<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.29.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>انتقال &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%a7%d9%86%d8%aa%d9%82%d8%a7%d9%84/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sun, 01 Nov 2026 09:26:37 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>انتقال &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>بالی ووڈ کے معروف ہدایت کار سنجے گپتا 57 برس کی عمر میں انتقال کر گئے</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/showbiz/%d8%a8%d8%a7%d9%84%db%8c-%d9%88%d9%88%da%88-%da%a9%db%92-%d9%85%d8%b9%d8%b1%d9%88%d9%81-%db%81%d8%af%d8%a7%db%8c%d8%aa-%da%a9%d8%a7%d8%b1-%d8%b3%d9%86%d8%ac%db%92-%da%af%d9%be%d8%aa%d8%a7-57/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/showbiz/%d8%a8%d8%a7%d9%84%db%8c-%d9%88%d9%88%da%88-%da%a9%db%92-%d9%85%d8%b9%d8%b1%d9%88%d9%81-%db%81%d8%af%d8%a7%db%8c%d8%aa-%da%a9%d8%a7%d8%b1-%d8%b3%d9%86%d8%ac%db%92-%da%af%d9%be%d8%aa%d8%a7-57/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 31 Oct 2026 08:18:15 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[شوبز]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[انتقال]]></category>
		<category><![CDATA[بالی_ووڈ]]></category>
		<category><![CDATA[بھارت]]></category>
		<category><![CDATA[بھارتی_فلم]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سنجے_دت]]></category>
		<category><![CDATA[سنجے_گپتا]]></category>
		<category><![CDATA[شو_ٹ_آؤٹ_ایٹ_لوکھنڈوالا]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[فلم_انڈسٹری]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/showbiz/%d8%a8%d8%a7%d9%84%db%8c-%d9%88%d9%88%da%88-%da%a9%db%92-%d9%85%d8%b9%d8%b1%d9%88%d9%81-%db%81%d8%af%d8%a7%db%8c%d8%aa-%da%a9%d8%a7%d8%b1-%d8%b3%d9%86%d8%ac%db%92-%da%af%d9%be%d8%aa%d8%a7-57-%d8%a8/</guid>

					<description><![CDATA[سنجے گپتا نے اپنے تین دہائیوں پر محیط کیریئر میں کئی کامیاب ایکشن اور کرائم تھرلر فلمیں انڈسٹری کو دیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">بالی ووڈ کے نامور ہدایت کار، پروڈیوسر اور اسکرین رائٹر سنجے گپتا 57 برس کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ان کی اچانک موت کی خبر نے بھارتی فلم انڈسٹری اور ان کے مداحوں کو گہرے صدمے میں مبتلا کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سنجے گپتا کی موت کے حوالے سے متضاد اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ کچھ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق وہ گھر کے باتھ روم میں پھسل کر گرنے کے باعث شدید زخمی ہوئے اور جانبر نہ ہو سکے، جبکہ دیگر ذرائع کا کہنا ہے کہ موت کی حتمی وجہ تاحال واضح نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس نے واقعے کے بعد حادثاتی موت کا مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں کسی قسم کی سازش یا مشکوک شواہد تاحال سامنے نہیں آئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سنجے گپتا کا شمار ان فلم سازوں میں ہوتا تھا جنہوں نے ایکشن، کرائم اور تھرلر فلموں کے ذریعے بالی ووڈ میں اپنی ایک الگ پہچان بنائی۔ ان کا فلمی سفر تین دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط رہا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے اپنے ہدایت کاری کے کیریئر کا آغاز 1994 میں فلم ’آتش‘ سے کیا، جس میں سنجے دت اور آدتیہ پنچولی نے مرکزی کردار ادا کیے تھے۔ یہ فلم ان کے فنی سفر کا ایک اہم موڑ ثابت ہوئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کی مشہور فلموں میں ’کانٹے‘، ’مسافر‘، ’زندہ‘، ’شو ٹ آؤٹ ایٹ لوکھنڈوالا‘ اور ’شو ٹ آؤٹ ایٹ واڈالا‘ شامل ہیں۔ خاص طور پر 2002 میں ریلیز ہونے والی فلم ’کانٹے‘ کو ان کے کیریئر کی بڑی کامیابیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سنجے گپتا نے 2015 میں ایشوریا رائے اور عرفان خان کی فلم ’جذبہ‘ کی ہدایت کاری کی، جبکہ 2017 میں ہریتھک روشن کے ساتھ فلم ’قابل‘ بنائی۔ ان کی فلمیں اپنی منفرد کہانی اور ایکشن کے باعث شائقین میں بے حد مقبول رہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معروف فلم ساز اشوک پنڈت نے سوشل میڈیا پر سنجے گپتا کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے ان کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے فلم انڈسٹری کے لیے اسے ایک بڑا نقصان قرار دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فلم انڈسٹری کی دیگر شخصیات نے بھی ان کی اچانک موت پر دکھ کا اظہار کیا ہے اور ان کی فنی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ مداحوں کی جانب سے بھی سوشل میڈیا پر تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سنجے گپتا کے اہل خانہ کی جانب سے تاحال ان کی آخری رسومات اور انتقال کی حتمی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سنجے گپتا کی فلمیں بالی ووڈ کے ایکشن اور کرائم ڈرامہ صنف میں ایک خاص مقام رکھتی تھیں۔ ان کے کام کو آنے والے وقتوں میں بھی یاد رکھا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کی موت کے بعد بھارتی میڈیا میں ان کے کیریئر اور ان کی بنائی گئی فلموں کے حوالے سے خصوصی تبصرے کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سنجے گپتا کی وفات سے بالی ووڈ کا ایک اہم باب بند ہو گیا ہے، جنہوں نے اپنے منفرد انداز سے فلم بینوں کو برسوں محظوظ کیا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/showbiz/%d8%a8%d8%a7%d9%84%db%8c-%d9%88%d9%88%da%88-%da%a9%db%92-%d9%85%d8%b9%d8%b1%d9%88%d9%81-%db%81%d8%af%d8%a7%db%8c%d8%aa-%da%a9%d8%a7%d8%b1-%d8%b3%d9%86%d8%ac%db%92-%da%af%d9%be%d8%aa%d8%a7-57/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>مشہور بھارتی ہدایت کار اور &#8216;سی آئی ڈی&#8217; کے خالق بی پی سنگھ 77 برس کی عمر میں انتقال کر گئے</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/showbiz/%d9%85%d8%b4%db%81%d9%88%d8%b1-%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%b1%d8%aa%db%8c-%db%81%d8%af%d8%a7%db%8c%d8%aa-%da%a9%d8%a7%d8%b1-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b3%db%8c-%d8%a2%d8%a6%db%8c-%da%88%db%8c/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/showbiz/%d9%85%d8%b4%db%81%d9%88%d8%b1-%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%b1%d8%aa%db%8c-%db%81%d8%af%d8%a7%db%8c%d8%aa-%da%a9%d8%a7%d8%b1-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b3%db%8c-%d8%a2%d8%a6%db%8c-%da%88%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 27 Oct 2026 17:37:05 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[شوبز]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آہٹ]]></category>
		<category><![CDATA[اداکار]]></category>
		<category><![CDATA[انتقال]]></category>
		<category><![CDATA[برجندر_پال_سنگھ]]></category>
		<category><![CDATA[بھارت]]></category>
		<category><![CDATA[بھارتی_ٹیلی_ویژن]]></category>
