<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>انسداد_دہشت_گردی_عدالت &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%af%d8%a7%d8%af_%d8%af%db%81%d8%b4%d8%aa_%da%af%d8%b1%d8%af%db%8c_%d8%b9%d8%af%d8%a7%d9%84%d8%aa/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Tue, 03 Nov 2026 12:44:56 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>انسداد_دہشت_گردی_عدالت &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>پولیس سے جھگڑے کا کیس: ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی ضمانت منظور</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/courts/4845/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/courts/4845/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 03 Nov 2026 12:44:56 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[ابوالحسنات_محمد_ذوالقرنین]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[انسداد_دہشت_گردی_عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[ایمان_مزاری]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ضمانت]]></category>
		<category><![CDATA[علی_آزاد]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[ہادی_علی_چٹھہ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/courts/4845/</guid>

					<description><![CDATA[انسداد دہشت گردی عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی پانچ، پانچ ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت میں پولیس سے جھگڑے کے مقدمے کی اہم سماعت ہوئی جس دوران عدالت نے ملزمان کی درخواستِ ضمانت پر اپنا فیصلہ سنا دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے اس مقدمے کی باقاعدہ سماعت کی اور عدالتی کارروائی کو آگے بڑھایا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سماعت کے دوران پولیس کی جانب سے مقدمے کا مطلوبہ ریکارڈ آخر کار عدالت میں پیش کر دیا گیا جسے جج کے سامنے رکھا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ریاستی وکیل علی آزاد نے عدالت کو آگاہ کیا کہ متعلقہ ریکارڈ آج عدالت میں پیش کر دیا گیا ہے جس پر کارروائی کی جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس کی طرف سے ریکارڈ پیش کیے جانے پر عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے اپنے ریمارکس میں سخت برہمی کا اظہار کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین کا کہنا تھا کہ اگر آج بھی ریکارڈ عدالت میں پیش نہ کیا جاتا تو پھر اس کے نتائج سے آگاہ کیا جاتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے کارروائی کے دوران ملزمان کے وکلا سے استفسار کیا کہ اس معاملے کے حوالے سے انہوں نے کچھ مزید کہنا ہے یا نہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملزمان کے وکلا سے پوچھنے کے فوری بعد جج نے خود ہی کہا کہ اب مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے اور فیصلہ سنا دیا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انسداد دہشت گردی عدالت نے تمام قانونی پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ضمانت منظور کرنے کا حکم دے دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت کی جانب سے منظور کی جانے والی ضمانت کے لیے پانچ، پانچ ہزار روپے کے مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے اس مقدمے کی کارروائی کے دوران پولیس کو شوکاز نوٹس سے متعلقہ معاملے پر بھی غور کرنے اور اسے دیکھنے کی ہدایت کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مذکورہ بالا قانونی کارروائی اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت میں انجام پائی جہاں فریقین کے وکلا اور نمائندے موجود تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ اس سے قبل ہونے والی مختلف سماعتوں میں پولیس کی جانب سے ریکارڈ پیش نہ کیے جانے کی وجہ سے کیس میں التوا آ رہا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے ریکارڈ کی عدم دستیابی پر ماضی میں بھی سخت برہمی کا اظہار کیا تھا اور آج ریکارڈ آنے پر کارروائی مکمل کی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ریاستی وکیل علی آزاد نے عدالت کے اندر ریکارڈ پیش کیے جانے کی تصدیق کی جس کے بعد ضمانت کا یہ فیصلہ سامنے آیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت کی جانب سے جاری کردہ حکم کے مطابق دونوں ملزمان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مقررہ ضمانتی مچلکے عدالت میں جمع کروائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس قانونی کارروائی کے دوران عدالت کے اندر سیکیورٹی اور دیگر انتظامی امور معمول کے مطابق جاری رہے اور عدالتی عملہ موجود رہا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آنے والے دنوں میں اس مقدمے کی مزید کارروائی عدالتی احکامات کی روشنی میں آگے بڑھائی جائے گی جس کی تفصیلات بعد میں سامنے آئیں