<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.25.1"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>انتظامیہ &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%a7%d9%86%d8%aa%d8%b8%d8%a7%d9%85%db%8c%db%81/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:32:10 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>انتظامیہ &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>خیبر پختونخوا میں تجاوزات کیخلاف گرینڈ آپریشن کا آغاز، غیر قانونی تعمیرات مسمار</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1-%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%aa%d8%ac%d8%a7%d9%88%d8%b2%d8%a7%d8%aa-%da%a9%db%8c%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1-%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%aa%d8%ac%d8%a7%d9%88%d8%b2%d8%a7%d8%aa-%da%a9%db%8c%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 28 Oct 2026 13:16:55 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[انتظامیہ]]></category>
		<category><![CDATA[پشاور]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[تجاوزات_آپریشن]]></category>
		<category><![CDATA[ترقیاتی_کام]]></category>
		<category><![CDATA[ثمر_ہارون_بلور]]></category>
		<category><![CDATA[ٹریفک_مسائل]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1-%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%aa%d8%ac%d8%a7%d9%88%d8%b2%d8%a7%d8%aa-%da%a9%db%8c%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81/</guid>

					<description><![CDATA[صوبائی حکومت نے سرکاری زمینوں اور گرین بیلٹس کو واگزار کرانے کے لیے بلا امتیاز کارروائی شروع کر دی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے بھر میں تجاوزات کے خلاف ایک وسیع پیمانے پر گرینڈ آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔ اس مہم کا بنیادی مقصد سرکاری اراضی، گرین بیلٹس اور عوامی گزرگاہوں پر قائم غیر قانونی تعمیرات کو ہٹا کر شہریوں کے لیے سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی مشیر اطلاعات ثمر ہارون بلور نے اس حوالے سے جاری کردہ اپنے ایک ویڈیو بیان میں واضح کیا ہے کہ یہ کریک ڈاؤن کسی بھی قسم کے سیاسی دباؤ، انتقامی کارروائی یا پسند و ناپسند سے بالا تر ہو کر کیا جا رہا ہے۔ حکومت کا عزم ہے کہ قانون کی بالادستی کو ہر صورت قائم رکھا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پشاور جیسے بڑے شہروں میں تجاوزات کے باعث ٹریفک کا نظام بری طرح متاثر ہوتا ہے، جس کی وجہ سے شہریوں کو روزانہ کی بنیاد پر شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ٹریفک جام کے باعث مریضوں کو ہسپتال پہنچنے اور طلبہ کو تعلیمی مراکز تک بروقت رسائی میں بڑی رکاوٹیں پیش آتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مشیر اطلاعات کے مطابق آپریشن کے اگلے مرحلے میں تجاوزات ہٹائے جانے کے بعد سڑکوں، بازاروں اور اہم چوراہوں کی ازسرنو تعمیر و مرمت کی جائے گی۔ اس اقدام سے ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی اور شہریوں کو آمدورفت میں آسانی ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت نے سڑکوں کی بحالی کے بعد عوام کی سہولت کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے جدید ذرائع متعارف کرانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد عوامی سفری سہولیات کو بہتر بنانا ہے تاکہ شہریوں کو ایک منظم اور آرام دہ سفری نظام میسر آ سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس گرینڈ آپریشن کے دوران نکاسی آب اور پینے کے پانی کے مسائل کو حل کرنے پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ ثمر ہارون بلور نے بتایا کہ پشاور سمیت دیگر علاقوں میں سیوریج اور صاف پانی کی لائنوں کو الگ الگ کیا جائے گا تاکہ صحت عامہ کے مسائل کم ہوں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتی ترجمان نے مزید کہا کہ تجاوزات کے خلاف یہ کارروائی صرف ایک وقتی اقدام نہیں بلکہ صوبے کے شہری انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کا ایک طویل مدتی منصوبہ ہے۔ اس سے شہروں کی خوبصورتی میں بھی اضافہ ہوگا اور عوامی مقامات کو دوبارہ عوام کے لیے کھول دیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتظامیہ کی جانب سے اس آپریشن کو شفاف بنانے کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ مقامی سطح پر بھی ضلعی انتظامیہ کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ تجاوزات کے خلاف کارروائی میں کسی قسم کی غفلت نہ برتیں اور سرکاری زمینوں کا تحفظ یقینی بنائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں کی جانب سے اس اقدام کو سراہا جا رہا ہے کیونکہ تجاوزات کے خاتمے سے نہ صرف ٹریفک کے مسائل حل ہوں گے بلکہ عوامی مقامات پر پیدل چلنے والوں کے لیے بھی راستہ ہموار ہوگا۔ حکومت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مہم میں انتظامیہ کا ساتھ دیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی حکومت کا یہ فیصلہ خیبر پختونخوا کے شہری علاقوں میں نظم و ضبط قائم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تجاوزات کے خلاف یہ مہم صوبے کے تمام اضلاع میں مرحلہ وار جاری رہے گی تاکہ عوامی مفاد کے منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تجاوزات کے خلاف اس گرینڈ آپریشن کے دوران کسی بھی غیر قانونی تعمیرات کو استثنیٰ حاصل نہیں ہوگا۔ سرکاری حکام کے مطابق گرین بیلٹس پر قائم تجاوزات کو ہٹانے کے بعد وہاں شجرکاری کی جائے گی تاکہ ماحول کو بھی بہتر بنایا جا سکے اور شہروں کو سرسبز بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس آپریشن کے تحت پشاور کے مصروف ترین بازاروں اور تجارتی مراکز میں بھی کارروائی کی جا رہی ہے تاکہ دکانداروں کی جانب سے سڑکوں پر کیے گئے قبضوں کو ختم کیا جا سکے۔ اس سے بازاروں میں خریداروں کی آمدورفت میں بھی بہتری آئے گی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1-%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%aa%d8%ac%d8%a7%d9%88%d8%b2%d8%a7%d8%aa-%da%a9%db%8c%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ملتان میں زیر تعمیر پلازا کی چھت گر گئی، مزدور ملبے تلے دب گئے</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/crime/%d9%85%d9%84%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b2%db%8c%d8%b1-%d8%aa%d8%b9%d9%85%db%8c%d8%b1-%d9%be%d9%84%d8%a7%d8%b2%d8%a7-%da%a9%db%8c-%da%86%da%be%d8%aa-%da%af%d8%b1/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/crime/%d9%85%d9%84%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b2%db%8c%d8%b1-%d8%aa%d8%b9%d9%85%db%8c%d8%b1-%d9%be%d9%84%d8%a7%d8%b2%d8%a7-%da%a9%db%8c-%da%86%da%be%d8%aa-%da%af%d8%b1/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 27 Oct 2026 09:17:11 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[جرم و سزا]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[آج_کی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[انتظامیہ]]></category>
		<category><![CDATA[اہم_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[بریکنگ_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پلازا_حادثہ]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[جرائم]]></category>
		<category><![CDATA[جرم_و_سزا]]></category>
		<category><![CDATA[جیو_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[حادثات]]></category>
		<category><![CDATA[خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[قانون]]></category>
		<category><![CDATA[گرفتاری]]></category>
		<category><![CDATA[نیوز_اپڈیٹ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/crime/%d9%85%d9%84%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b2%db%8c%d8%b1-%d8%aa%d8%b9%d9%85%db%8c%d8%b1-%d9%be%d9%84%d8%a7%d8%b2%d8%a7-%da%a9%db%8c-%da%86%da%be%d8%aa-%da%af%d8%b1/</guid>