		<category><![CDATA[بی_پی_سنگھ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_ڈرامہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/showbiz/%d9%85%d8%b4%db%81%d9%88%d8%b1-%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%b1%d8%aa%db%8c-%db%81%d8%af%d8%a7%db%8c%d8%aa-%da%a9%d8%a7%d8%b1-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b3%db%8c-%d8%a2%d8%a6%db%8c-%da%88%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[برجندر پال سنگھ طویل عرصے تک بھارتی ٹیلی ویژن پر کرائم اور ہارر ڈراموں کے ذریعے ناظرین کے دلوں میں بسے رہے، منگل کو دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">بھارتی ٹیلی ویژن انڈسٹری کے نامور پروڈیوسر اور ہدایت کار برجندر پال سنگھ، جو بی پی سنگھ کے نام سے دنیا بھر میں معروف تھے، 77 برس کی عمر میں اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے ہیں۔ ان کی موت کی اطلاع منگل کے روز سامنے آئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اطلاعات کے مطابق بی پی سنگھ کو منگل کی صبح دل کا شدید دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا۔ ان کے انتقال کی خبر سنتے ہی بھارتی شوبز حلقوں میں سوگ کی فضا چھا گئی اور فنکار برادری نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بی پی سنگھ کو ان کے شاہکار کرائم ڈرامہ سیریز &#039;سی آئی ڈی&#039; اور ہارر شو &#039;آہٹ&#039; کی بدولت برصغیر بھر میں بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی۔ ان کے تخلیق کردہ یہ پروگرام کئی دہائیوں تک ٹیلی ویژن سکرینوں پر ناظرین کو اپنے سحر میں جکڑے رکھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فلم ساز اشوک پنڈت نے اپنے تعزیتی پیغام میں بی پی سنگھ کو ایک بہترین انسان اور غیر معمولی صلاحیتوں کا مالک ہدایت کار قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ سنگھ کا کام آنے والی نسلوں کے لیے ہمیشہ ایک بہترین رہنمائی اور مثال ثابت ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اشوک پنڈت نے مزید بتایا کہ بی پی سنگھ کے ساتھ ان کے دیرینہ تعلقات تھے، خاص طور پر اس وقت جب وہ انڈین فلم اینڈ ٹیلی ویژن ڈائریکٹرز ایسوسی ایشن (آئی ایف ٹی ڈی اے) کے صدر کے طور پر اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مرحوم کی آخری رسومات 28 اکتوبر کو ادا کیے جانے کا شیڈول طے کیا گیا ہے۔ ان کے اہل خانہ کی جانب سے فی الحال مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں، تاہم شوبز شخصیات کی بڑی تعداد نے ان کی وفات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">&#039;سی آئی ڈی&#039; کا آغاز 1998 میں ہوا تھا اور یہ ڈرامہ دو دہائیوں سے زائد عرصے تک ناظرین کی توجہ کا مرکز رہا۔ اس سیریز نے بھارتی ٹیلی ویژن کی تاریخ میں ایک ایسا منفرد مقام حاصل کیا جو آج بھی ناظرین کے ذہنوں میں تازہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈرامے کی کامیابی میں اس کے یادگار کرداروں، تفتیشی کہانیوں اور مخصوص مکالموں کا کلیدی کردار تھا۔ اے سی پی پردیومن، انسپکٹر ابھیجیت اور انسپکٹر دیا جیسے کرداروں نے اس سیریز کو گھر گھر میں مقبول بنا دیا تھا اور یہ ایک پہچان بن گئے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بی پی سنگھ نے نہ صرف اس سیریز کو تخلیق کیا بلکہ وہ خود بھی اس میں ڈی سی پی شمشیر سنگھ چترولی کے کردار میں جلوہ گر ہوتے رہے۔ ان کی اداکاری اور ہدایت کاری کے امتزاج نے ڈرامے کو ایک نئی جہت اور مقبولیت عطا کی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کے علاوہ &#039;آہٹ&#039; نامی ہارر شو نے بھی سسپنس اور خوف کے شائقین میں اپنی ایک الگ پہچان بنائی۔ بی پی سنگھ نے بھارتی ٹیلی ویژن پر جرائم اور خوف پر مبنی کہانیوں کو ایک نیا معیار اور مقبولیت فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کے کام کا اثر صرف ٹیلی ویژن تک محدود نہیں رہا بلکہ سوشل میڈیا پر بھی ان کے ڈراموں کے کردار اور مکالمے میمز کی صورت میں ہمیشہ گردش کرتے رہے۔ یہ ان کی تخلیقی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے جو طویل عرصے تک قائم رہے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بی پی سنگھ کی وفات سے بھارتی ٹیلی ویژن کی ایک اہم تاریخ کا باب بند ہو گیا ہے۔ ان کے مداح اور ساتھی فنکار انہیں ہمیشہ ان کے منفرد کام، شاندار شخصیت اور ٹیلی ویژن انڈسٹری کے لیے ان کی گراں قدر خدمات کی وجہ سے یاد رکھیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ 2024 میں &#039;سی آئی ڈی&#039; کی واپسی نے بھی اس فرنچائز کی دیرپا مقبولیت کو ایک بار پھر نمایاں کیا تھا۔ بی پی سنگھ کی پہچان ایسے پروگراموں سے وابستہ رہے گی جنہوں نے طویل عرصے تک ناظرین کو محظوظ کیا اور گہرا اثر چھوڑا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/showbiz/%d9%85%d8%b4%db%81%d9%88%d8%b1-%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%b1%d8%aa%db%8c-%db%81%d8%af%d8%a7%db%8c%d8%aa-%da%a9%d8%a7%d8%b1-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b3%db%8c-%d8%a2%d8%a6%db%8c-%da%88%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>بنگلا دیشی انڈر 18 کرکٹر مہدی حسن ہردوئے کینسر کے باعث انتقال کر گئے</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/sports/%d8%a8%d9%86%da%af%d9%84%d8%a7-%d8%af%db%8c%d8%b4%db%8c-%d8%a7%d9%86%da%88%d8%b1-18-%da%a9%d8%b1%da%a9%d9%b9%d8%b1-%d9%85%db%81%d8%af%db%8c-%d8%ad%d8%b3%d9%86/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/sports/%d8%a8%d9%86%da%af%d9%84%d8%a7-%d8%af%db%8c%d8%b4%db%8c-%d8%a7%d9%86%da%88%d8%b1-18-%da%a9%d8%b1%da%a9%d9%b9%d8%b1-%d9%85%db%81%d8%af%db%8c-%d8%ad%d8%b3%d9%86/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 20:37:45 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کھیل]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسپورٹس]]></category>
		<category><![CDATA[انتقال]]></category>
		<category><![CDATA[بنگلا_دیش]]></category>
		<category><![CDATA[بنگلا_دیش_کرکٹ]]></category>
		<category><![CDATA[بی_سی_بی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_کرکٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پی_ایس_ایل]]></category>
		<category><![CDATA[پی_سی_بی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/sports/%d8%a8%d9%86%da%af%d9%84%d8%a7-%d8%af%db%8c%d8%b4%db%8c-%d8%a7%d9%86%da%88%d8%b1-18-%da%a9%d8%b1%da%a9%d9%b9%d8%b1-%d9%85%db%81%d8%af%db%8c-%d8%ad%d8%b3%d9%86/</guid>

