<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>اسپائی_ویئر &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%a7%d8%b3%d9%be%d8%a7%d8%a6%db%8c_%d9%88%db%8c%d8%a6%d8%b1/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:32:51 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>اسپائی_ویئر &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>اسرائیلی کمپنیوں کا صحافیوں کی جاسوسی کا نیا اسکینڈل سامنے آ گیا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/1177/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/1177/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 17 Oct 2026 22:37:42 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسپائی_ویئر]]></category>
		<category><![CDATA[اسرائیل]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[الجزیرہ]]></category>
		<category><![CDATA[ایڈ_فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[جاسوسی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیجیٹل_سیکیورٹی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%a6%db%8c%d9%84%db%8c-%da%a9%d9%85%d9%be%d9%86%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%d8%a7-%d8%b5%d8%ad%d8%a7%d9%81%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[اسرائیلی ایڈورٹائزنگ فرم نے اشتہارات کے ذریعے الجزیرہ کے صحافیوں سمیت اہم عالمی اداروں کو نشانہ بنایا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">عالمی سطح پر صحافت اور ڈیجیٹل سیکیورٹی کے حوالے سے ایک انتہائی تشویشناک انکشاف سامنے آیا ہے، جس میں اسرائیلی کمپنیوں کی جانب سے صحافیوں کی جاسوسی کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی کے استعمال کا انکشاف ہوا ہے۔ یونیورسٹی آف ٹورنٹو کے سائبر ریسرچ ادارے &#039;سٹیزن لیب&#039; کی رپورٹ کے مطابق، یہ جاسوسی مہم 2024 اور 2025 کے دوران چلائی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس اسکینڈل میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ادارہ الجزیرہ ہے، جس کے کم از کم 45 صحافیوں اور اسٹاف ممبران کے کمپیوٹرز اور موبائل فونز کو ہیک کیا گیا۔ الجزیرہ کی ٹیکنیکل ٹیم نے اپنے سسٹمز میں غیر معمولی سرگرمی محسوس کرنے کے بعد سٹیزن لیب سے رجوع کیا تھا، جس کے بعد اس خوفناک نیٹ ورک کا پردہ فاش ہوا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس جاسوسی مہم کی سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ اس کے لیے کسی بھی مشکوک لنک پر کلک کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ ماہرین نے اسے &#039;ایڈ فکشن&#039; کا نام دیا ہے، جس میں عام اشتہارات جیسے کہ موبائل فون یا ایئربڈز کے اشتہار کے ذریعے اسپائی ویئر ڈیوائس میں داخل ہو جاتا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹ کے مطابق، یہ اشتہارات ایک لاکھ 20 ہزار سے زائد ویب سائٹس اور 75 ہزار موبائل ایپس پر چلائے گئے۔ جیسے ہی کوئی صارف اپنے اسکرین پر اشتہار دیکھتا، اسرائیلی کمپنی کا تیار کردہ مہلک اسپائی ویئر بغیر کسی صارف کی مداخلت کے ڈیوائس میں گھس جاتا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس ٹیکنالوجی کے ذریعے ہیکرز کو متاثرہ شخص کے کمپیوٹر یا موبائل فون تک مکمل رسائی حاصل ہو جاتی تھی۔ اس میں فائلز، دستاویزات، ای میلز، پاس ورڈز، کی بورڈ پر ٹائپ ہونے والے الفاظ، اسکرین شاٹس، مائیک، کیمرے اور واٹس ایپ پیغامات تک کی نگرانی ممکن بنائی گئی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اس جاسوسی نیٹ ورک کا ہدف صرف عرب صحافی نہیں تھے بلکہ اس کے دائرہ کار میں نیٹو، اقوام متحدہ، پینٹاگون، یورپی کمیشن اور عالمی عدالت انصاف جیسے اہم عالمی ادارے بھی شامل تھے۔ فلسطینی علاقوں میں تو تقریباً ہر ویب سائٹ پر یہ جاسوسی اشتہار موجود تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">الجزیرہ نے اس واقعے کو پریس کی آزادی پر ایک سنگین حملہ قرار دیا ہے اور اس معاملے کی مکمل اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ صحافیوں کی پرائیویسی کو نشانہ بنانا عالمی قوانین اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس معاملے کے منظر عام پر آنے کے بعد گوگل نے &#039;ڈسکور ٹیک&#039; نامی کمپنی کو اپنی پالیسیوں کی خلاف ورزی پر بلیک لسٹ کر دیا ہے۔ یورپی اشتہاری اداروں نے بھی مذکورہ کمپنی کی سرگرمیوں کو معطل کر دیا ہے تاکہ مزید نقصانات سے بچا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ اسرائیلی کمپنیوں پر صحافیوں کی جاسوسی کے الزامات لگے ہوں۔ یاد رہے کہ 2020 میں بھی الجزیرہ کے 36 صحافیوں کے فونز کو اسرائیلی این ایس او گروپ کے &#039;پیگاسس&#039; سافٹ ویئر کے ذریعے ہیک کیا گیا تھا، جس پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی عدالت انصاف، جس نے حال ہی میں نیتن یاہو کے وارنٹ جاری کیے تھے، کا بھی اس جاسوسی نیٹ ورک کی زد میں آنا اس معاملے کی سنگینی کو مزید بڑھاتا ہے۔ یہ صورتحال عالمی اداروں کی ڈیجیٹل سیکیورٹی پر بھی بڑے سوالات اٹھا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مختلف بین الاقوامی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کمپنیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے جو اشتہاری پلیٹ فارمز کو جاسوسی کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔ صحافتی تنظیموں نے بھی اپنے ارکان کو محتاط رہنے اور جدید ترین سیکیورٹی سافٹ ویئر استعمال کرنے کی ہدایت کی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/1177/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>آن لائن اشتہارات کے ذریعے صارفین کی ڈیوائسز ہیک کرنے کا انکشاف</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/technology/1101/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/technology/1101/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 17 Oct 2026 13:56:48 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سائنس و ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آن_لائن_اشتہارات]]></category>
		<category><![CDATA[اسپائی_ویئر]]></category>
		<category><![CDATA[انٹرنیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[ایپ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[ٹورنٹو]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیجیٹل_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیجیٹل_پرائیویسی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/technology/%d8%a2%d9%86-%d9%84%d8%a7%d8%a6%d9%86-%d8%a7%d8%b4%d8%aa%db%81%d8%a7%d8%b1%d8%a7%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%b0%d8%b1%db%8c%d8%b9%db%92-%d8%b5%d8%a7%d8%b1%d9%81%db%8c%d9%86-%da%a9%db%8c-2/</guid>

					<description><![CDATA[محققین نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں حکومتیں آن لائن اشتہارات کے ذریعے لوگوں کی ڈیوائسز کو ہیک کر رہی ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ڈیجیٹل سکیورٹی اور آن لائن حقوق کے شعبے میں ایک انتہائی تشویشناک انکشاف سامنے آیا ہے جس کے مطابق دنیا بھر میں مختلف حکومتیں آن لائن اشتہارات کے ذریعے عام صارفین کی ڈیجیٹل ڈیوائسز کو خاموشی سے نشانہ بنا رہی ہیں۔ اس نئی اور خطرناک تکنیک کا بنیادی مقصد صارفین کی جاسوسی کرنا، ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھنا اور ان کے تمام نجی ڈیٹا تک غیر قانونی رسائی حاصل کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یونیورسٹی آف ٹورنٹو سے وابستہ آن لائن حقوق کے معروف تحقیقی ادارے سٹیزن لیب کی جانب سے جاری کردہ ایک مفصل رپورٹ میں یہ سنگین انتباہ سامنے آیا ہے۔ رپورٹ میں دنیا کو بتایا گیا ہے کہ انٹرنیٹ ویب پیجز پر نظر آنے والے عام دکھائی دینے والے اشتہارات کو اس طرح بدلا گیا ہے کہ وہ صارفین کی ڈیوائسز میں نقصان دہ سافٹ ویئر انسٹال کرنے کے قابل ہو سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیقی ادارے کا کہنا ہے کہ یہ اسپائی ویئر یا جاسوسی کرنے والے سافٹ ویئر اس نوعیت کے ہیں کہ وہ صارف کی معمولی سی بھی لاپرواہی کے بغیر چپکے سے ڈیوائس میں داخل ہو جاتے ہیں۔ یہ اپنی نوعیت کا ایک بالکل نیا اور انتہائی پوشیدہ طریقہ کار ہے جس کے ذریعے ڈیجیٹل ہیکنگ کی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ حیران کن اور پریشان کن بات یہ ہے کہ ان نقصان دہ اشتہارات کے ذریعے صارفین کو کسی بھی قسم کے اشتہار پر کلک کرنے کی کوئی ضرورت پیش نہیں آتی۔ صرف متعلقہ ویب پیج کو وزٹ کرنے سے ہی یہ خطرناک سافٹ ویئر پس پردہ کارروائی کرتے ہوئے موبائل فون یا کمپیوٹر میں انسٹال ہو جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سائبر سکیورٹی کے ماہرین نے اس نئے اور پیچیدہ طریقہ کار کو ایڈفیکشن کا نام دیا ہے جو کہ تحقیق کے مطابق اپنی نوعیت کی پہلی معلوم مثال ہے۔ اس سے قبل اس انداز میں آن لائن اشتہارات کے ذریعے جاسوسی کرنے کا کوئی باقاعدہ اور مصدقہ معاملہ سامنے نہیں آیا تھا جو اب سکیورٹی ماہرین کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیق کاروں نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ ان ہدف شدہ اشتہارات کو اس مہارت اور تکنیکی معاونت سے ڈیزائن کیا جاتا ہے کہ وہ صرف مخصوص اور مطلوبہ افراد کو ہی دکھائی دیں۔ عام صارفین کو ان اشتہارات پر کسی قسم کا شک بھی نہیں گزرتا جبکہ وہ باآسانی اس خاموش سائبر حملے کا شکار بن جاتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انٹرنیٹ پر اشتہارات کی خرید و فروخت کا نظام عام طور پر ریئل ٹائم آکشن کے انتہائی پیچیدہ نظام کے ذریعے چلتا ہے۔ اس خودکار نظام کے تحت ویب سائٹس اپنے خالی اشتہاری مقامات سب سے زیادہ بولی لگانے والے کو فروخت کرتی ہیں جو لمحوں میں طے پاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ اشتہاری بولی کا خودکار عمل روزانہ کی بنیاد پر اربوں مرتبہ انجام پاتا ہے اور اس میں ایک سیکنڈ سے بھی کم وقت لگتا ہے۔ جب بھی کوئی عام صارف ایسی کسی ویب سائٹ کو کھولتا ہے تو یہ تمام عمل پس منظر میں فوراً اور بغیر کسی تاخیر کے مکمل ہو جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈیجیٹل سکیورٹی کے ماہرین نے گہرے خدشات کا اظہار کیا ہے کہ اس نوعیت کے خطرناک حملے بظاہر جتنے محدود بتائے جا رہے ہیں، حقیقت میں اس سے کہیں زیادہ وسیع پیمانے پر جاری ہو سکتے ہیں۔ اس صورتحال سے دنیا بھر کے کروڑوں صارفین کی نجی زندگی اور معلومات کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ دور میں ڈیجیٹل سکیورٹی کے حوالے سے یہ ایک بہت بڑا اور اہم موڑ ہے جہاں دنیا بھر کے اشتہاری نیٹ ورکس کو جاسوسی اور نگرانی کے مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس سنگین صورتحال سے نمٹنے کے لیے سکیورٹی اداروں اور بڑی ٹیک کمپنیوں کو فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صارفین کو بھی اس حوالے سے انتہائی محتاط رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ روزمرہ کی عام براؤزنگ کے دوران بھی وہ اس خاموش حملے کی زد میں آ سکتے ہیں۔ ماہرین نے تمام ٹیکنالوجی کمپنیوں پر زور دیا ہے کہ وہ اشتہاری نیٹ ورکس کی کڑی نگرانی کریں تاکہ اس عمل کو روکا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد بین الاقوامی سطح پر آن لائن پرائیویسی اور سکیورٹی کے حوالے سے بحث ایک بار پھر شدت سے چھڑ گئی ہے۔ دنیا بھر کی حکومتوں اور ریگولیٹرز کے لیے یہ ایک لمحہ فکریہ ہے کہ وہ اس نئی اور جدید ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے ضابطہ کار بنائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس پورے واقعے کے بعد سے ڈیجیٹل حقوق کے علمبردار ادارے مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ عام صارفین کو اشتہارات کے اس نئے خطرے سے آگاہ کیا جائے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ جب تک اشتہاری پلیٹ فارمز کو محفوظ نہیں بنایا جاتا، اس قسم کے حملے جاری رہنے کا شدید خطرہ موجود رہے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/technology/1101/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>آن لائن اشتہارات کے ذریعے صارفین کی جاسوسی کا انکشاف</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/technology/895/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/technology/895/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 15 Oct 2026 21:17:37 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سائنس و ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آن_لائن_جاسوسی]]></category>
		<category><![CDATA[اسپائی_ویئر]]></category>
		<category><![CDATA[اسرائیلی_کمپنی]]></category>
