<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.14.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>امریکی_صدر &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%a7%d9%85%d8%b1%db%8c%da%a9%db%8c_%d8%b5%d8%af%d8%b1/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Fri, 16 Oct 2026 23:17:26 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.3</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>امریکی_صدر &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پریس سیکریٹری کیٹی زکریا کو عہدے سے فارغ کر دیا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a7%d9%85%d8%b1%db%8c%da%a9%db%8c-%d8%b5%d8%af%d8%b1-%da%88%d9%88%d9%86%d9%84%da%88-%d9%b9%d8%b1%d9%85%d9%be-%d9%86%db%92-%d9%be%d8%b1%db%8c%d8%b3/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a7%d9%85%d8%b1%db%8c%da%a9%db%8c-%d8%b5%d8%af%d8%b1-%da%88%d9%88%d9%86%d9%84%da%88-%d9%b9%d8%b1%d9%85%d9%be-%d9%86%db%92-%d9%be%d8%b1%db%8c%d8%b3/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 16 Oct 2026 23:17:26 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا]]></category>
		<category><![CDATA[امریکی_صدر]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پریس_سیکریٹری]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[تنازع]]></category>
		<category><![CDATA[ڈونلڈ_ٹرمپ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[کیٹی_زکریا]]></category>
		<category><![CDATA[میڈیا]]></category>
		<category><![CDATA[وائٹ_ہاؤس]]></category>
		<category><![CDATA[واشنگٹن]]></category>
		<category><![CDATA[وکالت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a7%d9%85%d8%b1%db%8c%da%a9%db%8c-%d8%b5%d8%af%d8%b1-%da%88%d9%88%d9%86%d9%84%da%88-%d9%b9%d8%b1%d9%85%d9%be-%d9%86%db%92-%d9%be%d8%b1%db%8c%d8%b3/</guid>

					<description><![CDATA[وائٹ ہاؤس کی ترجمان اپنی پہلی پریس بریفنگ کے دوران وکالت کی اہلیت سے متعلق سوالات پر تنازع کا شکار ہو گئی تھیں، جس کے بعد انہیں ہٹا دیا گیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیٹی زکریا کو ان کی تقرری کے محض ایک ہفتے بعد ہی عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔ اس فیصلے کا اعلان وائٹ ہاؤس کے قریبی ذرائع کی جانب سے کیا گیا ہے، جس کے بعد انتظامیہ میں ایک بار پھر ہلچل مچ گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کیٹی زکریا نے گزشتہ ہفتے ہی وائٹ ہاؤس کی ترجمان کے طور پر اپنے فرائض سنبھالے تھے۔ ان کی تقرری صدر ٹرمپ کی جانب سے ایک اہم اقدام کے طور پر دیکھی گئی تھی، تاہم یہ ذمہ داری ان کے لیے زیادہ دیر تک برقرار نہ رہ سکی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تنازع کا آغاز اس وقت ہوا جب کیٹی زکریا نے اپنی پہلی پریس بریفنگ کے دوران صحافیوں کے سوالات کا سامنا کیا۔ اس بریفنگ میں وہ کافی گھبرائی ہوئی دکھائی دیں اور صرف تین سوالات کے جوابات ہی دے سکیں، جس سے ان کی کارکردگی پر سوالات اٹھنے لگے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پریس بریفنگ کے دوران ایک صحافی نے ان سے ان کی وکالت کی تعلیم اور لائسنس کے بارے میں سوال کیا کہ انہوں نے کس امریکی ریاست سے وکالت کا امتحان پاس کیا ہے۔ اس پر کیٹی زکریا نے جواب دیا کہ &#039;چین&#039;، جس نے میڈیا اور سیاسی حلقوں میں حیرت پیدا کر دی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس جواب کے بعد ان کی قانونی اہلیت پر بحث شروع ہو گئی کیونکہ صدر ٹرمپ نے ان کی تقرری کے وقت انہیں ایک وکیل کے طور پر متعارف کرایا تھا۔ خود کیٹی زکریا بھی ماضی میں خود کو وکیل ظاہر کرتی رہی ہیں، جس کی وجہ سے ان کے تعلیمی پس منظر پر شکوک و شبہات پیدا ہوئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بعد ازاں کیٹی زکریا نے وضاحت پیش کی کہ انہیں سوال سننے میں غلط فہمی ہوئی تھی اور انہیں لگا کہ صحافی ان سے قانون کی تعلیم کے بعد ان کے قیام کے بارے میں پوچھ رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ بین الاقوامی تجارتی قانون میں مناسب اسناد رکھتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس معاملے پر &#039;کمپین فار اکاؤنٹیبلٹی&#039; نامی تنظیم نے بدھ کے روز کیلیفورنیا کے محکمہ وکلا میں ایک باضابطہ شکایت درج کرائی ہے۔ تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ اس بات کی تحقیقات کی جائیں کہ آیا کیٹی زکریا نے لائسنس کے بغیر خود کو وکیل ظاہر کر کے قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدر ٹرمپ نے جمعہ کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ انہوں نے کیٹی زکریا کو اپنے عہدے پر نظرثانی کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ انہوں نے اپنی ترجمان کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ انہیں میڈیا کی جانب سے نامناسب رویے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاہم، صدر ٹرمپ نے یہ بھی اشارہ دیا کہ شاید یہ عہدہ ان کے لیے موزوں نہیں تھا۔ وائٹ ہاؤس کے مشیروں کے مطابق، صدر اب انہیں حکومتی پالیسیوں اور معاملات کا میڈیا کے سامنے دفاع کرنے کے لیے مناسب شخصیت نہیں سمجھتے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کیٹی زکریا اس سے قبل ایک قدامت پسند ٹی وی مبصر کے طور پر کام کرتی رہی ہیں اور اسی حیثیت میں انہوں نے صدر ٹرمپ کی توجہ حاصل کی تھی۔ ان کی تقرری دیگر امیدواروں کے ناموں پر غور کے بعد تیزی سے عمل میں لائی گئی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وائٹ ہاؤس کی جانب سے ابھی تک ان کی جگہ کسی نئے نام کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس برطرفی سے انتظامیہ کی میڈیا حکمت عملی پر اثر پڑے گا اور نئے ترجمان کے انتخاب کے لیے مزید محتاط عمل اپنایا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی میڈیا میں اس واقعے کو وائٹ ہاؤس کے اندرونی نظم و ضبط اور تقرریوں کے عمل کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ کیٹی زکریا کی مختصر مدت کے دوران پیش آنے والے یہ واقعات وائٹ ہاؤس کی پریس ٹیم کے لیے ایک چیلنج بنے رہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واضح رہے کہ کیٹی زکریا کی تقرری کے بعد سے ہی ان کے ماضی اور پیشہ ورانہ اہلیت پر سوالات اٹھائے جا رہے تھے۔ اب ان کی برطرفی کے بعد وائٹ ہاؤس انتظامیہ کی جانب سے آئندہ دنوں میں کسی نئے ترجمان کی تقرری متوقع ہے تاکہ میڈیا امور کو بہتر انداز میں چلایا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a7%d9%85%d8%b1%db%8c%da%a9%db%8c-%d8%b5%d8%af%d8%b1-%da%88%d9%88%d9%86%d9%84%da%88-%d9%b9%d8%b1%d9%85%d9%be-%d9%86%db%92-%d9%be%d8%b1%db%8c%d8%b3/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>یمن کے حوثیوں کے خلاف اسرائیل کی مدد قبول کرنے پر امریکی صدر کا بیان</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/%db%8c%d9%85%d9%86-%da%a9%db%92-%d8%ad%d9%88%d8%ab%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81-%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%a6%db%8c%d9%84-%da%a9%db%8c-%d9%85%d8%af%d8%af/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/%db%8c%d9%85%d9%86-%da%a9%db%92-%d8%ad%d9%88%d8%ab%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81-%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%a6%db%8c%d9%84-%da%a9%db%8c-%d9%85%d8%af%d8%af/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 16 Oct 2026 20:16:58 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اسرائیل]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکی_صدر]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[حوثی]]></category>
		<category><![CDATA[خارجہ_پالیسی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈونلڈ_ٹرمپ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[سعودی_عرب]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[سیکیورٹی]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[مشرق_وسطیٰ]]></category>
		<category><![CDATA[یمن]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%db%8c%d9%85%d9%86-%da%a9%db%92-%d8%ad%d9%88%d8%ab%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81-%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%a6%db%8c%d9%84-%da%a9%db%8c-%d9%85%d8%af%d8%af/</guid>

					<description><![CDATA[امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کو یمن میں حوثیوں کے خلاف اسرائیلی تعاون حاصل کرنے کا مشورہ دیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک حالیہ بیان میں سعودی عرب پر زور دیا ہے کہ وہ یمن میں سرگرم حوثی باغیوں کے خلاف کارروائیوں کے لیے اسرائیل کی عسکری مدد کو قبول کر لے۔ وائٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اس بات کا اظہار کیا کہ اس تنازع میں اسرائیل سعودی عرب کے لیے ایک مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدر ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ اپنے تعلقات کو مستحکم قرار دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے حوالے سے پیش رفت پہلے سے زیادہ مضبوط دکھائی دیتی ہے۔ تاہم، امریکی صدر کی جانب سے اس معاملے پر کسی نئے باضابطہ معاہدے یا مذاکرات کے دوبارہ آغاز کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیال رہے کہ مشرق وسطیٰ میں ابراہام معاہدوں کے تحت متعدد عرب ممالک نے امریکا کی ثالثی میں اسرائیل کو تسلیم کرتے ہوئے سفارتی تعلقات قائم کیے ہیں۔ اس کے باوجود سعودی عرب کی جانب سے تاحال اس معاملے پر محتاط رویہ اپنایا گیا ہے اور سعودی قیادت نے اب تک اسرائیل کے ساتھ کھلے سفارتی یا عسکری تعلقات قائم نہیں کیے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسرائیلی میڈیا کی کچھ رپورٹس کے مطابق سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ماضی میں حوثیوں کے خلاف اسرائیلی فوجی مدد کی پیشکشوں میں دلچسپی ظاہر نہیں کی تھی۔ ان رپورٹس میں یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ براہ راست عسکری تعاون سے سعودی عوام میں منفی ردعمل پیدا ہو سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یمن میں جاری خانہ جنگی کے باعث خطے کی سیکیورٹی صورتحال کافی عرصے سے کشیدہ ہے۔ سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد حوثیوں کے خلاف کارروائیاں کرتا رہا ہے، جبکہ حوثی گروپ کی جانب سے سعودی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے واقعات بھی ماضی میں پیش آتے رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی صدر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں طاقت کا توازن تبدیل ہو رہا ہے اور مختلف ممالک اپنے سیکیورٹی مفادات کے تحفظ کے لیے نئی حکمت عملیوں پر غور کر رہے ہیں۔ تاہم، سعودی عرب کی جانب سے اس مشورے پر کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے لیے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کا معاملہ انتہائی حساس نوعیت کا حامل ہے۔ سعودی حکومت اپنے داخلی اور علاقائی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے خارجہ پالیسی کے فیصلے کرتی ہے، جس میں فلسطینی کاز اور عوامی جذبات کو بھی اہمیت حاصل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واضح رہے کہ سعودی عرب نے ہمیشہ اس موقف کا اعادہ کیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے لیے ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ناگزیر ہے۔ اس اصولی موقف کے بغیر کسی بھی قسم کے عسکری یا سفارتی تعاون کی راہ ہموار ہونا مشکل دکھائی دیتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی انتظامیہ طویل عرصے سے خطے میں اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان تعلقات کو فروغ دینے کے لیے کوشاں رہی ہے۔ صدر ٹرمپ کے حالیہ بیان کو اسی پالیسی کے تسلسل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس کا مقصد حوثیوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یمن کا بحران برسوں سے جاری ہے جس کے نتیجے میں انسانی بحران اور سیکیورٹی چیلنجز میں اضافہ ہوا ہے۔ بین الاقوامی برادری اس تنازع کے پرامن حل کے لیے مختلف کوششیں کرتی رہی ہے، تاہم حوثیوں اور عرب اتحاد کے درمیان کشیدگی تاحال برقرار ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق، سعودی عرب اپنی سیکیورٹی کے لیے خود مختار دفاعی صلاحیتوں پر انحصار کرنے کو ترجیح دیتا ہے۔ اگرچہ خطے میں سیکیورٹی تعاون کے نئے امکانات پر بات چیت ہوتی رہتی ہے، لیکن عملی طور پر اسرائیل کے ساتھ تعاون کا فیصلہ بہت پیچیدہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا سعودی عرب امریکی صدر کے اس مشورے کو کسی عملی شکل میں ڈھالتا ہے یا پھر اپنی روایتی خارجہ پالیسی پر قائم رہتا ہے۔ فی الحال، سعودی قیادت کی جانب سے اس معاملے پر خاموشی برقرار ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان سمیت دیگر مسلم ممالک بھی خطے میں امن و استحکام کے خواہاں ہیں اور یمن تنازع کے پرامن حل کے لیے مذاکرات کی حمایت کرتے ہیں۔ پاکستان کا موقف رہا ہے کہ تمام فریقین کو مل بیٹھ کر مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/%db%8c%d9%85%d9%86-%da%a9%db%92-%d8%ad%d9%88%d8%ab%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81-%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%a6%db%8c%d9%84-%da%a9%db%8c-%d9%85%d8%af%d8%af/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
