<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.29.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>امتحانات &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%a7%d9%85%d8%aa%d8%ad%d8%a7%d9%86%d8%a7%d8%aa/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sun, 01 Nov 2026 10:26:52 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>امتحانات &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی نے نہم جماعت سائنس گروپ کے نتائج کا اعلان کر دیا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/education/%d8%ab%d8%a7%d9%86%d9%88%db%8c-%d8%aa%d8%b9%d9%84%db%8c%d9%85%db%8c-%d8%a8%d9%88%d8%b1%da%88-%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%d9%86%db%92-%d9%86%db%81%d9%85-%d8%ac%d9%85%d8%a7%d8%b9%d8%aa/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/education/%d8%ab%d8%a7%d9%86%d9%88%db%8c-%d8%aa%d8%b9%d9%84%db%8c%d9%85%db%8c-%d8%a8%d9%88%d8%b1%da%88-%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%d9%86%db%92-%d9%86%db%81%d9%85-%d8%ac%d9%85%d8%a7%d8%b9%d8%aa/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 28 Oct 2026 12:36:48 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[تعلیم]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسکول]]></category>
		<category><![CDATA[امتحانات]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیمی_بورڈ]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیمی_نتائج]]></category>
		<category><![CDATA[ثانوی_تعلیمی_بورڈ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سائنس_گروپ]]></category>
		<category><![CDATA[طلباء]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/education/%d8%ab%d8%a7%d9%86%d9%88%db%8c-%d8%aa%d8%b9%d9%84%db%8c%d9%85%db%8c-%d8%a8%d9%88%d8%b1%da%88-%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%d9%86%db%92-%d9%86%db%81%d9%85-%d8%ac%d9%85%d8%a7%d8%b9%d8%aa/</guid>

					<description><![CDATA[امتحانات میں کامیابی کا تناسب 69.56 فیصد رہا، طلباء بورڈ کی آفیشل ویب سائٹ پر اپنے نتائج دیکھ سکتے ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی نے بدھ کے روز جماعت نہم سائنس گروپ (ریگولر اور پرائیویٹ) کے سالانہ امتحانات برائے سال 2026 کے نتائج کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ بورڈ انتظامیہ نے نتائج کی تیاری کا عمل مکمل ہونے کے بعد انہیں عوامی سطح پر جاری کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بورڈ کے چیئرمین پروفیسر مشرف علی راجپوت نے اس موقع پر امتحانات میں کامیابی حاصل کرنے والے تمام طلباء و طالبات کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی ہے۔ انہوں نے طلباء کی محنت کو سراہتے ہوئے ان کے تابناک مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ناظم امتحانات احمد خان چھ ٹو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلی اعداد و شمار کے مطابق، سال 2026 کے ان امتحانات کے لیے کل ایک لاکھ 80 ہزار 54 طلباء و طالبات نے رجسٹریشن کروائی تھی۔ بورڈ کی جانب سے امتحانی عمل کو منظم انداز میں مکمل کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اعداد و شمار کے مطابق، رجسٹرڈ ہونے والے امیدواروں میں سے ایک لاکھ 77 ہزار 923 طلباء و طالبات نے امتحانات میں باقاعدہ شرکت کی۔ اس کے برعکس، دو ہزار 131 امیدوار مختلف وجوہات کی بنا پر امتحانات میں شرکت نہ کر سکے اور غیر حاضر رہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نتائج کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، امتحانات میں کامیابی کا مجموعی تناسب 69.56 فیصد رہا ہے۔ یہ تناسب تعلیمی کارکردگی کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل سمجھا جا رہا ہے، جس سے طلباء کی تعلیمی تیاریوں کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بورڈ کے مطابق، تمام چھ پرچوں میں کامیابی حاصل کرنے والے طلباء و طالبات کی کل تعداد ایک لاکھ 23 ہزار 757 رہی ہے۔ یہ وہ امیدوار ہیں جنہوں نے اپنی تعلیمی قابلیت کا لوہا منواتے ہوئے مطلوبہ تعلیمی معیار کو کامیابی کے ساتھ عبور کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب، نتائج کے مطابق امتحانات میں ناکام رہنے والے یا مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکنے والے امیدواروں کی تعداد 53 ہزار 849 رہی ہے۔ ان طلباء کو اب اپنی تعلیمی خامیوں پر توجہ دینے اور آئندہ بہتر کارکردگی دکھانے کی ضرورت ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بورڈ انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ طلباء اپنے نتائج ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کی آفیشل ویب سائٹ www.bsek.edu.pk پر جا کر دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ پر رول نمبر درج کرنے سے طلباء کو ان کے تفصیلی نمبروں تک رسائی حاصل ہو جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کراچی میں تعلیمی بورڈ کی جانب سے نتائج کے اعلان کے بعد طلباء اور ان کے والدین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ نتائج کے حصول کے لیے طلباء کی بڑی تعداد بورڈ کی ویب سائٹ پر مصروف عمل رہی تاکہ اپنی کارکردگی جان سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تعلیمی ماہرین نے نتائج کے بعد طلباء کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی آئندہ کی تعلیمی منصوبہ بندی پر توجہ مرکوز کریں۔ ماہرین کے مطابق، نہم جماعت کے نتائج طلباء کی تعلیمی بنیاد کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بورڈ حکام نے یہ بھی بتایا ہے کہ نتائج کے حوالے سے کسی بھی قسم کی معلومات یا شکایات کے لیے طلباء بورڈ کے متعلقہ شعبہ جات سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ بورڈ کا عملہ طلباء کی رہنمائی کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کا پابند ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی آئندہ بھی تعلیمی معیار کو بہتر بنانے اور امتحانی عمل میں شفافیت لانے کے لیے اقدامات جاری رکھنے کا عزم رکھتا ہے۔ بورڈ کا مقصد طلباء کو ایک شفاف اور منصفانہ تعلیمی ماحول فراہم کرنا ہے تاکہ وہ بہتر مستقبل بنا سکیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/education/%d8%ab%d8%a7%d9%86%d9%88%db%8c-%d8%aa%d8%b9%d9%84%db%8c%d9%85%db%8c-%d8%a8%d9%88%d8%b1%da%88-%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%d9%86%db%92-%d9%86%db%81%d9%85-%d8%ac%d9%85%d8%a7%d8%b9%d8%aa/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ایف پی ایس سی کے ملتوی ٹیسٹوں کی نئی تاریخوں کا اعلان کر دیا گیا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/education/%d8%a7%db%8c%d9%81-%d9%be%db%8c-%d8%a7%db%8c%d8%b3-%d8%b3%db%8c-%da%a9%db%92-%d9%85%d9%84%d8%aa%d9%88%db%8c-%d9%b9%db%8c%d8%b3%d9%b9%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d9%86%d8%a6%db%8c/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/education/%d8%a7%db%8c%d9%81-%d9%be%db%8c-%d8%a7%db%8c%d8%b3-%d8%b3%db%8c-%da%a9%db%92-%d9%85%d9%84%d8%aa%d9%88%db%8c-%d9%b9%db%8c%d8%b3%d9%b9%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d9%86%d8%a6%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 26 Oct 2026 14:57:58 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[تعلیم]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امتحان_کی_تاریخیں]]></category>
		<category><![CDATA[امتحانات]]></category>
		<category><![CDATA[ایڈمیشن_سرٹیفکیট]]></category>
