<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.33.3"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>انٹرنیشنل_کرکٹ &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%a7%d9%86%d9%b9%d8%b1%d9%86%db%8c%d8%b4%d9%86%d9%84_%da%a9%d8%b1%da%a9%d9%b9/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sun, 01 Nov 2026 18:27:03 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>انٹرنیشنل_کرکٹ &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>نائیجیریا نے یوگنڈا کو شکست دے کر سب ریجنل ٹائٹل جیت لیا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/sports/2523/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/sports/2523/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 27 Oct 2026 08:38:05 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کھیل]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آئی_سی_سی]]></category>
		<category><![CDATA[اسپورٹس]]></category>
		<category><![CDATA[افریقہ_کوالیفائر]]></category>
		<category><![CDATA[انٹرنیشنل_کرکٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_کرکٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پی_سی_بی]]></category>
		<category><![CDATA[ٹی_ٹوئنٹی_ورلڈ_کپ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_ٹیم]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/sports/%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c%d8%ac%db%8c%d8%b1%db%8c%d8%a7-%d9%86%db%92-%db%8c%d9%88%da%af%d9%86%da%88%d8%a7-%da%a9%d9%88-%d8%b4%da%a9%d8%b3%d8%aa-%d8%af%db%92-%da%a9%d8%b1-%d8%b3%d8%a8/</guid>

					<description><![CDATA[ڈرامائی مقابلے کے بعد ایک رن سے کامیابی حاصل کرکے نائیجیریا نے افریقہ ریجنل فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے ذیلی علاقائی کوالیفائر میں نائیجیریا کی ٹیم نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد یوگنڈا کو ایک رن سے شکست دے کر ٹرافی اپنے نام کر لی ہے۔ اس کامیابی کے ساتھ ہی دونوں ٹیموں نے آئی سی سی مردوں کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے افریقہ ریجنل فائنل کے لیے باضابطہ طور پر کوالیفائی کر لیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹورنامنٹ کے آخری روز یہ میچ نائیجیرین کرکٹ فیڈریشن اوول نمبر ایک پر کھیلا گیا جہاں دونوں فریق پہلے ہی اگلے مرحلے میں رسائی حاصل کر چکے تھے۔ اس کے باوجود چیمپئن شپ ٹرافی کے حصول کے لیے دونوں ٹیموں کے درمیان انتہائی زبردست اور کانٹے کا مقابلہ دیکھنے میں آیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">میچ کے آغاز پر نائیجیریا نے ٹاس ہارنے کے بعد پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ اوورز میں ایک سو اڑتالیس رنز کا مجموعی اسکور بورڈ پر سجایا۔ میزبان ٹیم کی اننگز کی خاص بات آئزک ڈانلاڈیا کی ذمہ دارانہ بیٹنگ تھی جنہوں نے ٹیم کی پوزیشن کو مستحکم کرتے ہوئے سینتالیس رنز کی نمایاں اننگز کھیلی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یوگنڈا کی جانب سے ہدف کے تعاقب میں جارحانہ آغاز کیا گیا اور مہمان بیٹرز نے مطلوبہ ہدف کے حصول کے لیے بہترین کھیل پیش کیا۔ ریاضت علی شاہ نے پینتیس گیندوں پر شاندار ساٹھ رنز کی طوفانی اننگز کھیل کر اپنی ٹیم کو میچ میں واضح برتری دلائی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اننگز کے درمیانی اوورز میں یوگنڈا کی پوزیشن انتہائی مضبوط دکھائی دے رہی تھی لیکن میچ کے آخری لمحات میں صورتحال ڈرامائی طور پر تبدیل ہو گئی۔ نائیجیرین ٹیم کو آخری چھ گیندوں پر دفاع کے لیے محض چھ رنز درکار تھے جس سے بولنگ یونٹ پر دباؤ بڑھ گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخری اوور کے آغاز پر ہی اس وقت ڈرامہ پیدا ہوا جب بولنگ کرنے والے کھلاڑی ونسنٹ اڈیویے کو گیند سونپی گئی اور میچ کا فیصلہ کن مرحلہ انتہائی سنسنی خیز ہو گیا۔ میزبان شائقین کی بڑی تعداد نے گراؤنڈ میں موجود ہو کر اپنی ٹیم کی بھرپور حوصلہ افزائی کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس فتح کے نتیجے میں نائیجیریا نے ٹورنامنٹ کی ٹرافی اپنے نام کی جبکہ دونوں ٹیموں نے آنے والے افریقہ ریجنل فائنل کے لیے اپنی جگہ پکی کر لی ہے۔ کرکٹ کے حلقوں میں اس ڈرامائی اور تاریخی مقابلے کو انتہائی سراہا جا رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/sports/2523/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>بنگلہ دیشی اسپنر الِس الاسلام کا باؤلنگ ایکشن ایک بار پھر مشکوک قرار</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/sports/2066/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/sports/2066/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 00:17:19 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کھیل]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آئی_سی_سی]]></category>
