<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.33.2"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>انسانی_حقوق &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86%db%8c_%d8%ad%d9%82%d9%88%d9%82/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:33:07 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>انسانی_حقوق &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>امریکہ: سزائے موت سے بچ جانے والی قیدی کرسٹا پائیک کا مسلسل تکلیف میں مبتلا ہونے کا انکشاف</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/3250/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/3250/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 31 Oct 2026 08:17:52 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امریکہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکہ_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[انسانی_حقوق]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ٹینیسی]]></category>
		<category><![CDATA[جیل]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سزائے_موت]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a7%d9%85%d8%b1%db%8c%da%a9%db%81-%d8%b3%d8%b2%d8%a7%d8%a6%db%92-%d9%85%d9%88%d8%aa-%d8%b3%db%92-%d8%a8%da%86-%d8%ac%d8%a7%d9%86%db%92-%d9%88%d8%a7%d9%84%db%8c-%d9%82%db%8c%d8%af%db%8c-%da%a9/</guid>

					<description><![CDATA[امریکی ریاست ٹینیسی میں سزائے موت پر عملدرآمد کی ناکام کوشش کے بعد کرسٹا پائیک نے پہلی بار عوامی بیان جاری کر دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">امریکی ریاست ٹینیسی میں سزائے موت پر عملدرآمد کی ناکام کوشش سے زندہ بچ جانے والی 50 سالہ قیدی کرسٹا پائیک نے واقعے کے بعد اپنا پہلا عوامی بیان جاری کیا ہے۔ کرسٹا پائیک نے اپنے وکلاء کے ذریعے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ وہ ستمبر میں پیش آنے والے واقعے کے بعد سے مسلسل شدید جسمانی اور ذہنی تکلیف میں مبتلا ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کرسٹا پائیک کا کہنا ہے کہ اس رات کے بعد سے ایسا کوئی لمحہ نہیں گزرا جب انہیں درد کا سامنا نہ کرنا پڑا ہو۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے بازو، ہاتھ اور گلا شدید تکلیف میں ہیں اور انہیں بولنے میں بھی دشواری کا سامنا ہے۔ انہوں نے اس صورتحال کو انتظامی نااہلی قرار دیتے ہوئے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیال رہے کہ 30 ستمبر کو ٹینیسی کی جیل میں کرسٹا پائیک کو مہلک انجیکشن کے ذریعے سزائے موت دینے کی کوشش کی گئی تھی، تاہم یہ عمل ناکام رہا۔ حکام کے مطابق پینٹوباربیٹل نامی دوا ان کے خون میں شامل ہونے کے بجائے بازوؤں میں جمع ہوگئی، جس سے وہ شدید زخمی ہو گئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس ناکام کوشش کے بعد کرسٹا پائیک کو کئی دن ہسپتال میں گزارنا پڑے جہاں وہ بے ہوشی کی حالت میں رہی تھیں۔ ہسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد انہیں واپس اسی جیل میں منتقل کر دیا گیا ہے جہاں وہ 1995 میں قتل کے ایک مقدمے میں گزشتہ 30 برس سے قید ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کرسٹا پائیک کو 18 سال کی عمر میں کولین سلیم نامی لڑکی کے قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ اس جرم میں ان کے ساتھ ان کا اس وقت کا دوست بھی شامل تھا، تاہم نابالغ ہونے کے باعث اسے سزائے موت نہیں دی گئی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعے کے بعد ٹینیسی کے گورنر بل لی نے ریاست میں تمام سزائے موت پر عملدرآمد رواں سال کے باقی عرصے کے لیے روک دیا ہے اور اس واقعے کی آزادانہ تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ اس کے علاوہ محکمہ اصلاحات کے کمشنر فرینک اسٹرادا نے بھی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متاثرہ لڑکی کی والدہ مے مارٹنیز، جو اس دن پھانسی کے عمل کو دیکھنے کے لیے موجود تھیں، نے اس واقعے کو ایک &#039;بدانتظامی&#039; قرار دیا ہے۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف انصاف کی متلاشی تھیں لیکن یہ عمل انتہائی تکلیف دہ ثابت ہوا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کرسٹا پائیک کے وکلاء نے وفاقی جج سے درخواست کی ہے کہ انہیں تنہائی سے نکال کر دیگر قیدیوں کے ساتھ ملنے کی اجازت دی جائے۔ وکلاء کا موقف ہے کہ ناکام پھانسی کے بعد تنہائی میں رکھنے سے ان کی ذہنی صحت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گورنر بل لی نے حال ہی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات کا امکان رکھتے ہیں کہ کرسٹا پائیک کی سزا وہی رہے گی جو پہلے تھی، جب تک کہ عدالتیں اس میں کوئی تبدیلی نہ لائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ عدالتی فیصلوں کے پابند ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کرسٹا پائیک کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ وہ اپنی بحالی کے عمل سے گزر رہی ہیں اور پہلے سے بہتر محسوس کر رہی ہیں، تاہم مکمل صحت یابی ابھی دور ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ اب بھی اس واقعے کے صدمے سے باہر نہیں آ سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واضح رہے کہ 2026 میں ٹینیسی میں یہ دوسرا موقع تھا جب سزائے موت پر عملدرآمد کا عمل ناکام ہوا۔ اس سے قبل مئی میں ٹونی کیروتھرز کی پھانسی بھی اس وقت ملتوی کر دی گئی تھی جب حکام ان کے جسم میں انجیکشن لگانے کے لیے رگ تلاش کرنے میں ناکام رہے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق کرسٹا پائیک تاریخ کی واحد قیدی سمجھی جاتی ہیں جو مہلک انجیکشن کے ذریعے سزائے موت کی کوشش سے زندہ بچی ہیں۔ اس واقعے نے امریکہ میں سزائے موت کے طریقہ کار پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کرسٹا پائیک کی دوست اور &#039;چائلڈ ارائز ٹینیسی&#039; کی بانی بیتھنی مان نے کہا کہ وہ مسلسل ان کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ انہوں نے گورنر کی جانب سے سزائے موت کے طریقہ کار پر نظرثانی کی بجائے اسے جاری رکھنے کے ارادے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/3250/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>بیریئر ہٹانے اور کار سرکار مداخلت کیس، ایمان مزاری کا بیان سامنے آ گیا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/courts/3116/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/courts/3116/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 28 Oct 2026 08:16:53 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اڈیالہ_جیل]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد_ہائی_کورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[انسانی_حقوق]]></category>
		<category><![CDATA[انسداد_دشتگردی_عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[ایمان_مزاری]]></category>
		<category><![CDATA[بیریئر_ہٹانے_کا_کیس]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پمز_ہسپتال]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a8%db%8c%d8%b1%db%8c%d8%a6%d8%b1-%db%81%d9%b9%d8%a7%d9%86%db%92-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%a9%d8%a7%d8%b1-%d8%b3%d8%b1%da%a9%d8%a7%d8%b1-%d9%85%d8%af%d8%a7%d8%ae%d9%84%d8%aa/</guid>