					<description><![CDATA[نگانہ چوک پر پیش آنے والے اس حادثے کے وقت پلازا پر 10 سے 15 مزدور کام کر رہے تھے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ملتان کے مصروف علاقے نگانہ چوک میں ایک زیر تعمیر کمرشل پلازا کی چھت کا بڑا حصہ اچانک گر پڑا جس کے نتیجے میں کئی مزدوروں کے ملبے تلے دب جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو اور فائر بریگیڈ کی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ کی جانب روانہ کر دی گئیں تاکہ امدادی کارروائیاں شروع کی جا سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثہ اس وقت پیش آیا جب پلازا کی تعمیراتی سرگرمیاں جاری تھیں اور اس دوران عمارت کا ایک حصہ زمین بوس ہو گیا۔ عینی شاہدین اور مقامی ذرائع کے مطابق ناگہانی طور پر ہونے والے اس سانحے کے بعد علاقے میں شدید بھگدڑ مچ گئی اور فورا مدد کے لیے پکار شروع کر دی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ریسکیو حکام کا بتانا ہے کہ حادثے کے وقت پلازا کی عمارت پر اندازاً دس سے پندرہ مزدور کام میں مصروف تھے۔ چھت گرنے کے باعث یہ تمام محنت کش ملبے تلے دب گئے ہیں جنہیں نکالنے کے لیے ہیوی مشینری اور ریسکیو کا عملہ استعمال کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتظامیہ نے واقعے کے فورا بعد ہنگامی حالت نافذ کرتے ہوئے امدادی کارروائیوں کو تیز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ افسران بھی موقع پر پہنچ گئے ہیں تاکہ ریسکیو آپریشن کی خود نگرانی کی جا سکے اور متاثرہ افراد کو فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملتان کے نگانہ چوک جیسے تجارتی مرکز میں اس نوعیت کے حادثے نے تعمیراتی کاموں کے دوران حفاظتی انتظامات پر ایک بار پھر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ شہریوں اور سیاسی سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ شہر بھر میں جاری ایسی تعمیراتی عمارتوں کے حفاظتی اقدامات کا سخت جائزہ لیا جائے تاکہ مستقبل میں کسی بھی جانی نقصان سے بچا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نگانہ چوک کا شمار ملتان کے انتہائی اہم اور تجارتی لحاظ سے مصروف ترین مقامات میں ہوتا ہے جہاں روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں گاڑیوں اور شہریوں کی آمدورفت رہتی ہے۔ ایسے پرہجوم مقام پر زیر تعمیر عمارت کا اچانک گر جانا انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان چھوڑتا ہے کیونکہ عمارتوں کے معیار کو جانچنے کے لیے باقاعدہ میکانزم موجود ہونا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حادثے کی جگہ پر موجود عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ آواز اتنی زیادہ خوفناک تھی کہ قریبی دکانوں اور دفاتر میں بیٹھے لوگ خوفزدہ ہو کر باہر نکل آئے۔ گرد و غبار کا ایک طوفان اٹھ گیا جس کی وجہ سے ابتدائی چند منٹ تک کچھ بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا اور لوگ ایک دوسرے کی مدد کے لیے اندھیرے میں ہی آگے بڑھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس نے موقع پر پہنچ کر حادثے کی جگہ کے گرد حفاظتی ہجوم کو ہٹانے کے لیے رسی لگا دی ہے تاکہ امدادی کاموں میں کوئی رکاوٹ پیش نہ آئے۔ ٹریفک پولیس کے اہلکار بھی مصروف شاہراہ پر ٹریفک کی روانی کو بحال رکھنے کے لیے متبادل راستے فراہم کرنے میں مصروف ہیں تاکہ ہنگامی گاڑیوں کی آمدورفت بلا تعطل جاری رہ سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عمارت کے مالک اور ٹھیکیدار کے حوالے سے بھی ابتدائی معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ تعمیراتی کام کے دوران سرکاری قوانین اور بلڈنگ بائی لاز کی پاسداری کی جا رہی تھی یا نہیں۔ اگر غفلت کا عنصر پایا گیا تو ذمہ داران کے خلاف ضابطے کے مطابق سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملتان کے ہسپتالوں میں بھی اس ناگہانی حادثے کے پیش نظر ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور ڈاکٹرز اور طبی عملے کو کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نبرد آزما ہونے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ایمبولینسز کے ذریعے زخمیوں کو مسلسل ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے جہاں انہیں طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہر بھر کے فلاحی اداروں اور رضاکار تنظیموں کے کارکنان بھی نگانہ چوک پہنچ چکے ہیں جو ریسکیو اہلکاروں کے شانہ بشانہ ملبہ ہٹانے اور مزدوروں کی تلاش میں بھرپور مدد فراہم کر رہے ہیں۔ شہریوں کی بڑی تعداد بھی امدادی کارروائیاں دیکھنے کے لیے موقع پر جمع ہے جسے پولیس بار بار پیچھے ہٹا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور امدادی ٹیموں کے کام میں رکاوٹ نہ بنیں تاکہ قیمتی جانوں کو بچانے کا یہ مشکل آپریشن جلد از جلد اور احسن طریقے سے اپنے انجام کو پہنچ سکے۔ حادثے کی مکمل تحقیقات کا آغاز بھی جلد متوقع ہے جو اس سانحے کی اصل وجوہات کو بے نقاب کرے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/crime/%d9%85%d9%84%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b2%db%8c%d8%b1-%d8%aa%d8%b9%d9%85%db%8c%d8%b1-%d9%be%d9%84%d8%a7%d8%b2%d8%a7-%da%a9%db%8c-%da%86%da%be%d8%aa-%da%af%d8%b1/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>لاہور میں ایل پی جی سپلائی معطل ہونے کا خدشہ، ڈسٹری بیوٹرز کی ہڑتال کی دھمکی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%db%8c%d9%84-%d9%be%db%8c-%d8%ac%db%8c-%d8%b3%d9%be%d9%84%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d9%85%d8%b9%d8%b7%d9%84-%db%81%d9%88%d9%86%db%92/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%db%8c%d9%84-%d9%be%db%8c-%d8%ac%db%8c-%d8%b3%d9%be%d9%84%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d9%85%d8%b9%d8%b7%d9%84-%db%81%d9%88%d9%86%db%92/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 21 Oct 2026 09:57:29 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[انتظامیہ]]></category>
		<category><![CDATA[ایل_پی_جی]]></category>
		<category><![CDATA[بزنس_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[تاجر_احتخاب]]></category>
		<category><![CDATA[ڈسٹری_بیوٹرز]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%db%8c%d9%84-%d9%be%db%8c-%d8%ac%db%8c-%d8%b3%d9%be%d9%84%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d9%85%d8%b9%d8%b7%d9%84-%db%81%d9%88%d9%86%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن نے انتظامی کارروائیوں کے خلاف حکومت کو ہفتے تک کی مہلت دے دی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">لاہور کے مختلف علاقوں میں گھریلو اور تجارتی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والی گیس کی سپلائی کا نظام شدید خطرات کی زد میں آ گیا ہے جہاں ضلعی انتظامیہ کی کارروائیوں کے خلاف ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز نے ہڑتال کرنے کی سخت دھمکی دے دی ہے۔ اس حوالے سے شہر کے اہم مقام راوی روڈ پر ایک مشاورتی اجلاس منعقد کیا گیا جس میں تاجروں اور دکانداروں نے بڑی تعداد میں شرکت کر کے آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی غور و خوض کیا۔ اجلاس کا بنیادی مقصد حالیہ کارروائیوں کے خلاف آواز اٹھانا اور آئندہ کے لیے مشترکہ حکمت عملی طے کرنا تھا تاکہ کاروباری طبقے کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس کی کارروائی کے دوران ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے پلیٹ فارم سے تاجر رہنماؤں نے انتظامیہ کے رویے پر گہرے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت دکانداروں کا کاروبار کرنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔ اجلاس میں ایسوسی ایشن کے چیئرمین میاں محمد اجمل کے علاوہ دیگر نمایاں رہنماؤں عبداللہ خان، تحصیل خان اور زرداد خان نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی اور شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کیا۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اگر حکومتی رویے میں تبدیلی نہ آئی تو کاروبار مزید جاری رکھنا ناممکن ہو جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاجر رہنماؤں نے اپنے خطاب میں الزام عائد کیا کہ پیرا فورس، سول ڈیفنس اور بلدیہ کے اہلکار بلاجواز طور پر ایل پی جی کی دکانوں کا رخ کر رہے ہیں اور تاجروں کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان اداروں کے عملے کی جانب سے نہ صرف دکانوں کو بلاجواز سیل کیا جا رہا ہے بلکہ دکانوں میں موجود گیس کے سلنڈرز اور دیگر ضروری سامان بھی زبردستی ضبط کیا جا رہا ہے۔ تاجروں کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ دکانداروں کو بلاوجہ کے قوانین کی آڑ میں ہراساں کیا جا رہا ہے تاکہ انہیں اپنے کاروبار سے دستبردار ہونے پر مجبور کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس کے دوران ایسوسی ایشن کے عہدیداران نے انتہائی سنگین نوعیت کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ بعض سرکاری اہلکار مبینہ طور پر دکانداروں سے رشوت اور بھتہ طلب کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جو دکاندار مبینہ طور پر ان کے مطالبات پورے کرنے سے انکار کرتے ہیں یا بھتہ دینے سے گریز کرتے ہیں، انہیں جان بوجھ کر انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ تاجروں کا کہنا تھا کہ اس طرح کے ہتھکنڈوں کی وجہ سے غریب اور محنت کش طبقے سے تعلق رکھنے والے دکانداروں کا جینا محال ہو چکا ہے اور وہ ذہنی کوفت کا شکار ہو رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متاثرہ ڈیلرز اور تاجروں کی جانب سے اجلاس کے دوران ایک بہت بڑا دعویٰ سامنے آیا جس میں بتایا گیا کہ اب تک کی جانے والی مختلف کارروائیوں کے دوران مبینہ طور پر چودہ کروڑ روپے مالیت کا سامان ضائع اور تباہ کیا جا چکا ہے۔ تاجر رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اس بھاری مالی نقصان کی وجہ سے کئی چھوٹے دکاندار مکمل طور پر دیوالیہ ہو چکے ہیں اور ان کے پاس اپنے اہل خانہ کا پیٹ پالنے کے لیے بھی ذرائع باقی نہیں رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کروڑوں روپے کا سامان تباہ کرنے سے ملکی معیشت کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر کاروباری سرگرمیوں کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے اجلاس میں حکومت کو ایک واضح انتباہ جاری کیا گیا اور ہفتے تک کی حتمی ڈیڈ لائن دی گئی۔ اعلامیے کے مطابق تاجروں نے مطالبہ کیا ہے کہ پیرا فورس، سول ڈیفنس اور بلدیہ کی طرف سے دکانوں کے خلاف کی جانے والی تمام چھاپہ مار کارروائیاں فوری طور پر بند کی جائیں۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ اگر دی گئی مدت کے اندر یہ کارروائیوں کا سلسلہ بند نہ کیا گیا تو تاجر برادری اپنے کاروبار کو معطل کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اعلان کے مطابق ڈیڈ لائن ختم ہونے پر شہر بھر میں ایل پی جی کی دکانیں مکمل طور پر بند کر دی جائیں گی اور اس کے ساتھ ہی سخت احتجاجی تحریک کا آغاز کیا جائے گا۔ تاجر رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ہڑتال اور کاروبار کی بندش سے پیدا ہونے والی تمام تر صورتحال کی ذمہ داری متعلقہ انتظامی اداروں اور حکومت پر عائد ہوگی کیونکہ وہ تاجروں کے ساتھ مذاکرات اور تعاون کا راستہ اختیار کرنے کے بجائے زبردستی کے اقدامات کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ احتجاجی دائرہ کار کو ضرورت پڑنے پر مزید وسعت بھی دی جا سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس کے اختتام پر تمام شرکاء نے متفقہ طور پر ایک لائحہ عمل تیار کیا جس کے تحت حکومتِ پنجاب سے پُر زور اپیل کی گئی کہ وہ اس معاملے کا فوری طور پر نوٹس لے۔ تاجروں نے بالخصوص وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے مطالبہ کیا کہ وہ اس صورتحال میں ذاتی دلچسپی لیں اور ضلعی انتظامیہ کے ان اقدامات کو رکوانے کے لیے احکامات صادر کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کی چیف ایگزیکٹو ہونے کے ناطے وہ تاجر برادری کے مشکلات کا ازالہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور انہیں امید ہے کہ اس حوالے سے مثبت اقدامات کیے جائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی حکومت سے اپنے مطالبات کی وضاحت کرتے ہوئے ایل پی جی ڈیلرز کا کہنا تھا کہ گیس کے اس کاروبار کو چلانے کے لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ واضح اور قابلِ عمل ایس او پیز یعنی معیاری طریقہ ہائے کار تشکیل دے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس وقت قواعد و ضوابط کی عدم موجودگی کی وجہ سے انتظامیہ اپنی مرضی تشریح کرتی ہے اور دکانداروں کو بلاوجہ تنگ کرتی ہے۔ تاجروں کا اصرار تھا کہ اگر ایک بار تحریری اور شفاف اصول طے ہو جائیں تو اس طرح کے تنازعات سے ہمیشہ کے لیے نجات مل سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ مسائل کے مستقل حل کے لیے ایسوسی ایشن نے ایک اور اہم تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ دکانداروں کو حفاظتی اقدامات کے حوالے سے مناسب تربیت فراہم کرے اور اس کے بعد باضابطہ لائسنس جاری کیے۔ تاجروں کا کہنا تھا کہ وہ غیر قانونی طور پر کام کرنے والے عناصر کا دفاع ہرگز نہیں کرتے بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ ہر دکاندار قانونی طریقے سے اپنا کاروبار چلائے۔ تربیت اور لائسنس کے اجراء سے نہ صرف حکومت کی رٹ قائم ہوگی بلکہ تاجر بھی سکون کے ساتھ اپنا روزگار کما سکیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتظامیہ کے ساتھ تعاون کے جذبے کا اعادہ کرتے ہوئے ایسوسی ایشن کے رہنماؤں نے کہا کہ وہ اس معاملے میں ریاست اور اداروں کے ساتھ مکمل طور پر تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت شہر میں غیر قانونی دکانوں کی نشاندہی کرنا چاہتی ہے تو تاجر خود انتظامیہ کی رہنمائی کریں گے تاکہ ایسے عناصر کو سامنے لایا جا سکے جو قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ اس پیشکش کا مقصد یہ ظاہر کرنا تھا کہ تاجر برادری قانون کی پاسداری پر یقین رکھتی ہے لیکن وہ بلاجواز ظلم اور انتقامی کارروائیوں کو برداشت نہیں کرے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حفاظتی اقدامات اور ایس او پیز کے نفاذ کے حوالے سے بھی ڈیلرز ایسوسی ایشن نے اپنی ذمے داری کا احساس دلایا اور کہا کہ گیس سلنڈرز کی ہینڈلنگ میں احتیاط انتہائی ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دکاندار اپنے کاروبار کے دوران تمام تر حفاظتی اصولوں کو اپنانے کے لیے تیار ہیں بشرطیکہ انہیں حکومتی سطح پر ایک سازگار ماحول فراہم کیا جائے۔ اگر حکومت انہیں ہراساں کرنے کا سلسلہ بند کر دے تو وہ خود بخود ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر حفاظتی اقدامات کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات اٹھائیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%db%8c%d9%84-%d9%be%db%8c-%d8%ac%db%8c-%d8%b3%d9%be%d9%84%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d9%85%d8%b9%d8%b7%d9%84-%db%81%d9%88%d9%86%db%92/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>اسلام آباد میں شیشہ کیفیز کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کرنے کا فیصلہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/islamabad/%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85-%d8%a2%d8%a8%d8%a7%d8%af-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b4%db%8c%d8%b4%db%81-%da%a9%db%8c%d9%81%db%8c%d8%b2-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/islamabad/%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85-%d8%a2%d8%a8%d8%a7%d8%af-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b4%db%8c%d8%b4%db%81-%da%a9%db%8c%d9%81%db%8c%d8%b2-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 21 Oct 2026 08:57:43 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[اسلام آباد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد_ہائیکورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[انتظامیہ]]></category>
		<category><![CDATA[ای_الیسون]]></category>
		<category><![CDATA[بحریہ_سوک_سینٹر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈپٹی_کمشنر_اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[راولپنڈی]]></category>