		<category><![CDATA[اسپنر]]></category>
		<category><![CDATA[افغانستان_بنگلہ_دیش]]></category>
		<category><![CDATA[الِس_الاسلام]]></category>
		<category><![CDATA[انٹرنیشنل_کرکٹ]]></category>
		<category><![CDATA[باؤلنگ_ایکشن]]></category>
		<category><![CDATA[بنگلہ_دیش_کرکٹ]]></category>
		<category><![CDATA[بی_سی_بی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/sports/%d8%a8%d9%86%da%af%d9%84%db%81-%d8%af%db%8c%d8%b4%db%8c-%d8%a7%d8%b3%d9%be%d9%86%d8%b1-%d8%a7%d9%84-%d8%b3-%d8%a7%d9%84%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85-%da%a9%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[افغانستان کے خلاف ون ڈے میچ میں مشکوک ایکشن رپورٹ ہونے کے بعد بنگلہ دیشی اسپنر کو آئی سی سی کے ضوابط کے تحت ٹیسٹ سے گزرنا ہوگا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کے آف اسپنر الِس الاسلام کے باؤلنگ ایکشن پر ایک بار پھر سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں، جس کے بعد انہیں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے ضوابط کے تحت اپنے ایکشن کی جانچ کروانا ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ پیش رفت متحدہ عرب امارات میں جاری تین ملکی کرکٹ سیریز کے دوران سامنے آئی، جہاں افغانستان کے خلاف ون ڈے انٹرنیشنل میچ میں الِس الاسلام کے باؤلنگ ایکشن کو میچ آفیشلز نے مشکوک قرار دیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">میچ آفیشلز کی جانب سے رپورٹ کیے جانے کے بعد اب بنگلہ دیشی اسپنر کو آئی سی سی سے منظور شدہ کسی آزادانہ ٹیسٹنگ سینٹر میں اپنے باؤلنگ ایکشن کا جائزہ کروانا پڑے گا تاکہ اس کی قانونی حیثیت کا تعین ہو سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کرکٹ کے عالمی قوانین کے مطابق، ایک بولر کو گیند کرواتے وقت اپنی کہنی کو زیادہ سے زیادہ 15 ڈگری تک سیدھا کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔ اس حد سے تجاوز کرنے پر باؤلنگ ایکشن کو غیر قانونی قرار دیا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئی سی سی کے موجودہ ضوابط کے تحت، الِس الاسلام کو اپنے باؤلنگ ایکشن کے ٹیسٹ کے نتائج آنے تک بین الاقوامی میچوں میں باؤلنگ جاری رکھنے کی اجازت ہوگی، جس کے بعد ہی ان کے کیریئر کے حوالے سے حتمی فیصلہ ہو سکے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کی جانب سے تاحال یہ فیصلہ نہیں کیا گیا کہ کھلاڑی کو جانچ کے لیے کس مرکز میں بھیجا جائے گا، تاہم بورڈ اس معاملے پر آئی سی سی کے ساتھ رابطے میں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">الِس الاسلام کے لیے باؤلنگ ایکشن پر سوال اٹھنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اس سے قبل 2019 میں بنگلہ دیش پریمیئر لیگ (بی پی ایل) کے دوران بھی ان کے ایکشن کو مشکوک قرار دیا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اپنے کیریئر کے ابتدائی دنوں میں ہیٹ ٹرک کرکے شہرت پانے والے اسپنر نے 2019 میں ہی بی سی بی کا باؤلنگ ایکشن ٹیسٹ کامیابی سے پاس کر لیا تھا، جس کے بعد وہ دوبارہ باؤلنگ کے لیے اہل قرار پائے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گزشتہ برس بھی بی پی ایل کے دوران ان کا ایکشن رپورٹ ہوا تھا، جس کے بعد انہوں نے ایک بار پھر بورڈ کے ٹیسٹ کو کلیئر کیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">الِس الاسلام اپنی پراسرار گیندوں کے لیے جانے جاتے ہیں جو دونوں جانب اسپن ہوتی ہیں۔ وہ بعض گیندیں ہاتھ کے اگلے حصے سے کرانے کی مہارت رکھتے ہیں، جس نے انہیں مختصر فارمیٹ میں ایک کامیاب بولر بنایا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے اب تک 59 ٹی 20 میچوں میں 6.38 کے اکانومی ریٹ سے 60 وکٹیں حاصل کی ہیں، جبکہ 20 لسٹ اے میچوں میں 18.40 کی اوسط سے 35 وکٹیں حاصل کر چکے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے اب تک کوئی فرسٹ کلاس میچ نہیں کھیلا، تاہم رواں ماہ سری لنکا کے خلاف ایشین گیمز کے کانسی کے تمغے کے میچ میں انہوں نے ٹی 20 انٹرنیشنل ڈیبیو کیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اب دیکھنا یہ ہے کہ آئی سی سی کے آزادانہ ٹیسٹ کے نتائج ان کے کیریئر پر کیا اثر ڈالتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/sports/2066/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ورلڈ کپ 2027: زمبابوے میں نئے اسٹیڈیم کی تعمیر آخری مراحل میں داخل</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/sports/1463/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/sports/1463/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 19 Oct 2026 13:57:56 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کھیل]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آئی_سی_سی]]></category>
