<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>افغانستان &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%a7%d9%81%d8%ba%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sun, 01 Nov 2026 15:26:31 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>افغانستان &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>افغان طالبان دہشت گرد تنظیموں کی معاونت ختم کریں، پاکستان کا دو ٹوک مطالبہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2208/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2208/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 21:16:51 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[افغانستان]]></category>
		<category><![CDATA[امن]]></category>
		<category><![CDATA[بی_ایل_اے]]></category>
		<category><![CDATA[پاک_افغان_سرحد]]></category>
		<category><![CDATA[ٹی_ٹی_پی]]></category>
		<category><![CDATA[دہشت_گردی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سکیورٹی]]></category>
		<category><![CDATA[سلامتی_کونسل]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a7%d9%81%d8%ba%d8%a7%d9%86-%d8%b7%d8%a7%d9%84%d8%a8%d8%a7%d9%86-%d8%af%db%81%d8%b4%d8%aa-%da%af%d8%b1%d8%af-%d8%aa%d9%86%d8%b8%db%8c%d9%85%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[وزارتِ اطلاعات و نشریات نے کہا ہے کہ افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال ناقابلِ قبول ہے، ٹھوس اقدامات کے بغیر امن ممکن نہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کی وزارتِ اطلاعات و نشریات نے افغان طالبان حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور ان سے وابستہ گروہوں سمیت دہشت گرد تنظیموں کے لیے ہر قسم کی چشم پوشی، سہولت کاری اور حمایت کا سلسلہ فوری طور پر بند کرے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتی اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے پاکستان کے سکیورٹی اداروں پر الزام تراشی سے وہ اپنی ذمہ داریوں سے بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔ پاکستان کے سکیورٹی خدشات محض قیاس آرائیاں نہیں بلکہ دستاویزی شواہد پر مبنی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزارتِ اطلاعات نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی تجزیاتی معاونت اور پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کی سولہویں رپورٹ (S/2025/796) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی اور سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی لیڈ انسپکٹر جنرل کی جانب سے جنوری تا مارچ 2026ء کے دوران &#039;آپریشن اینڈ یو رنگ سینٹینل&#039; سے متعلق امریکی کانگریس کو پیش کردہ رپورٹ میں بھی کہا گیا ہے کہ افغان طالبان، ٹی ٹی پی کو افغان سرزمین سے کارروائیاں کرنے کی اجازت دیتے رہے، جس سے پاکستان کے خلاف حملوں میں اضافہ ہوا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹ میں ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کی تعداد چار سے چھ ہزار بتائی گئی ہے۔ یہ جائزے افغان سرزمین پر دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں اور معاون نیٹ ورکس کے حوالے سے پاکستان کے خدشات کی سنگینی واضح کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ مسلح دہشت گردوں کی جانب سے پاک افغان سرحد پر دراندازی کی مسلسل کوششیں، انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں میں ہلاکتیں اور دہشت گرد عناصر سے غیر ملکی ساخت کے اسلحے کی برآمدگی، ایسے معاملات ہیں جن کی سنجیدہ جانچ پڑتال ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان نے قندھار میں تعینات حکام سمیت افغان طالبان حکام کی جانب سے دہشت گرد گروہوں کی مبینہ سہولت کاری پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان خدشات کو محض تردید کے ذریعے مسترد نہیں کیا جا سکتا، بلکہ ان پر قابلِ اعتماد وضاحت اور قابلِ تصدیق عملی اقدامات ضروری ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزارتِ اطلاعات نے واضح کیا کہ پاکستان کے سکیورٹی اقدامات کا ہدف دہشت گردی کے خطرات ہیں، افغان عوام نہیں۔ دونوں ممالک کا امن و استحکام ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے اور دہشت گردی سے پاک خطہ دونوں کے مفاد میں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتی بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان کے جائز سکیورٹی خدشات اور ضروری دفاعی اقدامات کو افغانستان کے خلاف دشمنی قرار دینے سے نہ اصل مسئلہ حل ہوگا اور نہ ہی اس سے توجہ ہٹائی جا سکتی ہے۔ پاکستان اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان باہمی احترام، قابلِ تصدیق یقین دہانیوں اور دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں، معاون نیٹ ورکس اور سرحد پار دراندازی کے خلاف ٹھوس اقدامات کی بنیاد پر ذمہ دارانہ بات چیت کے لیے بدستور تیار ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">افغان طالبان کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی، تیاری یا عمل درآمد کے لیے استعمال نہ ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بیان کے اختتام پر کہا گیا کہ خطے میں پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب افغان طالبان حکومت افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کے بنیادی خدشات کو قابلِ تصدیق عملی اقدامات کے ذریعے دور کرے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2208/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پاکستان کے سیکیورٹی خدشات کا جواب دینے کے بجائے افغان حکومت گمراہ کن الزامات لگا رہی ہے، وزارت اطلاعات</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2195/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2195/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 19:37:28 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[افغان_طالبان]]></category>
