<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.4.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>امن_و_امان &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%a7%d9%85%d9%86_%d9%88_%d8%a7%d9%85%d8%a7%d9%86/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 10 Oct 2026 23:56:40 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.3</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>امن_و_امان &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>کراچی: نیو کراچی میں رینجرز اور پولیس کی مشترکہ کارروائی، 2 بھتہ خور گرفتار</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/52/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/52/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 10 Oct 2026 23:56:40 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[آپریشن]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[امن_و_امان]]></category>
		<category><![CDATA[ایس_آئی_یو]]></category>
		<category><![CDATA[بھتہ_خوری]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_زندہ_باد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[جرائم]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[رینجرز]]></category>
		<category><![CDATA[سندھ]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_اسمبلی]]></category>
		<category><![CDATA[کراچی]]></category>
		<category><![CDATA[نیو_کراچی]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_حکومت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/52/</guid>

					<description><![CDATA[نیو کراچی کے علاقے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ملزمان کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے بعد دو مبینہ بھتہ خوروں کو زخمی حالت میں حراست میں لے لیا گیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">شہر قائد کراچی کے علاقے نیو کراچی میں پاکستان رینجرز سندھ اور اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) پولیس نے ایک کامیاب مشترکہ آپریشن کے دوران بھتہ خوری میں ملوث دو مبینہ ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترجمان پاکستان رینجرز سندھ کے مطابق یہ کارروائی خفیہ اطلاع ملنے پر عمل میں لائی گئی، جس کا بنیادی مقصد علاقے میں بھتہ خوری کی وارداتوں میں ملوث عناصر کا قلع قمع کرنا اور شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آپریشن کے دوران جب قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ٹیموں نے ملزمان کو ان کے ٹھکانے پر گھیرے میں لیا تو انہوں نے گرفتاری سے بچنے کے لیے پولیس اور رینجرز پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کی گئی جوابی فائرنگ کے نتیجے میں دونوں مبینہ بھتہ خور زخمی ہو گئے، جنہیں فوری طور پر حراست میں لے لیا گیا اور طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترجمان رینجرز نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ گرفتار ہونے والے ملزمان کی شناخت کا عمل جاری ہے اور ابتدائی تفتیش کے بعد ان کے نیٹ ورک اور دیگر ساتھیوں کے بارے میں اہم انکشافات متوقع ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کراچی میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے اور جرائم پیشہ عناصر کی سرکوبی کے لیے رینجرز اور پولیس وقتاً فوقتاً مشترکہ کارروائیاں کرتی رہتی ہیں تاکہ شہر میں پائیدار امن کا قیام ممکن بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس طرح کی ٹارگٹڈ کارروائیوں کا مرکزی مقصد شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا اور شہر میں بھتہ خوری جیسے سنگین جرائم کی روک تھام کرنا ہے جو تاجر برادری کے لیے ایک بڑا چیلنج بنے ہوئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس اور رینجرز کی جانب سے جاری کردہ ابتدائی بیان کے مطابق، ملزمان سے مزید تفتیش کی جا رہی ہے تاکہ ان کے مجرمانہ پس منظر اور ماضی میں کی گئی دیگر وارداتوں کا ریکارڈ بھی اکٹھا کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">علاقہ مکینوں نے اس بروقت کارروائی کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے علاقے میں خوف و ہراس پھیلانے والے عناصر کا مکمل خاتمہ ممکن ہو سکے گا اور تاجر سکون سے کام کر سکیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان کا سابقہ ریکارڈ بھی چیک کیا جا رہا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا وہ کسی منظم گینگ کا حصہ ہیں یا انفرادی طور پر بھتہ خوری کی وارداتوں میں ملوث تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تفتیشی ٹیمیں اب ان ملزمان سے تفصیلی پوچھ گچھ کر رہی ہیں تاکہ ان کے دیگر ساتھیوں کے ٹھکانوں اور نیٹ ورک کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکیں اور مستقبل میں ایسی وارداتوں کو روکا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہر میں امن و امان کے قیام کے لیے قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری تندہی سے ادا کر رہے ہیں اور کسی بھی غیر قانونی سرگرمی یا شہریوں کو دھمکانے والے عناصر کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعے کے بعد نیو کراچی اور گردونواح میں سیکیورٹی کو مزید سخت کر دیا گیا ہے اور پولیس کی جانب سے گشت میں بھی اضافہ کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے اور امن برقرار رہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/52/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا، محسن نقوی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/49/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/49/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 10 Oct 2026 23:37:08 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[امن_و_امان]]></category>
		<category><![CDATA[ایمرجنسی]]></category>
		<category><![CDATA[بریکنگ_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[بیرسٹر_گوہر]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_زندہ_باد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[حکومت_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_صورتحال]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_اسمبلی]]></category>
		<category><![CDATA[محسن_نقوی]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_وزیر_داخلہ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/49/</guid>

					<description><![CDATA[وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ سے بچنے کی تمام تر کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر اب ایمرجنسی کے نفاذ کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ باقی نہیں بچا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس سنگین فیصلے سے گریز کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی گئی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر داخلہ نے یہ گفتگو اسلام آباد میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی طالبہ لائبہ اعجاز کے گھر آمد کے موقع پر میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کے دوران کی۔ لائبہ اعجاز نے حال ہی میں خودکشی کی تھی جس پر وزیر داخلہ نے ان کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صحافیوں کی جانب سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق سوالات کے جواب میں محسن نقوی نے کہا کہ اب حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ ایمرجنسی نہ لگانے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ انہوں نے سوال کیا کہ اب اس معاملے کو کیسے ٹالا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایک سوال کے جواب میں انہوں نے پی ٹی آئی کے رہنما بیرسٹر گوہر علی خان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آپ خود ان سے پوچھ سکتے ہیں کہ میں نے ایمرجنسی کے نفاذ سے بچنے کے لیے کس حد تک کوششیں کیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ اس معاملے پر صلح کی ہر ممکن کوشش کر چکے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محسن نقوی نے مزید کہا کہ انہوں نے اس طرح کے سخت فیصلے سے بچنے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں تاہم اب حالات کے تقاضے بدل چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اب حکومت کے پاس کوئی اور آپشن نہیں بچا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا میں سیاسی کشیدگی اور امن و امان کی صورتحال پر وفاقی حکومت کی جانب سے مسلسل تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ وفاقی وزراء کا موقف ہے کہ صوبے میں آئینی اور انتظامی امور کو چلانے کے لیے سخت اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب سیاسی حلقوں میں بھی اس معاملے پر بحث جاری ہے۔ کچھ سیاسی جماعتوں نے صوبے میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ کی مخالفت کی ہے اور اسے جمہوری عمل کے منافی قرار دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مولانا فضل الرحمان سمیت دیگر سیاسی رہنماؤں نے بھی اس معاملے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے اور وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقاتوں کے ذریعے معاملات کو سیاسی طریقے سے حل کرنے پر زور دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ ان کی اولین ترجیح ملک میں امن و امان کا قیام اور آئین کی بالادستی ہے۔ اس مقصد کے لیے تمام تر قانونی اور آئینی راستے اختیار کیے جا رہے ہیں تاکہ صوبے میں انتشار کو روکا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محسن نقوی نے اس بات پر زور دیا کہ ان کے اقدامات کا مقصد صرف اور صرف ریاست کی رٹ کو برقرار رکھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب حالات قابو سے باہر ہونے لگیں تو حکومت کو اپنی ذمہ داری پوری کرنی پڑتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا میں جاری سیاسی بحران کے باعث انتظامی امور بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ وفاقی حکومت کا ماننا ہے کہ صوبائی حکومت کی ناکامی کے بعد اب مرکز کو مداخلت کرنی پڑ رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید اہم پیش رفت متوقع ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت ایمرجنسی نافذ کرتی ہے تو اس کے سیاسی اور قانونی اثرات بہت گہرے ہوں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر داخلہ نے اپنے بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت کسی بھی صورت میں ملک میں افراتفری کی اجازت نہیں دے گی۔ انہوں نے کہا کہ امن و امان کی صورتحال پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/49/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پولیس میں اصلاحات اور تھانہ کلچر کی بہتری وقت کی اہم ضرورت ہے، ڈی آئی جی عمران کشور</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/40/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/40/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 10 Oct 2026 22:38:03 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[امن_و_امان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_زندہ_باد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس_اصلاحات]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[تفتیشی_نظام]]></category>
		<category><![CDATA[تھانہ_کلچر]]></category>
		<category><![CDATA[جرائم_کا_خاتمہ]]></category>
