<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.30.2"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>احتساب &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%a7%d8%ad%d8%aa%d8%b3%d8%a7%d8%a8/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:32:13 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>احتساب &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>محکمہ اوقاف کے تین اہلکاروں کی اپیلیں مسترد، مالی بے ضابطگیوں پر سزائیں برقرار</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/lahore/%d9%85%d8%ad%da%a9%d9%85%db%81-%d8%a7%d9%88%d9%82%d8%a7%d9%81-%da%a9%db%92-%d8%aa%db%8c%d9%86-%d8%a7%db%81%d9%84%da%a9%d8%a7%d8%b1%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/lahore/%d9%85%d8%ad%da%a9%d9%85%db%81-%d8%a7%d9%88%d9%82%d8%a7%d9%81-%da%a9%db%92-%d8%aa%db%8c%d9%86-%d8%a7%db%81%d9%84%da%a9%d8%a7%d8%b1%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 25 Oct 2026 08:37:53 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[احتساب]]></category>
		<category><![CDATA[اوکاڑہ]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[چیف_سیکرٹری_پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[دربار_بابا_بلھے_شاہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[زوار_حسین]]></category>
		<category><![CDATA[سرکاری_املاک]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%85%d8%ad%da%a9%d9%85%db%81-%d8%a7%d9%88%d9%82%d8%a7%d9%81-%da%a9%db%92-%d8%aa%db%8c%d9%86-%d8%a7%db%81%d9%84%da%a9%d8%a7%d8%b1%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[چیف سیکرٹری پنجاب نے محکمہ اوقاف کے تین اہلکاروں کی اپیلیں خارج کرتے ہوئے مالی بے ضابطگیوں پر سزائیں برقرار رکھیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">محکمہ اوقاف اور مذہبی امور کے اندرونی نظام کو شفاف بنانے اور مالیاتی نظم و ضبط کو یقینی بنانے کے لیے انتظامی سطح پر سخت فیصلے کرنے کا سلسلہ مسلسل جاری ہے تاکہ سرکاری وسائل کے ضیاع کو روکا جا سکے۔ اس حوالے سے سامنے آنے والے تازہ ترین احکامات میں حکومت نے بدعنوانی اور غفلت کے مرتکب سرکاری ملازمین کے خلاف زیر التوا تمام اپیلوں پر دوٹوک موقف اپناتے ہوئے انہیں خارج کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس تمام معاملے کے پس منظر میں صوبائی دارالحکومت کے انتظامی حکام اور متعلقہ محکموں کی جانب سے کی جانے والی جانچ پڑتال بتاتی ہے کہ سرکاری امور میں مبینہ بے ضابطگیاں کسی بھی صورت قابلِ برداشت نہیں ہیں۔ اسی پالیسی کے تحت چیف سیکرٹری پنجاب نے محکمہ اوقاف کے تین مختلف اہلکاروں کی جانب سے دائر کی جانے والی تمام محکمانہ اپیلوں کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مسترد کی جانے والی ان اپیلوں کا تعلق براہ راست مالی بدعنوانی، فنڈز میں خوردبرد اور سروس کے دوران اختیارات کے غلط استعمال جیسے سنجیدہ نوعیت کے مقدمات سے ہے۔ ان مجرمانہ اور غیر قانونی سرگرمیوں کے نتیجے میں محکمے کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا تھا جس پر یہ محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جن افراد کی اپیلیں مسترد کی گئی ہیں ان میں محکمہ اوقاف کے سابق مینیجر اوکاڑہ شفقت عباس اور جونیئر کلرک زوار حسین کے نام نمایاں طور پر شامل ہیں۔ ان دونوں افراد پر اپنے دورِ ملازمت میں اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے کے سنگین الزامات ثابت ہو چکے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انکوائری کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ اوکاڑہ اوقاف سرکل میں کروڑوں روپے کی بھاری رقم کی مالی بے ضابطگیوں کا بڑا سکینڈل رونما ہوا تھا۔ ذرائع اور رپورٹس کے مطابق اس مخصوص سرکل میں چھ کروڑ دو لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ مالی بے ضابطگیاں کی گئی تھیں جو کہ ایک بہت بڑا مالیاتی گھپلہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اوکاڑہ سرکل کے علاوہ یہ بدعنوانی کا دائرہ کار دیگر تاریخی مقامات تک بھی پھیلا ہوا تھا جہاں سے سرکاری خزانے کو مسلسل نقصان پہنچایا جا رہا تھا۔ چنانچہ دربار بابا بلھے شاہ قصور میں ہونے والی نقد عطیات اور روزانہ کی بنیاد پر آنے والی آمدن کی وصولی کے دوران بھی شدید بے ضابطگیاں پائی گئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دربار بابا بلھے شاہ قصور کے معاملات میں زائرین کی طرف سے دیے جانے والے نقد عطیات کو باقاعدہ سرکاری کھاتوں میں جمع کرانے کے بجائے خوردبرد کرنے کے شواہد ملے تھے۔ ان تمام مالیاتی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے بعد متعلقہ حکام نے انکشاف کیا کہ محکمے کی آمدن کو چھپانے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کیے گئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مذکورہ بالا تمام الزامات کے ثابت ہونے پر مجرموں کے خلاف محکمانہ قوانین کے تحت سخت ترین سزاؤں کا فیصلہ سنایا گیا تھا جسے اب حتمی طور پر برقرار رکھا گیا ہے۔ ان سزاؤں کے نفاذ سے کرپٹ عناصر کی صفوں میں ہلچل مچ گئی ہے اور انتظامیہ کا پختہ عزم ظاہر ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سابق مینیجر اوکاڑہ شفقت عباس اور جونیئر کلرک زوار حسین کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ان کی سابقہ سروس کے پانچ پانچ سال ضبط کرنے کی سزا کو بھی بحال رکھا گیا ہے۔ سروس کے سال ضبط کرنے کی یہ سزا سرکاری ملازمین کے لیے ایک انتہائی کڑی اور عبرت ناک سزا مانی جاتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ اوقاف کے جاری کردہ وضاحتی احکامات کے مطابق، ان تینوں مجرم اہلکاروں سے مجموعی طور پر پچیس لاکھ تیئیس ہزار سات سو پینتیس روپے کی کُل رقم بطور ریکوری وصول کرنے کی سزائیں بھی برقرار رکھی گئی ہیں۔ یہ رقم وہ ہے جو مبینہ طور پر غبن کی گئی تھی اور اب اسے سرکاری خزانے میں واپس جمع کرایا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ اوقاف کے ذمہ داران کا اس پورے واقعے پر کہنا ہے کہ سرکاری آمدن کے تحفظ میں کسی بھی قسم کی غفلت، کوتاہی یا لاپرواہی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ادارے کے اندر احتساب کا یہ بے رحم اور شفاف عمل آئندہ بھی بلاتعطل جاری رہے گا تاکہ کسی کو ایسی جرات نہ ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس طرح کے تادیبی اقدامات کا بنیادی مقصد سرکاری محکموں میں بدعنوانی کے رجحان کا مکمل خاتمہ کرنا اور کرپٹ عناصر کے حوصلے پست کرنا ہے۔ اس سے نہ صرف محکمے کی کارکردگی بہتر ہوگی بلکہ عوام کا سرکاری اداروں کے نظام اور ان کی شفافیت پر اعتماد بھی بحال رہے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/lahore/%d9%85%d8%ad%da%a9%d9%85%db%81-%d8%a7%d9%88%d9%82%d8%a7%d9%81-%da%a9%db%92-%d8%aa%db%8c%d9%86-%d8%a7%db%81%d9%84%da%a9%d8%a7%d8%b1%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>مغربی ممالک میں مظاہرین احتساب کے مطالبے پر قائم رہیں: باقر قالیباف</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/%d9%85%d8%ba%d8%b1%d8%a8%db%8c-%d9%85%d9%85%d8%a7%d9%84%da%a9-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%d8%b8%d8%a7%db%81%d8%b1%db%8c%d9%86-%d8%a7%d8%ad%d8%aa%d8%b3%d8%a7%d8%a8-%da%a9%db%92/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/%d9%85%d8%ba%d8%b1%d8%a8%db%8c-%d9%85%d9%85%d8%a7%d9%84%da%a9-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%d8%b8%d8%a7%db%81%d8%b1%db%8c%d9%86-%d8%a7%d8%ad%d8%aa%d8%b3%d8%a7%d8%a8-%da%a9%db%92/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Oct 2026 23:16:38 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[احتساب]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[ایران]]></category>
		<category><![CDATA[باقر_قالیباف]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[جیفری_ایپسٹین]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_بحران]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d9%85%d8%ba%d8%b1%d8%a8%db%8c-%d9%85%d9%85%d8%a7%d9%84%da%a9-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%d8%b8%d8%a7%db%81%d8%b1%db%8c%d9%86-%d8%a7%d8%ad%d8%aa%d8%b3%d8%a7%d8%a8-%da%a9%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر نے کہا کہ عوامی غصے کو اصل مسائل سے ہٹانے کے لیے تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے مغربی ممالک میں جاری احتجاجی تحریکوں کے حوالے سے اپنے اہم بیان میں مظاہرین پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے بنیادی مطالبات اور احتساب کے عمل سے کسی صورت پیچھے نہ ہٹیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو اپنے اصل اہداف پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے ایک پیغام میں باقر قالیباف نے کہا کہ مغرب میں عوامی غصے کا رخ موڑنے کے لیے ایک مخصوص اور سوچے سمجھے طریقہ کار کا استعمال کیا جاتا ہے تاکہ طاقتور حلقوں کو احتساب سے بچایا جا سکے اور عوام کو آپس میں تقسیم کیا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایرانی سپیکر نے دعویٰ کیا کہ جیفری ایپسٹین سکینڈل، غزہ کی موجودہ صورتحال، ایران کے خلاف جاری جارحانہ اقدامات اور عالمی سطح پر بدعنوانی جیسے معاملات دراصل ایک ہی بااثر گروہ کے مفادات سے جڑے ہوئے ہیں جو دنیا بھر کے سیاسی اور سماجی نظاموں پر اثر انداز ہو رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے مظاہرین کو خبردار کیا کہ وہ شناخت کی بنیاد پر پیدا کی جانے والی تقسیم کی کوششوں کا مقابلہ کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کی تحریک کا رخ اصل مسائل سے نہ ہٹے۔ ان کے مطابق عوامی بیداری ہی ان طاقتور حلقوں کے احتساب کا واحد راستہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">باقر قالیباف کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فرانس سمیت یورپ کے متعدد ممالک میں عوامی سطح پر شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ ان ممالک میں مہنگائی کی بلند شرح، عوامی خدمات کے معیار میں گراوٹ اور رہائش کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے عوام کو سڑکوں پر لا کھڑا کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یورپی ممالک میں جاری ان مظاہروں میں تعلیمی مسائل اور معاشی عدم مساوات بھی کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ حکومتیں ان کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائیں اور معاشی پالیسیوں میں اصلاحات لائیں تاکہ عام آدمی کی زندگی میں بہتری آ سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مبصرین کا کہنا ہے کہ باقر قالیباف کا یہ پیغام دراصل ان مظاہرین کے لیے ایک اخلاقی حمایت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو یورپ میں مہنگائی اور دیگر مسائل کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ یہ تحریکیں کسی بھی بیرونی دباؤ یا تقسیم کے بغیر اپنے منطقی انجام تک پہنچیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر نے اپنے پیغام میں کسی مخصوص ملک کا نام لیے بغیر عالمی سطح پر موجود سیاسی ڈھانچے پر تنقید کی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ عالمی سطح پر انصاف کا نظام کمزور پڑ چکا ہے اور اس کی بحالی کے لیے عوامی دباؤ ناگزیر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مغربی حکومتیں فی الحال اپنے ہاں جاری ان احتجاجی مظاہروں سے نمٹنے کے لیے مختلف حکمت عملی اپنا رہی ہیں۔ تاہم عوام کی جانب سے مسلسل مطالبات نے حکومتی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے اور معاشی اصلاحات کے لیے دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مجموعی طور پر ایرانی سپیکر کا یہ بیان عالمی سیاست میں جاری کشمکش کا ایک حصہ ہے جس میں مختلف ممالک ایک دوسرے کے داخلی معاملات پر تبصرہ کرتے رہتے ہیں۔ اس صورتحال پر عالمی برادری کی نظریں جمی ہوئی ہیں کہ یہ احتجاجی تحریکیں کیا رخ اختیار کرتی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/%d9%85%d8%ba%d8%b1%d8%a8%db%8c-%d9%85%d9%85%d8%a7%d9%84%da%a9-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%d8%b8%d8%a7%db%81%d8%b1%db%8c%d9%86-%d8%a7%d8%ad%d8%aa%d8%b3%d8%a7%d8%a8-%da%a9%db%92/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ملتان: بچے کی ہلاکت پر یتیم خانے کی رجسٹریشن درخواست مسترد</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%85%d9%84%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%a8%da%86%db%92-%da%a9%db%8c-%db%81%d9%84%d8%a7%da%a9%d8%aa-%d9%be%d8%b1-%db%8c%d8%aa%db%8c%d9%85-%d8%ae%d8%a7%d9%86%db%92-%da%a9%db%8c/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%85%d9%84%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%a8%da%86%db%92-%da%a9%db%8c-%db%81%d9%84%d8%a7%da%a9%d8%aa-%d9%be%d8%b1-%db%8c%d8%aa%db%8c%d9%85-%d8%ae%d8%a7%d9%86%db%92-%da%a9%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 21 Oct 2026 01:37:05 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[احتساب]]></category>
		<category><![CDATA[بچوں_کا_تحفظ]]></category>
		<category><![CDATA[بچوں_کے_حقوق]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[چائلڈ_پروٹیکشن_بیورو]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سارہ_احمد]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قانون]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%85%d9%84%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%a8%da%86%db%92-%da%a9%db%8c-%db%81%d9%84%d8%a7%da%a9%d8%aa-%d9%be%d8%b1-%db%8c%d8%aa%db%8c%d9%85-%d8%ae%d8%a7%d9%86%db%92-%da%a9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[چائلڈ پروٹیکشن بیورو نے غفلت برتنے والے ادارے کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کر دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ملتان میں ایک یتیم خانے کی جانب سے رجسٹریشن کے لیے جمع کرائی گئی درخواست کو چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو پنجاب نے مسترد کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایک بچے کی افسوسناک ہلاکت کے بعد سامنے آیا ہے، جس کی ذمہ داری متعلقہ ادارے کی غفلت پر عائد کی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو کی چیئرپرسن سارہ احمد نے اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یتیم خانے کی انتظامیہ بچے کی حفاظت اور نگرانی یقینی بنانے میں مکمل طور پر ناکام رہی۔ انہوں نے اس معاملے کو بچوں کے حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ابتدائی تحقیقات کے مطابق، یتیم خانے کی انتظامیہ نے ایک بچے کو کام کے لیے ٹھیکیدار کے حوالے کر دیا تھا۔ اس عمل کے دوران بچے کی حفاظت کے لیے کوئی مناسب اقدامات نہیں کیے گئے، جس کے نتیجے میں وہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سارہ احمد نے پنجاب پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ یتیم خانے کے مالک کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بچے کی موت کے ذمہ دار تمام افراد کا احتساب کیا جانا ضروری ہے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چیئرپرسن نے پنجاب چیریٹیز کمیشن سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ مذکورہ یتیم خانے کے لائسنس اور رجسٹریشن کا فوری طور پر جائزہ لے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والے اس ادارے کو فوری طور پر بند کیا جائے اور ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سارہ احمد کا کہنا تھا کہ پنجاب بھر کے تمام یتیم خانوں کے لیے بچوں کی دیکھ بھال کے حوالے سے کم از کم معیارات پہلے ہی وضع کیے جا چکے ہیں۔ کسی بھی ادارے کو ان معیارات سے انحراف کرنے یا بچوں کی حفاظت میں غفلت برتنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے مزید کہا کہ ہر بچے کا حق ہے کہ اسے ایک محفوظ، باعزت اور پرسکون ماحول فراہم کیا جائے۔ یتیم بچوں کو ان افراد کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا جنہیں ان کی دیکھ بھال کی ذمہ داری سونپی گئی ہو، کیونکہ یہ ایک اخلاقی اور قانونی فریضہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی جانب سے جاری کردہ بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ بچوں کے تحفظ کے حوالے سے زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی جائے گی۔ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے تمام نجی اور سرکاری اداروں کی کڑی نگرانی کی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت پنجاب کی جانب سے بچوں کے تحفظ کے لیے بنائے گئے قوانین کے تحت تمام فلاحی اداروں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ رہائش پذیر بچوں کی مکمل حفاظت کو یقینی بنائیں۔ خلاف ورزی کی صورت میں سخت سزاؤں اور لائسنس کی منسوخی کا قانون موجود ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سماجی حلقوں نے بھی اس واقعے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ یتیم خانوں میں مقیم بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے حکومتی نگرانی کا نظام مزید بہتر بنایا جائے۔ عوام نے اس اقدام کو بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اہم قرار دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعے کے بعد متعلقہ حکام نے یتیم خانے کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال شروع کر دی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی ادارے کو بچوں کی زندگیوں سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور قانون کے مطابق کارروائی کو یقینی بنایا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چائلڈ پروٹیکشن بیورو نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ اگر انہیں کسی بھی ادارے میں بچوں کے ساتھ بدسلوکی یا غفلت کی اطلاع ملے تو وہ فوری طور پر بیورو کو مطلع کریں۔ بچوں کا تحفظ معاشرے کے ہر فرد کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس افسوسناک واقعے نے یتیم خانوں کے انتظامی امور اور نگرانی کے نظام پر کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ امید کی جا رہی ہے کہ حکومتی کارروائی کے بعد بچوں کے تحفظ کے معیارات پر سختی سے عمل درآمد ممکن ہو سکے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%85%d9%84%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%a8%da%86%db%92-%da%a9%db%8c-%db%81%d9%84%d8%a7%da%a9%d8%aa-%d9%be%d8%b1-%db%8c%d8%aa%db%8c%d9%85-%d8%ae%d8%a7%d9%86%db%92-%da%a9%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>نیب کا ڈاکٹر امجد علی سمیت 5 افراد کو طلبی کا نوٹس جاری</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%86%db%8c%d8%a8-%da%a9%d8%a7-%da%88%d8%a7%da%a9%d9%b9%d8%b1-%d8%a7%d9%85%d8%ac%d8%af-%d8%b9%d9%84%db%8c-%d8%b3%d9%85%db%8c%d8%aa-5-%d8%a7%d9%81%d8%b1%d8%a7%d8%af-%da%a9%d9%88/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%86%db%8c%d8%a8-%da%a9%d8%a7-%da%88%d8%a7%da%a9%d9%b9%d8%b1-%d8%a7%d9%85%d8%ac%d8%af-%d8%b9%d9%84%db%8c-%d8%b3%d9%85%db%8c%d8%aa-5-%d8%a7%d9%81%d8%b1%d8%a7%d8%af-%da%a9%d9%88/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 19 Oct 2026 23:17:34 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اثاثے]]></category>
		<category><![CDATA[احتساب]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[بدعنوانی]]></category>
		<category><![CDATA[تحقیقات]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر_امجد_علی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%86%db%8c%d8%a8-%da%a9%d8%a7-%da%88%d8%a7%da%a9%d9%b9%d8%b1-%d8%a7%d9%85%d8%ac%d8%af-%d8%b9%d9%84%db%8c-%d8%b3%d9%85%db%8c%d8%aa-5-%d8%a7%d9%81%d8%b1%d8%a7%d8%af-%da%a9%d9%88/</guid>

