<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.33.2"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>افواہیں &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%a7%d9%81%d9%88%d8%a7%db%81%db%8c%da%ba/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:34:53 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>افواہیں &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>اسلام آباد پولیس: سی سی ڈی طرز کے یونٹ کے قیام کی خبریں بے بنیاد ہیں</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1022/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1022/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 16 Oct 2026 23:37:34 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد_پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[افواہیں]]></category>
		<category><![CDATA[امن_و_امان]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس_ترجمان]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس_حکام]]></category>
		<category><![CDATA[ترجمان_اسلام_آباد_پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سوشل_میڈیا]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85-%d8%a2%d8%a8%d8%a7%d8%af-%d9%be%d9%88%d9%84%db%8c%d8%b3-%d8%b3%db%8c-%d8%b3%db%8c-%da%88%db%8c-%d8%b7%d8%b1%d8%b2-%da%a9%db%92-%db%8c%d9%88%d9%86%d9%b9/</guid>

					<description><![CDATA[ترجمان اسلام آباد پولیس نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے انہیں غیر مصدقہ قرار دیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد پولیس کے ترجمان نے حال ہی میں سوشل میڈیا پر زیر گردش ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ وفاقی دارالحکومت میں سی سی ڈی طرز کا کوئی نیا یونٹ قائم کیا جا رہا ہے۔ پولیس حکام نے ان قیاس آرائیوں کو مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترجمان نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی کسی بھی غیر مصدقہ اطلاع پر کان نہ دھریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسلام آباد پولیس کے حوالے سے ایسی من گھڑت خبریں پھیلانے سے گریز کیا جانا چاہیے جو حقائق کے منافی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس ترجمان کے مطابق اسلام آباد پولیس کا موجودہ ڈھانچہ پہلے ہی انتہائی منظم اور فعال ہے، جس کے تحت مختلف شعبہ جاتی یونٹس اپنی ذمہ داریاں انتہائی موثر انداز میں سرانجام دے رہے ہیں۔ ان یونٹس کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے مسلسل اقدامات کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترجمان نے مزید کہا کہ اسلام آباد پولیس میں پہلے ہی سے تمام ضروری شعبہ جاتی یونٹس موجود ہیں جو شہر میں امن و امان کے قیام اور شہریوں کے تحفظ کے لیے اپنے فرائض پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ ادا کر رہے ہیں، لہذا کسی نئے یونٹ کی ضرورت نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس ترجمان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی ایسی خبریں حقائق کے منافی ہیں جن کا مقصد عوام میں الجھن پیدا کرنا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی قسم کے نئے یونٹ یا انتظامی تبدیلی کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی حساس معلومات یا پولیس سے متعلق خبروں کی تصدیق کے لیے صرف اسلام آباد پولیس کے سرکاری ذرائع اور آفیشل سوشل میڈیا ہینڈلز پر انحصار کریں۔ غیر مصدقہ خبروں کو شیئر کرنے سے گریز کرنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد پولیس کی جانب سے جاری کردہ اس وضاحت کا مقصد افواہوں کے اس سلسلے کو روکنا ہے جو گزشتہ کچھ دنوں سے سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر دیکھی جا رہی تھیں۔ پولیس حکام نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ ان کا ادارہ وفاقی دارالحکومت میں امن کے لیے پرعزم ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واضح رہے کہ اسلام آباد پولیس اپنے فرائض کی انجام دہی کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور تربیت یافتہ افرادی قوت کا استعمال کر رہی ہے۔ موجودہ یونٹس کی استعداد کار کو بڑھانے کے لیے وقتاً فوقتاً اصلاحات کی جاتی ہیں تاکہ پولیسنگ کے معیار کو بین الاقوامی سطح کے مطابق ڈھالا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس ترجمان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کسی بھی قسم کی افواہ سازی سے گریز کیا جائے کیونکہ اس سے نہ صرف پولیس کے مورال پر اثر پڑتا ہے بلکہ عوام میں بھی بے چینی پھیلتی ہے۔ پولیس کا نظام شفافیت پر مبنی ہے اور کسی بھی اہم تبدیلی کی صورت میں آگاہ کیا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی دارالحکومت کی سیکیورٹی کو مزید فول پروف بنانے کے لیے اسلام آباد پولیس پہلے ہی مختلف حکمت عملیوں پر عمل پیرا ہے۔ ان حکمت عملیوں میں گشت کے نظام کو بہتر بنانا، انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز اور جدید مانیٹرنگ سسٹم کا استعمال شامل ہے تاکہ جرائم پیشہ عناصر پر کڑی نظر رکھی جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس کی جانب سے جاری کردہ یہ بیان ان تمام شکوک و شبہات کا خاتمہ کرتا ہے جو سی سی ڈی طرز کے یونٹ کے قیام کے حوالے سے پیدا کیے گئے تھے۔ حکام نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ پولیس اپنی موجودہ صلاحیتوں کے ساتھ ہی شہر میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے مستعد ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ خبروں کی روک تھام کے لیے اسلام آباد پولیس کا سائبر ونگ بھی متحرک رہتا ہے تاکہ غلط معلومات پھیلانے والوں کی نشاندہی کی جا سکے۔ عوام سے گزارش ہے کہ وہ ذمہ دار شہری کا ثبوت دیں اور کسی بھی خبر کی تصدیق کے بغیر اسے آگے نہ بڑھائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اسلام آباد پولیس کا بنیادی مقصد شہریوں کی خدمت اور ان کی حفاظت ہے، جس کے لیے تمام افسران اور جوان شب و روز مصروف عمل ہیں۔ کسی بھی قسم کی افواہیں ان کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں میں رکاوٹ نہیں بن سکتیں اور نہ ہی ان سے کارکردگی متاثر ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں ترجمان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اسلام آباد پولیس مستقبل میں بھی اپنی تمام تر توانائیاں وفاقی دارالحکومت کو ایک محفوظ شہر بنانے کے لیے وقف رکھے گی۔ عوام کا تعاون پولیس کے لیے ہمیشہ حوصلہ افزا رہا ہے اور آئندہ بھی اسی تعاون کی توقع کی جاتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1022/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ٹرانس پشاور نے بی آر ٹی بسوں کی چوری سے متعلق سوشل میڈیا ویڈیوز کو بے بنیاد قرار دے دیا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/753/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/753/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 23:37:47 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[افواہیں]]></category>
		<category><![CDATA[بس_سروس]]></category>
		<category><![CDATA[بی_آر_ٹی]]></category>
		<category><![CDATA[پشاور]]></category>
		<category><![CDATA[پشاور_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[ٹرانس_پشاور]]></category>
		<category><![CDATA[ٹرانسپورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[حقیقت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%b9%d8%b1%d8%a7%d9%86%d8%b3-%d9%be%d8%b4%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%86%db%92-%d8%a8%db%8c-%d8%a2%d8%b1-%d9%b9%db%8c-%d8%a8%d8%b3%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%da%86%d9%88%d8%b1%db%8c-%d8%b3%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[حکام کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز دراصل نئی خریدی گئی بسوں کی پشاور منتقلی کی ہیں جنہیں غلط رنگ دیا گیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پشاور میں ٹرانس پشاور انتظامیہ نے حالیہ دنوں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان ویڈیوز کی سختی سے تردید کی ہے جن میں بی آر ٹی بسوں کی چوری یا غیر قانونی منتقلی کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ حکام نے ان تمام افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترجمان ٹرانس پشاور کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی دو مختلف ویڈیوز دراصل رواں سال بی آر ٹی سروس کو مزید بہتر بنانے کے لیے خریدی گئی 52 نئی بسوں کی پشاور آمد کے مناظر ہیں۔ ان ویڈیوز کو حقائق کے منافی انداز میں پیش کیا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تفصیلات کے مطابق رات کے اوقات میں بسوں کی منتقلی کی جو ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، وہ اگست 2026 میں ریکارڈ کی گئی تھی۔ اسی طرح دن کے اوقات میں بسوں کی منتقلی کی ویڈیو اکتوبر 2026 کی ہے، جس کا مقصد پشاور میں نئی بسوں کی شمولیت تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹرانس پشاور حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ تمام بسیں قانونی طور پر بی آر ٹی کے بیڑے میں شامل کی جا رہی ہیں۔ ان ویڈیوز کو چوری یا غیر قانونی منتقلی کا نام دے کر عوام میں غلط فہمیاں پھیلانے کی کوشش کی گئی جو کہ سراسر جھوٹ پر مبنی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رواں سال بی آر ٹی سروس کے لیے مجموعی طور پر 52 نئی بسیں خریدی گئی ہیں۔ انتظامیہ کے مطابق ان میں سے 25 بسیں پہلے ہی پشاور پہنچ چکی ہیں اور سروس کا حصہ بن چکی ہیں، جبکہ باقی 27 بسیں رواں ہفتے کے دوران پشاور پہنچ جائیں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نئی بسوں کی شمولیت کے بعد بی آر ٹی کے بیڑے میں بسوں کی مجموعی تعداد 296 تک پہنچ جائے گی۔ اس اضافے سے پشاور کے شہریوں کو سفری سہولیات کی فراہمی میں مزید بہتری آئے گی اور بسوں کی دستیابی کا عمل تیز تر ہو جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی ایسی غیر تصدیق شدہ ویڈیوز اور افواہوں پر کان نہ دھریں۔ ٹرانس پشاور کی جانب سے کسی بھی قسم کی سرکاری معلومات صرف باضابطہ ذرائع سے ہی جاری کی جاتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بی آر ٹی پشاور منصوبہ خیبر پختونخوا میں پبلک ٹرانسپورٹ کا ایک اہم ترین نظام ہے جس نے شہریوں کو جدید اور سستا سفری ذریعہ فراہم کیا ہے۔ حکومت اس نظام کو مزید وسعت دینے کے لیے مسلسل کوشاں ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ مسافر مستفید ہو سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نئی بسوں کی خریداری کا مقصد پشاور کے مختلف روٹس پر رش کو کم کرنا اور شہریوں کو بروقت سفری سہولیات فراہم کرنا ہے۔ ٹرانس پشاور انتظامیہ اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ بسوں کی منتقلی کا عمل شفاف اور محفوظ طریقے سے مکمل کیا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بی آر ٹی سروس کے معیار کو برقرار رکھنے کے لیے بسوں کی دیکھ بھال اور نئے بیڑے کی شمولیت ایک معمول کا عمل ہے۔ حکام نے اس بات پر زور دیا کہ عوام کو ایسی افواہوں سے بچنا چاہیے جو بغیر کسی تحقیق کے سوشل میڈیا پر وائرل کر دی جاتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹرانس پشاور انتظامیہ نے مزید کہا کہ وہ پشاور کے شہریوں کو بہترین سفری سہولیات فراہم کرنے کے اپنے عزم پر قائم ہیں۔ نئی بسوں کی شمولیت کے بعد سروس کے معیار میں مزید بہتری آئے گی اور مسافروں کو درپیش مسائل میں کمی واقع ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کا کہنا ہے کہ بی آر ٹی کے لیے خریدی گئی نئی بسیں پشاور کے شہریوں کے لیے ایک تحفہ ہیں، جن سے پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام مزید مستحکم ہوگا۔ عوام کو چاہیے کہ وہ ایسی بے بنیاد خبروں کی حوصلہ شکنی کریں اور صرف مستند معلومات پر یقین رکھیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/753/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>مسجد الحرام سے خودکش بمبار کی گرفتاری کی خبریں بے بنیاد قرار</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/33/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/33/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 10 Oct 2026 21:57:47 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلامی_دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[افواہیں]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا]]></category>
		<category><![CDATA[امن_و_امان]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[حرمین_شریفین]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[زائرین]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/33/</guid>

