<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.16.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>اشاعت &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%a7%d8%b4%d8%a7%d8%b9%d8%aa/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Fri, 23 Oct 2026 20:57:47 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.3</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>اشاعت &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>مصنوعی ذہانت کا کمال: جنوبی افریقی مصنفہ نے 20 ماہ میں 371 کتابیں لکھ ڈالیں</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/technology/%d9%85%d8%b5%d9%86%d9%88%d8%b9%db%8c-%d8%b0%db%81%d8%a7%d9%86%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%da%a9%d9%85%d8%a7%d9%84-%d8%ac%d9%86%d9%88%d8%a8%db%8c-%d8%a7%d9%81%d8%b1%db%8c%d9%82%db%8c/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/technology/%d9%85%d8%b5%d9%86%d9%88%d8%b9%db%8c-%d8%b0%db%81%d8%a7%d9%86%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%da%a9%d9%85%d8%a7%d9%84-%d8%ac%d9%86%d9%88%d8%a8%db%8c-%d8%a7%d9%81%d8%b1%db%8c%d9%82%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Oct 2026 20:57:47 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سائنس و ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[ادب]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اشاعت]]></category>
		<category><![CDATA[انٹرنیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[ایمازون]]></category>
		<category><![CDATA[اے_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[جنوبی_افریقہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[سائنس]]></category>
		<category><![CDATA[سائنس_ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[کتابیں]]></category>
		<category><![CDATA[کورل_ہارٹ]]></category>
		<category><![CDATA[مصنفہ]]></category>
		<category><![CDATA[مصنوعی_ذہانت]]></category>
		<category><![CDATA[موبائل]]></category>
		<category><![CDATA[ناول]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/technology/%d9%85%d8%b5%d9%86%d9%88%d8%b9%db%8c-%d8%b0%db%81%d8%a7%d9%86%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%da%a9%d9%85%d8%a7%d9%84-%d8%ac%d9%86%d9%88%d8%a8%db%8c-%d8%a7%d9%81%d8%b1%db%8c%d9%82%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والی مصنفہ نے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ریکارڈ وقت میں سینکڑوں کتابیں شائع کر کے عالمی سطح پر بحث چھیڑ دی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">جنوبی افریقہ کی ایک مصنفہ، جو &#039;کورل ہارٹ&#039; کے قلمی نام سے لکھتی ہیں، نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے محض 20 ماہ کے قلیل عرصے میں 371 کتابیں شائع کرکے دنیا بھر میں حیرت کے ڈیرے ڈال دیے ہیں۔ یہ انوکھا کارنامہ ٹیکنالوجی اور ادب کے امتزاج پر ایک نئی بحث کو جنم دے رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مصنفہ کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ 14 برسوں سے اشاعتی صنعت سے وابستہ ہیں اور اے آئی کے استعمال سے قبل بھی درجنوں کتابیں تحریر کرچکی ہیں۔ انہوں نے تقریباً 20 ماہ قبل کتاب نویسی کے عمل میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے کا فیصلہ کیا اور ایک مربوط نظام وضع کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس نظام کو تیار کرنے میں انہیں ابتدائی تین ماہ صرف ہوئے۔ مصنفہ مختلف کاموں کے لیے الگ الگ اے آئی ماڈلز کا انتخاب کرتی ہیں۔ ان کے مطابق چیٹ جی پی ٹی مکالموں کی بہتری کے لیے موزوں ہے، جبکہ کہانی کی ساخت کے لیے کلاؤڈ جیسے ماڈلز زیادہ کارگر ثابت ہوتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کورل ہارٹ نے واضح کیا کہ وہ محض ایک کمانڈ کے ذریعے کتاب نہیں لکھواتیں۔ وہ پہلے خود کہانی کا بنیادی تصور، کرداروں کی تفصیلات، اسلوب اور ابواب کا خاکہ تیار کرتی ہیں، جس کے بعد ان کا وضع کردہ نظام اس معلومات کی بنیاد پر ابتدائی مسودہ تیار کرتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مصنفہ کے مطابق، اے آئی سے تیار کردہ پہلا مسودہ براہِ راست اشاعت کے قابل نہیں ہوتا۔ اسے پہلے کہانی کے پلاٹ، کرداروں کے تسلسل اور دیگر تکنیکی خامیوں کو دور کرنے کے لیے ایڈٹ کیا جاتا ہے، جس کے بعد ایک انسانی پروف ریڈر اس کا حتمی جائزہ لیتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کی شائع کردہ 371 کتابوں میں زیادہ تر رومانوی ناول شامل ہیں۔ مصنفہ کا دعویٰ ہے کہ وہ اب تک ڈیجیٹل، پرنٹ اور آڈیو فارمیٹ میں 10 لاکھ سے زائد کتابیں فروخت کرچکی ہیں، اور رواں برس ان کی آمدنی 10 لاکھ ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کی ایک کتاب ایمازون کی ٹاپ 100 بیسٹ سیلرز کی فہرست میں بھی شامل ہو چکی ہے۔ اس کامیابی کے باوجود انہیں سوشل میڈیا پر شدید تنقید اور بعض اوقات دھمکیوں کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے، کیونکہ کچھ حلقے اے آئی کے استعمال کو ادب کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مصنفہ کا موقف ہے کہ کتاب کا معیار قارئین کا ردعمل طے کرتا ہے۔ ان کے مطابق اگر کتاب ناقص ہو تو قارئین اسے مسترد کر دیتے ہیں، لہٰذا کتابوں کی فروخت اس بات کا ثبوت ہے کہ قارئین اس مواد کو قبول کر رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی سطح پر جاری بحث پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا لوگ کتاب کو اس لیے ناپسند کر رہے ہیں کہ وہ ناقص ہے، یا صرف اس لیے کہ اس میں مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا گیا ہے؟ ان کے نزدیک ٹیکنالوجی محض ایک معاون ذریعہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کورل ہارٹ اب ایک ایسے ادارے کی سربراہی کر رہی ہیں جہاں سیکڑوں افراد کو اے آئی کے ذریعے کتابیں لکھنے کی تربیت دی جا چکی ہے۔ وہ اب اے آئی مصنفین کے لیے &#039;او تھری دم&#039; نامی ایک خصوصی سافٹ ویئر متعارف کرانے کی بھی تیاری کر رہی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ادبی حلقوں میں یہ معاملہ اب ایک سنگین بحث بن چکا ہے کہ آیا مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد کو تخلیقی ادب کا درجہ دیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ انسانی جذبات اور تخیل کا نعم البدل کوئی مشین نہیں ہو سکتی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب، ٹیکنالوجی کے حامیوں کا ماننا ہے کہ اے آئی مصنفین کے لیے ایک طاقتور ٹول ہے جو لکھنے کی رفتار اور پیداواری صلاحیت کو کئی گنا بڑھا سکتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی مصنفین کو پیچیدہ کاموں سے نکال کر کہانی کے بنیادی ڈھانچے پر توجہ مرکوز کرنے میں مدد دیتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل میں اس طرح کے مزید واقعات سامنے آنے کی توقع ہے کیونکہ اے آئی ماڈلز میں مسلسل بہتری آ رہی ہے۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا یہ ٹیکنالوجی روایتی اشاعتی صنعت کو مکمل طور پر تبدیل کر دے گی یا یہ صرف ایک محدود رجحان تک محدود رہے گی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/technology/%d9%85%d8%b5%d9%86%d9%88%d8%b9%db%8c-%d8%b0%db%81%d8%a7%d9%86%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%da%a9%d9%85%d8%a7%d9%84-%d8%ac%d9%86%d9%88%d8%a8%db%8c-%d8%a7%d9%81%d8%b1%db%8c%d9%82%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