					<description><![CDATA[چٹاگانگ ڈویژن کی نمائندگی کرنے والے نوجوان بائیں ہاتھ کے فاسٹ بولر طویل عرصے سے خون کے سرطان کے خلاف جنگ لڑ رہے تھے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">بنگلا دیش کرکٹ کے حلقوں میں اس وقت سوگ کی فضا ہے جب انڈر 18 ٹیم کے باصلاحیت فاسٹ بولر مہدی حسن ہردوئے کینسر کے موذی مرض سے لڑتے ہوئے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ وہ کافی عرصے سے خون کے سرطان میں مبتلا تھے اور ان کا علاج جاری تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">میڈیا رپورٹس کے مطابق نوجوان کرکٹر کو تشویشناک حالت میں بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے ڈھاکا منتقل کیا جا رہا تھا، تاہم وہ اسپتال پہنچنے سے قبل ہی ایمبولینس میں دم توڑ گئے۔ ان کی موت کی خبر نے بنگلا دیشی کرکٹ برادری کو غمزدہ کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مہدی حسن ہردوئے کا تعلق چٹاگانگ سے تھا اور وہ وہاں کی انڈر 18 کرکٹ ٹیم کے اہم رکن تھے۔ وہ بائیں ہاتھ سے فاسٹ بولنگ کروانے کی صلاحیت رکھتے تھے اور انہیں بنگلا دیشی کرکٹ کا ایک ابھرتا ہوا اور باصلاحیت ستارہ قرار دیا جاتا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کی بیماری کے دوران بنگلا دیش کرکٹ بورڈ اور وزارتِ امورِ نوجوانان و کھیل نے ان کے علاج کے لیے مالی معاونت فراہم کی تھی۔ رواں سال جولائی میں دونوں اداروں کی جانب سے پانچ پانچ لاکھ ٹکا کی امداد دی گئی تھی تاکہ ان کا علاج ممکن ہو سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تمام تر طبی کوششوں اور حکومتی و بورڈ کی جانب سے فراہم کردہ مالی مدد کے باوجود نوجوان کھلاڑی جانبر نہ ہو سکے۔ ان کی وفات پر بنگلا دیش کرکٹ بورڈ نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اور سوگوار خاندان سے تعزیت کی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کرکٹ کے حلقوں میں مہدی حسن ہردوئے کو ایک محنتی اور پرعزم کھلاڑی کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ ان کے ساتھی کھلاڑیوں اور کوچز نے بھی ان کی وفات پر گہرے صدمے کا اظہار کیا ہے اور انہیں خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بنگلا دیشی کرکٹ بورڈ کے حکام نے اپنے بیان میں کہا کہ مہدی حسن ہردوئے کا جانا بنگلا دیشی کرکٹ کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔ وہ مستقبل کے ایک بہترین فاسٹ بولر بننے کی صلاحیت رکھتے تھے اور ان کی کمی ہمیشہ محسوس کی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نوجوان کرکٹر کی اچانک موت نے کھیل کے میدانوں میں ایک خاموشی پیدا کر دی ہے۔ ان کے اہل خانہ اور قریبی دوستوں کے لیے یہ ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے جس پر پوری قوم افسردہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مہدی حسن ہردوئے کی نمازِ جنازہ اور تدفین کے حوالے سے تفصیلات ان کے آبائی علاقے میں طے کی جا رہی ہیں۔ ان کے سوگواروں میں والدین اور کرکٹ سے وابستہ ان کے ساتھی شامل ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کرکٹ کے شائقین نے بھی سوشل میڈیا پر نوجوان کھلاڑی کی وفات پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ان کی یاد میں مختلف مقامات پر دعائیہ تقریبات کا انعقاد کیا جا رہا ہے تاکہ ان کی روح کے ایصالِ ثواب کے لیے دعا کی جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بنگلا دیشی میڈیا کے مطابق مہدی حسن ہردوئے کی وفات کے بعد کرکٹ بورڈ نے ان کے خاندان کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ان کی خدمات کو ہمیشہ بنگلا دیشی جونیئر کرکٹ کی تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے اور ان کے لواحقین کو اس صدمے کو برداشت کرنے کی ہمت عطا فرمائے۔ آمین۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/sports/%d8%a8%d9%86%da%af%d9%84%d8%a7-%d8%af%db%8c%d8%b4%db%8c-%d8%a7%d9%86%da%88%d8%b1-18-%da%a9%d8%b1%da%a9%d9%b9%d8%b1-%d9%85%db%81%d8%af%db%8c-%d8%ad%d8%b3%d9%86/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پروفیسر محمود الحق حقانی انتقال کر گئے، نماز جنازہ آج ادا کی جائے گی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%d8%b1%d9%88%d9%81%db%8c%d8%b3%d8%b1-%d9%85%d8%ad%d9%85%d9%88%d8%af-%d8%a7%d9%84%d8%ad%d9%82-%d8%ad%d9%82%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%a7%d9%86%d8%aa%d9%82%d8%a7%d9%84-%da%a9%d8%b1/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%d8%b1%d9%88%d9%81%db%8c%d8%b3%d8%b1-%d9%85%d8%ad%d9%85%d9%88%d8%af-%d8%a7%d9%84%d8%ad%d9%82-%d8%ad%d9%82%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%a7%d9%86%d8%aa%d9%82%d8%a7%d9%84-%da%a9%d8%b1/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Oct 2026 20:37:48 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلامیہ_کالج_پشاور]]></category>
		<category><![CDATA[اکوڑہ_خٹک]]></category>
		<category><![CDATA[انتقال]]></category>
		<category><![CDATA[پروفیسر_محمود_الحق_حقانی]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیم]]></category>
		<category><![CDATA[جامعہ_دارالعلوم_حقانیہ]]></category>
		<category><![CDATA[دینی_خدمات]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%d8%b1%d9%88%d9%81%db%8c%d8%b3%d8%b1-%d9%85%d8%ad%d9%85%d9%88%d8%af-%d8%a7%d9%84%d8%ad%d9%82-%d8%ad%d9%82%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%a7%d9%86%d8%aa%d9%82%d8%a7%d9%84-%da%a9%d8%b1/</guid>

					<description><![CDATA[جامعہ دارالعلوم حقانیہ کے بانی شیخ الحدیث مولانا عبد الحق کے صاحبزادے اور معروف ماہر تعلیم پروفیسر محمود الحق حقانی 87 برس کی عمر میں خالق حقیقی سے جا ملے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اکوڑہ خٹک سے موصولہ اطلاعات کے مطابق معروف ماہر تعلیم اور جامعہ دارالعلوم حقانیہ کے اہم رکن پروفیسر محمود الحق حقانی طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے ہیں۔ وہ شیخ الحدیث مولانا عبد الحق کے فرزند اور مولانا سمیع الحق کے چھوٹے بھائی تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مرحوم کی وفات کی خبر ان کے اہل خانہ کی جانب سے تصدیق کی گئی، جس کے بعد علمی اور دینی حلقوں میں گہرے رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ پروفیسر محمود الحق حقانی کی عمر 87 برس تھی اور وہ اپنی زندگی کے آخری ایام تک علمی سرگرمیوں میں مصروف رہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پروفیسر محمود الحق حقانی کی نماز جنازہ آج بروز ہفتہ 24 اکتوبر کو صبح 11 بجے جامعہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے احاطے میں ادا کی جائے گی۔ اس موقع پر ملک بھر سے دینی و سیاسی شخصیات کی شرکت متوقع ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مرحوم نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا ایک بڑا حصہ شعبہ تدریس کے لیے وقف کر رکھا تھا۔ وہ اسلامیہ کالج پشاور میں شعبہ کیمسٹری کے مایہ ناز اساتذہ میں شمار ہوتے تھے، جہاں انہوں نے ہزاروں طلبہ کو زیور تعلیم سے آراستہ کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تعلیمی خدمات کے اعتراف میں انہیں مختلف اہم ذمہ داریاں بھی سونپی گئیں۔ انہوں نے سعودی عرب میں پاکستانی سفارت خانے میں ایجوکیشنل کونسلر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں، جہاں انہوں نے پاکستانی طلبہ کے تعلیمی مسائل کے حل کے لیے گراں قدر کردار ادا کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پروفیسر محمود الحق حقانی کے پسماندگان میں تین صاحبزادے شامل ہیں، جن میں پی سی ایس آفیسر سفیان حقانی، نیورو سرجن ڈاکٹر عثمان حقانی اور حافظ ارسلان حقانی شامل ہیں۔ ان کی وفات سے پیدا ہونے والا خلا جلد پر ہونا مشکل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جامعہ دارالعلوم حقانیہ کے مہتمم مولانا انور الحق کے برادر کبیر ہونے کے ناطے، وہ دینی حلقوں میں بھی انتہائی احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ ان کی علمی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور ان کے شاگرد انہیں ایک شفیق استاد کے طور پر یاد کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مرحوم کے انتقال پر جمعیت علماء اسلام (س) کے امیر مولانا عبد الحق ثانی اور دیگر دینی رہنماؤں نے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے مرحوم کی مغفرت اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پروفیسر محمود الحق حقانی کا شمار ان اساتذہ میں ہوتا تھا جو جدید سائنسی علوم اور دینی اقدار کے حسین امتزاج کے قائل تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی میں ہمیشہ طلبہ کی اخلاقی تربیت پر زور دیا اور ایک مثالی استاد کا کردار ادا کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کی تدریسی خدمات کا دائرہ کار صرف پشاور تک محدود نہیں رہا بلکہ انہوں نے بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کا نام روشن کیا۔ سفارتی خدمات کے دوران انہوں نے تعلیمی تعلقات کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نماز جنازہ کے انتظامات کے حوالے سے جامعہ دارالعلوم حقانیہ کی انتظامیہ نے تمام تر تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ اکوڑہ خٹک میں آج سوگ کی فضا ہے اور بڑی تعداد میں لوگ ان کے گھر تعزیت کے لیے پہنچ رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پروفیسر محمود الحق حقانی کی وفات سے ایک عہد کا خاتمہ ہوا ہے۔ ان کی علمی و ادبی خدمات آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ رہیں گی اور ان کے شاگردوں کی بڑی تعداد ان کے لیے صدقہ جاریہ ثابت ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے اہل خانہ کو اس صدمے کو برداشت کرنے کی ہمت دے۔ آمین۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%d8%b1%d9%88%d9%81%db%8c%d8%b3%d8%b1-%d9%85%d8%ad%d9%85%d9%88%d8%af-%d8%a7%d9%84%d8%ad%d9%82-%d8%ad%d9%82%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%a7%d9%86%d8%aa%d9%82%d8%a7%d9%84-%da%a9%d8%b1/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>بھارتی تامل گلوکار کرشناراج 75 برس کی عمر میں انتقال کر گئے</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%b1%d8%aa%db%8c-%d8%aa%d8%a7%d9%85%d9%84-%da%af%d9%84%d9%88%da%a9%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d8%b1%d8%b4%d9%86%d8%a7%d8%b1%d8%a7%d8%ac-75-%d8%a8%d8%b1%d8%b3-%da%a9%db%8c/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%b1%d8%aa%db%8c-%d8%aa%d8%a7%d9%85%d9%84-%da%af%d9%84%d9%88%da%a9%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d8%b1%d8%b4%d9%86%d8%a7%d8%b1%d8%a7%d8%ac-75-%d8%a8%d8%b1%d8%b3-%da%a9%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Oct 2026 07:17:53 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[انتقال]]></category>
		<category><![CDATA[انورادھا_سری_رام]]></category>
		<category><![CDATA[بھارت]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[تامل_گلوکار]]></category>
		<category><![CDATA[تامل_موسیقی]]></category>
		<category><![CDATA[چنئی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%b1%d8%aa%db%8c-%d8%aa%d8%a7%d9%85%d9%84-%da%af%d9%84%d9%88%da%a9%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d8%b1%d8%b4%d9%86%d8%a7%d8%b1%d8%a7%d8%ac-75-%d8%a8%d8%b1%d8%b3-%da%a9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[تامل فلمی موسیقی کے معروف گلوکار کرشناراج چنئی کے ایک ہسپتال میں خالقِ حقیقی سے جا ملے، مداحوں میں سوگ کی فضا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">بھارتی فلم انڈسٹری کے معروف تامل گلوکار کرشناراج 75 برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔ وہ گزشتہ روز طبیعت خراب ہونے پر چنئی کے ایک ہسپتال میں داخل کرائے گئے تھے جہاں وہ جانبر نہ ہو سکے۔ ان کی وفات کی خبر سامنے آتے ہی تامل فلمی صنعت اور موسیقی کے حلقوں میں گہرا دکھ پایا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کرشناراج راماسامی نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ موسیقی کے لیے وقف کیا اور تامل فلمی موسیقی میں اپنی ایک منفرد پہچان بنائی۔ انہوں نے اپنے کیریئر کے دوران 300 سے زائد گیت ریکارڈ کروائے جو تامل ناڈو سمیت دنیا بھر میں ان کے مداحوں میں بے حد مقبول ہوئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گلوکار کی وفات پر تامل ناڈو کے وزیر اعلیٰ وجے نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کرشناراج کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی موت کو تامل موسیقی کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موسیقی کے شعبے میں قدم رکھنے سے قبل کرشناراج ایک ویور کے طور پر کام کرتے تھے۔ انہوں نے اپنی محنت اور لگن سے موسیقی کے مختلف ساز بجانا سیکھے اور موسیقی کے گروپوں کے ساتھ وابستہ ہو کر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہیں 1990 کی دہائی میں موسیقی کی دنیا میں نمایاں کامیابی حاصل ہوئی۔ اس دور میں کرشناراج اور معروف موسیقار دیوا کی جوڑی نے مل کر کئی سدا بہار گیت تخلیق کیے جو 2000 کی دہائی تک موسیقی کے چارٹس پر چھائے رہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کرشناراج کی وفات تامل فلمی موسیقی کے مداحوں کے لیے ایک بڑا صدمہ ہے کیونکہ گزشتہ چند دنوں کے دوران انڈسٹری کو یکے بعد دیگرے کئی بڑے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس سے قبل موسیقار دیوا اور اداکار کارتھک سبیش بھی انتقال کر چکے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کی رہائش گاہ پر تعزیت کے لیے آنے والوں کا تانتا بندھا ہوا ہے۔ معروف گلوکارہ انورادھا سری رام نے چنئی میں ان کے گھر پہنچ کر سوگوار خاندان سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور مرحوم کے لیے دعائے مغفرت کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اداکار سرتھ کمار نے بھی کرشناراج کے ساتھ گزرے لمحات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک نفیس انسان اور باصلاحیت فنکار تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ کرشناراج کی آواز ہمیشہ ان کے مداحوں کے دلوں میں زندہ رہے گی اور ان کا خلا کبھی پُر نہیں ہو سکے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کرشناراج کی زندگی جدوجہد اور کامیابی کی ایک بہترین مثال سمجھی جاتی ہے۔ ایک عام پس منظر سے تعلق رکھنے کے باوجود انہوں نے اپنی محنت سے موسیقی کے میدان میں جو مقام حاصل کیا، وہ آنے والے نئے فنکاروں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مرحوم کی آخری رسومات کے حوالے سے تاحال کوئی حتمی اعلان نہیں کیا گیا، تاہم توقع ہے کہ ان کے آبائی علاقے میں انہیں سپردِ خاک کیا جائے گا۔ ان کے مداح سوشل میڈیا پر بھی انہیں خراجِ تحسین پیش کر رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تامل فلمی صنعت کے دیگر نامور فنکاروں اور شخصیات نے بھی کرشناراج کی وفات پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ کرشناراج کا کام تامل موسیقی کی تاریخ کا ایک اہم حصہ ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کرشناراج کی وفات کے بعد ان کے لواحقین میں ایک بیوہ اور بچے سوگوار چھوڑے گئے ہیں۔ ان کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنی آخری سانس تک موسیقی سے جڑے رہے اور اپنے فن کے ذریعے لوگوں کے دلوں کو خوشیاں بانٹتے رہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بھارتی میڈیا کے مطابق کرشناراج کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کے گائے ہوئے گیت آج بھی تامل فلموں کے شائقین میں مقبول ہیں اور ان کی موسیقی کی گونج طویل عرصے تک سنائی دیتی رہے گی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%b1%d8%aa%db%8c-%d8%aa%d8%a7%d9%85%d9%84-%da%af%d9%84%d9%88%da%a9%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d8%b1%d8%b4%d9%86%d8%a7%d8%b1%d8%a7%d8%ac-75-%d8%a8%d8%b1%d8%b3-%da%a9%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>مشہور آن لائن گیم &#8216;اسٹک رن&#8217; کے خالق مینوئل اوٹو 30 برس کی عمر میں چل بسے</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/more-news/%d9%85%d8%b4%db%81%d9%88%d8%b1-%d8%a2%d9%86-%d9%84%d8%a7%d8%a6%d9%86-%da%af%db%8c%d9%85-%d8%a7%d8%b3%d9%b9%da%a9-%d8%b1%d9%86-%da%a9%db%92-%d8%ae%d8%a7%d9%84%d9%82/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/more-news/%d9%85%d8%b4%db%81%d9%88%d8%b1-%d8%a2%d9%86-%d9%84%d8%a7%d8%a6%d9%86-%da%af%db%8c%d9%85-%d8%a7%d8%b3%d9%b9%da%a9-%d8%b1%d9%86-%da%a9%db%92-%d8%ae%d8%a7%d9%84%d9%82/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 22 Oct 2026 23:37:57 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دیگر خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آن_لائن_گیمنگ]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹک_رن]]></category>
		<category><![CDATA[انتقال]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ٹوئچ]]></category>
		<category><![CDATA[جرمنی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیجیٹل_دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[فیس_بک]]></category>
		<category><![CDATA[گیم_ڈویلپر]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/more-news/%d9%85%d8%b4%db%81%d9%88%d8%b1-%d8%a2%d9%86-%d9%84%d8%a7%d8%a6%d9%86-%da%af%db%8c%d9%85-%d8%a7%d8%b3%d9%b9%da%a9-%d8%b1%d9%86-%da%a9%db%92-%d8%ae%d8%a7%d9%84%d9%82/</guid>

					<description><![CDATA[جرمن گیم ڈویلپر مینوئل اوٹو نے محض 14 سال کی عمر میں مقبول ترین گیم اسٹک رن بنا کر دنیا بھر میں شہرت حاصل کی تھی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">عالمی سطح پر مقبول آن لائن گیم &#039;اسٹک رن&#039; کے خالق اور معروف جرمن گیم ڈویلپر مینوئل اوٹو 30 برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔ ان کی موت کی خبر نے آن لائن گیمنگ کی دنیا میں ان کے مداحوں کو گہرا صدمہ پہنچایا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مینوئل اوٹو نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ ٹیکنالوجی اور گیمنگ کے شعبے میں گزارا۔ انہوں نے محض 14 برس کی عمر میں 2010 کے دوران فیس بک کے لیے &#039;اسٹک رن&#039; نامی گیم تیار کی تھی، جو دیکھتے ہی دیکھتے دنیا بھر میں مشہور ہو گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس گیم میں کھلاڑی ایک انسانی خاکے جیسے کردار کو رکاوٹوں سے بھرے راستے پر دوڑاتے ہیں اور سکے و پوائنٹس جمع کرتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق یہ گیم ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز اور موبائل فونز پر چار کروڑ 30 لاکھ سے زائد مرتبہ کھیلی جا چکی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مینوئل اوٹو کی موت کے حوالے سے بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ وہ ایک لائیو نشریات کے دوران پیش آنے والے افسوسناک واقعے میں جان کی بازی ہار گئے۔ تاہم، اس واقعے کی تمام تفصیلات کی آزادانہ تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جرمنی کی جنوب مشرقی ریاست باویریا میں ایک عمارت میں آگ لگنے کے بعد مینوئل اوٹو کی لاش برآمد ہوئی۔ مقامی رپورٹس کے مطابق ایک پڑوسی نے آگ دیکھ کر اسے بجھانے کی کوشش کی تھی، لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسٹک رن گیم کی انتظامیہ نے اپنے خالق کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مینوئل صرف ایک گیم بنانے والے نہیں تھے بلکہ وہ اپنی گیم کھیلنے والی کمیونٹی کا ایک اہم اور فعال حصہ بھی تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتظامیہ نے مزید کہا کہ مینوئل اوٹو کا تخلیقی کام اور ان کی خدمات کھلاڑیوں کی یادوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ ان کی وفات پر گیمنگ انڈسٹری کے دیگر افراد نے بھی گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعے کے فوراً بعد، گیم کی نشریاتی ویب سائٹ &#039;ٹوئچ&#039; نے مینوئل اوٹو کا چینل اور ان کی موت سے متعلق ویڈیو کو پلیٹ فارم سے ہٹا دیا ہے۔ انتظامیہ نے اس اقدام کو صارفین کی ذہنی صحت اور فلاح و بہبود کے پیش نظر اٹھایا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مینوئل اوٹو کی زندگی اور ان کی کامیابیوں پر نظر ڈالی جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ انہوں نے بہت کم عمری میں ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک بڑا نام بنایا تھا۔ ان کی بنائی ہوئی گیم نے نوجوانوں کی ایک پوری نسل کو متاثر کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مینوئل اوٹو کی موت کے بعد ان کے کام کی اہمیت اور گیمنگ کے شعبے میں ان کی خدمات کو سراہا جا رہا ہے۔ ان کی تخلیق کردہ &#039;اسٹک رن&#039; آج بھی دنیا بھر کے لاکھوں صارفین کے لیے ایک یادگار اور مقبول کھیل کی حیثیت رکھتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کی جانب سے اس واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ حقائق کو مکمل طور پر واضح کیا جا سکے۔ اس دوران ان کے اہل خانہ اور قریبی دوستوں نے اس مشکل گھڑی میں پرائیویسی کا احترام کرنے کی اپیل کی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/more-news/%d9%85%d8%b4%db%81%d9%88%d8%b1-%d8%a2%d9%86-%d9%84%d8%a7%d8%a6%d9%86-%da%af%db%8c%d9%85-%d8%a7%d8%b3%d9%b9%da%a9-%d8%b1%d9%86-%da%a9%db%92-%d8%ae%d8%a7%d9%84%d9%82/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ایکواڈور کے مشہور جڑے ہوئے جڑواں بھائی 27 برس کی عمر میں انتقال کر گئے</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a7%db%8c%da%a9%d9%88%d8%a7%da%88%d9%88%d8%b1-%da%a9%db%92-%d9%85%d8%b4%db%81%d9%88%d8%b1-%d8%ac%da%91%db%92-%db%81%d9%88%d8%a6%db%92-%d8%ac%da%91%d9%88%d8%a7%da%ba/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a7%db%8c%da%a9%d9%88%d8%a7%da%88%d9%88%d8%b1-%da%a9%db%92-%d9%85%d8%b4%db%81%d9%88%d8%b1-%d8%ac%da%91%db%92-%db%81%d9%88%d8%a6%db%92-%d8%ac%da%91%d9%88%d8%a7%da%ba/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 21 Oct 2026 06:36:55 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[انتقال]]></category>
		<category><![CDATA[انسٹاگرام]]></category>
		<category><![CDATA[ایکواڈور]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[جڑے_ہوئے_جڑواں_بچے]]></category>