					<description><![CDATA[سعودی حکام نے واضح کیا ہے کہ مسجد الحرام سے کسی خودکش بمبار کو نہیں بلکہ خوف و ہراس پھیلانے والے شخص کو گرفتار کیا گیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">سعودی عرب کے مقدس مقامات کے سکیورٹی حکام نے مسجد الحرام میں خودکش بمبار کی موجودگی اور اس کی گرفتاری سے متعلق گردش کرنے والی تمام اطلاعات کی سختی سے تردید کر دی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی یہ خبریں حقائق کے منافی اور بے بنیاد ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترجمان کے مطابق سکیورٹی فورسز نے مسجد الحرام کے احاطے سے ایک ایسے شخص کو حراست میں لیا ہے جو وہاں موجود زائرین کے لیے مشکلات پیدا کر رہا تھا۔ یہ شخص مسجد کے تقدس کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں میں خوف و ہراس پھیلانے کا سبب بن رہا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام نے وضاحت کی ہے کہ مذکورہ شخص کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائی گئی تاکہ زائرین کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس واقعے کو خودکش بمبار کی گرفتاری کا رنگ دینا سراسر غلط بیانی اور گمراہ کن پروپیگنڈا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گرفتار کیے گئے شخص کو حراست میں لینے کے بعد ضروری قانونی تقاضے پورے کیے گئے ہیں۔ ابتدائی تفتیش اور کارروائی مکمل ہونے پر اسے مزید قانونی کارروائی کے لیے پبلک پراسیکیوشن کے حوالے کر دیا گیا ہے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعودی سکیورٹی ادارے حرمین شریفین کی حفاظت اور زائرین کے تحفظ کے لیے ہمہ وقت چوکس رہتے ہیں۔ حکام نے عوام اور زائرین سے اپیل کی ہے کہ وہ ایسی غیر مصدقہ اور افواہوں پر مبنی خبروں پر کان نہ دھریں اور صرف سرکاری ذرائع سے ملنے والی معلومات پر یقین رکھیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مسجد الحرام دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے عقیدت کا مرکز ہے اور یہاں کی سکیورٹی انتہائی سخت ہے۔ سعودی حکومت زائرین کو ہر ممکن سہولت اور تحفظ فراہم کرنے کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی اور تربیت یافتہ سکیورٹی اہلکاروں کو تعینات رکھتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماضی میں بھی مختلف مواقع پر حرمین شریفین کی سکیورٹی کے حوالے سے غلط معلومات پھیلانے کی کوشش کی گئی ہے، جنہیں سعودی حکام نے فوری طور پر مسترد کیا ہے۔ حکام اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مقدس مقامات کے تقدس کو مجروح کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سوشل میڈیا کے دور میں کسی بھی خبر کی تصدیق کے بغیر اسے آگے بڑھانا معاشرتی انتشار کا باعث بن سکتا ہے۔ حکام نے زور دیا ہے کہ ایسی حساس نوعیت کی خبروں کو پھیلانے سے گریز کیا جائے جو زائرین اور عوام میں بے جا خوف و ہراس پیدا کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعودی عرب کی پبلک پراسیکیوشن اب اس معاملے کی مزید تحقیقات کر رہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ اس شخص کا اصل مقصد کیا تھا اور وہ کن حالات میں مسجد الحرام میں اس طرح کی حرکت کا مرتکب ہوا۔ قانون کے مطابق اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حرمین شریفین کے حکام کی جانب سے جاری کردہ اس بیان کے بعد اب تمام قیاس آرائیاں دم توڑ گئی ہیں۔ زائرین کی بڑی تعداد بدستور مسجد الحرام میں عبادت اور مناسک کی ادائیگی میں مصروف ہے اور وہاں کا ماحول مکمل طور پر پرسکون اور محفوظ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں نے سعودی حکام کی جانب سے اس وضاحت کا خیرمقدم کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی افواہوں کے برعکس، سعودی عرب کی جانب سے بروقت تردید نے زائرین کے خدشات کو دور کر دیا ہے اور صورتحال بالکل معمول پر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سکیورٹی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی شرپسندی یا امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے کی کوششوں سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ مسجد الحرام میں سکیورٹی کا نظام انتہائی مستحکم ہے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی گنجائش موجود نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/33/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
