<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>امریکہ_ایران &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%a7%d9%85%d8%b1%db%8c%da%a9%db%81_%d8%a7%db%8c%d8%b1%d8%a7%d9%86/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sun, 01 Nov 2026 13:26:44 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>امریکہ_ایران &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>امریکی وسط مدتی انتخابات: ڈونلڈ ٹرمپ کی مشکلات میں اضافہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/2411/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/2411/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 26 Oct 2026 01:17:55 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکہ_ایران]]></category>
		<category><![CDATA[امریکی_انتخابات]]></category>
		<category><![CDATA[ایلون_مسک]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈونلڈ_ٹرمپ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a7%d9%85%d8%b1%db%8c%da%a9%db%8c-%d9%88%d8%b3%d8%b7-%d9%85%d8%af%d8%aa%db%8c-%d8%a7%d9%86%d8%aa%d8%ae%d8%a7%d8%a8%d8%a7%d8%aa-%da%88%d9%88%d9%86%d9%84%da%88-%d9%b9%d8%b1%d9%85%d9%be/</guid>

					<description><![CDATA[نومبر 2026 میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل ری پبلکن پارٹی کو عوامی مقبولیت میں کمی اور شدید سیاسی چیلنجز کا سامنا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">امریکہ میں نومبر 2026 کے پہلے ہفتے میں وسط مدتی انتخابات کا انعقاد ہونے جا رہا ہے، جس میں ری پبلکن اور ڈیموکریٹک پارٹیاں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں ری پبلکن پارٹی کو مختلف سیاسی سرویز میں مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے انتخابی میدان میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدر ٹرمپ، جو دو بار صدارتی مدت مکمل کر چکے ہیں، اپنی پارٹی کی کامیابی کے لیے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔ اگرچہ امریکی آئین کے تحت وہ تیسری بار صدر منتخب نہیں ہو سکتے، تاہم وہ وقتاً فوقتاً یہ بیان دیتے رہے ہیں کہ وہ تیسری مرتبہ بھی میدان میں اتر سکتے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، ٹرمپ کی عالمی سطح پر بعض اقدامات اور ناکامیاں ان کے لیے انتخابی بوجھ بن چکی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایران پر حملے اور اس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے نے امریکی ووٹرز کو متاثر کیا ہے۔ غزہ میں 80 ہزار سے زائد شہادتوں کے باوجود اسرائیل کی مسلسل حمایت اور لبنان و شام پر اسرائیلی کارروائیوں پر خاموشی نے بھی عالمی سطح پر امریکہ کے تشخص کو متاثر کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">علاقائی سلامتی کے حوالے سے بھی ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ یمنی حوثیوں کے سعودی عرب پر حملوں کے دوران امریکی عسکری امداد نہ ملنے پر سعودی حکام کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔ ان تمام عوامل نے امریکی ووٹرز کے درمیان ٹرمپ کی ساکھ کو کمزور کیا ہے، جس کا فائدہ اپوزیشن جماعتوں کو ملنے کا امکان ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتخابی کامیابی کے لیے ٹرمپ اپنے قریبی ساتھیوں اور سرمایہ داروں سے مدد لے رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، ایلون مسک نے ری پبلکن پارٹی کی کانگریس میں پوزیشن برقرار رکھنے کے لیے 275 ملین امریکی ڈالرز سے زائد کی خطیر رقم خرچ کی ہے۔ یہ سرمایہ کاری امریکی سیاست میں مالی اثر و رسوخ کی ایک بڑی مثال کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدر ٹرمپ نے ووٹرز کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے اعلان کیا ہے کہ اگر ری پبلکن پارٹی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کر لیتی ہے تو ہر بالغ امریکی شہری کو 5 ہزار ڈالر بطور &#039;ٹرمپ ڈیویڈنڈ&#039; دیے جائیں گے۔ تاہم، ماہرین معاشیات نے اس منصوبے پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے کیونکہ اس کے لیے 1.2 ٹریلین ڈالر سے زائد کے فنڈز درکار ہوں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی یہ پیشکش ووٹرز کو اپنی طرف راغب کرنے کی ایک کوشش ہے، جس پر اپوزیشن کی جانب سے شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ اس صورتحال میں ری پبلکن پارٹی کے لیے سینیٹ کی نشستوں کا دفاع کرنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بین الاقوامی سطح پر ٹرمپ کی پالیسیوں کو &#039;ناقابل اعتبار&#039; قرار دیا جا رہا ہے۔ کینیڈین مبصرین کا خیال ہے کہ ٹرمپ کے دور میں امریکہ کا عالمی اتحادیوں پر اعتماد متزلزل ہوا ہے۔ خاص طور پر مشرق وسطیٰ کے ممالک امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کے حوالے سے محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں، جس کے اثرات نومبر کے انتخابات میں ظاہر ہو سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سفید فام امریکیوں کے ایک مخصوص طبقے میں ٹرمپ کی مقبولیت اب بھی برقرار ہے، خاص طور پر امیگریشن اور غیر ملکیوں کے حوالے سے ان کی سخت پالیسیوں کی وجہ سے۔ ٹرمپ کے حامیوں کے لیے وہ اب بھی ایک اہم سیاسی شخصیت ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتخابات کے نتائج ری پبلکن پارٹی کے مستقبل کا تعین کریں گے۔ اگر ٹرمپ کی پارٹی شکست سے دوچار ہوتی ہے تو کانگریس میں ان کے مخالفین ان کے خلاف مواخذے کی کارروائی شروع کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صدر ٹرمپ اپنی پارٹی کی جیت کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں تاکہ سیاسی تنہائی سے بچ سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی انتخابات کے حوالے سے نتائج نومبر کے پہلے ہفتے کے بعد ہی سامنے آئیں گے۔ اس وقت تک دونوں بڑی جماعتیں اپنی انتخابی مہم کو تیز تر کر رہی ہیں۔ ووٹرز کی جانب سے معیشت، خارجہ پالیسی اور داخلی سلامتی کے معاملات پر فیصلہ کن رائے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹرمپ کی عالمی ناکامیوں میں 3 جنوری 2026 کو وینزویلا پر حملہ اور وہاں کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سی لیا کی گرفتاری بھی شامل ہے، جس کے اثرات اب انتخابی مہم پر پڑ رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے عالمی سطح پر اختیار کردہ جارحانہ پالیسیاں اب ان کے اپنے ووٹرز کے لیے بھی تشویش کا باعث بن رہی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/2411/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ایران کے خلاف جارحیت کا ناقابلِ تصور جواب دیں گے، باقر قالیباف</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/2359/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/2359/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 25 Oct 2026 12:56:59 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکہ_ایران]]></category>
		<category><![CDATA[ایران]]></category>
		<category><![CDATA[ایرانی_پارلیمنٹ]]></category>
		<category><![CDATA[ایرانی_مفادات]]></category>
		<category><![CDATA[باقر_قالیباف]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a7%db%8c%d8%b1%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81-%d8%ac%d8%a7%d8%b1%d8%ad%db%8c%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%d9%86%d8%a7%d9%82%d8%a7%d8%a8%d9%84-%d8%aa%d8%b5%d9%88%d8%b1/</guid>

					<description><![CDATA[ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے تہران میں خطاب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی بھی جارحانہ اقدام کا بھرپور دفاع کیا جائے گا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے تہران میں پارلیمنٹ سے ایک اہم خطاب کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری اور خطے کے تناظر میں سخت بیانات جاری کیے ہیں اور ملکی سلامتی کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اپنے خطاب کے دوران انہوں نے انتہائی واشگاف الفاظ میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت یا عسکری کارروائی کی صورت میں