<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>اسرائیلی_فوج &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%a6%db%8c%d9%84%db%8c_%d9%81%d9%88%d8%ac/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Mon, 02 Nov 2026 15:19:46 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>اسرائیلی_فوج &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>غزہ پر اسرائیلی حملے جاری، مزید 5 فلسطینی شہید اور متعدد زخمی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/4477/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/4477/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 01 Nov 2026 15:43:19 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسرائیل]]></category>
		<category><![CDATA[اسرائیلی_فوج]]></category>
		<category><![CDATA[المواصی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[جنگی_جرائم]]></category>
		<category><![CDATA[حماس]]></category>
		<category><![CDATA[خان_یونس]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ریمال]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[غزہ]]></category>
		<category><![CDATA[فلسطین]]></category>
		<category><![CDATA[فلسطینی_عوام]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%ba%d8%b2%db%81-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%a6%db%8c%d9%84%db%8c-%da%88%d8%b1%d9%88%d9%86-%d8%ad%d9%85%d9%84%db%92-%d9%be%d9%88%d9%84%db%8c%d8%b3/</guid>

					<description><![CDATA[فلسطین ہلال احمر سوسائٹی کے مطابق اسرائیلی فضائی حملے میں شہری گاڑی کو نشانہ بنایا گیا جس سے جانی نقصان ہوا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسرائیلی فورسز کی جانب سے غزہ کے مختلف حصوں میں جاری کارروائیوں کے دوران مزید پانچ فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ فلسطین ہلال احمر سوسائٹی کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق تازہ ترین کارروائیاں غزہ کے مختلف علاقوں میں کی گئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">غزہ شہر میں ہونے والے ایک فضائی حملے میں ایک شہری گاڑی کو نشانہ بنایا گیا جو تل الہوا کے علاقے میں الخور چوک کے قریب موجود تھی۔ اس حملے کے نتیجے میں ایک فرد جاں بحق جبکہ پانچ افراد زخمی ہوئے جن میں سے ایک زخمی کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">طبی ذرائع کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائیوں میں مجموعی طور پر پانچ شہادتیں ریکارڈ کی گئی ہیں تاہم دیگر مقامات پر ہونے والے جانی نقصان کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آ سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس سے قبل گزشتہ روز خان یونس کے علاقے المواصی میں ڈرون حملے کے دوران پانچ فلسطینی شہید اور کئی زخمی ہوئے تھے جن میں فرائض انجام دینے والے پولیس اہلکار بھی شامل تھے۔ اسی طرح غزہ سٹی کے ریمال محلے میں ایک اور ڈرون حملے میں چار سالہ بچے سمیت تین فلسطینی جاں بحق ہو گئے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے ان تمام حملوں کو سوچی سمجھی کارروائیاں اور جنگی جرم قرار دیتے ہوئے سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ تنظیم کا بیان میں کہنا تھا کہ ڈیوٹی پر مامور پولیس افسران کو نشانہ بنانے کا مقصد علاقے میں بحالی کی کوششوں کو سبوتاژ کرنا اور بدامنی پھیلانا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/4477/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>اسرائیل نے رواں ماہ ایران پر بڑے حملے کی منصوبہ بندی کی تھی، برطانوی اخبار کا دعویٰ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/1750/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/1750/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 21 Oct 2026 17:37:15 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسرائیل]]></category>
		<category><![CDATA[اسرائیلی_فوج]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا]]></category>
		<category><![CDATA[ایال_ضمیر]]></category>
		<category><![CDATA[ایران]]></category>