		<category><![CDATA[دنیا_بھر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سوشل_میڈیا]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a7%db%8c%da%a9%d9%88%d8%a7%da%88%d9%88%d8%b1-%da%a9%db%92-%d9%85%d8%b4%db%81%d9%88%d8%b1-%d8%ac%da%91%db%92-%db%81%d9%88%d8%a6%db%92-%d8%ac%da%91%d9%88%d8%a7%da%ba/</guid>

					<description><![CDATA[سوشل میڈیا پر اپنی زندگی کے لمحات شیئر کرنے والے ہوزے لوئس اور ہوزے ارماندو سیوالوس دل کا دورہ پڑنے کے بعد چل بسے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ایکواڈور سے تعلق رکھنے والے جڑے ہوئے جڑواں بھائیوں (کنجوائنڈ ٹونز) نے دنیا بھر میں اپنی ہمت اور زندگی کے مثبت انداز سے لاکھوں لوگوں کے دل جیتے تھے۔ یہ دونوں بھائی حال ہی میں 27 برس کی عمر میں اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ہوزے لوئس اور ہوزے ارماندو سیوالوس کا تعلق ایکواڈور سے تھا اور وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر انتہائی مقبول تھے۔ وہ اپنے اکاؤنٹ &#039;siamesesdelecuador&#039; کے ذریعے اپنی روزمرہ کی زندگی کی مشکلات اور خوشیوں کو اپنے مداحوں کے ساتھ شیئر کیا کرتے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان دونوں بھائیوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر 60 ہزار سے زائد فالوورز موجود تھے، جو ان کی زندگی کے ہر لمحے پر نظر رکھتے تھے۔ وہ اپنے فالوورز کے سوالات کے جوابات دیتے اور انہیں زندگی کو بھرپور طریقے سے جینے کا حوصلہ فراہم کرتے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">میڈیا رپورٹس کے مطابق، ان دونوں بھائیوں کا انتقال 15 اکتوبر کو ہوا، جس کی تصدیق ان کی سوشل میڈیا ٹیم نے انسٹاگرام پر ایک جذباتی پیغام کے ذریعے کی۔ اس خبر نے ان کے دنیا بھر میں موجود مداحوں کو شدید صدمے میں مبتلا کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کے ایک قریبی دوست نے میڈیا کو بتایا کہ ہوزے لوئس کو اچانک دل کا دورہ پڑا تھا، جس کے بعد انہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ تاہم، وہ جانبر نہ ہو سکے اور دونوں بھائی زندگی کی بازی ہار گئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جڑے ہوئے جڑواں بچوں کی زندگی طبی لحاظ سے انتہائی پیچیدہ ہوتی ہے، لیکن ان دونوں بھائیوں نے اپنی جسمانی حدود کے باوجود سوشل میڈیا کو اپنی آواز بنانے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے اپنی زندگی کو ایک مثال کے طور پر پیش کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کے مداحوں کا کہنا ہے کہ وہ دونوں بھائی ایک دوسرے کا سہارا تھے اور انہوں نے کبھی بھی اپنی معذوری کو اپنی کامیابی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیا۔ ان کی ویڈیوز میں ہمیشہ ایک خاص قسم کی خوشی اور اطمینان نظر آتا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سوشل میڈیا پر ان کے انتقال کی خبر وائرل ہونے کے بعد دنیا بھر سے تعزیتی پیغامات کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ لوگ ان کی ہمت کو سراہتے ہوئے انہیں خراجِ تحسین پیش کر رہے ہیں اور ان کے اہل خانہ کے لیے صبر کی دعا کر رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">طبی ماہرین کے مطابق جڑے ہوئے جڑواں بچوں کی زندگی کا دورانیہ عام انسانوں کی نسبت کم ہوتا ہے اور انہیں صحت کے کئی سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 27 برس تک زندہ رہنا ان کی قوتِ ارادی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کی سوشل میڈیا ٹیم نے اپنے پیغام میں کہا کہ وہ اپنے مداحوں کے بے پناہ پیار اور حمایت کے شکر گزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں بھائیوں کی یادیں ہمیشہ ان کے چاہنے والوں کے دلوں میں زندہ رہیں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس واقعے نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ سوشل میڈیا کس طرح لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے اور مشکلات میں گھرے افراد کو ایک پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔ ان کی زندگی ایک ایسا سبق ہے جو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ہوزے لوئس اور ہوزے ارماندو کی زندگی کا سفر اگرچہ مختصر رہا، لیکن انہوں نے اپنی ہمت سے دنیا کو یہ دکھایا کہ انسان اگر چاہے تو ہر مشکل حالات میں بھی مسکراہٹیں بکھیر سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کے انتقال کے بعد ان کا انسٹاگرام اکاؤنٹ اب ایک یادگار کے طور پر موجود ہے، جہاں ان کے مداح ان کی پرانی ویڈیوز دیکھ کر انہیں یاد کر رہے ہیں۔ ان کی کمی ان کے چاہنے والے ہمیشہ محسوس کریں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a7%db%8c%da%a9%d9%88%d8%a7%da%88%d9%88%d8%b1-%da%a9%db%92-%d9%85%d8%b4%db%81%d9%88%d8%b1-%d8%ac%da%91%db%92-%db%81%d9%88%d8%a6%db%92-%d8%ac%da%91%d9%88%d8%a7%da%ba/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>سعودی شہزادی مشاعل بنت سعود بن محمد بن عبدالعزیز انتقال کر گئیں</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af%db%8c-%d8%b4%db%81%d8%b2%d8%a7%d8%af%db%8c-%d9%85%d8%b4%d8%a7%d8%b9%d9%84-%d8%a8%d9%86%d8%aa-%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af-%d8%a8%d9%86-%d9%85%d8%ad%d9%85%d8%af/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af%db%8c-%d8%b4%db%81%d8%b2%d8%a7%d8%af%db%8c-%d9%85%d8%b4%d8%a7%d8%b9%d9%84-%d8%a8%d9%86%d8%aa-%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af-%d8%a8%d9%86-%d9%85%d8%ad%d9%85%d8%af/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 21 Oct 2026 01:38:09 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[انتقال]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[تعزیت]]></category>
		<category><![CDATA[جامع_مسجد_امام_ترکی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ریاض]]></category>
		<category><![CDATA[سعودی_ایوان_شاہی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af%db%8c-%d8%b4%db%81%d8%b2%d8%a7%d8%af%db%8c-%d9%85%d8%b4%d8%a7%d8%b9%d9%84-%d8%a8%d9%86%d8%aa-%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af-%d8%a8%d9%86-%d9%85%d8%ad%d9%85%d8%af/</guid>

					<description><![CDATA[سعودی ایوانِ شاہی نے شہزادی کے انتقال کی تصدیق کر دی ہے، نمازِ جنازہ ریاض کی جامع مسجد میں ادا کی جائے گی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">سعودی عرب کے شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والی شہزادی مشاعل بنت سعود بن محمد بن عبدالعزیز انتقال کر گئی ہیں۔ ان کے انتقال کی خبر سعودی ایوانِ شاہی کی جانب سے ایک باضابطہ اعلامیے کے ذریعے جاری کی گئی، جس کے بعد دنیا بھر سے تعزیت کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعودی ایوانِ شاہی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ شہزادی مشاعل بنت سعود بن محمد بن عبدالعزیز کی وفات پر شاہی خاندان گہرے دکھ اور صدمے میں ہے۔ بیان میں متوفیہ کی مغفرت اور بلندی درجات کے لیے خصوصی دعائیں کی گئی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اعلامیے کے مطابق شہزادی مشاعل بنت سعود بن محمد بن عبدالعزیز کی نمازِ جنازہ بدھ کے روز بعد نمازِ عصر ادا کی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے ریاض کی معروف جامع مسجد امام ترکی بن عبداللہ کا انتخاب کیا گیا ہے جہاں بڑی تعداد میں لوگ شرکت کریں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعودی ایوانِ شاہی نے اپنے بیان میں شہزادی کے لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا بھی کی ہے۔ سعودی عرب کے اعلیٰ حکام اور شاہی خاندان کے دیگر افراد کی جانب سے بھی اس المناک موقع پر تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہزادی مشاعل بنت سعود بن محمد بن عبدالعزیز کا شمار سعودی شاہی خاندان کی اہم شخصیات میں ہوتا تھا۔ ان کی وفات کی خبر سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ پر بھی ان کے لیے دعائے مغفرت کا سلسلہ جاری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعودی عرب میں شاہی خاندان کے افراد کے انتقال پر سرکاری سطح پر بھی سوگ کا اظہار کیا جاتا ہے اور نمازِ جنازہ میں ملک کی اہم شخصیات اور عوام کی بڑی تعداد شرکت کرتی ہے۔ ریاض کی جامع مسجد امام ترکی بن عبداللہ اس حوالے سے مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جامع مسجد امام ترکی بن عبداللہ ریاض کی تاریخی اور اہم ترین مساجد میں سے ایک ہے، جہاں اکثر شاہی خاندان کے افراد کی نمازِ جنازہ ادا کی جاتی ہے۔ بدھ کو ہونے والی اس تقریب کے لیے سیکیورٹی اور دیگر انتظامات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہزادی مشاعل بنت سعود بن محمد بن عبدالعزیز کی زندگی اور ان کی خدمات کو سعودی عوام میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ ان کے انتقال پر سعودی عرب کے مختلف حلقوں کی جانب سے گہرے دکھ کا اظہار کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعودی خبر رساں ایجنسی اور دیگر سرکاری ذرائع نے بھی اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے ایوانِ شاہی کے اعلامیے کو نمایاں طور پر شائع کیا ہے۔ اس خبر کے بعد سے ہی تعزیتی پیغامات کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان سمیت دنیا بھر کے مختلف ممالک سے بھی سعودی شاہی خاندان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ برادرانہ تعلقات کے پیشِ نظر پاکستانی عوام اور حکومتی حلقوں نے بھی اس دکھ کی گھڑی میں شریک ہونے کا پیغام دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہزادی کے انتقال کی خبر نے سعودی عرب کے سیاسی اور سماجی حلقوں میں ایک سوگوار فضا پیدا کر دی ہے۔ ان کی وفات کے بعد اب بدھ کو ہونے والی نمازِ جنازہ میں شرکت کے لیے انتظامات مکمل کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعودی ایوانِ شاہی نے اپنے بیان میں اس بات پر زور دیا ہے کہ شہزادی کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کے انتقال سے پیدا ہونے والا خلا شاہی خاندان کے لیے ایک بڑا صدمہ ہے جس پر ہر کوئی افسردہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ شہزادی مشاعل بنت سعود بن محمد بن عبدالعزیز کو اپنی جوارِ رحمت میں جگہ دے اور ان کے لواحقین کو اس صدمے کو برداشت کرنے کی ہمت عطا فرمائے۔ آمین۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af%db%8c-%d8%b4%db%81%d8%b2%d8%a7%d8%af%db%8c-%d9%85%d8%b4%d8%a7%d8%b9%d9%84-%d8%a8%d9%86%d8%aa-%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af-%d8%a8%d9%86-%d9%85%d8%ad%d9%85%d8%af/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>نانا پاٹیکر کے انتقال پر تنوشری دتہ کا متنازع بیان، بیٹے ملہار کا ردعمل</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/showbiz/%d9%86%d8%a7%d9%86%d8%a7-%d9%be%d8%a7%d9%b9%db%8c%da%a9%d8%b1-%da%a9%db%92-%d8%a7%d9%86%d8%aa%d9%82%d8%a7%d9%84-%d9%be%d8%b1-%d8%aa%d9%86%d9%88%d8%b4%d8%b1%db%8c-%d8%af%d8%aa%db%81/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/showbiz/%d9%86%d8%a7%d9%86%d8%a7-%d9%be%d8%a7%d9%b9%db%8c%da%a9%d8%b1-%da%a9%db%92-%d8%a7%d9%86%d8%aa%d9%82%d8%a7%d9%84-%d9%be%d8%b1-%d8%aa%d9%86%d9%88%d8%b4%d8%b1%db%8c-%d8%af%d8%aa%db%81/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 16 Oct 2026 22:57:25 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[شوبز]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اداکار]]></category>
		<category><![CDATA[انتقال]]></category>
		<category><![CDATA[بالی_وڈ]]></category>
		<category><![CDATA[بھارت]]></category>
		<category><![CDATA[بھارتی_فلم]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_ڈرامہ]]></category>
		<category><![CDATA[تنوشری_دتہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[شوبز_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/showbiz/%d9%86%d8%a7%d9%86%d8%a7-%d9%be%d8%a7%d9%b9%db%8c%da%a9%d8%b1-%da%a9%db%92-%d8%a7%d9%86%d8%aa%d9%82%d8%a7%d9%84-%d9%be%d8%b1-%d8%aa%d9%86%d9%88%d8%b4%d8%b1%db%8c-%d8%af%d8%aa%db%81/</guid>

					<description><![CDATA[بالی وڈ اداکار نانا پاٹیکر کے بیٹے ملہار نے والد کے انتقال پر تنوشری دتہ کے بیان کو غیر مناسب قرار دیتے ہوئے عدالتی فیصلے کا حوالہ دیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">بالی وڈ کے معروف اداکار نانا پاٹیکر کے انتقال کے بعد اداکارہ تنوشری دتہ کی جانب سے دیے گئے ایک متنازع بیان پر ان کے بیٹے ملہار پاٹیکر نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ نانا پاٹیکر کا انتقال حال ہی میں گوا میں دل کا دورہ پڑنے سے ہوا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تنوشری دتہ نے نانا پاٹیکر کی موت کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ایک تلخ تبصرہ کیا جس میں انہوں نے اداکار کو شیطان قرار دیتے ہوئے ان کی موت کو شیطان کی موت سے تعبیر کیا۔ اس بیان نے بھارتی میڈیا اور سوشل حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملہار پاٹیکر نے اس صورتحال پر اپنے ردعمل میں کہا کہ ان کے والد کے خلاف لگائے گئے الزامات کا معاملہ برسوں قبل عدالتوں میں طے پا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ نے ان کے والد کو ان الزامات سے مکمل طور پر بری کر دیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ تنوشری دتہ نے 2009 میں فلم &#039;ہارن اوکے پلیز&#039; کی شوٹنگ کے دوران نانا پاٹیکر پر جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کیے تھے۔ یہ معاملہ 2018 میں &#039;می ٹو&#039; مہم کے دوران دوبارہ سرخیوں میں آیا تھا جس کے بعد ایف آئی آر بھی درج ہوئی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاہم 2019 میں تحقیقات کے دوران ناکافی شواہد کی بنیاد پر پولیس نے کیس بند کرنے کی سفارش کی تھی۔ بعد ازاں 2025 میں ممبئی کی اندھیری مجسٹریٹ عدالت نے قانونی مدت ختم ہونے کے باعث اس فوجداری کارروائی کو باضابطہ طور پر ختم کر دیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملہار پاٹیکر نے تنوشری دتہ کا نام لیے بغیر کہا کہ جو معاملہ قانونی طور پر ختم ہو چکا ہے اسے اب بلاوجہ اچھالنا مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایسے معاملات کو عدالتوں میں ہی چھوڑ دینا چاہیے اور ماضی کی تلخیوں کو دہرانے کا کوئی جواز نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اپنے بیان میں ملہار نے مزید کہا کہ وہ ان لوگوں کے بارے میں کچھ نہیں کہنا چاہتے جو اب بھی اس پرانے معاملے کو موضوع بحث بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایسے افراد کے لیے دعا گو ہیں کہ خدا ان کی رہنمائی کرے اور ان کا بھلا کرے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نانا پاٹیکر نے اپنے طویل فنی کیریئر کے دوران بھارتی سنیما میں کئی یادگار کردار ادا کیے تھے۔ ان کی وفات کے بعد انہیں سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا، جس میں ان کے مداحوں اور فلمی صنعت سے وابستہ شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اداکار کے انتقال کی خبر سامنے آنے کے بعد سے سوشل میڈیا پر ان کے چاہنے والوں کی جانب سے تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے۔ بہت سے لوگوں نے ان کی اداکاری کی صلاحیتوں اور ان کے منفرد انداز کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب تنوشری دتہ کا بیان ان کے اپنے سوشل میڈیا حلقوں میں بھی تنقید کا نشانہ بن رہا ہے، جہاں صارفین کا ماننا ہے کہ کسی کے انتقال کے بعد اس طرح کے الفاظ کا استعمال اخلاقی طور پر درست نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قانونی ماہرین کا بھی یہی کہنا ہے کہ جب کسی کیس کا فیصلہ عدالت کر چکی ہو تو اس پر عوامی سطح پر الزامات کا اعادہ کرنا قانونی طور پر کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ ملہار پاٹیکر کا موقف ہے کہ ان کا خاندان اب اس معاملے سے آگے بڑھ چکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نانا پاٹیکر نے اپنے کیریئر میں کئی ایوارڈز جیتے اور اپنی ایک الگ شناخت بنائی۔ ان کے بیٹے ملہار نے اپنے والد کی میراث کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے والد کے کردار پر مکمل یقین رکھتے ہیں اور عدالتی فیصلے نے ان کی سچائی ثابت کر دی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس پورے تنازع کے بعد اب عوامی حلقوں میں یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ نجی معاملات اور عدالتی فیصلوں کا احترام کیا جانا چاہیے۔ ملہار پاٹیکر نے اپنے والد کی آخری رسومات کے بعد خاموشی اختیار کرنے کو ہی بہتر حکمت عملی قرار دیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/showbiz/%d9%86%d8%a7%d9%86%d8%a7-%d9%be%d8%a7%d9%b9%db%8c%da%a9%d8%b1-%da%a9%db%92-%d8%a7%d9%86%d8%aa%d9%82%d8%a7%d9%84-%d9%be%d8%b1-%d8%aa%d9%86%d9%88%d8%b4%d8%b1%db%8c-%d8%af%d8%aa%db%81/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب کی ساس انتقال کر گئیں</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%d9%86%d8%ac%d8%a7%d8%a8-%da%a9%db%8c-%d8%b3%db%8c%d9%86%d8%a6%d8%b1-%d9%88%d8%b2%db%8c%d8%b1-%d9%85%d8%b1%db%8c%d9%85-%d8%a7%d9%88%d8%b1%d9%86%da%af%d8%b2%db%8c%d8%a8-%da%a9%db%8c/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%d9%86%d8%ac%d8%a7%d8%a8-%da%a9%db%8c-%d8%b3%db%8c%d9%86%d8%a6%d8%b1-%d9%88%d8%b2%db%8c%d8%b1-%d9%85%d8%b1%db%8c%d9%85-%d8%a7%d9%88%d8%b1%d9%86%da%af%d8%b2%db%8c%d8%a8-%da%a9%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 06:56:43 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[انتقال]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[تعزیت]]></category>
		<category><![CDATA[جی_او_آر_ون]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_شخصیات]]></category>
		<category><![CDATA[صوبائی_وزیر]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d9%be%d9%86%d8%ac%d8%a7%d8%a8-%da%a9%db%8c-%d8%b3%db%8c%d9%86%d8%a6%d8%b1-%d9%88%d8%b2%db%8c%d8%b1-%d9%85%d8%b1%db%8c%d9%85-%d8%a7%d9%88%d8%b1%d9%86%da%af%d8%b2%db%8c%d8%a8-%da%a9%db%8c-%d8%b3%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[مرحومہ گزشتہ کچھ روز سے علالت کے باعث لاہور کے ہسپتال میں زیر علاج تھیں، نماز جنازہ آج دوپہر جی او آر ون میں ادا کی جائے گی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پنجاب کی سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کی ساس رضائے الٰہی سے انتقال کر گئی ہیں۔ خاندانی ذرائع کے مطابق مرحومہ گزشتہ کچھ روز سے علالت کے باعث ہسپتال میں زیر علاج تھیں جہاں وہ جانبر نہ ہو سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مرحومہ کی وفات کی خبر سامنے آنے کے بعد سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔ ان کے انتقال پر لواحقین اور قریبی رشتہ داروں میں سوگ کی فضا قائم ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موصولہ اطلاعات کے مطابق مرحومہ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف نیورو سائنسز، لاہور جنرل ہسپتال میں طبی امداد حاصل کر رہی تھیں۔ ڈاکٹرز کی جانب سے انہیں بچانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی تاہم وہ جانبر نہ ہو سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خاندانی ذرائع نے بتایا ہے کہ مرحومہ کی نماز جنازہ آج بروز بدھ 14 اکتوبر 2026 کو بعد نماز ظہر ادا کی جائے گی۔ اس سلسلے میں تمام تر انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نماز جنازہ کی ادائیگی کے لیے مقام جی او آر ون، لاہور میں واقع ایونٹ کمپلیکس کا انتخاب کیا گیا ہے۔ نماز جنازہ دوپہر ایک بج کر 30 منٹ پر ادا کی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متوقع ہے کہ نماز جنازہ میں سیاسی شخصیات، حکومتی عہدیداران، رشتہ داروں اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد شرکت کرے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مریم اورنگزیب، جو پنجاب حکومت میں اہم ذمہ داریاں نبھا رہی ہیں، اس مشکل گھڑی میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ موجود ہیں۔ ان کے سیاسی رفقاء نے ان سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مرحومہ کی وفات پر تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے اور مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے بھی مریم اورنگزیب سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واضح رہے کہ مریم اورنگزیب پنجاب کی سینئر صوبائی وزیر کے طور پر اپنی خدمات سرانجام دے رہی ہیں اور صوبائی انتظامی امور میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مرحومہ کی مغفرت اور درجات کی بلندی کے لیے دعائیں کی جا رہی ہیں۔ لواحقین نے تمام دوست احباب اور خیر خواہوں سے مرحومہ کے ایصال ثواب کے لیے خصوصی دعا کی اپیل کی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نماز جنازہ کے بعد مرحومہ کو ان کے آبائی قبرستان میں سپرد خاک کیا جائے گا۔ اس موقع پر سیکیورٹی اور دیگر انتظامات کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مختلف حلقوں کی جانب سے مریم اورنگزیب کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا گیا ہے اور ان کے خاندان کے لیے صبر جمیل کی دعا کی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ ایک نجی نوعیت کا سانحہ ہے جس پر سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مریم اورنگزیب کے خاندانی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ مرحومہ کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے قریبی عزیز و اقارب لاہور پہنچ چکے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%d9%86%d8%ac%d8%a7%d8%a8-%da%a9%db%8c-%d8%b3%db%8c%d9%86%d8%a6%d8%b1-%d9%88%d8%b2%db%8c%d8%b1-%d9%85%d8%b1%db%8c%d9%85-%d8%a7%d9%88%d8%b1%d9%86%da%af%d8%b2%db%8c%d8%a8-%da%a9%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
