<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.33.3"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>انسانی_صحت &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86%db%8c_%d8%b5%d8%ad%d8%aa/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:34:08 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>انسانی_صحت &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>روزانہ 5 گھنٹے سے کم نیند انسانی صحت کے لیے کیوں خطرناک ہے؟</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/health/1030/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/health/1030/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 17 Oct 2026 00:36:57 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[صحت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[انسانی_صحت]]></category>
		<category><![CDATA[بیماری]]></category>
		<category><![CDATA[بیماریاں]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[دل_کی_صحت]]></category>
		<category><![CDATA[ذہنی_صحت]]></category>
		<category><![CDATA[ذیابیطس]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[طب]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/health/%d8%b1%d9%88%d8%b2%d8%a7%d9%86%db%81-5-%da%af%da%be%d9%86%d9%b9%db%92-%d8%b3%db%92-%da%a9%d9%85-%d9%86%db%8c%d9%86%d8%af-%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%b5%d8%ad%d8%aa-%da%a9%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[نیند کی کمی نہ صرف روزمرہ کی کارکردگی کو متاثر کرتی ہے بلکہ یہ متعدد سنگین طبی مسائل کا سبب بھی بن سکتی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">انسانی صحت اور تندرستی کے لیے پرسکون اور بھرپور نیند ایک بنیادی ضرورت ہے، جس کے بغیر جسمانی اور ذہنی افعال کا درست طریقے سے کام کرنا ناممکن ہے۔ ماہرینِ صحت کے مطابق ایک صحت مند بالغ فرد کے لیے روزانہ 7 سے 8 گھنٹے کی نیند انتہائی ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ دور میں اسمارٹ ڈیوائسز اور مصروف طرزِ زندگی کے باعث لوگوں کی ایک بڑی تعداد رات گئے تک جاگنے کی عادی ہو چکی ہے۔ اس عادت کے نتیجے میں نیند کا دورانیہ 5 گھنٹے سے بھی کم رہ جاتا ہے جو صحت پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نیند کی کمی کا سب سے پہلا اور نمایاں اثر انسان کے مدافعتی نظام پر پڑتا ہے۔ جب جسم کو مناسب آرام نہیں ملتا تو بیماریوں سے لڑنے کی صلاحیت کمزور ہو جاتی ہے، جس کے باعث نزلہ، زکام اور دیگر موسمی انفیکشنز کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">طبی تحقیق کے مطابق نیند کی کمی براہِ راست دل کی صحت کو متاثر کرتی ہے۔ 5 گھنٹے سے کم سونے والے افراد میں امراضِ قلب اور فالج کے خطرات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ دل کی حفاظت کے لیے نیند کا دورانیہ متوازن رکھنا ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نیند کی کمی کا اثر دماغی صلاحیتوں پر بھی گہرا ہوتا ہے۔ ایک رات کی خراب نیند بھی انسان کی سوچنے، سمجھنے، فیصلہ سازی اور منطقی صلاحیتوں کو متاثر کرتی ہے۔ اس کے علاوہ نئی معلومات سیکھنے اور یادداشت کو محفوظ رکھنے میں بھی مشکلات پیش آتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیقی جائزوں سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ نیند کی کمی اور موٹاپے کے درمیان گہرا تعلق موجود ہے۔ 21 ہزار سے زائد افراد پر کی گئی ایک تحقیق کے مطابق کم سونے والے افراد کا وزن وقت کے ساتھ ساتھ تیزی سے بڑھنے کا امکان ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ذیابیطس ٹائپ 2 کا خطرہ بھی ان لوگوں میں زیادہ ہوتا ہے جو روزانہ 6 گھنٹے سے کم نیند لیتے ہیں۔ نیند پوری نہ ہونے سے جسم میں انسولین کی مزاحمت بڑھ جاتی ہے، جو بلڈ شوگر کی سطح کو غیر متوازن کرنے کا باعث بنتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نیند کی کمی کا شکار افراد میں ٹریفک حادثات کا خطرہ بھی تین گنا تک بڑھ جاتا ہے۔ نیشنل سلیپ فاؤنڈیشن کے مطابق نیند پوری نہ ہونے کی صورت میں ڈرائیونگ کرنا انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے کیونکہ اس سے توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صرف اندرونی اعضاء ہی نہیں بلکہ نیند کی کمی کا اثر انسانی جلد پر بھی نمایاں ہوتا ہے۔ طبی تحقیق کے مطابق نیند پوری نہ کرنے سے چہرے پر وقت سے پہلے جھریاں پڑ سکتی ہیں اور جلد کی رنگت ماند پڑ کر ڈھیلی ہو سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کینسر جیسے موذی امراض کے حوالے سے بھی طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے۔ کچھ تحقیقات میں یہ عندیہ دیا گیا ہے کہ نیند کی کمی سے بریسٹ، آنتوں اور مثانے کے کینسر کے خطرات میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے بچاؤ کا بہترین طریقہ مناسب نیند ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نیند کی کمی کے شکار افراد میں یادداشت کے مسائل بھی عام ہو جاتے ہیں۔ نیند کے دوران دماغ معلومات کو منظم کرتا ہے، اگر یہ عمل مکمل نہ ہو تو انسان چیزیں بھولنے لگتا ہے اور ذہنی تناؤ میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صحت مند زندگی گزارنے کے لیے اپنی عادات میں تبدیلی لانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ رات کے اوقات میں اسمارٹ فونز اور دیگر ڈیوائسز کا استعمال کم کر کے نیند کے لیے ایک مخصوص وقت مقرر کرنا چاہیے تاکہ جسم کو درکار آرام مل سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اگر آپ کو مسلسل نیند کی کمی کا سامنا ہے تو اسے معمولی نہ سمجھیں۔ کسی بھی طبی پیچیدگی سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ اپنی طرزِ زندگی کو بہتر بنائیں اور اگر مسائل برقرار رہیں تو کسی ماہر معالج سے مشورہ ضرور کریں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/health/1030/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>مسلسل 25 منٹ بیٹھنا صحت کے لیے نقصان دہ قرار، طبی تحقیق میں انکشاف</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/health/445/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/health/445/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 13 Oct 2026 16:37:23 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[صحت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آسٹریلیا]]></category>
		<category><![CDATA[انسانی_صحت]]></category>
		<category><![CDATA[بلڈ_پریشر]]></category>
		<category><![CDATA[بیماری]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[دل_کی_صحت]]></category>
		<category><![CDATA[ذیابیطس]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر_کرسچن_برکنرج]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d9%85%d8%b3%d9%84%d8%b3%d9%84-25-%d9%85%d9%86%d9%b9-%d8%a8%db%8c%d9%b9%da%be%d9%86%d8%a7-%d8%b5%d8%ad%d8%aa-%da%a9%db%92-%d9%84%db%8c%db%92-%d9%86%d9%82%d8%b5%d8%a7%d9%86-%d8%af%db%81-%d9%82%d8%b1/</guid>

