<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.33.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>آوارہ_کتے &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%a2%d9%88%d8%a7%d8%b1%db%81_%da%a9%d8%aa%db%92/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sun, 01 Nov 2026 10:26:52 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>آوارہ_کتے &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>مصر میں آوارہ کتوں کے حملے میں پندرہ ماہ کی بچی جاں بحق</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/more-news/%d9%85%d8%b5%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a2%d9%88%d8%a7%d8%b1%db%81-%da%a9%d8%aa%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d8%ad%d9%85%d9%84%db%92-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%be%d9%86%d8%af%d8%b1%db%81/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/more-news/%d9%85%d8%b5%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a2%d9%88%d8%a7%d8%b1%db%81-%da%a9%d8%aa%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d8%ad%d9%85%d9%84%db%92-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%be%d9%86%d8%af%d8%b1%db%81/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 28 Oct 2026 09:56:59 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دیگر خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آوارہ_کتے]]></category>
		<category><![CDATA[بچی_جاں_بحق]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس_تحقیقات]]></category>
		<category><![CDATA[حادثہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سلسبیل]]></category>
		<category><![CDATA[صحت_کا_معاملہ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قاہرہ]]></category>
		<category><![CDATA[گارڈنز_سٹی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/more-news/%d9%85%d8%b5%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a2%d9%88%d8%a7%d8%b1%db%81-%da%a9%d8%aa%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d8%ad%d9%85%d9%84%db%92-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%be%d9%86%d8%af%d8%b1%db%81/</guid>

					<description><![CDATA[قاہرہ کے علاقے گارڈنز سٹی میں گھر کے باہر کھیلتی بچی کو آوارہ کتوں نے نشانہ بنایا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">مصر کے دارالحکومت قاہرہ کے ایک رہائشی علاقے میں انتہائی دلخراش واقعہ پیش آیا جہاں آوارہ کتوں کے ایک بے لگام ٹو لے نے حملہ کر کے پندرہ ماہ کی معصوم بچی کو موت کے منہ میں دھکیل دیا۔ یہ افسوسناک حادثہ گارڈنز سٹی نامی محلے میں پیش آیا جس نے مقامی آبادی کو شدید صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حادثے کی شکار ہونے والی کم سن بچی کی شناخت سلسبیل کے نام سے کی گئی ہے جو اپنے گھر کی دہلیز کے باہر کھیل رہی تھی۔ اچانک آوارہ کتوں کے غول نے ننھی بچی پر دھاوا بول دیا اور اس پر شدید حملے کیے جس سے وہ شدید زخمی ہو گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بچی کی چیخ و پکار سن کر اس کی والدہ فوراً گھر سے باہر دوڑیں اور اپنی لختِ جگر کو بچانے کی کوشش کی۔ والدہ نے انتہائی عجلت میں زخمی بچی کو قریبی اسپتال منتقل کیا جہاں ڈاکٹروں نے اس کی جان بچانے کی سرتوڑ کوشش کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بدقسمتی سے معصوم سلسبیل زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اسپتال میں ہی دم توڑ گئی اور طبی عملہ اس کی جان بچانے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ اس دلخراش واقعے کی خبر پھیلتے ہی علاقے کے مکینوں اور عام شہریوں میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر قابو پایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے کسی بھی سانحے سے بچا جا سکے۔ واقعے کی سنگین نوعیت کو دیکھتے ہوئے قاہرہ کی عدالت نے اس پورے معاملے کا فوری طور پر نوٹس لے لیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے اس دلخراش واقعے کی شفاف اور ہمہ جہت تحقیقات کا باضابطہ حکم جاری کر دیا ہے تاکہ تمام حقائق سامنے لائے جا سکیں۔ پولیس اور متعلقہ تفتیشی اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس حادثے سے متعلق تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیقاتی عمل کے دوران حکام نے بچی کی والدہ کو پوچھ گچھ کے لیے طلب کر لیا ہے تاکہ واقعے کے وقت کی درست تفصیلات معلوم کی جا سکیں۔ اس کے علاوہ پولیس کو اس علاقے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کرنے اور اس کی جانچ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس حکام نے بچی کے والد محمد عثمان کو بھی تفتیش کے اگلے مرحلے میں شامل ہونے کے لیے طلب کیا ہے۔ والد کو طلب کیے جانے کی ایک اہم وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ مبینہ طور پر انہوں نے اپنی بیٹی کی تدفین کے لیے سرکاری اجازت نامہ حاصل نہیں کیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مصر میں آوارہ کتوں کے حملے اور کاٹنے کے واقعات کوئی نئی بات نہیں ہیں بلکہ اس حوالے سے ماضی میں بھی تشویشناک اعداد و شمار سامنے آتے رہے ہیں۔ وزارت صحت کے فراہم کردہ ریکارڈ کے مطابق ملک بھر میں ایسے حادثات کی شرح میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس جنوری سے ستمبر کے درمیانی عرصے میں صرف بلیوں اور کتوں کے کاٹنے کے تقریباً بارہ لاکھ واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔ ان اعداد و شمار سے اندازہ ہوتا ہے کہ مصر میں آوارہ جانوروں کا مسئلہ کس قدر سنگین صورت اختیار کر چکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عوامی حلقوں اور فلاحی تنظیموں کی جانب سے بارہا یہ مطالبات کیے جاتے رہے ہیں کہ آوارہ کتوں کو آبادیوں سے دور رکھا جائے اور ان کی افزائشِ نسل کو کنٹرول کیا جائے۔ تاہم اس کے باوجود گلی محلوں میں آوارہ کتوں کی موجودگی معصوم شہریوں بالخصوص بچوں کی جانوں کے لیے مستقل خطرہ بنی ہوئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مصر کی عدالت کی طرف سے اس معاملے کی تحقیقات کے آغاز کے بعد امید کی جارہی ہے کہ ذمہ داران کا تعین کیا جائے گا اور اس مسئلے کے حل کے لیے کوئی موثر لائحہ عمل مرتب ہوگا۔ اس وقت پورے ملک میں اس المناک حادثے پر افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بچی کے والد کی جانب سے تدفین کے معاملے پر قانونی پیچیدگیاں بھی سامنے آئی ہیں جن کی تفتیش کی جا رہی ہے۔ پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کی ٹیمیں اس پورے معاملے کے تمام قانونی اور طبی پہلوؤں کو حتمی شکل دینے میں مصروف عمل ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/more-news/%d9%85%d8%b5%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a2%d9%88%d8%a7%d8%b1%db%81-%da%a9%d8%aa%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d8%ad%d9%85%d9%84%db%92-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%be%d9%86%d8%af%d8%b1%db%81/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>کراچی کے اسپتال میں ریبیز سے تھر کا رہائشی جاں بحق، سندھ میں اموات 38 ہوگئیں</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/health/%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%a7%d8%b3%d9%be%d8%aa%d8%a7%d9%84-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b1%db%8c%d8%a8%db%8c%d8%b2-%d8%b3%db%92-%d8%aa%da%be%d8%b1-%da%a9%d8%a7/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/health/%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%a7%d8%b3%d9%be%d8%aa%d8%a7%d9%84-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b1%db%8c%d8%a8%db%8c%d8%b2-%d8%b3%db%92-%d8%aa%da%be%d8%b1-%da%a9%d8%a7/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 12 Oct 2026 12:17:37 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[صحت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آوارہ_کتے]]></category>
		<category><![CDATA[انڈس_اسپتال]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[تھرپارکر]]></category>
		<category><![CDATA[جناح_اسپتال]]></category>
		<category><![CDATA[ڈپلو]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سندھ]]></category>
		<category><![CDATA[صحت_کی_سہولیات]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[کراچی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%a7%d8%b3%d9%be%d8%aa%d8%a7%d9%84-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b1%db%8c%d8%a8%db%8c%d8%b2-%d8%b3%db%92-%d8%aa%da%be%d8%b1-%da%a9%d8%a7-%d8%b1%db%81%d8%a7%d8%a6/</guid>

