<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.17.1"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>اسلحہ &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%ad%db%81/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 17 Oct 2026 15:17:16 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.3</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>اسلحہ &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>یمن تنازعہ، سعودی عرب اور حوثیوں کے زیرِ استعمال عسکری ہتھیاروں کا جائزہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/%db%8c%d9%85%d9%86-%d8%aa%d9%86%d8%a7%d8%b2%d8%b9%db%81-%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af%db%8c-%d8%b9%d8%b1%d8%a8-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%ad%d9%88%d8%ab%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/%db%8c%d9%85%d9%86-%d8%aa%d9%86%d8%a7%d8%b2%d8%b9%db%81-%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af%db%8c-%d8%b9%d8%b1%d8%a8-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%ad%d9%88%d8%ab%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 17 Oct 2026 15:17:16 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اسلحہ]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[ایران]]></category>
		<category><![CDATA[بیلسٹک_میزائل]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_تریۢ]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[جنگی_طیارے]]></category>
		<category><![CDATA[حوثی]]></category>
		<category><![CDATA[دفاعی_نظام]]></category>
		<category><![CDATA[ڈرون]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[سعودی_عرب]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[فضائی_دفاع]]></category>
		<category><![CDATA[مشرق_وسطیٰ]]></category>
		<category><![CDATA[یمن]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%db%8c%d9%85%d9%86-%d8%aa%d9%86%d8%a7%d8%b2%d8%b9%db%81-%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af%db%8c-%d8%b9%d8%b1%d8%a8-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%ad%d9%88%d8%ab%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[میدہ خَبروں کے مطابق سعودی عرب اور حوثیوں کے مابین جاری کشیدگی میں بیلسٹک میزائل، ڈرونز اور جدید لڑاکا طیاروں کا استعمال جاری ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">یمن میں حوثی تحریک انصار اللہ اور سعودی قیادت میں قائم عسکری اتحاد کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں مختلف اقسام کے عسکری ہتھیاروں کا استعمال سامنے آ رہا ہے۔ اس تنازعے میں فریقین کی جانب سے بیلسٹک میزائلوں، نگرانی اور حملوں کے لیے استعمال ہونے والے ڈرونز کے ساتھ ساتھ جدید لڑاکا طیاروں کو بھی بروئے کار لایا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تنازعات کی نگرانی کرنے والی بین الاقوامی تنظیم کے اعداد و شمار کا تجزیہ کرنے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ان کارروائیوں میں ایسے ہتھیار استعمال کیے جا رہے ہیں جو ہزاروں کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان عسکری سازوسامان میں فضائی دفاعی نظام اور مختلف اقسام کے میزائل بھی شامل ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حوثیوں کے عسکری اسلحہ خانے میں درمیانی اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل نمایاں حیثیت رکھتے ہیں جن کی رفتار اور وزن اٹھانے کی صلاحیت ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔ تحقیقی رپورٹس کے مطابق حوثیوں کے زیرِ استعمال بعض جدید میزائل اور ڈرون ایرانی ڈیزائن پر مبنی ہیں جنہیں مقامی سطح پر تیار کیا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسلاسل میں حوثیوں کی جانب سے استعمال ہونے والے نمایاں میزائلوں میں ’فلسطین 2‘ بھی شامل ہے جو تقریباً اکیس سو کلومیٹر سے زائد کے فاصلے تک اپنے ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ اس میزائل کی رفتار انتہائی زیادہ بتائی جاتی ہے جو مبینہ طور پر آواز کی رفتار سے بھی کئی گناہ تیز سفر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس میزائل کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ پانچ سو کلوگرام تک کا دھماکا خیز مواد لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کا استعمال یمن کے مغربی ساحل پر واقع مخا بندرگاہ کو نشانہ بنانے کے لیے بھی کیا گیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس کی عسکری صلاحیتیں بعض دیگر خطے کے میزائلوں سے ملتی جلتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حوثیوں کے پاس موجود دیگر میزائلوں میں ’ذوالفقار‘ بھی شامل ہے جسے ’برکان 3‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اور یہ بارہ سو کلومیٹر سے زیادہ دور تک مار کر سکتا ہے۔ فوجی ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ میزائل بھی ایک مخصوص ڈیزائن کا تبدیل شدہ ورژن ہو سکتا ہے جو نمایاں تباہ کن صلاحیت کا حامل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مزید برآں، حوثی فورسز کے زیرِ استعمال ڈرونز میں قلیل فاصلے تک پرواز کرنے والا ’رجوم‘ ڈرون بھی شامل ہے جو کئی مارٹر گولے لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ نگرانی اور طویل فاصلے کے لیے ’صماد 1‘ ڈرون بھی استعمال کیا جاتا ہے جسے بعد ازاں یک طرفہ حملوں کے قابل بھی بنایا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقابلہ کرنے کے لیے سعودی عرب یمن کے اندرونی حصوں میں کارروائیوں کے لیے بنیادی طور پر اپنی فضائی قوت اور لڑاکا طیاروں پر انحصار کرتا ہے۔ اس مقصد کے لیے امریکی اور یورپی ساختہ جنگی طیاروں کے علاوہ جدید حملہ آور ہیلی کاپٹر بھی استعمال کیے جا رہے ہیں جو مختلف میزائلوں اور خودکار توپوں سے لیس ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سلطلنت سعودی عرب کے عسکری بیڑے میں نمایاں مقام رکھنے والا امریکی ساختہ ایف پندرہ لڑاکا طیارہ تین ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک کی رفتار سے پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس طیارے کو مختلف عسکری مشنز اور فضائی کارروائیوں میں بھرپور طریقے سے استعمال کیا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کے علاوہ سعودی فضائیہ میں یورپ میں تیار کردہ یوروفائٹر ٹائفون لڑاکا طیارے بھی شامل ہیں جو زمینی اہداف پر حملوں اور دیگر فوجی کارروائیوں میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ طیارے طویل فاصلہ طے کرنے اور تیز رفتار پرواز کی صلاحیت رکھتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعودی عسکری ذخیرے میں امریکی ساختہ اپاچی حملہ آور ہیلی کاپٹر بھی شامل ہیں جنہیں فضا سے زمین پر مار کرنے والے میزائلوں اور خودکار توپوں سے لیس کیا گیا ہے۔ یہ ہیلی کاپٹر مخصوص آپریشنل حالات میں دشمن کے ٹھکانوں کے خلاف مؤثر کارروائیاں کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حالیہ برسوں میں یمن میں کارروائیوں کے لیے استعمال ہونے والے ڈرونز میں ’سکائی واسپ‘ بھی شامل ہے جسے ایک امریکی اور سعودی کمپنی نے مشترکہ طور پر تیار کیا ہے۔ اس ڈرون کی پرواز کی طویل حد اور رفتار اسے نگرانی اور حملوں کے لیے مفید بناتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بین الاقوامی جریدوں اور تحقیقی اداروں کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب دفاعی نظاموں پر سالانہ اربوں ڈالر کے اخراجات کرتا ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں دفاعی بجٹ کے لحاظ سے سرفہرست ہے۔ ریاض اپنے دفاعی پروگرام کے تحت مختلف ممالک کے جدید ترین دفاعی نظام استعمال کرتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعودی عرب کے دفاعی نظاموں میں امریکی ساختہ پیٹریاٹ اور تھاڈ سسٹم سب سے زیادہ نمایاں ہیں جو ملکی فضائی حدود کی حفاظت کے لیے کام کرتے ہیں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ نظام دشمن کی جانب سے داغے جانے والے بیشتر میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کا وسیع جغرافیائی رقبہ اور بیک وقت مختلف سمتوں سے آنے والے حملوں کا سامنا کرنا ایک پیچیدہ عسکری چیلنج ہے۔ تاہم مجموعی طور پر ملک کا فضائی دفاعی نیٹ ورک اس طرح کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مسلسل فعال رہتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/%db%8c%d9%85%d9%86-%d8%aa%d9%86%d8%a7%d8%b2%d8%b9%db%81-%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af%db%8c-%d8%b9%d8%b1%d8%a8-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%ad%d9%88%d8%ab%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