		<category><![CDATA[ایف_پی_ಎಸ್_سی_ٹیسট]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پشاور_امتحانات]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین_اپڈیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیم_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/education/%d8%a7%db%8c%d9%81-%d9%be%db%8c-%d8%a7%db%8c%d8%b3-%d8%b3%db%8c-%da%a9%db%92-%d9%85%d9%84%d8%aa%d9%88%db%8c-%d9%b9%db%8c%d8%b3%d9%b9%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d9%86%d8%a6%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے پشاور اور ڈیرہ اسماعیل خان میں ملتوی ہونے والے ٹیسٹ سات سے گیارہ نومبر تک ہوں گے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">فیڈرل پبلک سروس کمیشن یعنی ایف پی ایس سی کی جانب سے ملک کے اہم شہروں میں پہلے سے طے شدہ اور بعد میں ملتوی کیے جانے والے امتحانات کے حوالے سے نیا اور حتمی شیڈول جاری کر دیا گیا ہے جس کے تحت اب یہ تمام تحریری امتحانات آئندہ ماہ نومبر کے پہلے ہفتے میں منعقد کیے جائیں گے۔ کمیشن کے متعلقہ شعبے کی طرف سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق یہ اقدامات امیدواروں کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے گئے ہیں تاکہ انہیں امتحانات کی تیاری اور شرکت کے لیے مناسب وقت اور بہترین سہولیات فراہم کی جا سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ امر قابل ذکر ہے کہ یہ امتحانات اصل شیڈول کے مطابق رواں ماہ اکتوبر کے وسط میں منعقد ہونا تھے تاہم ملک کے بعض علاقوں میں بالخصوص پشاور اور ڈیرہ اسماعیل خان میں امن و امان کی نازک صورتحال کے باعث ادارے نے ناگزیر وجوهات کی بنا پر انہیں عارضی طور پر ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس وقت کے حالات کا تقاضا یہی تھا کہ امیدواروں اور عملے کی سکیورٹی کو یقینی بنایا جائے لہٰذا فیڈرل پبلک سروس کمیشن نے فوری طور پر امتحانات کی معطلی کا اعلان کرتے ہوئے نئی تاریخوں کا اعلان بعد میں کرنے کا عندیہ دیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اب نئے شیڈول کے مطابق جنرل ریکروٹمنٹ ٹیسٹ فیز تھری دو ہزار چھبیس کا انعقاد سات نومبر سے شروع ہو گا اور یہ سلسلہ گیارہ نومبر تک جاری رہے گا جس میں بڑی تعداد میں امیدوار شرکت کریں گے۔ پبلک سروس کمیشن کے حکام کا کہنا ہے کہ امتحانات کے لیے تمام انتظامی امور کو حتمی شکل دی جا رہی ہے تاکہ مقررہ تاریخوں پر امتحانی عمل بغیر کسی رکاوٹ اور احسن طریقے سے مکمل کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امیدواروں کی سہولت کے لیے کمیشن نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ان امتحانات کے لیے نئے ایڈمیشن سرٹیفکیٹس اور تفصیلی ٹائم ٹیبل اسی ماہ کی تیس تاریخ کو باضابطہ طور پر ادارہ جاتی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کر دیے جائیں گے۔ تمام متعلقہ افراد کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مقررہ تاریخ پر فیڈرل پبلک سروس کمیشن کی ویب سائٹ کا وزٹ کریں تاکہ وہ اپنے داخلہ سرٹیفکیٹ باآسانی ڈاؤن لوڈ کر سکیں اور امتحانی مراکز سے متعلق معلومات بروقت حاصل کر سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ امر بھی قابل غور ہے کہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن وفاقی سطح پر سرکاری ملازمتوں کے لیے انتہائی شفاف اور میرٹ پر مبنی امتحانات کا انعقاد کرتا ہے جس میں ملک بھر سے لاکھوں امیدوار حصہ لیتے ہیں۔ اس لیے امتحانات کے التوا اور پھر نئے سرے سے تاریخوں کے اعلان کے بعد امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ امیدوار اب پوری یکسوئی کے ساتھ اپنی تیاریوں کو حتمی شکل دیں گے اور مقررہ تاریخوں پر امتحانی مراکز کا رخ کریں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پشاور اور ڈیرہ اسماعیل خان کے مراکز کے لیے جاری ہونے والے اس تازہ ترین پبلک نوٹس میں تمام امیدواروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی تیاری جاری رکھیں اور کسی بھی قسم کی افواہوں پر دھیان نہ دیں۔ کمیشن کی ویب سائٹ پر تمام معلومات بروقت فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ طلباء کو امتحان کے حوالے سے کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے اور وہ مقررہ وقت پر اپنے مراکز پر پہنچ سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امتحانات کے التوا کا بنیادی سبب امن و امان کی وہ مخصوص صورتحال تھی جس نے خیبر پختونخوا کے ان دو بڑے شہروں میں معمولات زندگی کو وقتی طور پر متاثر کیا تھا اور اسی تناظر میں فیڈرل پبلک سروس کمیشن نے تمام متعلقہ اداروں سے مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا تھا۔ اب جب کہ صورتحال بہت بہتری کی طرف گامزن ہے تو کمیشن نے امتحانات کے انعقاد کے لیے سات سے گیارہ نومبر کی نئی تاریخوں کا حتمی اعلان کر دیا ہے جو خوش آئند ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جنرل ریکروٹمنٹ ٹیسٹ فیز تھری کے تحت ہونے والے ان امتحانات میں شرکت کرنے والے تمام امیدواروں کو یہ بھی یاد دلایا گیا ہے کہ وہ تیس اکتوبر کو لازمی طور پر اپنی رول نمبر سلپس یا ایڈمیشن سرٹیفکیٹس آن لائن حاصل کر لیں۔ ان دستاویزات کے بغیر کسی بھی امیدوار کو امتحانی ہال میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی اس لیے اس امر کو یقینی بنانا ہر امیدوار کی اپنی انفرادی ذمہ داری قرار دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فیڈرل پبلک سروس کمیشن کا یہ ذمے دارانہ رویہ اس بات کا غماز ہے کہ ادارہ امتحان دینے والے ہر امیدوار کی سلامتی اور سہولت کو سب سے زیادہ ترجیح دیتا ہے اور حالات جیسے بھی ہوں، میرٹ اور شفافیت کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے پرعزم رہتا ہے۔ ماضی میں بھی ایسے متعدد مواقع آئے ہیں جب ناگزیر حالات کے پیش نظر امتحانات کی تاریخوں میں ردوبدل کیا گیا اور بعد میں بہتر انتظامات کے ساتھ ٹیسٹ کامیابی سے منعقد کیے گئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امیدواروں کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ کمیشن کی ویب سائٹ کو باقاعدگی سے چیک کرتے رہیں تاکہ اگر اس دوران کوئی مزید ہدایات جاری ہوں تو ان سے بروقت آگاہی حاصل کی جا سکے۔ ترجمان کے مطابق کسی بھی قسم کی تکنیکی معاونت کے لیے بھی کمیشن کے امدادی دفاتر کام کر رہے ہیں جو امیدواروں کی رہنمائی کے لیے ہم وقت تیار رہتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پشاور اور ڈیرہ اسماعیل خان کے تمام تعلیمی حلقوں اور امیدواروں نے اس نئے شیڈول کا خیرمقدم کیا ہے کیونکہ اکتوبر کے وسط میں امتحانات ملتوی ہونے کے بعد سے امیدوار بے یقینی کا شکار تھے اور نئی تاریخوں کے منتظر تھے۔ اب جب کہ سات سے گیارہ نومبر کی تاریخیں سامنے آ چکی ہیں تو امیدواروں نے سکھ کا سانس لیا ہے اور اپنی ادھوری تیاری کو مکمل کرنے کے لیے بھرپور محنت شروع کر دی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ شیڈول اس بات کو بھی یقینی بناتا ہے کہ رواں برس کا ریکروٹمنٹ کا پورا عمل اپنے طے شدہ اہداف کے قریب تر رہے گا اور تاخیر کے باوجود اس سیزن کے تمام مراحل خوش اسلوبی سے طے پا جائیں گے۔ وفاقی سطح پر نوکریوں کے حصول کے لیے یہ امتحانات بنیادی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں جہاں کامیابی کے بعد امیدوار اگلے مراحل کے لیے کوالیفائی کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں تمام متعلقہ امیدواروں کو ایک بار پھر یہ تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ تیس اکتوبر کو ویب سائٹ سے اپنے ایڈمیشن سرٹیفکیٹ ڈاؤن لوڈ کرنے کے بعد ان پر درج تمام ہدایات کو غور سے پڑھ لیں تاکہ امتحانی دن کسی ناخوشگوار صورتحال یا ابہام کا شکار نہ ہوں اور پرامن ماحول میں اپنا پرچہ حل کر سکیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/education/%d8%a7%db%8c%d9%81-%d9%be%db%8c-%d8%a7%db%8c%d8%b3-%d8%b3%db%8c-%da%a9%db%92-%d9%85%d9%84%d8%aa%d9%88%db%8c-%d9%b9%db%8c%d8%b3%d9%b9%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d9%86%d8%a6%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>کروم بکس اور لیپ ٹاپ تعلیمی بحران کا حل نہیں: جے یو آئی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/education/%da%a9%d8%b1%d9%88%d9%85-%d8%a8%da%a9%d8%b3-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%84%db%8c%d9%be-%d9%b9%d8%a7%d9%be-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d9%82%d8%b3%db%8c%d9%85-%d8%aa%d8%b9%d9%84%db%8c%d9%85%db%8c/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/education/%da%a9%d8%b1%d9%88%d9%85-%d8%a8%da%a9%d8%b3-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%84%db%8c%d9%be-%d9%b9%d8%a7%d9%be-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d9%82%d8%b3%db%8c%d9%85-%d8%aa%d8%b9%d9%84%db%8c%d9%85%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 25 Oct 2026 13:37:35 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[تعلیم]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسکول]]></category>
		<category><![CDATA[اسلم_غوری]]></category>
		<category><![CDATA[امتحانات]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیمی_بحران]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیمی_بورڈ]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیمی_پالیسی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/education/%da%a9%d8%b1%d9%88%d9%85-%d8%a8%da%a9%d8%b3-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%84%db%8c%d9%be-%d9%b9%d8%a7%d9%be-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d9%82%d8%b3%db%8c%d9%85-%d8%aa%d8%b9%d9%84%db%8c%d9%85%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[جے یو آئی کے ترجمان اسلم غوری کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ڈھائی کروڑ سے زائد بچے تعلیم سے محروم ہیں اور حکومت کی تعلیمی ترجیحات سوالیہ نشان ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) نے ملک میں درپیش تعلیمی بحران پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے طلبہ میں کروم بکس اور لیپ ٹاپ کی تقسیم کو غیر مؤثر قرار دیا ہے۔ ترجمان کے مطابق تعلیمی مسائل کا حل ہنگامی بنیادوں پر پائیدار پالیسی سازی میں مضمر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جے یو آئی کے ترجمان اسلم غوری کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں اس وقت تعلیمی صورتحال انتہائی تشویشناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ لیپ ٹاپس اور ڈیوائسز بانٹنا اس سنگین بحران کا حقیقی یا دیرپا حل نہیں ہو سکتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترجمان کے مطابق اس وقت ملک بھر میں ڈھائی کروڑ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر ہیں اور وہ بنیادی تعلیم کی سہولت سے مکمل طور پر محروم ہیں۔ اس اعداد و شمار کے ساتھ پاکستان اسکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد کے لحاظ سے دنیا میں سر فہرست بن چکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسلم غوری نے اپنے بیان میں زور دیا کہ تعلیمی بحران کے دیرپا اور پائیدار حل کے لیے ایک جامع اور مؤثر پالیسی کی تشکیل وقت کا سب سے اہم تقاضا ہے۔ صرف ڈیوائسز اور چند ہزار روپے کے پیکیج کی تقسیم سے اس نوعیت کے عظیم قومی المیے پر قابو پانا ممکن نہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جے یو آئی کے ترجمان نے موجودہ حکومت کی تعلیمی ترجیحات اور پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں سوالیہ نشان قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے تعلیمی نظام میں بنیادی نوعیت کی اصلاحات کے بغیر ترقی و خوشحالی کی جانب قدم بڑھانا ناگزیر حد تک ناممکن ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترجمان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ شہریوں اور ان کے بچوں کو تعلیمی سہولیات کی فراہمی حکومت کا کوئی احسان یا رعایت نہیں ہے۔ تعلیم کا حصول ملک کے ہر بچے کا بنیادی اور آئینی حق ہے جسے فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کے تعلیمی شعبے میں موجود طبقاتی تفریق کو ختم کیے بغیر ملک میں حقیقی معنوں میں کوئی پیشرفت یا ترقی ممکن نہیں۔ تعلیمی نظام میں امیر اور غریب کے لیے موجود واضح فرق نے معاشرتی توازن کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">طبقاتی تفریق کی وضاحت کرتے ہوئے اسلم غوری نے کہا کہ ایک طرف اشرافیہ کے بچوں کے لیے قائم اسکولوں میں فائیو اسٹار سہولیات میسر کی گئی ہیں۔ وہاں ہر طرح کی جدید اور آسائش سے آراستہ سہولیات فراہم کی جاتی ہیں تاکہ ان کے بچوں کو بہترین ماحول ملے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب غریب عوام کے بچوں کے لیے قائم کیے گئے سرکاری یا عام اسکولوں کی حالت یہ ہے کہ وہاں واش رومز جیسی بنیادی ضرورت تک میسر نہیں ہے۔ ترجمان کے مطابق یہ تضاد حکمرانوں کی تعلیمی ترجیحات کا پول کھولنے کے لیے کافی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کروم بکس اور لیپ ٹاپ حاصل کرنے والے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے ترجمان نے ایک تلخ حقیقت کی جانب توجہ مبذول کرائی۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کو معلوم ہونا چاہیے کہ جن ہاتھوں نے انہیں چند ہزار روپے کی ڈیوائسز دی ہیں، انہی کی پالیسیوں کی وجہ سے ہر پاکستانی بچہ مقروض ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسلم غوری نے کہا کہ موجودہ حکمرانوں اور پالیسی سازوں کے اقدامات کے باعث ملک کا ہر پیدا ہونے والا بچہ لاکھوں روپے کا مقروض ہو جاتا ہے۔ طلبہ کو اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ ملنے والی ڈیوائسز کے پیچھے ملک پر چڑھائے گئے قرضوں کا کتنا بڑا بوجھ موجود ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترجمان جے یو آئی نے بیرون ملک منتقل ہونے والے ہونہار اور ذہین نوجوانوں کے معاملے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان بچوں کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ موجودہ حکمرانوں کی پالیسیوں ہی کے باعث ہر سال لاکھوں ذہین دماغ بیرون ملک چلے جاتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسلم غوری کا کہنا تھا کہ ملک کے لاکھوں صلاحیت مند نوجوان اپنا اور اپنے خاندانوں کا پیٹ پالنے کی خاطر مجبوراً دیارِ غیر کا رخ کرتے ہیں۔ اگر ملک کے اندر مناسب روزگار اور تعلیمی نظام موجود ہوتا تو یہ ذہین طبقہ اپنے ملک کی خدمت کو ترجیح دیتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان میں تعلیم کے شعبے کو طویل عرصے سے مختلف چیلنجز کا سامنا رہا ہے، جن میں بجٹ کی کمی اور اسکولوں کی غیر تسلی بخش صورتحال شامل ہے۔ مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتیں اکثر و بیشتر ان مسائل پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتی رہی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی اور صوبائی سطح پر حکومتیں طلبہ میں لیپ ٹاپس اور کروم بکس کی تقسیم کے مختلف منصوبے چلاتی رہی ہیں جن کا مقصد طلبہ کو جدید معلومات سے آراستہ کرنا بتایا جاتا ہے۔ تاہم اپوزیشن جماعتوں کا موقف ہے کہ بنیادی تعلیمی ڈھانچے کی بہتری کے بغیر ایسے منصوبے بے سود ثابت ہوتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/education/%da%a9%d8%b1%d9%88%d9%85-%d8%a8%da%a9%d8%b3-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%84%db%8c%d9%be-%d9%b9%d8%a7%d9%be-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d9%82%d8%b3%db%8c%d9%85-%d8%aa%d8%b9%d9%84%db%8c%d9%85%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>وزیراعظم شہباز شریف کا سکول و مدارس کے 5 لاکھ طلبہ میں کروم بکس تقسیم کرنے کا آغاز</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/education/%d9%88%d8%b2%db%8c%d8%b1%d8%a7%d8%b9%d8%b8%d9%85-%d8%b4%db%81%d8%a8%d8%a7%d8%b2-%d8%b4%d8%b1%db%8c%d9%81-%da%a9%d8%a7-%d8%b3%da%a9%d9%88%d9%84-%d9%88-%d9%85%d8%af%d8%a7%d8%b1%d8%b3/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/education/%d9%88%d8%b2%db%8c%d8%b1%d8%a7%d8%b9%d8%b8%d9%85-%d8%b4%db%81%d8%a8%d8%a7%d8%b2-%d8%b4%d8%b1%db%8c%d9%81-%da%a9%d8%a7-%d8%b3%da%a9%d9%88%d9%84-%d9%88-%d9%85%d8%af%d8%a7%d8%b1%d8%b3/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 25 Oct 2026 10:17:55 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[تعلیم]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امتحانات]]></category>
		<category><![CDATA[امریکہ]]></category>
		<category><![CDATA[انٹرنیٹ_سہولت]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_کرکٹ]]></category>
		<category><![CDATA[تازه_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[دانش_اسکول]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیجیٹل_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/education/%d9%88%d8%b2%db%8c%d8%b1%d8%a7%d8%b9%d8%b8%d9%85-%d8%b4%db%81%d8%a8%d8%a7%d8%b2-%d8%b4%d8%b1%db%8c%d9%81-%da%a9%d8%a7-%d8%b3%da%a9%d9%88%d9%84-%d9%88-%d9%85%d8%af%d8%a7%d8%b1%d8%b3/</guid>

					<description><![CDATA[وزیراعظم نے کہا کہ طلبہ کو جدید ٹیکنالوجی فراہم کرنے کا مقصد انہیں عالمی سطح پر مقابلے کے قابل بنانا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے ملک بھر کے سکولوں اور دینی مدارس کے پانچ لاکھ ہونہار طلبہ میں کروم بکس اور انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کرنے کے باضابطہ عمل کا افتتاح کر دیا۔ اس تقریب میں ملک کے نونہالان اور نوجوان نسل کو جدید ترین ڈیجیٹل وسائل سے لیس کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان بھر کے قابل اور محنتی بچوں کو بااختیار بنانے کے ایک نئے اور عظیم سفر کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ باصلاحیت بیٹے اور بیٹیاں ہی اس ملک کا اصل اور حقیقی سرمایہ ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعظم نے وضاحت کی کہ طلبہ اور طالبات میں تقسیم کی جانے والی یہ کروم بکس مکمل طور پر میرٹ اور شفاف قابلیت کی بنیاد پر دی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی قائد محمد نواز شریف کی قیادت میں ملک بھر کے اندر میرٹ پر چھ لاکھ لیپ ٹاپ تقسیم کیے گئے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس جدید اسکیم کے تحت ہر مستحق طالب علم کو کروم بک کے ساتھ ایک معیاری سکول بیگ اور تیز رفتار انٹرنیٹ ڈیوائس کی سہولت بھی مہیا کی جا رہی ہے۔ ان اقدامات کا بنیادی مقصد نوجوانوں کو دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ طلبا کو یہ ٹیکنالوجی اس لیے دی جا رہی ہے تاکہ وہ ترقی کی اس دوڑ میں کسی بھی طرح پیچھے نہ رہ جائیں۔ ان کا ماننا تھا کہ ذہانت اور قابلیت کو کبھی بھی غربت یا امارت کی قید میں نہیں ہونا چاہئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کا یہ اہم اقدام طلبہ کو عالمی سطح پر دیگر ممالک کے طلبا کے ساتھ مقابلے کے قابل بنانے کی ایک کڑی ہے۔ ڈیجیٹل سہولیات کی فراہمی سے نوجوان گھر بیٹھے معیاری آن لائن تعلیم اور ڈیجیٹل کتب خانوں سے استفاده حاصل کر سکیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعظم نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ دس برسوں کے دوران طلبہ کو میرٹ پر چھ لاکھ لیپ ٹاپ فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اب آئندہ دو سال کے قلیل عرصے کے اندر اندر پانچ لاکھ کروم بکس میرٹ پر شفاف طریقے سے تقسیم کی جائیں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے اس موقع پر ٹوکیو ٹیکنالوجی کیئر فاؤنڈیشن کے اس شاندار اقدام کو بھرپور خراج تحسین پیش کیا۔ بیرون ملک مقبوضہ پاکستانیوں نے ملک کے بچوں کی تعلیم اور ڈیجیٹل صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے فنڈز عطیہ کیے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سمندر پار پاکستانی نوجوانوں کو ملک کا حقیقی سرمایہ اور مستقبل کے معمار قرار دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ان کی یہ خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے تعلیمی شعبے میں تعاون قابل ستائش ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے دانش سکولوں کے نظام کو بھی ملک بھر میں وسعت دی جا رہی ہے جہاں رہائش اور کھانے کی بہترین سہولیات دی جا رہی ہیں۔ ان دانش سکولوں میں طلبہ کو معیاری تعلیم کے ساتھ سمارٹ بورڈز اور ای لائبریریز کی سہولت بھی حاصل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعظم نے بتایا کہ دانش سکولوں میں تمام تعلیمی سہولیات بالکل مفت فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ غریب گھرانوں کے بچے بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکیں۔ اس وقت ملک بھر میں ستائیس دانش اسکول زیر تعمیری مراحل میں ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت نے یہ بھی واضح کیا کہ ملک بھر کے دینی مدارس کے طلبہ کو بھی ماضی کی لیپ ٹاپ اسکیموں میں شامل کیا گیا تھا۔ یہ جدید کروم بکس اعلیٰ تعلیم کے حصول کے ساتھ ساتھ باوقار روزگار کمانے کا ذریعہ بھی ثابت ہوں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ کورونا وباء کے دوران لیپ ٹاپ سکیم نے طلبہ کی تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اس بحران کے وقت ڈیجیٹل آلات کی مدد سے طلبہ نے اپنی پڑھائی کو بغیر کسی تعطل کے جاری رکھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں وزیراعظم نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ دل لگا کر تعلیم حاصل کریں کیونکہ تعلیم ہی وہ واحد زیور ہے جو انسان کو معاشرے میں ایک ممتاز مقام دلاتا ہے۔ انہوں نے طلبہ کو تلقین کی کہ وہ ملک و قوم کی ترقی کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کریں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/education/%d9%88%d8%b2%db%8c%d8%b1%d8%a7%d8%b9%d8%b8%d9%85-%d8%b4%db%81%d8%a8%d8%a7%d8%b2-%d8%b4%d8%b1%db%8c%d9%81-%da%a9%d8%a7-%d8%b3%da%a9%d9%88%d9%84-%d9%88-%d9%85%d8%af%d8%a7%d8%b1%d8%b3/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ایک لاکھ الیکٹرک بائیکس کی فراہمی، کمپنیوں سے درخواستیں طلب</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/education/%d8%a7%db%8c%da%a9-%d9%84%d8%a7%da%a9%da%be-%d8%a7%d9%84%db%8c%da%a9%d9%b9%d8%b1%da%a9-%d8%a8%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%a9%d8%b3-%da%a9%db%8c-%d9%81%d8%b1%d8%a7%db%81%d9%85%db%8c/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/education/%d8%a7%db%8c%da%a9-%d9%84%d8%a7%da%a9%da%be-%d8%a7%d9%84%db%8c%da%a9%d9%b9%d8%b1%da%a9-%d8%a8%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%a9%d8%b3-%da%a9%db%8c-%d9%81%d8%b1%d8%a7%db%81%d9%85%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 25 Oct 2026 08:36:32 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[تعلیم]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[الیکٹرک_بائیکس]]></category>
		<category><![CDATA[امتحانات]]></category>
		<category><![CDATA[انجینئرنگ_ڈیولپমেন্ট_بورڈ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_بزنس]]></category>
		<category><![CDATA[پی_پی_آر_اے]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیمی_بورڈ]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی_بچت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/education/%d8%a7%db%8c%da%a9-%d9%84%d8%a7%da%a9%da%be-%d8%a7%d9%84%db%8c%da%a9%d9%b9%d8%b1%da%a9-%d8%a8%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%a9%d8%b3-%da%a9%db%8c-%d9%81%d8%b1%d8%a7%db%81%d9%85%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[ملک میں الیکٹرک بائیکس کے فروغ کے منصوبے کے تحت شہریوں کو اسی ہزار روپے تک سبسڈی دینے کی تجویز زیر غور ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) ملک بھر میں ماحول دوست اور ماحول کی بہتری کے لیے الیکٹرک بائیکس کے استعمال کو عام کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں ایک جامع منصوبہ تشکیل دے دیا گیا ہے جس کے تحت ملک کے مختلف شہروں میں الیکٹرک موٹر سائیکلیں فراہم کی جائیں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">منصوبے کے مطابق مقررہ مدت کے اندر اندر شہریوں کو الیکٹرک بائیکس مہیا کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ حکومتی سطح پر یہ اقدام عوامی سطح پر ایندھن کے بڑھتے ہوئے اخراجات کو کم کرنے اور سموگ پر قابو پانے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ کی جانب سے اس اہم ترین منصوبے پر عملدرآمد کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے ملک کی نامور مینوفیکچرنگ اور اسمبلنگ کمپنیوں سے باقاعدہ طور پر درخواستیں طلب کی گئی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">منصوبے کی تفصیلات کے مطابق ایک لاکھ الیکٹرک بائیکس کی فراہمی کا یہ منصوبہ انتہائی منظم انداز میں مکمل کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے کل دو سو بیچز تشکیل دیے جائیں گے جن میں ہر بیچ پانچ سو بائیکس پر مشتمل ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کمپنیوں کے انتخاب کے لیے شفاف مسابقتی بولی کا طریقہ کار اپنایا جائے گا۔ اس مسابقتی عمل کے ذریعے بہترین معیار اور مناسب قیمت پیش کرنے والی کمپنیوں کو اس بڑے عوامی منصوبے کا حصہ بنایا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس سارے عمل کا ایک اہم مقصد ملکی سطح پر مقامی صنعت کو فروغ دینا بھی ہے۔ مقامی سطح پر الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری سے نہ صرف روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ تکنیکی مہارت میں بھی اضافہ ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">منصوبے کے تحت الیکٹرک موٹر سائیکلیں خریدنے والے عام شہریوں کو خصوصی مالیاتی ریلیف دینے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ ذرائع کے مطابق بائیک خریدنے پر خریداروں کو اسی ہزار روپے تک کی نمایاں سبسڈی دی جا سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">درخواستیں جمع کرانے کے لیے حتمی تاریخ تین نومبر دو ہزار چھبیس مقرر کی گئی ہے۔ خواہشمند اور اہل کمپنیاں اس تاریخ کو صبح گیارہ بجے تک اپنی تجاویز جمع کرا سکتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ تمام تر درخواستیں پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے سرکاری ای پورٹل پر آن لائن جمع کرائی جائیں گی۔ اس ڈیجیٹل نظام سے تمام کارروائی میں شفافیت کو یقینی بنایا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">درخواست دینے کے عمل کے لیے پانچ ہزار روپے فیس مقرر کی گئی ہے جو کہ ناقابلِ واپسی ہوگی۔ یہ فیس تمام شرائط و ضوابط کے مطابق متعلقہ اکاؤنٹ میں جمع کرانا لازمی ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ نے واضح کیا ہے کہ وہ کمپنیاں جو اس سے پہلے ہی باقاعدہ طور پر اہل قرار دی جا چکی ہیں، انہیں دوبارہ درخواست جمع کرانے کی ضرورت نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حالیہ برسوں میں ملک کے بڑے شہروں میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث دو پہیوں کی سواری کے لیے الیکٹرک بائیکس کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس نوعیت کے منصوبے ٹرانسپورٹ کے شعبے میں انقلاب برپا کر دیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متعلقہ اداروں کی جانب سے اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ فراہم کی جانے والی الیکٹرک بائیکس پائیدار ہوں اور ملکی سڑکوں کی صورتحال کے مطابق بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس منصوبے سے نہ صرف عام آدمی کو روزمرہ کے آمدورفت کے اخراجات میں خاطر خواہ کمی ملے گی بلکہ قومی سطح پر درآمدی ایندھن پر انحصار بھی کم ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ مقررہ تاریخ تک نامور کمپنیاں اس عمل کا حصہ بنیں گی جس کے بعد جلد ہی بائیکس کی فراہمی اور سبسڈی کے حتمی مراحل کا آغاز کر دیا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/education/%d8%a7%db%8c%da%a9-%d9%84%d8%a7%da%a9%da%be-%d8%a7%d9%84%db%8c%da%a9%d9%b9%d8%b1%da%a9-%d8%a8%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%a9%d8%b3-%da%a9%db%8c-%d9%81%d8%b1%d8%a7%db%81%d9%85%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>گجرانوالہ بورڈ: بینائی سے محروم طالبہ زینت کی گیارہویں جماعت کے امتحان میں شاندار کامیابی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/education/%da%af%d8%ac%d8%b1%d8%a7%d9%86%d9%88%d8%a7%d9%84%db%81-%d8%a8%d9%88%d8%b1%da%88-%d8%a8%db%8c%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d8%b3%db%92-%d9%85%d8%ad%d8%b1%d9%88%d9%85/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/education/%da%af%d8%ac%d8%b1%d8%a7%d9%86%d9%88%d8%a7%d9%84%db%81-%d8%a8%d9%88%d8%b1%da%88-%d8%a8%db%8c%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d8%b3%db%92-%d9%85%d8%ad%d8%b1%d9%88%d9%85/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 17:37:44 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[تعلیم]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امتحانات]]></category>
		<category><![CDATA[بورڈ_امتحانات]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیمی_بورڈ]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیمی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[خصوصی_بچے]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[زینت]]></category>
		<category><![CDATA[طالبہ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/education/%da%af%d8%ac%d8%b1%d8%a7%d9%86%d9%88%d8%a7%d9%84%db%81-%d8%a8%d9%88%d8%b1%da%88-%d8%a8%db%8c%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d8%b3%db%92-%d9%85%d8%ad%d8%b1%d9%88%d9%85/</guid>

					<description><![CDATA[گجرانوالہ سے تعلق رکھنے والی باہمت طالبہ نے محدود وسائل کے باوجود 600 میں سے 552 نمبر حاصل کر کے اپنی ذہانت کا لوہا منوا لیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">تعلیم کے میدان میں عزم و ہمت کی ایک نئی مثال قائم کرتے ہوئے گجرانوالہ بورڈ کے گیارہویں جماعت کے سالانہ امتحانات میں بینائی سے محروم طالبہ زینت نے نمایاں پوزیشن حاصل کر لی ہے۔ اس ہونہار طالبہ نے ثابت کر دیا ہے کہ اگر انسان میں کچھ کر گزرنے کا جذبہ ہو تو جسمانی معذوری کامیابی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موصولہ اطلاعات کے مطابق زینت نے گیارہویں جماعت کے امتحانات میں 600 میں سے 552 نمبر حاصل کیے۔ زینت کا تعلق ایک متوسط گھرانے سے ہے اور ان کے والد ایک نجی کمپنی میں ملازمت کرتے ہیں۔ محدود مالی وسائل کے باوجود زینت نے اپنی محنت اور لگن سے یہ مقام حاصل کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قابل ذکر بات یہ ہے کہ گجرانوالہ میں بینائی سے محروم بچوں کے لیے مڈل تک ہی تعلیمی سہولیات دستیاب ہیں، جبکہ ہائی سکول یا کالج کی سطح پر خصوصی تعلیمی اداروں کا فقدان ہے۔ اس مشکل صورتحال کے باوجود زینت نے ہمت نہیں ہاری اور ایک سرکاری کالج میں عام طالبات کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">زینت کی اس کامیابی نے نہ صرف ان کے والدین بلکہ پورے علاقے کے لیے فخر کا باعث بننے کے ساتھ ساتھ دیگر طالب علموں کے لیے بھی ایک مثال قائم کی ہے۔ زینت کا کہنا ہے کہ وہ اپنی تعلیم کا سفر اسی عزم کے ساتھ جاری رکھیں گی اور اگلے سال بھی بورڈ امتحانات میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کریں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اپنی گفتگو میں زینت نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ مستقبل میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے کسی اہم سرکاری عہدے پر فائز ہونا چاہتی ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ تعلیم ہی وہ واحد راستہ ہے جس کے ذریعے وہ اپنے خوابوں کو حقیقت کا روپ دے سکتی ہیں اور ملک و قوم کی خدمت کر سکتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">زینت کی اس کامیابی پر تعلیمی حلقوں میں انہیں سراہا جا رہا ہے اور ان کی ہمت کی داد دی جا رہی ہے۔ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ زینت جیسے باصلاحیت طلبا کو اگر مناسب سہولیات اور حوصلہ افزائی ملے تو وہ ملک کا نام روشن کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گجرانوالہ بورڈ کے نتائج میں زینت کی یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ ذہانت کسی کی محتاج نہیں ہوتی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشرے میں ایسے باہمت نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ وہ اپنے مقاصد کے حصول میں مزید بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">زینت کے والدین نے اپنی بیٹی کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنی بیٹی پر فخر ہے جس نے تمام تر مشکلات کے باوجود ہمت نہیں ہاری۔ انہوں نے کہا کہ زینت کی کامیابی ان کی اپنی انتھک محنت اور اللہ تعالیٰ کے فضل کا نتیجہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تعلیمی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ زینت جیسے طلبا کے لیے خصوصی تعلیمی اداروں میں مزید سہولیات فراہم کی جانی چاہئیں تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو مزید نکھار سکیں۔ اس طرح کے اقدامات سے معاشرے میں تعلیم کے فروغ میں مدد ملے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">زینت کا عزم ہے کہ وہ اپنی تعلیم جاری رکھیں گی اور گولڈ میڈل حاصل کرنے کا ہدف پورا کریں گی۔ ان کی کہانی ان تمام لوگوں کے لیے مشعل راہ ہے جو زندگی میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں لیکن کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گجرانوالہ کے شہریوں اور تعلیمی حلقوں نے زینت کی اس شاندار کامیابی پر انہیں مبارکباد پیش کی ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ زینت کی یہ کامیابی دیگر طالب علموں کے لیے بھی تحریک کا باعث بنے گی اور وہ بھی تعلیم کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">زینت کی کامیابی نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ اگر تعلیمی اداروں میں مناسب سہولیات فراہم کی جائیں تو خصوصی بچوں کی صلاحیتوں کو بہتر طریقے سے اجاگر کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک ایسا پہلو ہے جس پر حکومتی سطح پر مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں، زینت نے اپنے اساتذہ اور والدین کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کی ہر قدم پر رہنمائی کی۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی کامیابی میں ان کے اساتذہ کی محنت کا بھی بڑا حصہ ہے جنہوں نے انہیں بہترین تعلیمی ماحول فراہم کیا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/education/%da%af%d8%ac%d8%b1%d8%a7%d9%86%d9%88%d8%a7%d9%84%db%81-%d8%a8%d9%88%d8%b1%da%88-%d8%a8%db%8c%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c-%d8%b3%db%92-%d9%85%d8%ad%d8%b1%d9%88%d9%85/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>وزیراعظم کروم بک اسکیم 2026: طلبا کے لیے اہلیت اور اپلائی کرنے کا طریقہ کار جاری</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/education/%d9%88%d8%b2%db%8c%d8%b1%d8%a7%d8%b9%d8%b8%d9%85-%da%a9%d8%b1%d9%88%d9%85-%d8%a8%da%a9-%d8%a7%d8%b3%da%a9%db%8c%d9%85-2026-%d8%b7%d9%84%d8%a8%d8%a7-%da%a9%db%92-%d9%84%db%8c%db%92/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/education/%d9%88%d8%b2%db%8c%d8%b1%d8%a7%d8%b9%d8%b8%d9%85-%da%a9%d8%b1%d9%88%d9%85-%d8%a8%da%a9-%d8%a7%d8%b3%da%a9%db%8c%d9%85-2026-%d8%b7%d9%84%d8%a8%d8%a7-%da%a9%db%92-%d9%84%db%8c%db%92/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 12:38:21 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[تعلیم]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[امتحانات]]></category>
