<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.42.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>آف_شور_تلاش &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%a2%d9%81_%d8%b4%d9%88%d8%b1_%d8%aa%d9%84%d8%a7%d8%b4/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Fri, 06 Nov 2026 16:11:58 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>آف_شور_تلاش &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>پاکستان اور ترکیہ کا تقریباً دو دہائیوں بعد آف شور تیل و گیس کی تلاش شروع کرنے کا فیصلہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/5417/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/5417/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 06 Nov 2026 16:11:58 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آف_شور_تلاش]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ترک_پٹرولیم_کمپنی]]></category>
		<category><![CDATA[ترکیہ]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی]]></category>
		<category><![CDATA[تیل_اور_گیس]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سمندری_مہم]]></category>
		<category><![CDATA[علی_پرویز_ملک]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[کراچی]]></category>
		<category><![CDATA[وزارت_پٹرولیم]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/5417/</guid>

					<description><![CDATA[ترک کمپنی کا زلزلہ پیما جہاز 17 سے 20 نومبر کے درمیان کراچی پہنچے گا، وفاقی وزیر پٹرولیم نے انتظامات کا جائزہ لے لیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان اور ترکیہ نے تقریباً دو دہائیوں کے طویل وقفے کے بعد سمندری حدود میں تیل اور گیس کے ذخائر کی تلاش کا عمل دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اہم منصوبے کے تحت دونوں ممالک مشترکہ طور پر آف شور ایکسپلوریشن سرگرمیوں کا آغاز کریں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس مہم کے لیے ترک پٹرولیم آف شور کمپنی (TPOC) کا ایک جدید زلزلہ پیما (seismic) جہاز پاکستان روانہ کر دیا گیا ہے۔ یہ جہاز 17 سے 20 نومبر کے درمیان کراچی کی بندرگاہ پر پہنچے گا، جس کے بعد تکنیکی کام کا باقاعدہ آغاز ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر برائے پٹرولیم علی پرویز ملک نے جمعہ کے روز اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کی۔ اس اجلاس کا بنیادی مقصد سمندری حدود میں تیل و گیس کی تلاش کے لیے کی جانے والی تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لینا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس کے دوران متعلقہ حکام نے وزیر پٹرولیم کو جہاز کی آمد، تنصیب اور آپریشنل امور کے بارے میں بریفنگ دی۔ حکام نے بتایا کہ اس مہم کے لیے تمام تر لاجسٹک اور تکنیکی انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس موقع پر سمندری امور اور سکیورٹی کے معاملات پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں شریک حکام نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سمندری حدود میں سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ تلاش کا عمل بلا تعطل جاری رہ سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے اس پیش رفت کو توانائی کے شعبے میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام پاکستان کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے اور مقامی وسائل کو بروئے کار لانے کی حکومتی کوششوں کا حصہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کے مطابق، یہ منصوبہ پاکستان کے سمندری علاقے میں ہائیڈرو کاربن کے ذخائر کی موجودگی کا پتہ لگانے کے لیے ایک بڑی کوشش ہے۔ اس سے قبل طویل عرصے تک آف شور تلاش کا کام تعطل کا شکار رہا تھا، تاہم اب اسے دوبارہ فعال کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ ترکیہ کی تکنیکی مہارت اور جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے پاکستان اپنے سمندری وسائل کی تلاش میں تیزی لائے گا۔ یہ تعاون دونوں ممالک کے درمیان توانائی کے شعبے میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سمندری حدود میں تیل و گیس کی تلاش کا یہ عمل ایک پیچیدہ تکنیکی عمل ہے جس کے لیے جدید ترین زلزلہ پیما آلات کی ضرورت ہوتی ہے۔ ترک کمپنی کا جہاز ان ہی جدید آلات سے لیس ہے جو سمندر کی تہہ میں موجود ارضیاتی ساخت کا ڈیٹا اکٹھا کرے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتِ پاکستان کی جانب سے توانائی کے شعبے میں خود انحصاری کے لیے یہ ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کے تحت حاصل ہونے والا ڈیٹا مستقبل میں ڈرلنگ اور دیگر تلاش کے مراحل کے لیے بنیاد فراہم کرے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس کے شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ تمام متعلقہ ادارے اس مہم کے دوران باہمی تعاون کو برقرار رکھیں گے۔ سکیورٹی اداروں اور میری ٹائم حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ جہاز کی آمد اور اس کے بعد کی سرگرمیوں کے لیے اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس منصوبے پر کام کا آغاز پاکستان کی توانائی کی حکمت عملی میں ایک نئی جہت کا اضافہ کرے گا۔ حکام کے مطابق، اس تلاش کے نتائج توانائی کے شعبے میں ملک کے لیے طویل مدتی فوائد کا باعث بن سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/5417/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