		<category><![CDATA[شیشہ_کیفے]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/islamabad/%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85-%d8%a2%d8%a8%d8%a7%d8%af-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b4%db%8c%d8%b4%db%81-%da%a9%db%8c%d9%81%db%8c%d8%b2-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81/</guid>

					<description><![CDATA[اسلام آباد ہائیکورٹ کے تحریری فیصلے کی روشنی میں ضلعی انتظامیہ نے وفاقی دارالحکومت میں شیشہ کیفیز کے خلاف کریک ڈاؤن کو مزید تیز کرنے کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے وفاقی دارالحکومت کے مختلف علاقوں میں غیر قانونی طور پر چلائے جانے والے شیشہ کیفیز کے خلاف جاری کارروائیوں کو مزید تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اہم فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے شیشہ کیفیز پر عائد پابندی سے متعلق جاری ہونے والے تحریری فیصلے کے بعد سامنے آیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتظامی حکام کے مطابق وفاقی دارالحکومت کی حدود میں روزانہ کی بنیاد پر شیشہ کیفیز اور ایسی دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ عدالتی احکامات کی تعمیل کرتے ہوئے اب تک بڑی تعداد میں کیفیز کو سیل کیا جا چکا ہے اور وہاں سے ممنوعہ سامان بھی قبضے میں لیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے تمام اسسٹنٹ کمشنرز کو خصوصی ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ اپنے اپنے دائرہ اختیار میں عدالتی احکامات پر من و عن عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس مہم کے دوران قانون شکنی کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا اور کسی کو رعایت نہیں دی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی دارالحکومت کے اہم اور مصروف تجارتی علاقوں بشمول ای الیون اور بحریہ سوک سینٹر سمیت تمام سیکٹرز میں بلا تفریق کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ ضلعی انتظامیہ کا مقصد شہر بھر میں اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے تاکہ نوجوان نسل کو اس سے بچایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتظامیہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلہ موصول ہونے کے بعد اب کارروائیوں کی رفتار میں نمایاں اضافہ کیا جا رہا ہے تاکہ قانون کی بالادستی کو قائم رکھا جا سکے۔ اس سلسلے میں فیلڈ افسران کو روزانہ کی بنیاد پر کارروائیوں کی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شیشہ کیفے کے مالکان کی جانب سے انتظامیہ کے ساتھ عدم تعاون یا مزاحمت کرنے کی صورت میں سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ڈپٹی کمشنر نے واضح احکامات جاری کیے ہیں کہ جو مالکان تعاون نہیں کریں گے ان کے خلاف فوری طور پر مقدمات درج کیے جائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شیشہ نوشی کے مضر اثرات بالخصوص نوجوان نسل کی صحت پر پڑنے والے برے اثرات کے پیش نظر اس مہم کو انتہائی اہمیت دی جا رہی ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے تمام متعلقہ ذیلی ادارے اور پولیس اس مہم میں ضلعی انتظامیہ کے ساتھ بھرپور تعاون کر رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہر کے مختلف علاقوں سے شیشہ کیفیز کے خلاف شہریوں کی جانب سے بھی وقتاً فوقتاً شکایات موصول ہوتی رہی ہیں جن پر انتظامیہ نے فوری ایکشن لینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ شہریوں نے ضلعی انتظامیہ کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے اس کے مستقل خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد ہائیکورٹ کا یہ تحریری فیصلہ شیشہ نوشی کے کاروبار سے وابستہ افراد کے لیے ایک سخت قانونی پیغام کی حیثیت رکھتا ہے۔ عدالت کی جانب سے دی گئی تشریح کے بعد انتظامیہ کے پاس کارروائی کے اختیارات مزید واضع ہو گئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فیلڈ میں موجود اسسٹنٹ کمشنرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ خود جا کر چھاپوں کی نگرانی کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ سیل کیے گئے کیفیز دوبارہ کسی بھی صورت میں فعال نہ ہونے پائیں۔ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو فوری طور پر تحویل میں لینے کی ہدایات بھی دی گئی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی دارالحکومت میں امن و امان اور صحت عامہ کے اصولوں کو برقرار رکھنے کے لیے ضلعی انتظامیہ نے دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر ایک جامع لائحہ عمل مرتب کیا ہے۔ اس لائحہ عمل کے تحت شیشہ کیفیز کے مالکان اور آپریٹرز کے خلاف سخت ترین قانونی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتظامی حکام کا عزم ہے کہ اسلام آباد کو شیشہ نوشی سے پاک شہر بنانے کے لیے اس مہم کو اس کے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ ڈپٹی کمشنر آفس کی جانب سے اس حوالے سے تمام کارروائیوں کی مانیٹرنگ کا عمل بھی انتہائی سخت کر دیا گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/islamabad/%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85-%d8%a2%d8%a8%d8%a7%d8%af-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b4%db%8c%d8%b4%db%81-%da%a9%db%8c%d9%81%db%8c%d8%b2-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے بعد تجاوزات کے خلاف بھرپور آپریشن کا آغاز</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1-%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%af%d9%88%d8%b1%d9%86%d8%b1-%d8%b1%d8%a7%d8%ac-%da%a9%db%92-%d8%a8%d8%b9%d8%af/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1-%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%af%d9%88%d8%b1%d9%86%d8%b1-%d8%b1%d8%a7%d8%ac-%da%a9%db%92-%d8%a8%d8%b9%d8%af/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 21 Oct 2026 03:37:51 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[انتظامیہ]]></category>
		<category><![CDATA[پشاور]]></category>
		<category><![CDATA[پشاور_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[تجاوزات_کے_خلاف_آپریشن]]></category>
		<category><![CDATA[ٹریفک_کی_روانی]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ضلعی_انتظامیہ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1-%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%af%d9%88%d8%b1%d9%86%d8%b1-%d8%b1%d8%a7%d8%ac-%da%a9%db%92-%d8%a8%d8%b9%d8%af/</guid>

					<description><![CDATA[پشاور سمیت صوبے بھر میں ضلعی انتظامیہ نے غیر قانونی تعمیرات ہٹانے اور ٹریفک کی روانی بحال کرنے کے لیے کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبائی انتظامیہ عوامی سہولت اور نظم و نسق کی بحالی کے لیے مکمل طور پر متحرک ہو گئی ہے۔ اس سلسلے میں پشاور اور دیگر اضلاع میں تجاوزات کے خلاف ایک وسیع آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق تجاوزات کے خلاف یہ کارروائیاں مسلسل تیسرے روز بھی جاری رہیں۔ ان اقدامات کا بنیادی مقصد سڑکوں کی حدود کو اصل حالت میں بحال کرنا اور غیر قانونی تعمیرات کا مکمل خاتمہ کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پشاور کے مختلف مصروف ترین مقامات بشمول رنگ روڈ، کوہاٹ روڈ، پشتہ خرہ چوک اور پی ڈی اے ٹول پلازہ کے اطراف میں کارروائیاں کی گئیں۔ ان مقامات پر سڑکوں کے کناروں پر قائم غیر قانونی ڈھانچوں کو بھاری مشینری کے ذریعے مسمار کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ افسران خود فیلڈ میں موجود رہ کر ان آپریشنز کی نگرانی کر رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ تجاوزات کے خاتمے سے شہریوں کو آمدورفت میں بڑی سہولت ملے گی اور ٹریفک کے مسائل میں نمایاں کمی واقع ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے متعلقہ اداروں کو بھی متحرک کر دیا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ تجاوزات کے خلاف یہ مہم کسی تفریق کے بغیر جاری رہے گی تاکہ عوامی مقامات کو ہر قسم کے قبضے سے پاک کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں کی جانب سے تجاوزات کے خلاف اس مہم کو سراہا جا رہا ہے کیونکہ اس سے قبل غیر قانونی تعمیرات کے باعث سڑکوں پر ٹریفک جام رہنا ایک معمول بن چکا تھا۔ انتظامیہ نے شہریوں سے بھی اس مہم میں تعاون کی اپیل کی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی حکام کے مطابق خیبر پختونخوا کے دیگر اضلاع میں بھی تجاوزات کے خلاف اسی طرح کی کارروائیوں کا دائرہ کار بڑھایا جائے گا۔ انتظامیہ کا عزم ہے کہ جب تک تجاوزات کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا، یہ آپریشن اسی تسلسل کے ساتھ جاری رہے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گورنر راج کے نفاذ کے بعد انتظامی مشینری کی فعالیت میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ عوامی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر یہ کارروائیاں مستقل بنیادوں پر جاری رہیں تو صوبے میں نظم و ضبط کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور دیگر متعلقہ ادارے بھی اس آپریشن میں ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کر رہے ہیں۔ تمام وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے شہر کی خوبصورتی اور ٹریفک کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آپریشن کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے سکیورٹی کے انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔ انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ عوامی مفاد کے پیش نظر کسی بھی دباؤ کو خاطر میں لائے بغیر تجاوزات کے خلاف کارروائی جاری رہے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کے علاوہ صوبائی انتظامیہ عوامی خدمت کے دیگر امور پر بھی توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ گورنر راج کے نفاذ کے بعد نئی حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے عوامی مسائل کے حل کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ صوبے میں بہتری لائی جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1-%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%af%d9%88%d8%b1%d9%86%d8%b1-%d8%b1%d8%a7%d8%ac-%da%a9%db%92-%d8%a8%d8%b9%d8%af/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>لاہور: مین شام نگر روڈ پر ترقیاتی کام التواء کا شکار، شہریوں کو مشکلات کا سامنا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d9%85%db%8c%d9%86-%d8%b4%d8%a7%d9%85-%d9%86%da%af%d8%b1-%d8%b1%d9%88%da%88-%d9%be%d8%b1-%d8%aa%d8%b1%d9%82%db%8c%d8%a7%d8%aa%db%8c-%da%a9%d8%a7%d9%85/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d9%85%db%8c%d9%86-%d8%b4%d8%a7%d9%85-%d9%86%da%af%d8%b1-%d8%b1%d9%88%da%88-%d9%be%d8%b1-%d8%aa%d8%b1%d9%82%db%8c%d8%a7%d8%aa%db%8c-%da%a9%d8%a7%d9%85/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 21 Oct 2026 02:37:55 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[انتظامیہ]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[ترقیاتی_کام]]></category>
		<category><![CDATA[ٹریفک_حادثات]]></category>
		<category><![CDATA[سڑکوں_کی_تعمیر]]></category>
		<category><![CDATA[شام_نگر_روڈ]]></category>
		<category><![CDATA[شہری_انتظامیہ]]></category>
		<category><![CDATA[شہری_سہولیات]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d9%85%db%8c%d9%86-%d8%b4%d8%a7%d9%85-%d9%86%da%af%d8%b1-%d8%b1%d9%88%da%88-%d9%be%d8%b1-%d8%aa%d8%b1%d9%82%db%8c%d8%a7%d8%aa%db%8c-%da%a9%d8%a7%d9%85/</guid>

					<description><![CDATA[مین روڈ پر پائپ لائن بچھانے کے بعد سڑک کی تعمیر و مرمت نہ ہونے سے ٹریفک حادثات میں اضافہ اور کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">شہر لاہور کے گنجان آباد علاقے مین شام نگر روڈ اور اس سے ملحقہ گلیوں میں جاری ترقیاتی کام طویل عرصے سے التواء کا شکار ہیں، جس کے باعث مقامی رہائشیوں اور وہاں سے گزرنے والے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">علاقہ مکینوں کے مطابق مین سڑک پر کچھ عرصہ قبل پائپ لائن بچھانے کا کام کیا گیا تھا، تاہم اس کے بعد سڑک کی دوبارہ تعمیر اور مرمت کے عمل کو مکمل نہیں کیا گیا، جس سے سڑک کی حالت انتہائی خستہ ہو چکی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سڑک پر موجود بڑے بڑے گڑھے اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار حصہ آئے روز ٹریفک حادثات کا سبب بن رہا ہے۔ موٹر سائیکل سواروں اور گاڑیوں کے ڈرائیوروں کو اس راستے سے گزرتے ہوئے شدید دشواری پیش آتی ہے اور گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سڑک کی خستہ حالی کے باعث گرد و غبار کا طوفان اٹھنا معمول بن چکا ہے، جس سے نہ صرف علاقے کا ماحول آلودہ ہو رہا ہے بلکہ وہاں قائم کاروباری مراکز اور دکانوں پر بھی برا اثر پڑ رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقامی تاجروں کا کہنا ہے کہ گرد و غبار کی وجہ سے گاہکوں کا آنا مشکل ہو گیا ہے، جس سے ان کا روزگار بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ سڑک کی تعمیر نہ ہونے سے علاقے کی کاروباری رونقیں ماند پڑ گئی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں نے متعلقہ حکام اور ضلعی انتظامیہ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس صورتحال کا فوری نوٹس لیں اور مین شام نگر روڈ کی فوری تعمیر و مرمت کو یقینی بنائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اہلیانِ علاقہ کا کہنا ہے کہ اگر سڑک کی جلد از جلد بحالی نہ کی گئی تو حادثات کی شرح میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس کی ذمہ داری متعلقہ انتظامیہ پر عائد ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں نے امید ظاہر کی ہے کہ انتظامیہ عوامی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے ترقیاتی کاموں کو جلد مکمل کرائے گی تاکہ علاقے میں ٹریفک کی روانی بحال ہو سکے اور شہریوں کو درپیش مسائل کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سڑک کی خراب صورتحال کے باعث سکول جانے والے بچوں اور بزرگ شہریوں کو بھی آمدورفت میں شدید دشواری کا سامنا ہے۔ سڑک پر موجود گڑھوں میں پانی جمع ہونے سے بیماریوں کے پھیلنے کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقامی رہائشیوں کا مزید کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں کی جانب سے بار بار شکایات کے باوجود سڑک کی تعمیر کی جانب کوئی توجہ نہیں دی جا رہی، جس سے عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شام نگر روڈ لاہور کا ایک اہم راستہ ہے جو کئی رہائشی کالونیوں کو شہر کے مرکزی حصوں سے ملاتا ہے۔ سڑک کی بندش یا خستہ حالی کی وجہ سے متبادل راستوں پر بھی ٹریفک کا دباؤ بڑھ جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنائے تاکہ سرکاری فنڈز کا درست استعمال ہو سکے اور شہریوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ حکام فوری طور پر سائٹ کا دورہ کریں اور سڑک کی تعمیر کے لیے درکار وسائل فراہم کریں تاکہ اس اہم راستے کو جلد از جلد ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بحال کیا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d9%85%db%8c%d9%86-%d8%b4%d8%a7%d9%85-%d9%86%da%af%d8%b1-%d8%b1%d9%88%da%88-%d9%be%d8%b1-%d8%aa%d8%b1%d9%82%db%8c%d8%a7%d8%aa%db%8c-%da%a9%d8%a7%d9%85/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>لاہور میں بسنت کے تہوار کی تاریخیں تبدیل، نئی تاریخوں کا اعلان</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a8%d8%b3%d9%86%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%aa%db%81%d9%88%d8%a7%d8%b1-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%ae%db%8c%da%ba/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a8%d8%b3%d9%86%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%aa%db%81%d9%88%d8%a7%d8%b1-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%ae%db%8c%da%ba/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 20 Oct 2026 09:57:46 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[انتظامیہ]]></category>
		<category><![CDATA[بسنت]]></category>
		<category><![CDATA[پتنگ_بازی]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_کابینہ]]></category>
		<category><![CDATA[تہوار]]></category>