					<description><![CDATA[بیریئر ہٹانے اور کار سرکار میں مداخلت کے کیس میں ایمان مزاری کا عدالت میں ریکارڈ کرایا گیا بیان سامنے آ گیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) بیریئر ہٹانے اور کار سرکار میں مداخلت کے مقدمے میں ایمان مزاری کا عدالت میں روبرو ریکارڈ کرایا گیا دفعہ تین سو بیالیس کا بیان منظر عام پر آ گیا ہے۔ اس حوالے سے موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق انہوں نے یہ بیان عدالت میں باقاعدہ جمع کروایا ہے جس میں اس واقعے کے حوالے سے اپنا تفصیلی مؤقف پیش کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایمان مزاری نے اپنے اس بیان میں واضح کیا ہے کہ وہ اپنا یہ بیان کسی رسمی کارروائی کے تحت نہیں بلکہ مکمل طور پر احتجاجاً درج کروا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مخصوص روٹ سے اس وقت کوئی کرکٹ ٹیم نہیں گزر رہی تھی کیونکہ پولیس نے خود اس بات کی تصدیق کی تھی کہ مہمان ٹیم دوسرے راستے سے روانہ ہو چکی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پولیس کے پاس سڑک کی اس عارضی بندش کے حوالے سے کسی بھی مجسٹریٹ کا باقاعدہ تحریری آرڈر موجود نہیں تھا۔ انہوں نے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ انہیں بطور وکیل انسداد دہشت گردی عدالت میں وقت پر پہنچنا تھا اور اسی پیشہ ورانہ ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیے وہ اس راستے پر موجود تھیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایمان مزاری کے مطابق انہوں نے موقع پر موجود پولیس اہلکاروں سے باقاعدہ پندرہ منٹ تک صبر کے ساتھ انتظار کرنے کے بعد سڑک کھولنے کی درخواست کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح غیر قانونی طور پر سڑکیں بند کرنے سے عام شہریوں کے آئینی حقوق بری طرح متاثر ہوتے ہیں اور نقل و حرکت میں رکاوٹ ڈالی جاتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت میں جمع کرائے گئے اس تحریری بیان کے مطابق انہوں نے موقع پر موجود پولیس اہلکاروں کو یاد دہانی کرائی تھی کہ یہ پبلک روڈ کسی کی ذاتی ملکیت نہیں ہے۔ انہوں نے اس موقع پر ایک سوال اٹھایا کہ اگر اس سڑک کی بندش سے سکیورٹی کا کوئی حقیقی خطرہ موجود تھا تو پولیس نے عام موٹر سائیکل سواروں کو اس راستے سے گزرنے سے کیوں نہیں روکا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایمان مزاری نے اس موقع پر سنگین الزام عائد کیا کہ پراسیکیوشن نے جان بوجھ کر اس واقعے کی ویڈیو کا اصل اور مکمل ٹرانسکرپٹ چھپانے کی کوشش کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ویڈیو کا اصل ٹرانسکرپٹ عدالت کے سامنے آ جائے تو اس سے استغاثہ کے تمام دعوے اور بیانات غلط ثابت ہو سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بیان میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ بغیر پولیس یونیفارم کے موجود ایک اہلکار ابراہیم نے ان پر لوہے کا بھاری بیریئر اٹھا کر پھینکا جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے شوہر نے اس صورتحال میں انہیں زدوکوب اور مزید جسمانی نقصان سے بچانے کے لیے محض دفاعی اقدام کیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایمان مزاری کا کہنا تھا کہ اس واقعے کے بعد انہوں نے فوری طور پر پمز ہسپتال سے رجوع کیا تھا اور وہاں کی میڈیکل رپورٹ بطور ایک مستند ثبوت عدالت میں باقاعدہ جمع کروا دی ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس مقدمے میں کسی بھی پولیس اہلکار کے زخمی ہونے کا کوئی بھی معتبر ثبوت عدالتی ریکارڈ کا حصہ نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بیان میں اس امر کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ واقعے کے فوراً بعد متعلقہ پولیس اہلکار نے پولیس محکمے کے غیر مناسب رویے پر ان سے باقاعدہ معافی بھی مانگی تھی۔ اس کے علاوہ عدالت میں پیش کی جانے والی یو ایس بی کو غیر مصدقہ قرار دیتے ہوئے مؤقف اپنایا گیا کہ وہ پولیس اسٹیشن میں کئی روز تک بغیر کسی باقاعدہ سیل کے رکھی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی کارروائی کے حوالے سے مؤقف میں کہا گیا ہے کہ ہائیکورٹ کی جانب سے ان کے جسمانی ریمانڈ کے احکامات معطل کیے جانے کے بعد کی جانے والی تمام تر تفتیشی کارروائی قانونی طور پر بالکل غیر قانونی ہے۔ بیان میں یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا کہ اس مقدمے میں جتنے بھی گواہان ہیں وہ سب کے سب پولیس اہلکار ہیں اور اس میں ایک بھی آزاد یا پرائیویٹ گواہ شامل نہیں کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایمان مزاری کا کہنا تھا کہ یہ تمام تر مقدمات دراصل ان کے انسانی حقوق کے لیے کھل کر کام کرنے اور ضرورت مندوں کو مفت قانونی خدمات فراہم کرنے کے بدلے میں انتقامی کارروائیاں ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اعلیٰ عدالتوں سے ضمانت ملنے کے باوجود انہیں جیل کے اندر دوبارہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور گرفتار کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی ماحول اور ٹرانسپرنسی کے بارے میں بیان میں شدید شکوہ کیا گیا کہ انہیں پنجرے میں بند کر کے عدالتی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا اور اپنے وکلا تک مناسب رسائی سے بھی محروم رکھا گیا۔ آخر میں انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ اور ان کے ساتھی بالکل بے گناہ ہیں اور حقوق العباد کی اس طویل جنگ میں ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے عدالت کے روبرو اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ وہ قانونی دائرے میں رہتے ہوئے اپنے اوپر عائد کردہ تمام بے بنیاد الزامات کا پوری قوت سے دفاع کریں گی۔ ان کے اس بیان کے سامنے آنے کے بعد اس مقدمے کی کارروائی میں مزید قانونی موڑ آنے کی توقع کی جا رہی ہے جس پر آئندہ سماعتوں میں وکلا اپنے دلائل پیش کریں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/courts/3116/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>بلاول بھٹو کا یومِ سیاہ کشمیر پر کشمیریوں کو حقِ خودارادیت دینے کا مطالبہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/2518/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/2518/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 27 Oct 2026 08:18:24 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[انسانی_حقوق]]></category>
		<category><![CDATA[بلاول_بھٹو_زرداری]]></category>
		<category><![CDATA[بھارتی_قبضہ]]></category>
		<category><![CDATA[بینظیر_بھٹو]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_پیپلز_پارٹی]]></category>
		<category><![CDATA[حق_خودارادیت]]></category>
		<category><![CDATA[ذوالفقار_علی_بھٹو]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a8%d9%84%d8%a7%d9%88%d9%84-%d8%a8%da%be%d9%b9%d9%88-%da%a9%d8%a7-%db%8c%d9%88%d9%85-%d8%b3%db%8c%d8%a7%db%81-%da%a9%d8%b4%d9%85%db%8c%d8%b1-%d9%be%d8%b1/</guid>

