<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.14.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>اسپتال_ہنگامہ &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%a7%d8%b3%d9%be%d8%aa%d8%a7%d9%84_%db%81%d9%86%da%af%d8%a7%d9%85%db%81/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sun, 18 Oct 2026 10:57:10 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.3</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>اسپتال_ہنگامہ &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>لاہور کے گلاب دیوی اسپتال میں ہنگامہ، ڈاکٹرز اور لواحقین میں جھگڑا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%da%a9%db%92-%da%af%d9%84%d8%a7%d8%a8-%d8%af%db%8c%d9%88%db%8c-%d8%a7%d8%b3%d9%be%d8%aa%d8%a7%d9%84-%d9%85%db%8c%da%ba-%db%81%d9%86%da%af%d8%a7%d9%85%db%81/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%da%a9%db%92-%da%af%d9%84%d8%a7%d8%a8-%d8%af%db%8c%d9%88%db%8c-%d8%a7%d8%b3%d9%be%d8%aa%d8%a7%d9%84-%d9%85%db%8c%da%ba-%db%81%d9%86%da%af%d8%a7%d9%85%db%81/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 18 Oct 2026 10:57:10 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اسپتال_ہنگامہ]]></category>
		<category><![CDATA[بریکنگ_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس_کارروائی]]></category>
		<category><![CDATA[پیرامیڈیکل_اسٹاف]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹرز_جھگڑا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈی_آئی_جی_آپریشنز]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[زندہ_دلان_لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[فیصل_کامران]]></category>
		<category><![CDATA[گلاب_دیوی_اسپتال]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور_کی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[مریض_لواحقین]]></category>
		<category><![CDATA[نصیر_آباد_پولیس]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%da%a9%db%92-%da%af%d9%84%d8%a7%d8%a8-%d8%af%db%8c%d9%88%db%8c-%d8%a7%d8%b3%d9%be%d8%aa%d8%a7%d9%84-%d9%85%db%8c%da%ba-%db%81%d9%86%da%af%d8%a7%d9%85%db%81/</guid>

					<description><![CDATA[پولیس نے اسپتال میں عملے پر تشدد اور بدنظمی کے الزام میں دو خواتین کو حراست میں لے لیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">لاہور کے معروف طبی ادارے گلاب دیوی اسپتال کے امیر الدین وارڈ میں ایک ناخوشگوار واقعہ پیش آیا ہے جہاں ڈاکٹروں، پیرامیڈیکل اسٹاف اور زیر علاج مریض کے لواحقین کے درمیان سخت تلخ کلامی اور ہاتھا پائی ہوئی۔ واقعے کے دوران اسپتال کے اندر افراتفری کی فضا پیدا ہو گئی جس سے وہاں موجود دیگر مریضوں اور ان کے دگر لواحقین کو بھی شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موصولہ تفصیلات کے مطابق رات کے وقت اسپتال کے وارڈ میں طبی امور انجام دیے جا رہے تھے کہ اس دوران عملے اور مریض کے ساتھ آئے ہوئے افراد کے درمیان کسی بات پر تنازع کھڑا ہو گیا۔ صورتحال اس حد تک بگڑ گئی کہ زبانی کلامی تکرار مارکٹائی اور جسمانی تصادم میں تبدیل ہو گئی، جس کی ویڈیوز بھی سامنے آ چکی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعے کی فوٹیج میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ مریض کے ساتھ آنے والی خواتین اور دیگر افراد ہسپتال کے عملے کے ساتھ الجھ رہے ہیں اور مبینہ طور پر تشدد کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ اس صورتحال نے طبی عملے کی سکیورٹی اور اسپتالوں کے اندر امن و امان کی صورتحال پر ایک بار پھر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لیڈی ڈاکٹر زہرہ کی جانب سے مریض کے علاج معالجے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا دشواری سے بچنے کے لیے وارڈ میں موجود اضافی افراد کو باہر جانے کی درخواست کی گئی تھی۔ اسی دوران بات اتنی بڑھ گئی کہ معمولی تلخ کلامی ایک بڑے تنازع کی شکل اختیار کر گئی اور معاملہ پولیس تک جا پہنچا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقع کی اطلاع ملتے ہی مقامی پولیس نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر صورتحال کو قابو میں کیا اور امن و امان بحال کیا۔ نصیر آباد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اس ہنگامہ آرائی اور مار پیٹ میں براہ راست ملوث پائے جانے والی دو خواتین کو حراست میں لے لیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس حکام کے مطابق حراست میں لی گئی دونوں خواتین کے خلاف ضابطہ فوجداری کے دفعات 107 اور 151 کے تحت انسدادی کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔ ضابطے کی کارروائی مکمل کرنے کے بعد ملزمہ خواتین کو متعلقہ عدالت میں پیش کر دیا گیا ہے تاکہ قانونی تقاضے پورے کیے جا سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے اس واقعے کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ ہسپتالوں کے اندر نظم و ضبط اور امن و امان کی فضا کو ہر صورت برقرار رکھا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی شخص کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی ہرگز اجازت نہیں دی جا سکتی اور اس کی خلاف ورزی کرنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس کے اعلیٰ افسر کا مزید کہنا تھا کہ طبی اداروں میں ہنگامہ آرائی کرنے اور مریضوں کے علاج معالجے کے مقدس فریضے میں رکاوٹ ڈالنے والے عناصر قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکیں گے۔ انہوں نے شہریوں سے بھی اپیل کی کہ وہ اسپتال جیسے حساس اداروں میں تحمل کا مظاہرہ کریں اور انتظامیہ سے تعاون کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گلاب دیوی اسپتال کے امیر الدین وارڈ میں پیش آنے والے اس تنازع نے ایک بار پھر اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ طبی مراکز میں مریضوں کی دیکھ بھال کے دوران بعض اوقات سکیورٹی کے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔ اسپتال کے اندرونی ماحول کو پرسکون رکھنے اور طبی عملے کو پرامن ماحول فراہم کرنے کے حوالے سے انتظامیہ کو مزید موثر اقدامات اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعے کے بعد اسپتال کے دیگر وارڈز میں بھی سکیورٹی کے انتظامات کا جائزہ لیا گیا تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی روک تھام کی جا سکے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے واقعات سے نمٹنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے ادارے ہمہ وقت تیار ہیں اور ضابطے کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوری قانونی چارہ جوئی عمل میں لائی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس اور انتظامیہ کے درمیان اس واقعے کے بعد باقاعدہ رابطہ کاری کو مزید بہتر بنانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ آئندہ کے لیے ہسپتالوں کے اندر اس طرح کے ہنگاموں کو روکا جا سکے۔ طبی عملے نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ ان کی سکیورٹی کو یقینی بنایا جائے تاکہ وہ بغیر کسی خوف کے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں احسن طریقے سے انجام دے سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہر بھر میں اس واقعے پر مختلف حلقوں کی طرف سے تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور اسپتالوں جیسے عوامی فلاحی اداروں میں ضابطہ اخلاق کی سختی سے پابندی کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ مریضوں کے لواحقین کو بھی چاہیے کہ وہ طبی عملے کے ساتھ تعاون کریں اور کسی بھی اختلاف کی صورت میں قانونی اور پرامن ذرائع کا استعمال کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مذکورہ بالا تمام قانونی کارروائیاں اور پولیس کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات اس عزم کا مظہر ہیں کہ شہر کے اندر قانون کی حکمرانی کو ہر قیمت پر برقرار رکھا جائے گا۔ پولیس نے معاملے کی مزید تفتیش شروع کر دی ہے تاکہ اس تکرار اور ہنگامہ آرائی کے تمام محرکات کو سامنے لایا جا سکے اور اس میں ملوث دیگر ممکنہ افراد کا بھی تعین کیا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%da%a9%db%92-%da%af%d9%84%d8%a7%d8%a8-%d8%af%db%8c%d9%88%db%8c-%d8%a7%d8%b3%d9%be%d8%aa%d8%a7%d9%84-%d9%85%db%8c%da%ba-%db%81%d9%86%da%af%d8%a7%d9%85%db%81/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
