<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.33.3"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>آٹا &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%a2%d9%b9%d8%a7/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sun, 01 Nov 2026 17:26:30 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>آٹا &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>درآمدی گندم کی آمد، آٹے اور گندم کی قیمتوں میں کمی کا امکان</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/3148/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/3148/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 28 Oct 2026 12:56:48 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آٹا]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[پاسکو]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[خوراک_کی_سیکیورٹی]]></category>
		<category><![CDATA[درآمدی_گندم]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[رانا_تنویر_حسین]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%af%d8%b1%d8%a2%d9%85%d8%af%db%8c-%da%af%d9%86%d8%af%d9%85-%da%a9%db%8c-%d8%a2%d9%85%d8%af-%d8%a2%d9%b9%db%92-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%af%d9%86%d8%af%d9%85-%da%a9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[کراچی پورٹ پر گندم کے بڑے جہاز لنگر انداز، وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے قیمتوں میں استحکام کی نوید سنا دی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">کراچی کی بندرگاہ پر درآمدی گندم کی بڑی کھیپ پہنچنے کے بعد ملک بھر میں گندم اور آٹے کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی توقع پیدا ہو گئی ہے۔ حکام کے مطابق 51 ہزار ٹن گندم لے کر ایک بحری جہاز کراچی پورٹ کے برتھ نمبر 16 اور 17 پر پہنچ چکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس سلسلے میں مزید پیش رفت کرتے ہوئے 3 نومبر کو ایک اور جہاز 59 ہزار 132 ٹن گندم لے کر کراچی پہنچے گا۔ اس طرح دونوں جہازوں کے ذریعے مجموعی طور پر ایک لاکھ 10 ہزار ٹن سے زائد گندم درآمد کی جا رہی ہے جس سے مقامی منڈی میں رسد بہتر ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی رانا تنویر حسین نے اس پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ چند روز میں گندم کی قیمتیں معمول پر آ جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ حالیہ عرصے میں قیمتوں میں اضافہ مصنوعی تھا جس کے پیچھے بعض عناصر کی منڈی میں مداخلت کارفرما تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر نے مزید بتایا کہ حکومت نے تمام صوبوں کے ساتھ مشاورت اور مکمل اتفاق رائے کے بعد گندم کی قیمت 4500 روپے فی من مقرر کی ہے۔ اس پالیسی کا بنیادی مقصد کسانوں کے مفادات کا تحفظ کرنا اور انہیں ان کی محنت کا جائز معاوضہ فراہم کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت نے 40 سال بعد ایک جامع قومی گندم پالیسی تشکیل دی ہے جس کے تحت ملک میں گندم کے 60 لاکھ میٹرک ٹن تک اسٹریٹجک ذخائر برقرار رکھے جائیں گے۔ رانا تنویر حسین نے عوام کو یقین دلایا کہ ملک میں گندم کی کوئی قلت نہیں ہے اور وافر ذخائر موجود ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے کہا کہ حکومت درآمدی گندم کے بجائے مقامی کسانوں سے خریداری کو ترجیح دے رہی ہے تاکہ ملکی زرعی معیشت کو مستحکم کیا جا سکے۔ پاسکو کے ذخائر سے اب تک صوبوں کو 13 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد گندم فراہم کی جا چکی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی حکومتوں کی طلب کو مدنظر رکھتے ہوئے وفاقی حکومت نے ساڑھے 5 لاکھ میٹرک ٹن تک مزید گندم درآمد کرنے کے انتظامات بھی کر رکھے ہیں۔ ان اقدامات سے مارکیٹ میں گندم کی دستیابی یقینی بنائی جا رہی ہے تاکہ عام آدمی کو ریلیف مل سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کے جی ٹی ایم ایل کے ذریعے کراچی پورٹ پر گندم کی ہینڈلنگ کا عمل تیزی سے جاری ہے تاکہ درآمدی گندم کو جلد از جلد ملک کے مختلف حصوں تک پہنچایا جا سکے۔ حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ ترسیل کے عمل میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ آنے دی جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کا ماننا ہے کہ درآمدی گندم کی آمد سے آٹے کی قیمتوں میں کمی کا رجحان پیدا ہوگا جس سے مہنگائی کے ستائے عوام کو بڑی ریلیف ملے گی۔ حکومت کی جانب سے قیمتوں کے تعین اور ذخائر کی نگرانی کا عمل جاری رہے گا تاکہ مصنوعی قلت پیدا نہ ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پریشان نہ ہوں کیونکہ حکومت ہر ممکن کوشش کر رہی ہے کہ اشیائے خوردونوش کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ میں رہیں۔ گندم کی سپلائی چین کو بہتر بنانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک بھر میں گندم کی قیمتوں میں استحکام کے لیے صوبائی حکومتوں کو بھی متحرک کیا گیا ہے تاکہ وہ اپنی سطح پر نگرانی کا نظام مضبوط بنائیں۔ ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی کا عندیہ بھی دیا گیا ہے تاکہ منڈی میں شفافیت برقرار رہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کی زرعی پالیسی میں یہ ایک اہم موڑ ہے جہاں طویل مدتی منصوبہ بندی کے ذریعے گندم کی قلت کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کسانوں کی خوشحالی اور صارفین کے لیے سستی روٹی کی فراہمی حکومت کا عزم ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/3148/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پنجاب میں 20 کلو آٹے کے تھیلے کی فروخت پر پابندی عائد، 10 کلو کا تھیلا دستیاب ہوگا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2081/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2081/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 02:16:42 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آٹا]]></category>
		<category><![CDATA[اسمگلنگ]]></category>
		<category><![CDATA[اشیائے_خوردونوش]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈپٹی_کمشنر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_اسمبلی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%d9%86%d8%ac%d8%a7%d8%a8-%d9%85%db%8c%da%ba-20-%da%a9%d9%84%d9%88-%d8%a2%d9%b9%db%92-%da%a9%db%92-%d8%aa%da%be%db%8c%d9%84%db%92-%da%a9%db%8c-%d9%81%d8%b1%d9%88%d8%ae%d8%aa/</guid>

					<description><![CDATA[وزیراعلیٰ مریم نواز نے گندم اور آٹے کی اسمگلنگ روکنے کے لیے بین الصوبائی بارڈرز پر سخت نگرانی کا حکم دے دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں آٹے کی دستیابی اور قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے 20 کلو آٹے کے تھیلے کی فروخت پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اب مارکیٹ میں صرف 10 کلو گرام کے آٹے کے تھیلے ہی دستیاب ہوں گے، جس کا مقصد ذخیرہ اندوزی اور اسمگلنگ کی روک تھام ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس ویڈیو لنک کے ذریعے منعقد ہوا، جس میں صوبے میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں اور دستیابی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران گندم اور آٹے کی غیر قانونی نقل و حمل کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کرنے پر اتفاق کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ بین الصوبائی بارڈرز پر کڑی نگرانی کی جائے تاکہ گندم کی اسمگلنگ کا راستہ روکا جا سکے۔ انہوں نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو اپنے اپنے اضلاع میں گندم کی بوائی کے مقررہ اہداف کو ہر صورت مکمل کرنے کا حکم دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس میں سرکاری اراضی پر گندم کی کاشت کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا گیا۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ صوبے میں گندم کی پیداوار بڑھانے اور اسے عام آدمی تک مناسب قیمت پر پہنچانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کے علاوہ اجلاس میں 15 بنیادی اشیائے خوردونوش بشمول دالوں اور سبزیوں کی قیمتوں کا تقابلی جائزہ لیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ مارکیٹ میں اشیاء کی مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے اور قیمتوں میں استحکام برقرار رکھا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس میں ڈپٹی کمشنرز کو پابند کیا گیا کہ وہ اپنے اضلاع میں موجود کولڈ اسٹوریج میں پھلوں جیسے کہ کی لا، سیب اور کھجور کی اسٹوریج کو یقینی بنائیں۔ اس اقدام کا مقصد پھلوں کی قلت کو دور کرنا اور مارکیٹ میں ان کی مسلسل فراہمی کو ممکن بنانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعلیٰ مریم نواز نے صوبے بھر میں &#039;منڈی مارٹ&#039; کے قیام کے لیے عملی اقدامات شروع کرنے کی بھی ہدایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ منڈی مارٹ کے ذریعے عوام کو معیاری اشیاء سستے داموں فراہم کرنا حکومت کی ترجیح ہے تاکہ مہنگائی کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت پنجاب کا یہ فیصلہ گندم کے بحران سے نمٹنے اور آٹے کی قیمتوں میں توازن لانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ حکام کا ماننا ہے کہ 10 کلو کے تھیلے کی دستیابی سے سپلائی چین میں شفافیت آئے گی اور عام صارفین کو آٹا خریدنے میں آسانی ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی انتظامیہ نے تمام ضلعی افسران کو ہدایت کی ہے کہ وہ مارکیٹ کی صورتحال پر کڑی نظر رکھیں اور قیمتوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائیں۔ عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ سرکاری نرخوں پر اشیاء کی فروخت یقینی بنانے میں تعاون کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گندم کی بوائی کے سیزن کے پیش نظر حکومت نے زرعی شعبے میں بہتری کے لیے خصوصی توجہ مرکوز کی ہے۔ کسانوں کو بیج اور کھاد کی بروقت فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے بھی ضلعی سطح پر نگرانی کا نظام فعال کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ عوام کو بنیادی ضروریات کی فراہمی میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ وہ اپنی کارکردگی کو بہتر بنائیں اور فیلڈ میں جا کر قیمتوں کی نگرانی کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس اجلاس میں صوبائی وزراء اور متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی اور وزیراعلیٰ کو اشیائے خوردونوش کی موجودہ صورتحال پر بریفنگ دی۔ حکومت نے عزم ظاہر کیا کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2081/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>اوپن مارکیٹ میں گندم اور آٹے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/1954/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/1954/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Oct 2026 07:57:24 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آٹا]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹاک_ایکسچینج]]></category>
		<category><![CDATA[اشیاء_خوردونوش]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹرول]]></category>
		<category><![CDATA[ڈالر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سندھ]]></category>
		<category><![CDATA[سونا]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d8%a7%d9%88%d9%be%d9%86-%d9%85%d8%a7%d8%b1%da%a9%db%8c%d9%b9-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%af%d9%86%d8%af%d9%85-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a2%d9%b9%db%92-%da%a9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[فلور ملز اور چکی کے آٹے کی قیمتوں میں فرق کے باعث صارفین کو مختلف نرخوں پر خریداری کرنا پڑ رہی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ملک بھر میں گندم اور آٹے کی قیمتوں میں جاری اتار چڑھاؤ کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ اوپن مارکیٹ میں گندم کے نرخوں میں تبدیلی کے اثرات براہ راست آٹے کی قیمتوں پر مرتب ہو رہے ہیں، جس سے مارکیٹ میں قیمتوں کا تعین غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فلور ملز ایسوسی ایشن سندھ کے سابق چیئرمین عبدالجنید کے مطابق اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمت 140 سے 141 روپے فی کلو تک دیکھی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فلور ملز کو بھی اوپن مارکیٹ سے گندم کی خریداری کے لیے 145 روپے فی کلو تک ادا کرنے پڑ رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملز کی سطح پر قیمتوں کے حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈھائی نمبر آٹے کا ایکس مل ریٹ 158 سے 160 روپے فی کلو مقرر کیا گیا ہے۔ اسی طرح فائن آٹے کی ایکس مل قیمت 170 سے 172 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مارکیٹ میں ریٹیلرز کی جانب سے فروخت کی جانے والی قیمتیں ایکس مل ریٹ سے مختلف ہیں۔ ریٹیل سطح پر ڈھائی نمبر آٹا 175 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ فائن آٹے کی قیمت 185 سے 190 روپے فی کلو تک وصول کی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عبدالجنید کا کہنا ہے کہ آٹے کی قیمتوں کا انحصار مکمل طور پر گندم کے نرخوں پر ہے۔ اگر اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمتوں میں مزید کمی واقع ہوتی ہے تو فلور ملز بھی اپنی پیداوار کی قیمتوں میں فوری طور پر نظرثانی کریں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب آٹا چکی ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری انیس شاہد نے صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ چھوٹی چکی کا آٹا فی الحال 190 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق صاف گندم کی قیمتوں میں نمایاں کمی نہیں دیکھی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انیس شاہد نے مزید وضاحت کی کہ جب تک صاف گندم کی قیمتوں میں استحکام یا کمی نہیں آتی، تب تک چکی کے آٹے کی قیمتوں میں کمی لانا ممکن نہیں ہوگا۔ چکی مالکان بھی گندم کی خریداری کے موجودہ نرخوں کے مطابق ہی آٹا فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتی سطح پر گندم کی فراہمی اور مارکیٹ مانیٹرنگ کے حوالے سے بھی مختلف اقدامات زیر غور ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ گندم کی وافر دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے تاکہ عام آدمی کو ریلیف مل سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کا ماننا ہے کہ گندم کی فصل کی کٹائی اور ذخیرہ اندوزی کے رجحانات بھی قیمتوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ مارکیٹ میں سپلائی چین کو بہتر بنا کر قیمتوں میں مصنوعی اضافے کو روکا جا سکتا ہے، جس کے لیے انتظامیہ متحرک ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ آٹے کی قیمتوں میں استحکام لانے کے لیے سخت نگرانی کی جائے۔ ضلعی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ ریٹیل سطح پر قیمتوں کی جانچ پڑتال کرے تاکہ عوام کو مقررہ نرخوں پر آٹا دستیاب ہو سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فلور ملز اور چکی مالکان دونوں کا موقف ہے کہ وہ مارکیٹ کے حالات کے مطابق قیمتوں کا تعین کرتے ہیں۔ گندم کی قیمتوں میں کمی ہی واحد راستہ ہے جس سے آٹے کی قیمتوں میں عام آدمی کی قوت خرید کے مطابق کمی لائی جا سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مجموعی طور پر آٹے کی قیمتوں میں جاری یہ اتار چڑھاؤ صارفین کے لیے پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے۔ متعلقہ حکام اور ایسوسی ایشنز کے درمیان رابطے جاری ہیں تاکہ قیمتوں میں توازن قائم کیا جا سکے اور عوام کو سستا آٹا فراہم کیا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/1954/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ملک میں مہنگائی کا تسلسل، ایک ہفتے میں 23 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/985/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/985/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 16 Oct 2026 19:37:15 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آٹا]]></category>
		<category><![CDATA[ادارہ_شماریات]]></category>
		<category><![CDATA[اشیائے_ضروریہ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹرول]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[عوام]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_اسمبلی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%85%d9%84%da%a9-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%db%81%d9%86%da%af%d8%a7%d8%a6%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d8%aa%d8%b3%d9%84%d8%b3%d9%84-%d8%a7%db%8c%da%a9-%db%81%d9%81%d8%aa%db%92-%d9%85%db%8c%da%ba-23/</guid>

					<description><![CDATA[وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے کے دوران مہنگائی کی شرح میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان میں مہنگائی کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ملک میں 23 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نو ہفتوں تک مسلسل مہنگائی میں اضافے کے بعد حالیہ ہفتے کے دوران مہنگائی کی شرح میں معمولی کمی واقع ہوئی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق مہنگائی کی رفتار میں 0.04 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ادارہ شماریات کے مطابق سالانہ بنیادوں پر مہنگائی میں اضافے کی رفتار کم ہو کر 11.38 فیصد پر آ گئی ہے۔ گزشتہ ہفتے کے دوران 23 اشیاء مہنگی ہوئیں جبکہ 7 اشیاء کی قیمتوں میں کمی اور 21 اشیاء کی قیمتیں مستحکم رہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قیمتوں میں اضافے کا شکار ہونے والی اشیاء میں چکن، دال چنا، دال ماش، دال مسور، ایل پی جی، ڈیزل، جلانے والی لکڑی، چائے اور آٹا شامل ہیں۔ ان اشیاء کی قیمتوں میں مختلف تناسب سے اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اعداد و شمار کے مطابق چکن کی قیمت میں 3.31 فیصد، دال چنا میں 4.97 فیصد، دال ماش میں 0.98 فیصد اور دال مسور میں 0.65 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح آٹے کی قیمت میں 3.36 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب کچھ اشیاء کی قیمتوں میں کمی بھی دیکھی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق چینی کی قیمت میں 0.62 فیصد، گڑ میں 0.36 فیصد، پیاز میں 4.90 فیصد اور ٹماٹر کی قیمت میں 23.05 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پیٹرول کی قیمت میں بھی 0.70 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ کیلے کی قیمت میں 2.59 فیصد کی کمی ہوئی ہے۔ یہ اشیاء عام آدمی کے لیے ریلیف کا باعث بنتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حساس قیمتوں کے اعشاریے کے لحاظ سے مختلف آمدنی والے طبقات کے لیے مہنگائی کی شرح میں بھی تبدیلی دیکھی گئی ہے۔ کم آمدنی والے طبقے کے لیے مہنگائی کی رفتار میں 0.06 فیصد کمی کے ساتھ 8.19 فیصد رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کے علاوہ 22 ہزار 889 سے 29 ہزار 517 روپے ماہانہ کمانے والوں کے لیے مہنگائی کی رفتار 8.99 فیصد رہی، جبکہ 29 ہزار 518 سے 44 ہزار 175 روپے ماہانہ آمدنی والے طبقے کے لیے یہ شرح 9.54 فیصد رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں، تاہم اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ بدستور جاری ہے جس سے عوام پر بوجھ پڑ رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/985/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>لاہور میں مہنگائی کا راج، اشیائے ضروریہ عام آدمی کی پہنچ سے دور</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/105/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/105/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 08:58:39 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آٹا]]></category>