					<description><![CDATA[چیئرمین پیپلز پارٹی نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قبضے کی مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر اپنے جاری کردہ اہم بیان میں مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارت کے غیر قانونی اور جابرانہ قبضے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ پاکستانی قوم ہر فورم پر کشمیری بھائیوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کا سلسلہ جاری رکھے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اپنے بیان میں بلاول بھٹو زرداری نے اس بات پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کیا کہ تقریباً آٹھ دہائیاں گزر جانے کے باوجود خطے کے باسی اپنے بنیادی اور مسلمہ حقِ خودارادیت سے تاحال محروم رکھے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیری عوام کو ان کا یہ حق نہ ملنا عالمی ضمیر اور دنیا بھر میں انصاف کے دعوؤں کے منہ پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے وضاحت کی کہ مسئلہ کشمیر کو محض زمینی یا سرحدی تنازع کے طور پر ہرگز نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ یہ لاکھوں انسانوں کی آزادی، وقار اور ان کی شناخت کا انتہائی اہم معاملہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ کشمیریوں کی عزتِ نفس اور اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کے حق کو پوری دنیا تسلیم کرے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بلاول بھٹو زرداری نے اس امر پر روشنی ڈالی کہ یومِ سیاہ کشمیر منانے کا مقصد کشمیری عوام کی منصفانہ آزادی اور ان کے حقِ خودارادیت کی حمایت کے عزم کی تجدید کرنا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ مظلوم کشمیریوں کی پشت پر پوری پاکستانی قوم کھڑی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے اس موقع پر قائدِ عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے یاد دلایا کہ انہوں نے ہمیشہ مسئلہ کشمیر کو پاکستان کے اصولی مؤقف اور خطے کے پائیدار امن سے جوڑ کر دنیا کے سامنے اجاگر کیا۔ پارٹی قیادت کا یہ موقف آج بھی پوری طرح برقرار ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی اداروں کی ذمہ داریوں کا ذکر کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ وادی میں جاری انسانی حقوق کی سنگین اور ہولناک خلاف ورزیوں پر محض زبانی جمع خرچ یا بیانات سے گریز کریں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عالمی برادری عملی اور مؤثر اقدامات اٹھائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اقوامِ متحدہ کی متعلقہ اور منظور شدہ قراردادوں کے عین مطابق ہی مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل یقینی بنایا جانا چاہیے تاکہ جنوبی ایشیا کے اس حساس خطے میں پائیدار امن اور استحکام کی بنیاد رکھی جا سکے کیونکہ اس کے بغیر امن کا حصول ممکن نہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بلاول بھٹو زرداری نے کشمیری عوام کی لازوال قربانیوں کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ ان کی یہ تاریخی جدوجہد کبھی رائیگاں نہیں جائے گی اور ان کا لہو ضرور رنگ لائے گا۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ مقبوضہ وادی کے عوام اپنی منزل تک ضرور پہنچیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے اپنے پیغام کے آخر میں پختہ امید ظاہر کی کہ وہ دن اب زیادہ دور نہیں ہے جب مقبوضہ جموں و کشمیر کے اہم شہر سرینگر میں آزادی کا روشن سورج طلوع ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ طلوع ہونے والا سورج خطے کے مکینوں کے لیے امید کی بڑی کرن ثابت ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاریخی پس منظر کے حوالے سے دیکھا جائے تو ہر سال ستائیس اکتوبر کو یومِ سیاہ کے طور پر منایا جاتا ہے جس دن کشمیری عوام اپنے بنیادی حقوق کے حصول کی خاطر دنیا بھر کی توجہ اس تنازع کی طرف مبذول کرواتے ہیں۔ پاکستانی سیاسی قیادت اس روز تجدیدِ عہد کرتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کشمیر کا یہ دیرینہ تنازعہ اقوامِ متحدہ کے ایجنڈے پر موجود سب سے پرانے نامکمل ایجنڈوں میں شمار ہوتا ہے جہاں کشمیری عوام مسلسل بھارتی ریاستی جبر کا سامنا کر رہے ہیں۔ عالمی سطح پر انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی اس صورتحال پر وقتاً فوقتاً تشویش کا اظہار کرتی رہتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ دو طرفہ تعلقات کی بہتری اور خطے میں حقیقی امن کے لیے مسئلہ کشمیر کا پرامن اور منصفانہ حل ناگزیر ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کا تازہ بیان بھی اسی قومی مؤقف کی بھرپور ترجمانی کرتا ہے جسے پارٹی سطح پر ہمیشہ مقدم رکھا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کشمیری عوام کی قربانیوں کی داستانیں تاریخ کے ماتھے کا جھومر ہیں اور پاکستان کے عوام ہر مشکل گھڑی میں اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ یہ یکجہتی کا جذبہ دونوں طرف کے عوام کے مابین اٹوٹ رشتہ اور قلبی وابستگی کا مظہر ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/2518/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>غزہ: اسرائیلی فائرنگ سے زخمی ہونے والی کمسن فاطمہ البیوک زخموں کی تاب نہ لا سکی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/2410/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/2410/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 26 Oct 2026 01:16:57 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسرائیلی_جارحیت]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا]]></category>
		<category><![CDATA[انسانی_حقوق]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[جنگ_غزہ]]></category>
		<category><![CDATA[چین]]></category>
		<category><![CDATA[دیر_البلاح]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%ba%d8%b2%db%81-%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%a6%db%8c%d9%84%db%8c-%d9%81%d8%a7%d8%a6%d8%b1%d9%86%da%af-%d8%b3%db%92-%d8%b2%d8%ae%d9%85%db%8c-%db%81%d9%88%d9%86%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[آٹھ سالہ فاطمہ البیوک 2023 میں اپنے پورے خاندان کو کھونے کے بعد زندہ بچ جانے والی اکلوتی فرد تھی جو اب اسرائیلی فائرنگ سے شہید ہو گئی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">غزہ کی پٹی میں جاری اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں ایک اور معصوم زندگی کا چراغ گل ہو گیا ہے۔ آٹھ سالہ فاطمہ البیوک، جو چند روز قبل وسطی غزہ کے شہر دیر البلاح میں اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ سے شدید زخمی ہو گئی تھی، ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے خالقِ حقیقی سے جا ملی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فاطمہ البیوک کی شہادت کی خبر نے علاقے میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ شہید بچی کو ان کے قریبی رشتہ داروں نے انتہائی رنج و غم کے ماحول میں سپرد خاک کر دیا ہے۔ اس المناک واقعے نے ایک بار پھر غزہ میں جاری انسانی بحران کی سنگینی کو اجاگر کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فاطمہ البیوک کی کہانی انتہائی دردناک ہے۔ اکتوبر 2023 میں غزہ پر شروع ہونے والے اسرائیلی حملوں کے دوران اس بچی نے اپنے خاندان کے تمام افراد کو کھو دیا تھا۔ حملے کے دو روز بعد، امدادی کارکنوں نے اسے ملبے سے معجزانہ طور پر زندہ نکالا تھا، جس کے بعد اسے اس کی دادی کے حوالے کر دیا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسرائیلی فوج کی جانب سے کی جانے والی فائرنگ کے اس واقعے نے ایک ایسی بچی کی زندگی کا خاتمہ کر دیا جو پہلے ہی جنگ کے ہولناک اثرات سے گزر چکی تھی۔ فاطمہ کا زندہ بچ جانا ایک معجزہ سمجھا جاتا تھا، لیکن اب وہ بھی اسرائیلی جارحیت کا شکار ہو گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">غزہ میں جاری اس طویل جنگ کے دوران اب تک 74 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد ایک لاکھ 75 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ ان اعداد و شمار میں بڑی تعداد میں خواتین اور بچے شامل ہیں جو براہ راست حملوں کا نشانہ بنے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے بارہا غزہ میں شہریوں کے تحفظ کے لیے آواز اٹھائی ہے، تاہم زمینی صورتحال بدستور تشویشناک ہے۔ غزہ کا تقریباً 90 فیصد شہری انفراسٹرکچر مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے، جس سے انسانی زندگی کا گزارہ ناممکن ہو گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گزشتہ سال ہونے والی عارضی جنگ بندی کے باوجود، اسرائیلی کارروائیاں تھم نہ سکیں۔ جنگ بندی کے بعد سے اب تک مزید 1500 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں فاطمہ البیوک جیسی معصوم بچیاں بھی شامل ہیں جو محفوظ پناہ گاہوں کی تلاش میں تھیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فاطمہ کی شہادت نے دنیا بھر میں انسانی حقوق کے کارکنوں کو ایک بار پھر متوجہ کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی اس بچی کی کہانی کو شیئر کیا جا رہا ہے، جس میں لوگ اس کے خاندان کے ساتھ پیش آنے والے سانحے اور اس کی اپنی شہادت پر گہرے دکھ کا اظہار کر رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">غزہ میں طبی سہولیات کا فقدان بھی ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ ہسپتالوں میں ادویات اور طبی آلات کی شدید کمی ہے، جس کی وجہ سے زخمی ہونے والے افراد کو بروقت علاج فراہم کرنا ناممکن ہو گیا ہے۔ فاطمہ البیوک کی موت بھی اسی بحران کا ایک حصہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی برادری کی جانب سے جنگ بندی کے مطالبات کے باوجود، اسرائیل کی جانب سے غزہ میں فوجی کارروائیاں جاری ہیں۔ فلسطینی عوام اس وقت تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہے ہیں جہاں ہر گزرتا دن ایک نئی آزمائش اور ایک نئے سانحے کو جنم دے رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فاطمہ البیوک کی شہادت اس بات کا ثبوت ہے کہ غزہ میں کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں ہے۔ چاہے وہ رہائشی علاقے ہوں یا پناہ گزین کیمپ، اسرائیلی فوج کی فائرنگ اور بمباری کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، جس سے عام شہریوں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فلسطینی حکام نے عالمی عدالتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں ہونے والی نسل کشی کا نوٹس لیں اور اسرائیل کو ان جرائم سے روکنے کے لیے فوری اقدامات کریں۔ فاطمہ جیسی ہزاروں بچیوں کے خون کا حساب لینا عالمی برادری کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/2410/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پنجاب میں یتیم بچوں کی کفالت کے اداروں کی نگرانی پر سوالیہ نشان</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/education/1713/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/education/1713/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 21 Oct 2026 11:16:51 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[تعلیم]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امتحانات]]></category>
		<category><![CDATA[انسانی_حقوق]]></category>
		<category><![CDATA[بچوں_کا_استحصال]]></category>
		<category><![CDATA[بچوں_کا_تحفظ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[تحقیقات]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/education/%d9%be%d9%86%d8%ac%d8%a7%d8%a8-%d9%85%db%8c%da%ba-%db%8c%d8%aa%db%8c%d9%85-%d8%a8%da%86%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%da%a9%d9%81%d8%a7%d9%84%d8%aa-%da%a9%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[ملتان میں بچے کی ہلاکت کے بعد فلاحی اداروں میں بچوں کی حوالگی اور سکیورٹی کے معاملات کی چھان بین کا مطالبہ سامنے آ گیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پنجاب بھر میں یتیم، لاوارث اور بے سہارا بچوں کی کفالت کے نام پر قائم اداروں کے نظام اور ان کی نگرانی کے طریقہ کار پر سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ جن معصوم بچوں کو تحفظ، بہتر تعلیم اور روشن مستقبل فراہم کرنا معاشرے کی بنیادی ذمہ داری ہے، انہیں مبینہ طور پر ہنر سکھانے اور روزگار کے بہانے نجی افراد کے حوالے کرنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملتان میں 15 سالہ یتیم بچے وسیم عباس کی المناک ہلاکت کے بعد اس نوعیت کے تمام نجی و سرکاری اداروں کی رجسٹریشن، نگرانی اور بچوں کی حوالگی کے معاملات کی گہرائی سے جانچ پڑتال کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔ اس واقعے نے اس امر کو اجاگر کیا ہے کہ والدین کے سائے سے محروم بچوں کی حفاظت کے لیے بنائے گئے ادارے اپنی ذمہ داریاں کتنی دیانت داری سے نبھا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مختلف ذرائع سے یہ اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ اس حساس معاملے پر متعلقہ اداروں سے ریکارڈ طلب کرنے اور تحقیقات کے دائرے کو وسیع کرنے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔ محکمہ سوشل ویلفیئر و بیت المال پنجاب، پنجاب چیریٹی کمیشن، چائلڈ پروٹیکشن بیورو اور پولیس کے متعلقہ شعبوں سے اداروں اور ان میں مقیم بچوں کی تفصیلات حاصل کرنے کے امور زیر غور لائے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیقات کا بنیادی نکتہ یہ ہونا چاہیے کہ صوبے میں کتنے سرکاری اور نجی یتیم خانے اور رہائشی مراکز فعال ہیں اور ان میں کتنے بچے مقیم ہیں۔ اس بات کا بھی احاطہ کیا جانا ضروری ہے کہ کتنے ادارے متعلقہ قوانین کے تحت باقاعدہ رجسٹرڈ ہیں اور ان کی نگرانی کا اصل ذمہ دار کون سا ادارہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اگر بچوں کو تعلیم، تربیت یا ہنر سکھانے کے نام پر اداروں کی حدود سے باہر کسی تیسرے فریق کے پاس بھیجا جاتا ہے، تو اس کے لیے قانونی اجازت کون دیتا ہے۔ بچوں کی حفاظت کی مکمل ضمانت کون لیتا ہے اور ان کی روزمرہ سرگرمیوں کی نگرانی کا فریضہ کون انجام دیتا ہے، یہ اہم سوالات طلب کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پنجاب حکومت اور متعلقہ حکام کے لیے یہ جاننا بھی انتہائی اہم ہے کہ کہیں کم عمر بچوں کو کام سکھانے یا روزگار کے نام پر نجی ورکشاپوں، دکانوں یا دیگر افراد کے سپرد تو نہیں کیا جا رہا۔ اگر ایسا ہو رہا ہے تو اس کی قانونی حیثیت، بچوں کی عمروں، اجازت ناموں اور حفاظتی انتظامات کی چھان بین ناگزیر ہو جاتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ امر بھی تشویشناک ہے کہ بچوں سے کام لینے کی صورت میں ان کی اجرت باقاعدگی سے طے کی جاتی ہے یا نہیں اور وہ رقم کس کے حوالے کی جاتی ہے۔ کیا یہ آمدنی بچوں کی خوراک، رہائش، تعلیم اور بہتر مستقبل پر خرچ ہوتی ہے یا پھر اس کا استحصال کیا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اگر کسی فلاحی ادارے یا تیسرے فریق کی جانب سے بچوں کی محنت سے ناجائز فائدہ اٹھانے، اجرت روکنے یا جبری مشقت کے شواہد ملتے ہیں تو یہ محض انتظامی کوتاہی نہیں ہوگی۔ یہ بچوں کے بنیادی حقوق کی سنگین پامالی کا معاملہ ہے جس پر قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جانی چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملتان کے رہائشی وسیم عباس کی موت نے اس حقیقت کو واضح کر دیا ہے کہ یتیم خانوں سے باہر بچوں کی نقل و حرکت اور سرگرمیوں کا مکمل ریکارڈ رکھا جانا چاہیے۔ کسی بھی بچے کو کس مقصد اور کس کی اجازت سے باہر بھیجا گیا، اس کا جوابدہ کون ہوگا، اس کا تعین کیا جانا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ سوشل ویلفیئر پنجاب کی سرکاری معلومات کے مطابق صوبے بھر میں یتیم اور بے سہارا بچوں کے لیے 15 چلڈرن ہومز قائم ہیں۔ اس کے علاوہ لاہور، ملتان اور راولپنڈی میں گہوارہ مراکز بھی کام کر رہے ہیں جو کم سن لاوارث بچوں کو عارضی پناہ فراہم کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گمشدہ، اغوا شدہ اور گھریلو تشدد یا جبری مشقت کا شکار بچوں کی بازیابی اور بحالی کے لیے آٹھ نگہبان مراکز بھی اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ تاہم یہ سرکاری مراکز صوبے میں موجود تمام نجی یتیم خانوں اور فلاحی اداروں کی مکمل نمائندگی نہیں کرتے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عوامی سطح پر دستیاب معلومات سے نجی فلاحی اداروں اور ان میں مقیم بچوں کی درست اور مصدقہ تعداد کا اندازہ لگانا مشکل ہے، جس کی وجہ سے ایک واضح معلوماتی خلا موجود ہے۔ اس خلا کو پُر کرنے کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو مل کر ایک شفاف اور قابلِ تصدیق ڈیٹا بیس تیار کرنا ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیقات کے دوران یہ بھی جانچنا لازمی ہے کہ بچوں کی کفالت کا دعویٰ کرنے والی تنظیمیں پنجاب چیریٹی کمیشن اور دیگر متعلقہ اداروں کے ہاں قانون کے مطابق رجسٹرڈ ہیں یا نہیں۔ کسی بھی فلاحی ادارے کی رجسٹریشن کو بچوں کی تحویل یا انہیں کسی تیسرے فریق کے حوالے کرنے کی خودکار اجازت ہرگز نہیں سمجھا جا سکتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متعلقہ حکام کو چاہیے کہ وہ ہر ادارے میں مقیم بچوں کی تعداد، ان کے داخلے اور اخراج کے ریکارڈ اور طبی سہولتوں کی باقاعدگی سے پڑتال کریں۔ بدسلوکی، استحصال یا غیر قانونی سرگرمیوں کی شکایات پر کاغذی کارروائی کے بجائے فوری اور آزادانہ تحقیقات کی جانی چاہئیں تاکہ ذمہ داروں کو کٹہرے میں لایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ صورتحال میں متعلقہ حکام کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ پنجاب بھر کے تمام سرکاری اور نجی فلاحی اداروں کا مستند ریکارڈ سامنے لائیں۔ بچوں کے حقوق کے تحفظ اور ان کے استحصال کے سدباب کے لیے شفاف تحقیقات اور موثر عملی اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/education/1713/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>امریکی انتظامیہ نے دوسرے دورِ حکومت میں 3 لاکھ سے زائد ویزے منسوخ کر دیے</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/1711/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/1711/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 21 Oct 2026 10:57:17 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امریکہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکہ_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[امریکی_محکمہ_خارجہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکی_ویزا]]></category>
		<category><![CDATA[امیگریشن]]></category>
		<category><![CDATA[انسانی_حقوق]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a7%d9%85%d8%b1%db%8c%da%a9%db%8c-%d8%a7%d9%86%d8%aa%d8%b8%d8%a7%d9%85%db%8c%db%81-%d9%86%db%92-%d8%af%d9%88%d8%b3%d8%b1%db%92-%d8%af%d9%88%d8%b1-%d8%ad%da%a9%d9%88%d9%85%d8%aa/</guid>

					<description><![CDATA[محکمہ خارجہ کے مطابق یہ اقدام ملکی سلامتی بہتر بنانے کے لیے زیرو ٹالرینس پالیسی کے تحت کیا گیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">واشنگٹن میں امریکی حکومت کی جانب سے غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف سخت ترین کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے تحت اب تک لاکھوں کی تعداد میں سفری دستاویزات منسوخ کی جا چکی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اپنے دوسرے دورِ حکومت کے دوران ملک بھر میں امیگریشن قوانین پر عملدرآمد کو انتہائی سخت کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکہ کے محکمہ خارجہ کی طرف سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق حکومت نے اب تک 3 لاکھ سے زائد امریکی ویزے منسوخ کرنے کا اقدام اٹھایا ہے۔ محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک بیان میں ان اعداد و شمار کی تفصیلات عام کی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترجمان کا کہنا ہے کہ موجودہ انتظامیہ نے ملکی تاریخ کی کسی بھی دوسری حکومت کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے اور اتنی بڑی تعداد میں ویزے منسوخ کیے ہیں۔ اس سے قبل جاری کردہ رپورٹس میں جنوری 2025ء سے شروع ہونے والے اس دور میں ویزے منسوخ کرنے کی تعداد 1 لاکھ 75 ہزار بتائی گئی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس تمام صورتحال پر مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کی سخت امیگریشن کریک ڈاؤن اور ملک بدری کی اس مہم کا بنیادی مقصد امریکی عوام کی گھریلو اور داخلی سلامتی کو بہتر بنانا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ ملکی بقا اور امن کے لیے کڑے فیصلے ناگزیر ہو چکے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ خارجہ کے ترجمان نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو غیر ملکی شہری ویزے کی بنیاد پر امریکہ میں رہائش پذیر ہیں لیکن کسی بھی قانون شکنی میں ملوث پائے جاتے ہیں، ان کے خلاف بلاتفریق سخت ترین قانونی قدم اٹھائے جائیں گے۔ اس کے علاوہ دھوکا دہی یا قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف بھی زیرو ٹالرینس کی پالیسی پر سختی سے عمل کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب اس سخت گیر پالیسی پر انسانی حقوق کے سرکردہ کارکنوں اور مختلف فلاحی تنظیموں کی جانب سے شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس پالیسی کے نفاذ سے قانونی تقاضوں اور آزادیِ اظہارِ رائے کے حقوق کی پامالی ہو رہی ہے، جس سے معاشرے میں عدم تحفظ کا ماحول پیدا ہو رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انسانی حقوق کی تنظیموں کا یہ بھی ماننا ہے کہ اس طرح کے اقدامات کی وجہ سے نسلی اقلیتوں کے لیے مشکلات بڑھ گئی ہیں اور ان میں نسلی بنیادوں پر نشانہ بنائے جانے کے خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق خاص طور پر ان ویزا منسوخیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے جو غزہ تنازع کے دوران احتجاج کرنے والے غیر ملکی مظاہرین کے خلاف کی گئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس ضمن میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ قدامت پسند شخصیات کے خلاف سوشل میڈیا پر تبصرہ کرنے والے غیر ملکی افراد کو بھی اس کریک ڈاؤن کی زد میں لایا گیا ہے۔ غیر ملکی مظاہرین کو ملک بدر کرنے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ انتظامیہ نے تارکینِ وطن اور ویزا کے خواہش مندوں کے لیے سوشل میڈیا اسکریننگ کے عمل کو بھی انتہائی کڑا کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حقوقِ انسانی کے کارکنوں کا یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ حکومت اپنے ناقدین کو دبانے کے لیے قومی سلامتی کے بہانے استعمال کر رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فراڈ کے واقعات کو بنیاد بنا کر بعض مخصوص تارکینِ وطن کی بڑی برادریوں کو اجتماعی طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے جس سے معاشرتی توازن متاثر ہو رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی حکومت کے ان اقدامات سے دنیا بھر کے ان افراد میں بھی اضطراب پایا جاتا ہے جو امریکہ جانے کے خواہشمند ہیں یا وہاں روزگار کے سلسلے میں مقیم ہیں۔ تارکینِ وطن کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے مسلسل مطالبہ کر رہے ہیں کہ امیگریشن کے قوانین میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے تاکہ بے جا پریشانی سے بچا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مجموعی طور پر یہ صورتحال بین الاقوامی سطح پر تارکینِ وطن اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے جہاں حکومتی پالیسیوں اور ان کے اثرات پر بحث کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ تمام متعلقہ فریقین اس تنازع پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کہ آنے والے مہینوں میں امریکی ویزا پالیسی کا رخ کیا ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/1711/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>عالمی تنازعات اور انسانی المیہ: جنگ کے بعد کیا بچتا ہے؟</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/1163/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/1163/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 17 Oct 2026 20:58:24 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[امن_کی_تلاش]]></category>
