<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>امریکی_فوج &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%a7%d9%85%d8%b1%db%8c%da%a9%db%8c_%d9%81%d9%88%d8%ac/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:33:15 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>امریکی_فوج &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>امریکا کی ایران پر ممکنہ فوجی کارروائی کے لیے جنگی بیڑے پر تیاریاں شروع</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/2273/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/2273/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 25 Oct 2026 09:58:04 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا]]></category>
		<category><![CDATA[امریکی_فوج]]></category>
		<category><![CDATA[ایران]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پینٹاگون]]></category>
		<category><![CDATA[تہران]]></category>
		<category><![CDATA[جنگی_بیڑا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a7%d9%85%d8%b1%db%8c%da%a9%d8%a7-%da%a9%db%8c-%d8%a7%db%8c%d8%b1%d8%a7%d9%86-%d9%be%d8%b1-%d9%85%d9%85%da%a9%d9%86%db%81-%d9%81%d9%88%d8%ac%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[امریکی بحریہ کے طیارہ بردار بحری بیڑے یو ایس ایس جارج واشنگٹن پر گولہ بارود کی لوڈنگ جاری ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">امریکی حکام نے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے سلسلے میں اپنی تیاریاں تیز کر دی ہیں، جس کے تحت جنگی بحری جہازوں پر گولہ بارود کی منتقلی اور لوڈنگ کا عمل جاری ہے۔ اس حوالے سے بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ واشنگٹن خطے میں اپنی عسکری صلاحیتوں کو مزید مستحکم کرنے میں مصروف ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی بحریہ کا مشہور طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جارج واشنگٹن اور اس کا جنگی گروپ اس وقت ان تیاریوں کا مرکز بنا ہوا ہے، جہاں بحری اہلکار دن رات جنگی جہازوں اور طیاروں کو ممکنہ مشن کے لیے تیار کرنے میں مصروف ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ذرائع ابلاغ کے مطابق ان تیاریوں میں جنگی طیاروں کو جدید ہتھیاروں سے لیس کرنا اور بحری جہازوں پر گولہ بارود کے ذخائر کو مکمل کرنا شامل ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے موثر انداز میں نمٹا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ پیشرفت ایسے نازک وقت پر سامنے آئی ہے جب امریکی انٹیلی جنس اداروں نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ اور دیگر خطوں میں امریکی شہریوں اور اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے لیے مبینہ ایرانی منصوبہ بندی عروج پر پہنچ چکی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی خبر رساں اداروں اور دیگر بین الاقوامی ذرائع کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی تہران کے خلاف ایک اور فوجی کارروائی کے امکان کا اعادہ کر چکے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حالیہ انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق، جو وزیر خارجہ مارکو روبیو کو ارسال کی گئی تھی، اس میں کہا گیا ہے کہ ایران نے امریکی مفادات اور افراد پر حملوں کی تیاریوں میں نمایاں تیزی دکھائی ہے جو واشنگٹن کے لیے شدید تشویش کا باعث ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی انٹیلی جنس کے ان جائزوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ تہران مبینہ طور پر روایتی فوجی کارروائیوں کے علاوہ دنیا کے مختلف حصوں میں موجود امریکی شہریوں کو بھی نقصان پہنچانے کے لیے اپنے نیٹ ورک کو فعال کر رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اگرچہ انٹیلی جنس رپورٹس میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کوئی حملہ فوری طور پر ہونے والا ہے، تاہم واشنگٹن نے خطے میں اپنی دفاعی پوزیشن کو انتہائی مستحکم کرنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا شروع کر دیے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کشیدگی کے اس ماحول میں امریکا نے مشرق وسطیٰ کے بعض حساس حصوں میں اپنی سفارتی موجودگی اور فوجی اڈوں پر تعینات عملے میں بھی کمی کرنا شروع کر دی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس سے قبل فروری کے مہینے میں بھی امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کے آغاز سے قبل اسی نوعیت کے احتیاطی اقدامات اور انخلا کی کارروائییاں عمل میں لائی گئی تھیں جو اب پھر دہرائی جا رہی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی جنگی بیڑے پر جاری ان تیاریوں میں زمین پر موجود اہداف کو نشانہ بنانے والے جدید گائیڈڈ میزائلوں کی فراہمی بھی شامل ہے، جو طویل فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کے علاوہ فضائی کارروائیوں کے دوران مضبوط بنکرز اور زیر زمین تنصیبات کو تباہ کرنے والے خصوصی بم بھی ان بحری جہازوں پر منتقل کیے جا رہے ہیں تاکہ عسکری مہم جوئی کی صورت میں مکمل برتری حاصل رہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/2273/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>مدر آف آل بم کا نام، ایران کی امریکی تہذیب پر تنقید</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/1358/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/1358/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 18 Oct 2026 21:36:59 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکی_فوج]]></category>