					<description><![CDATA[قومی احتساب بیورو نے آمدن سے زائد اثاثوں اور بدعنوانی کی تحقیقات کے سلسلے میں اہم ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">قومی احتساب بیورو (نیب) نے بدعنوانی اور آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے الزامات کی تحقیقات کے سلسلے میں ڈاکٹر امجد علی سمیت پانچ افراد کو طلبی کے نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ ڈاکٹر امجد علی سہیل آفریدی کے معاون خصوصی کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نیب کی جانب سے جاری کردہ نوٹس کے مطابق، انکوائری کا دائرہ کار اثاثہ جات کی تفصیلات اور کرپٹ پریکٹسز کے الزامات تک پھیلا ہوا ہے۔ تحقیقاتی ادارے نے متعلقہ افراد سے ان کے مالی معاملات اور ذرائع آمدن کے بارے میں وضاحت طلب کی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کیس میں نیب نے چار گواہوں کو بھی طلب کیا ہے جن میں باچا سید، محمد عارف شاہ، سراج احمد اور نوید احمد شامل ہیں۔ ان افراد کو 20 سے 22 اکتوبر 2026 کے دوران اپنے بیانات ریکارڈ کروانے اور متعلقہ دستاویزات پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیقاتی ٹیم نے اسلام آباد کی ایٹین ہاؤسنگ سوسائٹی اور جلوزئی ہاؤسنگ سکیم سے متعلق اہم ریکارڈ بھی طلب کر لیا ہے۔ اس میں پلاٹوں کی الاٹمنٹ، ان کی ملکیت کے حقوق اور ادائیگیوں کے تمام ثبوت شامل ہیں جو نیب کو فراہم کرنا ہوں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نیب نے خیبر پختونخوا کے محکمہ حسابات کو بھی ایک مراسلہ ارسال کیا ہے۔ اس مراسلے میں ڈاکٹر امجد علی کی تنخواہ، الاؤنسز، ملنے والی مراعات اور ان کے سرکاری دوروں کے سفری اخراجات کا مکمل ریکارڈ فوری طور پر فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ذرائع کا کہنا ہے کہ نیب کی جانب سے یہ کارروائی ایک باقاعدہ انکوائری کے تحت کی جا رہی ہے جس کا مقصد سرکاری عہدیداران کے اثاثوں کی جانچ پڑتال کرنا ہے۔ ادارے نے واضح کیا ہے کہ ریکارڈ کی فراہمی میں کوتاہی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نیب کے نوٹس میں یہ تنبیہ بھی شامل ہے کہ اگر مطلوبہ ریکارڈ مقررہ وقت کے اندر فراہم نہ کیا گیا تو متعلقہ افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس صورت میں ان پر باقاعدہ مقدمہ بھی چلایا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ تحقیقات نیب کی جانب سے احتساب کے عمل کو تیز کرنے کی ایک کڑی ہے۔ ادارے کا موقف ہے کہ سرکاری عہدوں پر فائز افراد کو اپنے اثاثوں کے ذرائع کے بارے میں جوابدہ ہونا چاہیے تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا کے محکمہ حسابات کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ڈاکٹر امجد علی کے مالی ریکارڈ کی تصدیق شدہ کاپیاں نیب کے تفتیشی افسر کے پاس جمع کرائیں۔ اس ریکارڈ سے ان کی آمدن اور اخراجات کے درمیان توازن کا جائزہ لیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نیب حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات کا عمل قانون کے مطابق جاری رہے گا اور تمام شواہد کو مدنظر رکھتے ہوئے حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ گواہوں کے بیانات اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متعلقہ افراد کو جاری کیے گئے نوٹسز میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ وہ مقررہ تاریخوں پر نیب کے دفتر میں پیش ہو کر اپنی پوزیشن واضح کریں۔ عدم پیشی کی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی کا حق نیب کے پاس محفوظ ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%86%db%8c%d8%a8-%da%a9%d8%a7-%da%88%d8%a7%da%a9%d9%b9%d8%b1-%d8%a7%d9%85%d8%ac%d8%af-%d8%b9%d9%84%db%8c-%d8%b3%d9%85%db%8c%d8%aa-5-%d8%a7%d9%81%d8%b1%d8%a7%d8%af-%da%a9%d9%88/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>سندھ ہائی کورٹ: کروڑوں کے فراڈ کیس میں ڈی جی نیب کراچی 29 اکتوبر کو طلب</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/courts/%d8%b3%d9%86%d8%af%da%be-%db%81%d8%a7%d8%a6%db%8c-%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%b9-%da%a9%d8%b1%d9%88%da%91%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d9%81%d8%b1%d8%a7%da%88-%da%a9%db%8c%d8%b3-%d9%85%db%8c%da%ba/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/courts/%d8%b3%d9%86%d8%af%da%be-%db%81%d8%a7%d8%a6%db%8c-%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%b9-%da%a9%d8%b1%d9%88%da%91%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d9%81%d8%b1%d8%a7%da%88-%da%a9%db%8c%d8%b3-%d9%85%db%8c%da%ba/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 19 Oct 2026 11:37:47 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[احتساب]]></category>
		<category><![CDATA[توہین_عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈی_جی_نیب_کراچی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سندھ_ہائی_کورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[عدالتی_احکامات]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[فراڈ_کیس]]></category>
		<category><![CDATA[قانون]]></category>
		<category><![CDATA[کراچی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%b3%d9%86%d8%af%da%be-%db%81%d8%a7%d8%a6%db%8c-%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%b9-%da%a9%d8%b1%d9%88%da%91%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d9%81%d8%b1%d8%a7%da%88-%da%a9%db%8c%d8%b3-%d9%85%db%8c%da%ba/</guid>