		<category><![CDATA[ثقافتی_سرگرمیاں]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a8%d8%b3%d9%86%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%aa%db%81%d9%88%d8%a7%d8%b1-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%ae%db%8c%da%ba/</guid>

					<description><![CDATA[پنجاب کابینہ نے بسنت کی تاریخ میں تبدیلی کی سمری کی منظوری دے دی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">لاہور میں بسنت کے روایتی تہوار کے انعقاد کے حوالے سے اہم حکومتی فیصلہ سامنے آیا ہے جس کے تحت اس سالانہ تہوار کی تاریخوں میں تبدیلی کر دی گئی ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے اس فیصلے کا بنیادی مقصد انتظامات کو بہتر بنانا اور شہریوں کے لیے تفریح کے مواقع کو منظم انداز میں فراہم کرنا ہے۔ پنجاب کابینہ نے اس سلسلے میں موصول ہونے والی سمری کی باضابطہ منظوری دے دی ہے جس کے بعد اب نئی تاریخوں پر عمل درآمد کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صوبائی دارالحکومت لاہور میں اب بسنت کا تہوار بارہ، تیرہ اور چودہ مارچ دو ہزار ستائیس کو منایا جائے گا۔ پہلے سے طے شدہ نظام اور شیڈول میں اس تبدیلی کا مقصد انتظامی امور کو احسن طریقے سے انجام دینا اور سکیورٹی سمیت تمام متعلقہ محکموں کو تیاری کے لیے مناسب وقت دینا ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ اس تہوار کو روایتی جوش و خروش کے ساتھ منایا جائے لیکن اس کے ساتھ ساتھ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو بھی ہر صورت یقینی بنایا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پنجاب کابینہ کے اس فیصلے کے بعد ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں نے اپنی تیاریاں شروع کر دی ہیں تاکہ مقررہ تاریخوں پر اس بڑے تہوار کو پرامن طریقے سے منعقد کیا جا سکے۔ محکمہ داخلہ اور دیگر متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بسنت کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے سخت حفاظتی اقدامات وضع کریں۔ اس تہوار کے حوالے سے حکومتی سطح پر ایس او پیز بھی تیار کیے جا رہے ہیں جن پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لاہور کی تاریخی ثقافت میں بسنت کو ایک خاص مقام حاصل رہا ہے جس میں شہر کے اندرون علاقوں سمیت مختلف مقامات پر خصوصی تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ طویل عرصے تک پابندی اور تعطل کے بعد جب حکومت کی طرف سے اس تاریخی تہوار کو بحال کرنے کے اقدامات کیے گئے تو عوام کی جانب سے بھرپور جوش و خروش دیکھا گیا۔ اب تاریخوں میں ردوبدل سے متعلقہ کاروباری طبقے اور بالخصوص پتنگ سازوں کو بھی اپنی سرگرمیوں کے لیے بہتر وقت مل جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی حکومت کی جانب سے اس امر پر خصوصی زور دیا گیا ہے کہ بسنت کے دوران کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام اداروں کو ہائی الرٹ رکھا جائے گا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ساتھ ریسکیو اور دیگر امدادی ٹیموں کو بھی اس حوالے سے پیشگی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ ضلعی انتظامیہ اس بات کو یقینی بنائے گی کہ طے شدہ ضابطہ اخلاق پر من و عن عمل کیا جائے تاکہ کسی کی جان و مال کو خطرہ لاحق نہ ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس تہوار کے حوالے سے لاہور کے شہریوں میں بھی زبردست جوش پایا جاتا ہے جو اس قدیم تہوار کی واپسی کے منتظر تھے اور اب نئی تاریخوں کے اعلان کے بعد ان میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے تہوار شہر کی رونقوں کو بحال کرنے اور روایتی کھانوں اور ثقافتی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تاجر برادری نے بھی اس فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے معاشی سرگرمیوں کو بھی تقویت ملے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت پنجاب کی طرف سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ بسنت کے دوران تمام ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد ہو۔ پتنگ بازی کے شوقین افراد کے لیے بھی چند اصول و ضوابط بنائے گئے ہیں تاکہ کسی قسم کا حادثہ پیش نہ آئے۔ متعلقہ محکمے ان تمام امور کی کڑی نگرانی کریں گے اور کسی بھی قانون شکنی کی صورت میں فوری کارعمل کا مظاہرہ کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لاہور میں بسنت کے انعقاد کے لیے انتظامیہ نے سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کا عزم ظاہر کیا ہے تاکہ شہر کا امن و امان ہر صورت برقرار رہے۔ پولیس اور دیگر سکیورٹی ادارے اس میگا ایونٹ کے دوران ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے کے لیے بھی ایک جامع پلان تیار کر رہے ہیں۔ شہریوں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اس تہوار سے لطف اندوز ہوں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بسنت کی تاریخوں میں تبدیلی کا یہ فیصلہ تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد سامنے آیا ہے تاکہ کسی بھی قسم کے انتظامی تعطل سے بچا جا سکے۔ حکومت نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ تمام ادارے بروقت اپنی تیاریاں مکمل کریں تاکہ مارچ دو ہزار ستائیس میں ہونے والے اس تہوار کو شاندار طریقے سے منایا جا سکے۔ ثقافتی حلقوں نے اس حکومتی اقدام کو ایک مثبت قدم قرار دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لاہور میں بسنت کے تہوار کی نئی تاریخوں کے اعلان کے بعد شہر بھر میں ایک بار پھر اس تہوار کی تیاریاں زیر بحث آ گئی ہیں۔ شہری اور تاجر دونوں ہی اس بات کے منتظر ہیں کہ آنے والے مہینوں میں حکومت کی جانب سے اس حوالے سے مزید کیا اقدامات کیے جاتے ہیں۔ اس تمام صورتحال میں انتظامیہ اور عوام کا باہمی تعاون ہی اس تہوار کی کامیابی کی اصل ضمانت ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a8%d8%b3%d9%86%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%aa%db%81%d9%88%d8%a7%d8%b1-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%ae%db%8c%da%ba/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ویتنام کے دارالحکومت میں درختوں کی تیز خوشبو شہریوں کیلئے دردِ سر بن گئی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/%d9%88%db%8c%d8%aa%d9%86%d8%a7%d9%85-%da%a9%db%92-%d8%af%d8%a7%d8%b1%d8%a7%d9%84%d8%ad%da%a9%d9%88%d9%85%d8%aa-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%af%d8%b1%d8%ae%d8%aa%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/%d9%88%db%8c%d8%aa%d9%86%d8%a7%d9%85-%da%a9%db%92-%d8%af%d8%a7%d8%b1%d8%a7%d9%84%d8%ad%da%a9%d9%88%d9%85%d8%aa-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%af%d8%b1%d8%ae%d8%aa%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 20 Oct 2026 09:20:30 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[الرجی]]></category>
		<category><![CDATA[انتظامیہ]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[خوشبو]]></category>
		<category><![CDATA[درخت]]></category>
		<category><![CDATA[شکایات]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d9%88%db%8c%d8%aa%d9%86%d8%a7%d9%85-%da%a9%db%92-%d8%af%d8%a7%d8%b1%d8%a7%d9%84%d8%ad%da%a9%d9%88%d9%85%d8%aa-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%af%d8%b1%d8%ae%d8%aa%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[ہنوئی میں مخصوص درختوں کی مہک سے زچ ہو کر انتظامیہ نے پانچ روزہ خصوصی مہم کے تحت شاخیں کاٹنا شروع کر دیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ویتنام کے دارالحکومت ہنوئی میں میونسپل انتظامیہ کی جانب سے ایک منفرد اور حیرت انگیز قدم اٹھایا گیا ہے جس کے تحت شہر بھر میں کثرت سے پائے جانے والے مخصوص درختوں کی تیز خوشبو سے نجات حاصل کرنے کے لیے کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہر کے مختلف علاقوں میں طویل عرصے سے موجود ان درختوں سے خارج ہونے والی مہک اس خطے کے موسم خزاں کی شناخت سمجھی جاتی ہے لیکن اب یہ صورتحال مقامی شہریوں کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹس کے مطابق ہنوئی کے طول و عرض میں ہوا سوا یا ملک فلاور کے نام سے مشہور یہ خاص درخت اپنی انتہائی تیز اور میٹھی خوشبو کے باعث دنیا بھر میں اپنی ایک الگ پہچان رکھتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ پودے بالخصوص شام کے وقت فضا میں ایک گہری اور شدید مہک چھوڑتے ہیں جو ستمبر اور اکتوبر کے مہینوں میں اپنے پورے جوبن پر ہوتی ہے اور موسم خزاں کے دنوں میں ماحول کو مکمل طور پر معطر کر دیتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ اعداد و شمار کے مطابق ہنوئی شہر کی حدود میں ایسے تقریباً چودہ ہزار چار سو درخت موجود ہیں جو سال کے اس مخصوص حصے میں اس قدر تیز خوشبو خارج کرتے ہیں کہ فضا بوجھل محسوس ہونے لگتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اگرچہ یہ خوشبو دیکھنے میں ایک خوشگوار احساس فراہم کرتی ہے تاہم اس کی حد سے زیادہ شدت نے اب شہریوں کی روزمرہ کی معمولاتِ زندگی کو بری طرح متاثر کرنا شروع کر دیا ہے جس پر عوام میں تشویش پائی جاتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہر کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے متعدد مکینوں نے انتظامیہ کو باقاعدہ شکایات جمع کروائی ہیں جن میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ان درختوں کے پاس سے گزرنا یا رہنا اب انتہائی دشوار ہوتا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے کہ اس بے پناہ خوشبو کے باعث انہیں روزانہ کی بنیاد پر شدید سردرد اور مائیگرین جیسی اذیت ناک طبی شکایات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس سے ان کی صحت متاثر ہو رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ہنوئی کے ایک مقامی رہائشی نے میڈیا کو اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ اس تیز مہک سے بچنے کے لیے انہوں نے مجبورا شام کے وقت گھر سے باہر نکل کر کی جانے والی چہل قدمی کا معمول بھی ترک کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عوام کی جانب سے لگاتار موصول ہونے والی ان شکایات اور طبی مسائل کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ہنوئی کے متعلقہ حکام نے فوری طور پر اس معاملے پر عملی اقدامات اٹھانے کا حتمی فیصلہ کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتظامیہ کی طرف سے شہر میں ایک خصوصی پانچ روزہ مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے جس کے دوران ہنوئی بھر میں موجود ان مخصوص درختوں میں سے تقریبا سات فیصد درختوں کی پھولدار شاخیں کاٹنے کا کام شروع ہو چکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس مہم کے تحت جہاں ایک طرف بعض درختوں کی صرف پھولوں والی اضافی شاخوں کو تراشا جا رہا ہے وہیں دوسری جانب کچھ منتخب درختوں کو جڑ سے اکھاڑ کر شہر کے دوسرے متبادل حصوں میں منتقل کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاہم حکومت کے اس فیصلے پر شہر کے تمام مکین ایک ہی رائے پر متفق دکھائی نہیں دیتے اور مختلف حلقوں کی جانب سے اس کارروائی پر ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے جس میں ناخوشی بھی شامل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کئی مقامی شہریوں کا اس حوالے سے یہ مؤقف ہے کہ ان درختوں کی یہ خاص خوشبو ہنوئی کی صدیوں پرانی ثقافتی میراث اور اس کے موسم خزاں کی خوبصورتی کا ایک لازمی اور حسین ترین حصہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان شہریوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کو اس قدرتی خوبصورتی کو ختم کرنے کے بجائے کسی اور متبادل حل پر غور کرنا چاہیے تھا تاکہ شہر کا روایتی ماحول بھی برقرار رہتا اور کسی کو تکلیف بھی نہ ہوتی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری طرف ماہرینِ ماحولیات نے اس پورے معاملے پر روشنی ڈالتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگرچہ ان درختوں کی یہ تیز خوشبو کسی بھی طرح سے زہریلی یا جان لیوا ثابت نہیں ہوتی ہے، لیکن اس کی نوعیت مختلف ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ ان پودوں اور درختوں سے اڑنے والے پولن کے باریک ذرات سے بعض ایسے افراد جو الرجی کی حساسیت کا شکار ہوتے ہیں، انہیں سانس لینے یا جلد کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/%d9%88%db%8c%d8%aa%d9%86%d8%a7%d9%85-%da%a9%db%92-%d8%af%d8%a7%d8%b1%d8%a7%d9%84%d8%ad%da%a9%d9%88%d9%85%d8%aa-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%af%d8%b1%d8%ae%d8%aa%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ضلع خیبر میں پولیس اہلکاروں کے اغوا اور تصادم کی خبریں بے بنیاد قرار</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%b6%d9%84%d8%b9-%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%be%d9%88%d9%84%db%8c%d8%b3-%d8%a7%db%81%d9%84%da%a9%d8%a7%d8%b1%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d8%a7%d8%ba%d9%88%d8%a7/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%b6%d9%84%d8%b9-%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%be%d9%88%d9%84%db%8c%d8%b3-%d8%a7%db%81%d9%84%da%a9%d8%a7%d8%b1%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d8%a7%d8%ba%d9%88%d8%a7/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 20 Oct 2026 00:17:34 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[امن_و_امان]]></category>
		<category><![CDATA[انتظامیہ]]></category>
		<category><![CDATA[باڑہ]]></category>
		<category><![CDATA[پروپیگنڈا]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[جعلی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[سوشل_میڈیا]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%b6%d9%84%d8%b9-%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%be%d9%88%d9%84%db%8c%d8%b3-%d8%a7%db%81%d9%84%da%a9%d8%a7%d8%b1%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d8%a7%d8%ba%d9%88%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ باڑہ اور ضلع خیبر میں امن و امان کی صورتحال مکمل طور پر کنٹرول میں ہے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی اطلاعات غلط ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ضلع خیبر اور باڑہ کے علاقوں میں پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے اور ان کے اغوا سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کو انتظامیہ نے مکمل طور پر بے بنیاد اور جھوٹ قرار دے دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ علاقے میں حالات معمول کے مطابق ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گزشتہ روز سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ مذکورہ علاقوں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید تصادم ہوا ہے جس کے نتیجے میں متعدد اہلکار زخمی ہوئے اور کچھ کو اغوا کر لیا گیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے ان دعووں کی سختی سے تردید کی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فیکٹ چیک رپورٹس کے مطابق یہ افواہیں دانستہ طور پر پھیلائی گئیں تاکہ علاقے میں بدامنی اور خوف و ہراس کی فضا پیدا کی جا سکے۔ ان خبروں کے پیچھے بعض مقامی اور غیر ملکی عناصر کے ملوث ہونے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں جو حالات کو خراب کرنے کے درپے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ باڑہ اور ضلع خیبر کی سڑکوں پر کسی قسم کے مظاہرین موجود نہیں ہیں اور تمام تر معمولات زندگی بلا تعطل جاری ہیں۔ پولیس کی جانب سے کسی بھی قسم کے تصادم یا اہلکاروں کے اغوا کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا، یہ خبریں محض پروپیگنڈا کا حصہ ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام نے مزید بتایا کہ پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے امن و امان کو برقرار رکھا اور کسی بھی شرپسند عنصر کو حالات خراب کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ انتظامیہ کے مطابق علاقے میں سیکیورٹی کے انتظامات مکمل ہیں اور عوام کو کسی قسم کی تشویش میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ان غیر مصدقہ دعووں کے بارے میں انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کچھ سیاسی وابستگی رکھنے والے اکاؤنٹس اور افغان عناصر نے مل کر یہ منفی مہم چلائی۔ اس مہم کا مقصد عوام میں بے چینی پھیلانا اور ریاستی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچانا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتظامیہ نے عوام سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی کسی بھی غیر تصدیق شدہ خبر پر یقین نہ کریں۔ کسی بھی حساس معاملے پر معلومات کی تصدیق صرف مستند سرکاری ذرائع یا باخبر میڈیا اداروں سے ہی کی جانی چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام نے مزید کہا کہ افواہیں پھیلانے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی تاکہ مستقبل میں ایسی گمراہ کن اطلاعات کو روکا جا سکے۔ عوام کو چاہیے کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور ایسی خبروں کو آگے بڑھانے سے گریز کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ضلع خیبر میں امن و امان کی بحالی کے لیے مقامی پولیس اور دیگر سیکیورٹی ادارے مکمل طور پر چوکس ہیں۔ کسی بھی قسم کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے انتظامیہ پوری طرح تیار ہے اور علاقے میں معمول کی سرگرمیاں بلا رکاوٹ جاری ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ امر قابل ذکر ہے کہ حالیہ کچھ عرصے میں سوشل میڈیا کے ذریعے جعلی خبروں کا پھیلاؤ ایک چیلنج بن کر سامنے آیا ہے۔ اس طرح کے پروپیگنڈے کا مقصد معاشرے میں انتشار پیدا کرنا ہوتا ہے، جس سے نمٹنے کے لیے عوام کا ہوشیار رہنا انتہائی ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام نے اپنے بیان میں مزید وضاحت کی کہ باڑہ میں امن و امان کی صورتحال مکمل طور پر کنٹرول میں ہے، اور پولیس اہلکاروں کے اغوا یا زخمی ہونے کی خبریں سراسر جھوٹ پر مبنی ہیں۔ عوام کو ایسی گمراہ کن معلومات سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%b6%d9%84%d8%b9-%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%be%d9%88%d9%84%db%8c%d8%b3-%d8%a7%db%81%d9%84%da%a9%d8%a7%d8%b1%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d8%a7%d8%ba%d9%88%d8%a7/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>کراچی میں مرغی کے گوشت کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%d8%b1%d8%ba%db%8c-%da%a9%db%92-%da%af%d9%88%d8%b4%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d9%82%db%8c%d9%85%d8%aa%d9%88%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%d8%b1%d8%ba%db%8c-%da%a9%db%92-%da%af%d9%88%d8%b4%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d9%82%db%8c%d9%85%d8%aa%d9%88%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 19 Oct 2026 14:17:49 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹاک_ایکسچینج]]></category>
		<category><![CDATA[انتظامیہ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پولٹری_فارم]]></category>
		<category><![CDATA[چکن_پرائس]]></category>
		<category><![CDATA[ڈالر]]></category>
		<category><![CDATA[سونا]]></category>
		<category><![CDATA[شہر_قائد]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%d8%b1%d8%ba%db%8c-%da%a9%db%92-%da%af%d9%88%d8%b4%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d9%82%db%8c%d9%85%d8%aa%d9%88%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba/</guid>

					<description><![CDATA[شہر قائد میں مرغی کا گوشت ساڑھے 600 سے 670 روپے فی کلو تک فروخت ہونے لگا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">کراچی کے شہریوں کو مہنگائی کے ایک اور طوفان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جہاں روزمرہ استعمال کی اشیاء کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے عام آدمی کی زندگی کو انتہائی اجیرن بنا ڈالا ہے۔ اسی سلسلے میں شہر قائد کے اندر مرغی کے گوشت کی قیمتوں میں ایک مرتبہ پھر بڑا اور تشویشناک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مختلف علاقوں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق شہر میں فی کلو مرغی کا گوشت اب ساڑھے چھ سو روپے سے لے کر چھ سو ستر روپے تک فروخت ہو رہا ہے۔ اس ہوشربا اضافے نے متوسط اور غریب طبقے کے دسترخوان سے سفید گوشت کی موجودگی کو بھی مشکل بنا دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک بھر میں جاری مہنگائی کی لہر کے اثرات کراچی کی مارکیٹوں میں نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں جہاں ہر گزرتے دن کے ساتھ اشیائے ضروریہ کے دام بڑھ رہے ہیں۔ عوام کے لیے اپنے اہل خانہ کا پیٹ پالنا اور دو وقت کی روٹی کا بندوبست کرنا ایک کٹھن مرحلہ بن چکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہر کے مختلف علاقوں میں مرغی کے گوشت کے نرخوں میں بھی واضح تضاد اور فرق پایا جا رہا ہے جس کی وجہ سے خریدار شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔ کہیں دکاندار فی کلو چکن ساڑھے چھ سو روپے میں دے رہے ہیں تو کہیں اس کے دام چھ سو ستر روپے تک وصول کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پوش علاقوں اور بڑی کمرشل مارکیٹوں میں دکانداروں کی جانب سے اپنی مرضی کے نرخ وصول کیے جانے کی شکایات عام ہو چکی ہیں جبکہ نسبتاً سستے علاقوں میں قیمت معمولی سی کم رکھی جاتی ہے۔ اس غیر اعلانہ نرخ بندی نے صارفین کو دکانداروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مارکیٹ ذرائع کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ پولٹری فارمز کی جانب سے مرغی کی سپلائی مہنگی داموں مل رہی ہے اور فیڈ کی قیمتوں میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ فیڈ کی زیادہ لاگت براہ راست پیداوار پر اثر انداز ہوتی ہے جس کا سارا بوجھ آخر کار عام صارفین پر ڈالا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولٹری سیکٹر سے وابستہ افراد کا موقف ہے کہ فارمنگ کے اخراجات بڑھ جانے کی وجہ سے مرغی کی پرورش سستی نہیں رہی اور انہیں مجبورا ًبڑے ہوئے نرخوں پر سپلائی دینا پڑتی ہے۔ اس تمام صورتحال میں پیداواری لاگت کا بڑھنا ایک اہم معاشی حقیقت کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب متعلقہ ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کی جانب سے مرغی کے گوشت کے سرکاری نرخ نامے باقاعدہ طور پر جاری کیے جاتے ہیں لیکن ان پر عملدرآمد کرانے کا کوئی مؤثر نظام نظر نہیں آتا۔ پرائس کنٹرول کمیٹیوں کی کارکردگی سوالیہ نشان بن چکی ہے اور وہ مارکیٹ کا دورہ کرنے سے گریزاں ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتظامی غفلت کا یہ عالم ہے کہ دکانداروں اور تاجروں نے سرکاری نرخ ناموں کو ہوا میں اڑا رکھا ہے اور وہ اپنی مرضی کے مطابق ریٹ وصول کرنے میں مصروف ہیں۔ کوئی بھی مجاز اتھارٹی اس من مانی کو روکنے کے لیے عملی اقدامات کرتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عوامی حلقوں اور سماجی تنظیموں نے اس صورتحال پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ منافع خور عناصر دونوں ہاتھوں سے عوام کو لوٹ رہے ہیں اور انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پرائس کنٹرول کمیٹیوں کو فعال بنایا جائے تاکہ ناجائز منافع خوری کرنے والے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔ اگر ان قیمتوں کو کنٹرول نہ کیا گیا تو غریب عوام کے لیے زندہ رہنا مزید محال ہو جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین اقتصادیات نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ سپلائی چین کے اندر موجود خرابیوں کو دور کرنے اور مڈل مین کے کردار کو محدود کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ جب تک پولٹری فارمنگ کی بنیادی لاگت میں کمی نہیں لائی جاتی، صارفین کو اس مہنگائی سے نجات ملنا ممکن نہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امید کی جا رہی ہے کہ متعلقہ حکام اس معاملے کا فوری نوٹس لیں گے اور کراچی کے عوام کو اس اضافی مالی بوجھ سے نکالنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کریں گے۔ شہریوں کی نظریں اب ضلعی انتظامیہ کی اگلی کارروائی پر مرکوز ہیں کہ وہ کب حرکت میں آتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%d8%b1%d8%ba%db%8c-%da%a9%db%92-%da%af%d9%88%d8%b4%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d9%82%db%8c%d9%85%d8%aa%d9%88%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
