<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.25.1"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>اسٹیٹ_بینک &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%a7%d8%b3%d9%b9%db%8c%d9%b9_%d8%a8%db%8c%d9%86%da%a9/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:30:58 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>اسٹیٹ_بینک &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>ایف بی آر اکتوبر 2026 کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے میں ناکام، 116 ارب روپے کمی کا امکان</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/%d8%a7%db%8c%d9%81-%d8%a8%db%8c-%d8%a2%d8%b1-%d8%a7%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8%d8%b1-2026-%da%a9%d8%a7-%d9%b9%db%8c%da%a9%d8%b3-%db%81%d8%af%d9%81-%d8%ad%d8%a7%d8%b5%d9%84/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/%d8%a7%db%8c%d9%81-%d8%a8%db%8c-%d8%a2%d8%b1-%d8%a7%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8%d8%b1-2026-%da%a9%d8%a7-%d9%b9%db%8c%da%a9%d8%b3-%db%81%d8%af%d9%81-%d8%ad%d8%a7%d8%b5%d9%84/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 31 Oct 2026 08:28:26 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹاک_ایکسچینج]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹیٹ_بینک]]></category>
		<category><![CDATA[اکتوبر_2026]]></category>
		<category><![CDATA[ایف_بی_آر]]></category>
		<category><![CDATA[ایف_بی_آر_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ایف_بی_آر_رپورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_ٹیکس]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_معیشت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d8%a7%db%8c%d9%81-%d8%a8%db%8c-%d8%a2%d8%b1-%d8%a7%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8%d8%b1-2026-%da%a9%d8%a7-%d9%b9%db%8c%da%a9%d8%b3-%db%81%d8%af%d9%81-%d8%ad%d8%a7%d8%b5%d9%84-%da%a9%d8%b1%d9%86%db%92-%d9%85/</guid>

					<description><![CDATA[فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو اکتوبر کے ماہانہ ہدف میں 156 ارب روپے کی کمی کا سامنا ہے، مزید وصولیوں کے بعد خسارہ 116 ارب تک رہنے کی توقع ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اکتوبر 2026 کے لیے مقرر کردہ ٹیکس وصولیوں کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اکتوبر کے مہینے کے لیے 1 ہزار 131 ارب روپے کا ٹیکس ہدف مقرر کیا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین تفصیلات کے مطابق، اب تک مجموعی طور پر 975 ارب روپے کی ٹیکس وصولیاں ممکن ہو سکی ہیں۔ اس طرح مقررہ ہدف کے مقابلے میں 156 ارب روپے کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کو توقع ہے کہ ہفتے کے روز مخصوص ٹیکس دفاتر اور بینک برانچیں کھلی رہنے کے باعث مزید 40 ارب روپے کی وصولی متوقع ہے۔ ان اضافی وصولیوں کے باوجود اکتوبر کے ماہانہ ہدف میں تقریباً 116 ارب روپے کی کمی رہنے کا امکان ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایف بی آر کی جانب سے ٹیکس گوشوارے جمع کروانے کی آخری تاریخ میں 31 اکتوبر تک توسیع کی گئی تھی۔ ذرائع کے مطابق، تنخواہ دار طبقے کے علاوہ ملک بھر سے 45 لاکھ سے زائد افراد نے اپنے ٹیکس گوشوارے جمع کروانے کا عمل مکمل کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے ٹیکس ہدف کے حصول کے لیے مسلسل کوششیں جاری ہیں تاکہ ملکی معیشت کو درپیش چیلنجز سے نمٹا جا سکے۔ ایف بی آر حکام صورتحال کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں تاکہ آئندہ ماہ کے اہداف کو بہتر طریقے سے پورا کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹیکس وصولی میں کمی کے اس رجحان کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطحی اجلاسوں کا سلسلہ بھی متوقع ہے۔ ایف بی آر کا بنیادی مقصد محصولات میں اضافہ کرنا ہے تاکہ ملکی ترقیاتی منصوبوں اور اخراجات کے لیے درکار فنڈز بروقت دستیاب ہو سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرینِ معاشیات کے مطابق ٹیکس ہدف کا حصول ملکی معیشت کے لیے ایک اہم اشاریہ سمجھا جاتا ہے۔ ایف بی آر کی جانب سے ٹیکس دہندگان کی سہولت کے لیے آن لائن نظام کو بھی بہتر بنایا گیا ہے تاکہ گوشواروں کی وصولی میں شفافیت آ سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک بھر میں ٹیکس دفاتر کو ہفتے کے روز بھی فعال رکھنے کا فیصلہ اس لیے کیا گیا تاکہ ٹیکس دہندگان کو آخری لمحات میں سہولت فراہم کی جا سکے۔ اس اقدام سے محصولات کی وصولی میں بہتری لانے کی امید ظاہر کی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹیکس گوشوارے جمع کروانے کی تاریخ میں توسیع کے بعد سے اب تک گوشوارے جمع کروانے والوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ یہ پیش رفت ٹیکس کلچر کے فروغ کے لیے ایک مثبت قدم کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے ٹیکس کے نظام میں اصلاحات کا عمل بھی جاری ہے۔ ان اصلاحات کا مقصد ٹیکس وصولی کے عمل کو آسان بنانا اور محصولات میں اضافہ کرنا ہے تاکہ قومی خزانے کو مضبوط بنایا جا سکے اور معاشی اہداف حاصل کیے جا سکیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/%d8%a7%db%8c%d9%81-%d8%a8%db%8c-%d8%a2%d8%b1-%d8%a7%da%a9%d8%aa%d9%88%d8%a8%d8%b1-2026-%da%a9%d8%a7-%d9%b9%db%8c%da%a9%d8%b3-%db%81%d8%af%d9%81-%d8%ad%d8%a7%d8%b5%d9%84/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>اوگرا نے ایل این جی کی نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/%d8%a7%d9%88%da%af%d8%b1%d8%a7-%d9%86%db%92-%d8%a7%db%8c%d9%84-%d8%a7%db%8c%d9%86-%d8%ac%db%8c-%da%a9%db%8c-%d9%86%d8%a6%db%8c-%d9%82%db%8c%d9%85%d8%aa%d9%88%da%ba-%da%a9%d8%a7/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/%d8%a7%d9%88%da%af%d8%b1%d8%a7-%d9%86%db%92-%d8%a7%db%8c%d9%84-%d8%a7%db%8c%d9%86-%d8%ac%db%8c-%da%a9%db%8c-%d9%86%d8%a6%db%8c-%d9%82%db%8c%d9%85%d8%aa%d9%88%da%ba-%da%a9%d8%a7/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 30 Oct 2026 14:57:41 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹاک_ایکسچینج]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹیٹ_بینک]]></category>
		<category><![CDATA[اوگرا]]></category>
		<category><![CDATA[ایس_ایس_جی_سی]]></category>
		<category><![CDATA[ایس_این_جی_پی_ایل]]></category>
		<category><![CDATA[ایل_این_جی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پی_ایس_او]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d8%a7%d9%88%da%af%d8%b1%d8%a7-%d9%86%db%92-%d8%a7%db%8c%d9%84-%d8%a7%db%8c%d9%86-%d8%ac%db%8c-%da%a9%db%8c-%d9%86%d8%a6%db%8c-%d9%82%db%8c%d9%85%d8%aa%d9%88%da%ba-%da%a9%d8%a7-%d9%86%d9%88%d9%b9/</guid>