					<description><![CDATA[تھرپارکر کے رہائشی کو ڈھائی ماہ قبل آوارہ کتے نے کاٹا تھا جس کی ابتدائی زخم کی صفائی درست نہیں کی گئی تھی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">کراچی کے انڈس اسپتال میں ریبیز کے مرض میں مبتلا تھرپارکر کا رہائشی دورانِ علاج دم توڑ گیا جس کے بعد سندھ بھر میں رواں سال اس خطرناک بیماری سے ہونے والی اموات کی مجموعی تعداد 38 تک پہنچ گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترجمان انڈس اسپتال کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق جاں بحق ہونے والے 38 سالہ شہری نعمت اللہ کا تعلق ضلع تھرپارکر کی تحصیل ڈپلو کے علاقے نوہڑیو سے تھا جنہیں کچھ عرصہ قبل اسپتال لایا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متاثرہ شخص کو تقریباً ڈھائی ماہ قبل کتے نے کاٹا تھا جس کے بعد انہیں ابتدائی طبی امداد کے لیے مقامی طبی مرکز منتقل کیا گیا جہاں ان کا علاج معالعہ کیا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترجمان کے مطابق مریض کو تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال ڈپلو میں 25 جولائی سے 8 اگست کے دوران ریبیز سے بچاؤ کی ویکسین کی 4 خوراکیں بھی دی گئی تھیں تاہم مرض پر قابو نہ پایا جا سکا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مریض کو 7 اکتوبر کے روز ریبیز کی واضح علامات ظاہر ہونے پر کراچی کے انڈس اسپتال میں داخل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے ان کی جان بچانے کی سرتوڑ کوشش کی جو بارآور نہ ہو سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انڈس اسپتال کے ترجمان نے انکشاف کیا کہ ابتدائی طبی امداد کے دوران زخمی شخص کے زخم کی مناسب انداز میں صفائی نہیں کی گئی تھی جو اس جان لیوا مرض کے پھیلنے کا سبب بنی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس ناخوشگوار واقعے کے بعد رواں سال اکیلے انڈس اسپتال میں کتے کے کاٹے سے جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد بڑھ کر 29 ہو چکی ہے جبکہ صورتحال انتہائی تشویشناک بنی ہوئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">علاوہ ازیں انڈس اسپتال بدین میں بھی رواں سال کے دوران کتے کے کاٹے سے 1 موت رپورٹ کی جا چکی ہے جو اس عوامی صحت کے مسئلے کی سنگین نوعیت کو ظاہر کرتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہر قائد کے معروف جناح اسپتال میں بھی اس سال اب تک کتے کے کاٹے کے نتیجے میں ہونے والی اموات کی تعداد 8 تک پہنچ چکی ہے جہاں متاثرین کا علاج کیا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صحت کے اداروں کے مطابق صرف انڈس اسپتال میں رواں سال کے دوران پندرہ ہزار سے زائد کتے کے کاٹے کے شکار مریض علاج کی غرض سے لائے جا چکے ہیں جو ایک بہت بڑا اعداد و شمار ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ کتے کے کاٹنے کی صورت میں ابتدائی چند گھنٹوں کے اندر زخم کی صابن اور پانی سے بھرپور صفائی اور فوری ویکسینیشن انتہائی لازمی ہوتی ہے تاکہ جان بچائی جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سندھ بھر میں آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور اس سے پیدا ہونے والے خطرات پر شہریوں اور سماجی حلقوں کی جانب سے بارہا تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور موثر اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متعلقہ انتظامیہ اور میونسپل اداروں پر لازم ہے کہ وہ آوارہ کتوں کی تلفی اور ویکسینیشن کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کریں تاکہ معصوم شہریوں کی قیمتی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/health/%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%a7%d8%b3%d9%be%d8%aa%d8%a7%d9%84-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b1%db%8c%d8%a8%db%8c%d8%b2-%d8%b3%db%92-%d8%aa%da%be%d8%b1-%da%a9%d8%a7/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>لاہور میں کتے کے کاٹنے سے مزید دو افراد جاں بحق</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/lahore/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%a9%d8%aa%db%92-%da%a9%db%92-%da%a9%d8%a7%d9%b9%d9%86%db%92-%d8%b3%db%92-%d9%85%d8%b2%db%8c%d8%af-%d8%af%d9%88/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/lahore/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%a9%d8%aa%db%92-%da%a9%db%92-%da%a9%d8%a7%d9%b9%d9%86%db%92-%d8%b3%db%92-%d9%85%d8%b2%db%8c%d8%af-%d8%af%d9%88/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 12 Oct 2026 10:57:40 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آوارہ_کتے]]></category>
		<category><![CDATA[انسانی_جانیں]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[حادثات]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ریبیز]]></category>
		<category><![CDATA[شہر_کی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[صحت_کی_سہولیات]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%a9%d8%aa%db%92-%da%a9%db%92-%da%a9%d8%a7%d9%b9%d9%86%db%92-%d8%b3%db%92-%d9%85%d8%b2%db%8c%d8%af-%d8%af%d9%88-%d8%a7%d9%81%d8%b1%d8%a7%d8%af/</guid>

