c-%d8%a7%d8%af%d8%a7%d8%b1%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%da%88%db%8c%d8%ac%db%8c%d9%b9%d9%84/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>سوشل میڈیا پر وائرل گھنی مونچھوں والے نومولود کی ویڈیو حقیقت یا فریب؟</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/interesting/%d8%b3%d9%88%d8%b4%d9%84-%d9%85%db%8c%da%88%db%8c%d8%a7-%d9%be%d8%b1-%d9%88%d8%a7%d8%a6%d8%b1%d9%84-%da%af%da%be%d9%86%db%8c-%d9%85%d9%88%d9%86%da%86%da%be%d9%88%da%ba/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/interesting/%d8%b3%d9%88%d8%b4%d9%84-%d9%85%db%8c%da%88%db%8c%d8%a7-%d9%be%d8%b1-%d9%88%d8%a7%d8%a6%d8%b1%d9%84-%da%af%da%be%d9%86%db%8c-%d9%85%d9%88%d9%86%da%86%da%be%d9%88%da%ba/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 25 Oct 2026 22:56:42 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دلچسپ و عجیب]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[انٹرنیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[ایکواڈور]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[حیران_کن]]></category>
		<category><![CDATA[دلچسپ_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[دلچسپ_و_عجیب]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیجیٹل_ایڈیٹنگ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سوشل_میڈیا]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[فیکٹ_چیک]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/interesting/%d8%b3%d9%88%d8%b4%d9%84-%d9%85%db%8c%da%88%db%8c%d8%a7-%d9%be%d8%b1-%d9%88%d8%a7%d8%a6%d8%b1%d9%84-%da%af%da%be%d9%86%db%8c-%d9%85%d9%88%d9%86%da%86%da%be%d9%88%da%ba/</guid>

					<description><![CDATA[انٹرنیٹ پر گردش کرنے والی ایکواڈور کے نومولود بچے کی ویڈیو نے صارفین کو حیرت میں مبتلا کر دیا، ماہرین نے ڈیجیٹل ایڈیٹنگ کا شبہ ظاہر کر دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">سوشل میڈیا پر حال ہی میں ایک ایسی ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں ایک نومولود بچے کو گھنی اور سیاہ مونچھوں کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔ اس غیر معمولی منظر نے انٹرنیٹ صارفین کو شدید حیرت میں مبتلا کر دیا ہے اور اس پر دلچسپ تبصروں کا سلسلہ جاری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ویڈیو کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس کا تعلق ایکواڈور سے ہے، جہاں یہ بچہ پیدا ہوا۔ ویڈیو میں بچے کے اوپری ہونٹ پر نمایاں اور گھنے بال دیکھے جا سکتے ہیں جو عام نومولود بچوں کی ظاہری شکل سے بالکل مختلف اور غیر فطری معلوم ہوتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس ویڈیو کے منظر عام پر آتے ہی سوشل میڈیا صارفین نے مختلف مزاحیہ انداز میں ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ کچھ صارفین نے اسے ایک &#039;بزرگ&#039; بچے سے تشبیہ دی ہے، جبکہ کچھ نے اسے ڈیجیٹل ایڈیٹنگ کا کمال قرار دیتے ہوئے مختلف مزاحیہ تصاویر اور میمز بھی بنائی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">طبی ماہرین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ نومولود بچوں کے جسم پر &#039;لینوگو&#039; نامی باریک اور نرم بال ہو سکتے ہیں جو پیدائش کے کچھ عرصے بعد خود بخود ختم ہو جاتے ہیں۔ تاہم، یہ بال اتنے گھنے اور واضح نہیں ہوتے جیسے کہ ویڈیو میں دکھائی دے رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایک فیکٹ چیک رپورٹ میں اس ویڈیو کے مستند ہونے پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، بچے کے چہرے کی حرکات کے ساتھ مونچھوں کا انداز قدرتی نہیں لگتا، جس سے یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ اسے مصنوعی ذہانت یا کسی ڈیجیٹل ٹول کے ذریعے شامل کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فیکٹ چیک کرنے والے اداروں کا مزید کہنا ہے کہ ویڈیو میں مونچھوں پر پڑنے والی روشنی اور پس منظر میں موجود اسپتال