<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.30.2"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>انتخابی_شفافیت &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%a7%d9%86%d8%aa%d8%ae%d8%a7%d8%a8%db%8c_%d8%b4%d9%81%d8%a7%d9%81%db%8c%d8%aa/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:34:52 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>انتخابی_شفافیت &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>بھارت: الیکشن کمیشن کے سربراہ کے خلاف اپوزیشن کا احتجاج اور تحفظات میں اضافہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%b1%d8%aa-%d8%a7%d9%84%db%8c%da%a9%d8%b4%d9%86-%da%a9%d9%85%db%8c%d8%b4%d9%86-%da%a9%db%92-%d8%b3%d8%b1%d8%a8%d8%b1%d8%a7%db%81-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%b1%d8%aa-%d8%a7%d9%84%db%8c%da%a9%d8%b4%d9%86-%da%a9%d9%85%db%8c%d8%b4%d9%86-%da%a9%db%92-%d8%b3%d8%b1%d8%a8%d8%b1%d8%a7%db%81-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 01:18:36 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اپوزیشن]]></category>
		<category><![CDATA[احتجاج]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[الیکشن_کمیشن]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا]]></category>
		<category><![CDATA[انتخابی_شفافیت]]></category>
		<category><![CDATA[بھارت]]></category>
		<category><![CDATA[بھارت_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/63/</guid>

					<description><![CDATA[بھارتی الیکشن کمیشن کے سربراہ پر ووٹ ڈیٹا بیس میں متنازع تبدیلیوں اور دیگر ارکان کے تحفظات کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">بھارت میں حالیہ دنوں کے دوران الیکشن کمیشن کے سربراہ کے خلاف احتجاجی لہر میں نمایاں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں اور سول سوسائٹی کے ارکان کی جانب سے کمیشن کے طریقہ کار پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایک مقامی جریدے کی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارتی الیکشن کمیشن کے موجودہ سربراہ نے ووٹ ڈیٹا بیس میں کی جانے والی متنازع تبدیلیوں کے معاملے پر کمیشن کے دیگر اراکین کے تحفظات کو مسلسل نظر انداز کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹ کے مطابق کمیشن کے اندرونی اراکین نے ڈیٹا بیس میں ہونے والی ان تبدیلیوں پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا، تاہم ان خدشات کو بار بار رد کر دیا گیا جس سے انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اپوزیشن جماعتوں کا موقف ہے کہ یہ تبدیلیاں غیر قانونی ہیں اور اس صورتحال کے پیش نظر اپوزیشن نے کئی ریاستوں میں دوبارہ انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سول سوسائٹی کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ انتخابی عمل کی ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے الیکشن کمیشن کو مکمل طور پر غیر جانبدار ہونا چاہیے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ڈیٹا بیس میں کی گئی تبدیلیوں کی شفاف تحقیقات کی جائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مختلف ریاستوں میں اپوزیشن رہنماؤں نے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ انتخابی عمل کو شفاف بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عوام کا اعتماد بحال کرنا ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرینِ قانون کا کہنا ہے کہ اگر الیکشن کمیشن کے ڈیٹا بیس میں ردوبدل کے الزامات درست ثابت ہوئے تو یہ بھارتی جمہوریت کے لیے ایک بڑا دھچکا ہوگا۔ اس معاملے پر عدالتی مداخلت کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بھارت میں انتخابی عمل کی شفافیت پر ماضی میں بھی بحث ہوتی رہی ہے، لیکن موجودہ تنازع اپنی نوعیت کے اعتبار سے کافی سنگین ہے۔ سیاسی تجزیہ کار اسے آنے والے انتخابات کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دے رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک بھر میں سول سوسائٹی کے ارکان نے سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر بھی مہم شروع کر دی ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ الیکشن کمیشن کے سربراہ کو ان الزامات کا جواب دینا چاہیے تاکہ عوام کے شکوک و شبہات دور ہوں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بھارتی انتخابی تاریخ میں یہ پہلا موقع نہیں ہے جب الیکشن کمیشن کے فیصلوں پر سوالات اٹھائے گئے ہوں، تاہم ڈیٹا بیس میں تبدیلی کا معاملہ تکنیکی نوعیت کا ہونے کی وجہ سے زیادہ تشویشناک سمجھا جا رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%b1%d8%aa-%d8%a7%d9%84%db%8c%da%a9%d8%b4%d9%86-%da%a9%d9%85%db%8c%d8%b4%d9%86-%da%a9%db%92-%d8%b3%d8%b1%d8%a8%d8%b1%d8%a7%db%81-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>فرانس، بھارت اور پاکستان میں عوامی مظاہرے، جمہوریت اور شہری حقوق پر بحث چھڑ گئی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/%d9%81%d8%b1%d8%a7%d9%86%d8%b3-%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%b1%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b9%d9%88%d8%a7%d9%85%db%8c/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/%d9%81%d8%b1%d8%a7%d9%86%d8%b3-%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%b1%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b9%d9%88%d8%a7%d9%85%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 00:37:31 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[الیکشن_کمیشن_بھارت]]></category>
		<category><![CDATA[انتخابی_شفافیت]]></category>
