<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.33.3"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>اشیائے_ضروریہ &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%a7%d8%b4%db%8c%d8%a7%d8%a6%db%92_%d8%b6%d8%b1%d9%88%d8%b1%db%8c%db%81/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:33:08 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>اشیائے_ضروریہ &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی کا اجلاس، گندم کی قیمتوں پر تشویش</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/2164/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/2164/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 16:17:38 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹاک_ایکسچینج]]></category>
		<category><![CDATA[اسحاق_ڈار]]></category>
		<category><![CDATA[اشیائے_ضروریہ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹرول]]></category>
		<category><![CDATA[چینی_کی_قیمت]]></category>
		<category><![CDATA[ذخیرہ_اندوزی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈالر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d9%86%d8%a7%d8%a6%d8%a8-%d9%88%d8%b2%db%8c%d8%b1%d8%a7%d8%b9%d8%b8%d9%85-%d8%a7%d8%b3%d8%ad%d8%a7%d9%82-%da%88%d8%a7%d8%b1-%da%a9%db%8c-%d8%b2%db%8c%d8%b1-%d8%b5%d8%af%d8%a7%d8%b1%d8%aa/</guid>

					<description><![CDATA[کابینہ کمیٹی نے ملک میں اشیائے ضروریہ کی دستیابی اور قیمتوں میں استحکام کے لیے سخت نگرانی کا فیصلہ کیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">نائب وزیراعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت ضروری اشیائے خورونوش کی فراہمی، ملکی ذخائر اور مارکیٹ میں قیمتوں کے کنٹرول کے حوالے سے کابینہ کمیٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ملک بھر میں بنیادی اشیاء کی دستیابی اور قیمتوں کے رجحانات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس کے دوران شرکاء کو ملک میں موجود غذائی اجناس کے ذخائر کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء کے ذخائر تسلی بخش سطح پر موجود ہیں اور یہ ذخائر مقامی مارکیٹ میں سپلائی کا تسلسل برقرار رکھنے کے لیے کافی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ملکی ذخائر اور درآمدی گندم کی مقدار اگلی فصل کی آمد تک ملکی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مکمل طور پر کافی ہے۔ اس حوالے سے حکومتی سطح پر جاری کوششوں کو تسلی بخش قرار دیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے گندم کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے رجحان پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو سخت ہدایت کی کہ گندم کی مارکیٹ میں فراہمی کو فوری طور پر بڑھایا جائے تاکہ قیمتوں میں استحکام لایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس کو چینی کی مارکیٹ صورتحال کے بارے میں بھی تفصیلی آگاہ کیا گیا۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ مقامی مارکیٹ میں چینی کی قیمت 155 روپے فی کلوگرام کی مقررہ پرچون قیمت سے نمایاں طور پر کم سطح پر برقرار ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چینی کے حوالے سے حکام نے مزید بتایا کہ آئندہ کرشنگ سیزن تک چینی کے مطلوبہ استعمال سے زائد ذخائر ملک میں موجود ہیں۔ یہ ذخائر مقامی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کافی ہیں جس سے مارکیٹ میں چینی کی دستیابی یقینی رہے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نائب وزیراعظم نے اس موقع پر کہا کہ غذائی تحفظ کو یقینی بنانا اور ضروری اشیاء مناسب قیمتوں پر عوام کو فراہم کرنا حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو مارکیٹوں میں اشیاء کی خرید و فروخت کے نظام پر کڑی نظر رکھنے کا حکم دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسحاق ڈار نے ہدایت کی کہ قیمتوں میں غیر ضروری اضافے کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ مارکیٹ میں اشیاء کی قیمتوں کی صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جائے تاکہ صارفین کو ریلیف مل سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس میں ذخیرہ اندوزی اور مارکیٹ میں قیاس آرائیوں کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ نائب وزیراعظم نے واضح کیا کہ کسی کو بھی مصنوعی قلت پیدا کرنے یا قیمتیں بڑھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی کہ وہ باہمی رابطے کے ذریعے اشیائے ضروریہ کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنائیں۔ حکومتی مشینری کو متحرک رہنے کا حکم دیا گیا تاکہ عوام کو بنیادی غذائی اشیاء کی فراہمی میں کوئی تعطل نہ آئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں کمیٹی نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مارکیٹ میں استحکام کے لیے تمام ضروری انتظامی اقدامات کو بروئے کار لایا جائے گا۔ اس اجلاس کے فیصلوں پر عمل درآمد کے لیے متعلقہ محکموں کو فوری طور پر ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/2164/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پنجاب بھر میں گراں فروشی کے خلاف کریک ڈاؤن، 445 افراد گرفتار</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1709/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1709/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 21 Oct 2026 10:38:22 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اشیائے_ضروریہ]]></category>