کے کمرے کی روشنی میں بھی واضح فرق پایا جاتا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ ویڈیو اصلی نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اب تک اس واقعے کے حوالے سے کسی بھی اسپتال، ڈاکٹر یا بچے کے خاندان کی جانب سے کوئی تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔ کسی بھی طبی ریکارڈ کی عدم موجودگی اس بات کو تقویت دیتی ہے کہ یہ ویڈیو محض ایک ڈیجیٹل ایڈیٹنگ کا نتیجہ ہو سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اگرچہ طبی دنیا میں &#039;ہائپرٹرائیکوسس&#039; جیسی نایاب کیفیات موجود ہیں جن میں جسم پر غیر معمولی بال اگ سکتے ہیں، لیکن اس وائرل ویڈیو کا کسی بھی حقیقی طبی کیس سے کوئی ثابت شدہ تعلق تاحال سامنے نہیں آ سکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کا ماننا ہے کہ سوشل میڈیا پر توجہ حاصل کرنے کے لیے اکثر ایسی ویڈیوز کو ڈیجیٹل فلٹرز یا اے آئی ٹولز کی مدد سے تیار کیا جاتا ہے۔ یہ ویڈیو بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی معلوم ہوتی ہے جس کا مقصد محض تفریح فراہم کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انٹرنیٹ صارفین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ ایسی ویڈیوز پر آنکھ بند کر کے یقین کرنے کے بجائے ان کی حقیقت کو جانچنا چاہیے۔ سوشل میڈیا پر اکثر وائرل ہونے والی ایسی ویڈیوز ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کا نتیجہ ہوتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد سے اس پر بحث جاری ہے کہ آیا یہ کوئی نایاب طبی معجزہ ہے یا صرف ایک ڈیجیٹل دھوکہ۔ تاہم، دستیاب شواہد کی روشنی میں اسے ایک جعلی یا ای ڈیٹ شدہ مواد ہی قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان سمیت دنیا بھر میں اس طرح کی ویڈیوز اکثر وائرل ہوتی رہتی ہیں جنہیں صارفین بغیر تصدیق کے شیئر کرتے ہیں۔ اس واقعے نے ایک بار پھر سوشل میڈیا پر معلومات کی تصدیق کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/interesting/%d8%b3%d9%88%d8%b4%d9%84-%d9%85%db%8c%da%88%db%8c%d8%a7-%d9%be%d8%b1-%d9%88%d8%a7%d8%a6%d8%b1%d9%84-%da%af%da%be%d9%86%db%8c-%d9%85%d9%88%d9%86%da%86%da%be%d9%88%da%ba/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>برفانی تیندوا تلاش کریں: کیا آپ کی نظر تیز ہے؟</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/interesting/%d8%a8%d8%b1%d9%81%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%aa%db%8c%d9%86%d8%af%d9%88%d8%a7-%d8%aa%d9%84%d8%a7%d8%b4-%da%a9%d8%b1%db%8c%da%ba-%da%a9%db%8c%d8%a7-%d8%a2%d9%be-%da%a9%db%8c-%d9%86%d8%b8%d8%b1/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/interesting/%d8%a8%d8%b1%d9%81%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%aa%db%8c%d9%86%d8%af%d9%88%d8%a7-%d8%aa%d9%84%d8%a7%d8%b4-%da%a9%d8%b1%db%8c%da%ba-%da%a9%db%8c%d8%a7-%d8%a2%d9%be-%da%a9%db%8c-%d9%86%d8%b8%d8%b1/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 25 Oct 2026 13:17:18 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دلچسپ و عجیب]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آن_لائن_چیلنج]]></category>
		<category><![CDATA[انٹرنیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[برفانی_تیندوا]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پہیلی]]></category>
		<category><![CDATA[جانور]]></category>
		<category><![CDATA[دلچسپ_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[دلچسپ_و_عجیب]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سوشل_میڈیا]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/interesting/%d8%a8%d8%b1%d9%81%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%aa%db%8c%d9%86%d8%af%d9%88%d8%a7-%d8%aa%d9%84%d8%a7%d8%b4-%da%a9%d8%b1%db%8c%da%ba-%da%a9%db%8c%d8%a7-%d8%a2%d9%be-%da%a9%db%8c-%d9%86%d8%b8%d8%b1/</guid>