		<category><![CDATA[افغانستان]]></category>
		<category><![CDATA[امن]]></category>
		<category><![CDATA[پاک_افغان_سرحد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[ٹی_ٹی_پی]]></category>
		<category><![CDATA[خارجہ_پالیسی]]></category>
		<category><![CDATA[دہشت_گردی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%92-%d8%b3%db%8c%da%a9%db%8c%d9%88%d8%b1%d9%b9%db%8c-%d8%ae%d8%af%d8%b4%d8%a7%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%d8%ac%d9%88%d8%a7%d8%a8/</guid>

					<description><![CDATA[وفاقی وزارت اطلاعات نے کہا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خاتمے اور ٹھوس اقدامات کی بنیاد پر ذمہ دارانہ بات چیت کیلئے ہمیشہ تیار ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات نے اپنے ایک حالیہ بیان میں واضح کیا ہے کہ افغان طالبان کی حکومت پاکستان کے جائز سیکیورٹی خدشات کا جواب دینے کے بجائے گمراہ کن الزامات عائد کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے جو کہ افسوسناک ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کا دو ٹوک موقف ہے کہ اس کے سیکیورٹی اقدامات کا مقصد کسی بھی صورت افغان عوام کو نشانہ بنانا نہیں ہے، بلکہ ان اقدامات کا واحد ہدف دہشت گردی کے ناسور کا مکمل خاتمہ اور خطے میں پائیدار امن کا قیام ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزارت کے مطابق پاکستان کے سیکیورٹی اداروں کو موردِ الزام ٹھہرا کر افغان حکومت اپنی اس بنیادی ذمہ داری سے ہرگز بری الذمہ نہیں ہو سکتی کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے استعمال نہ ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کے سیکیورٹی خدشات محض قیاس آرائیوں پر مبنی نہیں ہیں، بلکہ یہ ٹھوس شواہد اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ رپورٹس کی روشنی میں سامنے آئے ہیں جنہیں نظر انداز کرنا خطے کے امن کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بیان میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی سولہویں رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی اور ان کی سرگرمیاں ایک تلخ حقیقت ہیں جن کا اعتراف عالمی ادارے بھی کر چکے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسی طرح امریکی انسپکٹر جنرل کی جانب سے کانگریس کو پیش کردہ رپورٹ میں بھی اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ افغان طالبان، تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو اپنی سرزمین سے کارروائیوں کی کھلی اجازت دیتے رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزارت اطلاعات نے مزید وضاحت کی کہ ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کی تعداد میں اضافہ اور انہیں ملنے والی آزادی پاکستان کے خلاف حملوں میں تیزی کا باعث بنی ہے، جس سے سیکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ جائزے افغان سرزمین پر موجود دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں اور ان کے معاون نیٹ ورکس کی سنگینی کو واضح کرتے ہیں، جن پر فوری اور ٹھوس توجہ دینا افغان حکام کی اولین ذمہ داری ہونی چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتی بیان میں واضح کیا گیا کہ یہ موقف کہ افغانستان پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی صلاحیت یا دلچسپی نہیں رکھتا، دستاویزی شواہد کے سامنے بے وزن ہے۔ سرحد پار دراندازی کی کوششیں اس دعوے کی نفی کرتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاک افغان سرحد پر دراندازی کی مسلسل کوششیں، دہشت گردوں سے برآمد ہونے والا غیر ملکی ساختہ جدید اسلحہ اور انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث عناصر کی ہلاکتیں سنجیدہ جانچ پڑتال اور فوری تدارک کا تقاضا کرتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان نے قندھار میں تعینات حکام سمیت افغان طالبان کی جانب سے دہشت گرد گروہوں کی مبینہ سہولت کاری پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان خدشات کو یکسر مسترد کرنے کے بجائے قابلِ اعتماد وضاحت کی ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزارت اطلاعات نے زور دیا کہ دونوں ممالک کا امن ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے اور دہشت گردی سے پاک خطہ افغان عوام کے لیے بھی اتنا ہی فائدہ مند ہے جتنا کہ ان کے پاکستانی ہمسایوں کے لیے ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">افغان حکومت کو ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور ان سے وابستہ دیگر دہشت گرد تنظیموں کے لیے ہر قسم کی چشم پوشی، حمایت اور سہولت کاری کو فوری طور پر ختم کرنا ہوگا تاکہ اعتماد کی فضا بحال ہو سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کے جائز دفاعی اقدامات کو دشمنی قرار دے کر اصل مسئلے سے توجہ نہیں ہٹائی جا سکتی۔ پاکستان اپنے شہریوں، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں وزارت اطلاعات نے واضح کیا کہ پاکستان باہمی احترام، قابلِ تصدیق یقین دہانیوں اور ٹھوس اقدامات کی بنیاد پر ذمہ دارانہ بات چیت کے لیے بدستور تیار ہے، تاہم امن کا دارومدار افغان سرزمین کے درست استعمال پر ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2195/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پر کنٹرول تنازعات کا باعث بن گیا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/1772/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/1772/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 22 Oct 2026 00:57:43 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[افغان_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[افغانستان]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[بدامنی]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاک_ایشیا_یوتھ_فورم]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[تانبا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[شمالی_افغانستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%b4%d9%85%d8%a7%d9%84%db%8c-%d8%a7%d9%81%d8%ba%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%d8%b9%d8%af%d9%86%db%8c-%d9%88%d8%b3%d8%a7%d8%a6%d9%84-%d9%be%d8%b1/</guid>

					<description><![CDATA[پاک ایشیا یوتھ فورم کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کان کنی کے وسائل پر اختیار کی جنگ شمالی افغانستان میں بدامنی کی بڑی وجہ ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پر کنٹرول، آمدنی کی منصفانہ تقسیم اور مقامی حقوق سے متعلق بڑھتے ہوئے تنازعات خطے میں بدامنی اور تشدد کو ہوا دے رہے ہیں۔ کان کنی کے شعبے میں شفافیت اور مالیاتی نگرانی کا فقدان سنگین مسائل کو جنم دے رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاک ایشیا یوتھ فورم کی ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ معدنی وسائل پر اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کے لیے مختلف دھڑوں کے درمیان اقتدار کی کشمکش جاری ہے، جو شمالی افغانستان میں عدم استحکام کی اہم وجوہات میں شامل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹ بعنوان &#039;سونا، طاقت اور شکایات: افغانستان کا کان کنی کا شعبہ اور بدامنی&#039; کے مطابق افغانستان قدرتی دولت سے مالا مال ملک ہے، جہاں لیتھیم، نایاب ارضی عناصر، تانبا اور کوبالٹ سمیت 30 سے زائد اہم معدنیات کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ صورتحال میں کان کنی کا شعبہ محدود قانونی نگرانی اور شفافیت کے فقدان کا شکار ہے۔ وسائل کی لوٹ مار اور مقامی آبادی کے حقوق کی پامالی کے واقعات نے بھی مقامی سطح پر بے چینی اور تحفظات میں اضافہ کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ معدنیات سے حاصل ہونے والی آمدنی کا بڑا حصہ قومی خزانے کے بجائے مقامی سطح پر بااثر گروہوں کے ہاتھ میں جا رہا ہے، جس سے مرکزی حکومت کی رٹ اور معاشی استحکام پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">افغانستان کے شمالی علاقوں میں موجود یہ معدنی ذخائر بین الاقوامی سطح پر بھی توجہ کا مرکز رہے ہیں۔ تاہم، سکیورٹی کی مخدوش صورتحال اور سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے ان وسائل کا فائدہ عام عوام تک نہیں پہنچ پا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کان کنی کے شعبے میں شفافیت لانے کے لیے ایک مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے تاکہ ان وسائل کو ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔ موجودہ حالات میں یہ وسائل ملک میں امن کے قیام کے بجائے کشیدگی کا باعث بن رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر ان وسائل کے انتظام کو بہتر نہ بنایا گیا تو شمالی افغانستان میں جاری یہ تنازعات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔ مقامی حقوق کا تحفظ اور آمدنی کی منصفانہ تقسیم ہی اس مسئلے کا واحد حل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کا ماننا ہے کہ افغانستان کے معدنی وسائل سے استفادہ کرنے کے لیے ایک مستحکم سیاسی ڈھانچے اور بین الاقوامی معیارات کے مطابق کان کنی کے قوانین کا نفاذ ناگزیر ہے۔ اس کے بغیر وسائل کا ضیاع جاری رہے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شمالی افغانستان کے عوام طویل عرصے سے ان وسائل سے ملنے والے فوائد کے منتظر ہیں، لیکن بدقسمتی سے یہ وسائل مقامی سطح پر تشدد اور طاقت کے حصول کا ذریعہ بن کر رہ گئے ہیں۔ حکومتی سطح پر فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل میں افغانستان کی معاشی بحالی کا دارومدار انہی معدنی وسائل کے درست استعمال پر ہے۔ اگر ان وسائل کو شفاف طریقے سے بروئے کار لایا جائے تو یہ ملک کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں، رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ کان کنی کے شعبے میں اصلاحات لانے اور بدامنی کے خاتمے کے لیے تمام متعلقہ فریقین کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ وسائل کو تنازعات کے بجائے ترقی کا ذریعہ بنایا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/1772/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>روس نے پاک افغان کشیدگی کے خاتمے میں تعاون کی پیشکش کر دی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1520/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1520/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 19 Oct 2026 22:37:04 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[افغانستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاک_روس_تعلقات]]></category>
		<category><![CDATA[تجارت]]></category>
		<category><![CDATA[خطے_کا_امن]]></category>
		<category><![CDATA[دفتر_خارجہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[روس]]></category>