		<category><![CDATA[انٹر_بورڈز_کوارڈینیشن_کمیشن]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_تعلیم]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیم_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیمی_بورڈز]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/education/%d9%88%d8%b2%db%8c%d8%b1%d8%a7%d8%b9%d8%b8%d9%85-%da%a9%d8%b1%d9%88%d9%85-%d8%a8%da%a9-%d8%a7%d8%b3%da%a9%db%8c%d9%85-2026-%d8%b7%d9%84%d8%a8%d8%a7-%da%a9%db%92-%d9%84%db%8c%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[ملک بھر کے ہونہار طلبا کو ڈیجیٹل وسائل فراہم کرنے کے لیے وزیراعظم کروم بک اسکیم کا آغاز کر دیا گیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وزیراعظم یوتھ پروگرام کے تحت ملک بھر کے ذہین اور ہونہار طلبا کے لیے ایک انتہائی اہم تعلیمی اقدام کے طور پر وزیراعظم کروم بک اسکیم 2026 شروع کرنے کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ اس جدید ڈیجیٹل منصوبے کا بنیادی مقصد نوجوان نسل کو جدید تعلیمی وسائل، آن لائن ریسرچ اور ڈیجیٹل دنیا سے ہم آہنگ کرنا ہے تاکہ وہ تعلیمی میدان میں مزید بہتر کارکردگی دکھا سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے اس فلاحی اسکیم کے تحت ملک کے مختلف تعلیمی بورڈز کے تعاون سے پانچ لاکھ گوگل کروم بکس تقسیم کیے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ ڈیوائسز شفاف انداز میں ملک کے طول و عرض میں موجود مستحق اور نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبا میں تقسیم کی جائیں گی تاکہ ان کی تعلیمی صلاحیتوں کو نکھارا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسکیم کے لیے مرتب کردہ قواعد و ضوابط کے مطابق اہلیت کا معیار تمام صوبوں اور علاقوں کے لحاظ سے انتہائی منصفانہ انداز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سرکاری اور پبلک اسکولوں کے نویں جماعت کے وہ نمایاں طلبا اس کے اہل ہوں گے جنہوں نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے علاقوں کے لیے اہلیت کا دائرہ کار تھوڑا وسیع رکھا گیا ہے جہاں نویں اور دسویں جماعت دونوں کے ٹاپ پرفارمنگ اور نمایاں پوزیشن ہولڈر طلبا اس اسکیم میں شامل ہونے کے حقدار قرار دیے گئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">طلبا کی آسانی کے لیے انٹر بورڈز کوآرڈینیشن کمیشن کے تحت ایک مخصوص ڈیجیٹل پورٹل قائم کر دیا گیا ہے جس کا ایڈریس pmychromebooks.ibcc.edu.pk رکھا گیا ہے۔ اس آن لائن پورٹل پر جا کر طلبا اپنا تعلیمی ریکارڈ چیک کرنے کے ساتھ ساتھ درخواست دینے کا عمل بھی مکمل کر سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آن لائن پورٹل پر اپلائی کرنے کا طریقہ کار انتہائی آسان بنایا گیا ہے تاکہ کسی بھی طالب علم کو زحمت کا سامنا نہ ہو۔ سب سے پہلے سرکاری ویب سائٹ پر جا کر اسٹوڈنٹ ریکارڈ سرچ یا اپلائی کے سیکشن کا انتخاب کرنا ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کے بعد طالب علم کو اپنے متعلقہ تعلیمی بورڈ کا انتخاب کرنا ہوگا جس کے تحت اس نے اپنا امتحان پاس کیا تھا تاکہ سسٹم اس کا ڈیٹا درست طریقے سے تلاش کر سکے۔ بورڈ کے انتخاب کے بعد طالب علم کو اپنا درست ب فارم یا شناختی کارڈ نمبر درج کرنا ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شناختی کارڈ یا ب فارم کے علاوہ رول نمبر یا رجسٹریشن نمبر بھی درج کرنا ضروری ہے تاکہ شناخت کا عمل مکمل ہو سکے۔ اس کے بعد سرکاری تعلیمی دستاویزات اور داخلہ فارم کے مطابق اپنی درست تاریخ پیدائش درج کرنا ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تمام مطلوبہ معلومات درج کرنے کے بعد فائنڈ مائی ریکارڈ کے بٹن پر کلک کرنا ہوگا جس سے طالب علم کو اپنا نام، اسکول کا نام اور دیگر کوائف اسکرین پر نظر آئیں گے۔ ان تمام معلومات کی تصدیق کرنے کے بعد طالب علم اگلی منزل کی طرف بڑھ سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہی نہیں بلکہ حکام کی جانب سے یہ نکتہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ پورٹل پر محض ریکارڈ مل جانا یا نام ظاہر ہو جانا کروم بک کی حتمی فراہمی کی کوئی ضمانت نہیں ہے بلکہ اس کے لیے حتمی جانچ پڑتال کی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">درخواست کے عمل کو مکمل کرنے کے لیے طلبا کو چند ضروری دستاویزات بھی ڈیجیٹل فارمیٹ میں اپ لوڈ کرنا ہوں گی جن کے بغیر عمل ادھورا تصور ہوگا۔ ان تمام دستاویزات کی فائل کا سائز تین سو کلو بائٹس سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے تاکہ پورٹل پر بوجھ نہ پڑے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اپ لوڈ کی جانے والی دستاویزات میں طالب علم کی تازہ ترین پاسپورٹ سائز رنگین تصویر شامل ہے جو جے پی جی یا پی این جی فارمیٹ میں ہونی چاہیے۔ اس کے علاوہ میٹرک کی مارک شیٹ بھی لازمی جزو قرار دی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">طالب علم کے ب فارم یا شناختی کارڈ کی مصدقہ کاپی بھی اس ڈیجیٹل درخواست کا حصہ ہوگی۔ اس کے علاوہ والد یا قانونی سرپرست کے قومی شناختی کارڈ کی مصدقہ کاپی بھی جمع کروانا لازمی قرار دی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت اور متعلقہ تعلیمی اداروں کا یہ اقدام ملک میں ڈیجیٹل تعلیم کے فروغ اور غریب و ہونہار طلبا کی حوصلہ افزائی کی جانب ایک تاریخی قدم ثابت ہوگا، جس سے طلبا کو جدید ٹیکنالوجی تک رسائی ملے گی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/education/%d9%88%d8%b2%db%8c%d8%b1%d8%a7%d8%b9%d8%b8%d9%85-%da%a9%d8%b1%d9%88%d9%85-%d8%a8%da%a9-%d8%a7%d8%b3%da%a9%db%8c%d9%85-2026-%d8%b7%d9%84%d8%a8%d8%a7-%da%a9%db%92-%d9%84%db%8c%db%92/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پاکستان بیت المال کا فاٹا یونیورسٹی کے 50 مستحق طلبہ کو اسکالرشپ دینے کا فیصلہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/education/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%a8%db%8c%d8%aa-%d8%a7%d9%84%d9%85%d8%a7%d9%84-%da%a9%d8%a7-%d9%81%d8%a7%d9%b9%d8%a7-%db%8c%d9%88%d9%86%db%8c%d9%88%d8%b1%d8%b3%d9%b9%db%8c/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/education/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%a8%db%8c%d8%aa-%d8%a7%d9%84%d9%85%d8%a7%d9%84-%da%a9%d8%a7-%d9%81%d8%a7%d9%b9%d8%a7-%db%8c%d9%88%d9%86%db%8c%d9%88%d8%b1%d8%b3%d9%b9%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Oct 2026 07:56:40 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[تعلیم]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسکالرشپ]]></category>
		<category><![CDATA[اسکول]]></category>
		<category><![CDATA[امتحانات]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_بیت_المال]]></category>
