<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.4.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>امیر_حیدر_ہوتی &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%a7%d9%85%db%8c%d8%b1_%d8%ad%db%8c%d8%af%d8%b1_%db%81%d9%88%d8%aa%db%8c/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 10 Oct 2026 21:47:17 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.3</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>امیر_حیدر_ہوتی &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>خیبر پختونخوا میں گورنر راج: ایمل ولی خان نے حکومتی درخواست مسترد کر دی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/20/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/20/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 10 Oct 2026 21:47:17 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[آج_کی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[امیر_حیدر_ہوتی]]></category>
		<category><![CDATA[اہم_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[ایمل_ولی_خان]]></category>
		<category><![CDATA[اے_این_پی]]></category>
		<category><![CDATA[بریکنگ_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پی_ٹی_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[شہباز_شریف]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[گورنر_راج]]></category>
		<category><![CDATA[محسن_نقوی]]></category>
		<category><![CDATA[مولانا_فضل_الرحمان]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_حکومت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/20/</guid>

					<description><![CDATA[وزیراعظم اور وزیر داخلہ نے اے این پی سربراہ سے صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ پر حمایت مانگی تھی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ملکی سیاسی صورتحال کے تناظر میں خیبر پختونخوا میں ممکنہ ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے حوالے سے وفاقی حکومت کی جانب سے اہم رابطوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سلسلے میں وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ سینیٹر ایمل ولی خان سے رابطہ کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت کے اعلیٰ حکام نے سینیٹر ایمل ولی خان سے ملاقات اور رابطوں کے دوران خیبر پختونخوا کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ اس گفتگو کا مرکزی نقطہ صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے لیے اے این پی کی سیاسی حمایت حاصل کرنا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاہم، ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ سینیٹر ایمل ولی خان نے وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی حمایت کرنے کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے اس اقدام کی حمایت کرنے سے واضح طور پر معذرت کر لی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات کے دوران وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے ایک اہم پیشکش بھی سامنے آئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر داخلہ نے سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا امیر حیدر ہوتی کو صوبے کا گورنر بنانے کی تجویز پیش کی تاکہ سیاسی معاملات کو بہتر انداز میں چلایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس پیشکش کے جواب میں اے این پی کے سربراہ نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے مشورہ دیا کہ صوبے میں پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت کو اپنی آئینی مدت پوری کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے جمہوری عمل کے تسلسل پر زور دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے حوالے سے سیاسی حلقوں میں گزشتہ کچھ روز سے مختلف قیاس آرائیاں گردش کر رہی ہیں۔ وفاقی حکومت صوبے کی داخلی صورتحال اور امن و امان کے معاملات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور مختلف سیاسی جماعتوں سے مشاورت کر رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس سے قبل جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان بھی خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی مخالفت کر چکے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اہم اتحادی جماعتوں کی جانب سے حمایت نہ ملنے کے بعد حکومت کے لیے یہ فیصلہ کرنا مزید مشکل ہو گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے حالیہ دنوں میں صوبائی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کیا جائے، تاہم امن و امان کی صورتحال پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب صوبائی حکومت کے ترجمان اور پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے بھی وفاقی حکومت کے کسی بھی ممکنہ اقدام کی سخت مخالفت کا اعلان کیا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ صوبائی حکومت کو ہٹانے کا کوئی بھی غیر آئینی اقدام عوامی مینڈیٹ کی توہین ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ موجودہ حالات میں گورنر راج کا نفاذ ایک انتہائی قدم ہوگا جس کے دور رس سیاسی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وفاقی حکومت اتحادیوں کو اعتماد میں لینے کے لیے کوشاں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اے این پی کی جانب سے اس معاملے پر اپنائے گئے دو ٹوک موقف کے بعد اب وفاقی حکومت کی حکمت عملی میں تبدیلی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ سیاسی حلقے اس پیش رفت کو حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دے رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئینی ماہرین کے مطابق گورنر راج کا نفاذ صرف اس صورت میں ممکن ہوتا ہے جب صوبائی حکومت آئینی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام ہو جائے یا صوبے میں امن و امان کی