					<description><![CDATA[انٹرنیٹ پر وائرل ہونے والی ایک تصویر میں برفانی تیندوا چھپا ہوا ہے جسے تلاش کرنا صارفین کے لیے ایک دلچسپ چیلنج بن گیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">سوشل میڈیا پر اکثر ایسی تصاویر شیئر کی جاتی ہیں جو انسانی مشاہدے اور بینائی کی صلاحیت کو پرکھنے کا بہترین ذریعہ ثابت ہوتی ہیں۔ آج کل ایک ایسی ہی تصویر انٹرنیٹ پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں ایک برفانی تیندوا قدرت کے حسین نظاروں میں خود کو چھپائے ہوئے ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پہاڑی کا ایک وسیع سلسلہ ہے جس پر برف کی تہہ جمی ہوئی ہے۔ اس قدرتی ماحول میں برفانی تیندوے کا رنگ اور اس کی جسامت اس طرح گھل مل گئی ہے کہ پہلی نظر میں اسے تلاش کرنا ناممکن دکھائی دیتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کا کہنا ہے کہ برفانی تیندوے اپنی بقا اور شکار کے لیے اسی طرح کے قدرتی چھ لا وے (کیموفلاج) کا سہارا لیتے ہیں۔ پہاڑی علاقوں میں ان کا یہ رنگ انہیں برف اور پتھروں کے درمیان مکمل طور پر پوشیدہ کر دیتا ہے تاکہ وہ دشمنوں سے بچ سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس تصویر کو دیکھنے والے صارفین کے لیے یہ ایک مشکل امتحان ہے کیونکہ تیندوا اتنی مہارت سے چھپا ہے کہ عام آنکھ اسے پہچان نہیں پاتی۔ بہت سے لوگ اسے تلاش کرنے میں ناکام رہے ہیں اور اسے ایک مشکل پہیلی قرار دے رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اگر آپ بھی اپنی مشاہداتی صلاحیت کو آزمانا چاہتے ہیں تو تصویر کو غور سے دیکھیں۔ تصویر کے دائیں جانب والے حصے پر اپنی توجہ مرکوز کریں، جہاں تیندوا پہاڑی پر اوپر کی طرف چڑھتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس قسم کی تصاویر نہ صرف دماغی ورزش کا باعث بنتی ہیں بلکہ یہ جانوروں کی حیرت انگیز صلاحیتوں کو سمجھنے کا موقع بھی فراہم کرتی ہیں۔ قدرت نے انہیں ایسے رنگ اور پیٹرن دیے ہیں جو انہیں مشکل ترین حالات میں بھی محفوظ رکھتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">برفانی تیندوا، جسے پہاڑوں کا بھوت بھی کہا جاتا ہے، اپنی پھرتی اور چھپنے کی صلاحیت کی وجہ سے مشہور ہے۔ یہ جانور انتہائی سرد موسم میں بھی پہاڑوں کی بلندیوں پر رہنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اگر آپ نے اب تک تیندوا تلاش نہیں کیا تو دوبارہ کوشش کریں۔ یہ تصویر انسانی بصارت اور توجہ کا ایک بہترین امتحان ہے جو یہ ثابت کرتی ہے کہ قدرت کے شاہکار کتنی مہارت سے اپنے ماحول میں ضم ہو جاتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انٹرنیٹ پر اس تصویر کے وائرل ہونے کے بعد صارفین کی بڑی تعداد اس پر تبصرے کر رہی ہے۔ کچھ لوگ اسے چند سیکنڈ میں ڈھونڈنے کا دعویٰ کر رہے ہیں جبکہ زیادہ تر افراد اسے ایک مشکل کام قرار دے رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یقیناً ایسی تصاویر ہمیں فطرت کے قریب لاتی ہیں اور ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ قدرت کے ہر جاندار کے پاس اپنی حفاظت کا کوئی نہ کوئی منفرد طریقہ موجود ہے۔ یہ تصویر اسی حقیقت کی ایک بہترین مثال ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اگر آپ اسے تلاش کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں تو آپ کی بینائی یقیناً بہت تیز ہے۔ اگر نہیں تو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، کیونکہ یہ تیندوا اپنی چھپنے کی صلاحیت میں ماہر مانا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس طرح کے دلچسپ مشاہداتی ٹیسٹ سوشل میڈیا پر ہمیشہ مقبول رہتے ہیں۔ یہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ کرنے اور اپنی صلاحیتوں کو جانچنے کا ایک پرلطف موقع فراہم کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امید ہے کہ آپ نے اس تصویر کو دیکھ کر برفانی تیندوے کی اس حیرت انگیز صلاحیت کو سراہا ہوگا۔ قدرت کے ان نایاب جانوروں کا تحفظ کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے تاکہ یہ خوبصورت مخلوق ہمیشہ قائم رہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/interesting/%d8%a8%d8%b1%d9%81%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%aa%db%8c%d9%86%d8%af%d9%88%d8%a7-%d8%aa%d9%84%d8%a7%d8%b4-%da%a9%d8%b1%db%8c%da%ba-%da%a9%db%8c%d8%a7-%d8%a2%d9%be-%da%a9%db%8c-%d9%86%d8%b8%d8%b1/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>گوگل میپس کی ایک عام غلطی جو سمارٹ فون کی بیٹری جلدی ختم کرتی ہے</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/technology/%da%af%d9%88%da%af%d9%84-%d9%85%db%8c%d9%be%d8%b3-%da%a9%db%8c-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%b9%d8%a7%d9%85-%d8%ba%d9%84%d8%b7%db%8c-%d8%ac%d9%88-%d8%b3%d9%85%d8%a7%d8%b1%d9%b9-%d9%81%d9%88%d9%86/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/technology/%da%af%d9%88%da%af%d9%84-%d9%85%db%8c%d9%be%d8%b3-%da%a9%db%8c-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%b9%d8%a7%d9%85-%d8%ba%d9%84%d8%b7%db%8c-%d8%ac%d9%88-%d8%b3%d9%85%d8%a7%d8%b1%d9%b9-%d9%81%d9%88%d9%86/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 25 Oct 2026 12:38:19 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سائنس و ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسمارٹ_فون]]></category>
		<category><![CDATA[انٹرنیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیکنالوجی_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[جی_پی_ایس]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیجیتال_دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سائنس_و_ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[گوگل_میپس]]></category>
		<category><![CDATA[لوکیشن_سیٹنگ]]></category>
		<guid isPermaLink="false"></guid>

					<description><![CDATA[ماہرین کے مطابق گوگل میپس کی ترتیبات میں ایک معمولی سی تبدیلی کر کے فون کی بیٹری کو تیزی سے ختم ہونے سے بچایا جا سکتا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسمارٹ فون کا استعمال آج کے دور میں دنیا بھر میں انتہائی عام ہو چکا ہے اور اس میں مختلف نوعیت کی ایپلی کیشنز کا استعمال روزمرہ کی زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ ان میں نیوی گیشن اور راستے تلاش کرنے کے لیے استعمال ہونے والی ایپلی کیشنز کو نمایاں اہمیت حاصل ہے جن میں گوگل میپس سرفہرست ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دنیا بھر میں کروڑوں افراد روزانہ کی بنیاد پر اپنے موبائل فونز میں گوگل میپس کا استعمال کرتے ہیں تاکہ نامعلوم مقامات تک رسائی حاصل کی جا سکے اور سفر کو آسان بنایا جا سکے۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ یہ شکایت بھی عام پائی جاتی ہے کہ یہ ایپلی کیشن اسمارٹ فون کی بیٹری کو بہت تیزی سے ختم کرنے کا باعث بنتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بیٹری کے اس تیزی سے زائل ہونے کی بنیادی وجوہات میں جی پی ایس کا مسلسل استعمال، گرافکس کی ریڈ رنگ اور نیوی گیشن کے دوران اسکرین کا فعال رہنا شامل ہے۔ یہ عوامل فون کے پاور سورس پر اضافی بوجھ ڈالتے ہیں جس سے بیٹری کا دورانیہ کم ہو جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کے علاوہ بھی ایک اور اہم وجہ ہے جس کی بنا پر یہ ایپلی کیشن استعمال نہ ہونے کے باوجود پس منظر میں بیٹری کی بڑی مقدار خرچ کرتی رہتی ہے۔ صارفین کی جانب سے کی جانے والی ایک عام سی غفلت اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وہ بنیادی غلطی گوگل میپس کے لیے لوکیشن تک رسائی کو ہر وقت کے لیے فعال رکھنا ہے جسے اکثر صارفین تبدیل کرنا بھول جاتے ہیں۔ فون میں اس ایپلی کیشن کی لوکیشن پرمیشن بائی ڈیفالٹ ہر وقت کی اجازت پر سیٹ ہوتی ہے جو بیٹری کے ضیاع کا سبب بنتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس ڈیفالٹ سیٹنگ کی وجہ سے جی پی ایس ڈیوائس کے اندر مسلسل فعال رہتا ہے اور گوگل میپس کی جانب سے بار بار صارف کی پوزیشن کی جانچ کی جاتی ہے۔ چاہے وہ ایپلی کیشن مکمل طور پر بند ہی کیوں نہ کی گئی ہو، یہ عمل پس منظر میں جاری رہتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہی وجہ ہے کہ اگر صارف گوگل میپس کا استعمال نہیں بھی کر رہا ہو تب بھی یہ ایپ پس منظر میں بیٹری پاور کو مسلسل استعمال کرتی رہتی ہے جو کہ فون کی مجموعی کارکردگی اور بیٹری لائف پر اثرانداز ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خوش قسمتی سے اس مسئلے کا حل موجود ہے اور چند آسان اقدامات کی مدد سے اسمارٹ فون کی بیٹری کو اس غیر ضروری خرچ سے بچایا جا سکتا ہے۔ صارفین کو اس ضمن میں صرف اپنے فون کی ترتیبات میں کچھ تبدیلیاں کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس مقصد کے لیے سب سے پہلے اپنے موبائل فون کی مرکزی ترتیبات یعنی سیٹنگز میں جانا ہوگا جہاں تمام ایپلی کیشنز کی فہرست موجود ہوتی ہے۔ اس فہرست میں سے گوگل میپس کو تلاش کر کے کھولنا ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گوگل میپس کی ترتیبات میں داخل ہونے کے بعد پرمیشنز کے سیکشن کا انتخاب کیا جاتا ہے جہاں مختلف اجزاء تک رسائی کی اجازت دی گئی ہوتی ہے۔ پرمیشنز کے اندر لوکیشن کے آپشن پر کلک کرنا ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لوکیشن کی ترتیبات میں جا کر &#039;الاؤ آل دی ٹائم&#039; کے آپشن کو تبدیل کرنا لازمی ہے کیونکہ یہی وہ آپشن ہے جو پس منظر میں بیٹری کے زوال کا باعث بنتا ہے۔ اس کے بجائے &#039;الاؤ اونلی وائل زنگ دی ایپ&#039; کے آپشن کو منتخب کرنا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس ایک معمولی سی تبدیلی کو نافذ کرنے کے بعد گوگل میپس صرف اسی وقت لوکیشن ڈیٹا تک رسائی حاصل کرے گا جب صارف خود اس ایپلی کیشن کو استعمال کر رہا ہوگا۔ اس سے پس منظر میں ہونے والا غیر ضروری بیٹری کا استعمال رک جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹیکنالوجی ماہرین نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے اسمارٹ فونز میں دوسری ایسی ایپس کی ترتیبات کا بھی وقتاً فوقتاً جائزہ لیتے رہیں جو بلاوجہ بیٹری کی کھپت کا سبب بنتی ہیں۔ اس طرح فون کی بیٹری نہ صرف زیادہ دیر تک چلتی ہے بلکہ اس کی مجموعی عمر میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/technology/%da%af%d9%88%da%af%d9%84-%d9%85%db%8c%d9%be%d8%b3-%da%a9%db%8c-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%b9%d8%a7%d9%85-%d8%ba%d9%84%d8%b7%db%8c-%d8%ac%d9%88-%d8%b3%d9%85%d8%a7%d8%b1%d9%b9-%d9%81%d9%88%d9%86/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ایپل کے پہلے فولڈ ایبل آئی فون کو اسکرین کے مسائل کا سامنا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/technology/%d8%a7%db%8c%d9%be%d9%84-%da%a9%db%92-%d9%be%db%81%d9%84%db%92-%d9%81%d9%88%d9%84%da%88-%d8%a7%db%8c%d8%a8%d9%84-%d8%a2%d8%a6%db%8c-%d9%81%d9%88%d9%86-%da%a9%d9%88/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/technology/%d8%a7%db%8c%d9%be%d9%84-%da%a9%db%92-%d9%be%db%81%d9%84%db%92-%d9%81%d9%88%d9%84%da%88-%d8%a7%db%8c%d8%a8%d9%84-%d8%a2%d8%a6%db%8c-%d9%81%d9%88%d9%86-%da%a9%d9%88/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 25 Oct 2026 10:57:21 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سائنس و ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آئی_فون]]></category>
		<category><![CDATA[اسکرین_خراب]]></category>
		<category><![CDATA[اسمارٹ_فون]]></category>
		<category><![CDATA[انٹرنیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[انٹرنیشنل_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[ایپ]]></category>
		<category><![CDATA[ایپل]]></category>
		<category><![CDATA[ایپل_اسٹور]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/technology/%d8%a7%db%8c%d9%be%d9%84-%da%a9%db%92-%d9%be%db%81%d9%84%db%92-%d9%81%d9%88%d9%84%da%88-%d8%a7%db%8c%d8%a8%d9%84-%d8%a2%d8%a6%db%8c-%d9%81%d9%88%d9%86-%da%a9%d9%88/</guid>

