<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.30.2"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>انصاف &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%a7%d9%86%d8%b5%d8%a7%d9%81/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:31:24 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>انصاف &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>کراچی: جعلی پولیس مقابلے میں نوجوان کے قتل پر اہلکار کو سزائے موت</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/karachi/%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%d8%ac%d8%b9%d9%84%db%8c-%d9%be%d9%88%d9%84%db%8c%d8%b3-%d9%85%d9%82%d8%a7%d8%a8%d9%84%db%92-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%86%d9%88%d8%ac%d9%88%d8%a7%d9%86/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/karachi/%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%d8%ac%d8%b9%d9%84%db%8c-%d9%be%d9%88%d9%84%db%8c%d8%b3-%d9%85%d9%82%d8%a7%d8%a8%d9%84%db%92-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%86%d9%88%d8%ac%d9%88%d8%a7%d9%86/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 30 Oct 2026 09:14:44 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[کراچی]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[انصاف]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس_مقابلہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سزائے_موت]]></category>
		<category><![CDATA[سندھ]]></category>
		<category><![CDATA[شاہین_فورس]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قانون]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%d8%ac%d8%b9%d9%84%db%8c-%d9%be%d9%88%d9%84%db%8c%d8%b3-%d9%85%d9%82%d8%a7%d8%a8%d9%84%db%92-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%86%d9%88%d8%ac%d9%88%d8%a7%d9%86/</guid>

					<description><![CDATA[ماڈل کرمنل کورٹ نے گلستان جوہر میں پیش آنے والے واقعے کا فیصلہ سناتے ہوئے ایک اہلکار کو سزائے موت اور دو کو عمر قید کی سزا سنا دی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">کراچی کی ماڈل کرمنل کورٹ ایسٹ نے گلستان جوہر میں پیش آنے والے جعلی پولیس مقابلے کے ایک انتہائی اہم مقدمے کا فیصلہ سنا دیا ہے۔ عدالت نے جرم ثابت ہونے پر پولیس اہلکار شہریار کو سزائے موت کا حکم دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے اس کیس میں ملوث دیگر دو شریک ملزمان، ناصر اور فیصل کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ فیصلے کے مطابق تینوں مجرموں کو مقتول کے ورثا کو بطور ہرجانہ پانچ پانچ لاکھ روپے کی رقم بھی ادا کرنی ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقدمے کی تفصیلات کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ 2022 میں پیش آیا تھا، جس کے بعد تھانہ شاہراہ فیصل میں پولیس اہلکاروں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ پراسیکیوشن نے عدالت میں واقعے کے تمام شواہد پیش کیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پراسیکیوشن کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ شاہین فورس کے اہلکاروں نے گلشن اقبال کے علاقے میں عامر نامی نوجوان کو رکنے کا اشارہ کیا تھا۔ نوجوان کے نہ رکنے پر پولیس اہلکاروں نے اس کا پیچھا کرنا شروع کر دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس اہلکار پیچھا کرتے ہوئے ایک رہائشی فلیٹ میں داخل ہو گئے جہاں انہوں نے نوجوان عامر پر فائرنگ کر دی۔ اس فائرنگ کے نتیجے میں نوجوان موقع پر ہی دم توڑ گیا تھا، جس سے علاقے میں شدید غم و غصہ پایا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعے کے فوراً بعد ملوث اہلکاروں نے اسے ایک پولیس مقابلہ قرار دے کر اپنی جان چھڑانے کی کوشش کی تھی۔ تاہم تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ یہ مقابلہ جعلی تھا اور نوجوان کو بلاوجہ نشانہ بنایا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے اور گواہان کے بیانات سننے کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ آج فیصلہ سناتے ہوئے جج نے قرار دیا کہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں اور شہریوں کی جان کی حفاظت پولیس کی اولین ذمہ داری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقتول کے لواحقین نے عدالتی فیصلے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے انصاف کی فراہمی قرار دیا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ پولیس فورس میں نظم و ضبط برقرار رکھنے اور غیر قانونی اقدامات کی روک تھام کے لیے اہم ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہر میں اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے عدالتوں کا سخت موقف عوامی حلقوں میں سراہا جا رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ وردی کی آڑ میں قانون کو ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف ایسی کارروائیاں ناگزیر ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مذکورہ کیس کی سماعت کے دوران پراسیکیوشن نے ٹھوس شواہد اور فرانزک رپورٹس کی مدد سے ملزمان کا جرم ثابت کیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ کسی بھی شہری کو بلاوجہ نشانہ بنانا سنگین جرم ہے جس کی سزا ملنی چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فیصلے کے بعد ملزمان کو سخت سیکیورٹی میں جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔ عدالتی حکم کے مطابق جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں مجرموں کو مزید قید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس کی تفصیلات عدالتی آرڈر میں شامل ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کراچی میں پولیس کے ہاتھوں جعلی مقابلوں کے واقعات پر ماضی میں بھی سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ اس کیس کا فیصلہ ایک مثال بنے گا تاکہ مستقبل میں کوئی بھی اہلکار اپنی طاقت کا غلط استعمال کرتے ہوئے کسی کی جان نہ لے سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے اپنے فیصلے میں اس بات پر زور دیا کہ پولیس فورس کا کام عوام کی جان و مال کا تحفظ کرنا ہے، نہ کہ انہیں خوفزدہ کرنا۔ قانون کی بالادستی ہی معاشرے میں امن و امان کا واحد ذریعہ ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/karachi/%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%d8%ac%d8%b9%d9%84%db%8c-%d9%be%d9%88%d9%84%db%8c%d8%b3-%d9%85%d9%82%d8%a7%d8%a8%d9%84%db%92-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%86%d9%88%d8%ac%d9%88%d8%a7%d9%86/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>کراچی: ناظم آباد میں پولیس کی فائرنگ سے نوجوان زخمی، اہل خانہ کا انصاف کا مطالبہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/karachi/%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%d9%86%d8%a7%d8%b8%d9%85-%d8%a2%d8%a8%d8%a7%d8%af-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%be%d9%88%d9%84%db%8c%d8%b3-%da%a9%db%8c-%d9%81%d8%a7%d8%a6%d8%b1%d9%86%da%af/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/karachi/%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%d9%86%d8%a7%d8%b8%d9%85-%d8%a2%d8%a8%d8%a7%d8%af-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%be%d9%88%d9%84%db%8c%d8%b3-%da%a9%db%8c-%d9%81%d8%a7%d8%a6%d8%b1%d9%86%da%af/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 25 Oct 2026 00:58:07 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[کراچی]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آئی_جی_سندھ]]></category>