		<category><![CDATA[انٹرنیشنل_کرکٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_کرکٹ]]></category>
		<category><![CDATA[جنوبی_افریقہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[زمبابوے_کرکٹ]]></category>
		<category><![CDATA[سارہ_ایڈگر]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_ٹیم]]></category>
		<category><![CDATA[کرکٹ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/sports/%d9%88%d8%b1%d9%84%da%88-%da%a9%d9%be-2027-%d8%b2%d9%85%d8%a8%d8%a7%d8%a8%d9%88%db%92-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%86%d8%a6%db%92-%d8%a7%d8%b3%d9%b9%db%8c%da%88%db%8c%d9%85-%da%a9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[آئی سی سی کی انسپکشن ٹیم نے وکٹوریا فالز اسٹیڈیم کے تعمیراتی کام پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">کرکٹ ورلڈ کپ دو ہزار ستائیس کے انعقاد کے لیے زمبابوے میں تعمیر کیا جانے والا نیا سپورٹس وینیو اب اپنی تکمیل کے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔ اس منصوبے کے تحت وکٹوریا فالز کے مقام پر جدید ترین کرکٹ گراؤنڈ تیار کیا جا رہا ہے جس پر دنیا بھر کے شائقینِ کرکٹ کی نظریں مرکوز ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی کرکٹ کونسل کی انسپکشن ٹیم نے حال ہی میں اس زیرِ تعمیر وینیو کا دورہ کیا اور وہاں جاری ترقیاتی کاموں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انسپکشن ٹیم نے تعمیراتی معیار پر گہرے اطمینان کا اظہار کیا ہے اور اس رفتار کو سراہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئندہ میگا ایونٹ کے لیے ٹورنامنت ڈائریکٹر سارہ ایڈگر نے اپنی خصوصی ٹیم کے ہمراہ زمبابوے کے تمام تینوں میزبان مقامات کا دورہ کیا۔ اس دورے کا مقصد ایونٹ سے پہلے تمام تیاریوں کا باریک بینی سے جائزہ لینا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">طے شدہ شیڈول کے مطابق آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ دو ہزار ستائیس کے چار اہم میچز اسی نئے اسٹیڈیم میں کھیلے جائیں گے۔ یہ زمبابوے کرکٹ کے لیے ایک بہت بڑی کامیابی تصور کی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">زمبابوے کرکٹ بورڈ کے مینجنگ ڈائریکٹر گیویمور ماکونی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس اسٹیڈیم کی مرکزی عمارت کی تعمیر کا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے۔ اب ان کی تمام تر توجہ صرف اور صرف فنشنگ کے کاموں پر مرکوز ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">منصوبے کے مطابق اس شاندار اسٹیڈیم کی مکمل تعمیر دو ہزار ستائیس کے وسط تک حتمی شکل اختیار کر لے گی۔ تعمیراتی کام مکمل ہونے کے فوری بعد اس وینیو پر ایک بڑی بین الاقوامی کرکٹ سیریز بھی کھیلی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">زمبابوے کے دیگر اہم شہروں ہرارے اور بلاوایو کے موجودہ روایتی گراؤنڈز اور اسٹیڈیمز کو بھی عالمی سطح کے مقابلوں کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ ان گراؤنڈز کو جدید سہولیات سے آراستہ کرنے کا کام جاری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کرکٹ کے اس بڑے میلے کے لیے تمام میزبان ممالک انفراسٹرکچر کی بہتری پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔ شائقینِ کرکٹ اس تاریخی ٹورنامنٹ کے لیے انتہائی پرجوش دکھائی دے رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئی سی سی کی ٹیم کی طرف سے مثبت رپورٹ سامنے آنے کے بعد منتظمین کے حوصلے مزید بلند ہو گئے ہیں۔ ٹورنامنٹ کے کامیاب انعقاد کے لیے تمام متعلقہ ادارے دن رات محنت کر رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ گراؤنڈز کی اپ گریڈیشن اور نئے اسٹیڈیم کی بروقت تکمیل اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ زمبابوے کرکٹ بورڈ عالمی معیار کے ایونٹس کی میزبانی کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/sports/1463/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>اے بی ڈی ویلیئرز کا انکشاف: کیریئر کے آخری دو سال ایک آنکھ سے کرکٹ کھیلی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/sports/1453/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/sports/1453/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 19 Oct 2026 12:39:18 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کھیل]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آئی_پی_ایل]]></category>