					<description><![CDATA[ٹیکنالوجی کمپنی ایپل کی جانب سے پیش کیے جانے والے پہلے فولڈ ایبل آئی فون کو ابتدائی صارفین کی جانب سے اسکرین میں دراڑیں پڑنے کی شکایات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ٹیکنالوجی کی دنیا میں معروف ترین امریکی کمپنی ایپل کی جانب سے حال ہی میں متعارف کروائے جانے والے پہلے فولڈ ایبل اسمارٹ فون کو مارکیٹ میں آتے ہی بعض صارفین کی جانب سے تکنیکی نوعیت کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق اس نئے فولڈ ایبل ڈیوائس کو خریدنے والے ابتدائی صارفین میں سے کچھ افراد نے فون کی اندرونی فولڈنگ اسکرین میں دراڑیں پڑنے اور ڈسپلے خراب ہونے کے واقعات رپورٹ کیے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس ضمن میں سامنے آنے والی تفصیلات سے پتہ چلتا ہے کہ فولڈنگ اسکرین کے جوڑ یا اس کے قریب والے حصے میں صارفین کو مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے جس سے موبائل کے استعمال میں مشکلات پیدا ہوئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے ایک ابتدائی خریدار نے سوشل میڈیا پر اپنا تجربہ بیان کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس نے نیا فون خریدنے کے بعد محض چند گھنٹے ہی اسے استعمال کیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مذکورہ صارف کا کہنا تھا کہ اس دوران فون کو بیس مرتبہ سے بھی کم مرتبہ کھولا گیا تھا کہ اچانک اسکرین کے فولڈنگ حصے میں غیر معمولی مزاحمت محسوس ہوئی اور ایک آواز کے ساتھ ڈسپلے متاثر ہوگیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صارف نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس کا یہ قیمتی اسمارٹ فون نہ تو ہاتھ سے گرا تھا اور نہ ہی اس کے بیرونی حصے پر کسی بھی قسم کا کوئی نقصان یا خرچ دکھائی دے رہا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خوش قسمتی سے متعلقہ ایپل اسٹور نے اس صارف کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے خراب ہونے والا فون تبدیل کرکے اسے نیا ڈیوائس فراہم کر دیا تاکہ صارف کی پریشانی کا ازالہ ہو سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صرف آسٹریلیا ہی نہیں بلکہ چین اور دنیا کے دیگر مختلف ممالک سے بھی ایسی متعدد شکایات اور تصاویر سامنے آئی ہیں جن میں فولڈنگ اسکرینوں کے درمیان روشن لکیریں یا دراڑیں واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان اطلاعات کے منظر عام پر آنے کے بعد تکنیکی ماہرین اور صارفین کی جانب سے اس بارے میں تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ آیا یہ مسئلہ صرف چند ابتدائی یونٹس تک محدود ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ اسمارٹ فونز تیار کرنے والی دیگر بڑی کمپنیاں بھی ماضی میں اپنے فولڈ ایبل ماڈلز کے آغاز پر ایسے ہی ابتدائی مسائل کا سامنا کر چکی ہیں جنہیں بعد میں بہتر بنایا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ابھی تک کی صورتحال کے مطابق ایپل نے ان تمام حالیہ واقعات اور صارفین کی شکایات کی اصل وجوہات کے حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ بیان یا تحقیقی نتائج جاری نہیں کیے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موبائل انڈسٹری سے وابستہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایپل کمپنی اس معاملے کی اندرونی طور پر تحقیقات کر رہی ہوگی تاکہ اس بات کا تعین کیا جا سکے کہ خرابی کی نوعیت کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹیکنالوجی مارکیٹ میں ایپل کے اس پہلے فولڈ ایبل فون کو انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا تھا کیونکہ کمپنی نے اس شعبے میں دیر سے قدم رکھا تھا تاکہ بہتر مصنوعات پیش کی جا سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس ابتدائی جھٹکے کے باوجود ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر کمپنی نے بروقت اس تکنیکی نقص کو دور نہ کیا تو اس سے دنیا بھر میں اس کے نئے اور جدید ترین فون کی فروخت متاثر ہو سکتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/technology/%d8%a7%db%8c%d9%be%d9%84-%da%a9%db%92-%d9%be%db%81%d9%84%db%92-%d9%81%d9%88%d9%84%da%88-%d8%a7%db%8c%d8%a8%d9%84-%d8%a2%d8%a6%db%8c-%d9%81%d9%88%d9%86-%da%a9%d9%88/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