		<category><![CDATA[انٹرنیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[انٹرنیٹ_صارفین]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیکنالوجی_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[ڈسکور_ٹیک]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیجیٹل_پرائیویسی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/technology/%d8%a2%d9%86-%d9%84%d8%a7%d8%a6%d9%86-%d8%a7%d8%b4%d8%aa%db%81%d8%a7%d8%b1%d8%a7%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%b0%d8%b1%db%8c%d8%b9%db%92-%d8%b5%d8%a7%d8%b1%d9%81%db%8c%d9%86-%da%a9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[اسرائیلی کمپنی کے اشتہاری نیٹ ورک کو جاسوسی اور اسپائی ویئر کی تنصیب کے لیے استعمال کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">عالمی سطح پر انٹرنیٹ صارفین کی پرائیویسی اور سکیورٹی کے حوالے سے ایک تشویشناک انکشاف سامنے آیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ آن لائن اشتہارات کے نیٹ ورک کو جاسوسی کے مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کینیڈا کے سائبر سکیورٹی ادارے سٹیزن لیب اور نیویارک کی ایڈورٹائزنگ سکیورٹی فرم کنفائنٹ کی جانب سے جاری کردہ تحقیقی رپورٹس کے مطابق اسرائیلی ڈیجیٹل ایڈورٹائزنگ کمپنی &#039;ڈسکور ٹیک&#039; نے اپنے نیٹ ورک کے ذریعے صارفین کی نگرانی کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ اس نیٹ ورک کے ذریعے صارفین کی آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھی گئی اور ان کے آلات کو ہیک کرنے میں مدد فراہم کی گئی۔ یہ عمل اشتہارات کے ذریعے انجام دیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیقی اداروں کے مطابق ڈسکور ٹیک کی خدمات کا استعمال کرتے ہوئے اسرائیلی اسپائی ویئر کمپنی &#039;کینڈیرو&#039; سمیت نگرانی کرنے والی دیگر کمپنیوں کو بڑے پلیٹ فارمز تک رسائی حاصل ہوئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان پلیٹ فارمز میں گوگل، کامکاسٹ اور روسی کمپنی یانڈیکس جیسے بڑے ادارے شامل ہیں، جن کے اشتہاری نیٹ ورکس کو مبینہ طور پر جاسوسی کے لیے استعمال کیا گیا، جس سے صارفین کی سکیورٹی کو خطرات لاحق ہوئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سٹیزن لیب کے سینیئر محقق وولفی کرسٹل کا کہنا ہے کہ موجودہ آن لائن اشتہاری نظام سکیورٹی کے لیے ایک بنیادی نوعیت کا خطرہ بن چکا ہے، جو ریاستوں، نجی شعبے اور سول سوسائٹی سمیت ہر سطح پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیق کے مطابق ڈسکور ٹیک کے اشتہارات، جن میں اکثر موبائل فونز اور ایئربڈز جیسی عام مصنوعات دکھائی جاتی تھیں، ایک لاکھ 20 ہزار سے زائد ویب سائٹس اور 75 ہزار سے زیادہ ایپس تک پہنچائے گئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محققین نے بتایا کہ جب کوئی صارف ایسی ویب سائٹ یا ایپ پر جاتا تھا جہاں یہ نقصان دہ اشتہارات موجود ہوتے تھے، تو ان کی شناخت کر کے ان کی سرگرمیوں کو ٹریک کرنا ممکن ہو جاتا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بعض معاملات میں صارفین کے اسمارٹ فونز سے ان کے فون نمبرز حاصل کرنے کی بھی کوشش کی گئی۔ جاسوسی کا عمل اتنا سادہ تھا کہ متعلقہ ویب سائٹ پر اشتہار کے لوڈ ہوتے ہی صارف کا ڈیٹا خطرے میں پڑ جاتا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹس کے مطابق کچھ اشتہارات کا مقصد صارفین کے آلات میں کینڈیرو کا اسپائی ویئر نصب کرنے میں مدد کرنا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کنفائنٹ کی جانب سے یہ وضاحت بھی کی گئی ہے کہ کینڈیرو سے منسلک اشتہارات ڈسکور ٹیک کے مجموعی اشتہارات کا ایک بہت معمولی حصہ تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واضح رہے کہ اسرائیلی کمپنی کینڈیرو کو امریکی حکومت نے 2021 میں بلیک لسٹ کر دیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ انکشاف آن لائن اشتہارات کے کاروبار میں موجود سکیورٹی خلا کو ظاہر کرتا ہے، جس کے باعث انٹرنیٹ صارفین کی پرائیویسی اور ڈیٹا کی حفاظت پر سوالیہ نشان کھڑے ہو گئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/technology/895/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