		<category><![CDATA[ایران]]></category>
		<category><![CDATA[ایران_امریکہ_کشیدگی]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_تعلقات]]></category>
		<category><![CDATA[پاسداران_انقلاب]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d9%85%d8%af%d8%b1-%d8%a2%d9%81-%d8%a2%d9%84-%d8%a8%d9%85-%da%a9%d8%a7-%d9%86%d8%a7%d9%85-%d8%a7%db%8c%d8%b1%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d9%85%d8%b1%db%8c%da%a9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[ایرانی پاسداران انقلاب کے ترجمان نے امریکی فوجی ہتھیاروں کے ناموں اور نفسیاتی دباؤ کے ہتھکنڈوں کو وحشیانہ قرار دے دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلامی جمہوریہ ایران نے امریکی فوج کے سب سے طاقتور غیر جوہری ہتھیار &#039;مدر آف آل بم&#039; کے نام پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ کسی تباہ کن ہتھیار کے ساتھ &#039;ماں&#039; جیسا مقدس لفظ جوڑنا ایک وحشیانہ تہذیب کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاسداران انقلاب اسلامی ایران کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکی انتظامیہ نفسیاتی دباؤ ڈالنے کے لیے اس طرح کے ناموں کا سہارا لے رہی ہے، تاہم یہ ہتھکنڈے ایرانی عوام کے حوصلوں کو متزلزل نہیں کر سکتے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں اور جی بی یو-43 بی (MOAB) جیسے ہتھیاروں کے استعمال کی قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں۔ ایران نے ان دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے اپنی دفاعی صلاحیت پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایرانی نگراں وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل مجید ابن الرضا نے بھی اس حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بموں کے سائز یا ناموں سے زیادہ ان کے نتائج اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی جارحیت کا خمیازہ واشنگٹن کو عالمی سطح پر بھگتنا پڑے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر دفاع نے مزید کہا کہ ایران کی میزائل ٹیکنالوجی اور دفاعی صلاحیتوں نے خطے میں اسٹریٹجک توازن کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے۔ ان کے مطابق امریکی حکام کو حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایران کی طاقت کو تسلیم کرنا ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایرانی قیادت کا موقف ہے کہ امریکی فوجی طاقت کا مظاہرہ دراصل اپنی عالمی حیثیت کو بچانے کی ایک ناکام کوشش ہے۔ تہران کی جانب سے یہ واضح کیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے دباؤ میں آئے بغیر اپنے قومی مفادات کا تحفظ جاری رکھے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ امریکی فوج کے پاس موجود یہ بم اپنی تباہ کن صلاحیت کے لیے جانا جاتا ہے، جسے ماضی میں بھی مختلف تنازعات میں استعمال کیا گیا ہے۔ تاہم ایران نے ان ہتھیاروں کو اپنی دفاعی حکمت عملی کے سامنے غیر مؤثر قرار دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب امریکی حکام کی جانب سے تاحال ان بیانات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ عالمی برادری بھی اس کشیدگی کو تشویش کی نظر سے دیکھ رہی ہے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے کوشاں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق، ملک کی میزائل صلاحیتیں اب اتنی جدید ہو چکی ہیں کہ وہ کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی مکمل استعداد رکھتی ہیں۔ یہ دفاعی طاقت ایران کی خارجہ پالیسی کا اہم ستون ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مبصرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ ایران اور امریکہ کے مابین یہ کشیدگی معاشی اور سیاسی محاذوں پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے۔ ایران کی جانب سے امریکی معیشت اور انتخابی حساب کتاب پر اثرات کی بات کرنا اس تنازع کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/1358/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نضال حسن کی پھانسی براہِ راست نشر کرنے کا فیصلہ واپس</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/906/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/906/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 15 Oct 2026 22:37:03 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا]]></category>
