<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>انقرہ &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%a7%d9%86%d9%82%d8%b1%db%81/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:31:22 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>انقرہ &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی ترک صدر رجب طیب اردوان سے اہم ملاقات</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/2043/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/2043/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Oct 2026 20:57:22 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آر_فور_اجلاس]]></category>
		<category><![CDATA[آصف_علی_زرداری]]></category>
		<category><![CDATA[اسحاق_ڈار]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[انقرہ]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_ترکیہ_تعلقات]]></category>
		<category><![CDATA[ترکیہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d9%86%d8%a7%d8%a6%d8%a8-%d9%88%d8%b2%db%8c%d8%b1%d8%a7%d8%b9%d8%b8%d9%85-%d8%a7%d8%b3%d8%ad%d8%a7%d9%82-%da%88%d8%a7%d8%b1-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%b1%da%a9-%d8%b5%d8%af%d8%b1/</guid>

					<description><![CDATA[نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ترک صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات کے دوران پاکستان کی قیادت کی جانب سے نیک خواہشات کا پیغام پہنچایا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے آر فور ممالک کے وزرائے خارجہ کے وفد کے ہمراہ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان سے اہم ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات کے دوران دوطرفہ تعلقات اور علاقائی سفارتی امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ملاقات میں اسحاق ڈار نے صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم محمد شہباز شریف اور عسکری قیادت کی جانب سے ترک صدر کو خیر سگالی اور نیک خواہشات کا خصوصی پیغام پہنچایا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترجمان نے مزید بتایا کہ نائب وزیراعظم نے اعلیٰ سطح کے اجلاسوں کی کامیاب میزبانی اور پاکستان سمیت دیگر مندوبین کی شاندار مہمان نوازی پر ترکیہ کی حکومت اور صدر اردوان کا شکریہ ادا کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترک صدر رجب طیب اردوان نے آر فور ممالک کے وزرائے خارجہ کا گرم جوشی سے استقبال کیا اور آر فور اور آر فور پلس ای فور فارمیٹس کے تحت ہونے والی تعمیری بات چیت کو سراہا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے خطے میں امن، استحکام اور اقتصادی شراکت داری کے فروغ کے لیے ان سفارتی اجلاسوں اور کثیر الجہتی مذاکرات کی اہمیت پر زور دیا اور تعاون جاری رکھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان اور ترکیہ کے مابین تعلقات محض سفارتی حدود تک محدود نہیں بلکہ یہ مشترکہ تاریخ، مذہب اور ثقافت پر مبنی گہرے اور مضبوط برادرانہ رشتے میں بندھے ہوئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دونوں ممالک نے ہر مشکل وقت اور بین الاقوامی فورمز پر ایک دوسرے کے موقف کی بھرپور حمایت کی ہے، جس سے ان کے درمیان پائے جانے والے باہمی اعتماد کی عکاسی ہوتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد اور انقرہ کے درمیان اعلیٰ سطحی اسٹریٹجک تعاون کونسل کا فریم ورک قائم ہے، جس کے تحت دونوں ممالک دفاع، تجارت اور توانائی کے شعبوں میں تعلقات کو وسعت دے رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تجارت اور معاشی شعبے میں باہمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے متعدد معاہدے طے پا چکے ہیں تاکہ دوطرفہ تجارتی حجم کو مقررہ اہداف کے مطابق بڑھایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دفاعی پیداوار اور تکنیکی شراکت داری کے میدان میں بھی دونوں ممالک کے ادارے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر مختلف منصوبوں پر کام کر رہے ہیں جس سے علاقائی دفاعی صلاحیتوں کو تقویت مل رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کثیر الجہتی فورمز پر ترکیہ نے ہمیشہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے اصولی موقف کی تائید کی ہے جبکہ پاکستان نے بھی عالمی پلیٹ فارمز پر ترکیہ کے بنیادی قومی مفادات کا دفاع کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نائب وزیراعظم کے اس حالیہ دورہ ترکیہ سے دونوں برادر ممالک کے مابین اسٹریٹجک شراکت داری مزید مضبوط ہوگی اور علاقائی سطح پر سفارتی تعاون کو نئی پیش رفت حاصل ہوگی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/2043/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ترکی اور آذربائیجان کے دیرینہ تعلقات میں سفارتی و سیاسی اختلافات کی نئی بحث</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/519/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/519/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 03:39:01 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آذربائیجان]]></category>