		<category><![CDATA[خود_احتسابی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈی_آئی_جی_ایڈمن]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_کشور]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[عوامی_خدمت]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_اسمبلی]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_حکومت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/40/</guid>

					<description><![CDATA[ڈی آئی جی ایڈمن لاہور عمران کشور نے کہا ہے کہ عوام کو انصاف کی فراہمی اور جرائم کے خاتمے کے لیے تفتیشی نظام کو جدید سائنسی بنیادوں پر استوار کرنا ہوگا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پنجاب پولیس کے ڈی آئی جی ایڈمن عمران کشور نے کہا ہے کہ محکمہ پولیس کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے جامع اور منطقی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ معاشرے میں امن و امان کے قیام اور جرائم کی بیخ کنی کے لیے سیکیورٹی اداروں کو نئے چیلنجز کے مطابق خود کو تیار کرنا ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عمران کشور نے اس بات پر زور دیا کہ ملک میں سوال اٹھانے کے کلچر کو فروغ دینے کی ضرورت ہے، جس سے زندگی کے ہر شعبے میں خود احتسابی کا عمل مضبوط ہوگا۔ ان کے مطابق، جب تک تھانے کے ماحول میں بہتری نہیں لائی جاتی، پولیس کے مجموعی تاثر کو بہتر بنانا ایک مشکل ہدف رہے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈی آئی جی ایڈمن نے کہا کہ عام آدمی کو فوری اور سستا انصاف فراہم کرنے کے لیے تفتیش کے نظام کو سائنسی بنیادوں پر استوار کرنا وقت کا اہم تقاضا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پولیس افسران کو دفاتر میں آنے والے شہریوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے کہا کہ پولیس کے محکمے میں نظم و ضبط اور انتظامی امور کی اہمیت مسلمہ ہے، جس کے بغیر کسی بھی ادارے کی فعالیت ممکن نہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ پولیس کے وقار کو بلند کرنے کے لیے میرٹ پر کام کرنے والے افسران کی حوصلہ افزائی کرنا ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عمران کشور نے عوام سے اپیل کی کہ وہ امن و امان کی بحالی میں اپنا قومی فریضہ ادا کریں اور اپنے اردگرد منشیات فروشوں یا کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر پولیس کو دیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ اطلاع دینے والے کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات کے دوران ڈی آئی جی ایڈمن نے پولیس ملازمین کے مسائل کو براہ راست سنا اور ان کے حل کے لیے موقع پر ہی احکامات جاری کیے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کا کام عوام کی خدمت ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے ہر ممکن کوشش کی جانی چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس کے اندرونی معاملات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ محکمے میں ایسے افسران کی کمی نہیں جو اصولوں پر کاربند رہتے ہیں اور میرٹ کو مقدم رکھتے ہیں۔ ایسے افسران محکمہ پولیس کی شان ہیں اور ان کی تعیناتی سے ادارے کا وقار بڑھتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے مزید کہا کہ تھانے کا ماحول ہی وہ بنیادی عنصر ہے جو عوام کے ذہنوں میں پولیس کا تاثر قائم کرتا ہے۔ اگر تھانے کی سطح پر بہتری لائی جائے تو اس کے مثبت اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہوں گے اور عوام کا اعتماد بحال ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عمران کشور نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پولیس کو سیاسی اثر و رسوخ سے پاک ہونا چاہیے تاکہ ایک ایماندار افسر بلا خوف و خطر اپنے فرائض سرانجام دے سکے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کا اصل ہدف شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اور انصاف کی فراہمی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈی آئی جی ایڈمن نے کہا کہ دہشت گردی اور دیگر جدید جرائم سے نمٹنے کے لیے پولیس کو اپنی صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا استعمال تفتیش کے عمل کو شفاف اور تیز تر بنانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا کہنا تھا کہ پولیس افسران کو دفاتر میں آنے والے شہریوں کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنا چاہیے اور ان کی شکایات کا ازالہ ترجیحی بنیادوں پر کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی تعاون کے بغیر جرائم کا خاتمہ ممکن نہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عمران کشور نے کہا کہ پولیس کے نظام میں اصلاحات ایک مسلسل عمل ہے جس کے لیے تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے ماتحت عملے کو ہمیشہ یہی ہدایت کرتے ہیں کہ عوام کے لیے آسانیاں پیدا کی جائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں انہوں نے کہا کہ محکمہ پولیس میں بہتری کے لیے وہ پرعزم ہیں اور تمام تر وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے عوام کی توقعات پر پورا اترنے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کا ہر فرد معاشرے کے امن کے لیے ایک اہم ستون ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/40/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>مسجد الحرام سے خودکش بمبار کی گرفتاری کی خبریں بے بنیاد قرار</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/33/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/33/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 10 Oct 2026 21:57:47 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اسلامی_دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[افواہیں]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا]]></category>