صورتحال مکمل طور پر قابو سے باہر ہو جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئندہ چند روز میں وفاقی حکومت کی جانب سے مزید سیاسی مشاورت متوقع ہے۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ حکومت صوبائی حکومت کے ساتھ معاملات کو کس طرح آگے بڑھاتی ہے یا پھر گورنر راج کے معاملے پر کوئی نیا لائحہ عمل اختیار کرتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/20/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا نفاذ: ایمل ولی خان نے حمایت سے معذرت کر لی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/19/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/19/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 10 Oct 2026 21:47:12 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[آج_کی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[امیر_حیدر_ہوتی]]></category>
		<category><![CDATA[اہم_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[ایمل_ولی_خان]]></category>
		<category><![CDATA[بریکنگ_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پی_ٹی_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[شہباز_شریف]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[عوامی_نیشنل_پارٹی]]></category>
		<category><![CDATA[گورنر_راج]]></category>
		<category><![CDATA[محسن_نقوی]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_حکومت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/19/</guid>

					<description><![CDATA[وزیراعظم اور وزیر داخلہ نے عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ سے رابطہ کر کے صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ پر مشاورت کی تھی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ملک کے سیاسی منظرنامے میں خیبر پختونخوا کی صورتحال پر وفاقی حکومت کی جانب سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ سینیٹر ایمل ولی خان سے رابطہ قائم کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس رابطے کا مقصد خیبر پختونخوا میں ممکنہ ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے حوالے سے اے این پی کی حمایت حاصل کرنا تھا۔ وفاقی حکومت کی جانب سے صوبائی حکومت کی کارکردگی اور موجودہ سیاسی حالات کے پیش نظر یہ مشاورت کی گئی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ذرائع نے بتایا ہے کہ وفاقی حکومت کے اعلیٰ حکام نے سینیٹر ایمل ولی خان سے درخواست کی کہ وہ صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کے فیصلے کی تائید کریں۔ تاہم عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ نے اس تجویز پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سینیٹر ایمل ولی خان نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی حمایت کرنے سے واضح طور پر معذرت کر لی ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت کے سامنے اپنا اصولی موقف پیش کرتے ہوئے اس اقدام کی مخالفت کی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات اور رابطے کے دوران وزیر داخلہ محسن نقوی نے اے این پی کے رہنما اور سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا امیر حیدر ہوتی کو صوبے کا گورنر بنانے کی پیشکش بھی کی۔ یہ پیشکش سیاسی جوڑ توڑ کے حوالے سے انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایمل ولی خان نے اس پیشکش کے جواب میں مشورہ دیا کہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کو اپنی آئینی مدت پوری کرنے دی جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ جمہوری عمل کو جاری رہنا چاہیے اور صوبے میں کسی بھی غیر معمولی اقدام سے گریز کیا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واضح رہے کہ اس سے قبل جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان بھی خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی مخالفت کر چکے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کے ان موقف نے وفاقی حکومت کے لیے مشکلات پیدا کر دی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس سے قبل اپنے حالیہ بیانات میں صوبائی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے حالات کو بہتر بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی ہے اور اب ایمرجنسی کے علاوہ کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا میں سیاسی کشیدگی اور امن و امان کی صورتحال پر وفاقی حکومت مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ حکومتی حلقوں کا ماننا ہے کہ صوبے میں انتظامی امور کو چلانے کے لیے سخت فیصلوں کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گورنر راج کے نفاذ کے لیے اتحادی جماعتوں اور دیگر سیاسی قوتوں کا اتفاق رائے انتہائی ضروری ہے۔ اے این پی اور جے یو آئی (ف) کی مخالفت کے بعد وفاقی حکومت کے لیے یہ فیصلہ کرنا آسان نہیں ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی حکومت اور وفاق کے درمیان جاری محاذ آرائی کے باعث صوبے میں سیاسی عدم استحکام کے خدشات پائے جاتے ہیں۔ عوام کی نظریں اب وفاقی حکومت کے اگلے لائحہ عمل پر مرکوز ہیں کہ وہ اس صورتحال سے کیسے نمٹتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئین پاکستان کے تحت گورنر راج کا نفاذ ایک سنگین قدم ہوتا ہے جس کے لیے صوبائی اسمبلی کی صورتحال اور وفاقی کابینہ کی منظوری درکار ہوتی ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ مشاورت کا عمل جاری رہے گا تاکہ کسی متفقہ نتیجے پر پہنچا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاسی جماعتوں کے درمیان اس معاملے پر جاری مشاورت ملک میں جمہوری تسلسل برقرار رکھنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ آنے والے دنوں میں اس حوالے سے مزید اہم سیاسی پیش رفت متوقع ہے جس سے صوبے کا مستقبل وابستہ ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/19/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