		<category><![CDATA[پرائس_کنٹرول]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس_کارروائی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روٹی_کی_قیمت]]></category>
		<category><![CDATA[روزمرہ_استعمال]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[صوبائی_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[عوام_دوست_اقدام]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%d9%86%d8%ac%d8%a7%d8%a8-%d8%a8%da%be%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%af%d8%b1%d8%a7%da%ba-%d9%81%d8%b1%d9%88%d8%b4%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81-%da%a9%d8%b1%db%8c%da%a9/</guid>

					<description><![CDATA[محکمہ فوڈ سیفٹی کی کارروائیوں کے دوران لاکھوں روپے جرمانے عائد اور متعدد کاروباری مقامات سیل کیے گئے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وزیراعلیٰ پنجاب کے عوام دوست ویژن کے تحت محکمہ فوڈ سیفٹی نے صوبہ بھر میں گراں فروشی اور اشیائے ضروریہ کی زائد قیمتوں پر فروخت کے خلاف کریک ڈاؤن کو مزید تیز کر دیا ہے۔ اس مہم کا بنیادی مقصد عام شہریوں کو روزمرہ استعمال کی اشیاء مقررہ نرخوں پر فراہمی کو یقینی بنانا اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف سخت قانونی عمل عمل میں لانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیکرٹری فوڈ سیفٹی کے جاری کردہ تفصیلی اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران صوبہ بھر کے مختلف اضلاع میں اشیائے ضروریہ کی چار لاکھ سینتیس ہزار تین سو سترہ انسپکشنز کی گئیں۔ اس وسیع تر معائنے کے دوران دکانداروں کی جانب سے مقررہ کردہ سرکاری نرخوں سے زائد قیمتیں وصول کرنے کے انیس ہزار نو سو دو واقعات سامنے آئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتظامی ٹیموں نے کارروائی کرتے ہوئے گراں فروشی میں ملوث عناصر پر ایک کروڑ چھ لاکھ ستائیس ہزار تین سو روپے کے بھاری جرمانے عائد کیے۔ اس کے علاوہ دکانوں پر نمایاں مقامات پر سرکاری نرخ نامے آویزاں نہ کرنے والے دو ہزار ایک سو اڑسٹھ مقامات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اوور چارجنگ اور دیگر متعلقہ قانونی خلاف ورزیوں پر سخت کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے سینتالیس مقدمات درج کیے اور مجموعی طور پر چار سو پینتالیس افراد کو موقع پر یا بعد ازاں گرفتار کر لیا گیا۔ انتظامیہ کا عزم ہے کہ عوام کے استحصال میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روزمرہ خوراک کی بنیادی ضرورت یعنی روٹی کی فروخت میں بھی گراں فروشی کے چار ہزار چھ سو انسٹھ واقعات رپورٹ کیے گئے۔ مقررہ قیمت سے زیادہ دام پر روٹی فروخت کرنے والوں پر پانچ لاکھ باون ہزار پانچ سو روپے کے جرمانے عائد کیے گئے تاکہ غریب طبقے کو ریلیف مل سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مرغی کے گوشت کی سرکاری قیمتوں اور معیار کو جانچنے کے لیے صوبہ بھر میں اٹھارہ ہزار سات سو چوہتر انسپکشنز عمل میں لائی گئیں تاکہ گوشت کی فروخت میں ہونے والی بے ضابطگیوں کا سختی سے سدباب کیا جا سکے۔ ان میں زائد قیمت پر گوشت فروخت کرنے کی ایک ہزار چار سو اٹھارہ خلاف ورزیاں پکڑی گئیں جن پر فوری قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فوڈ سیفٹی ٹیموں نے مرغی کے گوشت کی اوور چارجنگ پر چار لاکھ چورانوے ہزار روپے کے جرمانے عائد کیے۔ قواعد و ضوابط کی سنگین خلاف ورزیوں پر چھپن افراد کو حراست میں لیا گیا جبکہ انیس کاروباری مقامات اور دکانوں کو سیل کر دیا گیا تاکہ قانون کی پاسداری کو یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ فوڈ سیفٹی کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں کسی تعطل کے بغیر جاری رہیں گی تاکہ رمضان اور دیگر ایام سمیت پورے سال عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ شہریوں سے بھی مسلسل اپیل کی گئی ہے کہ وہ گراں فروشی کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ حکام کو فراہم کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتِ پنجاب کی جانب سے اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ اشیائے خورونوش کی مصنوعی قلت پیدا کرنے والے اور ناجائز منافع کمانے والے عناصر کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔ اس ضمن میں تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کو خصوصی اور سخت ہدایات جاری کی گئی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پنجاب بھر کی مارکیٹوں اور بازاروں میں پرائس کنٹرول مجسٹریٹس روزانہ کی بنیاد پر چھاپے مار رہے ہیں اور دکانوں کے نرخ ناموں کا انہی بنیادوں پر جائزہ لیا جا رہا ہے۔ عوام نے محکمہ فوڈ سیفٹی کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے اسے مہنگائی کے اس دور میں ایک مثبت اور قابل تحسین قدم قرار دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی دارالحکومت لاہور سمیت تمام بڑے شہروں میں ضلعی انتظامیہ نے پرائس مجسٹریٹس کو متحرک کر رکھا ہے تاکہ عوام کو کسی بھی قسم کی اوور چارجنگ سے بچایا جا سکے۔ حکام کے مطابق خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی اور کسی کو بھی غریب عوام کا استحصال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اشیائے ضروریہ کے معیار اور قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے اس مہم کے دوران تمام اضلاع کی مارکیٹوں کو مانیٹر کیا جا رہا ہے۔ محکمہ فوڈ سیفٹی کا کہنا ہے کہ مارکیٹ کمیٹیوں کے ساتھ مل کر قیمتوں کے استحکام کے لیے مزید موثر لائحہ عمل تیار کیا گیا ہے تاکہ عوام کو براہ راست ریلیف مل سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مجموعی طور پر اس ایک ہفتے کے دوران کی گئی کارروائیوں سے بازاروں میں سرکاری نرخ ناموں پر عمل درآمد بہتر ہوا ہے۔ حکام کا عزم ہے کہ صوبے میں گراں فروشی کے رجحان کو مکمل طور پر ختم کیا جائے گا اور قانون شکن عناصر کے خلاف گھیرا مزید تنگ کیا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1709/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ملک میں مہنگائی کا تسلسل، ایک ہفتے میں 23 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/985/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/985/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 16 Oct 2026 19:37:15 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آٹا]]></category>
		<category><![CDATA[ادارہ_شماریات]]></category>
		<category><![CDATA[اشیائے_ضروریہ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹرول]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[عوام]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_اسمبلی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%85%d9%84%da%a9-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%db%81%d9%86%da%af%d8%a7%d8%a6%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d8%aa%d8%b3%d9%84%d8%b3%d9%84-%d8%a7%db%8c%da%a9-%db%81%d9%81%d8%aa%db%92-%d9%85%db%8c%da%ba-23/</guid>

					<description><![CDATA[وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے کے دوران مہنگائی کی شرح میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان میں مہنگائی کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ملک میں 23 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نو ہفتوں تک مسلسل مہنگائی میں اضافے کے بعد حالیہ ہفتے کے دوران مہنگائی کی شرح میں معمولی کمی واقع ہوئی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق مہنگائی کی رفتار میں 0.04 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ادارہ شماریات کے مطابق سالانہ بنیادوں پر مہنگائی میں اضافے کی رفتار کم ہو کر 11.38 فیصد پر آ گئی ہے۔ گزشتہ ہفتے کے دوران 23 اشیاء مہنگی ہوئیں جبکہ 7 اشیاء کی قیمتوں میں کمی اور 21 اشیاء کی قیمتیں مستحکم رہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قیمتوں میں اضافے کا شکار ہونے والی اشیاء میں چکن، دال چنا، دال ماش، دال مسور، ایل پی جی، ڈیزل، جلانے والی لکڑی، چائے اور آٹا شامل ہیں۔ ان اشیاء کی قیمتوں میں مختلف تناسب سے اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اعداد و شمار کے مطابق چکن کی قیمت میں 3.31 فیصد، دال چنا میں 4.97 فیصد، دال ماش میں 0.98 فیصد اور دال مسور میں 0.65 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح آٹے کی قیمت میں 3.36 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب کچھ اشیاء کی قیمتوں میں کمی بھی دیکھی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق چینی کی قیمت میں 0.62 فیصد، گڑ میں 0.36 فیصد، پیاز میں 4.90 فیصد اور ٹماٹر کی قیمت میں 23.05 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پیٹرول کی قیمت میں بھی 0.70 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ کیلے کی قیمت میں 2.59 فیصد کی کمی ہوئی ہے۔ یہ اشیاء عام آدمی کے لیے ریلیف کا باعث بنتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حساس قیمتوں کے اعشاریے کے لحاظ سے مختلف آمدنی والے طبقات کے لیے مہنگائی کی شرح میں بھی تبدیلی دیکھی گئی ہے۔ کم آمدنی والے طبقے کے لیے مہنگائی کی رفتار میں 0.06 فیصد کمی کے ساتھ 8.19 فیصد رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کے علاوہ 22 ہزار 889 سے 29 ہزار 517 روپے ماہانہ کمانے والوں کے لیے مہنگائی کی رفتار 8.99 فیصد رہی، جبکہ 29 ہزار 518 سے 44 ہزار 175 روپے ماہانہ آمدنی والے طبقے کے لیے یہ شرح 9.54 فیصد رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں، تاہم اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ بدستور جاری ہے جس سے عوام پر بوجھ پڑ رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/985/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>لاہور میں مہنگائی کا راج، اشیائے ضروریہ عام آدمی کی پہنچ سے دور</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/105/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/105/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 08:58:39 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آٹا]]></category>
