<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.33.3"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>آثار_قدیمہ &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d8%a2%d8%ab%d8%a7%d8%b1_%d9%82%d8%af%db%8c%d9%85%db%81/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sun, 01 Nov 2026 18:27:03 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>آثار_قدیمہ &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>ٹھٹھہ کا تاریخی مکلی قبرستان: سندھ کی تہذیب و ثقافت کا عظیم ورثہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2075/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2075/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 01:37:45 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آثار_قدیمہ]]></category>
		<category><![CDATA[تاریخ]]></category>
		<category><![CDATA[تاریخی_ورثہ]]></category>
		<category><![CDATA[ثقافت]]></category>
		<category><![CDATA[ٹھٹھہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سندھ]]></category>
		<category><![CDATA[سیاحت]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%b9%da%be%d9%b9%da%be%db%81-%da%a9%d8%a7-%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%ae%db%8c-%d9%85%da%a9%d9%84%db%8c-%d9%82%d8%a8%d8%b1%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%b3%d9%86%d8%af%da%be-%da%a9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[دس مربع کلومیٹر پر محیط مکلی کا قبرستان اپنی منفرد سنگ تراشی اور اسلامی فنِ تعمیر کے باعث عالمی ثقافتی ورثے میں شامل ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">سندھ کے تاریخی شہر ٹھٹھہ کے قریب واقع مکلی نیکروپولس دنیا کے سب سے بڑے اور منفرد تاریخی قبرستانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ مقام صدیوں پر محیط سندھ کی تہذیب، فنِ تعمیر اور اسلامی ثقافت کے انمول آثار کو اپنے دامن میں سموئے ہوئے ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تقریباً دس مربع کلومیٹر کے وسیع رقبے پر پھیلے اس تاریخی قبرستان میں پانچ لاکھ سے زائد قبریں اور مقبرے موجود ہیں۔ یہاں بادشاہوں، ملک ہوں، حکمرانوں، گورنروں، صوفیا، علما اور دانشوروں کی آخری آرام گاہیں موجود ہیں جو ماضی کی یاد دلاتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مکلی کے مقبروں میں جام نظام الدین ثانی اور عیسیٰ خان تر خان کے مقبرے اپنی منفرد تعمیر، دیدہ زیب سنگ تراشی اور کاشی کاری کے باعث خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔ یہ فن پارے مقامی، گجراتی، مغلیہ اور فار سی اثرات کا حسین امتزاج پیش کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس تاریخی مقام کی اہمیت کے پیشِ نظر یونیسکو نے 1981 میں مکلی کے تاریخی آثار کو عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا تھا۔ یہ قبرستان 14ویں سے 18ویں صدی تک سندھ کی سماجی، سیاسی اور مذہبی تاریخ کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ موسمی اثرات، بارشوں، نمی اور نمکیاتی ہواؤں کے باعث اس تاریخی ورثے کو نقصان پہنچا ہے۔ قدرتی کٹاؤ اور دیگر عوامل نے بھی ان قدیم ڈھانچوں کی خوبصورتی کو متاثر کیا ہے، جس پر ماہرین تحفظِ آثارِ قدیمہ تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سن 2022 کی شدید مون سون بارشوں کے بعد کئی تاریخی مقبروں کو نقصان پہنچا تھا، جس کے بعد محکمہ آثارِ قدیمہ سندھ اور یونیسکو نے مشترکہ طور پر بحالی کے اقدامات شروع کیے۔ ان کوششوں کا مقصد اس تاریخی ورثے کو محفوظ بنانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رواں سال 2026 میں عالمی ورثہ کمیٹی نے مکلی کے تحفظ کے لیے جاری اقدامات کو سراہا ہے۔ کمیٹی نے شیخ جیئو کے مقبرے اور سمہ دور کے دیگر اہم آثار کی بحالی کے کام کو مزید تیز کرنے اور اسے مستقل بنیادوں پر جاری رکھنے پر زور دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مکلی صرف قبروں کا ایک مجموعہ نہیں بلکہ یہ سندھ کی صدیوں پرانی تہذیب اور فنونِ لطیفہ کی ایک زندہ دستاویز ہے۔ اس کا تحفظ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک اہم ذمہ داری ہے تاکہ آنے والی نسلیں اس سے استفادہ کر سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتِ سندھ اور متعلقہ اداروں کی جانب سے مکلی کے تحفظ کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں مقامی سطح پر بھی آگاہی مہمات چلائی جا رہی ہیں تاکہ تجاوزات اور دیگر نقصانات سے اس جگہ کو محفوظ رکھا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاحوں اور محققین کی بڑی تعداد ہر سال اس تاریخی مقام کا دورہ کرتی ہے۔ مکلی کا دورہ کرنے والے افراد یہاں کے سکون اور قدیم فنِ تعمیر کی باریکیوں کو دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں جو اسے دنیا بھر میں منفرد بناتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل میں مکلی کے تحفظ کے لیے مزید فنڈز مختص کرنے اور بین الاقوامی ماہرین کی خدمات حاصل کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ یہ اقدام اس تاریخی ورثے کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے بچانے کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں، مکلی نیکروپولس کا تحفظ قومی فخر کا باعث ہے۔ یہ مقام ہماری تاریخ کا وہ روشن باب ہے جسے محفوظ رکھنا ہم سب کا فرض ہے، تاکہ یہ عظیم ورثہ اپنی اصل حالت میں آنے والی نسلوں تک منتقل ہو سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2075/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>اسرائیل نے یونان کو بائیس قدیم اور تاریخی نوادرات واپس کر دیے</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/467/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/467/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 13 Oct 2026 20:58:59 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آثار_قدیمہ]]></category>
		<category><![CDATA[اسرائیل]]></category>
		<category><![CDATA[اسرائیلی_سفیر]]></category>
		<category><![CDATA[ایتھنز]]></category>
		<category><![CDATA[ایتھنز_قومی_عجائب_گھر]]></category>
		<category><![CDATA[برٹش_میوزیم]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پارتھینون_مجسمے]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d8%a7%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d8%a6%db%8c%d9%84-%d9%86%db%92-%db%8c%d9%88%d9%86%d8%a7%d9%86-%da%a9%d9%88-%d8%a8%d8%a7%d8%a6%db%8c%d8%b3-%d9%82%d8%af%db%8c%d9%85-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[ایتھنز کے قومی عجائب گھر میں منعقدہ تقریب کے دوران نوادرات یونانی وزیر ثقافت لینا مینڈونی کے حوالے کیے گئے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسرائیل نے غیر قانونی طور پر یونان سے باہر منتقل کیے جانے والے بائیس قدیم اور تاریخی نوادرات واپس کر دیے ہیں۔ اس سلسلے میں یونان کے دارالحکومت ایتھنز کے قومی عجائب گھر میں ایک پروقار تقریب منعقد کی گئی جہاں نوادرات کی حوالگی کا عمل مکمل ہوا۔ اس تقریب میں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی اور اسے ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یونان نے اس پوری پیش رفت کو ثقافتی ورثے کے تحفظ اور بقا کے شعبے میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے ایک نئے دور کا باضابطہ آغاز قرار دیا ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اس حوالے سے منعقدہ تقریب میں تمام متعلقہ امور کا احاطہ کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واپس کیے جانے والے نوادرات میں ایک خاتون کا کانسی کا چھوٹا مجسمہ، تیل رکھنے کی باریک بوتلیں، دو دستوں والے مٹی کے برتن اور دیومالائی کہانیوں نیز جیومیٹریائی نقش و نگار سے مزین خوبصورت پیالے شامل ہیں۔ یہ تمام اشیا تاریخی اعتبار سے انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کے مطابق ان تاریخی اشیا کا تعلق تقریباً سات سو سے تین سو بیس قبل مسیح کے قدیم دور سے ہے۔ اتنے پرانے نوادرات کی واپسی کو یونانی تاریخ اور آثار قدیمہ کے لیے ایک بڑی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو طویل عرصے سے اپنے ورثے کی تلاش میں تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یونانی وزیر ثقافت لینا مینڈونی نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے نوادرات کی یہ واپسی اپنی نوعیت کا پہلا اور منفرد واقعہ ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہر ثقافتی شے کی اس کے اصل مقام پر واپسی کی بہت گہری علامتی اور اخلاقی اہمیت ہوتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسرائیلی سفیر برائے یونان پنینات یانائے نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ یہ نوادرات اسرائیلی محکمہ آثار قدیمہ کے حکام کی جانب سے غیر قانونی قدیم نوادرات کی تجارت کے خلاف کی جانے والی تحقیقات کے دوران برآمد کیے گئے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاہم دونوں ممالک کے حکام کی جانب سے یہ تفصیلی معلومات ظاہر نہیں کی گئیں کہ یہ اشیا کس طرح اسرائیل تک پہنچیں اور انہیں یونان سے کب اور کن مخصوص حالات یا پس منظر میں نکالا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یونان کی حکومت طویل عرصے سے بیرون ملک موجود اپنے تاریخی ورثے کی بازیابی کے لیے ایک بڑی مہم چلا رہی ہے۔ اس مہم کے تحت دنیا بھر میں پھیلے ہوئے یونانی آثار کو واپس لانے کے لیے سفارتی اور قانونی سطح پر مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس سلسلے میں یونانی حکام کی بھرپور کوشش ہے کہ ایتھنز کے تاریخی ایکروپولس سے نکالے گئے تقریباً ڈھائی ہزار سال قدیم پارتھینون کے مجسمے بھی واپس یونان لائے جائیں۔ یہ مجسمے اس وقت برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں واقع مشہور برٹش میوزیم کی زینت بنے ہوئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس سلسلے میں گذشتہ چند ماہ کے دوران دونوں ممالک کے درمیان اہم معاہدے بھی طے پائے ہیں جن میں دفاعی نوعیت کے بڑے منصوبے بھی شامل ہیں۔ اگست کے مہینے میں اسرائیل نے یونان کے لیے تقریباً ساڑھے تین ارب ڈالر کے فضائی دفاعی نظام کی فراہمی کا ایک بڑا معاہدہ کیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ثقافتی ورثے کے عالمی ماہرین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ تاریخی نوادرات کی اس نوعیت کی واپسی سے نہ صرف دوطرفہ تعلقات مستحکم ہوتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر ثقافتی ورثے کی غیر قانونی تجارت کی روک تھام میں بھی مدد ملتی ہے۔ عام شہریوں اور تاریخ کے طالب علموں نے بھی اس اقدام کو سراہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یونان کے قومی عجائب گھر میں رکھے جانے والے ان بائیس نوادرات کو اب عام نمائش کے لیے بھی پیش کیا جائے گا تاکہ لوگ اپنے قدیم ورثے کا مشاہدہ کر سکیں۔ متوقع طور پر اس نمائش کو دیکھنے کے لیے ملک بھر سے بڑی تعداد میں سیاح اور تاریخ کے شائقین ایتھنز کا رخ کریں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/467/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