		<category><![CDATA[انسانی_حقوق]]></category>
		<category><![CDATA[انسانیت]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[جنگ_کے_اثرات]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سفارت_کاری]]></category>
		<category><![CDATA[سوڈان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%b9%d8%a7%d9%84%d9%85%db%8c-%d8%aa%d9%86%d8%a7%d8%b2%d8%b9%d8%a7%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%a7%d9%84%d9%85%db%8c%db%81-%d8%ac%d9%86%da%af/</guid>

					<description><![CDATA[دنیا بھر میں جاری جنگیں صرف سیاسی مقاصد کا حصول نہیں بلکہ انسانی زندگیوں کی تباہی کا باعث بن رہی ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">موجودہ دور میں دنیا کے مختلف خطوں میں جاری کشیدگی نے انسانیت کو ایک سنگین بحران میں مبتلا کر دیا ہے۔ غزہ سے لے کر یوکرین اور سوڈان تک، جنگوں کا یہ نہ ختم ہونے والا سلسلہ صرف جغرافیائی حدود کا تنازع نہیں بلکہ عام انسانوں کی بربادی کی داستان ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جنگ کے آغاز کا اعلان اکثر ایوانوں میں طاقت کے زور پر کیا جاتا ہے، مگر اس کا اختتام کسی اعلامیے سے نہیں بلکہ انسانی لاشوں اور اجڑے ہوئے گھروں پر ہوتا ہے۔ تاریخ فاتحین کے نام تو محفوظ کر لیتی ہے، لیکن ان چیخوں کو فراموش کر دیتی ہے جو جنگ کی نذر ہو جاتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یمن، سوڈان اور دیگر متاثرہ علاقوں سے آنے والی اطلاعات انتہائی تشویشناک ہیں۔ 14 اکتوبر 2026 کو یمن سے آنے والی خبریں بتاتی ہیں کہ وہاں تازہ لڑائی نے طبی مراکز کو زخمیوں سے بھر دیا ہے اور لاکھوں افراد تک امداد کی رسائی متاثر ہوئی ہے۔ سوڈان میں جنگ، خشک سالی اور خوراک کی قلت نے کروڑوں انسانوں کی زندگیوں کو عدم تحفظ سے دوچار کر رکھا ہے، جو محض اعداد و شمار نہیں بلکہ انسانی المیہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اکثر جنگوں کو قومی سلامتی، سرحدوں کے تحفظ، مذہب، آزادی یا قومی وقار کے نام پر جائز قرار دیا جاتا ہے۔ بلاشبہ ہر ملک کو اپنی خودمختاری کے تحفظ کا حق حاصل ہے، لیکن طاقتور ممالک کے بیان کردہ مقاصد اور زمینی حقائق کے درمیان ایک گہری خلیج موجود ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی طاقت کے موجودہ نظام میں اسلحہ محض دفاع کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک منافع بخش کاروبار بن چکا ہے۔ جب بڑی طاقتیں اپنے حریفوں کو کمزور کرنے، اہم تجارتی راستوں پر کنٹرول قائم رکھنے، وسائل تک رسائی حاصل کرنے یا اپنے اتحادیوں کی بالادستی برقرار رکھنے کے لیے کمزور ممالک کو میدانِ جنگ بناتی ہیں، تو اس کی سب سے بڑی قیمت وہاں کے عام شہری ادا کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ہر تنازع کی اپنی ایک الگ تاریخ اور داخلی تضادات ہوتے ہیں، تاہم یہ حقیقت ناقابلِ تردید ہے کہ عالمی طاقت کا غیر مساوی نظام کمزور ممالک کے لیے اپنے فیصلے خود کرنے کی گنجائش کو محدود کر دیتا ہے۔ قرض، اسلحے پر انحصار، اتحاد اور بیرونی دباؤ ان کی خودمختاری کو متاثر کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس منظرنامے کا سب سے بڑا تضاد یہ ہے کہ جنگ کا فیصلہ کرنے والے اور اس کا خمیازہ بھگتنے والے مختلف لوگ ہوتے ہیں۔ قیادتیں محفوظ مقامات پر بیٹھ کر فیصلے کرتی ہیں، جبکہ ایک مزدور اپنی روزی اور ایک طالب علم اپنا اسکول کھو دیتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جنگ کی تباہی صرف براہِ راست نشانہ بننے والوں تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے اثرات نسلوں تک محیط ہوتے ہیں۔ غربت، نفرت اور انتقام کی آگ کئی دہائیوں تک معاشروں کو عدم استحکام کا شکار رکھتی ہے، جس سے نکلنا ناممکن حد تک مشکل ہو جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بین الاقوامی اداروں اور قوانین کی اخلاقی حیثیت پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں۔ امن صرف قراردادوں سے قائم نہیں ہوتا، بلکہ اس کے لیے اصولوں کا یکساں اطلاق اور خلاف ورزیوں پر جوابدہی ضروری ہے۔ کمزوروں کو خوف سے آزادی ملنا ہی حقیقی امن ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آج سائنس اور ٹیکنالوجی نے انسانی زندگی کو بہتر بنانے کے بے شمار مواقع پیدا کیے ہیں، مگر افسوس کہ یہی ترقی تباہی کے مؤثر ذرائع بنانے میں استعمال ہو رہی ہے۔ بیماریوں کے خاتمے کے بجائے جنگی اخراجات پر اربوں ڈالر خرچ کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ صرف معاشی ترجیحات کا مسئلہ نہیں بلکہ ہماری تہذیبی اقدار کا امتحان ہے۔ جنگ شروع کرنے کے لیے ایک غلط فیصلہ کافی ہوتا ہے، لیکن اس کے زخم بھرنے کے لیے انصاف، اعتماد اور تعمیرِ نو کے طویل سفر کی ضرورت ہوتی ہے جو کئی نسلوں پر محیط ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اب وقت آ گیا ہے کہ اقوامِ عالم اپنی ترجیحات پر نظرِ ثانی کریں۔ ہمیں یہ پوچھنے کی ضرورت ہے کہ جنگ کے بعد انسان کے پاس کیا بچا؟ کتنے خاندان اپنی چھت برقرار رکھ سکے اور کتنے بچوں کا مستقبل محفوظ رہا؟</p>
<p class="wp-block-paragraph">کسی بھی جنگ کی سب سے بڑی ناکامی اس وقت سامنے آتی ہے جب فتح کے دعووں کے درمیان انسانی زندگی کی کوئی قیمت باقی نہیں رہتی۔ دنیا کو اب قتل و غارت کو معمول سمجھنے کے بجائے امن کے قیام کے لیے عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/1163/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>غزہ میں اسرائیلی مظالم پر مبنی دستاویزی فلم &#8216;نازا&#8217; عالمی سطح پر زیر بحث</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/1012/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/1012/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 16 Oct 2026 22:37:07 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسرائیل]]></category>
		<category><![CDATA[اسرائیلی_فوج]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا]]></category>