		<category><![CDATA[امریکی_فوج]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[جے_ڈی_وینس]]></category>
		<category><![CDATA[چین]]></category>
		<category><![CDATA[ڈونلڈ_ٹرمپ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سزائے_موت]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a7%d9%85%d8%b1%db%8c%da%a9%db%8c-%d8%b5%d8%af%d8%b1-%da%88%d9%88%d9%86%d9%84%da%88-%d9%b9%d8%b1%d9%85%d9%be-%da%a9%d8%a7-%d9%86%d8%b6%d8%a7%d9%84-%d8%ad%d8%b3%d9%86-%da%a9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[امریکی صدر نے فورٹ ہڈ فائرنگ کیس کے مجرم کی سزائے موت کی براہِ راست نشریات کا متنازع منصوبہ ترک کر دیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فورٹ ہڈ فوجی اڈے پر فائرنگ کے مجرم نضال حسن کی سزائے موت کو براہِ راست نشر کرنے کا اپنا سابقہ فیصلہ واپس لے لیا ہے۔ اس سے قبل صدر ٹرمپ کی جانب سے اس تجویز کو عالمی سطح پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نضال حسن امریکی فوج میں بطور ماہرِ نفسیات خدمات انجام دے چکے ہیں اور انہیں 2009 میں ٹیکساس کے فورٹ ہڈ فوجی اڈے پر فائرنگ کرکے 13 فوجیوں کو ہلاک کرنے کے جرم میں 2013 میں فوجی عدالت نے سزائے موت سنائی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدر ٹرمپ کا ابتدائی مؤقف یہ تھا کہ اس پھانسی کو آن لائن براہِ راست دکھایا جانا چاہیے تاکہ دنیا بھر میں دہشت گردی میں ملوث عناصر کو ایک واضح پیغام دیا جا سکے اور یہ منظر ایک عبرت کا نشان بن سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاہم اس تجویز کے سامنے آنے کے بعد امریکی حلقوں میں بحث چھڑ گئی تھی۔ نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی صدر کے اس فیصلے سے کھل کر اختلاف کیا اور کہا کہ وہ خود اس قسم کی نشریات دیکھنے کے حق میں نہیں ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس معاملے پر امریکا کے 72 ریٹائرڈ جرنیلوں، ایڈمرلز اور دیگر اعلیٰ فوجی حکام نے بھی حکومت کو ایک خط لکھا تھا جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ پھانسی کی براہِ راست نشریات کے منصوبے کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان فوجی حکام کا کہنا تھا کہ اس طرح کی نشریات اخلاقی اور پیشہ ورانہ اقدار کے منافی ہوں گی۔ دباؤ بڑھنے کے بعد صدر ٹرمپ نے اپنا مؤقف تبدیل کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے نیک نیت لوگ کسی کو مرتے ہوئے دیکھنا پسند نہیں کرتے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدر ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ نضال حسن کی سزائے موت پر اپنے مقررہ وقت پر عمل درآمد کیا جائے گا، تاہم اب اسے کسی بھی پلیٹ فارم پر براہِ راست نشر نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی اس کی تشہیر کی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ 5 نومبر 2009 کو پیش آنے والے اس افسوسناک واقعے میں نضال حسن نے فوجی اڈے کے اندر اندھا دھند فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں 13 افراد موقع پر ہی جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہو گئے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس واقعے کے بعد سے نضال حسن کی سزا پر عمل درآمد کا معاملہ طویل عرصے تک قانونی پیچیدگیوں اور بحث کا شکار رہا ہے۔ اب جبکہ حتمی فیصلہ سامنے آ چکا ہے، سزائے موت پر عمل درآمد کے لیے مزید اقدامات کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی انتظامیہ نے اس فیصلے کو حتمی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا اور مجرم کو اس کے کیے کی سزا دی جائے گی، تاہم اخلاقی حدود کو مدنظر رکھتے ہوئے نشریات سے گریز کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس فیصلے کا خیرمقدم ان حلقوں کی جانب سے کیا جا رہا ہے جو اسے ایک غیر روایتی اور غیر ضروری اقدام قرار دے رہے تھے۔ ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ امریکی عدالتی اور فوجی روایات کے عین مطابق ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اب جبکہ براہِ راست نشریات کا تنازع ختم ہو چکا ہے، توقع کی جا رہی ہے کہ متعلقہ حکام جلد ہی سزائے موت پر عمل درآمد کے لیے حتمی تاریخ کا اعلان کریں گے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو انصاف مل سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/906/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>امریکا کا ایران پر &#8216;مدر آف آل بمز&#8217; کے استعمال کا ممکنہ منصوبہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/894/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/894/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 15 Oct 2026 21:17:16 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا]]></category>
		<category><![CDATA[امریکی_فوج]]></category>
		<category><![CDATA[ایران]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_تعلقات]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پک_ایکس]]></category>