		<category><![CDATA[بن_یامین_نیتن_یاہو]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%a6%db%8c%d9%84-%d9%86%db%92-%d8%b1%d9%88%d8%a7%da%ba-%d9%85%d8%a7%db%81-%d8%a7%db%8c%d8%b1%d8%a7%d9%86-%d9%be%d8%b1-%d8%a8%da%91%db%92-%d8%ad%d9%85%d9%84%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[برطانوی اخبار کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر حملے کی ہدایت کی تھی جو امریکی مخالفت پر منسوخ ہوا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">برطانوی جریدے فنانشل ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل کے وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو نے رواں ماہ کے اوائل میں ایران کے خلاف ایک بار پھر بڑے پیمانے پر حملے کرنے کی تیاریوں کی ہدایت جاری کی تھی۔ اس معاملے سے قریبی واقفیت رکھنے والے تین باخبر ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے اخبار نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے دس اکتوبر کو اختتامِ ہفتہ کے دوران ایک کثیر روزہ بمباری مہم شروع کرنے کی مکمل تیاری کر لی تھی۔ اس مجوزہ فوجی کارروائی کے دوران ایرانی جوہری تنصیبات، اہم حکومتی اہداف کے ساتھ ساتھ بجلی گھروں جیسی شہری بنیادی ڈھانچے کی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا جانا مقصود تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاہم باخبر ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ خطرناک فوجی مشن آخری وقت پر منسوخ کر دیا گیا جس کی بنیادی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس تنازع کو ہوا دینے کی مخالفت تھی۔ بتایا گیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ تین نومبر کو ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل خطے میں کسی بھی قسم کے بڑے تنازع کو دوبارہ بھڑکانے یا شروع کرنے کے حق میں بالکل نہیں تھے۔ اس تمام صورتحال کے باوجود امریکی صدر اور اسرائیلی وزیرِ اعظم کی جانب سے تاحال ایران کے خلاف جارحانہ بیانات کا سلسلہ جاری ہے اور دونوں رہنماؤں کا اصرار ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو ایرانی حکومت کے خلاف تاحال نامکمل رہنے والے اپنے مشن کو ضرور پایہ تکمیل تک پہنچانا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹ کے مطابق مجوزہ بمباری کی یہ منصوبہ بندی اس شدت اور پیمانے پر تیار کی گئی تھی جو فروری میں شروع ہونے والے مشترکہ امریکا اور اسرائیل کے سابقہ حملوں سے بھی کہیں زیادہ وسیع ہونی تھی۔ اگرچہ یہ بات تاحال مکمل طور پر واضح نہیں ہو سکی ہے کہ آیا اس مجوزہ آپریشن میں امریکی افواج نے براہِ راست طور پر شامل ہونا تھا یا نہیں، لیکن ذرائع کا اس بات پر اصرار ہے کہ یہ امکان اپنی جگہ موجود ہے کہ واشنگٹن اور تل ابیب آنے والے ہفتوں کے دوران ایران کے خلاف دوبارہ نئے حملے شروع کر سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایک سینیئر اسرائیلی اہلکار کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے پیر کے روز اسرائیل کا اہم دورہ کیا جہاں انہوں نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو سمیت دیگر اعلیٰ ترین عسکری و سیاسی حکام کے ساتھ تفصیلی ملاقاتیں اور مشاورتی بات چیت کی۔ اس دورے کے دوران اسرائیلی حکام نے مبینہ طور پر ایرانی سرزمین پر موجود اہداف کی ایک بالکل نئی اور تازہ ترین فہرست امریکی وزیرِ دفاع کے سامنے پیش کی جو جدید انٹیلی جنس معلومات پر مبنی تھی اور اس میں شہری بنیادی ڈھانچے کے وہ مقامات بھی شامل تھے جنہیں اس سال کے آغاز پر ہونے والی کارروائیوں کے دوران نشانہ نہیں بنایا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب برطانوی اخبار کی رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج گزشتہ کئی ہفتوں سے انتہائی ہائی الرٹ کی حالت میں موجود ہے اور اس نے ایک غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے جمعرات سے لے کر ستائیس اکتوبر کو طے شدہ اسرائیلی پارلیمانی انتخابات تک اپنے تمام فوجیوں کی چھٹیاں تاحال منسوخ کر رکھی ہیں۔ اس حوالے سے بات کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف ایال ضمیر کا کہنا تھا کہ فوجیوں کی چھٹیاں منسوخ کرنے کا یہ فیصلہ بنیادی طور پر ملک کے جمہوری انتخابات کو مکمل طور پر محفوظ ماحول میں اور مقررہ وقت پر منعقد کرانے کی غرض سے اٹھایا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خطے میں کشیدگی کی حالیہ لہر نے بین الاقوامی سطح پر شدید تشویش کی فضا پیدا کر دی ہے کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی عسکری تیاریاں بڑے تصادم کا خطرہ ظاہر کرتی ہیں۔ ذرائع کے مطابق اسرائیلی عسکری قیادت نے تمام ممکنہ جنگی حالات سے نمٹنے کے لیے اپنی تیاریوں کو حتمی شکل دے رکھی ہے اور کسی بھی حکم پر فوری عمل درآمد کے لیے فوج کو پوری طرح تیار رکھا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">برطانوی جریدے نے یہ نکتہ بھی واضح کیا ہے کہ ایران کو درپیش سکیورٹی خدکات میں اس کے حساس تنصیبات کے ساتھ ساتھ اقتصادی و صنعتی مراکز بھی شامل ہیں۔ ان مراکز کو نشانہ بنائے جانے کی صورت میں مشرق وسطیٰ کی سلامتی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے جس کے اثرات پوری دنیا بالخصوص توانائی کی رسد پر براہِ راست مرتب ہو سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو ملکی سیاست میں اندرونی دباؤ کا بھی سامنا کر رہے ہیں جہاں پارلیمانی انتخابات کی گہما گہمی عروج پر ہے۔ ایسے نازک وقت میں سلامتی کے معاملات کو سیاسی بیانیے کا حصہ بنانا اسرائیلی حکومت کی روایتی حکمت عملی کا اہم حصہ رہا ہے تاکہ عوامی توجہ کو اندرونی مسائل سے ہٹایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری طرف تہران کی جانب سے بھی اسرائیلی اور امریکی دھمکیوں کے جواب میں دفاعی تیاریاں مکمل رکھنے کا اعادہ کیا گیا ہے۔ ایرانی حکام کا مؤقف رہا ہے کہ کسی بھی قسم کی جارحیت کا بھرپور اور منہ توڑ جواب دیا جائے گا تاکہ ملکی خودمختاری کا ہر قیمت پر دفاع کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مشرق وسطیٰ کے امور کے ماہرین کا خیال ہے کہ آنے والے چند ہفتے خطے کی سیاست اور جنگی صورتحال کے حوالے سے انتہائی فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔ امریکی انتخابات کے بعد واشنگٹن کی پالیسیوں میں ممکنہ تبدیلی دونوں ممالک کے درمیان فوجی حکمت عملی کو نیا رخ دے سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس تمام صورتحال میں اقوام متحدہ اور دیگر عالمی طاقتیں فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی مسلسل اپیل کر رہی ہیں۔ عالمی برادری کو خدشہ ہے کہ اگر اس بار تنازع پھیلا تو اس کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت اس کی لپیٹ میں آ جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/1750/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>غزہ میں اسرائیلی مظالم پر مبنی دستاویزی فلم &#8216;نازا&#8217; عالمی سطح پر زیر بحث</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/1012/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/1012/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 16 Oct 2026 22:37:07 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسرائیل]]></category>
		<category><![CDATA[اسرائیلی_فوج]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا]]></category>
		<category><![CDATA[انسانی_حقوق]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[جنگی_جرائم]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%ba%d8%b2%db%81-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%a6%db%8c%d9%84%db%8c-%d9%85%d8%b8%d8%a7%d9%84%d9%85-%d9%be%d8%b1-%d9%85%d8%a8%d9%86%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[اسرائیلی فوج کے سابق اہلکاروں کی گواہیوں پر مبنی دستاویزی فلم نے غزہ میں ہونے والے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">غزہ میں جاری جنگ کے دوران اسرائیلی فوج کے سابق اہلکاروں کی جانب سے کیے گئے انکشافات پر مبنی دستاویزی فلم &#039;نازا&#039; نے عالمی سطح پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اس فلم میں چودہ ایسے سابق فوجیوں اور انٹیلی جنس اہلکاروں کی شہادتیں شامل ہیں جنہوں نے غزہ میں براہِ راست آپریشنز میں حصہ لیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فلم میں شامل کرداروں نے اپنی شناخت چھپا کر ان ہولناک واقعات کا ذکر کیا ہے جو غزہ میں ان کی تعیناتی کے دوران پیش آئے۔ ان گواہیوں میں عام شہریوں کی ہلاکتوں، انسانی ڈھال کے استعمال اور رہائشی عمارتوں کو بلاوجہ تباہ کرنے جیسے سنگین الزامات لگائے گئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایک سابق فوجی نے انکشاف کیا کہ جبالیہ کیمپ میں ایک ہدف کو نشانہ بنانے کے لیے تین سو سے زائد عام شہریوں کی ہلاکت کو ایک معمولی سودا سمجھ کر قبول کر لیا گیا تھا۔ یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ آپریشنز کے دوران شہریوں کی زندگیوں کو کس قدر غیر اہم سمجھا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دیگر گواہیوں میں یہ بھی بتایا گیا کہ کس طرح فلسطینیوں کو گرفتار کر کے انہیں فوجی وردیاں پہنائی گئیں اور پھر انہیں خطرناک سرنگوں یا مشتبہ گھروں میں داخل ہونے پر مجبور کیا گیا۔ یہ عمل بین الاقوامی قوانین کے تحت انسانی ڈھال کے استعمال کے زمرے میں آتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فلم میں یہ بھی بتایا گیا کہ کس طرح صحافیوں کو نشانہ بنا کر بعد میں انہیں دہشت گرد قرار دینے کی کوشش کی گئی۔ ناصر اسپتال پر حملے کے دوران ہلاک ہونے والے افراد کے بارے میں پہلے دعویٰ کیا گیا کہ وہ دہشت گرد تھے، لیکن بعد میں ان کی شناخت صحافیوں کے طور پر ہوئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسرائیلی اسٹیبلشمنٹ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اسے پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔ حکام کی جانب سے فلم کے ہدایت کاروں کو دھمکیاں دی گئی ہیں اور اسرائیل میں اس کی نمائش کو سنگین جرم قرار دینے کا عندیہ دیا گیا ہے، جس سے فلم کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جرمن اخبار &#039;دیر شپیگل&#039; اور اسرائیلی تنظیم &#039;بریکنگ دی سائلنس&#039; نے بھی اپنی رپورٹس میں اسی طرح کے واقعات کا ذکر کیا ہے۔ ان رپورٹس کے مطابق، غزہ میں تعینات رہنے والے متعدد فوجیوں نے دوبارہ وہاں جانے سے انکار کر دیا ہے کیونکہ وہ ان مظالم کا مزید حصہ نہیں بننا چاہتے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فلم میں یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ کس طرح جنگ بندی کے نام پر اسرائیل نے غزہ کے رقبے پر اپنا کنٹرول مزید بڑھایا ہے۔ بائیس لاکھ فلسطینیوں کو ایک محدود علاقے میں محصور کر دیا گیا ہے، جبکہ جنوبی لبنان میں بھی اسی طرز پر تباہی پھیلائی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بین الاقوامی سطح پر ان شواہد کو جنگی جرائم کے زمرے میں لانے کی آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ تاہم، عالمی عدالتِ انصاف کے سامنے ان معاملات کو لے جانے میں بڑی رکاوٹیں حائل ہیں، خاص طور پر طاقتور ممالک کی جانب سے عدالت پر دباؤ اور پابندیوں کی دھمکیاں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فلم &#039;نازا&#039; نے ان تمام دعووں کو چیلنج کیا ہے جو اسرائیلی قیادت کی جانب سے کیے جاتے ہیں۔ یہ دستاویزی فلم نہ صرف غزہ کے سانحات کی ایک جھلک پیش کرتی ہے بلکہ یہ بھی بتاتی ہے کہ کس طرح سچائی کو دبانے کے لیے ریاستی مشینری کا استعمال کیا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ گواہیاں ان ہزاروں فلسطینیوں کی آواز ہیں جو اس جنگ میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ان واقعات کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ مسلسل بڑھ رہا ہے تاکہ ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ صورتحال میں یہ فلم ایک اہم دستاویز کی حیثیت اختیار کر گئی ہے۔ یہ دنیا کو یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ کیا طاقت کے زور پر انسانیت کے خلاف ہونے والے جرائم کو ہمیشہ کے لیے چھپایا جا سکتا ہے یا سچائی کسی نہ کسی طرح سامنے آ ہی جاتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">غزہ میں جاری انسانی المیہ صرف ایک خطے تک محدود نہیں بلکہ یہ پوری دنیا کے ضمیر کے لیے ایک سوال ہے۔ &#039;نازا&#039; جیسی فلمیں اس بات کی یاد دہانی کراتی ہیں کہ جنگ کے دوران بھی انسانی اقدار کا تحفظ ہر حال میں ضروری ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/1012/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>اسرائیلی فوج میں جاسوسی کرنے والے بدو کو ساڑھے 24 سال قید کی سزا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/744/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/744/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 22:37:32 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسرائیل]]></category>
		<category><![CDATA[اسرائیلی_فوج]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[جاسوسی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سزا]]></category>
