<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>آزادی_صحافت &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%a2%d8%b2%d8%a7%d8%af%db%8c_%d8%b5%d8%ad%d8%a7%d9%81%d8%aa/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:32:41 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>آزادی_صحافت &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>ایمنڈ کے انتخابات، اظہر عباس صدر اور طارق محمود جنرل سیکرٹری منتخب</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/1271/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/1271/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 18 Oct 2026 12:56:46 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آزادی_صحافت]]></category>
		<category><![CDATA[اظہر_عباس]]></category>
		<category><![CDATA[ایکسپریس_نیউজ]]></category>
		<category><![CDATA[ایمنڈ_انتخابات]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_میڈیا]]></category>
		<category><![CDATA[پیکا_قانون]]></category>
		<category><![CDATA[جنرل_کونسل]]></category>
		<category><![CDATA[جیو_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a7%db%8c%d9%85%d9%86%da%88-%da%a9%db%92-%d8%a7%d9%86%d8%aa%d8%ae%d8%a7%d8%a8%d8%a7%d8%aa-%d8%a7%d8%b8%db%81%d8%b1-%d8%b9%d8%a8%d8%a7%d8%b3-%d8%b5%d8%af%d8%b1-%d8%a7%d9%88%d8%b1/</guid>

					<description><![CDATA[ایسوسی ایشن آف الیکٹرانک میڈیا ایڈیٹرز اینڈ نیوز ڈائریکٹرز کے سالانہ انتخابات میں نئے عہدے داران کا چناؤ کر لیا گیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">کراچی (خصوصی رپورٹ) ملک بھر کے الیکٹرانک میڈیا کے ذمہ داران اور خبروں کے منتظمین کی نمائندہ تنظیم ایسوسی ایشن آف الیکٹرانک میڈیا ایڈیٹرز اینڈ نیوز ڈائریکٹرز یعنی ایمنڈ کے سالانہ انتخابات کا عمل مکمل ہو گیا ہے۔ ان انتخابات کے نتیجے میں جیو نیوز سے وابستہ معروف صحافی اور میڈیا پروفیشنل اظہر عباس کو تنظیم کا نیا صدر منتخب کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتخابی نتائج کے مطابق 365 نیوز کے طارق محمود کو جنرل سیکرٹری کے اہم منصب کے لیے چنا گیا ہے، جو آئندہ مدت کے لیے تنظیم کے امور کو چلائیں گے۔ ملک بھر کے اخبارات اور نشریاتی اداروں کے نمائندوں کی موجودگی میں ہونے والے ان انتخابات میں تمام عہدوں پر فاتح امیدواروں کا اعلان کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تنظیم کے دیگر عہدے داروں میں پبلک نیوز کے محمد عثمان اور چوبیس نیوز کے میاں طاہر کو نائب صدور کی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں جو مرکزی قیادت کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسی طرح ہم نیوز کے ریحان احمد اور ایکسپریس نیوز کے ندیم جمال کو جوائنٹ سیکرٹریز منتخب کیا گیا ہے جبکہ شہاب محمود کو فنانس سیکرٹری کی ذمہ داری دی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں ہونے والے ایمنڈ کی جنرل کونسل کے اجلاسوں میں ایگزیکٹو کمیٹی کے دیگر اراکین کا بھی انتخاب عمل میں لایا گیا ہے جن کی فہرست جاری کر دی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نئی ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین میں زاہد مظہر، معصوم رضوی، محسن رضا، مبارک علی، کامران لاشاری اور ہمایوں سلیم شامل ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کونسل کے دیگر منتخب ارکان میں خواجہ حسنین، نوشاد علی خان اور رزاق سروہی بھی شامل ہیں جو ملک بھر میں میڈیا کے پیشہ ورانہ امور کی نگرانی کریں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتخابات کے موقع پر ایمنڈ کی جنرل کونسل کا ایک اہم اجلاس بھی منعقد ہوا جس میں ملک کے مجموعی میڈیا ماحول اور ذرائع ابلاغ کو درپیش چیلنجز پر کھل کر گفتگو کی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کونسل کے اراکین کا کہنا تھا کہ آزادی صحافت کو محدود کرنے کے لیے حکومتی اختیارات اور ریاستی اداروں کے بڑھتے ہوئے استعمال کے منفی اثرات سامنے آ رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس میں پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ یعنی پیکا کے مبینہ بے جا استعمال اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کی کارروائیوں پر بھی شدید تحفظات ظاہر کیے گئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جنرل کونسل نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ بعض یوٹیوبرز کا غیر ذمہ دارانہ طرز عمل صحافت کی آڑ میں ذاتی یا سیاسی ایجنڈے کے فروغ کا سبب بن رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاہم تنظیم نے واضح مؤقف اختیار کیا کہ چند افراد کے نامناسب رویے یا عمل کو بنیاد بنا کر پورے میڈیا پر قدغنیں لگانے یا پابندیاں عائد کرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں ایمنڈ کی جنرل کونسل نے یہ فیصلہ کیا کہ نو منتخب ایگزیکٹو کمیٹی کا پہلا باضابطہ اجلاس جلد طلب کیا جائے گا جس میں ملکی میڈیا کی مجموعی صورت حال کا جائزہ لیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس آئندہ اجلاس میں تفصیلی غور و خوض کے بعد اس حساس معاملے پر تنظیم کا حتمی لائحہ عمل اور تفصیلی مؤقف باضابطہ طور پر جاری کیا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/1271/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>امریکی عدالت کا وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کے داخلے پر پابندی کا فیصلہ معطل</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/661/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/661/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 14:57:34 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آئینی_حقوق]]></category>
		<category><![CDATA[آزادی_صحافت]]></category>
		<category><![CDATA[امریکہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکی_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[امریکی_عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[ایم_اس_ناؤ]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پریس_پاس]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d8%a7%d9%85%d8%b1%db%8c%da%a9%db%8c-%d8%b9%d8%af%d8%a7%d9%84%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%d9%88%d8%a7%d8%a6%d9%b9-%db%81%d8%a7%d8%a4%d8%b3-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b5%d8%ad%d8%a7%d9%81%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9/</guid>

					<description><![CDATA[وفاقی عدالت نے انتظامیہ کی جانب سے پریس پاس منسوخ کرنے کے اقدام کو آئینی حقوق کی خلاف ورزی قرار دے دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">امریکا کی وفاقی عدالت نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ انتظامیہ کو صحافیوں کو وہائٹ ہاؤس میں داخلے سے روکنے کے فیصلے پر عمل درآمد کرنے سے روک دیا ہے۔ عدالت نے 13 اکتوبر کو عبوری حکم امتناع جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ تینوں خبر رساں اداروں کے آئینی آزادیٔ اظہار اور قانونی کارروائی کے حق سے متعلق دعووں میں کامیابی کے امکانات ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ تنازع 18 ستمبر کو اس وقت شروع ہوا تھا جب ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا کہ انکے بقول مسلسل جعلی خبریں نشر کرنے کے سبب مذکورہ اداروں کے صحافیوں کو وہائٹ ہاؤس میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔ اس فیصلے کے تحت صحافیوں کے مستقل پریس پاس منسوخ کیے جانے تھے، جن کے ذریعے انہیں ہر مرتبہ پیشگی اجازت حاصل کیے بغیر وہائٹ ہاؤس کے احاطے میں داخل ہونے کی سہولت ملتی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تینوں اداروں نے اس اقدام کے خلاف عدالت سے رجوع کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ حکومت انکی رپورٹنگ سے اختلاف کی بنیاد پر انہیں نشانہ بنا رہی ہے۔ عدالت میں دائر کی گئی درخواستوں میں اس بات پر زور دیا گیا کہ پریس پاس کی منسوخی سے صحافیوں کے بنیادی حقوق اور پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی ڈسٹرکٹ جج ٹموتھی کیلی نے 24 ستمبر کو ابتدائی طور پر 14 دن کے لیے پابندی روکنے کا حکم دیا تھا اور متعلقہ صحافیوں کے پریس پاس بحال کرنے کی ہدایت کی تھی۔ 13 اکتوبر کو جج نے ان کی درخواست منظور کرتے ہوئے ابتدائی حکم امتناع جاری کردیا، جس سے متعلقہ صحافیوں کو وہائٹ ہاؤس میں کام جاری رکھنے کا موقع مل گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں اس بات پر خاص توجہ دی کہ صحافیوں کو پریس پاس منسوخ کرنے سے پہلے کوئی واضح اطلاع یا اپنا مؤقف پیش کرنے کا مناسب موقع نہیں دیا گیا تھا۔ عدالت کے مطابق حکومتی جانب سے بعد میں پیش کیے جانے والے قومی سلامتی کے دلائل اس اقدام کا خاطر خواہ جواز فراہم نہیں کرتے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹرمپ انتظامیہ کے وکلا نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ وہائٹ ہاؤس میں داخلہ صحافیوں کا مطلق حق نہیں بلکہ ایک خصوصی سہولت ہے، جس کے لیے صدر اور انتظامیہ ضابطے مقرر کرسکتے ہیں۔ سرکاری وکلا نے یہ بھی کہا کہ پابندی کا مقصد قومی سلامتی کا تحفظ اور غلط معلومات کی روک تھام تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">میڈیا اداروں کے وکیل تھیوڈور باؤٹروس جونیئر نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ جب صدر نے آزاد صحافت پر پابندی عائد کی تو انہوں نے قانونی طریقۂ کار اور پہلی ترمیم کی صریح خلاف ورزی کی۔ ان کے مطابق اس پابندی سے ان کے موکلین، پہلی ترمیم اور عوام کو گہرا نقصان پہنچا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے اس امر کی نشاندہی بھی کی کہ اس معاملے میں متاثر ہونے والے صحافیوں کی تعداد اہم ہے اور ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق تینوں اداروں کے مجموعی طور پر 78 صحافی اس پابندی سے متاثر ہوسکتے تھے۔ پریس ایریا تک رسائی نہ ہونے کی صورت میں صحافیوں کو سرکاری سرگرمیوں کا براہ راست مشاہدہ کرنے اور فوری خبریں فراہم کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جج نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ عبوری حکم ٹرمپ کے رپورٹنگ کی درستگی اور غیر جانب داری سے متعلق خدشات کو خود بخود بے بنیاد قرار نہیں دیتا اور نہ ہی حکومت کو خفیہ معلومات کے غیر قانونی انکشافات روکنے سے محروم کرتا ہے۔ یہ حکم محض مخصوص اداروں کے صحافیوں کے پریس پاس اور ان کی رسائی کو بحال کرنے تک محدود ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکہ میں یہ مقدمہ اس وقت انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے جب موجودہ انتظامیہ اور ذرائع ابلاغ کے مابین تعلقات میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔ حکومتی احکامات اور صحافیوں کے حقوق سے جڑے اس اہم قانونی معاملے پر آئندہ بھی عدالت میں سماعت کا سلسلہ جاری رہے گا اور فریقین کو اپنے دلائل پیش کرنے کا موقع ملے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واضح رہے کہ یہ مقدمہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ اور امریکی ذرائع ابلاغ کے درمیان رپورٹنگ، سرکاری معلومات تک رسائی اور صحافیوں کے کردار پر اختلافات مسلسل نمایاں ہورہے ہیں۔ تاہم عدالت کا موجودہ حکم صرف سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو کے متعلقہ صحافیوں کے پریس پاس اور وہائٹ ہاؤس تک رسائی سے متعلق ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف مقدمے کا حتمی فیصلہ نہیں ہے اور نہ ہی اس سے حکومت کے تمام میڈیا سے متعلق اختیارات پر عمومی پابندی عائد ہوتی ہے۔ عدالت میں مقدمے کی کارروائی جاری رہے گی اور انتظامیہ کو فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا اختیار حاصل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی کارروائی کے دوران فریقین کی جانب سے پیش کیے جانے والے دلائل میں آئینی ترامیم کے نفاذ اور ان کی تشریح پر تفصیلی بحث کی گئی۔ آنے والے دنوں میں اس اہم ترین مقدمے کے حتمی فیصلے کے تناظر میں مزید قانونی کارروائی متوقع ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/661/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
