<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.14.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>امریکی_محکمہ_خارجہ &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%a7%d9%85%d8%b1%db%8c%da%a9%db%8c_%d9%85%d8%ad%da%a9%d9%85%db%81_%d8%ae%d8%a7%d8%b1%d8%ac%db%81/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Wed, 21 Oct 2026 10:57:17 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.3</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>امریکی_محکمہ_خارجہ &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>امریکی انتظامیہ نے دوسرے دورِ حکومت میں 3 لاکھ سے زائد ویزے منسوخ کر دیے</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a7%d9%85%d8%b1%db%8c%da%a9%db%8c-%d8%a7%d9%86%d8%aa%d8%b8%d8%a7%d9%85%db%8c%db%81-%d9%86%db%92-%d8%af%d9%88%d8%b3%d8%b1%db%92-%d8%af%d9%88%d8%b1-%d8%ad%da%a9%d9%88%d9%85%d8%aa/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a7%d9%85%d8%b1%db%8c%da%a9%db%8c-%d8%a7%d9%86%d8%aa%d8%b8%d8%a7%d9%85%db%8c%db%81-%d9%86%db%92-%d8%af%d9%88%d8%b3%d8%b1%db%92-%d8%af%d9%88%d8%b1-%d8%ad%da%a9%d9%88%d9%85%d8%aa/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 21 Oct 2026 10:57:17 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[امریکہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکہ_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[امریکی_محکمہ_خارجہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکی_ویزا]]></category>
		<category><![CDATA[امیگریشن]]></category>
		<category><![CDATA[انسانی_حقوق]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[تارکین_وطن]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[ٹومی_پیگوٹ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈونلڈ_ٹرمپ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[غیر_قانونی_امیگریشن]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_سلامتی]]></category>
		<category><![CDATA[وائٹ_হাউজ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a7%d9%85%d8%b1%db%8c%da%a9%db%8c-%d8%a7%d9%86%d8%aa%d8%b8%d8%a7%d9%85%db%8c%db%81-%d9%86%db%92-%d8%af%d9%88%d8%b3%d8%b1%db%92-%d8%af%d9%88%d8%b1-%d8%ad%da%a9%d9%88%d9%85%d8%aa/</guid>

					<description><![CDATA[محکمہ خارجہ کے مطابق یہ اقدام ملکی سلامتی بہتر بنانے کے لیے زیرو ٹالرینس پالیسی کے تحت کیا گیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">واشنگٹن میں امریکی حکومت کی جانب سے غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف سخت ترین کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے تحت اب تک لاکھوں کی تعداد میں سفری دستاویزات منسوخ کی جا چکی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اپنے دوسرے دورِ حکومت کے دوران ملک بھر میں امیگریشن قوانین پر عملدرآمد کو انتہائی سخت کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکہ کے محکمہ خارجہ کی طرف سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق حکومت نے اب تک 3 لاکھ سے زائد امریکی ویزے منسوخ کرنے کا اقدام اٹھایا ہے۔ محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک بیان میں ان اعداد و شمار کی تفصیلات عام کی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترجمان کا کہنا ہے کہ موجودہ انتظامیہ نے ملکی تاریخ کی کسی بھی دوسری حکومت کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے اور اتنی بڑی تعداد میں ویزے منسوخ کیے ہیں۔ اس سے قبل جاری کردہ رپورٹس میں جنوری 2025ء سے شروع ہونے والے اس دور میں ویزے منسوخ کرنے کی تعداد 1 لاکھ 75 ہزار بتائی گئی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس تمام صورتحال پر مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کی سخت امیگریشن کریک ڈاؤن اور ملک بدری کی اس مہم کا بنیادی مقصد امریکی عوام کی گھریلو اور داخلی سلامتی کو بہتر بنانا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ ملکی بقا اور امن کے لیے کڑے فیصلے ناگزیر ہو چکے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ خارجہ کے ترجمان نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو غیر ملکی شہری ویزے کی بنیاد پر امریکہ میں رہائش پذیر ہیں لیکن کسی بھی قانون شکنی میں ملوث پائے جاتے ہیں، ان کے خلاف بلاتفریق سخت ترین قانونی قدم اٹھائے جائیں گے۔ اس کے علاوہ دھوکا دہی یا قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف بھی زیرو ٹالرینس کی پالیسی پر سختی سے عمل کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب اس سخت گیر پالیسی پر انسانی حقوق کے سرکردہ کارکنوں اور مختلف فلاحی تنظیموں کی جانب سے شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس پالیسی کے نفاذ سے قانونی تقاضوں اور آزادیِ اظہارِ رائے کے حقوق کی پامالی ہو رہی ہے، جس سے معاشرے میں عدم تحفظ کا ماحول پیدا ہو رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انسانی حقوق کی تنظیموں کا یہ بھی ماننا ہے کہ اس طرح کے اقدامات کی وجہ سے نسلی اقلیتوں کے لیے مشکلات بڑھ گئی ہیں اور ان میں نسلی بنیادوں پر نشانہ بنائے جانے کے خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق خاص طور پر ان ویزا منسوخیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے جو غزہ تنازع کے دوران احتجاج کرنے والے غیر ملکی مظاہرین کے خلاف کی گئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس ضمن میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ قدامت پسند شخصیات کے خلاف سوشل میڈیا پر تبصرہ کرنے والے غیر ملکی افراد کو بھی اس کریک ڈاؤن کی زد میں لایا گیا ہے۔ غیر ملکی مظاہرین کو ملک بدر کرنے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ انتظامیہ نے تارکینِ وطن اور ویزا کے خواہش مندوں کے لیے سوشل میڈیا اسکریننگ کے عمل کو بھی انتہائی کڑا کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حقوقِ انسانی کے کارکنوں کا یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ حکومت اپنے ناقدین کو دبانے کے لیے قومی سلامتی کے بہانے استعمال کر رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فراڈ کے واقعات کو بنیاد بنا کر بعض مخصوص تارکینِ وطن کی بڑی برادریوں کو اجتماعی طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے جس سے معاشرتی توازن متاثر ہو رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران بنیادی طور پر غیر قانونی امیگریشن کو روکنے پر سب سے زیادہ زور دیا تھا۔ تاہم اقتدار سنبھالنے کے بعد ان کی موجودہ انتظامیہ کی جانب سے قانونی امیگریشن کے راستے بھی بتدریج مشکل تر بنا دیے گئے ہیں، جن میں بعض مخصوص ورک ویزوں کے حصول کے لیے بھاری فیسوں کا نفاذ بھی شامل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی حکومت کے ان اقدامات سے دنیا بھر کے ان افراد میں بھی اضطراب پایا جاتا ہے جو امریکہ جانے کے خواہشمند ہیں یا وہاں روزگار کے سلسلے میں مقیم ہیں۔ تارکینِ وطن کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے مسلسل مطالبہ کر رہے ہیں کہ امیگریشن کے قوانین میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے تاکہ بے جا پریشانی سے بچا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ حالات اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں امریکہ میں امیگریشن کے حوالے سے مزید سخت فیصلے کیے جا سکتے ہیں۔ امریکی انتظامیہ کا عزم ہے کہ داخلی سلامتی کے امور پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور ملکی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ملک بدر کرنے کا عمل بلا تعطل جاری رہے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مجموعی طور پر یہ صورتحال بین الاقوامی سطح پر تارکینِ وطن اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے جہاں حکومتی پالیسیوں اور ان کے اثرات پر بحث کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ تمام متعلقہ فریقین اس تنازع پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کہ آنے والے مہینوں میں امریکی ویزا پالیسی کا رخ کیا ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a7%d9%85%d8%b1%db%8c%da%a9%db%8c-%d8%a7%d9%86%d8%aa%d8%b8%d8%a7%d9%85%db%8c%db%81-%d9%86%db%92-%d8%af%d9%88%d8%b3%d8%b1%db%92-%d8%af%d9%88%d8%b1-%d8%ad%da%a9%d9%88%d9%85%d8%aa/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