					<description><![CDATA[آسٹریلیا کی سوئن برن یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق طویل دورانیے تک ایک ہی جگہ بیٹھنے سے پٹھوں کی سرگرمی متاثر ہوتی ہے جس سے دل کے امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">جدید دور میں طرز زندگی میں تبدیلیوں کے باعث زیادہ تر وقت بیٹھ کر گزارنے کا رجحان بڑھ گیا ہے، تاہم طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مسلسل 25 منٹ سے زیادہ ایک ہی جگہ بیٹھنا انسانی صحت کے لیے مضر ثابت ہو سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آسٹریلیا کی سوئن برن یونیورسٹی کے ماہرین کی جانب سے کی گئی ایک حالیہ تحقیق میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ طویل وقت تک مسلسل بیٹھے رہنے سے جسمانی پٹھوں کی سرگرمی میں نمایاں کمی واقع ہوتی ہے جو سنگین طبی مسائل کو جنم دیتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">طبی جریدے &#039;این جے پی&#039; میں شائع ہونے والی اس تحقیق کی سربراہی ڈاکٹر کرسچن برکنرج نے کی۔ ماہرین نے اس مطالعے کے دوران جدید سینسرز سے لیس خصوصی ملبوسات کا استعمال کیا تاکہ روزمرہ کی زندگی میں لوگوں کے پٹھوں کی حرکات کا درست ڈیٹا حاصل کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیق کے دوران سات ہزار سے زائد مرتبہ بیٹھنے کے دورانیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ نتائج سے یہ بات سامنے آئی کہ جب کوئی فرد 25 منٹ سے زیادہ مسلسل ایک ہی حالت میں بیٹھا رہتا ہے تو اس کے پٹھوں کی فعالیت کم ہونا شروع ہو جاتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پٹھوں کی اس کم ہوتی ہوئی سرگرمی کے نتیجے میں خون کی روانی متاثر ہوتی ہے اور خون میں موجود گلوکوز کو پٹھوں تک پہنچانے کا قدرتی عمل سست پڑ جاتا ہے۔ یہ صورتحال طویل مدت میں دل کی بیماریوں اور ٹائپ ٹو ذیابیطس کے خطرات میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈاکٹر کرسچن برکنرج کے مطابق اگر کوئی شخص روزانہ دس گھنٹے بیٹھ کر گزارتا ہے تو ہر 25 منٹ بعد کچھ دیر کے لیے اٹھ کر چلنے پھرنے سے پٹھوں کی سرگرمی میں مجموعی طور پر ڈیڑھ گھنٹے کا اضافہ کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیق میں یہ بات واضح کی گئی ہے کہ اس مقصد کے لیے سخت ورزش کرنا لازمی نہیں ہے۔ روزمرہ کے چھوٹے چھوٹے اقدامات جیسے پانی کا گلاس بھرنے کے لیے خود اٹھ کر جانا یا بیٹھنے کی پوزیشن تبدیل کرنا بھی مثبت نتائج دے سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کے مطابق ایسے معمولی وقفے جاگنے کے اوقات میں پٹھوں کی غیرفعالیت کو تقریباً دس فیصد تک کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہ اقدامات خاص طور پر ان افراد کے لیے انتہائی اہم ہیں جو ملازمت کے باعث زیادہ وقت کمپیوٹر اسکرین کے سامنے گزارتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ بیٹھے ہوئے وقت کے دوران کی جانے والی معمولی حرکات کا تعلق کم باڈی ماس انڈیکس اور کمر کے مناسب گھیر سے ہوتا ہے۔ یہ عوامل دل کی بیماریوں کے خطرات کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">طبی ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ طویل وقت تک بیٹھنے کے عادی افراد کو اپنے معمولات میں وقفے وقفے سے چلنے پھرنے کو شامل کرنا چاہیے۔ یہ سادہ سی عادت نہ صرف جسمانی توانائی کو برقرار رکھتی ہے بلکہ پٹھوں کو بھی فعال رکھتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقل بیٹھنے کے نقصانات سے بچنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ جسم کو طویل دورانیے تک ساکت نہ رکھا جائے۔ حرکت کرنے سے نہ صرف بلڈ پریشر کنٹرول میں رہتا ہے بلکہ خون کی شریانوں کے مسائل سے بھی بچاؤ ممکن ہو سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ تحقیق صحت عامہ کے حوالے سے ایک اہم انتباہ ہے کہ جدید طرز زندگی میں جسمانی حرکت کو نظر انداز کرنا کتنا مہنگا پڑ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صحت مند زندگی کے لیے ہر 25 منٹ بعد وقفہ لینا ایک بہترین طبی اصول ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/health/445/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