		<category><![CDATA[سیکیورٹی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%a6%db%8c%d9%84%db%8c-%d9%81%d9%88%d8%ac-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%ac%d8%a7%d8%b3%d9%88%d8%b3%db%8c-%da%a9%d8%b1%d9%86%db%92-%d9%88%d8%a7%d9%84%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[اسرائیلی عدالت نے مجاہدین بریگیڈز کے لیے معلومات فراہم کرنے اور فوجی سازوسامان چوری کرنے کے جرم میں شہادہ ابو القیعان کو سزا سنا دی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسرائیل کی ایک ضلعی عدالت نے غزہ میں سرگرم مسلح تنظیم مجاہدین بریگیڈز کے لیے جاسوسی کرنے کے جرم میں ایک بدو شہری شہادہ ابو القیعان کو 24 سال اور چھ ماہ قید کی سزا سنائی ہے۔ ملزم پر فوجی راز افشا کرنے اور حساس تنصیبات کی معلومات پہنچانے کے الزامات ثابت ہوئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی دستاویزات اور استغاثہ کے مطابق ملزم نے 2021 میں آن لائن ذرائع سے مجاہدین بریگیڈز کے ساتھ رابطہ قائم کیا تھا۔ اس کے بعد سے وہ مسلسل اپنے علاقے کے قریب اسرائیلی فوجیوں کی نقل و حرکت اور ہیلی کاپٹرز کے بارے میں خفیہ معلومات فراہم کرتا رہا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملزم کی جانب سے اسرائیلی فوجی اڈوں، اہم ریلوے اسٹیشنوں، سرکاری کمپنیوں اور مختلف تجارتی مراکز کی تصاویر بھی تنظیم کو بھیجی گئیں۔ ان معلومات کا مقصد مبینہ طور پر تنظیم کو فوجی اہداف کے بارے میں آگاہی فراہم کرنا تھا تاکہ وہ اپنی کارروائیاں ترتیب دے سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم نے 2019 میں اسرائیلی فوج سے ایک خودکار رائفل اور گولیوں کا میگزین چوری کیا تھا۔ اس کے علاوہ اس نے پانچ دستی بم اور ہزاروں گولیاں بھی تنظیم کو فراہم کرنے کی کوشش کی تھی جو اس کے مجرمانہ عزائم کا حصہ تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملزم نے حساس معلومات تک رسائی حاصل کرنے کے لیے باقاعدہ اسرائیلی فوج میں بھرتی ہونے کا منصوبہ بنایا۔ وہ مئی 2022 میں فوج میں شامل ہوا تاکہ اندر سے معلومات حاصل کر سکے، تاہم صرف آٹھ روز بعد ہی اسرائیلی انٹیلیجنس ادارے شن بیت نے اسے گرفتار کر لیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گرفتاری کے بعد ملزم نے اپنے خلاف عائد کردہ الزامات کو معاہدۂ اقرارِ جرم کے تحت تسلیم کر لیا تھا۔ بیرالسبع کی ضلعی عدالت نے اسے دہشت گرد تنظیم کا رکن ہونے، جنگ کے دوران دشمن کی مدد کرنے اور اسلحہ چوری کرنے کے جرائم میں سزا کا حکم سنایا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">استغاثہ نے عدالتی کارروائی کے دوران اس بات پر بھی زور دیا کہ ملزم کی اسرائیلی شہریت منسوخ کی جانی چاہیے۔ اس سلسلے میں ایک باقاعدہ درخواست وزیر داخلہ یاریو لیون کے سامنے بھی پیش کی گئی ہے تاکہ قانونی تقاضے پورے کیے جا سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسرائیلی اخبار ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق، ملزم کا یہ اقدام سیکیورٹی کے حوالے سے ایک بڑی ناکامی سمجھا جا رہا ہے۔ فوج کے اندر سے جاسوسی کرنے کے اس واقعے نے اسرائیلی سیکیورٹی اداروں کی جانچ پڑتال کے عمل پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملزم کی گرفتاری کے بعد سے اسرائیلی حکام نے فوجی بھرتی کے عمل میں مزید سختیاں کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ اس کیس نے ایک بار پھر اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ کس طرح اندرونی ذرائع سے حساس معلومات کا حصول سیکیورٹی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت کا یہ فیصلہ اسرائیلی قانون کے تحت ان تمام افراد کے لیے ایک تنبیہ ہے جو ریاستی اداروں کے اندر رہتے ہوئے کسی بھی مسلح تنظیم کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔ ملزم کو دی گئی طویل قید کی سزا اس کے سنگین جرائم کے تناسب سے ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کیس کے بعد اسرائیلی انٹیلیجنس اور فوجی حکام نے اپنی نگرانی کے نظام کو مزید بہتر بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ مستقبل میں اس طرح کے کسی بھی واقعے کو روکنے کے لیے بھرتی کے عمل کے دوران پس منظر کی جانچ پڑتال کو مزید سخت کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی فیصلے میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا کہ ملزم نے براہ راست حماس کے بجائے مجاہدین بریگیڈز کے ساتھ کام کرنے کو ترجیح دی تھی۔ یہ کیس اسرائیلی عدالتی تاریخ میں فوجی تنصیبات کے اندر جاسوسی کے حوالے سے ایک اہم مقدمہ تصور کیا جا رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/744/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