		<category><![CDATA[امن_و_امان]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[حرمین_شریفین]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[زائرین]]></category>
		<category><![CDATA[سعودی_حکام]]></category>
		<category><![CDATA[سعودی_عرب]]></category>
		<category><![CDATA[سکیورٹی]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[مسجد_الحرام]]></category>
		<category><![CDATA[مشرق_وسطیٰ]]></category>
		<category><![CDATA[مکہ_مکرمہ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/33/</guid>

					<description><![CDATA[سعودی حکام نے واضح کیا ہے کہ مسجد الحرام سے کسی خودکش بمبار کو نہیں بلکہ خوف و ہراس پھیلانے والے شخص کو گرفتار کیا گیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">سعودی عرب کے مقدس مقامات کے سکیورٹی حکام نے مسجد الحرام میں خودکش بمبار کی موجودگی اور اس کی گرفتاری سے متعلق گردش کرنے والی تمام اطلاعات کی سختی سے تردید کر دی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی یہ خبریں حقائق کے منافی اور بے بنیاد ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترجمان کے مطابق سکیورٹی فورسز نے مسجد الحرام کے احاطے سے ایک ایسے شخص کو حراست میں لیا ہے جو وہاں موجود زائرین کے لیے مشکلات پیدا کر رہا تھا۔ یہ شخص مسجد کے تقدس کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں میں خوف و ہراس پھیلانے کا سبب بن رہا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام نے وضاحت کی ہے کہ مذکورہ شخص کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائی گئی تاکہ زائرین کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس واقعے کو خودکش بمبار کی گرفتاری کا رنگ دینا سراسر غلط بیانی اور گمراہ کن پروپیگنڈا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گرفتار کیے گئے شخص کو حراست میں لینے کے بعد ضروری قانونی تقاضے پورے کیے گئے ہیں۔ ابتدائی تفتیش اور کارروائی مکمل ہونے پر اسے مزید قانونی کارروائی کے لیے پبلک پراسیکیوشن کے حوالے کر دیا گیا ہے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعودی سکیورٹی ادارے حرمین شریفین کی حفاظت اور زائرین کے تحفظ کے لیے ہمہ وقت چوکس رہتے ہیں۔ حکام نے عوام اور زائرین سے اپیل کی ہے کہ وہ ایسی غیر مصدقہ اور افواہوں پر مبنی خبروں پر کان نہ دھریں اور صرف سرکاری ذرائع سے ملنے والی معلومات پر یقین رکھیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مسجد الحرام دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے عقیدت کا مرکز ہے اور یہاں کی سکیورٹی انتہائی سخت ہے۔ سعودی حکومت زائرین کو ہر ممکن سہولت اور تحفظ فراہم کرنے کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی اور تربیت یافتہ سکیورٹی اہلکاروں کو تعینات رکھتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماضی میں بھی مختلف مواقع پر حرمین شریفین کی سکیورٹی کے حوالے سے غلط معلومات پھیلانے کی کوشش کی گئی ہے، جنہیں سعودی حکام نے فوری طور پر مسترد کیا ہے۔ حکام اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مقدس مقامات کے تقدس کو مجروح کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سوشل میڈیا کے دور میں کسی بھی خبر کی تصدیق کے بغیر اسے آگے بڑھانا معاشرتی انتشار کا باعث بن سکتا ہے۔ حکام نے زور دیا ہے کہ ایسی حساس نوعیت کی خبروں کو پھیلانے سے گریز کیا جائے جو زائرین اور عوام میں بے جا خوف و ہراس پیدا کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعودی عرب کی پبلک پراسیکیوشن اب اس معاملے کی مزید تحقیقات کر رہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ اس شخص کا اصل مقصد کیا تھا اور وہ کن حالات میں مسجد الحرام میں اس طرح کی حرکت کا مرتکب ہوا۔ قانون کے مطابق اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حرمین شریفین کے حکام کی جانب سے جاری کردہ اس بیان کے بعد اب تمام قیاس آرائیاں دم توڑ گئی ہیں۔ زائرین کی بڑی تعداد بدستور مسجد الحرام میں عبادت اور مناسک کی ادائیگی میں مصروف ہے اور وہاں کا ماحول مکمل طور پر پرسکون اور محفوظ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں نے سعودی حکام کی جانب سے اس وضاحت کا خیرمقدم کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی افواہوں کے برعکس، سعودی عرب کی جانب سے بروقت تردید نے زائرین کے خدشات کو دور کر دیا ہے اور صورتحال بالکل معمول پر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سکیورٹی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی شرپسندی یا امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے کی کوششوں سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ مسجد الحرام میں سکیورٹی کا نظام انتہائی مستحکم ہے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی گنجائش موجود نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں، حکام نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ زائرین کا تحفظ ان کی اولین ترجیح ہے۔ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی یا سکیورٹی کے لیے خطرہ بننے والے عناصر کے خلاف سعودی قوانین کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/33/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>راولپنڈی اور مری میں دفعہ 144 نافذ، جلسے جلوسوں اور ڈبل سواری پر پابندی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/27/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/27/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 10 Oct 2026 21:49:05 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[امن_و_امان]]></category>
		<category><![CDATA[انتظامیہ]]></category>