گی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/courts/4845/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>کار سرکار میں مداخلت کیس: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو 10، 10 سال قید کی سزا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/3171/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/3171/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 29 Oct 2026 10:14:17 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اڈیالہ_جیل]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[انسداد_دہشت_گردی_عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[ایمان_مزاری]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_کرکٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[سیکیورٹی_روٹ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%da%a9%d8%a7%d8%b1-%d8%b3%d8%b1%da%a9%d8%a7%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%d8%af%d8%a7%d8%ae%d9%84%d8%aa-%da%a9%db%8c%d8%b3-%d8%a7%db%8c%d9%85%d8%a7%d9%86-%d9%85%d8%b2%d8%a7%d8%b1%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[انسداد دہشت گردی عدالت نے سری لنکن کرکٹ ٹیم کے روٹ پر بیریئر ہٹانے اور پولیس سے ہاتھا پائی کے کیس میں فیصلہ سنا دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے بیریئر ہٹانے اور کار سرکار میں مداخلت کے ایک ہائی پروفائل مقدمے میں معروف وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو 10، 10 سال قید کی سزا سنا دی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے اڈیالہ جیل میں اس مقدمے کا فیصلہ محفوظ کیا تھا، جسے آج سنایا گیا۔ فیصلے کے مطابق دونوں ملزمان کو مختلف قانونی دفعات کے تحت سزائیں دی گئی ہیں جن میں قید اور جرمانے شامل ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پراسیکیوشن کے مطابق یہ واقعہ اکتوبر 2024 میں پیش آیا تھا جب سری لنکن کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان کے دوران اسلام آباد میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔ ملزمان پر الزام تھا کہ انہوں نے زیرو پوائنٹ پر وی آئی پی روٹ کے بیریئرز ہٹائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی ریکارڈ کے مطابق بیریئرز ہٹانے کے دوران ملزمان کی ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکاروں کے ساتھ تلخ کلامی اور ہاتھا پائی بھی ہوئی تھی۔ اس واقعے کے بعد تھانہ آبپارہ میں دہشت گردی اور ہنگامہ آرائی سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقدمے کی سماعت کے دوران پراسیکیوشن نے کل 7 گواہان کو عدالت میں پیش کیا، جن کے بیانات اور شواہد کی روشنی میں کیس کو آگے بڑھایا گیا۔ ملزمان کے خلاف 7 اکتوبر کو فرد جرم عائد کی گئی تھی جس کے بعد ٹرائل کا باقاعدہ آغاز ہوا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے اس کیس میں اسٹیٹ کونسل عاطف محمود کو مقرر کیا تھا جنہوں نے گواہان پر جرح مکمل کی۔ ملزمان کی جانب سے صحت جرم سے انکار کیا گیا تھا، تاہم شواہد کی بنیاد پر عدالت نے انہیں مجرم قرار دیتے ہوئے سزا کا حکم دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی فیصلے میں وضاحت کی گئی ہے کہ ملزمان کو تین مختلف دفعات کے تحت سزا دی گئی ہے۔ دہشت گردی کی دفعہ کے تحت 10 سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ، جبکہ دیگر دفعات کے تحت مزید قید اور جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے دفعہ 382 کا فائدہ دیتے ہوئے ملزمان کی مجموعی سزا کو 10 سال تک محدود رکھا ہے، جبکہ مجموعی طور پر انفرادی دفعات کے تحت یہ سزا 13 سال بنتی تھی۔ جرمانے کی مد میں بھی ملزمان کو بھاری رقم ادا کرنی ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فیصلہ سنائے جانے کے بعد عدالتی احکامات پر جیل پولیس نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ ایمان مزاری کو خواتین جیل پولیس اہلکاروں کی نگرانی میں خواتین بیرکس منتقل کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ہادی علی چٹھہ کو مرد جیل پولیس اہلکاروں نے اپنی تحویل میں لے کر جیل منتقل کیا۔ دونوں ملزمان اس مقدمے میں ضمانت پر رہا تھے، تاہم سزا کے اعلان کے بعد انہیں فوری طور پر گرفتار کر لیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واضح رہے کہ یہ مقدمہ اکتوبر 2024 میں درج کیا گیا تھا اور تب سے یہ معاملہ قانونی کارروائی کے مراحل سے گزر رہا تھا۔ آج کا فیصلہ اس طویل قانونی عمل کا حتمی نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت کی جانب سے کیس میں شفاف ٹرائل کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے اسٹیٹ کونسل کی خدمات حاصل کی گئی تھیں تاکہ قانونی کارروائی کو میرٹ پر مکمل کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فیصلے کے بعد قانونی حلقوں میں اس کیس پر بحث جاری ہے، جبکہ ملزمان کے وکلاء کی جانب سے آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں فی الحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/3171/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>سندھ ہائیکورٹ؛ بھارتی جاسوس کی سزا کیخلاف اپیل پر فیصلہ محفوظ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/courts/1580/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/courts/1580/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 20 Oct 2026 11:37:17 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[انسداد_دہشت_گردی_عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[ایس_آای_یو]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_سیکیورٹی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[جاسوسی_کیس]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[را_کا_ایجنٹ]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سندھ_ہائیکورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[عدالتی_فیصلہ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%b3%d9%86%d8%af%da%be-%db%81%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%b9-%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%b1%d8%aa%db%8c-%d8%ac%d8%a7%d8%b3%d9%88%d8%b3-%da%a9%db%8c-%d8%b3%d8%b2%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[عدالت عالیہ نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد مبینہ را ایجنٹ محمد سلیم کی اپیل پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">کراچی کی سندھ ہائیکورٹ میں ریاست کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث اور بھارت کے خفیہ ادارے کے مبینہ ایجنٹ کے خلاف دائر کردہ اپیل پر سماعت مکمل ہو گئی ہے۔ عدالت عالیہ نے اس اہم مقدمے میں تمام متعلقہ فریقین کے وکلا کے دلائل مکمل ہونے کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس سے قبل ماتحت عدلیہ کے دائرہ اختیار میں قائم کی جانے والی انسداد دہشت گردی عدالت نے ملزم محمد سلیم کو جرم ثابت ہونے پر تین مختلف مواقع پر عمر قید کی سزائیں سنائی تھیں۔ ملزم کے خلاف یہ کارروائی ریاست کی سلامتی اور امن عامہ کے امور کے تحت عمل میں لائی گئی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پراسکیوشن کے ریکارڈ اور فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق اس تمام کارروائی کا آغاز سات اکتوبر دو ہزار چوبیس کو اس وقت ہوا جب قانون نافذ کرنے والے ادارے کے خصوصی شعبے کو خفیہ اطلاع موصول ہوئی۔ یہ اطلاع کراچی کے ساحلی اور حساس علاقے منوڑا کے قریب ایک مشتبہ شخص کی موجودگی کے حوالے سے دی گئی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اطلاع ملنے کے بعد فوری طور پر حکمت عملی طے کی گئی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مذکورہ علاقے میں ناکہ بندی کرتے ہوئے تلاشی کا عمل شروع کیا۔ اس کارروائی کے دوران موٹر سائیکل پر سوار ملزم کو روکا گیا اور اس کی ذاتی تلاشی لی گئی تاکہ اس کے کوائف اور سامان کی جانچ پڑتال کی جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تلاشی کے دوران ملزم کے قبضے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے خطرناک ہتھیار اور بھاری مقدار میں بارودی مواد برآمد کیا۔ پراسکیوشن کے مطابق برآمد ہونے والے سازوسامان میں ایک پستول، تخریبی مواد، او ان بم اور انتہائی خطرناک راکٹ لانچر بھی شامل تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیقاتی اداروں اور پراسکیوشن ٹیم نے یہ نکتہ بھی عدالت کے سامنے رکھا کہ ملزم کے پاس سے دو مختلف پاسپورٹس بھی برآمد کیے گئے تھے۔ اس کے علاوہ تفتیش کے دوران یہ امر بھی عیاں ہوا کہ ملزم نے پاکستانی شہریت حاصل کرنے کے لیے غیر قانونی اور جعلسازی کے ذرائع کا استعمال کیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماتحت عدالت نے ان تمام شواہد، برآمدگیوں اور پراسکیوشن کے دلائل کو مدنظر رکھتے ہوئے ملزم محمد سلیم کو سنگین الزامات کے تحت تین بار عمر قید کی سزا کا حکم سنایا تھا۔ اس فیصلے کے خلاف ملزم کے قانونی نمائندوں نے سندھ ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی تھی تاکہ سزا کو چیلنج کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سندھ ہائیکورٹ میں ہونے والی سماعت کے دوران اپیل کی پیروی کرتے ہوئے ملزم کے وکیل صفائی نے عدالت کے روبرو اپنا دفاعی مؤقف پیش کیا۔ وکیل صفائی کا کہنا تھا کہ ان کے موکل کے خلاف ماتحت عدالت میں پیش کیے جانے والے تمام تر الزامات سراسر بے بنیاد اور من گھڑت ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وکیل صفائی نے عدالت کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ استغاثہ کی جانب سے پیش کردہ دعوؤں کے حق میں کوئی بھی ٹھوس یا ناقابل تردید ثبوت موجود نہیں ہے۔ اپنے دلائل کی روشنی میں انہوں نے عدالت عالیہ سے پرزور استدعا کی کہ ماتحت انسداد دہشت گردی عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے پراسکیوشن اور وکیل صفائی دونوں کے دلائل کو انتہائی غور و فکر کے ساتھ سننے کے بعد مقدمے کا فیصلہ محفوظ کرنے کا باضابطہ اعلان کیا۔ اب یہ توقع کی جا رہی ہے کہ عدالت اپنے مقررہ وقت پر اس حساس نوعیت کے مقدمے میں حتمی فیصلہ صادر کرے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ریاست اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق اس قسم کے عناصر ملک کے اندر بدامنی پھیلانے اور حساس تنصیبات یا مقامات کو نشانہ بنانے کے درپے ہوتے ہیں۔ اس لیے ایسے مقدمات کی سماعت انتہائی سرعت اور احتیاط کے ساتھ کی جاتی ہے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہرِ قائد میں ہونے والی اس عدالتی کارروائی پر قانونی حلقوں اور عام شہریوں کی بھی گہری نظر ہے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست ملکی سلامتی اور دفاع سے جڑا ہوا ہے۔ عدالت کا یہ آنے والا فیصلہ اس نوعیت کے آئندہ مقدمات کے لیے بھی ایک اہم قانونی مثال کی حیثیت اختیار کرے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ پراسکیوشن اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندے اس امر پر یقین رکھتے ہیں کہ انہوں نے عدالت میں جو شواہد جمع کروائے ہیں وہ ملزم کے جرم کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں۔ اب سب کی نگاہیں سندھ ہائیکورٹ کے اس فیصلے پر مرکوز ہیں جو بہت جلد سنایا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/courts/1580/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی اپیلوں پر نوٹس جاری</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/islamabad/1443/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/islamabad/1443/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 19 Oct 2026 11:56:34 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[اسلام آباد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اڈیالہ_جیل]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد_ہائیکورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[انسداد_دہشت_گردی_عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[ایمان_مزاری]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[عدالتی_کیس]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قانون]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85-%d8%a2%d8%a8%d8%a7%d8%af-%db%81%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%b9-%d8%a7%db%8c%d9%85%d8%a7%d9%86-%d9%85%d8%b2%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1/</guid>

					<description><![CDATA[عدالت عالیہ نے ٹرائل کورٹ کی کارروائی کے خلاف دائر اپیلوں پر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے معاملہ سماعت کے لیے مقرر کر دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کی جانب سے دائر کردہ اپیلوں پر سماعت کی ہے۔ یہ اپیلیں انسداد دہشت گردی عدالت کی جانب سے فرد جرم عائد کرنے اور دہشت گردی کی دفعات ختم کرنے کی درخواستیں مسترد ہونے کے خلاف دائر کی گئی تھیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت عالیہ کے جسٹس انعام امین منہاس اور جسٹس شارخ ارجمند پر مشتمل ڈویژن بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ درخواست گزاروں کی جانب سے وکلاء ریاست علی آزاد اور زینب جنجوعہ عدالت میں پیش ہوئے اور اپنے دلائل کا آغاز کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سماعت کے دوران وکیل ریاست علی آزاد نے مؤقف اختیار کیا کہ انسداد دہشت گردی عدالت نے اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کرتے ہوئے حکم جاری کیا۔ انہوں نے استدعا کی کہ ٹرائل کی بنیاد ہی غیر قانونی ہے، لہذا ٹرائل کی کارروائی کو فوری طور پر روک دیا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کو چالان کی نقول فراہم نہیں کی گئیں اور فرد جرم عائد کرتے وقت ان کی ذاتی موجودگی کو یقینی نہیں بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ فرد جرم ٹرائل کی بنیاد ہوتی ہے اور اس میں قانونی تقاضوں کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ کیا ملزمان کا ٹرائل ویڈیو لنک کے ذریعے ہو رہا ہے؟ وکیل نے جواب دیا کہ پہلے کارروائی ویڈیو لنک پر ہوتی تھی تاہم اب جیل ٹرائل شروع ہو چکا ہے اور ملزمان کو درکار دستاویزات نہیں ملیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">درخواست گزاروں کے وکیل نے یہ بھی کہا کہ فرد جرم پر ملزمان کے دستخط موجود نہیں ہیں، جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ ویڈیو لنک کے ذریعے موجودگی اور وکیل کی حاضری ریکارڈ پر موجود ہے۔ عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے قرار دیا کہ فریقین کے آنے کے بعد معاملے کو مزید تفصیل سے دیکھا جائے گا۔ اس سے قبل، انسداد دہشت گردی عدالت میں بھی کیس کی سماعت ہوئی جہاں ملزمان کی وکیل زینب جنجوعہ نے اپنا وکالت نامہ واپس لے لیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اڈیالہ جیل میں انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے کیس کی سماعت کی۔ اس موقع پر استغاثہ کے کسی بھی گواہ کا بیان ریکارڈ نہیں کیا جا سکا، جس کے بعد عدالت نے سماعت 20 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ پر بیریئر ہٹانے اور کارسرکار میں مداخلت کے الزامات کے تحت مقدمہ درج ہے۔ ملزمان کی جانب سے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے قانونی چارہ جوئی کا عمل جاری رکھا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت عالیہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹس کے بعد اب آئندہ سماعت پر فریقین اپنے دلائل پیش کریں گے۔ قانونی ماہرین کے مطابق ٹرائل کورٹ کی کارروائی اور قانونی نکات پر ہائیکورٹ کا فیصلہ کیس کے مستقبل کا تعین کرے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملزمان کے وکلاء کا یہ بھی کہنا ہے کہ نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کے فیصلوں کی روشنی میں ٹرائل کا طریقہ کار شفاف ہونا چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کیس کی ویڈیو ریکارڈنگ منگوائی جائے تاکہ حقائق واضح ہو سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی کارروائی کے دوران سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف درج اس مقدمے میں انسداد دہشت گردی کی دفعات شامل ہونے پر دفاعی وکلاء نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کی سماعت کے حوالے سے مزید احکامات جاری کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ عدالتی عمل کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ملزمان کو شفاف ٹرائل کا حق حاصل ہو اور قانونی تقاضے پورے کیے جائیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/islamabad/1443/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ایمان مزاری اور ہادی چھٹہ کیس: آئی جی اسلام آباد طلب، ایس پی اور ڈی ایس پی کو نوٹس</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/courts/1092/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/courts/1092/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 17 Oct 2026 12:58:02 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آئی_جی_اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد_پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد_عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[انسداد_دہشت_گردی_عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[ایمان_مزاری]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس_ریکارڈ]]></category>
		<category><![CDATA[پی_تی_آی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a7%db%8c%d9%85%d8%a7%d9%86-%d9%85%d8%b2%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%81%d8%a7%d8%af%db%8c-%da%86%da%be%d9%b9%db%81-%da%a9%db%8c%d8%b3-%d8%a2%d8%a6%db%8c-%d8%ac%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[عدالت نے ریکارڈ پیش نہ کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ پولیس حکام کو شوکاز نوٹس جاری کر دیے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف احتجاج اور کار سرکار میں مداخلت کے مقدمے میں بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی، جس دوران تفتیشی افسر کی مسلسل غیر حاضری پر عدالت نے شدید برہمی کا اظہار کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے کارروائی کے دوران تفتیشی افسر کے عدالت میں پیش نہ ہونے اور مقدمے کا ریکارڈ پیش نہ کیے جانے کا سخت نوٹس لیا۔ اس سلسلے میں عدالت نے ایس پی انویسٹی گیشن اور ڈی ایس پی کو طلب کرتے ہوئے شوکاز نوٹس جاری کر دیے، جبکہ آئندہ تاریخ پر آئی جی اسلام آباد کو بھی طلب کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقدمے کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے کی۔ سماعت کے آغاز پر جب ملزمان کے وکلا اور سرکاری وکیل کمرہ عدالت میں موجود تھے، تو جج نے استفسار کیا کہ تفتیشی افسر کہاں ہے اور وہ کیوں غائب ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ناپ کورٹ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ تفتیشی افسر اس وقت گلگت بلتستان کے علاقے خپلو گئے ہوئے ہیں اور تاحال واپس نہیں لوٹے۔ اس جواب پر عدالت نے اظہارِ برہمی کرتے ہوئے متعلقہ اعلیٰ پولیس حکام کو فوری طور پر طلب کرنے کا حکم صادر کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وائس چیئرمین اسلام آباد بار کونسل آصف عرفان اور دیگر وکلا نے عدالت کے روبرو مؤقف اپنایا کہ ضمانت کی درخواست دائر کیے ہوئے کافی دن گزر چکے ہیں لیکن تفتیشی افسر کی عدم دستیابی اور ریکارڈ پیش نہ ہونے کے باعث معاملہ لٹکا ہوا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وکلا نے عدالت کو بتایا کہ اس نوعیت کے مقدمات میں اگر تفتیشی افسر موجود نہ بھی ہو تو کوئی دوسرا ذمہ دار اہلکار ریکارڈ لے کر پیش ہو جاتا ہے، لیکن اس کیس میں جان بوجھ کر تاخیری حربے استعمال کیے جا رہے ہیں جس سے عدالتی نظام پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت میں وقفے کے بعد ایس پی خرم اور ڈی ایس پی نعیم یوسف پیش ہوئے۔ ڈی ایس پی نے عدالت کو بتایا کہ تفتیشی افسر کی واپسی میں مزید دس سے پندرہ دن کا وقت لگ سکتا ہے، جس پر عدالت نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے ریمارکس دیے کہ یہ کیا طریقہ کار ہے کہ عدالت کے تمام فریقین اور خود جج صاحب انتظار کرتے رہیں اور تفتیشی افسر چھٹیوں پر یا باہر موجود ہو۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آئندہ سماعت تک مقدمے کا مکمل ریکارڈ پیش نہ کیا گیا تو متعلقہ پولیس افسران کے خلاف جیل بھیجنے کی کارروائی بھی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے واضح کیا کہ پولیس کی اس سستی اور عدم توجہی کی وجہ سے عام شہریوں اور کارکنان کو طویل عرصے تک غیر ضروری قانونی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسی تناظر میں عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے دوران گرفتار کیے گئے اور شناخت پریڈ کے لیے جوڈیشل کیے گئے کارکنان کو بھی متعلقہ مقدمات سے ڈسچارج کرنے کا حکم صادر کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب عدالت نے اس کارروائی کے دوران جموں کشمیر ڈیموکریٹک پارٹی کی چیئرپرسن نبیلہ ارشاد ایڈووکیٹ کی ضمانت پانچ ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کر لی۔ وکلا نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ اپنے اختیارات کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے میرٹ کی بنیاد پر فیصلے کرے تاکہ انصاف کی فراہمی میں مزید تاخیر نہ ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف زیرِ سماعت مقدمے کی مزید کارروائی آئندہ ماہ کی تین تاریخ تک کے لیے ملتوی کر دی۔ عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ قانون کے مطابق تمام تقاضے پورے کیے جائیں گے اور آئندہ تاریخ پر آئی جی اسلام آباد کی پیشی لازمی ہوگی تاکہ اس تاخیر کا مؤثر جواب حاصل کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد ہائی کورٹ اور ماتحت عدالتوں میں اس نوعیت کے کیسز کی سماعت کے دوران اکثر پولیس افسران کی عدم حاضری کا مسئلہ سامنے آتا رہا ہے، جس پر وکلا برادری کی طرف سے بھی تشویش کا اظہار کیا جاتا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق ریکارڈ کی عدم فراہمی سے عدالتی امور بری طرح متاثر ہوتے ہیں اور ملزمان کے آئینی حقوق بھی متاثر ہوتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی احکامات کی روشنی میں اب تمام نظریں آئندہ ہونے والی سماعت پر مرکوز ہیں جہاں اسلام آباد پولیس کے سربراہ اور دیگر اعلیٰ حکام کو اس غفلت کی وضاحت کرنا ہوگی۔ مقدمے میں شامل دفعات اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت ہونے والی کارروائی پر بھی قانونی حلقوں کی گہری نظر ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/courts/1092/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>انسداد دہشت گردی عدالت نے سابق وزیراعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/courts/1057/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/courts/1057/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 17 Oct 2026 09:17:25 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[ابوالحسنات_محمد_ذوالقرنین]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[انسداد_دہشت_گردی_عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[تحریک_انصاف]]></category>
		<category><![CDATA[تھانہ_آبپارہ]]></category>
		<category><![CDATA[جوڈیشل_ریمانڈ]]></category>
		<category><![CDATA[خالد_خورشید]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالتی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%af%d8%a7%d8%af-%d8%af%db%81%d8%b4%d8%aa-%da%af%d8%b1%d8%af%db%8c-%d8%b9%d8%af%d8%a7%d9%84%d8%aa-%d9%86%db%92-%d8%b3%d8%a7%d8%a8%d9%82/</guid>

					<description><![CDATA[اسلام آباد کی اے ٹی سی نے 26 نومبر کے احتجاج کیس میں پولیس کی 30 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کر دی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے گلگت بلتستان کے سابق وزیراعلیٰ اور پاکستان تحریک انصاف کے اہم رہنما خالد خورشید کو 26 نومبر کے احتجاج سے متعلق کیس میں بڑا فیصلہ سناتے ہوئے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی دارالحکومت کی انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے اس اہم مقدمے کی تفصیلی سماعت کی۔ سماعت کی شروعات پر پولیس اور تفتیشی حکام نے سابق وزیراعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید کو سخت سیکیورٹی میں عدالت کے سامنے پیش کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سماعت کی شروعات میں سرکاری پراسیکیوٹر اور پولیس کی تفتیشی ٹیم کی جانب سے عدالت سے استدعا کی گئی کہ کیس میں مزید تفتیش اور چھان بین کی ضرورت ہے۔ پولیس حکام نے گلگت بلتستان کے سابق وزیراعلیٰ خالد خورشید کے 30 روزہ جسمانی ریمانڈ کی باقاعدہ درخواست پیش کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے پولیس کی جانب سے پیش کی جانے والی 30 روزہ جسمانی ریمانڈ کی درخواست کا جائزہ لیا۔ عدالت نے پولیس کی یہ استدعا مسترد کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما خالد خورشید کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سابق وزیراعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید کے خلاف 26 نومبر کو ہونے والے احتجاج کے معاملے پر اسلام آباد کے تھانہ آبپارہ میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ اس مقدمے میں احتجاج، قانون کی خلاف ورزی اور امن و امان میں خلل ڈالنے کے الزامات شامل کیے گئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ 26 نومبر کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں منعقدہ احتجاج کے دوران نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے جاری کی جانے والی ہدایات اور قوانین کی خلاف ورزی کی گئی تھی، جس پر قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت میں سماعت کے دوران پراسیکیوشن کا کہنا تھا کہ کیس کے مختلف پہلوؤں کی باریک بینی سے جانچ پڑتال کے لیے ملزم سے مزید تفتیش کی ضرورت ہے، لہٰذا پولیس کو ان کی جسمانی تحویل دی جائے تاکہ واقعے سے متعلق تمام اہم معلومات اکٹھی کی جا سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب ملزم کے وکلائے صفائی نے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ پولیس کے پاس مزید جسمانی تحویل کا کوئی قانونی جواز باقی نہیں رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کیس کی تفتیش کے لیے ملزم کی مزید جسمانی تحویل ہرگز ضروری نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فریقین یعنی سرکاری پراسیکیوٹر اور وکلا کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد انسداد دہشت گردی عدالت کے جج نے اپنا فیصلہ سنایا۔ فاضل جج نے پولیس کی جسمانی ریمانڈ کی درخواست کو نا منظور کرتے ہوئے ملزم خالد خورشید کو جوڈیشل ریمانڈ کے تحت جیل بھیجنے کا ہدایت نامہ جاری کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خالد خورشید کا شمار پاکستان تحریک انصاف کی نمایاں سیاسی شخصیات میں ہوتا ہے اور وہ گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے اہم ذمہ داریاں انجام دے چکے ہیں۔ حالیہ دنوں میں وہ اسلام آباد کے مختلف تھانوں میں درج ہونے والے متعدد قانونی مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تھانہ آبپارہ میں درج اس مقدمے میں پولیس نے 26 نومبر کے احتجاج سے متعلق کارروائیاں کرتے ہوئے مختلف شخصیات کے خلاف قانونی اقدام اٹھایا ہے۔ پولیس کے مطابق اس مقدمے کی تفتیش کو پیشہ ورانہ انداز میں آگے بڑھایا جا رہا ہے تاکہ قانون کے مطابق تمام تقاضے پورے کیے جائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انسداد دہشت گردی عدالت میں پیشی اور سماعت کی مناسبت سے عدالت کے اطراف میں سیکیورٹی کے خصوصی اور انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال یا ناخوشگوار واقعے کو روکنے کے لیے اسلام آباد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار تعینات رہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انسداد دہشت گردی عدالت سے جوڈیشل ریمانڈ کا حکم جاری ہونے کے فوراً بعد پولیس حکام نے قانونی کاغذی کارروائی کا عمل مکمل کرنا شروع کر دیا۔ رسمی کارروائی کے بعد گلگت بلتستان کے سابق وزیراعلیٰ کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل کرنے کی تیاریاں مکمل کر لی گئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی فیصلہ سامنے آنے کے بعد تھانہ آبپارہ میں درج اس کیس کے حوالے سے اب سابق وزیراعلیٰ کو مقررہ عدالتی طریقہ کار کے تحت عدالت کے سامنے دوبارہ پیش کیا جائے گا، جبکہ تفتیشی ٹیم قانون کے مطابق کارروائی کو آگے بڑھانے کی پابند ہو گی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/courts/1057/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ذوالقرنین خان مرحوم: دیانت، اصول پسندی اور روشن عدلیہ کی میراث</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/700/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/700/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 16:16:57 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[انسداد_دہشت_گردی_عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_عدلیہ]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_سرکار]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_عدلیہ_تاریخ]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیم_اور_تربیت]]></category>
		<category><![CDATA[دیانت_اور_کردار]]></category>
		<category><![CDATA[ذوالقرنین_خان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[زینب_خان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/zulqarnain-khan-legacy-of-justice-and-integrity/</guid>