					<description><![CDATA[عدالت نے 2021 کے فراڈ کیس میں احکامات پر عمل درآمد نہ ہونے پر ڈی جی نیب کراچی کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">سندھ ہائی کورٹ نے کروڑوں روپے مالیت کے مبینہ فراڈ اور گھپلے سے متعلق توہین عدالت کی ایک اہم درخواست پر سماعت کی۔ عدالت نے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) نیب کراچی کو 29 اکتوبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی کارروائی کے دوران درخواست گزاروں کے وکلاء نے موقف اختیار کیا کہ نیب حکام کی جانب سے عدالتی احکامات کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ کرنے والے ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ مقدمہ 2019 سے 2021 کے دوران ہاؤسنگ، کار فنانسنگ اور دیگر شعبوں میں کی گئی سرمایہ کاری سے متعلق ہے۔ درخواست گزاروں میں محمد کامران اور علی نقوی سمیت دیگر متاثرین شامل ہیں جنہوں نے جعل سازی کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا آغاز کیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">درخواست گزاروں کا الزام ہے کہ 302 مختلف جعل ساز کمپنیوں کے ذریعے ان کے ساتھ کروڑوں روپے کا فراڈ کیا گیا۔ اس مبینہ فراڈ میں نہال خان، شمشاد نیاز خان اور دیگر افراد کو نامزد کیا گیا ہے جن پر سرمایہ کاروں کو لوٹنے کا الزام ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے 2021 میں اس پورے معاملے کی شفاف تحقیقات کا حکم دیا تھا۔ تاہم، درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ طویل عرصہ گزرنے کے باوجود نیب کی جانب سے عدالتی احکامات کے مطابق تحقیقات کو منطقی انجام تک نہیں پہنچایا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے اب اس معاملے پر سخت نوٹس لیتے ہوئے ڈی جی نیب کراچی کو طلب کیا ہے تاکہ وہ عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجوہات بیان کر سکیں۔ توقع ہے کہ آئندہ سماعت پر نیب حکام اپنی کارکردگی رپورٹ عدالت میں پیش کریں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قانونی ماہرین کے مطابق، عدالتی احکامات کی تعمیل نہ کرنا توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔ ہائی کورٹ اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ متاثرین کو انصاف ملے اور جعل سازی میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متاثرین نے امید ظاہر کی ہے کہ عدالت کے اس اقدام سے تحقیقات میں تیزی آئے گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی جمع پونجی لوٹنے والے افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے اور ان کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نیب کی جانب سے تاحال اس عدالتی طلبی پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم، قانونی حلقوں میں اس کیس کو انتہائی اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ اس کا تعلق براہ راست عوامی سرمایہ کاری کے تحفظ سے ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے سماعت کے دوران نیب کے رویے پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ عدالتی احکامات کی پاسداری ہر ادارے پر لازم ہے۔ کسی بھی قسم کی غفلت یا تاخیری حربوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئندہ 29 اکتوبر کی سماعت میں یہ فیصلہ ہوگا کہ نیب حکام نے اب تک اس کیس میں کیا پیش رفت کی ہے۔ عدالت کی جانب سے دی گئی ڈیڈ لائن کے بعد اب نیب کراچی کے لیے اپنی پوزیشن واضح کرنا لازمی ہو گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے تمام متعلقہ ریکارڈ بھی طلب کر لیا ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ اس عدالتی مداخلت کے بعد کیس کی تحقیقات میں حائل رکاوٹیں دور ہوں گی اور متاثرین کو انصاف کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں کی ایک بڑی تعداد اس کیس پر نظریں جمائے ہوئے ہے کیونکہ یہ معاملہ مالیاتی شعبے میں شفافیت اور احتساب کے عمل سے جڑا ہوا ہے۔ عدالت کا یہ فیصلہ احتساب کے عمل کو مزید مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/courts/%d8%b3%d9%86%d8%af%da%be-%db%81%d8%a7%d8%a6%db%8c-%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%b9-%da%a9%d8%b1%d9%88%da%91%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d9%81%d8%b1%d8%a7%da%88-%da%a9%db%8c%d8%b3-%d9%85%db%8c%da%ba/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی، شہریوں کا مکمل اطمینان کا اظہار</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%af%d9%88%d8%b1%d9%86%d8%b1-%d8%b1%d8%a7%d8%ac-%d8%a7%d9%88%d8%b1-2/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%af%d9%88%d8%b1%d9%86%d8%b1-%d8%b1%d8%a7%d8%ac-%d8%a7%d9%88%d8%b1-2/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 15 Oct 2026 12:17:38 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[احتساب]]></category>
		<category><![CDATA[اختیار_ولی]]></category>
		<category><![CDATA[امن_و_امان]]></category>
		<category><![CDATA[پشاور]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیکنوکریٹس]]></category>
		<category><![CDATA[خیبرپختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[عوام_اطمینان]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%af%d9%88%d8%b1%d9%86%d8%b1-%d8%b1%d8%a7%d8%ac-%d8%a7%d9%88%d8%b1-2/</guid>