		<category><![CDATA[انٹرنیشنل_کرکٹ]]></category>
		<category><![CDATA[اے_بی_ڈی_ویلیئرز]]></category>
		<category><![CDATA[اے_بی_ڈی_ویلیئرز_انکشاف]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_کرکٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پی_ایس_ایل]]></category>
		<category><![CDATA[پی_سی_بی]]></category>
		<category><![CDATA[جنوبی_افریقہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/sports/%d8%a7%db%92-%d8%a8%db%8c-%da%88%db%8c-%d9%88%db%8c%d9%84%db%8c%d8%a6%d8%b1%d8%b2-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d9%86%da%a9%d8%b4%d8%a7%d9%81-%da%a9%db%8c%d8%b1%db%8c%d8%a6%d8%b1-%da%a9%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[جنوبی افریقہ کے لیجنڈری بیٹر نے بتایا کہ ریٹینا متاثر ہونے کے باوجود وہ میدان میں اترتے رہے اور کسی کو خبر نہ ہونے دی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">کرکٹ کی دنیا کے مایہ ناز بیٹر اور جنوبی افریقہ کے سابق کپتان اے بی ڈی ویلیئرز نے اپنے کیریئر کے حوالے سے ایک حیران کن انکشاف کیا ہے۔ انہوں نے بتایا ہے کہ وہ اپنے انٹرنیشنل کیریئر کے آخری دو سالوں کے دوران ایک آنکھ کی بینائی کے مسائل کا شکار رہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایک حالیہ پوڈکاسٹ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے مسٹر 360 کے نام سے مشہور ڈی ویلیئرز نے انکشاف کیا کہ ان کی دائیں آنکھ کا ریٹینا اپنی جگہ سے ہٹ گیا تھا، جس کے باعث انہیں بینائی میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سابق کرکٹر نے بتایا کہ یہ واقعہ ان کے بیٹے کی ایڑی غلطی سے ان کی آنکھ پر لگنے کے باعث پیش آیا تھا۔ اس حادثے کے بعد سے ان کی دائیں آنکھ کی بینائی متاثر ہوئی، تاہم انہوں نے اس تکلیف کے باوجود کرکٹ کھیلنا جاری رکھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈی ویلیئرز کے مطابق، آئی پی ایل کے دوران خاص طور پر رات کے میچوں میں انہیں گیند دیکھنے میں دشواری ہوتی تھی۔ دائیں آنکھ کی بینائی دھندلی ہونے کی وجہ سے انہیں شاٹس کھیلنے میں مسائل کا سامنا تھا، مگر انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے وضاحت کی کہ چونکہ دائیں آنکھ ان کی غالب آنکھ نہیں تھی، اس لیے انہوں نے اس مسئلے کو اپنے کھیل پر زیادہ اثر انداز نہیں ہونے دیا۔ وہ میدان میں اپنی کارکردگی کو برقرار رکھنے کے لیے مسلسل کوشش کرتے رہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سابق کپتان نے بتایا کہ وہ اپنے کیریئر کے دوران سرجری کروانے سے گریزاں تھے کیونکہ اس سے ان کی کرکٹ سرگرمیاں متاثر ہو سکتی تھیں۔ اسی لیے انہوں نے ریٹائرمنٹ کے بعد ہی آنکھ کا مکمل معائنہ کروانے کا فیصلہ کیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ریٹائرمنٹ کے بعد جب انہوں نے ڈاکٹروں سے رجوع کیا تو انہیں معلوم ہوا کہ صورتحال کافی سنگین ہے۔ ڈاکٹروں نے انہیں خبردار کیا کہ اگر آپریشن میں مزید تاخیر کی جاتی تو وہ مستقل طور پر بینائی سے محروم ہو سکتے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈاکٹروں نے تشخیص کے اگلے ہی روز ان کا آپریشن کیا، جس کے بعد ان کی آنکھ کی حالت بہتر ہوئی۔ ڈی ویلیئرز نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ بروقت علاج نے انہیں بڑی مشکل سے بچا لیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اے بی ڈی ویلیئرز کا شمار کرکٹ کی تاریخ کے جارحانہ ترین بیٹرز میں ہوتا ہے۔ انہوں نے 114 ٹیسٹ میچوں میں 8765 اور 228 ون ڈے میچوں میں 9577 رنز بنائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وہ ون ڈے کرکٹ میں تیز ترین نصف سنچری، سنچری اور 150 رنز بنانے کا عالمی ریکارڈ بھی اپنے نام رکھتے ہیں۔ ان کی بیٹنگ تکنیک اور میدان کے چاروں طرف شاٹس کھیلنے کی صلاحیت نے انہیں دنیا بھر میں مقبول بنایا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا یہ انکشاف کرکٹ شائقین کے لیے کسی حیرت سے کم نہیں ہے، کیونکہ کیریئر کے آخری سالوں میں بھی وہ اپنی جارحانہ بیٹنگ کے ذریعے مخالف ٹیموں کے لیے خطرہ بنے رہے۔ ان کی ہمت اور کھیل سے لگن کی دنیا بھر میں تعریف کی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈی ویلیئرز کی جانب سے اس راز کا افشا ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایک کھلاڑی کن مشکلات اور جسمانی تکلیفوں کے باوجود کھیل کے میدان میں اپنی قوم اور شائقین کے لیے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس انکشاف نے کرکٹ حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ کس طرح ایک کھلاڑی اتنی بڑی انجری کے ساتھ بھی عالمی سطح پر اپنی کارکردگی کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہا۔ یہ ان کی ذہنی مضبوطی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/sports/1453/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>بابر اعظم نے بین الاقوامی کرکٹ میں سولہ ہزار رنز مکمل کر لیے</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/sports/1249/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/sports/1249/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 18 Oct 2026 10:37:56 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کھیل]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[انٹرنیشنل_کرکٹ]]></category>
		<category><![CDATA[بابر_اعظم]]></category>
		<category><![CDATA[بابر_اعظم_رنز]]></category>
		<category><![CDATA[بابر_اعظم_ریکارڈ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_کرکٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_بلے_باز]]></category>
		<category><![CDATA[پی_سی_بی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[راولپنڈی_اسٹیڈیم]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/sports/%d8%a8%d8%a7%d8%a8%d8%b1-%d8%a7%d8%b9%d8%b8%d9%85-%d9%86%db%92-%d8%a8%db%8c%d9%86-%d8%a7%d9%84%d8%a7%d9%82%d9%88%d8%a7%d9%85%db%8c-%da%a9%d8%b1%da%a9%d9%b9-%d9%85%db%8c%da%ba/</guid>

					<description><![CDATA[قومی ٹیم کے مایہ ناز بلے باز بابر اعظم نے راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں سری لنکا کے خلاف میچ کے دوران سنگ میل عبور کر لیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">قومی کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز اور تجربہ کار بلے باز بابر اعظم نے بین الاقوامی کرکٹ میں ایک اور نمایاں کارنامہ سرانجام دیتے ہوئے سولہ ہزار رنز کا ہدف عبور کر لیا ہے۔ وہ پاکستان کی جانب سے یہ تاریخی سنگ میل عبور کرنے والے پانچویں بلے باز بن گئے ہیں جنھوں نے اپنی مسلسل شاندار بیٹنگ صلاحیتوں کا بھرپور لوہا منوایا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے جانے والے میچ کے دوران بابر اعظم نے یہ اہم کامیابی حاصل کی جہاں وہ اسکور بورڈ پر اپنے کیریئر کے رنز کی مجموعی تعداد کو اس بلند مقام تک لے جانے میں کامیاب رہے۔ اس سنگ میل تک پہنچنے کے بعد ملک بھر کے شائقینِ کرکٹ کی جانب سے ان کی اس طویل اور شاندار کارکردگی کو انتہائی زبردست انداز میں سراہا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">میچ کے جاری رہنے کے دوران وہ ایک بڑی اننگز کھیلنے میں کامیاب نہ ہو سکے اور پینتالیس رنز کے انفرادی اسکور پر پویلین واپس لوٹ گئے۔ تاہم اس کے باوجود وہ مطلوبہ ہندسے تک پہنچنے میں مکمل طور پر کامیاب رہے اور پاکستان کے ان چند منتخب بلے بازوں میں باضابطہ طور پر شامل ہو گئے جنھوں نے یہ شاندار اعزاز اپنے نام کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستانی کرکٹ کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو اس سے قبل چند ہی نامور کھلاڑی بین الاقوامی سطح پر اتنے زیادہ رنز کے مجموعے تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ بابر اعظم کا شمار اب ان سرکردہ اور ممتاز کھلاڑیوں میں ہوتا ہے جنھوں نے کھیل کے مختلف فارمیٹس میں طویل عرصے تک شاندار کارکردگی کا تسلسل برقرار رکھا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">راولپنڈی کے مقام پر منعقد ہونے والے اس مقابلے میں قومی ٹیم کے دیگر بلے بازوں نے بھی مجموعی طور پر ذمہ دارانہ کھیل پیش کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ سری لنکا کے خلاف اس اہم اور دلچسپ معرکے میں شائقین کی ایک بڑی تعداد اسٹیڈیم میں موجود تھی جو اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کر رہی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بین الاقوامی کھیلوں کے حلقوں اور کرکٹ کے شائقین کی جانب سے بابر اعظم کو اس اہم سنگ میل پر مبارکباد دینے کا سلسلہ جاری ہے۔ ان کی اس بڑی کامیابی کو پاکستانی کرکٹ کے لیے ایک اور روشن اور یادگار باب قرار دیا جا رہا ہے جس سے ملک کے نوجوان ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کو بھی انتہائی مثبت ترغیب ملے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قومی ٹیم کے کوچنگ اسٹاف اور سلیکٹرز نے بھی بابر اعظم کی اس تاریخی کامیابی کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ وہ آنے والے وقتوں میں بھی ٹیم کے لیے اسی طرح کی شاندار مہم جوئی جاری رکھیں گے۔ کھیل کے ماہر تجزیہ کاروں کا یہ پرانا ماننا ہے کہ اس نوعیت کے ریکارڈز کسی بھی کھلاڑی کے کیریئر کا ایک انتہائی اہم اور روشن موڑ ثابت ہوتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بابر اعظم نے اپنے اب تک کے نسبتاً طویل بین الاقوامی کیریئر میں کئی یادگار اور دلکش اننگز کھیلی ہیں اور اپنی ٹیم کو انتہائی مشکل اور دباؤ والے حالات سے باوقار طریقے سے نکالا ہے۔ ان کی تکنیک اور شاٹ سلیکشن کی تعریف ہمیشہ سے دنیا بھر کے مایہ ناز اور لیجنڈری کھلاڑیوں کی طرف سے کھلے دل سے کی جاتی رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس حالیہ میچ کے دوران اگرچہ وہ جلد آؤٹ ہو کر میدان سے باہر چلے گئے لیکن ان کے مجموعی رنز کا تاریخی ہندسہ اس اعزاز کے شاندار حصول کے لیے بالکل کافی تھا۔ کھیل کے میدان میں ان کی نمایاں موجودگی ہمیشہ سے مخالف حریف ٹیم کے لیے ایک بہت بڑا اور کٹھن چیلنج بنی رہتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کرکٹ بورڈ اور ٹیم کے دیگر ساتھی کھلاڑیوں نے بھی بابر اعظم کو اس شاندار سنگ میل پر بھرپور خراج تحسین پیش کیا ہے۔ اس کامیابی کے اعلان کے بعد ان کے کروڑوں مداحوں میں خوشی کی ایک نئی لہر دوڑ گئی ہے اور سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر بھی ان کے چرچے زور و شور سے جاری ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کرکٹ کے تاحیات شائقین اور مختلف سابق ٹیسٹ کرکٹرز کا یہ کہنا ہے کہ بابر اعظم جیسی صلاحیتیں صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں اور وہ ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں۔ ان کی اس کامیابی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ دباؤ کے باوجود ٹیم کے لیے کارآمد ثابت ہو سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آنے والے میچوں میں بابر اعظم سے مزید شاندار پرفارمنس کی توقع کی جا رہی ہے تاکہ وہ قومی ٹیم کو فتوحات سے ہمکنار کرا سکیں۔ ان کے تمام چاہنے والے دعا گو ہیں کہ وہ اسی طرح ملک کا نام روشن کرتے رہیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/sports/1249/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>بھارتی کپتان نے ٹی ٹوئنٹی میچ میں اننگز تین گیندیں قبل ختم کردی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/sports/950/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/sports/950/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 16 Oct 2026 08:36:41 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کھیل]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[ارشدیپ_سنگھ]]></category>
		<category><![CDATA[انٹرنیشنل_کرکٹ]]></category>
		<category><![CDATA[بھارت_کرکٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_کرکٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پی_ایس_ایل]]></category>
		<category><![CDATA[پی_سی_بی]]></category>
		<category><![CDATA[ٹی_ٹوئنٹی]]></category>
		<category><![CDATA[حیدرآباد]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/sports/%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%b1%d8%aa%db%8c-%da%a9%d9%be%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%86%db%92-%d9%b9%db%8c-%d9%b9%d9%88%d8%a6%d9%86%d9%b9%db%8c-%d9%85%db%8c%da%86-%d9%85%db%8c%da%ba/</guid>

					<description><![CDATA[ویسٹ انڈیز کے خلاف میچ میں بھارتی کپتان شریاس ائیر نے زخمی بیٹر کے باعث اننگز قبل از وقت ختم کرنے کا انوکھا فیصلہ کیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">حیدرآباد میں کھیلے جانے والے چوتھا ٹی ٹوئنٹی میچ اس وقت تاریخ کا حصہ بن گیا جب بھارتی کپتان نے اننگز کے اختتام سے قبل ہی اپنے کھلاڑیوں کو میدان سے واپس بلا لیا۔ یہ عجیب و غریب واقعہ کرکٹ کی تاریخ میں پہلی بار سامنے آیا جب کسی ٹیم نے مقررہ اوورز مکمل کیے بغیر اپنی اننگز ختم کردی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بھارت اور ویسٹ انڈیز کے درمیان پانچ میچوں پر مشتمل ٹی ٹوئنٹی سیریز کا چوتھا معرکہ حیدرآباد کے میدان میں سجایا گیا تھا جہاں شائقین کو انتہائی دلچسپ اور غیر معمولی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔ ویسٹ انڈیز کی ٹیم نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ اوورز میں ایک بڑا ہدف ترتیب دیا جس کے تعاقب میں بھارتی ٹیم مشکلات کا شکار نظر آئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مہمان ٹیم ویسٹ انڈیز نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے میزبان سائیڈ کو جیت کے لیے دو سو اڑتالیس رنز کا پہاڑ جیسا ہدف دیا۔ اس بڑے ہدف کے تعاقب میں بھارتی بلے بازوں نے بھرپور کوشش کی لیکن ہدف تک پہنچنا انتہائی مشکل ثابت ہوا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">میچ کے آخری لمحات میں جب نتیجہ میزبان ٹیم کی گرفت سے باہر ہو چکا تھا تو ایک ناخوشگوار صورتحال نے جنم لیا۔ بھارتی ٹیم کی آخری وکٹ کریز پر موجود تھی اور جیت کے لیے آخری اوور میں رنز کی تعداد بہت زیادہ رہ گئی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس مرحلے پر کریز پر موجود بھارتی فاسٹ بولر ارشدیپ سنگھ شدید زخمی ہو گئے جنہیں کندھے کی تکلیف کے باعث بیٹنگ کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ویسٹ انڈیز کے تیز گیند باز نے اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مسلسل باؤنسرز کرانا شروع کر دیے تاکہ کھیل کو آگے بڑھایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسی دوران ایک تیز رفتار باؤنسر سیدھا ارشدیپ سنگھ کے بائیں کندھے پر جا لگا جس سے ان کی تکلیف میں مزید اضافہ ہو گیا۔ وہ میدان میں درد سے نڈھال دکھائی دیے اور ان کے لیے بیٹ تھامنا بھی محال ہو چکا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈاگ آؤٹ میں بیٹھے بھارتی کپتان شریاس ائیر نے جب اپنے کھلاڑی کی یہ تکلیف دہ حالت دیکھی تو انہوں نے ایک انتہائی غیر معمولی اور بڑا فیصلہ کیا۔ انہوں نے مزید رسک لینے یا کھلاڑی کی چوٹ کو بڑھانے کے بجائے اننگز کو وہیں ختم کرنے کا ارادہ کر لیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کپتان شریاس ائیر نے فوری طور پر میدان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنے بلے بازوں کو واپس بلانے کا حکم دے دیا۔ اس طرح میچ میں ابھی تین گیندیں باقی تھیں کہ بھارتی اننگز کو وقت سے پہلے ہی ختم قرار دے دیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا کہ کسی کپتان نے اوورز باقی ہوتے ہوئے اپنی ٹیم کی اننگز اس انداز میں ختم کی۔ اس فیصلے نے اسٹیڈیم میں موجود شائقین اور مبصرین کو شدید حیرت میں مبتلا کر دیا کیونکہ اس سے قبل اس فارمیٹ میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ضابطے کے مطابق اس انوکھے اقدام کے بعد میچ کا باضابطہ نتیجہ سامنے آیا اور ویسٹ انڈیز نے یہ مقابلہ جیت لیا۔ اس کامیابی کے ساتھ ہی پانچ میچوں کی سیریز دو دو سے برابر ہو گئی جس نے سیریز کے آخری معرکے کو انتہائی اہم بنا دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ویسٹ انڈیز نے اس چوتھے میچ میں شاندار کامیابی سمیٹ کر سیریز میں واپسی کی اور دونوں ٹیمیں اب فیصلہ کن معرکے کے لیے تیار ہیں۔ سیریز کا آخری اور پانچواں ٹی ٹوئنٹی میچ دونوں ٹیموں کے درمیان کھیلا جائے گا جو سیریز کا فیصلہ کرے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کرکٹ کے حلقوں میں شریاس ائیر کے اس فیصلے پر ملا جلا ردعمل دیکھنے میں آیا ہے جہاں کچھ لوگ اسے کھلاڑی کی حفاظت کے لیے ضروری قدم قرار دے رہے ہیں۔ طبی ماہرین اور سابق کھلاڑی بھی اس بات پر متفق ہیں کہ کسی بھی کھلاڑی کی صحت کھیل سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ واقعہ آنے والے وقتوں میں ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کی تاریخ کا ایک اہم باب رہے گا جب ایک کپتان نے میچ کے آخری لمحات میں ضابطے سے ہٹ کر انسانی ہمدردی اور کھلاڑی کی حفاظت کو ترجیح دی۔ کھیل کے میدان میں ایسی مثالیں کم ہی ملتی ہیں جہاں ٹیم کا مفاد چھوڑ کر کھلاڑی کی فٹنس کو مقدم رکھا جائے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/sports/950/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>چوتھا ٹی 20: ویسٹ انڈیز نے بھارت کو شکست دے کر سیریز 2-2 سے برابر کر دی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/sports/746/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/sports/746/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 22:57:18 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کھیل]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[انٹرنیشنل_کرکٹ]]></category>
		<category><![CDATA[بھارت]]></category>
		<category><![CDATA[بھارت_ویسٹ_انڈیز]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_کرکٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پی_ایس_ایل]]></category>
		<category><![CDATA[پی_سی_بی]]></category>
		<category><![CDATA[ٹی_ٹوئنٹی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سنجو_سیمسن]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/sports/%da%86%d9%88%d8%aa%da%be%d8%a7-%d9%b9%db%8c-20-%d9%88%db%8c%d8%b3%d9%b9-%d8%a7%d9%86%da%88%db%8c%d8%b2-%d9%86%db%92-%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%b1%d8%aa-%da%a9%d9%88-%d8%b4%da%a9%d8%b3%d8%aa/</guid>

