<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.14.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>احسان_الحق &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%a7%d8%ad%d8%b3%d8%a7%d9%86_%d8%a7%d9%84%d8%ad%d9%82/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sun, 18 Oct 2026 15:18:13 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.3</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>احسان_الحق &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>پاکستان کی کاٹن اور ٹیکسٹائل انڈسٹری شدید مالی بحران کی لپیٹ میں</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%da%a9%d8%a7%d9%b9%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%b9%db%8c%da%a9%d8%b3%d9%b9%d8%a7%d8%a6%d9%84/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%da%a9%d8%a7%d9%b9%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%b9%db%8c%da%a9%d8%b3%d9%b9%d8%a7%d8%a6%d9%84/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 18 Oct 2026 15:18:13 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[اپٹما]]></category>
		<category><![CDATA[احسان_الحق]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[ایکسپورٹ_فیسیلیٹیشن_اسکیم]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_کی_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[پاور_لومز]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیکسٹائل_انڈسٹری]]></category>
		<category><![CDATA[جننگ_فیکٹریاں]]></category>
		<category><![CDATA[ڈالر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[کاٹن_بحران]]></category>
		<category><![CDATA[کاروباری_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[کپاس_کی_پیداوار]]></category>
		<category><![CDATA[معاشی_بحران]]></category>
		<category><![CDATA[معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[مہنگائی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%da%a9%d8%a7%d9%b9%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%b9%db%8c%da%a9%d8%b3%d9%b9%d8%a7%d8%a6%d9%84/</guid>

					<description><![CDATA[ملک بھر میں 50 فیصد پاور لومز بند، درآمدی پالیسیوں اور پیداواری لاگت میں اضافے نے صنعت کو زوال سے دوچار کر دیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کی کاٹن اور ٹیکسٹائل انڈسٹری اس وقت تاریخ کے بدترین معاشی بحران سے گزر رہی ہے، جس کے نتیجے میں ملک بھر میں سینکڑوں جننگ فیکٹریاں اور ٹیکسٹائل ملیں بند ہو چکی ہیں۔ صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ملک میں موجود پاور لومز کا تقریباً 50 فیصد حصہ بدستور غیر فعال ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کاٹن جنرز فورم کے چیئرمین احسان الحق کے مطابق، پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کی حالیہ رپورٹ کے مطابق 15 اکتوبر تک ملک بھر کی جننگ فیکٹریوں میں 40 لاکھ 81 ہزار گانٹھوں کے مساوی پھٹی پہنچی ہے۔ یہ تعداد گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 8 فیصد زیادہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی اعداد و شمار کا جائزہ لیں تو پنجاب میں کپاس کی پیداوار 16 لاکھ 38 ہزار گانٹھ اور سندھ میں 24 لاکھ 43 ہزار گانٹھ ریکارڈ کی گئی ہے۔ تاہم، کراپ رپورٹنگ سروسز پنجاب کے اعداد و شمار اور جنرز ایسوسی ایشن کے ڈیٹا میں نمایاں فرق پایا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹ کے مطابق، ٹیکسٹائل ملوں نے اب تک 34 لاکھ 52 ہزار گانٹھیں خریدی ہیں جبکہ برآمد کنندگان کی خریداری 97 ہزار گانٹھوں تک محدود رہی ہے۔ اس وقت ملک میں 5 لاکھ 32 ہزار گانٹھوں کے قابل فروخت ذخائر موجود ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صنعت کاروں کا کہنا ہے کہ پیداواری لاگت میں ریکارڈ اضافے اور ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن اسکیم (ای ایف ایس) کے غلط استعمال نے مقامی صنعت کی کمر توڑ دی ہے۔ بیرون ملک سے انڈر انوائسنگ کے ذریعے بڑی مقدار میں دھاگہ اور کپڑا درآمد کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کے مطابق، درآمد شدہ خام مال سے ویلیو ایڈڈ مصنوعات تیار کر کے برآمد کرنے کے بجائے اسے مقامی مارکیٹ میں ہی فروخت کر دیا جاتا ہے۔ اس عمل نے مقامی کاٹن انڈسٹری کو شدید نقصان پہنچایا ہے کیونکہ درآمدی مصنوعات پر ٹیکس کا بوجھ بھی اثر انداز ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اپٹما کے اعداد و شمار کے مطابق، مالی سال 2027/28 کی پہلی سہ ماہی میں مین میڈ یارن اور فیبرک کی درآمدات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ اس کے برعکس، برآمدات میں کوئی خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا، جس سے مقامی صنعت کا بحران مزید گہرا ہو گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">احسان الحق نے مزید بتایا کہ ماضی میں بھارت سے سوتی دھاگے کی رعایتی درآمدات نے بھی مقامی صنعت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا تھا۔ اس کے نتیجے میں اب تک 500 سے زائد جننگ فیکٹریاں اور 150 سے زیادہ ٹیکسٹائل ملیں مکمل طور پر بند ہو چکی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صنعتی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ای ایف ایس کے تحت مین میڈ یارن اور فیبرک کی درآمد پر فوری پابندی عائد کی جائے۔ ان کا ماننا ہے کہ اس اقدام سے مقامی صنعت کو سہارا ملے گا اور معاشی بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب، خطے کے دیگر ممالک اپنی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو مستحکم کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کر رہے ہیں۔ بنگلہ دیش نے اپنی کپاس کی پیداوار کو 2050 تک 19 لاکھ گانٹھوں تک بڑھانے کا منصوبہ بنایا ہے تاکہ عالمی مارکیٹ میں اپنی پوزیشن مضبوط کر سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان میں کپاس کی پیداوار میں کمی کے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں جس کی بڑی وجہ ناموافق موسمی حالات ہیں۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو ٹیکسٹائل سیکٹر کا بحران ملکی برآمدات پر مزید منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے اس صورتحال پر قابو پانے کے لیے تاحال کوئی حتمی حکمت عملی سامنے نہیں آئی ہے۔ صنعت کاروں کا مطالبہ ہے کہ پالیسیوں میں اصلاحات لائی جائیں تاکہ مقامی سطح پر تیار کردہ مصنوعات کو عالمی منڈی میں مسابقتی بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل میں اس شعبے کی بحالی کے لیے توانائی کی قیمتوں میں کمی اور خام مال کی دستیابی کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔ ٹیکسٹائل سیکٹر ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کا زوال براہ راست ملکی زرمبادلہ پر اثر انداز ہوتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%da%a9%d8%a7%d9%b9%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%b9%db%8c%da%a9%d8%b3%d9%b9%d8%a7%d8%a6%d9%84/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
