<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>امن_و_استحکام &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%a7%d9%85%d9%86_%d9%88_%d8%a7%d8%b3%d8%aa%d8%ad%da%a9%d8%a7%d9%85/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:33:43 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>امن_و_استحکام &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>مشرق وسطیٰ میں امن کیلئے پاکستان سمیت 8 ممالک کا سفارتی حل پر اتفاق</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2225/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2225/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 22:58:19 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آر_فور]]></category>
		<category><![CDATA[اسحاق_ڈار]]></category>
		<category><![CDATA[امن_و_استحکام]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[ترکیہ]]></category>
		<category><![CDATA[خارجہ_پالیسی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سعودی_عرب]]></category>
		<category><![CDATA[سفارتی_تعاون]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%85%d8%b4%d8%b1%d9%82-%d9%88%d8%b3%d8%b7%db%8c%d9%b0-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d9%85%d9%86-%da%a9%db%8c%d9%84%d8%a6%db%92-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86/</guid>

					<description><![CDATA[استنبول میں منعقدہ اجلاس میں پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب، مصر اور چار یورپی ممالک نے علاقائی کشیدگی کم کرنے اور بحری گزرگاہوں کی حفاظت پر زور دیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ترکیہ کے شہر استنبول میں ایک اہم سفارتی اجلاس کا انعقاد کیا گیا جس میں پاکستان سمیت آٹھ ممالک نے مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات کے پرامن اور سفارتی حل کے لیے مشترکہ عزم کا اظہار کیا ہے۔ اس اجلاس میں ’آر فور‘ (R4) گروپ کے رکن ممالک اور چار یورپی طاقتوں نے شرکت کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس میں پاکستان، ترکیہ، مصر اور سعودی عرب پر مشتمل ’آر فور‘ (R4) گروپ کے وزرائے خارجہ کے علاوہ فرانس، جرمنی، اٹلی اور برطانیہ کے نمائندوں نے شرکت کی۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا اجلاس تھا جس میں علاقائی اور یورپی ممالک نے مشترکہ طور پر خطے کی صورتحال کا جائزہ لیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مشترکہ اعلامیے کے مطابق اجلاس میں غزہ کی صورتحال، اسرائیل فلسطین تنازع، امریکہ اور اسرائیل کے ایران کے ساتھ تنازع، اور سعودی عرب پر حوثی ملیشیا کے حملوں سمیت اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ شرکاء نے خطے میں قیام امن کے لیے ٹھوس اقدامات پر اتفاق کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس کے دوران عالمی بحری گزرگاہوں کی سلامتی پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی۔ آبنائے ہرمز، باب المندب اور بحیرہ اسود میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو عالمی تجارت، جہاز رانی کی آزادی اور توانائی کی ترسیل کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے ان راستوں کو محفوظ بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اجلاس کے موقع پر اپنے ترک ہم منصب حاقان فیدان سے خصوصی ملاقات کی۔ اس ملاقات میں مشرق وسطیٰ کی صورت حال، فلسطین اور علاقائی امن و سلامتی پر تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ دونوں رہنماؤں نے سعودی عرب پر حوثی حملوں کی مذمت اور قریبی رابطہ برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ علاقائی تنازعات کے سکیورٹی، معیشت اور تجارت پر مرتب ہونے والے اثرات سے نمٹنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنا ضروری ہے تاکہ عالمی سپلائی چین اور توانائی کی قیمتوں کو مستحکم رکھا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس میں شریک ممالک نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ تنازعات کی روک تھام اور خطے میں امن و استحکام کو آگے بڑھانے کے لیے اسی فارمیٹ میں مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کا ایک اہم ترین راستہ ہے، جبکہ باب المندب بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحر ہند سے ملاتا ہے۔ ان راستوں میں عدم تحفظ سے تیل اور دیگر اشیا کی ترسیل، عالمی سپلائی چین، جہاز رانی کے اخراجات اور توانائی کی قیمتیں متاثر ہو سکتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس کے اختتام پر جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا کہ آٹھوں ممالک خطے اور اس سے باہر امن و استحکام کے فروغ کے لیے سفارتی اقدامات میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2225/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>عراق سعودی عرب کی سلامتی کے لیے پرعزم، سرزمین کسی حملے کے لیے استعمال نہیں ہوگی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/722/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/722/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 20:17:28 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا]]></category>
		<category><![CDATA[امن_و_استحکام]]></category>
		<category><![CDATA[بغداد]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[خارجہ_پالیسی]]></category>
		<category><![CDATA[خطے_کی_سلامتی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ریاض]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%b9%d8%b1%d8%a7%d9%82-%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af%db%8c-%d8%b9%d8%b1%d8%a8-%da%a9%db%8c-%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85%d8%aa%db%8c-%da%a9%db%92-%d9%84%db%8c%db%92-%d9%be%d8%b1%d8%b9%d8%b2%d9%85/</guid>