		<category><![CDATA[پابندی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_زندہ_باد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[دفعہ_144]]></category>
		<category><![CDATA[ڈبل_سواری]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[راولپنڈی]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[سیکیورٹی]]></category>
		<category><![CDATA[ضلعی_انتظامیہ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_اسمبلی]]></category>
		<category><![CDATA[مری]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_حکومت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/27/</guid>

					<description><![CDATA[سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر راولپنڈی اور مری میں ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">راولپنڈی اور مری کی ضلعی انتظامیہ نے سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر اپنے اپنے اضلاع میں دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد امن و امان کی فضا کو برقرار رکھنا اور عوامی املاک کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">راولپنڈی کے ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) ندیم ناصر کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، ضلع بھر میں دفعہ 144 کا اطلاق 10 اکتوبر سے شروع ہو چکا ہے جو 8 نومبر 2026 تک مجموعی طور پر 30 روز کے لیے نافذ رہے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسی طرح ضلع مری میں بھی ڈپٹی کمشنر آغا ظہیر عباس شیرازی نے سیکیورٹی خدشات اور ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں دفعہ 144 کے نفاذ کا باقاعدہ حکم نامہ جاری کر دیا ہے، جس کا دورانیہ بھی 8 نومبر تک ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ احکامات کے تحت دونوں اضلاع میں پانچ یا اس سے زائد افراد کے ایک جگہ جمع ہونے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ کسی بھی قسم کے جلسے، جلوس، دھرنے یا احتجاجی ریلیوں کے انعقاد کی اجازت نہیں ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ عوامی مقامات پر اسلحہ کی نمائش، ہوائی فائرنگ، ڈنڈے بردار افراد کی نقل و حرکت اور پٹرول بم ساتھ رکھنے پر سخت پابندی ہوگی۔ ان اقدامات کا مقصد کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں کی نقل و حرکت اور سیکیورٹی کے پیش نظر موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ لاؤڈ اسپیکر کے غیر قانونی استعمال اور نفرت انگیز تقاریر کرنے پر بھی مکمل قدغن لگا دی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتظامیہ نے ڈرون کیمروں کے استعمال پر بھی پابندی عائد کی ہے تاکہ حساس تنصیبات اور اہم شاہراہوں کی سیکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔ یہ اقدامات عوامی تحفظ اور امن و امان کی بحالی کے لیے ناگزیر قرار دیے گئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ضلعی انتظامیہ نے خبردار کیا ہے کہ دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے والے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ پولیس اور متعلقہ اداروں کو احکامات پر سختی سے عمل درآمد کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ عوامی مفاد میں کیا گیا ہے۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ضلعی انتظامیہ کے احکامات پر عمل کریں تاکہ کسی بھی قسم کی قانونی پیچیدگی سے بچا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">راولپنڈی اور مری میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سیکیورٹی اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ حساس مقامات اور عوامی مقامات پر گشت بڑھانے کے ساتھ ساتھ نگرانی کا عمل بھی مزید سخت کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واضح رہے کہ دفعہ 144 کا نفاذ ایک انتظامی اختیار ہے جو ہنگامی صورتحال یا سیکیورٹی خطرات کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ کو حاصل ہوتا ہے۔ اس کا مقصد عوامی نظم و نسق کو برقرار رکھنا اور کسی بھی ممکنہ انتشار کو روکنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتظامیہ نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ قانون کا احترام کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر قریبی پولیس اسٹیشن یا متعلقہ حکام کو دیں۔ تعاون سے ہی پرامن ماحول کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مذکورہ پابندیوں کا اطلاق فوری طور پر شروع ہو چکا ہے اور انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق 8 نومبر تک کسی بھی قسم کی خلاف ورزی پر بلا امتیاز قانونی کارروائی کی جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/27/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خیبر پختونخوا میں گورنر راج: سیاسی اتفاق رائے کا فقدان اور جمہوری تقاضے</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/columns/26/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/columns/26/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ادارتی تجزیہ]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 10 Oct 2026 21:48:56 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کالم]]></category>
		<category><![CDATA[آئینی_ماہرین]]></category>
		<category><![CDATA[اداریہ]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[امن_و_امان]]></category>
		<category><![CDATA[ایمل_ولی_خان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[پی_ٹی_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[تجزیہ]]></category>
