<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.14.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>امریکی_نائب_صدر &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%a7%d9%85%d8%b1%db%8c%da%a9%db%8c_%d9%86%d8%a7%d8%a6%d8%a8_%d8%b5%d8%af%d8%b1/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sun, 18 Oct 2026 11:38:22 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.3</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>امریکی_نائب_صدر &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>امریکا کا ایران سے جوہری پروگرام دوبارہ شروع نہ کرنے کی ضمانت کا مطالبہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a7%d9%85%d8%b1%db%8c%da%a9%d8%a7-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%db%8c%d8%b1%d8%a7%d9%86-%d8%b3%db%92-%d8%ac%d9%88%db%81%d8%b1%db%8c-%d9%be%d8%b1%d9%88%da%af%d8%b1%d8%a7%d9%85/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a7%d9%85%d8%b1%db%8c%da%a9%d8%a7-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%db%8c%d8%b1%d8%a7%d9%86-%d8%b3%db%92-%d8%ac%d9%88%db%81%d8%b1%db%8c-%d9%be%d8%b1%d9%88%da%af%d8%b1%d8%a7%d9%85/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 18 Oct 2026 11:38:22 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکی_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[امریکی_نائب_صدر]]></category>
		<category><![CDATA[ایران]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[بین_القوامی_تعلقات]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[تہران]]></category>
		<category><![CDATA[جوہری_پروگرام]]></category>
		<category><![CDATA[جے_ڈی_وینس]]></category>
		<category><![CDATA[خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[واشنگٹن]]></category>
		<category><![CDATA[یورینیم_اف_افزودگی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a7%d9%85%d8%b1%db%8c%da%a9%d8%a7-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%db%8c%d8%b1%d8%a7%d9%86-%d8%b3%db%92-%d8%ac%d9%88%db%81%d8%b1%db%8c-%d9%be%d8%b1%d9%88%da%af%d8%b1%d8%a7%d9%85/</guid>

					<description><![CDATA[امریکی نائب صدر نے کہا ہے کہ واشنگٹن تہران سے طویل مدت کے لیے قابلِ تصدیق ضمانت چاہتا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">واشنگٹن سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف تنازع کے بعض پہلوؤں میں نمایاں اور فیصلہ کن کامیابی حاصل کر چکا ہے۔ اس مؤقف کا اظہار انہوں نے حال ہی میں سی بی ایس نیوز کے زیراہتمام منعقدہ ایک عوامی نشست سے خطاب کے دوران کیا، جس میں عالمی امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اپنے خطاب میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا یہ کہنا تھا کہ امریکا اس بات کو یقینی بنانے پر اپنی تمام تر توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہے کہ ایران آئندہ برسوں میں کبھی بھی دوبارہ جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش نہ کرے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس کارروائی کے نتیجے میں ایرانی جوہری پروگرام کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے اور اس کی بنیادی صلاحیتوں کو مؤثر طریقے سے کم کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خطاب کے دوران امریکی نائب صدر نے شرکا سے مخاطب ہوتے ہوئے یہ بنیادی سوال بھی اٹھایا کہ موجودہ انتظامیہ کے بعد آنے والے برسوں میں کیا صورتحال ہوگی۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا آئندہ پانچ سال گزرنے پر تہران ایک بار پھر جوہری ہتھیاروں کا ذخیرہ بنانے یا یورینیم افزودگی کی صلاحیت بحال کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کے مطابق واشنگٹن محض موجودہ تنصیبات کے نقصان پر اکتفا نہیں کرے گا بلکہ وہ تہران سے ایسی ٹھوس اور طویل مدتی یقین دہانی حاصل کرنے کا خواہاں ہے جس کی مکمل بین الاقوامی تصدیق بھی کی جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں اس نوعیت کے کسی بھی پروگرام کی بحالی کو مکمل طور پر روکنے کے لیے قابلِ تصدیق انتظامات انتہائی ناگزیر ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جے ڈی وینس کے اس بیان سے یہ واضح اشارہ ملتا ہے کہ واشنگٹن کے لیے یہ معاملہ صرف ایران کی موجودہ جوہری تنصیبات کو نقصان پہنچانے تک ہرگز محدود نہیں ہے۔ امریکی حکومت اس بات کی متلاشی ہے کہ تہران مستقبل میں اس خطرناک راستے پر دوبارہ گامزن نہ ہو سکے اور اس کے لیے سخت حفاظتی اقدامات کیے جائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب تہران کا موقف اس کے برعکس رہا ہے جہاں ایرانی حکام طویل عرصے سے اس بات کی سختی سے تردید کرتے آئے ہیں کہ ان کا ملک جوہری ہتھیار تیار کرنے کا کوئی بھی ارادہ رکھتا ہے۔ ایران ہمیشہ سے پرامن مقاصد کے تحت اس ٹیکنالوجی کے حصول پر زور دیتا چلا آیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایرانی مؤقف کے مطابق ان کے ملک کو بجلی کی پیداوار، طبی تحقیق اور دیگر تمام پرامن شعبوں کی ترقی کے لیے جوہری پروگرام چلانے کا مکمل اور مسلمہ حق حاصل ہے۔ تہران بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے اس سویلین توانائی پروگرام کو جاری رکھنے کا پختہ عزم رکھتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری اس کشمکش میں امریکی قیادت کا اصرار ہے کہ خطے کی مستقبل کی سلامتی کے لیے صرف زبانی کلامی وعدے یا دعوے ہرگز کافی نہیں ہوں گے۔ دونوں ممالک کے مابین اس سفارتی اور تزویراتی ڈیڈ لاک کو ختم کرنے کے لیے عالمی سطح پر بھی مختلف سفارتی ذرائع سے رابطے جاری رکھے گئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بین الاقوامی سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی انتظامیہ کی جانب سے اس قسم کے سخت بیانات کا بنیادی مقصد خطے میں اپنے اتحادیوں بالخصوص اسرائیل اور دیگر ممالک کو مطمئن کرنا ہے۔ اس کے علاوہ اس کا مقصد ایران پر سفارتی دباؤ کو مسلسل برقرار رکھنا بھی ہے تاکہ تہران کسی بھی قسم کی مشکوک سرگرمی سے باز رہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ حالات میں یہ دیکھنا انتہائی دلچسپ ہوگا کہ آنے والے دنوں میں تہران کی جانب سے اس تازہ ترین امریکی مطالبے پر کیا باضابطہ ردعمل سامنے آتا ہے۔ ایران روایتی طور پر بیرونی دباؤ کو مسترد کرتا رہا ہے اور اپنے خودمختار حقوق کے دفاع کو اولین ترجیح دیتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری تنازع دہائیوں پر محیط ہے جس میں وقتاً فوقتاً سفارتی ڈیڈ لاک اور کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔ ماضی میں بھی بین الاقوامی معاہدوں کے ذریعے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوششیں کی گئی ہیں جو تاحال مکمل طور پر بارآور ثابت نہیں ہو سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی برادری اور سلامتی کونسل کے اراکین بھی مشرق وسطیٰ میں جوہری پھیلاؤ کو روکنے کے لیے فریقین کے درمیان بات چیت کی اہمیت پر زور دیتے رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے فریقین کو سفارتی لچک کا مظاہرہ کرنا ہوگا ورنہ کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی نائب صدر کے اس حالیہ بیان نے ایک بار پھر عالمی میڈیا اور پالیسی ساز اداروں کی توجہ ایران کے جوہری پروگرام اور واشنگٹن کی نئی حکمت عملی کی طرف مبذول کرا دی ہے۔ آنے والے ہفتوں میں اس حوالے سے مزید اہم سفارتی پیشرفت متوقع ہے جس کے اثرات عالمی سیاست پر مرتب ہوں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a7%d9%85%d8%b1%db%8c%da%a9%d8%a7-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%db%8c%d8%b1%d8%a7%d9%86-%d8%b3%db%92-%d8%ac%d9%88%db%81%d8%b1%db%8c-%d9%be%d8%b1%d9%88%da%af%d8%b1%d8%a7%d9%85/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