		<category><![CDATA[سرحدی_کشیدگی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%b1%d9%88%d8%b3-%d9%86%db%92-%d9%be%d8%a7%da%a9-%d8%a7%d9%81%d8%ba%d8%a7%d9%86-%da%a9%d8%b4%db%8c%d8%af%da%af%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%ae%d8%a7%d8%aa%d9%85%db%92-%d9%85%db%8c%da%ba/</guid>

					<description><![CDATA[روسی سفیر نے اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سرحدی کشیدگی کے جلد حل پر زور دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">روس نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی کے خاتمے اور باہمی مسائل کے حل کے لیے تعاون کی پیشکش کر دی ہے۔ انسٹیٹوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز اسلام آباد میں پاک روس تعلقات کے موضوع پر منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے روس کے سفیر البرٹ پی خورئیف نے یہ اہم پیشکش کی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ ماسکو دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان سرحدی کشیدگی کا جلد از جلد خاتمہ اور بند سرحدی گزرگاہوں کی بحالی دیکھنا چاہتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روسی سفیر کا مزید کہنا تھا کہ سرحدوں کی طویل بندش سے نہ صرف دوطرفہ تجارت کو نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ اس کے منفی اثرات وسط ایشیائی ریاستوں اور روس کے ساتھ ہونے والے تجارتی امور پر بھی پڑ رہے ہیں۔ تجارتی سرگرمیوں کے تسلسل کے لیے خطے میں امن اور استحکام کا قیام انتہائی ضروری ہے تاکہ تمام فریقین معاشی فوائد حاصل کر سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تقریب سے خطاب کرتے ہوئے روس میں تعینات پاکستانی سفیر فیصل ترمذی نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی طرف سے پاکستان کے اندر دراندازی کے واقعات رونما ہوتے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ افغانستان اس خطے میں ایک ایسی پیچیدہ گرہ کی مانند ہے جسے پاکستان اور روس مل کر کھولنے اور سلجھانے کی مسلسل کوشش کر رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستانی سفیر نے شرکا کو بتایا کہ ماسکو کی طرف سے ہمیشہ افغان طالبان پر اس بات کے لیے زور دیا جاتا رہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی بھی صورت دوسرے ممالک کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں۔ انہوں نے اس امر پر بھی روشنی ڈالی کہ روسی وزیر داخلہ کا حالیہ دورہ پاکستان اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ دونوں ممالک کے مابین تعلقات میں کوئی اختلاف موجود نہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فیصل ترمذی نے اپنی گفتگو کے دوران اس امید کا اظہار بھی کیا کہ آئندہ برس روسی صدر ولادیمیر پیوٹن شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس میں شرکت کی غرض سے پاکستان کا دورہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مسلسل بہتر سے بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تقریب کے دوران سابق پاکستانی سفیر مسعود خان نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کو بھارت یا افغانستان کے روایتی تناظر میں دیکھنے کے بجائے ایک خود مختار اور آزاد شراکت دار کے طور پر دیکھا جائے۔ خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر سفارتی رویوں میں اس تبدیلی کی اشد ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان اور روس کے درمیان حالیہ برسوں میں سفارتی، تجارتی اور دفاعی شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے متعدد مثبت اقدامات کیے گئے ہیں۔ دونوں ممالک خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے مختلف امور پر باقاعدگی سے رابطے میں رہتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنے کے خواہاں ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماضی میں سرد جنگ کے دور کے برعکس اب اسلام آباد اور ماسکو کے تعلقات میں ایک نیا پن اور گرم جوشی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ توانائی کے شعبے بالخصوص تیل اور گیس کی فراہمی کے حوالے سے بھی دونوں ممالک کے مابین مختلف سطحی رابطے اور بات چیت کا سلسلہ جاری رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">علاقائی سلامتی کے امور پر پاکستان کا موقف ہمیشہ سے واضح رہا ہے کہ خطے میں امن کے بغیر اقتصادی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان میں امن اور استحکام کے لیے تمام بین الاقوامی کوششوں میں بھرپور کردار ادا کیا ہے اور وہ آئندہ بھی اس سلسلے میں اپنا مثبت کردار جاری رکھے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انسٹیٹوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز اسلام آباد میں ہونے والی اس تقریب میں ملک کے ممتاز سفارت کاروں، محققین اور خارجہ امور کے ماہرین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس دوران شرکا نے پاک روس تعلقات کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور مستقبل کی لائحہ عمل پر بھی روشنی ڈالی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خطے کے اندرونی اور بیرونی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون کو فروغ دینا وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے۔ روس کی اس تازہ پیشکش سے دونوں ممالک کے مابین دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور تجارتی راہیں کھولنے میں مدد ملے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ سفارتی تناظر میں پاکستان اور روس کے تعلقات کا تسلسل خطے میں نئی اقتصادی اور اسٹریٹیجک راہیں استوار کرنے کا ضامن بن سکتا ہے۔ تمام متعلقہ فریقین کو اس مثبت پیش رفت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دیرپا امن اور خوشحالی کے لیے مل کر عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1520/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>افغان حکومت کا واخان کوریڈور منصوبہ، ماہرین کی جانب سے عملی مشکلات کا اظہار</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/907/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/907/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 15 Oct 2026 22:37:25 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[افغان_حکام]]></category>