		<category><![CDATA[امن_و_امان]]></category>
		<category><![CDATA[انصاف]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس_فائرنگ]]></category>
		<category><![CDATA[جناح_اسپتال]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سندھ]]></category>
		<category><![CDATA[سندھ_پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%d9%86%d8%a7%d8%b8%d9%85-%d8%a2%d8%a8%d8%a7%d8%af-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%be%d9%88%d9%84%db%8c%d8%b3-%da%a9%db%8c-%d9%81%d8%a7%d8%a6%d8%b1%d9%86%da%af/</guid>

					<description><![CDATA[ناظم آباد میں پولیس اہلکاروں نے موٹر سائیکل سوار نوجوان کو ڈاکو سمجھ کر فائرنگ کا نشانہ بنایا، زخمی نوجوان کو اسپتال منتقل کر دیا گیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">کراچی کے علاقے ناظم آباد میں پولیس کی مبینہ غفلت اور غیر تربیت یافتہ رویے کے باعث ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے، جہاں پولیس اہلکاروں نے موٹر سائیکل پر سوار ایک نوجوان کو ڈاکو سمجھ کر فائرنگ کر دی۔ اس واقعے میں شوریم نامی نوجوان شدید زخمی ہوا ہے جسے طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">زخمی نوجوان کے کزن محمد طیب نے میڈیا کو بتایا کہ وہ اور شوریم ناظم آباد نمبر 3 کے رہائشی ہیں اور واقعے کے وقت موٹر سائیکل پر کہیں جا رہے تھے۔ اس دوران پیچھے سے آنے والے پولیس اہلکاروں نے بغیر کسی تصدیق کے ان پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں ایک گولی شوریم کی پیٹھ میں لگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شوریم نے اپنے بیان میں بتایا کہ وہ موٹر سائیکل پر گزر رہا تھا کہ پیچھے سے آنے والی ایک موٹر سائیکل کی آواز سن کر خوفزدہ ہو گیا اور رفتار بڑھانے کی کوشش کی۔ اسی دوران پولیس اہلکاروں نے اسے ڈاکو قرار دیتے ہوئے گولیاں چلا دیں، جس سے وہ زخمی ہو کر گر گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متاثرہ نوجوان کے کزن کا الزام ہے کہ فائرنگ کے بعد پولیس اہلکار شوریم کو اپنی موٹر سائیکل پر بٹھا کر لے گئے اور راستے میں کسی کو فون کر کے ڈاکو پکڑنے کا ڈرامہ رچایا۔ اہلکاروں نے نوجوان پر اسلحہ پھینکنے کا جھوٹا الزام بھی عائد کیا، تاہم بعد میں اسے عباسی شہید اسپتال چھوڑ کر فرار ہو گئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محمد طیب نے مزید الزام عائد کیا کہ پولیس اہلکار واقعے کے بعد ان کی موٹر سائیکل اور موبائل فون بھی اپنے ساتھ لے گئے۔ محلے کے لوگوں کے جمع ہونے پر جب اہلکاروں کو حقیقت کا علم ہوا کہ وہ ڈاکو نہیں بلکہ علاقے کے رہائشی ہیں، تو وہ وہاں سے نکل گئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">زخمی نوجوان کی والدہ نے جناح اسپتال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ شوریم ان کا اکلوتا بیٹا اور گھر کا واحد کفیل ہے، جو سرینا موبائل مارکیٹ میں دکان چلاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے بیٹے کی جلد شادی ہونے والی تھی اور اس واقعے نے ان کی زندگی کو شدید صدمے میں ڈال دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">والدہ نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے اور ذمہ دار پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعے کے بعد تاحال کسی بھی پولیس افسر نے ان سے رابطہ نہیں کیا اور نہ ہی کوئی تسلی دی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس واقعے نے کراچی پولیس کی کارکردگی اور اہلکاروں کی تربیت پر کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پولیس کی جانب سے اس طرح کی جلد بازی اور بغیر تصدیق فائرنگ کسی بھی بے گناہ کی جان لے سکتی ہے، جس کی روک تھام ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فی الحال زخمی نوجوان شوریم جناح اسپتال میں زیر علاج ہے جہاں ڈاکٹرز اسے طبی امداد فراہم کر رہے ہیں۔ اہل خانہ کی جانب سے انصاف کے مطالبے کے بعد اب دیکھنا یہ ہے کہ محکمہ پولیس اس معاملے پر کیا موقف اختیار کرتا ہے اور ذمہ داروں کا تعین کیسے کیا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس حکام کی جانب سے تاحال اس واقعے پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ کراچی میں پولیس کے ہاتھوں شہریوں کے زخمی ہونے کے یہ واقعات شہر میں خوف و ہراس کا باعث بن رہے ہیں اور عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہری حلقوں نے آئی جی سندھ اور وزیراعلیٰ سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ ناظم آباد فائرنگ کیس کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پولیس کو عوام کے تحفظ کے لیے مامور کیا گیا ہے، نہ کہ ان کی جانوں سے کھیلنے کے لیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس واقعے کے بعد علاقے میں پولیس کی ساکھ پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ پولیس اہلکاروں کے لیے تربیت کے معیار کو بہتر بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے اور کسی اور بے گناہ کو نقصان نہ پہنچے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعے کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی کے قیام کا مطالبہ بھی زور پکڑ رہا ہے تاکہ ملوث اہلکاروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے۔ متاثرہ خاندان اب صرف انصاف کی امید پر حکام بالا کی جانب دیکھ رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/karachi/%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%d9%86%d8%a7%d8%b8%d9%85-%d8%a2%d8%a8%d8%a7%d8%af-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%be%d9%88%d9%84%db%8c%d8%b3-%da%a9%db%8c-%d9%81%d8%a7%d8%a6%d8%b1%d9%86%da%af/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>اسکوٹی تشدد واقعہ، مریم نواز نے لڑکی کو خود انصاف دلانے کا بتا دیا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a7%d8%b3%da%a9%d9%88%d9%b9%db%8c-%d8%aa%d8%b4%d8%af%d8%af-%d9%88%d8%a7%d9%82%d8%b9%db%81-%d9%85%d8%b1%db%8c%d9%85-%d9%86%d9%88%d8%a7%d8%b2-%d9%86%db%92-%d9%84%da%91%da%a9%db%8c/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a7%d8%b3%da%a9%d9%88%d9%b9%db%8c-%d8%aa%d8%b4%d8%af%d8%af-%d9%88%d8%a7%d9%82%d8%b9%db%81-%d9%85%d8%b1%db%8c%d9%85-%d9%86%d9%88%d8%a7%d8%b2-%d9%86%db%92-%d9%84%da%91%da%a9%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 14:16:54 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسکوٹی_تشدد]]></category>
		<category><![CDATA[انصاف]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس_کارروائی]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹرول_پمپ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a7%d8%b3%da%a9%d9%88%d9%b9%db%8c-%d8%aa%d8%b4%d8%af%d8%af-%d9%88%d8%a7%d9%82%d8%b9%db%81-%d9%85%d8%b1%db%8c%d9%85-%d9%86%d9%88%d8%a7%d8%b2-%d9%86%db%92-%d9%84%da%91%da%a9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[وزیر اعلیٰ پنجاب نے بتایا کہ انہوں نے متاثرہ لڑکی سے گفتگو کی اور اسے قانون کے مطابق تحفظ کی یقین دہانی کروائی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) صوبائی دارالحکومت میں پیش آنے والے اسکوٹی تشدد کے ایک واقعے کے بعد سے عوامی حلقوں اور سوشل میڈیا پر مختلف آراء کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اس واقعے نے شہریوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی ہے اور معاشرتی رویوں کے حوالے سے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ اس ضمن میں انتظامی اور حکومتی سطح پر فوری نوعیت کے اقدامات اٹھائے گئے ہیں تاکہ قانون کی عملداری کو ہر صورت یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معاملے کے پس منظر میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ لاہور کے مختلف علاقوں میں شہریوں بالخصوص خواتین اور محنت کش طبقے کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو متحرک کر دیا گیا ہے۔ حکومتی عہدیداروں کی جانب سے بارہا اس عزم کا اظہار کیا گیا ہے کہ قانون کو ہاتھ میں لینے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس پورے معاملے اس وقت ایک نیا موڑ آیا جب سوشل میڈیا پر ایک شہری نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے براہ راست سوال کیا۔ شہری نے اپنے پیغام میں استفسار کیا کہ اسکوٹی والی بچی پر تشدد کرنے والے شخص کے خلاف بھی اسی طرح کی کسی ویڈیو کا انتظار ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہری کے اس سوال پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب نے سوشل میڈیا کے توسط سے تفصیلات سے آگاہ کیا۔ مریم نواز نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ انہوں نے خود اس متاثرہ لڑکی سے ٹیلی فونک رابطے کے ذریعے گفتگو کی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر اعلیٰ پنجاب نے بتایا کہ انہوں نے گفتگو کے دوران لڑکی سے کہا کہ جتنی بار اس شخص نے اسے تھپڑ مارے ہیں، وہ بھی بدلے میں اسے اتنی ہی بار تھپڑ مارے۔ اس بیان کے ذریعے وزیراعلیٰ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ریاست شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مریم نواز کے مطابق متاثرہ لڑکی نے ان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس کے لیے یہی بات انتہائی اطمینان بخش ہے کہ حکومت نے اسے مکمل تحفظ فراہم کیا ہے۔ لڑکی کا مزید کہنا تھا کہ اسے بروقت اور منصفانہ طریقے سے انصاف کی فراہمی یقینی بنا دی گئی ہے جس پر وہ مطمئن ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ اس سے قبل وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے سوشل میڈیا پر ایک اور ویڈیو بھی شیئر کی تھی جس کا تعلق پٹرول پمپ کے ایک غریب ملازم پر تشدد کے واقعے سے تھا۔ اس ویڈیو میں پٹرول پمپ کے ملازم کو مبینہ طور پر تشدد کرنے والے شخص کو پولیس حراست میں تھپڑ مارتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پٹرول پمپ ملازم کے واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی تھی جس پر عوام کی جانب سے ملازم کی حمایت میں کمنٹس کیے گئے تھے۔ اس ویڈیو کے ساتھ اپنے پیغام میں مریم نواز نے سخت الفاظ میں ان افراد کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا جو خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر اعلیٰ پنجاب نے لکھا تھا کہ یہ مناظر ان مغرور اور بگڑے ہوئے افراد کے منہ پر ایک زور دار طمانچہ ہیں جو غریب طبقے کو اپنے سے کمتر انسان تصور کرتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دولت اور طاقت کے نشے میں مبتلا لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ وہ قانون توڑنے کے باوجود بچ نکلیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتِ پنجاب کی جانب سے اس عزم کو بار بار دہرایا گیا ہے کہ معاشرے میں عام آدمی کے حقوق کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ غریبوں یا کمزور افراد پر ہاتھ اٹھانے والے افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معاشرتی سطح پر اس نوعیت کے رویوں کی حوصلہ شکنی کے لیے عوامی سطح پر بھی شعور اجاگر کرنے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔ ماہرینِ قانون اور سماجی حلقوں نے حکومتی اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ طاقتور اور کمزور کے درمیان تفریق کے بغیر انصاف کے تقاضے پورے کیے جانے چاہئیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a7%d8%b3%da%a9%d9%88%d9%b9%db%8c-%d8%aa%d8%b4%d8%af%d8%af-%d9%88%d8%a7%d9%82%d8%b9%db%81-%d9%85%d8%b1%db%8c%d9%85-%d9%86%d9%88%d8%a7%d8%b2-%d9%86%db%92-%d9%84%da%91%da%a9%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پنجاب حکومت کا آذربائیجانی خاتون زیادتی کیس خود لڑنے کا فیصلہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%d9%86%d8%ac%d8%a7%d8%a8-%d8%ad%da%a9%d9%88%d9%85%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%d8%a2%d8%b0%d8%b1%d8%a8%d8%a7%d8%a6%db%8c%d8%ac%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%ae%d8%a7%d8%aa%d9%88%d9%86/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%d9%86%d8%ac%d8%a7%d8%a8-%d8%ad%da%a9%d9%88%d9%85%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%d8%a2%d8%b0%d8%b1%d8%a8%d8%a7%d8%a6%db%8c%d8%ac%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%ae%d8%a7%d8%aa%d9%88%d9%86/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 01:58:04 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آذربائیجان]]></category>
		<category><![CDATA[انصاف]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[زیادتی_کیس]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[عظمی_بخاری]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%d9%86%d8%ac%d8%a7%d8%a8-%d8%ad%da%a9%d9%88%d9%85%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%d8%a2%d8%b0%d8%b1%d8%a8%d8%a7%d8%a6%db%8c%d8%ac%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%ae%d8%a7%d8%aa%d9%88%d9%86/</guid>

					<description><![CDATA[وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا کہ کیس میں اغوا اور ڈکیتی کی دفعات شامل ہیں، ملزمان کو کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">لاہور میں آذربائیجان سے تعلق رکھنے والی خاتون کے ساتھ مبینہ زیادتی کے معاملے پر پنجاب حکومت نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کیس کو خود آگے بڑھانے کا اعلان کر دیا ہے۔ صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے واضح کیا ہے کہ حکومت اس معاملے میں انصاف کے تقاضوں کو ہر صورت یقینی بنائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب متاثرہ خاتون نے ایک ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے مرکزی ملزم احمد تنویر کو بے قصور قرار دے دیا اور دیگر ملزمان محسن اور عزیر کو بھی معاف کرنے کا اعلان کیا۔ خاتون نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ ان کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہوئی اور وہ اس معاملے کو مزید نہیں بڑھانا چاہتیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس مقدمے میں صرف زیادتی ہی نہیں بلکہ اغوا اور ڈکیتی کی سنگین دفعات بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاتون کے بیان کے باوجود ملزمان کا قانونی گرفت سے بچ نکلنا ممکن نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عظمیٰ بخاری نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ حکومت کو اس کیس سے متعلق جج کی جانب سے مبینہ طور پر رشوت لینے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اس معاملے پر انتہائی سنجیدہ ہیں اور انصاف کی فراہمی کے لیے ہر حد تک جانے کو تیار ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر اطلاعات کے مطابق وزیراعلیٰ مریم نواز اس معاملے پر چیف جسٹس پاکستان اور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سے بھی رابطہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ حکومت کا عزم ہے کہ پنجاب میں کسی بھی قسم کی غنڈہ گردی یا بدمعاشی کے کلچر کو پنپنے نہیں دیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتی ترجمان نے مزید کہا کہ اگر اس کیس کے لیے خصوصی عدالتوں کے قیام یا قوانین میں بہتری کی ضرورت پڑی تو حکومت اس پر فوری کام کرے گی۔ قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے اور کسی بھی ملزم کو رعایت نہیں دی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب متاثرہ خاتون ڈیانا نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ وہ آذربائیجان واپس نہیں جانا چاہتیں اور حکام سے درخواست کی ہے کہ انہیں کسی تیسرے ملک بھجوا دیا جائے۔ اس حوالے سے آذربائیجان کے سفارت خانے کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس ذرائع کے مطابق کیس کی تفتیش جاری ہے اور حکومتی مداخلت کے بعد اب قانونی کارروائی کو مزید شفاف اور تیز بنایا جائے گا۔ حکومت کا ماننا ہے کہ ایسے واقعات معاشرے کے لیے نقصان دہ ہیں اور ان کا تدارک ناگزیر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ اس واقعے نے سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں کافی تشویش پیدا کر دی تھی، جس کے بعد پنجاب حکومت نے فوری نوٹس لیتے ہوئے معاملے کی تہہ تک پہنچنے کا فیصلہ کیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عدالت اس کیس میں کیا فیصلہ سناتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قانون دانوں کا کہنا ہے کہ اگر مقدمے میں اغوا اور ڈکیتی جیسی دفعات شامل ہوں تو متاثرہ فریق کی جانب سے معافی کے باوجود ریاست مدعی بن کر کیس لڑ سکتی ہے۔ یہ عمل انصاف کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے اہم تصور کیا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے حکومت مزید سخت اقدامات پر بھی غور کر رہی ہے تاکہ کوئی بھی شخص قانون کو ہاتھ میں لینے کی جرات نہ کر سکے۔ انصاف کی فراہمی کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%d9%86%d8%ac%d8%a7%d8%a8-%d8%ad%da%a9%d9%88%d9%85%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%d8%a2%d8%b0%d8%b1%d8%a8%d8%a7%d8%a6%db%8c%d8%ac%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%ae%d8%a7%d8%aa%d9%88%d9%86/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ڈیانا زیادتی کیس: ملزم تنویر کی عبوری ضمانت میں 27 اکتوبر تک توسیع</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/courts/%da%88%db%8c%d8%a7%d9%86%d8%a7-%d8%b2%db%8c%d8%a7%d8%af%d8%aa%db%8c-%da%a9%db%8c%d8%b3-%d9%85%d9%84%d8%b2%d9%85-%d8%aa%d9%86%d9%88%db%8c%d8%b1-%da%a9%db%8c-%d8%b9%d8%a8%d9%88%d8%b1%db%8c/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/courts/%da%88%db%8c%d8%a7%d9%86%d8%a7-%d8%b2%db%8c%d8%a7%d8%af%d8%aa%db%8c-%da%a9%db%8c%d8%b3-%d9%85%d9%84%d8%b2%d9%85-%d8%aa%d9%86%d9%88%db%8c%d8%b1-%da%a9%db%8c-%d8%b9%d8%a8%d9%88%d8%b1%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 01:17:24 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[انصاف]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[تفتیش]]></category>
		<category><![CDATA[تنویر_ضمانت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیانا_زیادتی_کیس]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالتی_کارروائی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قانون]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%da%88%db%8c%d8%a7%d9%86%d8%a7-%d8%b2%db%8c%d8%a7%d8%af%d8%aa%db%8c-%da%a9%db%8c%d8%b3-%d9%85%d9%84%d8%b2%d9%85-%d8%aa%d9%86%d9%88%db%8c%d8%b1-%da%a9%db%8c-%d8%b9%d8%a8%d9%88%d8%b1%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[عدالت نے کیس کی سماعت کے دوران ملزم کی عبوری ضمانت میں توسیع کرتے ہوئے فریقین کو آئندہ تاریخ پر طلب کر لیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">لاہور کی مقامی عدالت میں ڈیانا زیادتی کیس کی سماعت ہوئی جس میں ملزم تنویر کی جانب سے دائر عبوری ضمانت کی درخواست پر کارروائی کی گئی۔ عدالت نے کیس کے اہم پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد ملزم کی عبوری ضمانت میں 27 اکتوبر تک توسیع کر دی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سماعت کے موقع پر ملزم تنویر اپنے وکلاء کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوا۔ عدالت نے استغاثہ اور دفاع کے وکلاء کے دلائل سنے۔ کیس کی حساسیت کے پیش نظر عدالتی کارروائی کے دوران سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے وکلاء کو ہدایت کی کہ وہ آئندہ سماعت پر کیس سے متعلق مزید شواہد اور دلائل پیش کریں۔ فاضل جج نے ریمارکس دیے کہ قانون کے مطابق تمام تقاضے پورے کیے جائیں گے اور انصاف کے اصولوں کو ہر صورت مقدم رکھا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ ڈیانا زیادتی کیس کا معاملہ کافی عرصے سے زیر بحث ہے اور اس حوالے سے پولیس کی جانب سے تفتیش کا عمل جاری ہے۔ ملزم کی جانب سے ضمانت کی درخواست پر عدالت نے گزشتہ سماعتوں میں بھی فریقین کو نوٹس جاری کیے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کیس کے حوالے سے عوامی حلقوں میں بھی گہری دلچسپی پائی جاتی ہے۔ عدالتی ذرائع کے مطابق کیس کی تفتیش میں پیش رفت کے ساتھ ساتھ قانونی ٹیمیں اپنے شواہد کو حتمی شکل دے رہی ہیں تاکہ مقدمے کو منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملزم کے وکلاء نے عدالت کے روبرو موقف اختیار کیا کہ ان کے موکل پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں اور وہ تفتیش میں مکمل تعاون کر رہے ہیں۔ دوسری جانب استغاثہ نے ملزم کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے سماعت کے اختتام پر واضح کیا کہ 27 اکتوبر کو ہونے والی اگلی پیشی پر کیس کے اہم نکات پر بحث ہوگی۔ عدالت نے تمام متعلقہ افراد کو ہدایت کی ہے کہ وہ مقررہ تاریخ پر پیش ہوں تاکہ مقدمے کی مزید کارروائی کو آگے بڑھایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کیس میں انصاف کی فراہمی کے لیے عدالتی نظام پوری طرح متحرک ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ضمانت کے معاملات میں عدالتیں شواہد کی روشنی میں ہی فیصلہ کرتی ہیں اور موجودہ صورتحال میں 27 اکتوبر کی تاریخ انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس حکام کا کہنا ہے کہ وہ کیس کے ہر پہلو کی باریک بینی سے جانچ کر رہے ہیں۔ تفتیشی ٹیمیں ڈی این اے رپورٹس اور دیگر فرانزک شواہد کا جائزہ لے رہی ہیں تاکہ ملزم کے خلاف کیس کو مضبوط بنایا جا سکے اور متاثرہ فریق کو انصاف مل سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈیانا زیادتی کیس کے حوالے سے میڈیا میں بھی مختلف خبریں گردش کرتی رہی ہیں تاہم عدالت نے تمام فریقین کو ہدایت کی ہے کہ وہ عدالتی کارروائی کے دوران نظم و ضبط کا خیال رکھیں۔ کیس کی سماعت کے دوران وکلاء کے درمیان بھی تلخ کلامی سے گریز کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے اپنے حکم نامے میں کہا ہے کہ ملزم کی عبوری ضمانت میں توسیع کا مقصد صرف قانونی عمل کو مکمل کرنا ہے۔ عدالت کسی بھی قسم کے دباؤ کے بغیر اپنے فرائض سرانجام دے رہی ہے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئندہ سماعت پر عدالت کی جانب سے کیس کے حوالے سے مزید احکامات متوقع ہیں۔ ملزم کے وکلاء نے امید ظاہر کی ہے کہ ان کے موکل کو انصاف ملے گا جبکہ استغاثہ کا اصرار ہے کہ قانون اپنا راستہ خود بنائے گا اور مجرم کو سزا ملے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی کارروائی کے بعد ملزم کو سخت سیکیورٹی میں واپس لے جایا گیا۔ کیس کی اگلی سماعت پر اب سب کی نظریں عدالت کے فیصلے پر مرکوز ہیں کہ آیا ملزم کی ضمانت میں مزید توسیع ہوگی یا عدالت کوئی نیا حکم جاری کرے گی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/courts/%da%88%db%8c%d8%a7%d9%86%d8%a7-%d8%b2%db%8c%d8%a7%d8%af%d8%aa%db%8c-%da%a9%db%8c%d8%b3-%d9%85%d9%84%d8%b2%d9%85-%d8%aa%d9%86%d9%88%db%8c%d8%b1-%da%a9%db%8c-%d8%b9%d8%a8%d9%88%d8%b1%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ملتان: شوہر اور بچوں کے ہمراہ سفر کرنے والی خاتون سے زیادتی کا واقعہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/crime/%d9%85%d9%84%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%b4%d9%88%db%81%d8%b1-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a8%da%86%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%db%81%d9%85%d8%b1%d8%a7%db%81-%d8%b3%d9%81%d8%b1-%da%a9%d8%b1%d9%86%db%92/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/crime/%d9%85%d9%84%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%b4%d9%88%db%81%d8%b1-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a8%da%86%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%db%81%d9%85%d8%b1%d8%a7%db%81-%d8%b3%d9%81%d8%b1-%da%a9%d8%b1%d9%86%db%92/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Oct 2026 19:56:33 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[جرم و سزا]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[انصاف]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[تفتیش]]></category>
		<category><![CDATA[جرائم]]></category>
		<category><![CDATA[جرم_و_سزا]]></category>
		<category><![CDATA[خاتون]]></category>
		<category><![CDATA[خواتین_کی_حفاظت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[زیادتی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/crime/%d9%85%d9%84%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%b4%d9%88%db%81%d8%b1-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a8%da%86%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%db%81%d9%85%d8%b1%d8%a7%db%81-%d8%b3%d9%81%d8%b1-%da%a9%d8%b1%d9%86%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[ملتان میں موٹر سائیکل سوار فیملی کو اسلحہ کے زور پر روک کر خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، پولیس نے مقدمہ درج کر لیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ملتان میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں اپنے شوہر اور کمسن بچوں کے ہمراہ سفر کرنے والی ایک خاتون کو نامعلوم مسلح افراد نے مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا ہے۔ متاثرہ خاندان رات کے وقت ایک تقریب سے واپس گھر لوٹ رہا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متاثرہ خاتون کے شوہر کی جانب سے پولیس کو دی گئی ابتدائی رپورٹ کے مطابق وہ اپنے کزن کے بیٹے کی سالگرہ کی تقریب میں شرکت کے بعد رات گیارہ بجے کے قریب موٹر سائیکل پر سوار ہو کر اپنے گھر کی جانب واپس جا رہے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">راستے میں تین مسلح افراد نے موٹر سائیکل کو روک لیا اور اسلحہ کے زور پر خاندان کو یرغمال بنا لیا۔ ملزمان نے شوہر اور بچوں پر اسلحہ تان کر انہیں خوفزدہ کیا تاکہ وہ مزاحمت نہ کر سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متاثرہ شخص کے بیان کے مطابق، ملزمان میں سے ایک شخص خاتون کو زبردستی سڑک سے نیچے درختوں کی جانب لے گیا اور وہاں اسے زیادتی کا نشانہ بنایا۔ واقعہ کے بعد ملزمان موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس نے متاثرہ خاتون کے شوہر کی مدعیت میں تین نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں اور علاقے کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس گھنونی واردات کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے اور شہریوں کی جانب سے ملزمان کی فوری گرفتاری اور سخت سزا کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ پولیس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے بھی اس واقعے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ متاثرہ خاندان کو انصاف مل سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس حکام کے مطابق تفتیش کے دوران مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور جلد ہی ملزمان تک پہنچنے کی کوشش کی جائے گی۔ اس ضمن میں علاقے کے مشکوک افراد سے بھی پوچھ گچھ کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خواتین کی حفاظت اور سڑکوں پر سفر کے دوران سیکیورٹی کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ رات کے اوقات میں سڑکوں پر گشت بڑھایا جانا چاہیے تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعہ کی رپورٹ درج ہونے کے بعد پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے ہیں اور فرانزک ٹیموں کی مدد بھی حاصل کی جا رہی ہے۔ تفتیشی افسر کا کہنا ہے کہ جلد اہم پیش رفت متوقع ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملتان پولیس کے اعلیٰ افسران نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ملزمان کی گرفتاری کے لیے خصوصی ہدایات جاری کی ہیں۔ پولیس کی جانب سے عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ اگر انہیں اس بارے میں کوئی معلومات ہوں تو فوری طور پر اطلاع دیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خاتون کے طبی معائنے کے لیے بھی کارروائی مکمل کی جا رہی ہے تاکہ قانونی تقاضوں کو پورا کیا جا سکے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا اور انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس طرح کے واقعات معاشرے کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہیں اور ان کے تدارک کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/crime/%d9%85%d9%84%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%b4%d9%88%db%81%d8%b1-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a8%da%86%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%db%81%d9%85%d8%b1%d8%a7%db%81-%d8%b3%d9%81%d8%b1-%da%a9%d8%b1%d9%86%db%92/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پیٹرول پمپ ملازم پر تشدد، مریم نواز نے ملزم کی گرفتاری کی ویڈیو شیئر کر دی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/lahore/%d9%be%db%8c%d9%b9%d8%b1%d9%88%d9%84-%d9%be%d9%85%d9%be-%d9%85%d9%84%d8%a7%d8%b2%d9%85-%d9%be%d8%b1-%d8%aa%d8%b4%d8%af%d8%af-%d9%85%d8%b1%db%8c%d9%85-%d9%86%d9%88%d8%a7%d8%b2-%d9%86%db%92/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/lahore/%d9%be%db%8c%d9%b9%d8%b1%d9%88%d9%84-%d9%be%d9%85%d9%be-%d9%85%d9%84%d8%a7%d8%b2%d9%85-%d9%be%d8%b1-%d8%aa%d8%b4%d8%af%d8%af-%d9%85%d8%b1%db%8c%d9%85-%d9%86%d9%88%d8%a7%d8%b2-%d9%86%db%92/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Oct 2026 17:57:38 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[انصاف]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹرول_پمپ_ملازم]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[تشدد_کا_واقعہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%db%8c%d9%b9%d8%b1%d9%88%d9%84-%d9%be%d9%85%d9%be-%d9%85%d9%84%d8%a7%d8%b2%d9%85-%d9%be%d8%b1-%d8%aa%d8%b4%d8%af%d8%af-%d9%85%d8%b1%db%8c%d9%85-%d9%86%d9%88%d8%a7%d8%b2-%d9%86%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا ہے کہ دولت اور طاقت کے بل بوتے پر قانون سے بچ نکلنے کا کوئی حق نہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے سوشل میڈیا پر ایک اہم ویڈیو شیئر کی ہے جس میں پیٹرول پمپ کے غریب ملازم پر تشدد کرنے والے مبینہ بااثر شخص کو قانون کی گرفت میں لائے جانے کے بعد کا منظر دکھایا گیا ہے۔ اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد صوبائی سطح پر قانون کی عملداری اور انصاف کے حصول کے حوالے سے بحث کا آغاز ہو چکا ہے، اور انتظامیہ کی کارروائی کو سراہا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شیئر کی گئی ویڈیو کلپ میں ملزم کو پولیس تحویل میں دیکھا جا سکتا ہے جہاں اس دوران مبینہ طور پر متاثرہ ملازم کی جانب سے اسے تھپڑ مارے جانے کا واقعہ بھی سامنے آیا۔ اس واقعے نے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے جہاں عام شہریوں کی جانب سے کمزور طبقے کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایسے اقدامات کو ضروری قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مریم نواز نے اپنے جاری کردہ بیان میں اس واقعے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے مغرور اور بگڑے ہوئے عناصر کے منہ پر زور دار طمانچہ قرار دیا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ معاشرے میں اس قسم کے رویوں کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا جہاں مالی طاقت کے بل بوتے پر قانون کی دھجیاں اڑائی جائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعلیٰ پنجاب نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ جو لوگ اپنے آپ کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں اور غریبوں کو کمتر خیال کرتے ہیں، انہیں اب قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے عناصر جو یہ سوچتے ہیں کہ وہ دولت اور اثرو رسوخ کی وجہ سے ہر جرم سے بچ نکلیں گے، ان کی یہ خام خیالی اب ختم ہو چکی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ریاست اور حکومت کی یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے کے کمزور اور پسے ہوئے طبقے کے حقوق کا تحفظ کرے اور ظالم کو اس کے انجام تک پہنچائے۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں اور کسی بھی بااثر شخص کو قانون کی گرفت سے بچنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتی ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب نے اس واقعے کا سختی سے نوٹس لیا تھا جس کے بعد متعلقہ اداروں نے فوری طور پر کارروائی عمل میں لاتے ہوئے ملزم کو حراست میں لیا۔ اس بروقت کارروائی کا مقصد عامتہ الناس میں یہ واضح پیغام دینا ہے کہ ریاست ہر شہری کی عزت اور جان و مال کے تحفظ کی ضامن ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مریم نواز نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ خود اس بات کی نگرانی کر رہی ہیں کہ کمزوروں پر ظلم کرنے والوں کو ان کے انجام تک پہنچایا جائے تاکہ آئندہ کوئی بھی شخص قانون شکنی کی جرات نہ کر سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ طاقت کے نشے میں دھت لوگوں کو یہ جان لینا چاہیے کہ قانون کا ہاتھ سب سے طویل اور مضبوط ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عوامی حلقوں اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے وزیراعلیٰ پنجاب کے اس اقدام اور دوٹوک مؤقف کو انتہائی زبردست الفاظ میں سراہا جا رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے سخت اقدامات سے معاشرے میں قانون کا احترام بحال ہوگا اور عام آدمی کا ریاستی اداروں پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پنجاب حکومت کے اس ایکشن کے بعد پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ عام شہریوں بالخصوص محنت کش طبقے پر تشدد کے واقعات کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر سختی سے عمل درآمد کریں۔ اس واقعے نے ایک بار پھر اس امر کو اجاگر کیا ہے کہ قانون کی بالادستی کے بغیر ایک پرامن معاشرے کا قیام ممکن نہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مظلوم ملازم اور اس کے اہل خانہ کو انصاف کی فراہمی کے لیے ضلعی انتظامیہ بھی متحرک ہو چکی ہے اور قانونی تقاضے پورے کیے جا رہے ہیں۔ حکومت کا یہ واضح مؤقف ہے کہ غریب عوام کے ساتھ کھڑے ہونا اور ان کے حقوق کا دفاع کرنا ریاست کا اولین فریضہ ہے جسے ہر قیمت پر پورا کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعے کے بعد پولیس حکام کا کہنا ہے کہ قانون توڑنے والوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا اور کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ متاثرہ ملازم کو انصاف دلانے کے لیے تمام ضروری قانونی کارروائی تیزی سے جاری ہے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/lahore/%d9%be%db%8c%d9%b9%d8%b1%d9%88%d9%84-%d9%be%d9%85%d9%be-%d9%85%d9%84%d8%a7%d8%b2%d9%85-%d9%be%d8%b1-%d8%aa%d8%b4%d8%af%d8%af-%d9%85%d8%b1%db%8c%d9%85-%d9%86%d9%88%d8%a7%d8%b2-%d9%86%db%92/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پتنگ بازی کیس: لاہور ہائیکورٹ نے ایس پی شیخوپورہ کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/courts/%d9%be%d8%aa%d9%86%da%af-%d8%a8%d8%a7%d8%b2%db%8c-%da%a9%db%8c%d8%b3-%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%db%81%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%b9-%d9%86%db%92-%d8%a7%db%8c%d8%b3/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/courts/%d9%be%d8%aa%d9%86%da%af-%d8%a8%d8%a7%d8%b2%db%8c-%da%a9%db%8c%d8%b3-%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%db%81%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%b9-%d9%86%db%92-%d8%a7%db%8c%d8%b3/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Oct 2026 08:37:37 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[انصاف]]></category>
		<category><![CDATA[ایس_پی_شیخوپورہ]]></category>
		<category><![CDATA[پتنگ_بازی]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[توہین_عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[شیخوپورہ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%d8%aa%d9%86%da%af-%d8%a8%d8%a7%d8%b2%db%8c-%da%a9%db%8c%d8%b3-%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%db%81%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%b9-%d9%86%db%92-%d8%a7%db%8c%d8%b3/</guid>

					<description><![CDATA[لاہور ہائیکورٹ نے شہری کے کریانہ سٹور سے پولیس کی جانب سے مبینہ طور پر رقم لے جانے کے معاملے پر توہین عدالت کی درخواست پر ایس پی شیخوپورہ کو 29 اکتوبر کو طلب کیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">لاہور ہائیکورٹ نے پتنگ بازی کے ایک پرانے مقدمے میں ملوث نوجوان کے کریانہ سٹور سے ساٹھ ہزار روپے مبینہ طور پر لے جانے کے معاملے پر توہین عدالت کی درخواست کی سماعت کی۔ عدالت نے ایس پی شیخوپورہ غلام عباس کو 29 اکتوبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جسٹس شہرام سرور چوہدری نے شہری محمد اشرف کی جانب سے دائر کردہ توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کے روبرو مؤقف اختیار کیا کہ ان کے موکل کے بیٹے کے خلاف تھانہ صدر فاروق آباد میں پتنگ بازی کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مقدمے کی کارروائی کے دوران پولیس اہلکار درخواست گزار کے کریانہ سٹور پر پہنچے اور وہاں سے ساٹھ ہزار روپے کی نقدی مبینہ طور پر اپنے ساتھ لے گئے۔ انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ مذکورہ مقدمہ اب خارج ہو چکا ہے اور درخواست گزار کا بیٹا بری ہو چکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">درخواست گزار کا کہنا ہے کہ مقدمے سے بریت اور ایف آئی آر کے خاتمے کے باوجود پولیس اہلکاروں کی جانب سے لی گئی رقم تاحال واپس نہیں کی گئی ہے۔ اس معاملے پر انصاف کے حصول کے لیے متعلقہ حکام سے بھی بارہا رجوع کیا گیا تھا مگر کوئی شنوائی نہ ہو سکی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وکیل نے عدالت کو مزید بتایا کہ اس سے قبل بھی لاہور ہائیکورٹ نے ڈی پی او شیخوپورہ کو قانون کے مطابق کارروائی کرنے کی واضح ہدایت کی تھی، تاہم عدالتی حکم کے باوجود تاحال اس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا جو کہ توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ عدالتی احکامات کی مسلسل خلاف ورزی کرنے پر متعلقہ پولیس افسران کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ عدالت نے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد ایس پی شیخوپورہ کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت میں پیش کردہ دستاویزات کے مطابق، یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب پولیس نے پتنگ بازی کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران درخواست گزار کے بیٹے کو نامزد کیا تھا۔ اس دوران پولیس کی جانب سے سٹور سے رقم اٹھانے کا الزام لگایا گیا جو کہ ایک سنگین معاملہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قانونی ماہرین کے مطابق، کسی بھی مقدمے کے دوران پولیس کی جانب سے کسی شہری کی نجی ملکیت یا نقدی کو قبضے میں لینے کے لیے قانونی ضابطہ کار کا ہونا ضروری ہے۔ اگر رقم بغیر رسید یا قانونی جواز کے لی گئی ہے تو یہ محکمہ پولیس کے لیے سوالیہ نشان ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے اس معاملے پر پولیس کے اعلیٰ حکام کو بھی درخواستیں دی تھیں لیکن کسی نے بھی ان کی دادرسی نہیں کی۔ اس مایوسی کے بعد ہی انہوں نے دوبارہ لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ انصاف مل سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے کیس کی سماعت کے دوران پولیس کے رویے پر برہمی کا اظہار کیا اور ایس پی شیخوپورہ کو طلب کر کے معاملے کی وضاحت مانگی ہے۔ اب 29 اکتوبر کو ہونے والی سماعت میں پولیس حکام کو اپنا مؤقف پیش کرنا ہوگا کہ رقم کیوں واپس نہیں کی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پتنگ بازی کے خلاف پنجاب بھر میں پولیس کی جانب سے مہم جاری رہتی ہے، تاہم اس دوران شہریوں کی جانب سے پولیس کے غیر قانونی اقدامات یا بدسلوکی کی شکایات بھی سامنے آتی رہتی ہیں۔ عدالتیں ایسے معاملات میں شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحرک رہتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ معاملہ اس وقت مزید اہمیت اختیار کر گیا جب عدالتی حکم کے باوجود ڈی پی او آفس کی جانب سے کارروائی نہ کی گئی۔ توہین عدالت کی کارروائی کا مقصد عدالتی احکامات کی پاسداری کو یقینی بنانا ہے تاکہ کسی بھی شہری کے ساتھ نا انصافی نہ ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اب تمام تر نظریں 29 اکتوبر کی سماعت پر مرکوز ہیں جہاں ایس پی شیخوپورہ غلام عباس عدالت میں پیش ہو کر اس معاملے پر جواب دیں گے۔ عدالت کا فیصلہ اس بات کا تعین کرے گا کہ آیا پولیس اہلکاروں کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جائے گی یا نہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/courts/%d9%be%d8%aa%d9%86%da%af-%d8%a8%d8%a7%d8%b2%db%8c-%da%a9%db%8c%d8%b3-%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%db%81%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%b9-%d9%86%db%92-%d8%a7%db%8c%d8%b3/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>عدالتی نظام کی بہتری کیلئے حکومت اور عدلیہ مل کر لائحہ عمل بنائیں، سعد رفیق</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/%d8%b9%d8%af%d8%a7%d9%84%d8%aa%db%8c-%d9%86%d8%b8%d8%a7%d9%85-%da%a9%db%8c-%d8%a8%db%81%d8%aa%d8%b1%db%8c-%da%a9%db%8c%d9%84%d8%a6%db%92-%d8%ad%da%a9%d9%88%d9%85%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/%d8%b9%d8%af%d8%a7%d9%84%d8%aa%db%8c-%d9%86%d8%b8%d8%a7%d9%85-%da%a9%db%8c-%d8%a8%db%81%d8%aa%d8%b1%db%8c-%da%a9%db%8c%d9%84%d8%a6%db%92-%d8%ad%da%a9%d9%88%d9%85%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Oct 2026 04:36:41 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[انصاف]]></category>
		<category><![CDATA[حکومت_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[خواجہ_سعد_رفیق]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالتی_اصلاحات]]></category>
		<category><![CDATA[عدالتی_نظام]]></category>
		<category><![CDATA[عدلیہ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قانون_کی_حکمرانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%b9%d8%af%d8%a7%d9%84%d8%aa%db%8c-%d9%86%d8%b8%d8%a7%d9%85-%da%a9%db%8c-%d8%a8%db%81%d8%aa%d8%b1%db%8c-%da%a9%db%8c%d9%84%d8%a6%db%92-%d8%ad%da%a9%d9%88%d9%85%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1/</guid>

					<description><![CDATA[سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ ملک میں انصاف کی فراہمی میں تاخیر کے باعث صورتحال تشویشناک ہو رہی ہے اور اصلاحات ناگزیر ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے ملک میں عدالتی نظام کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ سنگین نوعیت کے مقدمات میں فوری انصاف کی فراہمی یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایک بیان میں خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ حکومت اور عدلیہ کو مل کر ایک ایسا جامع لائحہ عمل مرتب کرنا چاہیے جس سے انصاف کے عمل میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے اور عوام کو بروقت فیصلے مل سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک مشترکہ ذمہ داری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے مزید کہا کہ سنگین جرائم میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لانا ریاستی اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے، جبکہ ان ملزمان کے شفاف اور فوری عدالتی ٹرائل کے ذریعے انہیں سزا دلوانا عدلیہ کا کام ہے جس میں تاخیر کا کوئی جواز نہیں بنتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعد رفیق کا کہنا تھا کہ پاکستان میں نظام عدل کے بریک ڈاؤن کی کیفیت پیدا ہو چکی ہے، جس کے نتیجے میں عام آدمی کو انصاف کی فراہمی میں غیر معمولی تاخیر کا سامنا ہے اور متاثرہ فریقین کو نہ تو شنوائی مل رہی ہے اور نہ ہی انہیں تحفظ حاصل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سابق وفاقی وزیر نے خبردار کیا کہ اگر انصاف کی فراہمی کا نظام درست نہ ہوا تو قانون نافذ کرنے والے ادارے ازخود عدالتی کردار سنبھال لیں گے، جو کہ معاشرتی استحکام اور قانون کی بالادستی کے لیے کسی صورت مناسب نہیں اور اس کے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے کہا کہ عدالتی عمل کے بغیر سزاؤں کا رجحان معمول بنتا جا رہا ہے، اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو کوئی بھی شخص اس سے محفوظ نہیں رہے گا اور معاشرے میں افراتفری اور بے یقینی کی کیفیت پھیلنے کا شدید خدشہ پیدا ہو جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خواجہ سعد رفیق نے مزید کہا کہ اگر مؤثر نظام عدل قائم نہ کیا گیا تو طاقتور افراد کے ہاتھ میں قانون آ جائے گا اور لوگ گلیوں، چوراہوں اور بازاروں میں اپنی عدالتیں لگانے پر مجبور ہو جائیں گے، جس سے بچنا ریاست کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے زور دیا کہ ریاستی اداروں کو اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیے تاکہ ملک میں قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جا سکے اور عوام کا عدالتی نظام پر اعتماد بحال ہو سکے، جو کہ ایک مستحکم معاشرے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعد رفیق نے اس بات پر بھی زور دیا کہ قتل جیسے سنگین مقدمات میں جب پیشگی منصوبہ بندی ثابت نہ ہونے پر سزائیں ختم یا تبدیل ہوتی ہیں تو یہ عدالتی کارکردگی اور تفتیشی عمل پر بھی سوالات اٹھاتا ہے، جس کے لیے اصلاحات کی فوری ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے کہا کہ انصاف کا بروقت حصول ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور اس حق کی فراہمی میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں ہونی چاہیے تاکہ ملک میں امن و امان کی صورتحال بہتر رہے اور معاشرتی انصاف کا بول بالا ہو سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاسی رہنما نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عدلیہ کے ساتھ مل کر عدالتی اصلاحات کے لیے ٹھوس اور عملی اقدامات کرے تاکہ زیر التواء مقدمات کے انبار کو ختم کیا جا سکے اور سائلین کو انصاف کے لیے برسوں انتظار نہ کرنا پڑے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال میں عدلیہ اور حکومت کا باہمی تعاون ہی واحد راستہ ہے جس سے نظام انصاف کی ساکھ کو بحال کیا جا سکتا ہے اور عوام کے اندر پائی جانے والی مایوسی کو ختم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں انہوں نے کہا کہ قوم کو ایک ایسے نظام کی ضرورت ہے جہاں قانون سب کے لیے برابر ہو، طاقتور اور کمزور کے لیے الگ معیار نہ ہو اور انصاف کے حصول کے لیے کسی کو بھی طویل اور تکلیف دہ انتظار نہ کرنا پڑے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/%d8%b9%d8%af%d8%a7%d9%84%d8%aa%db%8c-%d9%86%d8%b8%d8%a7%d9%85-%da%a9%db%8c-%d8%a8%db%81%d8%aa%d8%b1%db%8c-%da%a9%db%8c%d9%84%d8%a6%db%92-%d8%ad%da%a9%d9%88%d9%85%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>وفاقی جوڈیشل اکیڈمی میں بچوں کے لیے ماڈل چائلڈ کورٹ کا قیام</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%88%d9%81%d8%a7%d9%82%db%8c-%d8%ac%d9%88%da%88%db%8c%d8%b4%d9%84-%d8%a7%da%a9%db%8c%da%88%d9%85%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a8%da%86%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d9%84%db%8c%db%92/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%88%d9%81%d8%a7%d9%82%db%8c-%d8%ac%d9%88%da%88%db%8c%d8%b4%d9%84-%d8%a7%da%a9%db%8c%da%88%d9%85%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a8%da%86%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d9%84%db%8c%db%92/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 22 Oct 2026 22:36:47 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[انصاف]]></category>
		<category><![CDATA[بچوں_کے_حقوق]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سماجی_بہبود]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قانون]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%88%d9%81%d8%a7%d9%82%db%8c-%d8%ac%d9%88%da%88%db%8c%d8%b4%d9%84-%d8%a7%da%a9%db%8c%da%88%d9%85%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a8%da%86%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d9%84%db%8c%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[اسلام آباد میں بچوں کو دوستانہ اور محفوظ عدالتی ماحول فراہم کرنے کے لیے خصوصی مرکز کا افتتاح کر دیا گیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد میں واقع وفاقی جوڈیشل اکیڈمی میں بچوں کے حقوق کے تحفظ اور انہیں انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے &#039;ماڈل چائلڈ کورٹ&#039; اور &#039;انٹرایکٹو ریسورس سینٹر&#039; کا باقاعدہ افتتاح کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس خصوصی منصوبے کو وفاقی جوڈیشل اکیڈمی، یونیسیف اور گروپ ڈیولپمنٹ پاکستان کے باہمی تعاون سے مکمل کیا گیا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد عدالتی نظام میں بچوں کے لیے دوستانہ طریقہ کار کو فروغ دینا اور ان کے بہترین مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">افتتاحی تقریب کے موقع پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے خصوصی شرکت کی اور اس مرکز کے قیام کو بچوں کے حقوق کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ بچوں کو بروقت اور منصفانہ انصاف کی فراہمی ریاست کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماڈل چائلڈ کورٹ کا قیام یونیسیف کے اس وسیع تر پروگرام کا حصہ ہے جس کا مقصد پاکستان میں بچوں کے لیے انصاف کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔ یہ مرکز بچوں کو عدالتوں میں پیشی کے دوران ایک ایسا ماحول فراہم کرے گا جو ان کی نفسیاتی ضروریات کے مطابق ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انٹرایکٹو ریسورس سینٹر کے قیام سے عدالتی عملے، وکلاء اور متعلقہ حکام کو بچوں کے حقوق سے متعلق جدید تربیت اور وسائل تک رسائی حاصل ہوگی۔ اس مرکز میں بچوں کے لیے قانونی معاونت اور مشاورت کے لیے جدید سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کا کہنا ہے کہ روایتی عدالتی نظام اکثر بچوں کے لیے خوف اور دباؤ کا باعث بنتا ہے، جس سے ان کی گواہی یا کیس پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ ماڈل چائلڈ کورٹ کا ماحول بچوں کو اعتماد کے ساتھ اپنی بات کہنے کا موقع فراہم کرے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی جوڈیشل اکیڈمی میں قائم یہ سہولت بچوں کے تحفظ کے قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔ اس اقدام سے بچوں کے خلاف ہونے والے جرائم اور ان سے متعلقہ قانونی تنازعات کے حل میں شفافیت آئے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یونیسیف کے نمائندوں نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان میں بچوں کے لیے دوستانہ عدالتی نظام کا قیام ایک دیرینہ ضرورت تھی، جس کے لیے وفاقی جوڈیشل اکیڈمی کا کردار قابل تعریف ہے۔ اس مرکز کے ذریعے بچوں کے مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گروپ ڈیولپمنٹ پاکستان کے تعاون سے اس سینٹر میں بچوں کی نفسیاتی بحالی اور انہیں سماجی تحفظ فراہم کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔ یہ مرکز بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک ماڈل کے طور پر کام کرے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تقریب میں عدلیہ کے اعلیٰ حکام، قانونی ماہرین اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ شرکاء نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ ماڈل دیگر شہروں میں بھی متعارف کرایا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی جوڈیشل اکیڈمی اس مرکز کے ذریعے ججوں اور عدالتی افسران کو بچوں کے مقدمات نمٹانے کے لیے خصوصی تربیت بھی فراہم کرے گی۔ اس سے عدالتی فیصلوں میں بچوں کے حقوق کے تحفظ کو مزید مستحکم کیا جا سکے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت پاکستان بچوں کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی معیارات کے مطابق قوانین سازی پر توجہ دے رہی ہے۔ ماڈل چائلڈ کورٹ اسی عزم کا عملی اظہار ہے تاکہ بچوں کو ایک محفوظ اور انصاف پر مبنی معاشرہ فراہم کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس مرکز کے قیام سے نہ صرف بچوں کے قانونی مسائل حل ہوں گے بلکہ ان کے مستقبل کو بہتر بنانے میں بھی مدد ملے گی۔ یہ اقدام پاکستان میں بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک نئی تاریخ رقم کرے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%88%d9%81%d8%a7%d9%82%db%8c-%d8%ac%d9%88%da%88%db%8c%d8%b4%d9%84-%d8%a7%da%a9%db%8c%da%88%d9%85%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a8%da%86%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d9%84%db%8c%db%92/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