					<description><![CDATA[اکتوبر کے لیے ایل این جی کی قیمتوں میں 15.27 فیصد تک اضافہ کیا گیا ہے جس کا اطلاق یکم اکتوبر سے ہوگا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے ایل این جی کی نئی قیمتوں کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ جاری کردہ اعلامیے کے مطابق ستمبر کے مقابلے میں اکتوبر کے مہینے کے لیے ایل این جی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اوگرا کے مطابق قیمتوں میں یہ اضافہ پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے دو کارگوز کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق یکم اکتوبر 2026 سے لاگو تصور کیا جائے گا جس سے صارفین پر اضافی بوجھ پڑے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نوٹیفکیشن کے مطابق سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی ایل) کے لیے ایل این جی کی قیمت میں 15.27 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ اس اضافے کے بعد نئی قیمت 16.39 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اعداد و شمار کے مطابق سوئی سدرن سسٹم پر ایل این جی کی قیمت میں 2.17 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ اضافہ توانائی کی عالمی منڈی میں ہونے والی تبدیلیوں کے پیش نظر کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سوئی ناردرن سسٹم پر بھی ایل این جی کی قیمت میں 2.13 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کا اضافہ ہوا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ قیمتوں کا تعین شفاف طریقے سے اور درآمدی لاگت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ ستمبر میں سوئی ناردرن سسٹم کے لیے ایل این جی کی قیمت 15.19 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر تھی۔ جبکہ سوئی سدرن سسٹم کے لیے یہ قیمت 14.22 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اوگرا کی جانب سے جاری کردہ یہ نوٹیفکیشن گیس کی سپلائی چین اور تقسیم کار کمپنیوں کے لیے ہدایات پر مشتمل ہے۔ تمام متعلقہ اداروں کو نئی قیمتوں کے مطابق بلنگ کا عمل یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کا ایک بڑا حصہ ایل این جی کی درآمد سے پورا کرتا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کا بڑھنا مقامی سطح پر گیس کے نرخوں میں اضافے کا بنیادی سبب بنتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے توانائی کے شعبے میں اصلاحات کا عمل جاری ہے تاکہ صارفین کو بلا تعطل گیس کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔ اس ضمن میں اوگرا وقتاً فوقتاً قیمتوں کا جائزہ لیتی رہتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایل این جی کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد صنعتی اور گھریلو صارفین کے لیے گیس کے نرخوں میں تبدیلی متوقع ہے۔ متعلقہ حکام صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس نوٹیفکیشن کے بعد اب گیس کمپنیاں اکتوبر کے مہینے کے لیے جاری ہونے والے بلوں میں نئی قیمتوں کا اطلاق کریں گی۔ صارفین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ گیس کے استعمال میں احتیاط سے کام لیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/%d8%a7%d9%88%da%af%d8%b1%d8%a7-%d9%86%db%92-%d8%a7%db%8c%d9%84-%d8%a7%db%8c%d9%86-%d8%ac%db%8c-%da%a9%db%8c-%d9%86%d8%a6%db%8c-%d9%82%db%8c%d9%85%d8%aa%d9%88%da%ba-%da%a9%d8%a7/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>بنانس کو تاریخ کے سب سے بڑے ہیک کا سامنا، 6.3 ارب ڈالر چوری</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/%d8%a8%d9%86%d8%a7%d9%86%d8%b3-%da%a9%d9%88-%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%ae-%da%a9%db%92-%d8%b3%d8%a8-%d8%b3%db%92-%d8%a8%da%91%db%92-%db%81%db%8c%da%a9-%da%a9%d8%a7/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/%d8%a8%d9%86%d8%a7%d9%86%d8%b3-%da%a9%d9%88-%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%ae-%da%a9%db%92-%d8%b3%d8%a8-%d8%b3%db%92-%d8%a8%da%91%db%92-%db%81%db%8c%da%a9-%da%a9%d8%a7/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 30 Oct 2026 13:48:07 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[آن_لائن_فراڈ]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹاک_ایکسچینج]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹیٹ_بینک]]></category>
		<category><![CDATA[بٹكوائن]]></category>
		<category><![CDATA[بزنس_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[بنانس]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹرول]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d8%a8%d9%86%d8%a7%d9%86%d8%b3-%da%a9%d9%88-%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%ae-%da%a9%db%92-%d8%b3%d8%a8-%d8%b3%db%92-%d8%a8%da%91%db%92-%db%81%db%8c%da%a9-%da%a9%d8%a7-%d8%b3%d8%a7%d9%85%d9%86%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی ایکسچینج بنانس کو اربوں ڈالر کے ڈیجیٹل اثاثوں کے حملے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی ایکسچینج بنانس کو تاریخ کے سب سے بڑے سائبر حملے کا سامنا کرنا پڑا ہے جس کے دوران قریباً 6.3 ارب ڈالر مالیت کے اثاثے چوری کر لیے گئے ہیں۔ ڈیجیٹل کرنسی کی دنیا میں اس بڑے واقعے نے سرمایہ کاروں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے اور سکیورٹی انتظامات پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اطلاعات کے مطابق اس ہیک کی مالیت کو تاریخ کا سب سے بڑا ڈیجیٹل سرارقرار دیا جا رہا ہے جس نے ایکسچینج کے نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ کرپٹو کرنسی کے شعبے سے وابستہ ماہرین اور مبصرین اس صورتحال کو انتہائی خطرناک قرار دے رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بنانس انتظامیہ کی طرف سے جاری کردہ ابتدائی بیانات میں تصدیق کی گئی ہے کہ اس بڑے حملے کے نتیجے میں کروڑوں اور اربوں روپے کے اثاثے غیر قانونی طور پر منتقل کیے گئے ہیں۔ کمپنی کے مطابق اس سنگین واقعے کی اطلاع ملتے ہی فوری طور پر ہنگامی اقدامات کا آغاز کر دیا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کمپنی کے ترجمان نے بتایا ہے کہ چوری شدہ فنڈز میں سے نصف اثاثوں کو فوری کارروائی کرتے ہوئے منجمد کر دیا گیا ہے تاکہ مزید نقصان سے بچا جا سکے۔ اس بروقت اقدام سے کافی حد تک صورتحال کو سنبھالنے میں مدد ملی ہے اور مزید رقوم کی منتقلی کو روکا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کے باوجود ایک بڑی مقدار میں اثاثے اب بھی مبینہ طور پر ہیکرز کے قبضے میں موجود ہیں جو کہ انتہائی تشویشناک بات ہے۔ کرپٹو کرنسی ایکسچینج کا کہنا ہے کہ انہوں نے ان باقی ماندہ فنڈز کی بازیابی کے لیے بھی باضابطہ طور پر کام شروع کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈیجیٹل سکیورٹی کا تجزیہ کرنے والی دو اہم تجزیاتی فرموں نے اس بڑے سائبر حملے کے پیچھے ایک شمالی کوریا کے ہیکنگ یونٹ کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا ہے۔ ان اداروں کا ماننا ہے کہ اس حملے کے پیچھے کسی منظم اور ریاستی سطح کی معاونت رکھنے والے گروہ کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاہم دوسری طرف سے تاحال کسی بھی گروپ یا تنظیم نے اس بڑے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے اور صورتحال پر اب بھی ابہام کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ بنانس کے ذمہ داران نے شمالی کوریا کے ساتھ اس واقعے کے ممکنہ روابط کے بارے میں پوچھے گئے سوالات کا کوئی براہ راست جواب نہیں دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس واقعے کے بعد دنیا بھر میں کرپٹو کرنسی کے صارفین اپنی رقوم کی حفاظت کے حوالے سے شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ بہت سے سرمایہ کار یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آیا ان کے ذاتی اکاؤنٹس اور رقوم محفوظ ہیں یا انہیں بھی کسی قسم کے خطرے کا سامنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بنانس نے اپنے صارفین کو یقین دلانے کی کوشش کی ہے کہ ان کے بیشتر اثاثے محفوظ ہیں اور وہ اس سانحے کے اثرات سے نکلنے کے لیے تمام ممکنہ تکنیکی ذرائع بروئے کار لا رہے ہیں۔ ایکسچینج کے مطابق سکیورٹی کے نظام کو مزید سخت کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بین الاقوامی سطح پر سائبر سکیورٹی کے ماہرین اس حملے کے طریقہ کار کی باریک بینی سے جانچ پڑتال کر رہے ہیں۔ اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا ایکسچینج کے اندرونی نظام میں کوئی کمزوری تھی یا حملہ آوروں نے کسی بیرونی راستے سے یہ گھناؤنا جرم کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ادارہ جاتی سطح پر اس واقعے کے تمام پہلوؤں کو سامنے لانے کے لیے تحقیقات جاری ہیں جن میں مزید اہم انکشافات متوقع ہیں۔ حکام اور متعلقہ ادارے اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مستقبل میں اس نوعیت کے بڑے سانحات سے بچا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس تمام صورتحال کے دوران عالمی سطح پر کرپٹو کرنسی کے ضابطہ کاروں اور ریگولیٹرز کی جانب سے بھی بیانات سامنے آنے کا امکان ہے۔ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے کے لیے بنانس کو طویل مدتی اور انتہائی سخت سکیورٹی اقدامات اٹھانا ہوں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/%d8%a8%d9%86%d8%a7%d9%86%d8%b3-%da%a9%d9%88-%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%ae-%da%a9%db%92-%d8%b3%d8%a8-%d8%b3%db%92-%d8%a8%da%91%db%92-%db%81%db%8c%da%a9-%da%a9%d8%a7/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پاکستان میں سونے کی قیمت مستحکم، چاندی کے نرخوں میں کمی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b3%d9%88%d9%86%db%92-%da%a9%db%8c-%d9%82%db%8c%d9%85%d8%aa-%d9%85%d8%b3%d8%aa%d8%ad%da%a9%d9%85/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b3%d9%88%d9%86%db%92-%da%a9%db%8c-%d9%82%db%8c%d9%85%d8%aa-%d9%85%d8%b3%d8%aa%d8%ad%da%a9%d9%85/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 29 Oct 2026 13:16:01 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹاک_ایکسچینج]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹیٹ_بینک]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹرول]]></category>
		<category><![CDATA[چاندی_کی_قیمت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈالر]]></category>
		<category><![CDATA[سونا]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b3%d9%88%d9%86%db%92-%da%a9%db%8c-%d9%82%db%8c%d9%85%d8%aa-%d9%85%d8%b3%d8%aa%d8%ad%da%a9%d9%85/</guid>

					<description><![CDATA[آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق ملک بھر میں سونے کی فی تولہ قیمت 4 لاکھ 25 ہزار 636 روپے پر برقرار رہی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ملک بھر میں جمعرات کے روز سونے کی قیمتوں میں استحکام دیکھا گیا ہے۔ آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان میں سونے کی فی تولہ قیمت 4 لاکھ 25 ہزار 636 روپے پر مستحکم رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسی طرح 10 گرام سونے کے نرخ بھی بغیر کسی تبدیلی کے 3 لاکھ 64 ہزار 914 روپے پر برقرار ہیں۔ عالمی منڈی میں بھی سونے کی قیمتوں میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں دیکھی گئی اور فی اونس سونا 4031 ڈالر پر مستحکم رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سونے کے برعکس چاندی کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق چاندی کی فی تولہ قیمت میں 86 روپے کی کمی واقع ہوئی ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 5768 روپے کی سطح پر آ گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان میں سونے کی قیمتوں کا تعین بین الاقوامی مارکیٹ کے ریٹ کے مطابق کیا جاتا ہے۔ موجودہ طریقہ کار کے تحت مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت کو عالمی ریٹ سے 20 ڈالر فی اونس زائد مقرر کیا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معاشی ماہرین کے مطابق سونا روایتی طور پر ایک محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے۔ جب سرمایہ کار معاشی یا سیاسی غیر یقینی صورتحال کا سامنا کرتے ہیں تو وہ اپنی دولت کو محفوظ بنانے کے لیے سونے کی خریداری کو ترجیح دیتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاریخی طور پر سونا صدیوں سے کرنسی اور دولت کا ایک اہم ذریعہ رہا ہے۔ افراط زر کے دور میں سونے کی مانگ میں اضافہ ہو جاتا ہے کیونکہ یہ کرنسی کی قدر میں کمی کے خلاف ایک مضبوط ڈھال کے طور پر کام کرتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا براہ راست تعلق عالمی منڈی کے رجحانات اور مقامی کرنسی کی قدر سے ہوتا ہے۔ جیولرز ایسوسی ایشن روزانہ کی بنیاد پر ان نرخوں کا تعین کرتی ہے تاکہ مارکیٹ میں شفافیت برقرار رہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی سطح پر سونے کی قیمتوں میں استحکام کی وجہ سے مقامی مارکیٹ پر بھی سکون کا اثر دیکھا جا رہا ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں خرید و فروخت کا عمل معمول کے مطابق جاری ہے اور قیمتوں میں کوئی غیر معمولی تبدیلی نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت اور متعلقہ ادارے سونے کی قیمتوں کے تعین کے عمل کو شفاف بنانے کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کردہ یہ نرخ ملک بھر کے تمام بڑے شہروں کے لیے مستند سمجھے جاتے ہیں اور ان پر عمل درآمد کیا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چاندی کی قیمتوں میں کمی کو بھی مارکیٹ کے لیے ایک اہم اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔ چاندی کا استعمال نہ صرف زیورات بلکہ صنعتی مقاصد کے لیے بھی کیا جاتا ہے، اس لیے اس کی قیمتوں میں تبدیلی کے اثرات مختلف شعبوں پر پڑتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مجموعی طور پر آج کا دن پاکستان کی صرافہ مارکیٹ کے لیے پرسکون رہا ہے۔ سرمایہ کار اور خریدار دونوں ہی موجودہ قیمتوں پر مارکیٹ کے رجحانات کو دیکھ رہے ہیں، جبکہ ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کردہ ریٹ لسٹ کے مطابق کاروبار جاری ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b3%d9%88%d9%86%db%92-%da%a9%db%8c-%d9%82%db%8c%d9%85%d8%aa-%d9%85%d8%b3%d8%aa%d8%ad%da%a9%d9%85/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پاسبان ریمیٹنس ریوارڈز اسکیم: 16 ارب روپے کے انعامات جیتنے کا طریقہ کار واضح</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/%d9%be%d8%a7%d8%b3%d8%a8%d8%a7%d9%86-%d8%b1%db%8c%d9%85%db%8c%d9%b9%d9%86%d8%b3-%d8%b1%db%8c%d9%88%d8%a7%d8%b1%da%88%d8%b2-%d8%a7%d8%b3%da%a9%db%8c%d9%85-16-%d8%a7%d8%b1%d8%a8/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/%d9%be%d8%a7%d8%b3%d8%a8%d8%a7%d9%86-%d8%b1%db%8c%d9%85%db%8c%d9%b9%d9%86%d8%b3-%d8%b1%db%8c%d9%88%d8%a7%d8%b1%da%88%d8%b2-%d8%a7%d8%b3%da%a9%db%8c%d9%85-16-%d8%a7%d8%b1%d8%a8/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 29 Oct 2026 13:14:55 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹاک_ایکسچینج]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹیٹ_بینک]]></category>