		<category><![CDATA[جمہوری_عمل]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[رائے]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_بحران]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_مذاکرات]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[گورنر_راج]]></category>
		<category><![CDATA[محسن_نقوی]]></category>
		<category><![CDATA[مولانا_فضل_الرحمان]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_حکومت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/columns/26/</guid>

					<description><![CDATA[وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کی کوششوں کو اتحادی جماعتوں کی جانب سے مسترد کیے جانے کے بعد سیاسی بحران گہرا ہو گیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا کی موجودہ سیاسی و سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر وفاقی حکومت کی جانب سے صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی بازگشت نے ملکی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے اس حساس معاملے پر اہم سیاسی جماعتوں سے رابطے کیے گئے ہیں تاکہ کسی متفقہ لائحہ عمل تک پہنچا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس سلسلے میں عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ سینیٹر ایمل ولی خان سے وفاقی حکام کی ملاقات انتہائی اہمیت کی حامل رہی۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کے لیے اے این پی کی حمایت مانگی تھی، تاہم ایمل ولی خان نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے جمہوری عمل کے تسلسل پر زور دیا اور اسے صوبائی حکومت کے لیے غیر مناسب قرار دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات کے دوران وزیر داخلہ کی جانب سے اے این پی کے رہنما امیر حیدر ہوتی کو گورنر بنانے کی پیشکش بھی سامنے آئی، جسے سیاسی حلقوں میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم، ایمل ولی خان کا دو ٹوک موقف یہ رہا کہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کو اپنی آئینی مدت پوری کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس سے قبل جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان بھی خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کی مخالفت کر چکے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ انتظامی اقدامات کے بجائے سیاسی مذاکرات ہی مسائل کا واحد حل ہیں۔ اپوزیشن اور اتحادی جماعتوں کی جانب سے اس مخالفت نے وفاقی حکومت کے لیے فیصلہ سازی کا عمل مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئینی ماہرین کے مطابق گورنر راج کا نفاذ ایک انتہائی قدم ہے جو صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب صوبائی حکومت آئینی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام ہو جائے یا امن و امان کی صورتحال مکمل طور پر قابو سے باہر ہو۔ اس اقدام کے لیے وفاقی کابینہ کی منظوری اور پارلیمانی نگرانی کا عمل بھی ناگزیر ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے حالیہ بیانات میں صوبے کی سکیورٹی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ امن و امان پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ان کا موقف ہے کہ حکومت نے معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے، تاہم حالات کے پیش نظر سخت فیصلے ناگزیر ہو سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب صوبائی حکومت اور پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے وفاقی حکومت کے کسی بھی ممکنہ اقدام کی سخت مخالفت کا اعلان کیا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ صوبائی حکومت کو ہٹانے کا کوئی بھی غیر آئینی اقدام عوامی مینڈیٹ کی توہین ہوگا۔ یہ محاذ آرائی صوبے میں سیاسی عدم استحکام کے خدشات کو مزید بڑھا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بھی اس معاملے پر اظہار خیال کرتے ہوئے گورنر راج کو جمہوری طور پر ناپسندیدہ قرار دیا ہے، تاہم انہوں نے سکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں اسے ایک آئینی آپشن کے طور پر دیکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کو دہشت گردی کے خلاف اپنا موقف واضح کرنا چاہیے تاکہ معاملات بہتر ہو سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئین پاکستان کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت وفاقی حکومت کو صوبائی معاملات میں مداخلت کے اختیارات حاصل ہیں، لیکن سپریم کورٹ ماضی میں یہ اصول طے کر چکی ہے کہ بدنیتی یا آئینی حدود سے تجاوز کی صورت میں عدالتی مداخلت ممکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت ہر قدم انتہائی احتیاط اور قانونی مشاورت کے ساتھ اٹھانا چاہتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ موجودہ حالات میں گورنر راج کا نفاذ دور رس سیاسی نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔ اے این پی اور جے یو آئی (ف) کی مخالفت کے بعد وفاقی حکومت کے لیے یہ فیصلہ کرنا آسان نہیں ہوگا۔ اب تمام تر نگاہیں اس بات پر مرکوز ہیں کہ حکومت سیاسی مذاکرات کا راستہ اپناتی ہے یا کوئی اور لائحہ عمل اختیار کرتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جمہوری نظام میں سیاسی جماعتوں کے مابین مشاورت اور اتفاق رائے ہی استحکام کی ضمانت ہے۔ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بحالی کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان ہم آہنگی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ امید ہے کہ تمام فریقین ملکی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے کسی ایسے نتیجے تک پہنچیں گے جو جمہوری اقدار کے منافی نہ ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ خیبر پختونخوا کا مستقبل سیاسی تدبر اور آئینی پاسداری سے جڑا ہے۔ وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر ایسے اقدامات کرے جس سے صوبے میں امن بھی قائم ہو اور جمہوری عمل بھی متاثر نہ ہو۔ آنے والے چند روز ملکی سیاست کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/columns/26/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کا نفاذ حل نہیں، مولانا فضل الرحمان</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/18/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/18/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 10 Oct 2026 21:46:51 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[آئین_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[امن_و_امان]]></category>