		<category><![CDATA[اشیائے_ضروریہ]]></category>
		<category><![CDATA[انتظامیہ]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[دودھ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سبزیاں]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[عوام]]></category>
		<category><![CDATA[قیمتیں]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/105/</guid>

					<description><![CDATA[شہر میں آٹا، گھی، دالیں، دودھ اور گوشت سمیت دیگر بنیادی اشیائے خورونوش سرکاری نرخ نامے کے برعکس مہنگے داموں فروخت ہونے لگیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">صوبائی دارالحکومت لاہور میں مہنگائی کے طوفان نے شہریوں کی قوت خرید کو شدید متاثر کر دیا ہے۔ شہر بھر میں آٹا، گھی، کوکنگ آئل، دالیں، چاول، سبزیاں اور پھل سمیت دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ سرکاری نرخ نامے پر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث دکاندار اپنی مرضی کے دام وصول کر رہے ہیں۔ اس صورتحال نے عام شہریوں کے لیے اپنے گھریلو اخراجات کو متوازن رکھنا ایک مشکل چیلنج بنا دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دالوں کی قیمتوں پر نظر ڈالی جائے تو دال چنا 250 روپے، دال ماش 440 روپے، دال مسور 240 روپے اور دال مونگ 320 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہی ہے۔ اس کے علاوہ سفید اور کالے چنے بھی 240 روپے فی کلو کی سطح پر ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کھانے پکانے کے لیے استعمال ہونے والے گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ درجہ اول کا کوکنگ آئل اور گھی 615 روپے فی لٹر جبکہ درجہ دوم کا گھی اور آئل 550 روپے فی لٹر تک فروخت کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چاول کی قیمت 300 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے جبکہ چینی کی قیمت 140 روپے فی کلو مقرر ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بنیادی اشیا کی قیمتوں میں اضافے سے ان کا ماہانہ بجٹ بری طرح متاثر ہو رہا ہے اور وہ پریشانی کا شکار ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہر میں روٹی کی قیمت بھی سرکاری نرخ 14 روپے کے برعکس 20 روپے فی عدد وصول کی جا رہی ہے۔ اسی طرح دودھ کی سرکاری قیمت 170 روپے فی کلو ہے مگر مارکیٹ میں یہ 210 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دہی کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے اور یہ 230 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔ شہریوں کا شکوہ ہے کہ سبزیاں اور ترکاریاں بھی ریٹ لسٹ کے مطابق دستیاب نہیں ہیں جس سے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گوشت کی قیمتوں میں فرق سب سے زیادہ نمایاں ہے۔ بیف کی سرکاری قیمت 800 روپے فی کلو مقرر ہے مگر دکاندار 1500 روپے فی کلو وصول کر رہے ہیں۔ اسی طرح مٹن کی سرکاری قیمت 1600 روپے کے باوجود 3000 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ مارکیٹ میں قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے موثر اقدامات اٹھائے۔ ان کا کہنا ہے کہ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی جانب سے سخت نگرانی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی وقت کی اہم ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین معاشیات کے مطابق اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ سپلائی چین میں رکاوٹیں اور منافع خوری کا رجحان ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کرے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتظامیہ کی جانب سے اکثر اوقات چھاپہ مار ٹیمیں تشکیل دی جاتی ہیں تاہم ان کے نتائج تاحال غیر تسلی بخش ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ جب تک عملی طور پر قیمتوں کا نفاذ یقینی نہیں بنایا جاتا، تب تک مہنگائی کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ معاشی حالات میں عام آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اگر حکومت نے بروقت اقدامات نہ کیے تو نچلے طبقے کے لیے اپنی ضروریات پوری کرنا مزید ناممکن ہو جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرے اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کو عام آدمی کی پہنچ کے مطابق لانے کے لیے ٹھوس حکمت عملی مرتب کرے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/105/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