					<description><![CDATA[مرحوم جج ذوالقرنین خان کی حیات اور خدمات قانون کی بالادستی، دیانت اور غیر جانب دارانہ عدلیہ کی بہترین مثال ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">کچھ شخصیات دنیا سے رخصت ہونے کے باوجود اپنے کردار، دیانت اور اصولوں کی بدولت ہمیشہ زندہ رہتی ہیں اور معاشرے کے لیے ایک روشن راستہ چھوڑ جاتی ہیں۔ ان کی شناخت محض کسی عارضی عہدے یا اختیارات سے نہیں بلکہ ان کی سچی خدمات اور اعلیٰ اخلاقی اقدار سے ہوتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ذوالقرنین خان مرحوم کا شمار عدلیہ کی ایسی ہی قابل اور نڈر شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے ہمیشہ قانون کی سربلندی اور انصاف کے تقاضوں کو ہر چیز پر مقدم رکھا۔ انہوں نے اپنے طویل عدالتی کیریئر کے دوران انسدادِ دہشت گردی کی عدالت سمیت کئی اہم ترین ذمہ داریاں انتہائی دیانت کے ساتھ نبھائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کی زندگی کا ہر لمحہ اس عزم کا غماز تھا کہ منصب انسان کو عزت نہیں دیتا بلکہ انسان اپنے کردار سے منصب کو باوقار بناتا ہے۔ ایسے بااصول افراد کی یادگاریں معاشرے میں اس بات کی یاد دہانی کراتی ہیں کہ اصل کامیابی ضمیر اور قانون سے وفاداری میں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کسی بھی عدالتی نظام میں جج کا عہدہ صرف ایک کرسی نہیں بلکہ ایک بڑی امانت ہوتا ہے جسے مضبوط اعصاب اور غیر جانب دارانہ سوچ کے ساتھ چلانا پڑتا ہے۔ ذوالقرنین خان نے اپنے فیصلوں میں ہمیشہ حق اور سچ کا ساتھ دیا اور ہر قسم کے دباؤ کو مسترد کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت جیسے حساس اداروں میں فرائض سرانجام دینے کے لیے محض قانونی علم کافی نہیں ہوتا بلکہ کڑے وقت میں حق پر قائم رہنے کا حوصلہ بھی درکار ہوتا ہے۔ مرحوم نے ہمیشہ اس بات کو یقینی بنایا کہ ہر سائل کو بلا تفریق انصاف فراہم کیا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدلیہ کی تاریخ میں ایسے ایماندار اور اصول پسند ججوں کے تذکرے ہمیشہ زندہ رہتے ہیں جو عوام کا عدالتوں پر اعتماد بحال رکھتے ہیں۔ ایک اچھے جج کی پہچان یہی ہوتی ہے کہ وہ طاقتور اور کمزور میں تفریق کیے بغیر صرف شواہد اور قانون کی بنیاد پر فیصلہ کرے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ذوالقرنین خان کی خدا ترسی اور فرض شناسی نے انہیں معاشرے اور عدالتی حلقوں میں ایک امتیازی مقام عطا کیا جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ ان کی برسی کا دن محض یاد دہانی نہیں بلکہ عدل و انصاف کی ان اقدار کو دہرانے کا موقع ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">والدین کی اصل میراث صرف مادی وسائل نہیں بلکہ ان کی تربیت ہوتی ہے جو وہ اپنی اولاد کو فراہم کرتے ہیں تاکہ وہ معاشرے کے مفید شہری بنیں۔ ذوالقرنین خان نے اپنی اولاد کو اعلیٰ تعلیم اور خدمتِ خلق کے زیور سے آراستہ کیا جو آج اہم عہدوں پر فائز ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کے صاحبزادے محمد عثمان خان اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کے طور پر فرائض انجام دے رہے ہیں اور آئین و قانون پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ وہ قانون کے میدان میں اپنی مہارت اور علمی قابلیت کے حوالے سے ایک نمایاں پہچان رکھتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محمد عثمان خان تدریسی شعبے سے بھی وابستہ ہیں اور اکیڈمی میں مقابلے کے امتحانات کی تیاری کرنے والے طلبا کو تعلیم فراہم کرتے ہیں۔ ان کے پڑھائے ہوئے کئی نوجوان آج ملکی بیوروکریسی میں اہم سرکاری ذمہ داریاں احسن طریقے سے انجام دے رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مرحوم کی صاحبزادی مریم خان لاہور ڈویژن کی پہلی خاتون کمشنر کے طور پر اپنی انتظامی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکی ہیں، جو صوبے کی انتظامی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔ انہوں نے اپنے فرائض کے دوران بہترین انتظامی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کے علاوہ ان کی دوسری صاحبزادی زینب خان محکمہ کوآپریٹوز میں بطور سپیشل سیکرٹری اہم انتظامی ذمہ داریوں پر فائز ہیں۔ وہ بھی اپنے دائرہ کار میں شفافیت اور قواعد و ضوابط کے مطابق سرکاری امور کو احسن انداز میں چلا رہی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خاندان کی یہ تمام کامیابیاں اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ گھر کا ماحول اور والدین کی تربیت اولاد کی عملی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔ ذوالقرنین خان کی دیانت داری اور اصول پسندی کا اثر ان کی اولاد کے پیشہ ورانہ کردار میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معاشرے کو ایسے ہی درخشندہ کرداروں کی ضرورت ہے جو محض ذاتی مفاد کے بجائے اجتماعی بہبود اور قانون کی بالادستی کو اپنا نصب العین بنائیں۔ ذوالقرنین خان کا نام ہمیشہ ایک ایسے منصف کے طور پر یاد رکھا جائے گا جنہوں نے عدل و انصاف کے چراغ کو روشن رکھا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/700/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