		<category><![CDATA[افغانستان]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_تعلقات]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پہاڑی_سلسلہ]]></category>
		<category><![CDATA[تجارت]]></category>
		<category><![CDATA[تجارتی_راستہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a7%d9%81%d8%ba%d8%a7%d9%86-%d8%ad%da%a9%d9%88%d9%85%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%d9%88%d8%a7%d8%ae%d8%a7%d9%86-%da%a9%d9%88%d8%b1%db%8c%da%88%d9%88%d8%b1-%d9%85%d9%86%d8%b5%d9%88%d8%a8%db%81/</guid>

					<description><![CDATA[افغان حکام کی جانب سے واخان روڈ کے افتتاح کے باوجود ماہرین نے اسے تجارتی لحاظ سے غیر مؤثر قرار دیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">افغانستان میں موجودہ حکام نے حال ہی میں واخان کوریڈور کے علاقے میں ایک نئی سڑک کا افتتاح کیا ہے، جس کا مقصد چین کے ساتھ براہ راست زمینی رابطے کو بحال کرنا بتایا گیا ہے۔ تاہم، بین الاقوامی مبصرین اور ماہرین نے اس منصوبے کی عملی افادیت پر گہرے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹ کے مطابق، یہ منصوبہ زمینی حقائق کے پیش نظر تجارتی سرگرمیوں کے لیے انتہائی مشکل دکھائی دیتا ہے۔ واخان کا علاقہ انتہائی بلند پہاڑی سلسلے پر مشتمل ہے، جہاں موسمی حالات سال کے بیشتر حصے میں آمدورفت کے لیے سازگار نہیں ہوتے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں چار ہزار آٹھ سو میٹر کی بلندی پر واقع درہ سال میں صرف تین ماہ کے لیے ہی گاڑیوں کی آمدورفت کے قابل ہوتا ہے۔ باقی نو ماہ شدید برف باری اور موسم کی خرابی کے باعث یہ راستہ بند رہتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس جغرافیائی صورتحال کی وجہ سے اس راستے کو مستقل تجارتی شاہراہ کے طور پر استعمال کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ تجارتی ماہرین کے مطابق، اتنے مختصر عرصے کے لیے روڈ کا استعمال کسی بھی بڑے پیمانے کی معاشی سرگرمی کے لیے ناکافی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">افغان معیشت کی موجودہ محدود حیثیت بھی اس منصوبے کی کامیابی میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ چین کے لیے اس راستے کی تجارتی اہمیت تاحال نہ ہونے کے برابر سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ چین کے پاس پہلے سے ہی دیگر ممالک کے ساتھ بہتر اور فعال تجارتی راستے موجود ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ افغان حکام کا یہ اقدام عملی تجارتی رابطے کے بجائے ایک علامتی حیثیت کا حامل معلوم ہوتا ہے۔ اس منصوبے کے ذریعے چین کے ساتھ تعلقات کو ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی ہے، لیکن معاشی فوائد محدود ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیکیورٹی کے حوالے سے بھی ماہرین نے اہم خدشات کا اظہار کیا ہے۔ افغان سرزمین سے دہشت گردی کا خطرہ سرحد کھولنے کے کسی بھی ممکنہ معاشی فائدے سے کہیں زیادہ اہم سمجھا جا رہا ہے، جو چین کے لیے ایک بڑی تشویش کا باعث ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چین کی جانب سے اس منصوبے پر محتاط ردعمل سامنے آیا ہے۔ چینی ماہرین کا ماننا ہے کہ سرحد کے جلد اور مکمل طور پر کھلنے کے امکانات انتہائی کم ہیں، کیونکہ سیکیورٹی اور لاجسٹک مسائل کا حل فی الحال دکھائی نہیں دیتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واخان کوریڈور کا یہ علاقہ تاریخی طور پر ایک اہم جغرافیائی اہمیت رکھتا ہے، لیکن جدید دور میں یہاں سڑک کی تعمیر اور اسے بین الاقوامی تجارتی معیار کے مطابق چلانا ایک انتہائی مہنگا اور مشکل ترین کام ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">افغان حکام کی جانب سے اس منصوبے کو اپنی معاشی بحالی کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا گیا تھا، تاہم بین الاقوامی سطح پر اسے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق، بنیادی ڈھانچے کی کمی اس منصوبے کو ناکام بنا سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل میں اس راستے کی فعالیت کا انحصار مکمل طور پر سیکیورٹی کی صورتحال اور چین کی جانب سے سرمایہ کاری کے فیصلوں پر ہوگا۔ فی الحال، یہ منصوبہ صرف ایک محدود اور علامتی اقدام تک ہی محدود دکھائی دیتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس صورتحال کے پیش نظر، یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ آیا یہ سڑک کبھی بین الاقوامی تجارت کا مرکزی راستہ بن سکے گی۔ ماہرین کا اصرار ہے کہ جب تک بنیادی سیکیورٹی خدشات دور نہیں ہوتے، اس راستے کا مستقبل غیر یقینی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مجموعی طور پر، واخان روڈ کا منصوبہ اپنی جغرافیائی اور سیاسی پیچیدگیوں کی وجہ سے ایک طویل المدتی چیلنج بنا ہوا ہے۔ افغان حکام کو اس منصوبے کو فعال کرنے کے لیے نہ صرف سیکیورٹی بلکہ تکنیکی اور موسمی مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/907/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پاکستان کا دوٹوک مؤقف: افغان سرزمین کا استعمال ناقابل قبول ہے</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/513/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/513/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 02:17:40 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسحاق_ڈار]]></category>