		<category><![CDATA[جوہری_تنصیبات]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a7%d9%85%d8%b1%db%8c%da%a9%d8%a7-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%db%8c%d8%b1%d8%a7%d9%86-%d9%be%d8%b1-%d9%85%d8%af%d8%b1-%d8%a2%d9%81-%d8%a2%d9%84-%d8%a8%d9%85%d8%b2-%da%a9%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[امریکی میڈیا کے مطابق ایران کی جوہری تنصیبات اور توانائی کے مراکز کو نشانہ بنانے کے لیے جی بی یو-43 بم کے استعمال پر غور کیا جا رہا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">واشنگٹن سے موصولہ اطلاعات کے مطابق امریکی فوج نے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے لیے نئے منصوبے تیار کر لیے ہیں۔ ان منصوبوں میں ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے &#039;مدر آف آل بمز&#039; (MOAB) کا ممکنہ استعمال بھی شامل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی میڈیا نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے مشیروں نے گزشتہ کئی ہفتوں کے دوران ایران کے حوالے سے مختلف آپشنز پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ اگرچہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عوامی سطح پر وسط مدتی انتخابات سے قبل کسی بڑی کارروائی سے گریز کا عندیہ دیا تھا، تاہم نجی سطح پر مختلف تجاویز پر غور جاری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے فوج کو ایرانی اہداف کے خلاف اضافی اسٹرائیک پیکجز تیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ ان منصوبوں میں خاص طور پر &#039;پک ایکس ماؤنٹین&#039; جیسی حساس جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے ایم او اے بی کے استعمال کی تجویز دی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس فوجی حکمت عملی کے حوالے سے ایک اہم پہلو یہ سامنے آیا ہے کہ یہ حملہ &#039;سینٹ کام&#039; کے علاقے سے امریکی انخلا سے قبل کیا جا سکتا ہے۔ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ امریکی انتظامیہ ایک بڑی کارروائی کے بعد فتح کا اعلان کر کے فوری انخلا کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جی بی یو-43/بی، جسے ایم او اے بی کہا جاتا ہے، امریکی اسلحہ خانے میں موجود سب سے بڑا غیر جوہری بم ہے۔ یہ جی پی ایس گائیڈڈ ہتھیار ہے جو زمین سے ٹکرانے سے قبل ہوا میں پھٹتا ہے اور وسیع رقبے پر تباہی پھیلانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاہم، ماہرین اور عسکری ذرائع اس بم کی تاثیر کے حوالے سے شکوک و شبہات کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ بم سطح پر موجود اہداف کے لیے تباہ کن ہے، لیکن زمین کی گہرائی میں موجود گرینائٹ کی تہوں سے محفوظ جوہری تنصیبات کو تباہ کرنے کی صلاحیت محدود ہو سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کے باوجود، تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ صدر ٹرمپ اسے ایک &#039;نفسیاتی ہتھیار&#039; کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔ اس بم کو بنیادی طور پر دشمن کے حوصلے پست کرنے اور انہیں ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایم او اے بی کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو اسے عراق جنگ کے دوران تیار کیا گیا تھا۔ اس کا مقصد بڑے فوجی اجتماعات اور زمین کے اوپر موجود مضبوط بنکرز کو نشانہ بنانا تھا، تاہم بعد ازاں اس کے اہداف کے دائرہ کار میں غاروں اور سرنگوں کو بھی شامل کر لیا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنی پہلی صدارتی مدت کے دوران ایم او اے بی کو استعمال کرنے والے پہلے امریکی صدر بنے تھے۔ سن 2017 میں انہوں نے امریکی فوج کو افغانستان میں داعش کے ٹھکانوں پر اس سب سے طاقتور غیر جوہری بم کو گرانے کا اختیار دیا تھا۔ افغان حکام کے مطابق اس حملے میں داعش کے 36 جنگجو ہلاک ہوئے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے صدر ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ وہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے پرعزم ہیں۔ اسی مقصد کے تحت وہ بارہا &#039;پک ایکس&#039; پر حملے کی دھمکیاں بھی دیتے رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی میڈیا کے مطابق اس ممکنہ منصوبے پر عمل درآمد سے خطے میں کشیدگی میں بڑے اضافے کا خدشہ ہے۔ اگرچہ یہ ایک طاقتور ہتھیار ہے، لیکن اسٹریٹجک اعتبار سے اس کے نتائج کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنا ابھی قبل از وقت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فی الحال وائٹ ہاؤس کی جانب سے ان رپورٹس پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے، تاہم امریکی میڈیا میں گردش کرنے والی یہ خبریں عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی بڑی کارروائی کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی لائنوں پر بھی مرتب ہوں گے، جس کے پیش نظر عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/894/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