		<category><![CDATA[ایمرجنسی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_زندہ_باد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پی_ٹی_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[جے_یو_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[دہشت_گردی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[شہباز_شریف]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_اسمبلی]]></category>
		<category><![CDATA[گورنر_راج]]></category>
		<category><![CDATA[مراد_علی_شاہ]]></category>
		<category><![CDATA[مولانا_فضل_الرحمان]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_حکومت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/18/</guid>

					<description><![CDATA[سربراہ جے یو آئی نے وفاقی حکومت کو سیاسی مذاکرات پر زور دیا جبکہ وزیراعلیٰ سندھ نے مشروط حمایت کا عندیہ دے دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال کے پیش نظر صوبے میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ سے متعلق قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ اس حوالے سے سیاسی حلقوں میں بحث کا آغاز ہو چکا ہے کہ آیا وفاقی حکومت کو آئینی طور پر صوبائی معاملات میں مداخلت کرنی چاہیے یا نہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی مخالفت کی ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ یہ اقدامات دہشت گردی کے خاتمے کا حل نہیں ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مولانا فضل الرحمان نے حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مابین بامعنی مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مسائل کا حل سیاسی بات چیت میں مضمر ہے، جس کے لیے وہ جلد اپنی پارٹی کی کور کمیٹی اور اپوزیشن رہنماؤں کو اعتماد میں لیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے صوبے میں گورنر راج کی مشروط حمایت کا اظہار کیا ہے۔ سکھر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگرچہ گورنر راج جمہوری طور پر ناپسندیدہ ہے، لیکن آئینی طور پر یہ غلط اقدام نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعلیٰ سندھ نے پی ٹی آئی قیادت کو مشورہ دیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف اپنا موقف واضح کریں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی گورنر راج کی خواہشمند نہیں ہے، تاہم ملک کو درپیش سکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں پی ٹی آئی کو سوچنا ہوگا کہ وہ ملک کو کس طرف لے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئین پاکستان کے آرٹیکل 232 کے تحت صدر مملکت کو ملک یا کسی حصے میں داخلی انتشار کی صورت میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ اس کے لیے صوبائی اسمبلی کی قرارداد ضروری ہے، جبکہ اس اعلان کو پارلیمنٹ سے بھی منظور کروانا پڑتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج کا نفاذ تب کیا جاتا ہے جب صوبائی حکومت آئین کے مطابق چلنا ممکن نہ رہے۔ اس صورت میں وفاقی حکومت صوبے کے انتظامی اختیارات اپنے ہاتھ میں لے سکتی ہے، تاہم یہ اقدام پارلیمانی نگرانی کا پابند ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئینی ماہرین کے مطابق ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ کے بعد وفاقی حکومت صوبائی انتظامیہ کو ہدایات جاری کر سکتی ہے۔ تاہم یہ اقدامات ہائی کورٹ کے آئینی اختیارات کو ختم نہیں کر سکتے اور نہ ہی ان کا نفاذ وفاقی کابینہ ازخود کر سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئین کا آرٹیکل 236 ان صدارتی اعلانات کو ایک خاص حد تک تحفظ فراہم کرتا ہے، تاہم سپریم کورٹ ماضی میں پیر صابر شاہ کیس کے فیصلے میں یہ اصول طے کر چکی ہے کہ بدنیتی یا آئینی حدود سے تجاوز پر عدالتی مداخلت ممکن ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر وفاقی وزیر داخلہ اور گورنر خیبر پختونخوا نے صدر مملکت سے ملاقات کر کے بریفنگ بھی دی ہے۔ اس ملاقات میں صوبے کے انتظامی امور اور سکیورٹی چیلنجز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ گورنر راج کا فیصلہ ایک انتہائی اقدام ہوگا جس کے دور رس سیاسی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ وفاقی حکومت اس معاملے پر تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کو ترجیح دے رہی ہے تاکہ اتفاق رائے پیدا کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سینیٹر ایمل ولی خان نے بھی صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی حمایت سے معذرت کر لی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے مابین اس حساس معاملے پر تاحال کوئی متفقہ رائے موجود نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک کی موجودہ سیاسی و سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں یہ دیکھنا باقی ہے کہ وفاقی حکومت آئینی راستوں کا انتخاب کرتی ہے یا سیاسی مذاکرات کے ذریعے بحران کا حل نکالتی ہے۔ تمام تر نگاہیں اب حکومتی فیصلوں پر مرکوز ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/18/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خیبر پختونخوا پولیس کی ہنگامہ آرائی اور احتجاج سے نمٹنے کیلئے سخت آپریشنل ہدایات</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/17/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/17/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 10 Oct 2026 21:46:25 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[آئی_جی_کے_پی]]></category>