		<category><![CDATA[انعامی_اسکیم]]></category>
		<category><![CDATA[اوورسیز_پاکستانی]]></category>
		<category><![CDATA[بیرون_ملک_پاکستانی]]></category>
		<category><![CDATA[بینکنگ]]></category>
		<category><![CDATA[پاسبان_اسکیم]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹرول]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d9%be%d8%a7%d8%b3%d8%a8%d8%a7%d9%86-%d8%b1%db%8c%d9%85%db%8c%d9%b9%d9%86%d8%b3-%d8%b1%db%8c%d9%88%d8%a7%d8%b1%da%88%d8%b2-%d8%a7%d8%b3%da%a9%db%8c%d9%85-16-%d8%a7%d8%b1%d8%a8/</guid>

					<description><![CDATA[اسٹیٹ بینک کی سرپرستی میں شروع ہونے والی اسکیم کے تحت بیرون ملک سے قانونی ذرائع سے رقم بھجوانے والے پاکستانی انعامات کے حقدار ہوں گے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے شروع کی گئی &#039;پاسبان ریمیٹنس ریوارڈز اسکیم&#039; کے حوالے سے اہم تفصیلات جاری کر دی گئی ہیں۔ اس اسکیم کا بنیادی مقصد قانونی ذرائع سے ترسیلاتِ زر کو فروغ دینا ہے، جس کے تحت سالانہ 16 ارب روپے کے نقد انعامات تقسیم کیے جائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسکیم کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس میں شمولیت کے لیے کسی قسم کی رجسٹریشن، ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے یا فیس ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بیرون ملک سے قانونی ذرائع کے ذریعے رقم وصول کرنے والے تمام اہل افراد خود بخود اس قرعہ اندازی کا حصہ بن جائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسکیم میں اہلیت برقرار رکھنے کے لیے &#039;تین ماہ کی شرط&#039; کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس کے مطابق، ایک ہی اکاؤنٹ میں سہ ماہی کے دوران ہر ماہ کم از کم 100 امریکی ڈالر کے مساوی رقم وصول ہونا ضروری ہے۔ اگر کوئی صارف صرف ایک ماہ رقم وصول کرتا ہے اور باقی دو ماہ ترسیلات نہیں آتی تو وہ قرعہ اندازی کے لیے نااہل تصور ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسکیم کا آغاز یکم اکتوبر 2026 سے ہو چکا ہے، جس کی پہلی سہ ماہی 31 دسمبر 2026 کو مکمل ہوگی۔ اس کے بعد پہلی قرعہ اندازی 15 جنوری 2027 کو منعقد کی جائے گی۔ کامیاب ہونے والے خوش نصیبوں کو انعامی رقم ان کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کر دی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انعامات کی تقسیم کے لیے مختلف خطوں کا کوٹہ مقرر کیا گیا ہے۔ خلیجی ممالک (GCC) کے لیے 50 فیصد، برطانیہ کے لیے 15 فیصد، یورپ کے لیے 15 فیصد، جبکہ شمالی امریکا اور دیگر ممالک کے لیے 10، 10 فیصد کا کوٹہ مختص کیا گیا ہے۔ تاہم، پہلا انعام تمام خطوں کے لیے یکساں طور پر کھلا رکھا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسکیم کے تحت بننے والی انٹریاں خودکار طریقے سے ون لنک کے ذریعے تیار کی جائیں گی۔ ہر 100 ڈالر کی ترسیل پر ایک انٹری شمار ہوگی اور انٹریوں کی تعداد پر کوئی حد مقرر نہیں کی گئی ہے۔ تاہم، یہ انٹریاں عارضی ہوں گی اور سہ ماہی ختم ہونے پر اگلی سہ ماہی میں منتقل نہیں ہوں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بینکنگ حکام نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ انعام کے نام پر کسی بھی قسم کی فیس یا رقم کا مطالبہ کرنے والے افراد سے ہوشیار رہیں۔ کسی بھی شخص کے ساتھ اپنا او ٹی پی (OTP)، پن (PIN) یا بینک پاس ورڈ ہرگز شیئر نہ کریں اور اپنی بینکنگ معلومات کو اپ ڈیٹ رکھیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسکیم کے تمام تر اخراجات شریک بینک اپنے وسائل سے ادا کریں گے، جس کا مطلب ہے کہ قومی خزانے پر اس کا کوئی بوجھ نہیں پڑے گا۔ یہ اقدام پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے اشتراک سے عمل میں لایا گیا ہے تاکہ ترسیلاتِ زر میں اضافہ کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قرعہ اندازی کے کامیاب افراد کو انعام والے ماہ کی 21 تاریخ تک رقم ان کے بینک اکاؤنٹ میں پاکستانی روپے میں منتقل کر دی جائے گی۔ اس رقم پر قابلِ اطلاق ودہولڈنگ ٹیکس کی کٹوتی قانون کے مطابق کی جائے گی، جس سے متعلق صارفین کو آگاہ رکھا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسکیم میں شامل ہونے کے لیے کسی بھی قسم کی درخواست دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہر اہل ترسیلِ زر کی ڈالر کے مساوی رقم کو قریب ترین 100 ڈالر تک راؤنڈ کر کے ون لنک کے ذریعے خودکار طور پر انٹریاں تیار کی جاتی ہیں، جو شفافیت کو یقینی بناتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اگر کسی صارف کو سیکیورٹی یا کسی مشکوک سرگرمی کا سامنا ہو تو اسے فوری طور پر اپنے متعلقہ بینک سے رابطہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ بینکنگ حکام نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی قسم کی فراڈ یا منسوخ شدہ ٹرانزیکشنز کو اس اسکیم میں شامل نہیں کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ اسکیم بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے ایک بہترین موقع ہے کہ وہ قانونی ذرائع سے رقم بھجوا کر نہ صرف ملکی معیشت کو مستحکم کریں بلکہ انعامات جیتنے کا موقع بھی حاصل کریں۔ تمام متعلقہ معلومات بینکوں کی ویب سائٹس پر بھی دستیاب ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/%d9%be%d8%a7%d8%b3%d8%a8%d8%a7%d9%86-%d8%b1%db%8c%d9%85%db%8c%d9%b9%d9%86%d8%b3-%d8%b1%db%8c%d9%88%d8%a7%d8%b1%da%88%d8%b2-%d8%a7%d8%b3%da%a9%db%8c%d9%85-16-%d8%a7%d8%b1%d8%a8/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ملک بھر میں ایل پی جی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، چھوٹے کاروباری طبقے میں تشویش</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/%d9%85%d9%84%da%a9-%d8%a8%da%be%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%db%8c%d9%84-%d9%be%db%8c-%d8%ac%db%8c-%da%a9%db%8c-%d9%82%db%8c%d9%85%d8%aa%d9%88%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/%d9%85%d9%84%da%a9-%d8%a8%da%be%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%db%8c%d9%84-%d9%be%db%8c-%d8%ac%db%8c-%da%a9%db%8c-%d9%82%db%8c%d9%85%d8%aa%d9%88%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 28 Oct 2026 10:57:01 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹاک_ایکسچینج]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹیٹ_بینک]]></category>