		<category><![CDATA[بھارت_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیمی_اصلاحات]]></category>
		<category><![CDATA[جمہوری_حقوق]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[راہول_گاندھی]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_احتجاج]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/57/</guid>

					<description><![CDATA[مختلف ممالک میں تعلیمی مسائل، انتخابی فہرستوں میں ترمیمی عمل اور سیاسی مطالبات پر جاری احتجاج نے ریاست اور شہریوں کے تعلق پر نئے سوالات اٹھا دیے ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">دنیا کے مختلف ممالک میں بنیادی حقوق، تعلیمی اصلاحات اور انتخابی شفافیت کے لیے عوام اور اپوزیشن جماعتوں کے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، جن کے باعث ریاستی ترجیحات اور جمہوریت کے بنیادی اصولوں پر عالمی سطح پر اہم بحث چھڑ گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فرانس میں گزشتہ چند ہفتوں سے ہائی اسکول کے طلبہ اپنے تعلیمی مستقبل اور اسکولوں میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے سڑکوں پر سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ اسکولوں کی عمارتیں خستہ حال ہیں اور کلاس رومز میں اساتذہ کی شدید کمی کا سامنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فرانس میں جاری طلبہ کے اس احتجاج نے چھ اکتوبر کو اس وقت شدید پرتشدد نوعیت اختیار کر لی جب پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ ان جھڑپوں کے دوران پولیس کے اسٹن گرینیڈ کا نشانہ بن کر ایک پندرہ سالہ طالب علم کا ہاتھ شدید زخمی ہو گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس افسوسناک واقعے کے بعد فرانسیسی حکومت نے طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس کی جانب سے اسٹن گرینیڈز کے استعمال کو تحقیقات مکمل ہونے تک معطل کرنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ حکومت نے اس کے ساتھ طلبہ کے مطالبات اور خدشات کو تسلیم کرنے کا اشارہ بھی دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فرانس میں طلبہ کے اس احتجاج نے تعلیمی نظام میں موجود طبقاتی عدم مساوات کو بھی واضح کر دیا ہے۔ ایک طرف بہترین سہولتوں سے آراستہ تعلیمی ادارے موجود ہیں تو دوسری طرف سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولتوں اور اساتذہ کے انتظار میں بچوں کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب بھارت میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی یعنی اسپیشل انٹینسیو ریویژن کے عمل کے خلاف اپوزیشن جماعتوں اور مختلف شہری گروہوں کا احتجاج جاری ہے، جس نے ملک کے سیاسی منظر نامے میں ایک نئی اور شدید کشمکش کو جنم دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بھارتی اپوزیشن اور مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار فوری طور پر اپنے عہدے سے مستعفی ہوں اور انتخابی فہرستوں میں نظرثانی کے اس عمل کو روکا جائے، تاکہ مبینہ طور پر فہرستوں سے خارج کیے گئے اہل ووٹرز کے نام دوبارہ بحال ہو سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس احتجاجی تحریک کے دوران سات اکتوبر کو بھارتی اپوزیشن رہنما راہول گاندھی سمیت متعدد اہم سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کو مظاہرے کے دوران پولیس نے حراست میں لے لیا تھا، جس کے بعد اپوزیشن اور حکومت کے درمیان تناؤ مزید بڑھ گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بھارت کے الیکشن کمیشن نے اپوزیشن کے تمام الزامات کو رد کرتے ہوئے اپنا موقف بیان کیا ہے کہ انتخابی فہرستوں میں نظرثانی کا بنیادی مقصد ووٹر لسٹوں کو درست اور شفاف بنانا ہے، اور تمام اہل شہریوں کو اپنی اہلیت ثابت کرنے کا پورا موقع دیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">الیکشن کمیشن کی اس وضاحت کے باوجود جمہوری حلقوں کی جانب سے انتخابی عمل کی شفافیت اور ووٹر لسٹوں کی درستگی کے حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، کیونکہ ہر جمہوری نظام میں ووٹرز کے اعتماد کی بحالی ہی انتخابات کی شفافیت کی اصل ضامن ہوتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان میں بھی اس وقت سیاسی احتجاجی ماحول قائم ہے جہاں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے مختلف مطالبات کی منظوری کے لیے احتجاجی مظاہرے اور لانگ مارچ کی تیاریوں کی خبریں سامنے آ رہی ہیں، جبکہ حکومت کی جانب سے بھی اپنا سخت موقف برقرار رکھا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کی حکومت کا کہنا ہے کہ ریاست کو کسی بھی سیاسی دباؤ کے ذریعے یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، جبکہ دوسری جانب احتجاج کرنے والی اپوزیشن جماعتوں کا موقف ہے کہ پرامن سیاسی احتجاج ان کا آئینی اور جمہوری حق ہے جسے دبایا نہیں جا سکتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاسی اور قانون دان ماہرین کا ماننا ہے کہ جمہوریت میں حکومت کو احتجاج سے اختلاف کا پورا حق حاصل ہے، لیکن ساتھ ہی شہریوں اور سیاسی کارکنوں کے پرامن احتجاج کے حق کا احترام بھی ضروری ہے، بشرطیکہ قانون شکنی اور عمومی املاک کی توڑ پھوڑ نہ کی جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کے مطابق ایک طاقتور اور جدید جمہوری ریاست کا وقار صرف بلند و بالا عمارتوں اور پولیس فورس کی طاقت سے قائم نہیں ہوتا، بلکہ اس کا اصل حسن اس کے اسکولوں، اسپتالوں، عدالتوں اور عام شہریوں کو ملنے والے بنیادی حقوق اور انصاف کی فراہمی میں نظر آتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/%d9%81%d8%b1%d8%a7%d9%86%d8%b3-%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%b1%d8%aa-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b9%d9%88%d8%a7%d9%85%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