					<description><![CDATA[عراقی وزیراعظم نے ریاض کے دورے کے دوران سعودی ولی عہد کو یقین دہانی کرائی ہے کہ عراق خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">عراقی وزیراعظم علی فالح الزیدی نے اپنے حالیہ دورہ سعودی عرب کے دوران سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے اہم ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات میں دوطرفہ تعلقات اور خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات کے دوران عراقی وزیراعظم نے سعودی قیادت کو واضح طور پر یقین دلایا ہے کہ عراق اپنی سرزمین کو کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف جارحیت یا حملوں کے لیے استعمال کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عراقی خبر رساں ایجنسی کے مطابق، وزیراعظم الزیدی کا کہنا تھا کہ عراق اپنے ہمسایہ ممالک کی خودمختاری اور سلامتی کا مکمل احترام کرتا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عراقی سرزمین کسی بھی کارروائی کے لیے لانچنگ پیڈ نہیں بنے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ دورہ مئی میں وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد علی فالح الزیدی کا سعودی عرب کا پہلا سرکاری دورہ ہے۔ اس دورے کو خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی ایک اہم کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعودی عرب اور عراق کے درمیان حالیہ برسوں میں تعلقات میں بہتری دیکھی گئی ہے۔ دونوں ممالک نے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے متعدد معاہدوں پر کام کیا ہے تاکہ معاشی اور سیکیورٹی چیلنجز کا مشترکہ طور پر مقابلہ کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ گزشتہ عرصے کے دوران خطے میں تیل کی تنصیبات اور اہم بنیادی ڈھانچے پر حملوں کے واقعات پیش آئے تھے۔ ان واقعات نے سعودی عرب سمیت خطے کے دیگر ممالک کی سلامتی کے حوالے سے خدشات کو جنم دیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعودی عرب اپنی تیل کی برآمدات کے لیے مختلف راستوں کا استعمال کرتا ہے جن میں مشرق-مغرب پائپ لائن انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ اس پائپ لائن کی حفاظت سعودی معیشت اور عالمی توانائی کی فراہمی کے لیے انتہائی ناگزیر سمجھی جاتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عراقی وزیراعظم کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں سیکیورٹی صورتحال انتہائی حساس ہے۔ خطے کے ممالک کی جانب سے ایک دوسرے کی سلامتی کے تحفظ کا اعادہ امن کے قیام میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی کا خاتمہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے باہمی مشاورت کے عمل کو جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عراق اور سعودی عرب کے درمیان اس طرح کے اعلیٰ سطحی رابطے نہ صرف دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہیں بلکہ یہ پورے خطے کے لیے ایک مثبت پیغام ہے۔ اس سے قبل بھی دونوں ممالک نے کئی بار علاقائی استحکام پر زور دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعظم الزیدی نے اپنے دورے کے اختتام پر سعودی قیادت کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ مستقبل میں دونوں برادر ممالک کے درمیان تعلقات مزید بلندیوں کو چھوئیں گے۔ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کا ایک اہم ذریعہ ثابت ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/722/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدے پر کام تیز</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/372/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/372/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 12 Oct 2026 23:58:00 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امن_و_استحکام]]></category>
		<category><![CDATA[ترک_پارلیمان]]></category>
		<category><![CDATA[ترکیہ]]></category>
		<category><![CDATA[حوثی_حملہ]]></category>
		<category><![CDATA[خارجہ_پالیسی]]></category>
		<category><![CDATA[دفاعی_معاہدہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[رجب_طیب_اردوان]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ریاض]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d8%aa%d8%b1%da%a9%db%8c%db%81%d8%8c-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af%db%8c-%d8%b9%d8%b1%d8%a8-%da%a9%db%92-%d8%af%d8%b1%d9%85%db%8c%d8%a7%d9%86/</guid>

					<description><![CDATA[ترک صدر رجب طیب اردوان نے ریاض پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے دفاعی تعاون کو ادارہ جاتی شکل دینے کا اعلان کر دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال اور علاقائی سلامتی کے چیلنجوں کے تناظر میں اہم بیان جاری کیا ہے۔ انہوں نے ریاض پر حوثیوں کے حالیہ حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدر اردوان نے کابینہ کے اجلاس کے بعد خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے مابین 7 اگست کو طے پانے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کو ایک پائیدار اور مؤثر ادارہ جاتی ڈھانچے میں ڈھالنے کا عمل تیزی سے جاری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے مزید بتایا کہ اس اہم معاہدے کی داخلی منظوری کے حصول کے لیے اسے آئندہ دنوں میں ترک پارلیمان میں پیش کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ اس اقدام کا مقصد تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید مستحکم بنانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترک صدر نے 10 اکتوبر کو ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہونے والے حملے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق اس افسوسناک واقعے میں 12 افراد جاں بحق جبکہ 309 زخمی ہوئے، جن میں عمرے کی ادائیگی کے لیے آنے والے افراد بھی شامل تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدر اردوان نے کہا کہ ترکیہ خطے میں امن و استحکام کا مرکز بننے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ لبنان سے یمن اور ایران تک پھیلی کشیدگی اور پراکسی قوتوں کی سرگرمیاں خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترک صدر نے زور دیا کہ علاقائی تنازعات کو جنگ کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا باہمی احترام ہی ترکیہ کے خارجہ پالیسی کے اصولی مؤقف کی بنیاد ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے واضح کیا کہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت ہونے والی تمام سرگرمیاں ترکیہ کے قومی قوانین اور ضوابط کے تابع ہوں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس تعاون کو ایک فعال نظام کے طور پر استوار کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدر اردوان نے ان قیاس آرائیوں کو یکسر مسترد کر دیا جن میں ترکیہ کے مؤقف کو غلط انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترکیہ کسی بھی ملک کے خلاف نہیں بلکہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے کوشاں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترک صدر نے کہا کہ خطے کو انتشار اور تقسیم کی طرف دھکیلنے کی کوششیں صرف ان عناصر کے مفادات کی تکمیل کریں گی جو پورے خطے کو خونریزی میں مبتلا دیکھنا چاہتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے کہا کہ ترکیہ علاقائی مسائل کو نسلی یا فرقہ وارانہ عینک سے نہیں دیکھتا۔ ان کا ملک خطے کے ممالک کی مشترکہ ذمہ داری اور باہمی تعاون کے اصولوں پر کاربند رہتے ہوئے امن کے دفاع کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترک صدر نے جاں بحق ہونے والوں کے لیے دعائے مغفرت کی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ترکیہ ہر مشکل گھڑی میں سعودی عرب اور اس کے عوام کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/372/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