		<category><![CDATA[ایل_پی_جی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹرول]]></category>
		<category><![CDATA[تاجر]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈالر]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d9%85%d9%84%da%a9-%d8%a8%da%be%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%db%8c%d9%84-%d9%be%db%8c-%d8%ac%db%8c-%da%a9%db%8c-%d9%82%db%8c%d9%85%d8%aa%d9%88%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba/</guid>

					<description><![CDATA[گیس کی قلت اور قیمتوں میں اضافے کے باعث ہوٹل مالکان اور عام شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">راولپنڈی سمیت ملک بھر میں ایل پی جی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے نے چھوٹے کاروباری طبقے اور ہوٹل مالکان کی کمر توڑ دی ہے۔ گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث روزمرہ کے کاروباری اخراجات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متاثرہ افراد کے مطابق ایل پی جی کی فی کلو قیمت 400 روپے سے بڑھ کر اب 600 روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔ قیمتوں میں اس اچانک اور بے تحاشا اضافے نے عام آدمی کے لیے مشکلات کے نئے دروازے کھول دیے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ہوٹل مالکان کا کہنا ہے کہ گیس سلنڈر جو پہلے 18 ہزار روپے میں دستیاب تھا، اب اس کی قیمت 25 سے 26 ہزار روپے تک پہنچ چکی ہے۔ اس صورتحال میں ہوٹلوں کا کاروبار چلانا انتہائی مشکل اور مہنگا ہو گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک کے مختلف حصوں میں گیس لوڈشیڈنگ کے باعث ایل پی جی کی طلب میں اچانک اضافہ ہوا ہے، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مارکیٹ میں قیمتوں کو من مانی سطح پر بڑھا دیا گیا ہے۔ یہ صورتحال چھوٹے تاجروں کے لیے ناقابل برداشت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ پہلے ہی مہنگائی کی وجہ سے عوام کی قوتِ خرید متاثر ہے، اب گیس کی قیمتوں میں اضافے نے ان پر مزید مالی بوجھ ڈال دیا ہے۔ ہوٹل مالکان اپنے اخراجات پورے کرنے سے قاصر دکھائی دے رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متاثرہ کاروباری افراد نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے کا فوری نوٹس لیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ قیمتوں پر نظرثانی کرکے انہیں مناسب سطح پر لانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتی سطح پر قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے اقدامات نہ کیے گئے تو چھوٹے کاروبار مزید بحران کا شکار ہو سکتے ہیں۔ ہوٹل مالکان نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو بہت سے کاروبار بند ہونے کا خطرہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عوامی حلقوں نے بھی ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ گیس کی قلت اور مہنگائی نے ان کی زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے اور حکومت کو اس مسئلے کا فوری حل نکالنا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کے مطابق توانائی کے بحران اور طلب و رسد میں توازن نہ ہونے کی وجہ سے قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ایل پی جی کی سپلائی چین کو بہتر بنانا قیمتوں میں استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے ابھی تک قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے کوئی حتمی حکمت عملی سامنے نہیں آئی ہے۔ تاجروں نے امید ظاہر کی ہے کہ متعلقہ حکام جلد اس معاملے پر غور کریں گے تاکہ عام آدمی کو ریلیف مل سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک بھر میں جاری اس صورتحال کے تناظر میں ہوٹل مالکان نے احتجاج کا عندیہ بھی دیا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ایل پی جی کی قیمتوں کو سرکاری نرخ نامے کے مطابق یقینی بنایا جائے تاکہ کاروبار کا پہیہ چلتا رہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل قریب میں اگر گیس کی قیمتوں میں کمی نہ آئی تو ہوٹل انڈسٹری سے وابستہ ہزاروں افراد کے روزگار پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ حکومت کو اس معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان میں توانائی کے شعبے میں اصلاحات کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔ ایل پی جی کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ معاشی مشکلات میں اضافے کا ایک اور سبب بن کر سامنے آیا ہے جس پر فوری توجہ درکار ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/%d9%85%d9%84%da%a9-%d8%a8%da%be%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%db%8c%d9%84-%d9%be%db%8c-%d8%ac%db%8c-%da%a9%db%8c-%d9%82%db%8c%d9%85%d8%aa%d9%88%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا، برینٹ کی قیمت 115 ڈالر سے تجاوز کر گئی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/%d8%b9%d8%a7%d9%84%d9%85%db%8c-%d9%85%d9%86%da%88%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%ae%d8%a7%d9%85-%d8%aa%db%8c%d9%84-%d9%85%db%81%d9%86%da%af%d8%a7-%d8%a8%d8%b1%db%8c%d9%86%d9%b9-%da%a9%db%8c/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/%d8%b9%d8%a7%d9%84%d9%85%db%8c-%d9%85%d9%86%da%88%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%ae%d8%a7%d9%85-%d8%aa%db%8c%d9%84-%d9%85%db%81%d9%86%da%af%d8%a7-%d8%a8%d8%b1%db%8c%d9%86%d9%b9-%da%a9%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 28 Oct 2026 10:36:47 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹاک_ایکسچینج]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹیٹ_بینک]]></category>
		<category><![CDATA[امریکہ]]></category>
		<category><![CDATA[برینٹ_کروڈ]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹرول]]></category>
		<category><![CDATA[تجارت]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی_کی_قیمتیں]]></category>