		<category><![CDATA[افغانستان]]></category>
		<category><![CDATA[امن]]></category>
		<category><![CDATA[پاک_افغان_سرحد]]></category>
		<category><![CDATA[ٹی_ٹی_پی]]></category>
		<category><![CDATA[خیبرپختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[دہشت_گردی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سی_ٹی_ڈی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%d8%a7-%d8%af%d9%88%d9%b9%d9%88%da%a9-%d9%85%d8%a4%d9%82%d9%81-%d8%a7%d9%81%d8%ba%d8%a7%d9%86-%d8%b3%d8%b1%d8%b2%d9%85%db%8c%d9%86-%da%a9%d8%a7-%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے واضح کیا ہے کہ پاکستان اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور افغان سرزمین سے دہشت گردی کا خاتمہ ضروری ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان نے ایک بار پھر افغانستان پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے واضح کیا ہے کہ ہمسایہ ملک کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف عملی کارروائی نہ ہونے کی صورت میں نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ مطالبہ کسی بھی خودمختار ریاست کا بنیادی حق ہے کہ اس کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے شہریوں پر حملوں یا تخریب کاری کے لیے استعمال نہ ہو۔ پاکستان کا ماننا ہے کہ صرف سفارتی یقین دہانیوں سے دہشت گردی کے اس مسئلے کا حل ممکن نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کالعدم ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد گروہوں کی جانب سے پاکستانی علاقوں میں حملے ایک سنگین چیلنج ہیں۔ ان گروہوں کی نقل و حرکت اور مالی معاونت کو روکنے کے لیے افغان حکومت کی جانب سے قابلِ تصدیق اقدامات ناگزیر ہیں تاکہ سرحد کے دونوں جانب امن قائم ہو سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نوے ہزار سے زائد جانوں کی قربانی دی ہے۔ اس جنگ کے نتیجے میں معاشی نقصانات، تباہ شدہ کاروبار اور سماجی عدم استحکام جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس سے قومی ترقی کی رفتار متاثر ہوئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں منظور کردہ &#039;عزمِ استحکام&#039; وژن اسی تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس حکمت عملی کا مقصد دہشت گردی کی بنیادی وجوہات کا خاتمہ کرنا اور انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کو مزید مؤثر بنانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دہشت گردی کے خلاف صرف عسکری کارروائیاں کافی نہیں بلکہ اس کے لیے قانون کی یکساں عمل داری، سرحدی نگرانی اور مالیاتی ذرائع کی بندش بھی ضروری ہے۔ ریاست کو ان علاقوں میں اپنی رٹ قائم کرنے کے لیے بنیادی سہولتیں فراہم کرنا ہوں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیبرپختونخوا کی صوبائی ایپکس کمیٹی کا حالیہ اجلاس اس سلسلے میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے پولیس اور محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی استعداد بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے تاکہ داخلی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس اہلکاروں کو جدید اسلحہ، تربیت اور مواصلاتی نظام کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر موجود اہلکاروں کی حفاظت اور ان کے وسائل میں اضافہ داخلی استحکام کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کا مؤقف ہے کہ دہشت گردی کا نقصان کسی ایک ریاست تک محدود نہیں رہتا۔ اگر افغانستان اپنی سرزمین پر موجود مسلح گروہوں کو کھلی چھوٹ دیتا ہے تو اس سے خطے کے معاشی روابط، تجارت اور علاقائی تعلقات بھی متاثر ہوں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">افغان حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ سیاسی مصلحتوں سے بالاتر ہو کر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی کرے۔ امن کا راستہ دھمکیوں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات اور ایک دوسرے کی سلامتی کے احترام سے نکلتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان بیک وقت دو محاذوں پر کام کر رہا ہے؛ ایک طرف دہشت گردی کے خلاف سخت اور واضح مؤقف، اور دوسری طرف سفارتی رابطے تاکہ تنازع کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔ یہ توازن قومی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عوامی اعتماد کا تحفظ اس جنگ کا ایک اہم تقاضا ہے۔ متاثرہ خاندانوں کی بحالی، شہدا کے ورثا کی کفالت اور شہریوں کو تحفظ کا احساس دلانا حکومت کی ذمہ داری ہے تاکہ عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان فاصلے کم ہوں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں، پاکستان کا مطالبہ اصولی ہے اور اس کی کامیابی پورے خطے کے مستقبل کے لیے اہم ہے۔ جب تک دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں ملتی رہیں گی، خطے میں پائیدار امن کا خواب شرمندہ تعبیر ہونا مشکل ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/513/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>افغان سرزمین کا استعمال روکنا طالبان حکومت کی ذمہ داری ہے: وزارت اطلاعات</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/338/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/338/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 12 Oct 2026 19:56:54 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[افغان_طالبان]]></category>