		<category><![CDATA[پشاور]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیمی_بورڈ]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیمی_معاہدہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/education/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%a8%db%8c%d8%aa-%d8%a7%d9%84%d9%85%d8%a7%d9%84-%da%a9%d8%a7-%d9%81%d8%a7%d9%b9%d8%a7-%db%8c%d9%88%d9%86%db%8c%d9%88%d8%b1%d8%b3%d9%b9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[پاکستان بیت المال اور فاٹا یونیورسٹی کے درمیان تعلیمی تعاون کا معاہدہ طے پا گیا جس سے طلبہ کو مالی معاونت ملے گی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پشاور میں پاکستان بیت المال اور فاٹا یونیورسٹی کے مابین ایک اہم تعلیمی معاہدہ طے پایا ہے، جس کا مقصد یونیورسٹی کے مستحق طلبہ کو مالی مشکلات سے نکال کر ان کی تعلیم کا تسلسل یقینی بنانا ہے۔ اس اقدام کے تحت 50 ضرورت مند طلبہ کو اسکالرشپس فراہم کی جائیں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس سلسلے میں پاکستان بیت المال خیبر پختونخوا کے ڈائریکٹر ڈاکٹر لعل بادشاہ نے فاٹا یونیورسٹی کا خصوصی دورہ کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محسن نواز سے ملاقات کی، جس میں تعلیمی تعاون کے فروغ کے لیے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات کے دوران دونوں اداروں کے حکام نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مستحق طلبہ کو تعلیمی اخراجات کی ادائیگی میں درپیش مشکلات کو دور کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں کی جائیں گی۔ اس تعاون کو باضابطہ شکل دینے کے لیے جلد ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے جائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محسن نواز نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مالی تنگی کسی بھی باصلاحیت طالب علم کی تعلیمی راہ میں رکاوٹ نہیں بننی چاہیے۔ انہوں نے پاکستان بیت المال کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے اسے طلبہ کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم قرار دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پروفیسر ڈاکٹر محسن نواز کا مزید کہنا تھا کہ یونیورسٹی انتظامیہ اپنے طلبہ کو معیاری تعلیم کی فراہمی اور سہولیات کی بہتری کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اسکالرشپس ملنے سے طلبہ بغیر کسی ذہنی دباؤ کے اپنی تعلیم پر توجہ مرکوز کر سکیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان بیت المال کے حکام نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ تعلیمی میدان میں مستحق افراد کی مدد کے لیے پرعزم ہیں۔ یہ اسکالرشپس ان طلبہ کے لیے ایک بڑی ریلیف ثابت ہوں گی جو مالی وسائل کی کمی کے باعث اپنی اعلیٰ تعلیم جاری رکھنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس اہم ملاقات میں دونوں اداروں کے انتظامی افسران کے علاوہ زرعی یونیورسٹی پشاور کے ڈائریکٹر اسپورٹس محمد بلال مروت بھی موجود تھے۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے سرکاری اور فلاحی اداروں کا باہمی تعاون ناگزیر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فاٹا یونیورسٹی کے طلبہ نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور اسے اپنے تعلیمی کیریئر کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔ یہ اسکالرشپس نہ صرف طلبہ کی مالی معاونت کریں گی بلکہ انہیں معاشرے کا مفید شہری بننے میں بھی مدد فراہم کریں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان بیت المال خیبر پختونخوا کی جانب سے یہ اقدام صوبے میں تعلیمی سہولیات کی فراہمی کے وسیع تر نیٹ ورک کا حصہ ہے۔ اس طرح کے پروگراموں سے غریب اور پسماندہ علاقوں کے طلبہ کو اپنے خوابوں کی تکمیل کے لیے مساوی مواقع میسر آتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یونیورسٹی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ اسکالرشپس کے لیے شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ صرف حق دار طلبہ ہی اس سہولت سے مستفید ہو سکیں۔ اس مقصد کے لیے جلد ہی درخواستوں اور انتخاب کا عمل مکمل کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل میں بھی اس طرح کے تعاون کو بڑھانے کا عندیہ دیا گیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ طلبہ کو اسکالرشپس کے دائرہ کار میں لایا جا سکے۔ فاٹا یونیورسٹی انتظامیہ نے اپنے تمام طلبہ کو تعلیمی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لینے کی تلقین کی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ پیش رفت فاٹا یونیورسٹی کے طلبہ کے لیے ایک بڑی خوشخبری ہے جو اپنی تعلیمی اخراجات پورے کرنے کے لیے کوشاں تھے۔ پاکستان بیت المال کا یہ اقدام تعلیم دوست پالیسیوں کے تسلسل کو ظاہر کرتا ہے جو کہ قومی ترقی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/education/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%a8%db%8c%d8%aa-%d8%a7%d9%84%d9%85%d8%a7%d9%84-%da%a9%d8%a7-%d9%81%d8%a7%d9%b9%d8%a7-%db%8c%d9%88%d9%86%db%8c%d9%88%d8%b1%d8%b3%d9%b9%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پاکستان اور کینیڈا کے طبی اداروں کے درمیان تعاون کا معاہدہ طے پا گیا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/education/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%a9%db%8c%d9%86%db%8c%da%88%d8%a7-%da%a9%db%92-%d8%b7%d8%a8%db%8c-%d8%a7%d8%af%d8%a7%d8%b1%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/education/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%a9%db%8c%d9%86%db%8c%da%88%d8%a7-%da%a9%db%92-%d8%b7%d8%a8%db%8c-%d8%a7%d8%af%d8%a7%d8%b1%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Oct 2026 02:56:53 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[تعلیم]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امتحانات]]></category>
		<category><![CDATA[اوٹاوا]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_تعاون]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_ڈاکٹرز]]></category>
		<category><![CDATA[پوسٹ_گریجویٹ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر_خالد_مسعود_گوندل]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سی_پی_ایس_پی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/education/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%a9%db%8c%d9%86%db%8c%da%88%d8%a7-%da%a9%db%92-%d8%b7%d8%a8%db%8c-%d8%a7%d8%af%d8%a7%d8%b1%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان اور رائل کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز آف کینیڈا کے مابین طبی تعلیم اور تربیت کے فروغ کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان اور کینیڈا کے طبی شعبے کے دو اہم ترین اداروں نے پوسٹ گریجویٹ میڈیکل تعلیم، پیشہ ورانہ تربیت اور مہارتوں کے تبادلے کے لیے باہمی تعاون کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں ایک اہم مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے ہیں جو دونوں ممالک کے درمیان طبی شعبے میں نئے دور کا آغاز ثابت ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اوٹاوا میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب کے دوران کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان (CPSP) اور رائل کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز آف کینیڈا (RCPSC) کے وفود نے شرکت کی۔ اس معاہدے کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے طبی ماہرین کے لیے جدید ترین تعلیمی مواقع پیدا کرنا اور ادارہ جاتی استعداد کار کو بڑھانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستانی وفد کی قیادت سی پی ایس پی کے صدر پروفیسر ڈاکٹر خالد مسعود گوندل نے کی، جبکہ کینیڈین وفد کی سربراہی رائل کالج کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر کرسٹوفر واٹلنگ نے کی۔ دونوں رہنماؤں نے اس موقع پر طبی تعلیم کے معیار کو عالمی سطح پر لے جانے کے عزم کا اعادہ کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اوٹاوا میں موجود پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، اس شراکت داری کے تحت دونوں ادارے ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کریں گے۔ اس میں پوسٹ گریجویٹ میڈیکل کورسز کی بہتری اور جدید طبی طریقہ کار کا تبادلہ شامل ہے تاکہ مریضوں کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے طبی اداروں کے درمیان ماہرین کا تبادلہ بھی کیا جائے گا تاکہ ڈاکٹروں کی تربیت کے عمل کو مزید شفاف اور مؤثر بنایا جا سکے۔ یہ اقدام پاکستان میں طبی تعلیم کے معیار کو بین الاقوامی معیار کے مطابق ڈھالنے میں مددگار ثابت ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پروفیسر ڈاکٹر خالد مسعود گوندل نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈا کے ساتھ یہ اشتراک عمل پاکستانی ڈاکٹروں کے لیے ایک بہترین موقع ہے۔ اس سے نہ صرف طبی مہارتوں میں اضافہ ہوگا بلکہ دونوں ممالک کے درمیان طبی تحقیق کے شعبے میں بھی نئے راستے کھلیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈاکٹر کرسٹوفر واٹلنگ نے بھی اس تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ رائل کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز آف کینیڈا پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہشمند ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے صحت کے نظام کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس معاہدے کے اہم نکات میں طبی نصاب کی جدید کاری، امتحانی نظام میں بہتری اور ہسپتالوں میں تربیت کے معیار کو عالمی سطح پر لانا شامل ہے۔ دونوں ادارے باہمی دلچسپی کے شعبوں میں مشترکہ ورکشاپس اور سیمینارز کا انعقاد بھی کریں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان اور کینیڈا کے درمیان یہ طبی تعاون دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات کو بھی تقویت دے گا۔ طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس طرح کے بین الاقوامی معاہدے پاکستان کے ہیلتھ کیئر سیکٹر میں جدت لانے کے لیے انتہائی ناگزیر ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سی پی ایس پی پاکستان میں پوسٹ گریجویٹ میڈیکل تعلیم کا سب سے بڑا ادارہ ہے جو ہزاروں ڈاکٹروں کو ماہر سرجن اور فزیشن بننے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ کینیڈا کے ساتھ اس اشتراک سے پاکستانی ڈاکٹروں کو عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کا موقع ملے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دونوں اداروں کے سربراہان نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مستقبل میں اس تعاون کو مزید وسیع کیا جائے گا۔ اس میں آن لائن ٹریننگ سیشنز اور ریسرچ پروجیکٹس کو بھی شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ ڈاکٹر اس سے مستفید ہو سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ مفاہمتی یادداشت دونوں ممالک کے طبی اداروں کے درمیان طویل مدتی تعلقات کی بنیاد بنے گی۔ اس سے نہ صرف طبی تعلیم کے معیار میں بہتری آئے گی بلکہ دونوں ممالک کے ڈاکٹروں کے درمیان پیشہ ورانہ روابط بھی مضبوط ہوں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/education/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%a9%db%8c%d9%86%db%8c%da%88%d8%a7-%da%a9%db%92-%d8%b7%d8%a8%db%8c-%d8%a7%d8%af%d8%a7%d8%b1%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>فلم ’گھوسٹ اسکول‘ کی سندھ میں نمائش کی راہ ہموار، 30 اکتوبر کو ریلیز ہوگی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/education/%d9%81%d9%84%d9%85-%da%af%da%be%d9%88%d8%b3%d9%b9-%d8%a7%d8%b3%da%a9%d9%88%d9%84-%da%a9%db%8c-%d8%b3%d9%86%d8%af%da%be-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%86%d9%85%d8%a7%d8%a6%d8%b4-%da%a9%db%8c/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/education/%d9%81%d9%84%d9%85-%da%af%da%be%d9%88%d8%b3%d9%b9-%d8%a7%d8%b3%da%a9%d9%88%d9%84-%da%a9%db%8c-%d8%b3%d9%86%d8%af%da%be-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%86%d9%85%d8%a7%d8%a6%d8%b4-%da%a9%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 22 Oct 2026 23:58:03 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[تعلیم]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسکول]]></category>
		<category><![CDATA[امتحانات]]></category>
		<category><![CDATA[برلن_فلم_فیسٹیول]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_شوبز]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_فلم]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیمی_بورڈ]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیمی_مسائل]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/education/%d9%81%d9%84%d9%85-%da%af%da%be%d9%88%d8%b3%d9%b9-%d8%a7%d8%b3%da%a9%d9%88%d9%84-%da%a9%db%8c-%d8%b3%d9%86%d8%af%da%be-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%86%d9%85%d8%a7%d8%a6%d8%b4-%da%a9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[سندھ ہائی کورٹ نے تین ماہ کی طویل قانونی جدوجہد کے بعد فلم کو بغیر کسی کٹوتی کے ریلیز کرنے کی اجازت دے دی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">سندھ میں تعلیمی مسائل اور غیر فعال اسکولوں کی صورتحال کو اجاگر کرنے والی فلم &#039;گھوسٹ اسکول&#039; کی ریلیز کی تمام تر قانونی رکاوٹیں دور ہو گئی ہیں۔ سندھ ہائی کورٹ نے تین ماہ طویل قانونی جنگ کے بعد فلم کو بغیر کسی کٹوتی کے نمائش کے لیے پیش کرنے کا حکم دے دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فلم کی ہدایت کارہ سیماب گل نے اس عدالتی فیصلے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ سنسر بورڈ کی جانب سے فلم کے بعض مناظر کو حذف کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا جس کے خلاف انہوں نے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فلم کی کہانی ایک دس سالہ بچی رابعہ کے گرد گھومتی ہے جو اپنے گاؤں کے واحد اسکول کی اچانک بندش کی وجوہات جاننے کے لیے کوشاں ہے۔ اسکول کے آسیب زدہ ہونے کی افواہوں کی حقیقت تلاش کرتی یہ بچی معاشرتی مسائل اور تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ہدایت کارہ کا کہنا ہے کہ وہ شروع سے ہی چاہتی تھیں کہ سندھ کے عوام اس فلم کو دیکھیں کیونکہ اس کا موضوع براہ راست اسی خطے کے معاشرتی حالات اور تعلیمی نظام سے جڑا ہوا ہے۔ یہ فلم نہ صرف تفریح فراہم کرتی ہے بلکہ اہم سماجی سوالات بھی اٹھاتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس فلم کی سنیماٹوگرافی زمرین وحدت نے کی ہے جو کہ افغانستان میں پیدا ہونے والی جرمن فلم ساز ہیں۔ زمرین وحدت کے مطابق 2021 میں افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم پر عائد پابندیوں نے انہیں اس موضوع پر کام کرنے کے لیے مزید متحرک کیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فلم کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے زمرین وحدت نے اس پروجیکٹ کے لیے کوئی معاوضہ بھی نہیں لیا تھا۔ ان کا ماننا ہے کہ تعلیم کا حق ہر بچی کا بنیادی حق ہے اور اس پیغام کو دنیا بھر تک پہنچانا ان کی ذاتی ترجیح تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">’گھوسٹ اسکول‘ کو بین الاقوامی سطح پر بھی کافی پذیرائی ملی ہے۔ یہ فلم جرمنی کے 11 سے زائد سنیما گھروں میں دکھائی جا چکی ہے جبکہ اسے برلن انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں بھی نمائش کے لیے پیش کیا گیا تھا جہاں اسے کافی سراہا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فلم کے پروڈکشن اور ڈسٹری بیوشن کے معاملات طے پا چکے ہیں اور اب یہ فلم 30 اکتوبر کو پنجاب اور سندھ کے سنیما گھروں میں بیک وقت ریلیز کی جائے گی۔ فلم بینوں کی جانب سے اس کی ریلیز کے حوالے سے کافی جوش و خروش پایا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سندھ میں تعلیمی اداروں کی حالت زار پر مبنی یہ فلم ایک ایسے وقت میں ریلیز ہو رہی ہے جب ملک میں معیاری تعلیم کی فراہمی اور اسکولوں کی بحالی پر بحث جاری ہے۔ توقع ہے کہ یہ فلم تعلیمی مسائل کے حل کے لیے شعور بیدار کرے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فلم کی کامیابی کے حوالے سے ہدایت کارہ سیماب گل پرامید ہیں کہ عوام اس کے پیغام کو سمجھیں گے اور اسے پذیرائی بخشیں گے۔ قانونی رکاوٹوں کے خاتمے کے بعد اب فلم کی تشہیری مہم بھی زور و شور سے شروع کر دی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فلم کے شائقین اب 30 اکتوبر کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں جب یہ فلم بڑے پردے پر نمائش کے لیے پیش کی جائے گی۔ امید کی جا رہی ہے کہ یہ فلم باکس آفس پر بھی اپنی ایک الگ شناخت بنانے میں کامیاب رہے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی فیصلے کے بعد فلم سازوں نے اب اپنی تمام تر توجہ فلم کی ریلیز پر مرکوز کر دی ہے۔ یہ فلم نہ صرف ایک بچی کی جدوجہد کی کہانی ہے بلکہ یہ ان تمام بچوں کی آواز ہے جو تعلیم کے بنیادی حق سے محروم ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/education/%d9%81%d9%84%d9%85-%da%af%da%be%d9%88%d8%b3%d9%b9-%d8%a7%d8%b3%da%a9%d9%88%d9%84-%da%a9%db%8c-%d8%b3%d9%86%d8%af%da%be-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%86%d9%85%d8%a7%d8%a6%d8%b4-%da%a9%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