		<category><![CDATA[تیل_کی_قیمت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d8%b9%d8%a7%d9%84%d9%85%db%8c-%d9%85%d9%86%da%88%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%ae%d8%a7%d9%85-%d8%aa%db%8c%d9%84-%d9%85%db%81%d9%86%da%af%d8%a7-%d8%a8%d8%b1%db%8c%d9%86%d9%b9-%da%a9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[بدھ کے روز عالمی تجارت کے دوران برینٹ کروڈ فیوچرز اور امریکی خام تیل کے نرخوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے جس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی فی بیرل قیمت 115 ڈالر کی حد عبور کر گئی ہے۔ توانائی کی عالمی منڈی میں قیمتوں کے اس نئے رجحان نے کاروباری حلقوں اور معاشی ماہرین کی توجہ حاصل کر لی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بدھ کے روز جاری رہنے والی عالمی تجارت کے دوران برینٹ کروڈ فیوچرز کی قیمت میں 1.48 ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس 1.3 فیصد اضافے کے بعد برینٹ خام تیل کی فی بیرل قیمت 115.36 ڈالر تک جا پہنچی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">برینٹ کے علاوہ امریکی خام تیل یعنی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کے نرخوں میں بھی تیزی دیکھی گئی۔ امریکی خام تیل کی قیمت میں 1.22 ڈالر کا اضافہ ہوا جو کہ 1.22 فیصد بنتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس اضافے کے بعد امریکی خام تیل کی فی بیرل قیمت 101.12 ڈالر پر جا پہنچی ہے۔ خام تیل کی قیمتوں میں ہونے والے اس اضافے سے عالمی توانائی کی منڈی میں طلب و رسد اور قیمتوں کے مجموعی رجحان پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">توانائی کے شعبے کے ماہرین کا ماننا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کا یہ اتار چڑھاؤ بین الاقوامی تجارت اور معیشت پر براہ راست اثر انداز ہوتا ہے۔ حالیہ اضافے کے بعد دنیا بھر میں توانائی کے وسائل کی قیمتوں کے حوالے سے نئی بحث شروع ہو چکی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مختلف ممالک کی معیشتیں توانائی کی قیمتوں پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہیں اور خام تیل کے نرخ بڑھنے سے نقل و حمل سمیت صنعتی پیداواری لاگت میں بھی تبدیلی کا خدشہ ہوتا ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے اور منڈی کے مبصرین اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی توانائی کی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے یہ بدلتے ہوئے رجحان اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ جغرافیائی سیاسی صورتحال اور تجارتی سرگرمیاں براہ راست اجناس کی قیمتوں کو متاثر کرتی ہیں۔ سرمایہ کار اور تجارتی ادارے ہر لمحہ بدلتی ہوئی ان قیمتوں کے مطابق اپنی حکمت عملی تشکیل دے رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خام تیل کی تجارت کرنے والے اداروں اور بروکرز کے مطابق برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ دونوں اہم درجوں میں تیزی کا عنصر دیکھا گیا ہے۔ ان قیمتوں میں اضافے سے دنیا بھر کے توانائی کے ذخائر اور سپلائی چین پر بھی اثرات پڑ سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معاشی تجزیہ کار اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ قیمتیں مزید اوپر جائیں گی یا ان میں استحکام آئے گا۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی طلب اور رسد کا توازن ہی آئندہ دنوں میں قیمتوں کے تعین میں بنیادی کردار ادا کرے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مختلف صنعتی ممالک میں توانائی کی کھپت کے اعداد و شمار بھی ان قیمتوں کے تعین میں اہم ہوتے ہیں۔ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں مہنگائی کے دباؤ کو مزید بڑھا سکتی ہیں جس سے مرکزی بینکوں کی مالیاتی پالیسیاں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کاروباری ہفتے کے دوران ہونے والے اس اضافے نے دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹوں اور کموڈٹی ایکسچینجز کے شرکاء کو بھی متحرک کر دیا ہے۔ تجارتی حلقے اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ توانائی کی یہ بلند قیمتیں طویل مدت میں کس قسم کے اقتصادی چیلنجز پیدا کر سکتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خام تیل کے نرخوں میں اس تازہ اضافے کے بعد بین الاقوامی سطح پر توانائی کے متبادل ذرائع اور روایتی ایندھن کی پالیسیوں پر بھی نئے سرے سے سوچ بچار شروع ہو گئی ہے تاکہ مستقبل کے ممکنہ بحرانوں سے بچا جا سکے اور معاشی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/%d8%b9%d8%a7%d9%84%d9%85%db%8c-%d9%85%d9%86%da%88%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%ae%d8%a7%d9%85-%d8%aa%db%8c%d9%84-%d9%85%db%81%d9%86%da%af%d8%a7-%d8%a8%d8%b1%db%8c%d9%86%d9%b9-%da%a9%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>برطانوی بینک بارکلیز کی ہزاروں ملازمین کی چھانٹی کی تیاری</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/%d8%a8%d8%b1%d8%b7%d8%a7%d9%86%d9%88%db%8c-%d8%a8%db%8c%d9%86%da%a9-%d8%a8%d8%a7%d8%b1%da%a9%d9%84%db%8c%d8%b2-%da%a9%db%8c-%db%81%d8%b2%d8%a7%d8%b1%d9%88%da%ba/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/%d8%a8%d8%b1%d8%b7%d8%a7%d9%86%d9%88%db%8c-%d8%a8%db%8c%d9%86%da%a9-%d8%a8%d8%a7%d8%b1%da%a9%d9%84%db%8c%d8%b2-%da%a9%db%8c-%db%81%d8%b2%d8%a7%d8%b1%d9%88%da%ba/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 26 Oct 2026 15:17:42 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[آج_کی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹاک_ایکسچینج]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹیٹ_بینک]]></category>
		<category><![CDATA[انٹرنیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[اہم_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[ایپ]]></category>
		<category><![CDATA[بارکلیز]]></category>
		<category><![CDATA[برطانیہ]]></category>
		<category><![CDATA[بریکنگ_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[بینک]]></category>
		<category><![CDATA[بینکاری]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹرول]]></category>
		<category><![CDATA[ڈالر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیجیٹل_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سونا]]></category>
		<category><![CDATA[مصنوعی_ذہانت]]></category>
		<category><![CDATA[معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[مہنگائی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/technology/%d8%a8%d8%b1%d8%b7%d8%a7%d9%86%d9%88%db%8c-%d8%a8%db%8c%d9%86%da%a9-%d8%a8%d8%a7%d8%b1%da%a9%d9%84%db%8c%d8%b2-%da%a9%db%8c-%db%81%d8%b2%d8%a7%d8%b1%d9%88%da%ba/</guid>

					<description><![CDATA[مصنوعی ذہانت اور خودکار نظام کو اپناتے ہوئے بینک نے سال کے آخر تک ملازمین کی فہرستیں بنانا شروع کر دیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">برطانیہ کے معروف نجی بینک بارکلیز نے اخراجات میں کمی اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کا حوالہ دیتے ہوئے بڑے پیمانے پر ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس اقدام کا مقصد عالمی سطح پر بینک کے انتظامی ڈھانچے کو بہتر بنانا اور مالیاتی کارکردگی کو بڑھانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بینک انتظامیہ کی جانب سے اس سال کے اختتام تک ہزاروں ملازمین کو نوکریوں سے فارغ کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے جس کے لیے باقاعدہ فہرستیں تیار کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلے سے بینک کی عالمی افرادی قوت کا ایک نمایاں حصہ براہ راست متاثر ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹس کے مطابق بارکلیز کی جانب سے اس کٹانگ کا بنیادی سبب مصنوعی ذہانت اور خودکار نظام کا بڑھتا ہوا نفاذ ہے۔ بینک کا ماننا ہے کہ روایتی طریقوں کے مقابلے میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے نہ صرف اخراجات کم ہوں گے بلکہ امور کی انجام دہی میں تیزی بھی آئے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس منصوبے کے تحت بینک کی عالمی افرادی قوت کے تقریباً پانچ فیصد حصے کو کم کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ ابتدائی طور پر ایک ہزار کے قریب ملازمتوں کو فوری خطرات لاحق ہیں جبکہ بقیہ چار ہزار ملازمین کی چھانٹی رواں سال کے آخر تک متوقع ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متاثر ہونے والے شعبوں میں سب سے زیادہ تناسب معاون خدمات اور ڈیولپرز سے وابستہ عملے کا بتایا جا رہا ہے۔ بینک کے مطابق اس چھانٹی کا ساٹھ فیصد حصہ انہی شعبوں پر اثر انداز ہوگا جہاں خودکار نظام روایتی کاموں کی جگہ لے رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بارکلیز اکیلا ایسا مالیاتی ادارہ نہیں ہے جس نے اس نوعیت کے اقدامات کا اعلان کیا ہو۔ اس سے قبل بھی دنیا کے کئی بڑے بینکوں اور مالیاتی اداروں نے اخراجات محدود کرنے کے لیے عملے کی تعداد کم کرنے کی پالیسیوں پر عمل درآمد شروع کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گزشتہ چند ماہ کے دوران بین الاقوامی سطح پر کئی نامور اداروں نے اپنی افرادی قوت کو محدود کرنے کے منصوبے سامنے رکھے ہیں۔ مئی کے مہینے میں ایک اور بڑے برطانوی ادارے نے آئندہ چند برسوں کے دوران ہزاروں ملازمتیں ختم کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسی طرح رواں سال کے اوائل میں ایک اور بڑے بین الاقوامی بینک نے بھی ہزاروں کی تعداد میں ملازمین کو ملازمت سے فارغ کرنے پر غور کرنے کی اطلاعات دی تھیں۔ مالیاتی خدمات فراہم کرنے والی معروف کمپنیوں کی جانب سے بھی ایسے ہی فیصلے سامنے آئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی سطح پر معاشی دباؤ اور کاروباری رجحانات میں تبدیلی کے پیش نظر مالیاتی ادارے اب روایتی افرادی قوت کی بجائے ڈیجیٹل حل کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ اس رجحان سے بینکاری کی صنعت میں روزگار کے مواقع کی نوعیت ہمیشہ کے لیے بدلتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب بعض دیگر خطوں کے بینکنگ سیکٹر میں بھی ملازمین کی تعداد میں کمی کے اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق کچھ بڑے نجی اداروں میں ملازمین کی مجموعی تعداد میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اداروں کا اصرار ہے کہ یہ تبدیلیاں کارکردگی کو بہتر بنانے اور گاہکوں کو جدید ترین ڈیجیٹل سہولیات فراہم کرنے کے لیے ناگزیر ہیں۔ اس تمام عمل کے دوران بینکنگ کے شعبے میں سکیورٹی اور ڈیٹا کے تجزیے جیسے شعبوں کی مانگ میں اضافہ جاری ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/%d8%a8%d8%b1%d8%b7%d8%a7%d9%86%d9%88%db%8c-%d8%a8%db%8c%d9%86%da%a9-%d8%a8%d8%a7%d8%b1%da%a9%d9%84%db%8c%d8%b2-%da%a9%db%8c-%db%81%d8%b2%d8%a7%d8%b1%d9%88%da%ba/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>اسٹیٹ بینک کی نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان آج کیا جائے گا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/%d8%a7%d8%b3%d9%b9%db%8c%d9%b9-%d8%a8%db%8c%d9%86%da%a9-%da%a9%db%8c-%d9%86%d8%a6%db%8c-%d9%85%d8%a7%d9%86%db%8c%d9%b9%d8%b1%db%8c-%d9%be%d8%a7%d9%84%db%8c%d8%b3%db%8c-%da%a9%d8%a7/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/%d8%a7%d8%b3%d9%b9%db%8c%d9%b9-%d8%a8%db%8c%d9%86%da%a9-%da%a9%db%8c-%d9%86%d8%a6%db%8c-%d9%85%d8%a7%d9%86%db%8c%d9%b9%d8%b1%db%8c-%d9%be%d8%a7%d9%84%db%8c%d8%b3%db%8c-%da%a9%d8%a7/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 26 Oct 2026 09:37:35 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[آج_کی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹاک_ایکسچینج]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹیٹ_بینک]]></category>
		<category><![CDATA[اہم_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[بریکنگ_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹرول]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[تجارتی_سرگرمیاں]]></category>
		<category><![CDATA[جمیل_احمد]]></category>
		<category><![CDATA[خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[ڈالر]]></category>
		<category><![CDATA[سٹیٹ_بینک_آف_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سونا]]></category>
		<category><![CDATA[معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[مہنگائی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d8%a7%d8%b3%d9%b9%db%8c%d9%b9-%d8%a8%db%8c%d9%86%da%a9-%da%a9%db%8c-%d9%86%d8%a6%db%8c-%d9%85%d8%a7%d9%86%db%8c%d9%b9%d8%b1%db%8c-%d9%be%d8%a7%d9%84%db%8c%d8%b3%db%8c-%da%a9%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[آئندہ دو ماہ کے لیے نئی مانیٹری پالیسی کا اجلاس گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کی زیر صدارت منعقد ہو رہا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان میں معاشی شعبے کی اہم پیشرفت کے تناظر میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا انتہائی اہم اجلاس آج منعقد ہو رہا ہے۔ اجلاس کے دوران ملک کی مجموعی معاشی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا اور آئندہ دو ماہ کے لیے نئی مانیٹری پالیسی کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس اہم اجلاس کی صدارت اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر جمیل احمد کریں گے۔ اجلاس میں ملک کے اندرونی اور بیرونی معاشی اشاریوں، تجارتی سرگرمیوں اور مالیاتی منڈیوں کی کارکردگی پر غور کیا جائے گا تاکہ آئندہ مدت کے لیے درست فیصلے کیے جا سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معاشی ماہرین کی جانب سے اس بار مانیٹری پالیسی میں مزید سختی لائے جانے کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بیرونی معاشی دباؤ کے منفی اثرات کو کم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ اسٹیٹ بینک نے اپنے گزشتہ پالیسی اجلاس کے دوران شرح سود کو گیارہ عشاریہ پانچ فیصد کی سطح پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ تاہم موجودہ معاشی حالات کے پیش نظر اس میں تبدیلی متوقع ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مختلف مالیاتی ماہرین کا اندازہ ہے کہ موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پالیسی ریٹ میں پچاس بیسز پوائنٹس یعنی صفر عشاریہ پانچ فیصد تک کا اضافہ کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اگر مانیٹری پالیسی کمیٹی کی جانب سے اس مجوزہ اضافے کی باضابطہ منظوری دی جاتی ہے تو اس کے نتیجے میں ملک میں مجموعی شرح سود بڑھ کر بارہ فیصد کی سطح تک پہنچ جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ادارہ شماریات پاکستان کے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ماہ یعنی ستمبر میں ملک کے اندر ماہانہ مہنگائی بڑھنے کی شرح دس عشاریہ تین صفر فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معیشت کے دیگر شعبوں کے حوالے سے