					<description><![CDATA[حیدرآباد میں کھیلے گئے میچ میں ویسٹ انڈیز نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے میزبان ٹیم کو 24 رنز سے مات دے دی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیم نے بھارت کے خلاف پانچ میچوں پر مشتمل ٹی ٹوئنٹی سیریز کے چوتھے مقابلے میں فتح حاصل کر کے سیریز کو دلچسپ موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ حیدرآباد کے کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلے گئے اس میچ میں مہمان ٹیم نے میزبان بھارت کو 24 رنز سے شکست دی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کامیابی کے بعد پانچ میچوں کی سیریز اب 2-2 سے برابر ہو گئی ہے، جس کے باعث اب سیریز کا پانچواں اور فیصلہ کن میچ دونوں ٹیموں کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل بن گیا ہے۔ یہ فیصلہ کن معرکہ 17 اکتوبر کو بینگالورو میں کھیلا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">میچ کا آغاز بھارت کے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کرنے کے فیصلے سے ہوا۔ ویسٹ انڈیز کے بلے بازوں نے اس فیصلے کو غلط ثابت کرتے ہوئے جارحانہ انداز اپنایا اور مقررہ 20 اوورز میں 3 وکٹوں کے نقصان پر 247 رنز کا پہاڑ جیسا ہدف کھڑا کر دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مہمان ٹیم کی جانب سے کپتان شے ہوپ نے شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کیا اور 102 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی۔ ان کا بھرپور ساتھ شرفین ردرفورڈ نے دیا جنہوں نے 49 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ پویلین لوٹے۔ دیگر بلے بازوں میں شمرون ہیٹمائر 33 اور روومن پاول 24 رنز کے ساتھ نمایاں رہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بھارتی بولرز ویسٹ انڈیز کے بلے بازوں کو قابو کرنے میں ناکام دکھائی دیے۔ میزبان ٹیم کی جانب سے پرنس یادو، اکشر پٹیل اور ارشدیپ سنگھ نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔ ویسٹ انڈیز کے بلے بازوں نے بھارتی بولنگ لائن اپ کے خلاف کھل کر رنز بنائے اور بڑا مجموعہ ترتیب دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ہدف کے تعاقب میں بھارتی ٹیم کا آغاز توقع کے مطابق نہ ہو سکا اور وقفے وقفے سے وکٹیں گرنے کا سلسلہ جاری رہا۔ پوری بھارتی ٹیم 19.3 اوورز میں 223 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی، جس کے نتیجے میں انہیں 24 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بھارت کی جانب سے سنجو سیمسن نے سب سے زیادہ 56 رنز کی اننگز کھیلی۔ دیگر بلے بازوں میں تِلک ورما 43، نتیش کمار ریڈی 41 اور ابھیشک شرما 29 رنز بنا سکے۔ کپتان شریاس ایر سمیت دیگر کھلاڑی بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام رہے اور ٹیم کو شکست سے نہ بچا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ویسٹ انڈیز کے بولرز نے بھارتی بیٹنگ لائن کو تاش کے پتوں کی طرح بکھیر دیا۔ کِیمو پال نے شاندار بولنگ کرتے ہوئے 5 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔ ان کے علاوہ گُداکیش موتی نے 2 جبکہ شیمر اسپرنگر اور روماریو شیفرڈ نے ایک ایک وکٹ اپنے نام کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس میچ میں ویسٹ انڈیز کی آل راؤنڈ کارکردگی نے شائقین کرکٹ کو متاثر کیا۔ خاص طور پر کپتان شے ہوپ کی سنچری اور کِیمو پال کی پانچ وکٹوں نے میچ کا پانسہ پلٹنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اب دونوں ٹیمیں سیریز جیتنے کے لیے آخری میچ میں پوری طاقت کے ساتھ میدان میں اتریں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بھارتی ٹیم کے لیے یہ شکست ایک بڑا دھچکا ہے کیونکہ وہ سیریز میں برتری حاصل کرنے کے قریب تھے۔ اب بینگالورو میں ہونے والا آخری میچ کسی فائنل سے کم نہیں ہوگا، جہاں دونوں ٹیمیں اپنی ساکھ بچانے اور سیریز اپنے نام کرنے کے لیے کوشاں ہوں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیریز کے اس اہم موڑ پر شائقین کی نظریں اب بینگالورو کے اسٹیڈیم پر مرکوز ہیں۔ دونوں ٹیموں کے درمیان سخت مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے، کیونکہ دونوں ہی ٹیمیں سیریز اپنے نام کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس سیریز کے دوران دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں نے انفرادی اور اجتماعی طور پر اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ 17 اکتوبر کو ہونے والے فیصلہ کن میچ میں کون سی ٹیم اپنی اعصابی صلاحیتوں کو بہتر طریقے سے استعمال کر کے ٹرافی پر قبضہ جماتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/sports/746/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