ایسا ناقابلِ تصور جواب دیا جائے گا جس کا مخالفین تخمینہ بھی نہیں لگا سکتے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا کہنا تھا کہ ملکی علاقائی سالمیت اور خودمختاری پر کسی بھی طرح کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور دفاعی پوزیشن کو ہر قیمت پر برقرار رکھا جائے گا تاکہ دشمن کسی غلط فہمی کا شکار نہ ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایرانی اسپیکر نے اس بات پر زور دیا کہ ایران ہرگز پیچھے ہٹنے والا نہیں ہے، چاہے امریکہ کی طرف سے کسی بھی نوعیت کی دھمکیاں کیوں نہ دی جائیں، ایرانی قوم اپنے اصولوں پر قائم رہے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے کہا کہ یہ حقیقت اب واضح ہو چکی ہے کہ امریکہ ہی وہ فریق ہے جس نے خطے میں غلط اندازے لگائے اور اب وہ خود کو اس دل دل سے نکالنے کے لیے ضروری اور عملی اقدامات کرنے پر مجبور ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محمد باقر قالیباف نے اس بات کو بھی اجاگر کیا کہ وسیع پیمانے پر جنگ کی دھمکیاں یا انسانی جانوں کے زیاں کے انتباہات ایرانی قوم کو اپنے مؤقف سے ہرگز پیچھے نہیں ہٹا سکتے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے کہا کہ اس قسم کے دباؤ کے ہتھکنڈے ایرانی عوام کو اپنے مسلمہ حقوق، قومی مفادات اور خودمختار فیصلوں سے دستبردار ہونے پر کسی صورت مجبور نہیں کر سکتے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا مزید کہنا تھا کہ جب تک واشنگٹن کے حکام اپنے طرزِ عمل میں واضح اور بنیادی تبدیلیاں نہیں لاتے، اس وقت تک ان کے کسی بھی دعوے کی کوئی سیاسی یا سفارتی حیثیت نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایرانی چیف مذاکرات کار نے مطالبہ کیا کہ امریکی حکام کو زور زبردستی، دھونس اور طمع و لالچ پر مبنی اپنی پرانی روش کو مکمل طور پر ترک کرنا ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے مزید کہا کہ یہ بھی ناگزیر ہے کہ امریکہ اپنی ان تمام ذمہ داریوں کی ٹھوس انداز میں تلافی کرے جن کی ماضی میں سنگین خلاف ورزیاں کی گئی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایرانی اسپیکر کے مطابق تہران کی نگاہ میں امریکی بیانات اور دعوؤں کی ذرہ برابر بھی اہمیت نہیں ہے کیونکہ ماضی کا تلخ تجربہ سب کے سامنے موجود ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے دوٹوک انداز میں یہ بھی یاد دلایا کہ وہ اس سے پہلے بھی اس بات کا اعادہ کر چکے ہیں کہ اس معاملے پر ان کے پاس کہنے کو کوئی نئی بات نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا اشارہ اس بات کی طرف تھا کہ ایران کا موقف ہمیشہ سے واضح اور دوٹوک رہا ہے اور اس میں کسی قسم کی لچک کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اور بین الاقوامی سفارت کاری کے تناظر میں تہران کے یہ بیانات انتہائی اہمیت کے حامل سمجھے جا رہے ہیں جو ملکی دفاع کے عزم کو ظاہر کرتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/2359/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ٹرمپ کی حوثیوں کو دھمکی، انتخابات کے بعد دیکھ لینے کا اعلان</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/468/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/468/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 13 Oct 2026 21:16:50 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا]]></category>
		<category><![CDATA[امریکہ_ایران]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[تیل_کی_قیمتیں]]></category>
		<category><![CDATA[تین_سو_فیصد_مہنگائی]]></category>
		<category><![CDATA[حوثی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d9%b9%d8%b1%d9%85%d9%be-%da%a9%db%8c-%d8%ad%d9%88%d8%ab%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%d9%88-%d8%af%da%be%d9%85%da%a9%db%8c%d8%8c-%d8%a7%d9%86%d8%aa%d8%ae%d8%a7%d8%a8%d8%a7%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%a8%d8%b9/</guid>