		<category><![CDATA[اسرائیل]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[الہام_علیئف]]></category>
		<category><![CDATA[انقرہ]]></category>
		<category><![CDATA[باکو]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ترکی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d8%aa%d8%b1%da%a9%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a2%d8%b0%d8%b1%d8%a8%d8%a7%d8%a6%db%8c%d8%ac%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%92-%d8%af%db%8c%d8%b1%db%8c%d9%86%db%81-%d8%aa%d8%b9%d9%84%d9%82%d8%a7%d8%aa-%d9%85/</guid>

					<description><![CDATA[غزہ جنگ اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے تناظر میں ترکی اور آذربائیجان کے مابین قائم 'دو ملک ایک قوم' کے بیانیے پر نئے سوالات اٹھنے لگے ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ترکی اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ گہرے سٹریٹجک تعلقات میں حال ہی میں علاقائی اور سیاسی تناظرات کی وجہ سے سفارتی و سیاسی مباحثے نے جنم لیا ہے، جہاں دونوں ممالک کے تعلقات میں تناؤ اور ترجیحات کی تبدیلی پر تبصرے کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دراصل دہائیوں سے &#039;دو ملک، ایک قوم&#039; کے نعرے کے تحت انقرہ اور باکو کے مابین قائم مضبوط تعلقات کو اب مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور غزہ پر اسرائیلی حملوں جیسے عالمی واقعات کے تناظر میں چیلنجز کا سامنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آذربائیجان کے صدر الہام علیئف نے حال ہی میں حکمراں جماعت کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا کہ ان کے ملک نے اپنی دفاعی ضروریات اور ہتھیار اپنے وسائل سے خریدے ہیں اور کسی نے ان کی بلامعاوضہ امداد نہیں کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اگرچہ صدر علیئف نے اپنے خطاب میں براہ راست ترکی کا نام نہیں لیا، تاہم ماہرین اور میڈیا نے ان کے بیانات کو ترکی کے لیے ایک ڈھکے چھپے پیغام کے طور پر دیکھا، جس سے دونوں ممالک کے سفارتی حلقوں میں بحث چھڑ گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ناگورنو قرہباغ کی جنگ کے دوران ترکی نے آذربائیجان کو عسکری تربیت، انٹیلی جنس اور جدید ترین تکنیکی ڈرونز کی فراہمی میں اہم کردار ادا کیا تھا، جس نے باکو کو آرمینیا پر نمایاں فضائی برتری دلائی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جنگ کے بعد باکو اور انقرہ کے مابین باقاعدہ عسکری اتحاد اور مشترکہ دفاعی معاہدوں پر دستخط بھی ہوئے تھے، تاہم باکو حکام کا موقف ہے کہ یہ تمام فوجی سازوسامان اور ڈرونز معاہدوں کے تحت خریدارانہ بنیادوں پر حاصل کیے گئے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب مشرق وسطیٰ کے بحران اور بالخصوص غزہ کی جنگ کے حوالے سے دونوں اتحادی ممالک کا مؤقف ایک دوسرے سے منفرد نظر آتا ہے، جو اب سفارتی سطح پر واضح فاصلوں کا باعث بن رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترکی نے فلسطینیوں کی کھل کر حمایت کی ہے اور اسرائیلی پالیسیوں کی سخت مذمت کی ہے، جبکہ آذربائیجان نے اس معاملے میں زیادہ تر غیر جانبدارانہ اور محتاط رویہ اختیار کر رکھا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آذربائیجان کے اسرائیل کے ساتھ تجارتی اور دفاعی تعلقات بھی قائم ہیں، جہاں سے باکو کو دفاعی ڈرونز اور جدید عسکری ٹیکنالوجی حاصل ہوتی رہی ہے اور بدلے میں وہ اسرائیل کو خام تیل فراہم کرتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے حالیہ اجلاس کے دوران بھی یہ اختلافات اُس وقت نمایاں ہوئے جب اسرائیلی وزیر اعظم کے خطاب پر متعدد ممالک نے ہال کا بائیکاٹ کیا لیکن آذربائیجانی نمائندہ ہال میں موجود رہا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترکی کے میڈیا اور سیاسی حلقوں نے باکو کے اس رویے کو اپنے اتحادی کی توقعات کے برعکس قرار دیا اور اس اقدام پر کڑی تنقید کی جس سے دونوں ممالک میں سرد مہری کے تاثر کو تقویت ملی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کے علاوہ، ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی کے معاملے پر بھی تشویش ظاہر کی تھی، جسے آذربائیجان میں اندرونی معاملے میں مداخلت کے طور پر دیکھا گیا کیونکہ وہاں کی کابینہ نے ایک پابندی منظور کی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آذربائیجان کی ۷۰ سالہ سوویت تاریخ کے بعد وہاں کا سیاسی و معاشرتی ڈھانچہ ترکی کے مقابلے میں زیادہ سیکولر انداز کا حامل ہے، جس کے باعث مذہبی اور سیاسی ترجیحات مختلف ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ اگرچہ بعض پالیسیوں اور بین الاقوامی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک میں آراء کا اختلاف سامنے آیا ہے، تاہم ان کے مابین عسکری، معاشی اور جغرافیائی شراکت داری انتہائی مضبوط ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاسی مبصرین کے مطابق ترکی اور آذربائیجان کے صدور کے درمیان مسلسل رابطوں اور آئندہ دوطرفہ ملاقاتوں کے نتیجے میں میڈیا میں اٹھنے والے یہ ابہامات اور عارضی سفارتی اختلافات جلد حل ہونے کی توقع ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/519/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