					<description><![CDATA[صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد معمولات زندگی رواں دواں ہیں اور عوام نے سکھ کا سانس لیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">خیبرپختونخوا کے مختلف شہروں میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد امن و امان کی مجموعی صورتحال نمایاں طور پر بہتر ہو چکی ہے جبکہ روزمرہ کے معمولات زندگی بھی مکمل طور پر رواں دواں ہیں۔ صوبائی دارالحکومت پشاور سمیت دیگر علاقوں میں شہریوں کی جانب سے اس انتظامی فیصلے پر بھرپور اطمینان کا اظہار کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقامی سطح پر عوام کا کہنا ہے کہ صوبے میں گورنر راج نافذ ہونے کے باوجود کسی قسم کی افراتفری یا بدامنی کا کوئی ناخوشگوار واقعہ سامنے نہیں آیا۔ سڑکیں ہر قسم کی آمدورفت کے لیے مکمل طور پر کھلی ہوئی ہیں اور ٹریفک کا نظام بھی معمول کے مطابق چل رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں نے اس بات پر بھی اطمینان کا اظہار کیا ہے کہ بازاروں میں تجارتی سرگرمیاں بلا تعطل جاری ہیں اور تمام کاروباری ادارے معمول کے مطابق کھلے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اس صورتحال نے عوام کو ایک بڑی فکری اور عملی تشویش سے نجات دلائی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عوامی حلقوں کا یہ بھی مؤقف ہے کہ طویل عرصے سے صوبے کو مختلف مسائل اور بحرانوں میں دھکیلنے والی گزشتہ حکومت کا کڑا احتساب کیا جانا ناگزیر ہو چکا ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ صوبے کی ترقی اور وسائل کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ریاست کی جانب سے صوبے کے انتظامی امور کو چلانے کے لیے جن گیارہ ذمہ دار عہدیداروں اور ٹیکنوکریٹس کو نامزد کیا گیا ہے، شہریوں نے ان کی صلاحیتوں پر بھی مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ عوام کا خیال ہے کہ یہ تمام افراد اپنے متعلقہ شعبوں میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی نے اپنے ایک تفصیلی بیان میں اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ صوبے میں مستقل امن کے قیام اور ریاستی رٹ کی مکمل بحالی تک گورنر راج کا نفاذ برقرار رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے مفاد میں یہ فیصلہ انتہائی اہم اور وقت کی ضرورت تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اختیار ولی نے انکشاف کیا کہ اپنے تقریباً پینتیس سالہ طویل سیاسی کیریئر کے دوران انہوں نے پہلی بار کسی بھی مقام پر گورنر راج کے نفاذ کی حمایت کی ہے۔ ان کے مطابق صوبے کے اندر حالات اس نہج پر پہنچ چکے تھے کہ یہ قدم اٹھانا ناگزیر ہو گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مسلسل چودہ برسوں کے حالات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس طویل عرصے کے دوران صوبے میں مبینہ طور پر قبضہ مافیا، منشیات فروشوں اور دیگر کرپٹ عناصر کو پنپنے کے مواقع فراہم کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان عناصر کی وجہ سے نظام حکومت کمزور ہوا اور عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر نے اس امر پر بھی روشنی ڈالی کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد کسی بھی سطح پر کوئی بڑا عوامی احتجاج دیکھنے میں نہیں آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سابق حکمران جماعت کو عوامی مقبولیت حاصل نہیں تھی بلکہ وہ محض مفادات کے تحت متحد تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اختیار ولی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ صوبے میں گزشتہ ادوار کے دوران ہونے والی مبینہ مالی بے ضابطگیوں کی اگر غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں تو اربوں روپے کی بدعنوانی اور کرپشن کے بڑے اسکینڈلز سامنے آ سکتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ان تمام معاملات کی تہہ تک پہنچنا انتہائی ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی سطح پر قائم کی جانے والی نئی کابینہ کے حوالے سے انہوں نے واضح کیا کہ اس میں شامل ٹیکنوکریٹس کا مقصد کسی قسم کا سیاسی ایجنڈا آگے بڑھانا نہیں ہے۔ اس کابینہ کا واحد اور بنیادی مقصد صوبے کے امن و امان کو بہتر بنانا اور انتظامی شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتی نمائندگان کا یہ بھی ماننا ہے کہ ماہرین کی یہ ٹیم اپنی متعلقہ شعبوں کی مہارت کو بروئے کار لاتے ہوئے ان اہداف کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوگی۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ صوبے میں جلد ہی ترقیاتی عمل کو بھی درست سمت میں گامزن کر دیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مجموعی طور پر خیبرپختونخوا کے شہریوں اور حکومتی شخصیات کے بیانات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ انتظامی تبدیلی کو عوام کی طرف سے پذیرائی مل رہی ہے۔ پائیدار امن، قانون کی عملداری اور شفاف نظام کی بحالی کے لیے تمام متعلقہ فریقین پرامید دکھائی دیتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%af%d9%88%d8%b1%d9%86%d8%b1-%d8%b1%d8%a7%d8%ac-%d8%a7%d9%88%d8%b1-2/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے سہیل آفریدی کی حفاظتی تحویل کی تصدیق کر دی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%da%af%d9%88%d8%b1%d9%86%d8%b1-%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7-%d9%81%db%8c%d8%b5%d9%84-%da%a9%d8%b1%db%8c%d9%85-%da%a9%d9%86%da%88%db%8c/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%da%af%d9%88%d8%b1%d9%86%d8%b1-%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7-%d9%81%db%8c%d8%b5%d9%84-%da%a9%d8%b1%db%8c%d9%85-%da%a9%d9%86%da%88%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 12 Oct 2026 15:16:55 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[احتساب]]></category>