		<category><![CDATA[انسانی_حقوق]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[جنگی_جرائم]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%ba%d8%b2%db%81-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%a6%db%8c%d9%84%db%8c-%d9%85%d8%b8%d8%a7%d9%84%d9%85-%d9%be%d8%b1-%d9%85%d8%a8%d9%86%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[اسرائیلی فوج کے سابق اہلکاروں کی گواہیوں پر مبنی دستاویزی فلم نے غزہ میں ہونے والے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">غزہ میں جاری جنگ کے دوران اسرائیلی فوج کے سابق اہلکاروں کی جانب سے کیے گئے انکشافات پر مبنی دستاویزی فلم &#039;نازا&#039; نے عالمی سطح پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اس فلم میں چودہ ایسے سابق فوجیوں اور انٹیلی جنس اہلکاروں کی شہادتیں شامل ہیں جنہوں نے غزہ میں براہِ راست آپریشنز میں حصہ لیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فلم میں شامل کرداروں نے اپنی شناخت چھپا کر ان ہولناک واقعات کا ذکر کیا ہے جو غزہ میں ان کی تعیناتی کے دوران پیش آئے۔ ان گواہیوں میں عام شہریوں کی ہلاکتوں، انسانی ڈھال کے استعمال اور رہائشی عمارتوں کو بلاوجہ تباہ کرنے جیسے سنگین الزامات لگائے گئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایک سابق فوجی نے انکشاف کیا کہ جبالیہ کیمپ میں ایک ہدف کو نشانہ بنانے کے لیے تین سو سے زائد عام شہریوں کی ہلاکت کو ایک معمولی سودا سمجھ کر قبول کر لیا گیا تھا۔ یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ آپریشنز کے دوران شہریوں کی زندگیوں کو کس قدر غیر اہم سمجھا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دیگر گواہیوں میں یہ بھی بتایا گیا کہ کس طرح فلسطینیوں کو گرفتار کر کے انہیں فوجی وردیاں پہنائی گئیں اور پھر انہیں خطرناک سرنگوں یا مشتبہ گھروں میں داخل ہونے پر مجبور کیا گیا۔ یہ عمل بین الاقوامی قوانین کے تحت انسانی ڈھال کے استعمال کے زمرے میں آتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فلم میں یہ بھی بتایا گیا کہ کس طرح صحافیوں کو نشانہ بنا کر بعد میں انہیں دہشت گرد قرار دینے کی کوشش کی گئی۔ ناصر اسپتال پر حملے کے دوران ہلاک ہونے والے افراد کے بارے میں پہلے دعویٰ کیا گیا کہ وہ دہشت گرد تھے، لیکن بعد میں ان کی شناخت صحافیوں کے طور پر ہوئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسرائیلی اسٹیبلشمنٹ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اسے پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔ حکام کی جانب سے فلم کے ہدایت کاروں کو دھمکیاں دی گئی ہیں اور اسرائیل میں اس کی نمائش کو سنگین جرم قرار دینے کا عندیہ دیا گیا ہے، جس سے فلم کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جرمن اخبار &#039;دیر شپیگل&#039; اور اسرائیلی تنظیم &#039;بریکنگ دی سائلنس&#039; نے بھی اپنی رپورٹس میں اسی طرح کے واقعات کا ذکر کیا ہے۔ ان رپورٹس کے مطابق، غزہ میں تعینات رہنے والے متعدد فوجیوں نے دوبارہ وہاں جانے سے انکار کر دیا ہے کیونکہ وہ ان مظالم کا مزید حصہ نہیں بننا چاہتے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فلم میں یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ کس طرح جنگ بندی کے نام پر اسرائیل نے غزہ کے رقبے پر اپنا کنٹرول مزید بڑھایا ہے۔ بائیس لاکھ فلسطینیوں کو ایک محدود علاقے میں محصور کر دیا گیا ہے، جبکہ جنوبی لبنان میں بھی اسی طرز پر تباہی پھیلائی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بین الاقوامی سطح پر ان شواہد کو جنگی جرائم کے زمرے میں لانے کی آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ تاہم، عالمی عدالتِ انصاف کے سامنے ان معاملات کو لے جانے میں بڑی رکاوٹیں حائل ہیں، خاص طور پر طاقتور ممالک کی جانب سے عدالت پر دباؤ اور پابندیوں کی دھمکیاں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فلم &#039;نازا&#039; نے ان تمام دعووں کو چیلنج کیا ہے جو اسرائیلی قیادت کی جانب سے کیے جاتے ہیں۔ یہ دستاویزی فلم نہ صرف غزہ کے سانحات کی ایک جھلک پیش کرتی ہے بلکہ یہ بھی بتاتی ہے کہ کس طرح سچائی کو دبانے کے لیے ریاستی مشینری کا استعمال کیا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ گواہیاں ان ہزاروں فلسطینیوں کی آواز ہیں جو اس جنگ میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ان واقعات کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ مسلسل بڑھ رہا ہے تاکہ ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ صورتحال میں یہ فلم ایک اہم دستاویز کی حیثیت اختیار کر گئی ہے۔ یہ دنیا کو یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ کیا طاقت کے زور پر انسانیت کے خلاف ہونے والے جرائم کو ہمیشہ کے لیے چھپایا جا سکتا ہے یا سچائی کسی نہ کسی طرح سامنے آ ہی جاتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">غزہ میں جاری انسانی المیہ صرف ایک خطے تک محدود نہیں بلکہ یہ پوری دنیا کے ضمیر کے لیے ایک سوال ہے۔ &#039;نازا&#039; جیسی فلمیں اس بات کی یاد دہانی کراتی ہیں کہ جنگ کے دوران بھی انسانی اقدار کا تحفظ ہر حال میں ضروری ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/1012/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>عراق: خواتین کے خلاف جنسی تشدد اور ہراسانی کے واقعات میں اضافہ، متاثرین کو انصاف کا انتظار</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/988/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/988/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 16 Oct 2026 19:58:00 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا]]></category>
		<category><![CDATA[انسانی_حقوق]]></category>
		<category><![CDATA[بغداد]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[جنسی_تشدد]]></category>
		<category><![CDATA[چین]]></category>
		<category><![CDATA[خواتین_کا_تحفظ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%b9%d8%b1%d8%a7%d9%82-%d8%ae%d9%88%d8%a7%d8%aa%db%8c%d9%86-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81-%d8%ac%d9%86%d8%b3%db%8c-%d8%aa%d8%b4%d8%af%d8%af-%d8%a7%d9%88%d8%b1/</guid>

					<description><![CDATA[عراق میں خواتین کو جنسی استحصال اور ہراسانی کے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، جبکہ قانونی تحفظ اور سماجی رکاوٹیں انصاف کی راہ میں بڑی دیوار بنی ہوئی ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">عراق میں خواتین کو جنسی ہراسانی اور گھریلو تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات نے انسانی حقوق کے اداروں اور سماجی کارکنوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ متاثرہ خواتین کا کہنا ہے کہ انہیں نہ صرف معاشرتی دباؤ کا سامنا ہے بلکہ قانونی نظام بھی انہیں تحفظ فراہم کرنے میں ناکام نظر آتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حقوقِ نسواں کے لیے سرگرم کارکن سارہ جاسم کا کہنا ہے کہ اب خواتین اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لے رہی ہیں۔ وہ ہراسانی کے واقعات کو کیمرے میں محفوظ کر کے سوشل میڈیا پر شیئر کرتی ہیں تاکہ مجرموں کو بے نقاب کیا جا سکے اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سارہ جاسم نے بتایا کہ اس طرح کی ویڈیوز کے ذریعے ایک پولیس اہلکار کو گرفتار بھی کیا گیا جس پر طالبات کو ہراساں کرنے کا الزام تھا۔ تاہم، اس عمل کے دوران انہیں خود بھی سنگین دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس کی وجہ سے ان کی نقل و حرکت محدود ہو گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اقوام متحدہ کی خواتین کے خلاف امتیازی سلوک سے متعلق کمیٹی نے بھی اپنی حالیہ رپورٹ میں عراق میں خواتین پر تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کمیٹی نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امتیازی قوانین کو ختم کریں جو مجرموں کو سزا سے بچنے کا موقع دیتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کمیٹی نے خاص طور پر ان قوانین پر تنقید کی ہے جن کے تحت ریپ کے مجرم کو متاثرہ خاتون سے شادی کرنے پر سزا سے استثنیٰ مل جاتا ہے۔ اس کے علاوہ &#039;غیرت کے نام پر قتل&#039; کے مرتکب افراد کے لیے نرم سزاؤں کو بھی ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایک متاثرہ خاتون &#039;امل&#039; نے اپنی بیٹی کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وہ گزشتہ پانچ برس سے انصاف کے لیے عدالتوں کے چکر کاٹ رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ قانونی لڑائی میں وسائل کی کمی اور سماجی بدنامی کا خوف ان کے لیے بڑی رکاوٹ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عراق میں خواتین کے لیے محفوظ پناہ گاہوں کی شدید کمی بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ حال ہی میں حقوقِ نسواں کی ایک معروف کارکن یانار محمد کو بغداد میں قتل کر دیا گیا، جس کے بعد سے سماجی کارکنوں میں عدم تحفظ کا احساس مزید بڑھ گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عراقی آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے سربراہ مصطفیٰ سعدون کے مطابق، مسئلہ صرف یہ نہیں کہ خواتین خاموش رہتی ہیں، بلکہ جب وہ بولتی ہیں تو نظام میں ان کی بات سننے اور کارروائی کرنے والے اداروں کا فقدان ہے۔ ہر سطح پر معاملے کو خاموشی سے نمٹانے کا دباؤ ڈالا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سمیرا (فرضی نام) جیسی خواتین کا کہنا ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ اور عوامی مقامات پر ہراسانی کے واقعات معمول بن چکے ہیں۔ پولیس کے پاس جانے پر بھی اکثر یہی جواب ملتا ہے کہ ان کے پاس کارروائی کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے، جس سے خواتین کا اداروں پر اعتماد ختم ہو رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی کارکن ہناء ادوار نے بھی اس صورتحال کو تشویشناک قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عراق میں خواتین کے لیے نہ تو مناسب قوانین موجود ہیں اور نہ ہی انہیں انصاف کے حصول کے لیے کوئی ٹھوس نظام میسر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معاشرتی سطح پر بھی خواتین کو اپنے خاندانوں کے ردعمل کا خوف رہتا ہے، جس کی وجہ سے بہت سے واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔ خاندان کی ساکھ بچانے کے نام پر اکثر متاثرہ خواتین کو خاموش رہنے پر مجبور کیا جاتا ہے، جو مجرموں کی حوصلہ افزائی کا باعث بنتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عراق میں خواتین کی ایک بڑی تعداد اب بھی اس امید پر ہے کہ حکومتی سطح پر ایسے قوانین بنائے جائیں گے جو ان کے تحفظ کو یقینی بنا سکیں۔ انصاف کے حصول کے لیے ایک طویل قانونی عمل اور معاشرتی رویوں میں تبدیلی کی اشد ضرورت ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/988/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>اسرائیل نے مشرق وسطیٰ تنازع میں اخلاقی برتری کھو دی ہے، باراک اوباما</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/878/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/878/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 15 Oct 2026 19:36:35 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسرائیل]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا]]></category>
		<category><![CDATA[امریکی_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[انسانی_حقوق]]></category>
		<category><![CDATA[باراک_اوباما]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_تعلقات]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%a6%db%8c%d9%84-%d9%86%db%92-%d9%85%d8%b4%d8%b1%d9%82-%d9%88%d8%b3%d8%b7%db%8c%d9%b0-%d8%aa%d9%86%d8%a7%d8%b2%d8%b9-%d9%85%db%8c%da%ba/</guid>

					<description><![CDATA[سابق امریکی صدر نے شمالی آئرلینڈ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فوجی طاقت پائیدار سلامتی کی ضمانت نہیں دے سکتی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">سابق امریکی صدر باراک اوباما نے مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال اور غزہ میں جاری کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل نے اس تنازعے کے دوران اپنی اخلاقی برتری کھو دی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ بیان سابق امریکی صدر نے شمالی آئرلینڈ کے شہر بیلفاسٹ میں ایک تقریب کے دوران معروف مصنفہ اور صحافی سوزن میکے کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے دیا، جس کی بازگشت عالمی سطح پر سنی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اوباما نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ محض فوجی طاقت کا استعمال کسی بھی صورت میں پائیدار امن اور سلامتی کی ضمانت فراہم نہیں کر سکتا، جو کہ خطے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کو بنیادی حقوق اور رعایتیں دینے سے مسلسل انکار کرنا اسرائیل کی عالمی سطح پر اخلاقی پوزیشن کو کمزور کرنے کا باعث بن رہا ہے، جس کے نتائج طویل مدت میں نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">غزہ میں جاری جنگ اور تشدد کے واقعات پر بات کرتے ہوئے سابق صدر نے کہا کہ اس تباہ کن صورتحال سے دنیا کے ہر باضمیر انسان کو تکلیف ہونی چاہیے، کیونکہ یہ ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ معلوم ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے اس تنازعے کو تاریخی شکایات، سخت گیر رویوں اور گہری سماجی تقسیم کا نتیجہ قرار دیا، جس نے پورے خطے کو ایک ایسے تباہ کن چکر میں دھکیل دیا ہے جہاں سے نکلنا مشکل نظر آتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">باراک اوباما نے یورپ میں یہودی عوام کو درپیش تاریخی ظلم و ستم اور مشکلات کا اعتراف کیا، تاہم انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ فلسطینیوں نے اپنی زمینوں سے محرومی اور ناانصافی کا سامنا کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے واضح کیا کہ فلسطینیوں کی جانب سے اپنی زمینوں کی واپسی کا مطالبہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے، جسے نظر انداز کر کے خطے میں دیرپا امن کا قیام کسی بھی طور پر ممکن نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سابق صدر نے کہا کہ اگر اسرائیل کا رویہ یہ رہا کہ وہ خطے میں سب سے زیادہ طاقتور اور تکنیکی اعتبار سے ترقی یافتہ ہونے کے ناطے اپنی مرضی مسلط کرے گا، تو یہ حکمت عملی قلیل مدت کے لیے شاید کارگر ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اسرائیل کسی بھی قسم کی رعایت دینے سے انکار کرتا ہے اور صرف طاقت کے زور پر اپنے اہداف حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے، تو وہ اپنی اخلاقی بنیادیں کھو دے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اوباما کے اس بیان کو مشرقِ وسطیٰ کے تنازع پر امریکی حلقوں میں ایک اہم اور واضح مؤقف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس میں انہوں نے طاقت کے بجائے سفارتکاری اور انصاف پر مبنی حل کی ضرورت پر زور دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ سابق امریکی صدر کے یہ ریمارکس اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ عالمی سطح پر اسرائیل کی پالیسیوں پر تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے اور امن کے لیے نئے زاویوں کی تلاش ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خطے میں جاری کشیدگی کے باعث انسانی المیہ جنم لے چکا ہے، اور اوباما کے الفاظ اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ کسی بھی تنازع کے حل کے لیے اخلاقی اقدار اور انسانی حقوق کا احترام بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/878/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