		<category><![CDATA[احتجاج]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[امن_و_امان]]></category>
		<category><![CDATA[ایمرجنسی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_زندہ_باد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پشاور]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس_ہدایات]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[سیکیورٹی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قانون_کی_عملداری]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_اسمبلی]]></category>
		<category><![CDATA[کے_پی_پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_حکومت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/17/</guid>

					<description><![CDATA[آئی جی خیبر پختونخوا نے ضلعی پولیس افسران کو امن و امان برقرار رکھنے اور سرکاری و نجی املاک کے تحفظ کیلئے خصوصی گائیڈ لائنز جاری کر دیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا نے صوبے میں ہنگامہ آرائی، توڑ پھوڑ اور احتجاجی مظاہروں سے نمٹنے کیلئے تمام ضلعی پولیس افسران کو تحریری آپریشنل ہدایات جاری کر دی ہیں۔ ان ہدایات کا مقصد صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنا اور شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جاری کردہ گائیڈ لائنز کے مطابق، کسی بھی ممکنہ مظاہرے کی صورت میں پولیس کو حفاظتی اقدامات مکمل رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ڈی پی اوز کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ ضلعی سطح پر پولیس نفری کی موجودگی کو ہر صورت یقینی بنائیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی روک تھام ہو سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئی جی کے پی نے ہدایت کی ہے کہ حساس مقامات پر اینٹی رائٹ، اسپیشل اسکواڈ اور سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکاروں کو تعینات کیا جائے۔ اس کے علاوہ پولیس اسٹیشنز، سرکاری عمارتوں، بینکوں، پیٹرول پمپس اور تجارتی مراکز کی سیکیورٹی کو مزید سخت کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ہدایت نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ احتجاجی مظاہروں اور غیر قانونی اجتماعات کے دوران سب سے پہلے مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی جائے۔ اگر مذاکرات ناکام ہو جائیں تو اینٹی رائٹ اسکواڈ کو کارروائی کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مزید برآں، صورتحال کے بے قابو ہونے کی صورت میں ہوائی فائرنگ اور ربڑ کی گولیوں کے استعمال کی اجازت دی گئی ہے۔ پولیس کو حکم دیا گیا ہے کہ مظاہروں کی مکمل ویڈیو ریکارڈنگ کی جائے تاکہ شواہد محفوظ رہیں اور بعد میں قانونی کارروائی میں مدد مل سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس حکام نے خبردار کیا ہے کہ امن و امان میں خلل ڈالنے، سرکاری تنصیبات کو نقصان پہنچانے یا سیکیورٹی فورسز پر حملہ کرنے والے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق انتہائی سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ کسی بھی صورت میں سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی غیر قانونی اجتماع یا پُرتشدد سرگرمی کا حصہ بننے سے گریز کریں۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پُرامن رہیں، قانون کی پاسداری کریں اور کسی بھی شرپسند عنصر کے بہکاوے میں نہ آئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آپریشنل ہدایات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ رابطے اور ہم آہنگی کو بہتر بنایا جائے۔ اس سے کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی روک تھام اور امن و امان برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس کی جانب سے جاری کردہ ان ہدایات کا مقصد ریاست مخالف عناصر کی جانب سے املاک کو پہنچنے والے ممکنہ نقصانات کو روکنا ہے۔ پولیس نے عزم ظاہر کیا ہے کہ کسی بھی صورت میں سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے بھی خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس سلسلے میں وفاقی کابینہ کا اجلاس بھی طلب کیا گیا ہے جس میں صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ پر غور کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی حکومت کی جانب سے ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق کے لیے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کا اجلاس بھی طلب کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ کابینہ کا اجلاس کل صبح ساڑھے نو بجے طلب کیا گیا ہے جس میں اہم فیصلے متوقع ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس حکام کا کہنا ہے کہ شہریوں کی حفاظت اولین ترجیح ہے اور قانون کی عملداری کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ کسی بھی اشتعال انگیزی یا قانون شکنی میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا تاکہ امن قائم رہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی پولیس کی جانب سے یہ اقدامات ایسے وقت میں اٹھائے گئے ہیں جب صوبے میں سیکیورٹی کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے قانون نافذ کرنے والے ادارے متحرک ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ امن دشمن عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/17/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
