<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.7.1"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>انتخابی_کمیشن &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%a7%d9%86%d8%aa%d8%ae%d8%a7%d8%a8%db%8c_%da%a9%d9%85%db%8c%d8%b4%d9%86/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sun, 11 Oct 2026 09:36:48 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.3</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>انتخابی_کمیشن &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>بھارت: کاکروچ جنتا پارٹی کے سربراہ ابھیجیت دپکے حراست سے رہا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%b1%d8%aa-%da%a9%d8%a7%da%a9%d8%b1%d9%88%da%86-%d8%ac%d9%86%d8%aa%d8%a7-%d9%be%d8%a7%d8%b1%d9%b9%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%b3%d8%b1%d8%a8%d8%b1%d8%a7%db%81-%d8%a7%d8%a8%da%be%db%8c/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%b1%d8%aa-%da%a9%d8%a7%da%a9%d8%b1%d9%88%da%86-%d8%ac%d9%86%d8%aa%d8%a7-%d9%be%d8%a7%d8%b1%d9%b9%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%b3%d8%b1%d8%a8%d8%b1%d8%a7%db%81-%d8%a7%d8%a8%da%be%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 09:36:48 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[Dailypakistanonline]]></category>
		<category><![CDATA[DPO]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[ابھیجیت_دپکے]]></category>
		<category><![CDATA[احتجاج]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[انتخابی_کمیشن]]></category>
		<category><![CDATA[بھارت]]></category>
		<category><![CDATA[بھارت_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[بھارتی_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[بی_جے_پی]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[کاکروچ_جنتا_پارٹی]]></category>
		<category><![CDATA[مشرق_وسطیٰ]]></category>
		<category><![CDATA[نئی_دہلی]]></category>
		<category><![CDATA[نریندر_مودی]]></category>
		<category><![CDATA[ووٹر_فہرستیں]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/116/</guid>

					<description><![CDATA[بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں ووٹر فہرستوں کے متنازع عمل کے خلاف احتجاج کرنے والے رہنما کو عدالت کے حکم پر رہا کر دیا گیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">بھارت میں جاری سیاسی کشیدگی کے دوران ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے سربراہ ابھیجیت دپکے کو ان کے دو ساتھیوں سمیت حراست سے رہا کر دیا گیا ہے۔ یہ رہائی ایک مقامی عدالت کے حکم پر عمل میں آئی ہے جس کے بعد تحریک کے کارکنوں میں ایک نئی لہر دوڑ گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ابھیجیت دپکے اور ان کے دیگر سینئر رہنماؤں کو ہفتے کے روز اس وقت حراست میں لیا گیا تھا جب وہ دہلی پہنچے تھے۔ ان کا مقصد وسطی دہلی کے علاقے جنتر منتر پر ایک بڑے احتجاجی مظاہرے کی قیادت کرنا تھا جس کے لیے ہزاروں افراد نے تیاری کر رکھی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بھارتی حکام نے ہفتے کے روز شہر بھر میں ایک وسیع آپریشن کیا تھا جس کے دوران تین ہزار سے زائد مظاہرین کو حراست میں لیا گیا تھا۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے یہ اقدامات ناگزیر تھے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مظاہرین کا بنیادی مطالبہ بھارت کے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کا استعفیٰ ہے۔ ان کا موقف ہے کہ ووٹر فہرستوں کی حالیہ نظر ثانی کا عمل شفاف نہیں ہے اور اس سے حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو غیر منصفانہ فائدہ پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس احتجاجی تحریک نے وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کے خلاف عوامی غصے کو ایک نئی شکل دی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ گزشتہ بارہ برسوں سے اقتدار میں رہنے والی جماعت انتخابی عمل کو اپنے حق میں استعمال کرنے کے لیے سرکاری مشینری کا غلط استعمال کر رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اتوار کے روز دہلی کی صورتحال میں بہتری دیکھی گئی اور شہر کے میٹرو اسٹیشنز کو دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ موبائل انٹرنیٹ سروسز بھی بحال کر دی گئی ہیں جو کہ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر عارضی طور پر معطل کی گئی تھیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس کے مطابق ہفتے کے روز حراست میں لیے گئے مظاہرین کی بڑی تعداد کو رات گئے رہا کر دیا گیا تھا۔ تاہم اب بھی صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے اور شہر کے اہم مقامات پر پولیس اور نیم فوجی دستوں کی بھاری نفری تعینات ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے بھارت میں ہونے والی ان گرفتاریوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ حکام کو چاہیے کہ وہ پرامن احتجاج کے حق کا احترام کریں اور شہریوں کو اپنی رائے کے اظہار کے لیے محفوظ ماحول فراہم کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب بھارتی وزارت خارجہ نے اقوام متحدہ کے اس بیان کو مسترد کر دیا ہے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ یہ بھارت کا داخلی معاملہ ہے اور عالمی ادارے کی جانب سے اس قسم کے بیانات کو بلاجواز مداخلت اور منتخب نوعیت کا طرزِ عمل قرار دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بھارت میں ووٹر فہرستوں پر نظر ثانی کا عمل طویل عرصے سے بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ اس عمل کے ذریعے ووٹرز کے اندراج میں جان بوجھ کر تبدیلیاں کی جا رہی ہیں تاکہ انتخابی نتائج پر اثر انداز ہوا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ابھیجیت دپکے کی رہائی کے بعد اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ اپنی تحریک کو کس سمت لے کر جاتی ہے۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ آنے والے دنوں میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اس معاملے پر مزید تلخی پیدا ہو سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دہلی میں جاری اس احتجاج نے بھارتی سیاسی منظر نامے میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ حکومت اور مظاہرین کے درمیان جاری اس کشمکش کے اثرات آئندہ انتخابات پر بھی مرتب ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے جس پر سب کی نظریں جمی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، حکومت کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج ہے کہ وہ کس طرح عوامی مطالبات کو سنتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ ملک میں نظم و نسق کو بھی برقرار رکھتی ہے۔ فی الحال دارالحکومت میں حالات معمول پر آ رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%b1%d8%aa-%da%a9%d8%a7%da%a9%d8%b1%d9%88%da%86-%d8%ac%d9%86%d8%aa%d8%a7-%d9%be%d8%a7%d8%b1%d9%b9%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%b3%d8%b1%d8%a8%d8%b1%d8%a7%db%81-%d8%a7%d8%a8%da%be%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