		<category><![CDATA[افغانستان]]></category>
		<category><![CDATA[امن_و_امان]]></category>
		<category><![CDATA[پاک_افغان_تعلقات]]></category>
		<category><![CDATA[ٹی_ٹی_پی]]></category>
		<category><![CDATA[خارجہ_پالیسی]]></category>
		<category><![CDATA[دہشت_گردی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سرحدی_سلامتی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d8%a7%d9%81%d8%ba%d8%a7%d9%86-%d8%b3%d8%b1%d8%b2%d9%85%db%8c%d9%86-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d8%b3%d8%aa%d8%b9%d9%85%d8%a7%d9%84-%d8%b1%d9%88%da%a9%d9%86%d8%a7-%d8%b7%d8%a7%d9%84%d8%a8%d8%a7%d9%86-%d8%ad/</guid>

					<description><![CDATA[وزارت اطلاعات نے افغان حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے اور پاکستان مخالف سرگرمیوں کو روکے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وزارت اطلاعات و نشریات نے ایک اہم بیان میں افغان طالبان حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کی اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترجمان وزارت اطلاعات کے مطابق افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہوں کی موجودگی اور ان کی جانب سے پاکستان میں کارروائیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں، جنہیں محض بیان بازی سے چھپایا نہیں جا سکتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزارت نے واضح کیا کہ افغان حکومت کو دہشت گردی کے ٹھوس شواہد کا جواب دینا چاہیے اور ان عناصر کے خلاف عملی اور قابلِ تصدیق کارروائی کرنی چاہیے جو پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے وزارت نے کہا کہ افغانستان میں 6 ہزار کے قریب کالعدم تنظیم کے کارندے موجود ہیں، جو خطے کے امن کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بیان میں مزید کہا گیا کہ افغان طالبان کی جانب سے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی حمایت کے شواہد موجود ہیں، جو دوحہ معاہدے اور عالمی وعدوں کی کھلی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزارت اطلاعات نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ افغان طالبان حکومت دہشت گردی کے خطرے سے انکار کرنے کے بجائے اپنی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کر رہی ہے، جس سے خطے میں عدم استحکام بڑھ رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان نے ہمیشہ پڑوسی ملک کے ساتھ پرامن تعلقات اور مذاکرات پر زور دیا ہے، تاہم بامعنی پیش رفت کے لیے افغان طالبان کو انسدادِ دہشت گردی کے اپنے وعدوں کو عملی جامہ پہنانا ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی جانب سے لڑکیوں کی تعلیم پر پابندیوں اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور اسے عالمی اصولوں کے منافی قرار دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کا موقف ہے کہ افغان سرزمین کا استعمال روکنا افغان حکومت کی اولین ذمہ داری ہے، جس کے بغیر خطے میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں ہے اور نہ ہی دوطرفہ تعلقات میں بہتری آ سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت پاکستان نے عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغانستان میں موجود دہشت گردی کے نیٹ ورکس کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کرے تاکہ خطے کو مزید تباہی سے بچایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سرحد پار سے دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس پر پاکستان نے بارہا اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزارت اطلاعات نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھے گا اور کسی بھی صورت میں اپنی سرزمین کو کسی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا، اسی طرح کی توقع دوسروں سے بھی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/338/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>افغان سرزمین پر دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں پاکستان کی سلامتی کے لیے چیلنج</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/188/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/188/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 15:57:07 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[افغانستان]]></category>
		<category><![CDATA[امن_و_امان]]></category>
		<category><![CDATA[انٹیلی_جنس]]></category>
		<category><![CDATA[بلوچستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_فوج]]></category>
		<category><![CDATA[ترجمان_دفتر_خارجہ]]></category>
		<category><![CDATA[ٹی_ٹی_پی]]></category>
		<category><![CDATA[خیبرپختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d8%a7%d9%81%d8%ba%d8%a7%d9%86-%d8%b3%d8%b1%d8%b2%d9%85%db%8c%d9%86-%d9%be%d8%b1-%d8%af%db%81%d8%b4%d8%aa-%da%af%d8%b1%d8%af%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d9%85%d8%ad%d9%81%d9%88%d8%b8-%d9%be%d9%86%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[افغانستان میں کالعدم تنظیموں کی موجودگی اور سرحدی دراندازی کے باعث پاکستان کو شدید سیکیورٹی خدشات کا سامنا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کو ایک بار پھر دہشت گردی کے چیلنجز کا سامنا ہے جہاں خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں پرتشدد کارروائیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ان علاقوں میں سرگرم عناصر نظریاتی اور مقاصد کے لحاظ سے مختلف ہو سکتے ہیں لیکن ان کی کارروائیوں کے اثرات ملک کی مجموعی داخلی سلامتی پر پڑ رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیکیورٹی حکام کے مطابق ان عناصر نے سرحد پار افغانستان میں اپنے ٹھکانے اور پناہ گاہیں قائم کر رکھی ہیں جہاں سے وہ پاکستانی حدود میں حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام کے بعد سے اسلام آباد کو توقعات تھیں کہ کابل انتظامیہ دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف مؤثر اقدامات کرے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان نے اس مقصد کے لیے افغان حکومت کے ساتھ سیاسی، سفارتی اور انٹیلی جنس سطح پر بھرپور رابطے استوار رکھے اور ثبوت بھی فراہم کیے لیکن عملی اقدامات کے فقدان سے صورت حال میں خاطر خواہ بہتری نہیں آ سکی۔ مبصرین کے مطابق افغان سرزمین پر موجود عسکریت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی سے گریز کی وجوہات میں نظریاتی قربت اور داخلی دباؤ کے خدشات شامل ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گلوبل ٹیررازم انڈیکس کے اعدادوشمار کے مطابق افغانستان میں طالبان کی واپسی کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں بتدریج اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس سے انسانی جانوں کا ضیاع بھی ہوا۔ اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ مختلف برسوں کے دوران دہشت گردی سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں پاکستان کی پوزیشن میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سال 2026 کے دوران اب تک دہشت گردانہ کارروائیوں کے نتیجے میں 1,327 افراد جاں بحق اور 2,484 زخمی ہو چکے ہیں۔ سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورت حال کے سدباب کے لیے سرحد پار سے ہونے والی نقل و حرکت پر قابو پانا انتہائی ضروری ہو چکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیکیورٹی تجزیہ کار میجر جنرل (ر) رضا محمد کا کہنا ہے کہ پاکستان کے پاس ناقابل تردید شواہد موجود ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ افغانستان دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیرونی عناصر پاکستان کے اندر عدم استحکام پھیلانے والے گروہوں کی مالی معاونت میں بھی ملوث ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تشویش ناک امر یہ ہے کہ پاکستان میں کارروائیوں میں ملوث افراد میں افغان شہریوں کی شمولیت کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔ انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق دراندازی کرنے والے جنگجوؤں کی ایک بڑی تعداد کا تعلق افغانستان سے ہے جن میں سے کئی کی شناخت بھی کی جا چکی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹس کے مطابق سال 2026 کے دوران پاکستان میں کارروائیوں کے دوران مارے جانے والے 260 سے زائد افغان شہریوں کی شناخت نام اور خاندانی تفصیلات سے ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ حساس نوعیت کے واقعات میں بھی افغان شہریوں اور سابق اراکین کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بین الاقوامی سلامتی کے امور کے ماہر خرم عباس کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ صرف چشم پوشی تک محدود نہیں بلکہ عسکریت پسندوں کو مالی معاونت اور دیگر سہولتیں بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ افغان صوبوں میں بھرتی کی مہمات کے ذریعے افراد کو سرحد پار کارروائیوں کے لیے بھیجا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سابق سفیر منصور علی خان کے مطابق افغان طالبان اور بعض عسکریت پسند گروہوں کے درمیان گہرے نظریاتی روابط اور پرانے تعلقات موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کابل انتظامیہ کے لیے اپنے سابق ساتھیوں کے خلاف سخت کارروائی کرنا مشکل امر بن جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ عسکریت پسند گروہ طالبان کی نچلی اور درمیانی سطح کی صفوں میں سرایت کر چکے ہیں۔ نظریاتی ہم آہنگی اور مشترکہ جنگی تجربات کی وجہ سے دونوں کے درمیان سماجی اور مذہبی نیٹ ورک ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ طالبان کو اپنے اندرونی خلفشار اور بغاوت کا بھی خدشہ ہے کیونکہ سخت قدم اٹھانے سے ان کے اپنے جنگجوؤں میں ناراضی پیدا ہو سکتی ہے۔ اس تزویراتی مخمصے کی وجہ سے افغان حکومت دوغلے پن کا شکار نظر آتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہر منظر زیدی کا کہنا ہے کہ طالبان کو اس بات کا بھی اندیشہ ہے کہ دباؤ بڑھنے کی صورت میں یہ گروہ کسی دوسری حریف تنظیم کے ساتھ اتحاد نہ کر لیں۔ اس صورت حال میں کابل انتظامیہ کے لیے اپنے اقتدار کو برقرار رکھنا اور بھی زیادہ پیچیدہ ہو سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">افغانستان میں صرف ایک ہی نہیں بلکہ متعدد علاقائی اور بین الاقوامی عسکریت پسند تنظیمیں موجود ہیں۔ ان میں فتنہ الخوارج کے ساتھ ساتھ دیگر علیحدگی پسند اور کالعدم گروہ بھی شامل ہیں جو افغان سرزمین کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جنرل (ر) رضا محمد کا مزید کہنا تھا کہ یہ تمام گروہ طالبان کے لیے طاقت کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں اور وہ اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے ان پر انحصار کرتے ہیں۔ پاکستان نے متعدد بار ان امور پر دوٹوک موقف اپنایا ہے کہ افغان سرزمین کا استعمال روکا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستانی حکام کا مؤقف ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔ اسلام آباد اس حوالے سے عالمی برادری پر بھی زور دیتا رہا ہے کہ وہ اس سنگین مسئلے کا نوٹس لے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/188/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