					<description><![CDATA[شہر میں آوارہ کتوں کے کاٹنے کے واقعات میں اضافہ، ریبیز کے مرض میں مبتلا دو مریض دم توڑ گئے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">لاہور میں آوارہ کتوں کے کاٹنے کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جہاں ریبیز کے مرض میں مبتلا ہو کر مزید دو افراد اپنی زندگی کی بازی ہار گئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہر کے مختلف علاقوں میں آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد شہریوں بالخصوص بچوں اور بزرگوں کے لیے شدید خطرہ بن چکی ہے اور آئے روز ایسے افسوسناک واقعات سامنے آرہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نئے پیش آنے والے ان افسوسناک واقعات میں جاں بحق ہونے والوں میں 60 سالہ نسرین بی بی اور 90 سالہ غوث محمد شامل ہیں جو ریبیز کا شکار ہو گئے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">طبی ماہرین کے مطابق دونوں مریضوں میں ریبیز کی علامات کی مکمل تصدیق ہو چکی تھی اور انہیں ہسپتال میں طبی امداد فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پہلے واقعے میں 60 سالہ نسرین بی بی کو دو ماہ قبل ایک آوارہ کتے نے کاٹا تھا جس کے بعد ان کی صحت بتدریج خراب ہوتی چلی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کتے کے کاٹنے کے اس واقعے کے بعد لواحقین نے انہیں فوری طور پر علاج کی غرض سے میو ہسپتال منتقل کیا جہاں ڈاکٹروں نے ان کا علاج شروع کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">میو ہسپتال کے آئسولیشن وارڈ میں نسرین بی بی کا علاج مسلسل جاری رہا اور ڈاکٹروں نے ان کی جان بچانے کے لیے بھرپور کوششیں کیں مگر وہ جانبر نہ ہو سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ریبیز کا مرض ان کے جسم میں انتہائی خطرناک صورت اختیار کر گیا تھا جس کے باعث تمام تر طبی کوششوں کے باوجود وہ زندگی کی جنگ ہار گئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسرے واقعے میں 90 سالہ غوث محمد بھی آوارہ کتے کے کاٹنے کا نشانہ بنے اور ریبیز کی تشخیص کے بعد انہیں بھی ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">غوث محمد کو میو ہسپتال میں چند روز تک زیرِ علاج رکھا گیا جہاں ڈاکٹر ان کی حالت پر مسلسل نظر رکھے ہوئے تھے اور ضروری طبی امداد دے رہے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کچھ روز تک ہسپتال میں علاج کے بعد غوث محمد کے لواحقین اپنی مرضی سے انہیں گھر واپس لے گئے تھے جہاں ان کی طبیعت مزید بگڑ گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گھر منتقلی کے بعد غوث محمد زیادہ دیر زندہ نہ رہ سکے اور دم توڑ گئے، جس کی تصدیق ہسپتال ذرائع اور ڈاکٹروں نے بھی کی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرینِ صحت کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ریبیز کے تصدیق شدہ مریضوں کو ہسپتال سے گھر منتقل کرنا انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اس مرحلے پر خصوصی نگہداشت ضروری ہوتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہر میں آوارہ کتوں کی بہتات اور ان کے کاٹنے کے بڑھتے ہوئے واقعات پر قابو پانے کے لیے متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان اٹھائے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور بلدیاتی اداروں کی جانب سے آوارہ کتوں کے خاتمے یا ان کی ویکسینیشن کے لیے کوئی موثر اور جامع اقدامات نظر نہیں آرہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرینِ صحت نے زور دیا ہے کہ آوارہ کتوں کے کاٹنے کے زخم کو معمولی ہرگز نہ سمجھا جائے اور فوری طور پر قریبی ہسپتال یا ویکسینیشن سینٹر سے رجوع کیا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بروقت ریبیز مخالف ویکسینیشن کا حصول ہی اس جان لیوا اور خطرناک مرض سے بچاؤ کا واحد، موثر اور یقینی ذریعہ ہے جس میں کسی قسم کی غفلت نہیں برتنی چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں نے حکومت پنجاب اور بلدیاتی اداروں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ لاہور کے تمام زونز میں آوارہ کتوں کے خلاف فوری طور پر باقاعدہ مہم شروع کی جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گلی محلوں اور شاہراہوں پر دندناتے پھرنے والے آوارہ جانوروں کی تلفی کے لیے ٹھوس حکمت عملی بنائی جائے تاکہ معصوم شہریوں کی قیمتی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">میو ہسپتال سمیت تمام بڑے سرکاری ہسپتالوں میں ریبیز سے بچاؤ کی ویکسین کی دستیابی ہر وقت یقینی بنائی جائے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری مدد مل سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/lahore/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%a9%d8%aa%db%92-%da%a9%db%92-%da%a9%d8%a7%d9%b9%d9%86%db%92-%d8%b3%db%92-%d9%85%d8%b2%db%8c%d8%af-%d8%af%d9%88/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