		<category><![CDATA[پشاور]]></category>
		<category><![CDATA[حفاظتی_تحویل]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سہیل_آفریدی]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[فیصل_کریم_کنڈی]]></category>
		<category><![CDATA[قانون_کی_حکمرانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%da%af%d9%88%d8%b1%d9%86%d8%b1-%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7-%d9%81%db%8c%d8%b5%d9%84-%da%a9%d8%b1%db%8c%d9%85-%da%a9%d9%86%da%88%db%8c-%d9%86%db%92-%d8%b3/</guid>

					<description><![CDATA[گورنر فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ کرپشن میں ملوث عناصر کے خلاف بلا تفریق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ایک اہم بیان میں سہیل آفریدی کے حفاظتی تحویل میں ہونے کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے۔ یہ معاملہ گزشتہ کچھ عرصے سے زیر بحث تھا جس پر اب گورنر کی جانب سے وضاحت سامنے آ گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے واضح کیا کہ سہیل آفریدی اس وقت قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حفاظتی تحویل میں موجود ہیں۔ انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم کرتے ہوئے صورتحال کا احاطہ کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گورنر نے اپنے بیان میں کہا کہ ملک میں قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا اولین ترجیح ہے اور اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ احتساب کا عمل بلا تفریق جاری رہے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فیصل کریم کنڈی نے مزید کہا کہ جس کسی نے بھی ماضی میں کرپشن کی ہے، اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ احتساب کے عمل میں کوئی چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا، قانون سب کے لیے برابر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس موقع پر گورنر خیبرپختونخوا نے پاکستان تحریک انصاف پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس جماعت نے کبھی بھی دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف واضح اور دو ٹوک موقف اختیار نہیں کیا جو کہ افسوسناک ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے کہا کہ قومی مفادات اور سلامتی کے معاملات پر سیاست کرنے کے بجائے تمام سیاسی جماعتوں کو ایک قومی بیانیہ اپنانے کی ضرورت ہے۔ انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے اجتماعی کوششیں ہی ملک کو مستحکم بنا سکتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گورنر نے زور دیا کہ صوبے کے عوام امن اور ترقی چاہتے ہیں اور حکومت اس مقصد کے حصول کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبائی حکومت اور وفاقی ادارے مل کر صوبے کے مسائل کے حل کے لیے کوشاں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو درپیش مشکلات کا احساس ہے اور ان کے ازالے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاسی حلقوں میں گورنر کے اس بیان کو انتہائی اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ سہیل آفریدی کی حفاظتی تحویل کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں گردش کر رہی تھیں۔ اب حکومتی سطح پر تصدیق کے بعد صورتحال واضح ہو گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گورنر نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ احتساب کا عمل شفاف ہونا چاہیے تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن کے خاتمے کے بغیر ملک کی معاشی ترقی ممکن نہیں ہے اور اس کے لیے سخت فیصلے کرنا ناگزیر ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور اب وقت ہے کہ صوبے کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جائے۔ انہوں نے امن کے قیام کے لیے سیکیورٹی فورسز کی کوششوں کو سراہا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ حکومت کا مقصد عوامی خدمت ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ قانون کی بالادستی ہی ایک مستحکم معاشرے کی بنیاد ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں گورنر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ صوبے کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھاتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ ملکی مفاد کو ذاتی مفادات پر ترجیح دیں تاکہ ملک آگے بڑھ سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%da%af%d9%88%d8%b1%d9%86%d8%b1-%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7-%d9%81%db%8c%d8%b5%d9%84-%da%a9%d8%b1%db%8c%d9%85-%da%a9%d9%86%da%88%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