					<description><![CDATA[امریکی صدر نے کہا ہے کہ حوثی ایران کے کہنے پر سعودی عرب پر حملے کر کے تیل کی قیمتیں بڑھانا چاہتے ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یمن کے حوثی باغیوں کو سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سعودی عرب پر حملے کرنے سے باز رہیں اور ان کی یہ کارروائیاں کسی صورت قابل قبول نہیں۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں کیا، جس میں یمن کی صورتحال اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ حوثی عناصر کی طرف سے سعودی عرب کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے جس کا مقصد دنیا بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرنا ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ یہ تمام کارروائیوں کے پیچھے مبینہ طور پر ایران کا ہاتھ ہے جو ان گروہوں کو شہ دے رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی صدر نے مزید بتایا کہ گزشتہ برس ریاستہائے متحدہ امریکہ کی بمباری کے بعد ان باغیوں نے خود ہی جنگ بندی کی باقاعدہ التماس کی تھی، جس کے بعد وہ ایک طویل عرصے تک خاموش رہے تھے۔ اب ایک بار پھر ان کی طرف سے کارروائیوں کا آغاز کر دیا گیا ہے جو کہ خطے کے امن کے منافی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایرانی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایک ایسا ملک ہے جو شدید اقتصادی بحران کا شکار ہے اور اس کی معیشت انتہائی دباؤ میں ہے۔ انھوں نے اپنے بیان میں کہا کہ اس ملک کے پاس کوئی مؤثر بحریہ یا فضائیہ موجود نہیں ہے لیکن اس کے باوجود وہ خطے میں تخریب کاری میں ملوث ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی صدر کے مطابق حوثیوں کی ان پرتشدد کارروائیوں کا مقصد ممکنہ طور پر آئندہ وسط مدتی انتخابات سے قبل تیل کے نرخوں میں ہوشربا اضافہ کرنا ہے۔ انھوں نے اس عمل کو انتہائی غیر مناسب قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے ہتھکنڈے کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیے جائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ وہ اس بار براہ راست انتخابی عمل کا حصہ نہیں ہیں کیونکہ وہ پہلے ہی تاریخی کامیابی حاصل کر چکے ہیں۔ انھوں نے خبردار کیا کہ انتخابات کے بعد جب وہ معاملات کا جائزہ لیں گے تو حوثیوں کی طرف سے کیے جانے والے ان موجودہ اقدامات کو ہرگز فراموش نہیں کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب یمن کے تنازع اور خطے کی سلامتی کے تناظر میں صورتحال کشیدہ بنی ہوئی ہے جہاں فریقین کے درمیان عسکری محاذ آرائی میں شدت دیکھی جا رہی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر اس تنازع کے تیل کی رسد اور عالمی معیشت پر پڑنے والے اثرات کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعودی عرب کی سلامتی اور تنصیبات پر ہونے والے حملوں کے بعد علاقائی دفاعی امور پر بھی گفت و شنید کا سلسلہ جاری ہے۔ امریکہ کی جانب سے جاری ہونے والے اس تازہ بیان کے بعد خطے میں سیاسی اور عسکری حرکیات میں مزید تبدیلیوں کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی منڈی کے مبصرین کا ماننا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی اس کشیدگی کا براہ راست اثر توانائی کی سپلائی لائنز اور قیمتوں پر پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی طاقتیں اور بالخصوص واشنگٹن اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اس کے تدارک کے لیے بیانات سامنے آ رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک خطے میں سمندری گزرگاہوں اور توانائی کی نقل و حرکت کو محفوظ بنانے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہے ہیں۔ ان کوششوں کا مقصد کسی بھی ناگہانی بحران سے نمٹنا اور عالمی منڈی میں قیمتوں کے توازن کو برقرار رکھنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آنے والے ایام میں یہ دیکھنا ہوگا کہ امریکی انتظامیہ مڈٹرم انتخابات کے بعد اس معاملے پر کیا لائحہ عمل اختیار کرتی ہے۔ اس دوران یمن اور سعودی عرب کی سرحدوں پر سکیورٹی کی صورتحال بدستور انتہائی حساس اور توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/468/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