		<category><![CDATA[اشیائے_ضروریہ]]></category>
		<category><![CDATA[انتظامیہ]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[دودھ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سبزیاں]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[عوام]]></category>
		<category><![CDATA[قیمتیں]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/105/</guid>

					<description><![CDATA[شہر میں آٹا، گھی، دالیں، دودھ اور گوشت سمیت دیگر بنیادی اشیائے خورونوش سرکاری نرخ نامے کے برعکس مہنگے داموں فروخت ہونے لگیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">صوبائی دارالحکومت لاہور میں مہنگائی کے طوفان نے شہریوں کی قوت خرید کو شدید متاثر کر دیا ہے۔ شہر بھر میں آٹا، گھی، کوکنگ آئل، دالیں، چاول، سبزیاں اور پھل سمیت دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ سرکاری نرخ نامے پر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث دکاندار اپنی مرضی کے دام وصول کر رہے ہیں۔ اس صورتحال نے عام شہریوں کے لیے اپنے گھریلو اخراجات کو متوازن رکھنا ایک مشکل چیلنج بنا دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دالوں کی قیمتوں پر نظر ڈالی جائے تو دال چنا 250 روپے، دال ماش 440 روپے، دال مسور 240 روپے اور دال مونگ 320 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہی ہے۔ اس کے علاوہ سفید اور کالے چنے بھی 240 روپے فی کلو کی سطح پر ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کھانے پکانے کے لیے استعمال ہونے والے گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ درجہ اول کا کوکنگ آئل اور گھی 615 روپے فی لٹر جبکہ درجہ دوم کا گھی اور آئل 550 روپے فی لٹر تک فروخت کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چاول کی قیمت 300 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے جبکہ چینی کی قیمت 140 روپے فی کلو مقرر ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بنیادی اشیا کی قیمتوں میں اضافے سے ان کا ماہانہ بجٹ بری طرح متاثر ہو رہا ہے اور وہ پریشانی کا شکار ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہر میں روٹی کی قیمت بھی سرکاری نرخ 14 روپے کے برعکس 20 روپے فی عدد وصول کی جا رہی ہے۔ اسی طرح دودھ کی سرکاری قیمت 170 روپے فی کلو ہے مگر مارکیٹ میں یہ 210 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دہی کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے اور یہ 230 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔ شہریوں کا شکوہ ہے کہ سبزیاں اور ترکاریاں بھی ریٹ لسٹ کے مطابق دستیاب نہیں ہیں جس سے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گوشت کی قیمتوں میں فرق سب سے زیادہ نمایاں ہے۔ بیف کی سرکاری قیمت 800 روپے فی کلو مقرر ہے مگر دکاندار 1500 روپے فی کلو وصول کر رہے ہیں۔ اسی طرح مٹن کی سرکاری قیمت 1600 روپے کے باوجود 3000 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ مارکیٹ میں قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے موثر اقدامات اٹھائے۔ ان کا کہنا ہے کہ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی جانب سے سخت نگرانی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی وقت کی اہم ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین معاشیات کے مطابق اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ سپلائی چین میں رکاوٹیں اور منافع خوری کا رجحان ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کرے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتظامیہ کی جانب سے اکثر اوقات چھاپہ مار ٹیمیں تشکیل دی جاتی ہیں تاہم ان کے نتائج تاحال غیر تسلی بخش ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ جب تک عملی طور پر قیمتوں کا نفاذ یقینی نہیں بنایا جاتا، تب تک مہنگائی کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ معاشی حالات میں عام آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اگر حکومت نے بروقت اقدامات نہ کیے تو نچلے طبقے کے لیے اپنی ضروریات پوری کرنا مزید ناممکن ہو جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرے اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کو عام آدمی کی پہنچ کے مطابق لانے کے لیے ٹھوس حکمت عملی مرتب کرے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/105/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