بھی مرکزی بینک کے پاس تمام تر اعداد و شمار موجود ہیں جن کے تحت ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ پینتیس کروڑ ساٹھ لاکھ امریکی ڈالر رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک کی تجارتی اور کاروباری برادری کی نظریں بھی مرکزی بینک کے اس اجلاس پر پوری طرح مرکوز ہیں کیونکہ شرح سود میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کا براہ راست اثر کاروباری لاگت اور سرمایہ کاری پر پڑتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مرکزی بینک ملک میں معاشی استحکام لانے، قیمتوں کے توازن کو برقرار رکھنے اور مہنگائی کی شرح کو قابو میں رکھنے کے لیے آئین اور قواعد کے مطابق طویل المدتی اور قلیل المدتی بنیادوں پر اقدامات کرتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آج کے اس اہم اجلاس کے بعد باضابطہ اعلامیے یا پریس ریلیز کے ذریعے شرح سود سے متعلق حتمی فیصلوں کو عوام اور کاروباری طبقے کے سامنے پیش کیا جائے گا جس سے ملک کی اگلی معاشی سمت کا تعین ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسٹیٹ بینک کے اس فیصلے سے ملک کے مالیاتی منڈیوں، بینکنگ سیکٹر اور عام شہریوں پر بھی گہرے اثرات مرتب ہونے کی توقع کی جا رہی ہے، جس پر تمام معاشی حلقے گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/%d8%a7%d8%b3%d9%b9%db%8c%d9%b9-%d8%a8%db%8c%d9%86%da%a9-%da%a9%db%8c-%d9%86%d8%a6%db%8c-%d9%85%d8%a7%d9%86%db%8c%d9%b9%d8%b1%db%8c-%d9%be%d8%a7%d9%84%db%8c%d8%b3%db%8c-%da%a9%d8%a7/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پانچ روز کی مسلسل کمی کے بعد سونے کی قیمت میں اضافہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/%d9%be%d8%a7%d9%86%da%86-%d8%b1%d9%88%d8%b2-%da%a9%db%8c-%d9%85%d8%b3%d9%84%d8%b3%d9%84-%da%a9%d9%85%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%a8%d8%b9%d8%af-%d8%b3%d9%88%d9%86%db%92-%da%a9%db%8c/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/%d9%be%d8%a7%d9%86%da%86-%d8%b1%d9%88%d8%b2-%da%a9%db%8c-%d9%85%d8%b3%d9%84%d8%b3%d9%84-%da%a9%d9%85%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%a8%d8%b9%d8%af-%d8%b3%d9%88%d9%86%db%92-%da%a9%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 26 Oct 2026 09:18:46 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[آج_کی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[آل_صرافہ_ایسوسی_یشن]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹاک_ایکسچینج]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹیٹ_بینک]]></category>
		<category><![CDATA[اہم_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[بریکنگ_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[بزنس_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹرول]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[چاندی_کی_قیمت]]></category>
		<category><![CDATA[خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[ڈالر]]></category>
		<category><![CDATA[سونا]]></category>
		<category><![CDATA[سونے_کی_قیمت]]></category>
		<category><![CDATA[معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[مہنگائی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d9%be%d8%a7%d9%86%da%86-%d8%b1%d9%88%d8%b2-%da%a9%db%8c-%d9%85%d8%b3%d9%84%d8%b3%d9%84-%da%a9%d9%85%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%a8%d8%b9%d8%af-%d8%b3%d9%88%d9%86%db%92-%da%a9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[عالمی منڈی میں فی اونس سونا چودہ ڈالر اضافے کے بعد چار ہزار نو ڈالر کی سطح پر پہنچ گیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ملک بھر میں صرافہ مارکیٹوں میں سونے کی قیمتوں کے حوالے سے ایک اہم پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں مسلسل پانچ روز تک قیمتوں میں کمی ریکارڈ کیے جانے کے بعد آج سونے کے نرخوں میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آل صرافہ ایسوسی ایشن کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مقامی سطح پر سونے کے خریداروں کو مہنگائی کا سامنا کرنا پڑا ہے کیونکہ قیمتوں میں ایک بار پھر اوپر کی جانب رجحان دیکھا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کاروباری ہفتے کے دوران صرافہ بازار میں چوبیس قیراط فی تولہ سونے کی قیمت میں چودہ سو روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کے بعد فی تولہ سونا بڑھ کر چار لاکھ تیئیس ہزار چار سو چھتیس روپے کا ہو گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسی طرح فی تولہ سونے کے ساتھ ساتھ دس گرام سونے کے نرخوں میں بھی اضافہ ہوا ہے جہاں دس گرام سونا بارہ سو ایک روپے مہنگا ہونے کے بعد تین لاکھ تریسٹھ ہزار اٹھائیس روپے کی سطح پر جا پہنچا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقامی مارکیٹ میں سونے کے علاوہ قیمتی دھاتوں میں چاندی کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور فی تولہ چاندی بیس روپے مہنگی ہو کر پانچ ہزار آٹھ سو اٹھتر روپے کی سطح پر فروخت ہو رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب بین الاقوامی گولڈ مارکیٹ میں بھی سونے کے نرخوں میں تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا ہے جہاں عالمی سطح پر سونے کی قیمتوں میں بہتری آئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بین الاقوامی مارکیٹ کے حوالے سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق عالمی صرافہ میں فی اونس سونے کی چار ہزار ڈالر کی نفسیاتی اور اہم ترین حد ایک بار پھر بحال ہو چکی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرینِ معیشت اور صرافہ مارکیٹ کے تاجروں کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کا براہِ راست اثر مقامی مارکیٹوں پر پڑتا ہے جس کی وجہ سے یہ تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گزشتہ کئی روز سے مسلسل جاری کمی کے بعد نرخوں کا اس طرح پلٹنا صرافہ مارکیٹ میں ہلچل مچا گیا ہے جبکہ سرمایہ کار اور خریدار صورتحال کا گہرائی سے جائزہ لے رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سونے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے شادی بیاہ کے سیزن کے دوران جیولری خریدنے والوں کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے جبکہ عام شہری بھی پریشانی کا شکار ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آل صرافہ ایسوسی ایشن کے عہدیداران کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی عوامل اور ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ سونے کے کاروبار پر اثر انداز ہو رہے ہیں جن کی وجہ سے روزانہ کی بنیاد پر نرخ تبدیل ہوتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/%d9%be%d8%a7%d9%86%da%86-%d8%b1%d9%88%d8%b2-%da%a9%db%8c-%d9%85%d8%b3%d9%84%d8%b3%d9%84-%da%a9%d9%85%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%a8%d8%b9%d8%af-%d8%b3%d9%88%d9%86%db%92-%da%a9%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
